504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 3)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“افتخار واپس کرو یہ پیسے ثوبی اور کاشی کی پڑھائی کے لئے جمع کیے ہیں میں نے”

فائزہ نے چیختے ہوئے افتخار سے کہا۔۔۔ گھر سے باہر نکلتا ہوا افتخار فائزہ کی آواز پر واپس آیا

“کون سا وہ ڈاکٹر یا انجینئر کی اولاد بنیں گے سالے،،، جو تو ان پر پیسہ لگا کر رہی ہے،،، تجھے مجھے کچھ نہیں ملنے والا جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا دونوں نے۔۔۔ اب ان دونوں سے کہہ دے کہ بستہ پھینک کر کام دھندہ شروع کریں تاکہ گھر میں چار پیسے آئیں”

فائزہ نے سلائی کرکے پیسے چھپا کر رکھے تھے مگر بدقسمتی سے وہ آج افتخار کے ہاتھ لگ گئے فائزہ کو معلوم تھا کہ وہ اس کی محنت کی کمائی اپنے جوئے میں اڑائے گا

“ان کو میں پڑھا لکھا اسی لئے رہی ہو وہ کم سے کم تمھاری طرح جانور نہ نکل سکیں،، شرم آنی چاہیے بیوی کی کمائی کو جّوئے میں اڑاؤ گے اور اپنی اولاد کو بھی کام دھندے سے اس لئے لگانے کی بات کر رہے ہو تاکہ تم خود آرام سے بیٹھ کر جوا کھیل سکوں لعنت ہے تم جیسے باپ اور شوہر پر”

فائزہ بے بس تھی اس سے اپنا پیسہ تو واپس نہیں لے سکتی تھی اس لیے غصے میں اسے برا بھلا کہنے لگی اور افتخار کو آج پھر فائزہ پر ہاتھ اٹھانے کا بہانہ مل گیا

“کیا بول رہی ہے تو لعنت بھیج رہی ہے تو مجھ پر، تیرے ماں باپ پر لعنت، پورے خاندان پر لعنت، منحوس عورت میری زندگی خراب کردی تو نے”

فائزہ فرش سے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر افتخار مسلسل لاتوں سے مار مار کر اس کی کوشش ناکام بنا رہا تھا اتنے میں ثوبان اور کاشان جو کہ اسکول سے گھر آ رہے تھے باہر سے ہی مار پیٹ کی آوازیں سن کر دونوں بھاگتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے

“ابو چھوڑو اسے” کاشان نے لپک کر باپ کو پکڑا۔۔۔ ثوبان فوراً ماں کی طرف ڈھال بن کر اس سے لپٹ گیا تاکہ مزید کوئی لات اس کی ماں کو نہ لگ سکے

“چھوڑ مجھے کاشی آج اس ڈائن کو مار ہی دوں گا”

افتخار کاشان سے اپنا آپ چھوڑ آتا ہوا دوبارہ فائزہ کی طرف بڑھا مگر کاشان نے افتخار کے پاس آ کر اس کا گریبان پکڑا اور اسے پیچھے دھکا دیا

“میں کہہ رہا ہوں اب ہاتھ نہیں اٹھانا امی پر”

کاشان نے غصے میں چیخ کر کہا اور افتخار جو کہ اس کے دھکے سے پیچھے جا گرا تھا تب ہی اس کی دھمکی دینے پر اٹھ کر اس کے پاس آیا

“تو ہوتا کون ہے مجھ سے کہنے والا، مارے گا مجھے؟ قد کیا نکال لیا سالے تو نے اپنے باپ کو دھکا دے رہا ہے” افتخار فائزہ کو چھوڑ کر کاشان کی طرف لپکا۔۔۔۔ کاشان کی شامت آتے دیکھ کر ثوبان فائزہ کو چھوڑ کر فوراً بیچ میں آ گیا

“ابو اس کو کچھ مت کہو وہ آئندہ کچھ نہیں بولے گا” ثوبان افتخار کے پاس آکر التجائی انداز میں بولا فائزہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے نیچے لیٹی ہوئی درد سے کراہ رہی تھی

“تو پیچھے ہٹ ثوبی”

افتخار ثوبان کو دھکا دیتا ہوا کاشان کے پاس آیا

“اب بول کیا بول رہا تھا تو”

وہ غصے میں کاشان سے پوچھنے لگا جیسے ہی وہ کچھ بولے افتخار نے سوچا ہوا تھا وہ ایسے خوب مارے گا افتخار کی پوچھنے کی دیر تھی کاشان نے دوبارہ افتخار کا گریبان پکڑا اور اسی دیوار کے ساتھ لگا دیا

“اب تم نے امی پر ہاتھ اٹھایا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا”

غصے میں سرخ آنکھوں سے دیکھتا ہوا عہ افتخار کا گریبان پکڑ کر سنجیدگی سے بولا اس کے انداز پر ایک لمحہ افتخار بھی چپ کر کے اسے دیکھتا رہ گیا ثوبان چپ کر کے اپنی جگہ پر کھڑا تھا۔۔۔ کاشان افتخار کا گریبان چھوڑ کر اسے گھورتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا تھوڑی دیر بعد افتخار بھی ثوبان اور روتی ہوئی فائزہ کو دیکھ کر باہر نکل گیا جبکہ ثوبان آگے بڑھ کر فائزہ کا سر اپنی گود میں رکھ کر اسے چپ کرانے لگا

****

“سیرت میں تمہارے لئے کھانا لایا ہوں تھوڑا سا کھانا کھا لو”

آج صبح ہی نسرین کا انتقال ہوگیا تھا دو دن پہلے اسے معمولی سے بخار چڑھا آج صبح اسے خون کی بڑی سی الٹی ہوئی اس کے بعد زندگی نے اسے مہلت نہ دی اور وہ دنیا چھوڑ گئی محلے والوں نے مل کر ہی اس کے کفن دفن کا انتظام کیا ناصر سر پکڑے گھر سے باہر چند آدمیوں کے ساتھ بیٹھا تھا جب کہ سیرت خالی خالی آنکھوں سے محلے والوں کو دیکھ رہی تھی صبح سے شام ہوئی تو سب اپنے اپنے گھر ہو لیے۔۔۔ اس وقت سیرت گھر میں اکیلی تھی تب ثوبان اس کے لیے کھانا لے کر آیا

“ثوبی کیا اب اماں کبھی واپس نہیں آئے گی”

صبح سے ہی اس کے پیٹ میں کھانے کا ایک دانہ بھی نہیں گیا تھا مگر اسے بھوک کی کوئی ایسی طلب بھی نہیں تھی اسے معلوم تھا کہ وہ ناصر اور نسرین کی سگی اولاد نہیں ہے۔۔۔ ناصر نے اسے کچرے کے ڈھیر سے اٹھایا ہے، اسے یہ بھی معلوم تھا کہ چوری کرنا بری بات ہے اسکول میں یہی سب تو پڑھایا جاتا تھا پر اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ناصر چوری کرکے اس کا پیٹ بھرتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم تھا اگر ناصر ایسا نہ کریں تو فاقوں سے مر جائے

“ہر انسان کو ایک نہ ایک دن جانا ہوتا ہے مگر تمہیں زندہ رہنے کے لیے کھانا کھانا پڑے گا”

وہ کھانے کی پلیٹ کو فرش پر رکھ کر اس کے برابر میں بیٹھتا ہوا بولا

“کون تھے میرے ماں باپ جو مجھے یوں کچرا سمجھ کر پھینک گئے، دیکھنا اگر وہ مجھے ملیں گے نہ میں اپنے ساتھ کی ہوئی ساری زیادتیوں کا ایک ایک کر کے بدلہ ان سے لو گے”

اس وقت آٹھ سالہ سیرت اپنی عمر سے بہت زیادہ بڑی لگ رہی تھی ویسے بھی وہ دونوں جس طبقے سے تعلق رکھتے تھے وہاں کے بچے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو دیکھتے ہوئے اپنی عمر سے پہلے ہی بڑے اور عقلمند ہو جاتے تھے

“ان سے نمٹنے کے لیے بھی تمہیں زندہ رہنا پڑے گا اور زندہ رہنے کے لیے کھانا کھانا پڑے گا”

ثوبان نے کھانے کی پلیٹ اس کی طرف کسکھائی

“آج پھر تم اپنے حصے کا کھانا میرے لے آئے”

سیرت کو اس کے گھر کے حالات کا بھی بخوبی اندازہ تھا اس لیے وہ ثوبان کو دیکھتے ہوئے بولی

“ہاں کیوکہ مجھے معلوم تھا آج تم سچی مچی بھوکی ہوگی”

ثوبان نے اس کو سنجیدگی سے دیکھ کر کہا،، غم میں مبتلا ہونے کے باوجود اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔۔۔ آج پورے دن میں وہ پہلی دفعہ مسکرائی تھی اور اس کی معصوم سی مسکراہٹ دیکھ کر ثوبان نظریں چرآ گیا کیوکہ اسے معلوم تھا وہ آفت کی پرکالہ ہے، کہیں کوئی اس کے دل کی بات جان لے تو اس کی شامت ہی آجائے گی

“تمہاری امی بھی آج صبح آئی تھی، کیا کل پھر تمہارے ابو نے اسے مارا تھا،، اچھا خاصہ منہ سوجھا ہوا تھا آخر اتنا پٹ کیسے لیتی ہے تمہاری ماں، ہاتھ کیو نہیں توڑ دیتی وہ تمہارے ابو کے”

آج صبح محلے کی خواتین کے ساتھ فائزہ بھی سوجے ہوئے چہرے کے ساتھ نسرین کے انتقال کی خبر سن کر آ گئی تھی جسے دیکھ کر سیرت اور دلی طور پر افسوس ہوا

“کیا کرے وہ بیچاری تمہاری جیسی ہمت نہیں ہے اس میں”

ثوبان روٹی کا نوالہ توڑ کر دال میں بھی بھگویا اور اس کے منہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا جسے سیرت نے اپنے ہاتھوں سے تھام پر اپنے منہ میں رکھا

“اس میں ہمت نہیں تو کیا تم نے بھی ہمت نہیں ہے جو تم اپنے باپ کے ہاتھ توڑ سکوں”

سیرت نے نوالہ بنا کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

“تم مجھے میرے باپ کے ہاتھ توڑنے کے لئے کہہ رہی ہوں”

ثوبان نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو سیرت نے اس کے منہ میں نوالہ ٹھسا

“ہاتھ توڑ نہیں سکتے ہاتھ روک تو سکتے ہو”

سیرت نے سر جھٹک کر کہا اور پھر خود کھانا کھانے لگی ثوبان چپ کر کے اسے دیکھتا رہا

“شکل کیا دیکھ رہے ہو اب صبح تمہاری امی تمہیں ناشتہ دے گی ابھی تھوڑا بہت اسی میں سے کھالو ویسے بھی ساتھ کھانے سے محبت بڑھتی ہے”

وہ بولتی ہوئی دوبارہ کھانا کھانے لگی اس کی بات پر ثوبان نے مسکراہٹ چھپائی اور اسی کے ساتھ کھانا کھانے لگا

****

“بابا میری برتھ ڈے پر مجھے باربی ڈول والا کیک چاہیے”

6 سالہ رنعم نے پاس بیٹھے بہروز سے فرمائش کی

“اوکے میری جان جیسے بابا کی گڑیا ڈیمانڈ کرے گی بابا ویسے ہی اس کا برتھڈے کیک ارڈر کریں گے”

بہروز نے اپنی بیٹی کو پیار کرتے ہوئے کہا

“اپنی لاڈلی سے یہ بھی پوچھیں کہ ٹیچر اسکول میں کچھ پوچھتی ہیں تو اس کی آواز کیوں نہیں نکلتی، آج ہی پیرنٹس میٹنگ میں اس کی ٹیچر اس کے بارے میں بتا رہی تھیں یہ انکے پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دیتی”

یسریٰ نے چائے کا کپ بہروز کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

“مگر میں نے ٹیچر سے تو کہا تھا کہ میں ان کے کان میں آئستہ سے بتا دیتی ہوں تو وہ مجھے گھورنے لگی اب حسن مجھے مسکرا کر دیکھ رہا ہوتا ہے تو مجھ سے ٹیچر کی کوئسٹن کا آنسر نہیں دیا جاتا

رنعم نے اپنی سبز آنکھوں میں معصومیت سمائے ہوئے بہروز کو بتایا جس پر بہروز کے ساتھ ساتھ دوسرا بھی ہنس دی

“چلو ایسا تو نہیں ہے نا کہ میری بیٹی کو کچھ آتا نہیں ہے بس وہ صرف اپنی ٹیچر کو چپکے سے کان میں بتانا چاہتی ہیں تاکہ حسن نے سن لے”

بہروز نے رنعم کی سائڈ لیتے ہوئے کہا

“حسن سن ملے گا تو کون سی قیامت آ جائے گی کیا دوسرے بچے بھی ٹیچر کے کان میں کوئیسٹن کا آنسر دے رہے ہوتے ہیں”

یسریٰ نے رنعم کو دیکھ کر پوچھا

“یار تمہیں معلوم ہے میری بیٹی شائے ہے تھوڑی سی اس لئے اپنی ٹیچر کو الگ سے سنانا چاہتی ہے”

بہروز نے اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے چائے کا کپ منہ سے لگایا

“بہروز اب آپ بلاوجہ کی اس کی سائڈ مت لیں اس طرح اس میں کونفیڈینس کی کمی آئے گی”

یسریٰ بھی بولنے کے بعد چائے پینے لگی

“اوکے مما آپ ناراض مت ہو اب آئندہ میں ایسا نہیں کروں گی رنعم نے یسریٰ کو دیکھ کر کہا

“دیکھا میری بیٹی جیسی کسی کے پاس بیٹی نہیں ہوگی، اس عمر میں بچے کتنے ضدی ہوتے ہیں اور ایک میری بیٹی ہے ایک دفعہ میں بات سمجھ جاتی ہے” بہروز نے پیار بھری نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھ کر کہا تو یسریٰ بھی مسکرا دی اس میں واقعی کوئی شک نہیں تھا رنعم دوسرے بچوں کی بانسبت بالکل سیدھی سادی اور جلد بات مان جانے والی بچی تھی