504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 25)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کون ہے”

دروازہ ناک کرنے پر بیڈ پر لیٹے ہوئے کاشان نے منہ سے تکیہ ہٹا کر زور سے پوچھا

رنعم بغیر جواب دیئے ہاتھ میں ٹرے تھامے دروازہ کھول کر اندر آ گئی مگر جب سامنے لیٹے ہوئے کاشان پر نظر پڑی تو اس کے قدم وہی تھم گئے اور نظریں جھگ گئی کیوکہ وہ بغیر شرٹ کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا

کاشان نے اپنے سامنے ہاتھ میں ٹرے تھامے رنعم کو دیکھا،، وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور بیڈ پر پڑی شرٹ پہننے لگا،، بٹن لگاتے ہوئے مستقل رنعم کو دیکھ رہا تھا جو نیچے سر کیے مجرموں کی طرح کھڑی تھی

“کیا صبح تک ایسی ہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے”

شرٹ پہننے کے بعد وہ رنعم کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔ کاشان کی آواز پر رنعم نے اپنا سر اٹھایا،، وہ اسی کا گہری نگاہوں سے جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔۔ رنعم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر بیڈ تک آئی

“آپ نے کھانا نہیں کھایا اس لئے سینڈوچ لے کر آئی کھالیے گا”

رنعم سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھ کر جانے لگی

“ابھی میں نے واپس جانے کے لئے تو نہیں کہا”

تبھی کاشان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا

“مجھے نیند آرہی ہے سونا ہے میں نے”

رنعم نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑایا مگر لہجے میں ناراضگی لیے وہ اس سے کہنے لگی

“جب تک کھا نہیں لیتا تب تک بیٹھ جاؤ۔۔۔۔ مجھ سے اکیلے بیٹھ کر نہیں کھایا جائے گا”

کاشان کا لہجہ کسی بھی قسم کی سختی سے عاری تھا جبکہ اس کی آنکھوں سرخ ہو رہی تھی شاید سر درد کی وجہ سے یا نیند کی وجہ سے رنعم سمجھ نہیں پائی۔۔۔۔ وہ بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ گئی اس کو بیٹھتا دیکھ کر کاشان سینڈوچ کھانے لگا

“یہ تم نے بنائے ہیں اپنے ہاتھوں سے میرے لیے”

وہ سینڈوچ کھاتا ہوا چاہت بھری سے رنعم کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“مما کے کہنے پر بنائے ہیں انہیں ایسا لگا آپ کو بھوکا نہیں سونا چاہیے” رنعم نے اپنے لہجے میں ناراضگی برقرار رکھتے ہوئے کہا جس پر کاشان سر نیچے جھکا کر مسکرایا

“ناراض ہو”

پلیٹ سائڈ میں رکھ کر وہ دوبارہ رنعم کا ہاتھ تھام کر، اس کی آنکھوں میں جھانگتا ہوا پوچھنے لگا

“آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میری ناراضگی سے، ابھی غصہ کر کے زور زبردستی سے منا لیں گے آپ”

رنعم نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

“ایک تمہی سے تو فرق پڑنے لگا ہے،،،،، غصہ زبردستی کر کے کیوں مناؤں گا بھلا کچھ کام پیار محبت سے بھی کیے جاتے ہیں،،، ان میں زور زبردستی تھوڑی چلتی ہے”

کاشان نے بولتے ہوئے اچانک اپنا سر رنعم کی گود میں رکھا

“کاشان”

رنعم یوں اچانک آنے والی آفتاد پر ایک دم بوکھلا گئی

“کیا مسئلہ ہے اب”

کاشان تیوری پر بل چڑھا کر بولا

“پلیز”

رنعم نے بے بس ہو کر بولا تو کاشان نے بیڈ پر پڑا ہوا تکیہ اٹھا کر اسکی گود میں رکھا اور دوبارہ اپنا سر اس پر رکھ لیا

“تمہاری گود میں سر نہیں رکھا ہوا ہے اب تو ٹھیک ہے ناں یا ابھی بھی مما کے پاس جانا ہے”

رنعم کو جھجھکنا نوٹ کر کے کاشان اس سے پوچھنے لگا

“پین کلر لے کر چائے پی لیں،، درد ٹھیک ہو جائے گا”

رنعم کی نظریں بھٹک کر اس کی شرٹ کے کھلے بٹن پر پڑی جہاں سے اس کے سینے کے بال جھانک رہے تھے رنعم نے فوراً اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر دوسری جانب دیکھا

“چائے پینے کا موڈ نہیں ہو رہا اور پین کلر فائدہ نہیں دے گی، تم سر دباو میرا، شاید آفاقہ ہوجائے”

کاشان رنعم کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔ رنعم نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اس کی کشادہ پیشانی پر رکھا اور سر دبانے لگی۔۔۔۔۔ سر دبانے کے دوران رنعم کاشان کا چہرہ غور سے دیکھنے لگی تو کاشان نے اس کا دوسرا ہاتھ اپنے سخت ہاتھ میں تھام کر نرمی سے اپنے سینے پر رکھا

“کیا دیکھ رہی ہو اتنے غور سے”

وہ رنعم کا دیکھنا نوٹ کر کے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“دیکھ نہیں رہی تھی سوچ رہی تھی،، کیا بعد میں بھی آپ اسی طرح غصہ کیا کریں گے مجھ پر”

رنعم نے سر دباتے ہوئے اس سے پوچھا

“جان بوجھ کر تو نہیں کرتا نہ غصہ آجاتا ہے بس۔۔۔۔ تم وہ کام کیا ہی مت کرو جن سے مجھے غصہ آئے”

ایک ہاتھ سے رنعم کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کے گلے میں پڑے ہوئے بال شیپ پینڈنٹ کو چھیڑتا ہوا بولا

“ویسے بھی شادی کے بعد چانس ہیں کے میرا غصہ کم ہو جائے اور شاید تم اسی طرح بیٹھ کر مجھ سے پوچھ رہی ہو۔۔۔۔ کیا آپ ہر وقت مجھے اسی طرح پیار کرتے رہے گیں”

کاشان کے بولنے کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں شرارت کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر رنعم ایک دم بلش کر گئی بدن کا سارا خون جیسے اس کے چہرے پر آگیا ہوں

“درد بہتر ہوا آپ کا”

اس کو پٹری سے اترتا ہوا دیکھ کر رنعم پوچھنے لگی

“نہیں اچھا لگ رہا ہے تمہارا اس طرح سر دبانا اور دباؤ۔۔۔ بلکہ یہ تصور کرو کہ یہ سر نہیں میرا گلا ہے۔۔۔ ان نازک ہاتھوں میں خودبخود تیزی اور سختی آجائے گی” کاشان نے بولنے کے ساتھ ہی چہرے پر آنے والی ہنسی چھپائی تو رنعم نے اس کو گھور کر دیکھا

“آپ ایسا سوچتے ہیں میرے بارے میں کہ میں آپ کا گلا دبانے کا تصور کرتی ہوں”

رنعم نے دوبارہ ناراض ہوتے ہوئے اس سے پوچھا کاشان نے دوبارہ اس کے گلے میں پڑے پینڈنٹ کو اپنی طرف کھینچا جس سے رنعم کا ہلکا سا سر جھکا

“پھر آج بتا ہی دو کہ کیا سوچتی ہو میرے بارے میں،، شاید سر کا درد خود ہی بھاگ جائے” لو دیتی آنکھوں سے دیکھ کر وہ رنعم سے پوچھنے لگا اس کی بات سن کر رنعم اپنی نظریں جھکا گئی

“کاشان مما کو دیکھ کر آتی ہوں” رنعم اس کی نظروں سے گھبرا کر بولی

“کیا شادی کے بعد بھی جب میں رومانٹک ہوا کروں گا تمہیں ایسے ہی آنٹی کی یاد آیا کرے گی”

کاشان نے جتنی سنجیدگی سے اس سے پوچھا تھا اتنا سنجیدہ وہ ہرگز نہیں لگ رہا تھا

“آپ اس وقت ایسی باتیں مت کریں پلیز”

رنعم کو نروس دیکھ کر اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر کے وہ آنکھیں بند کیے لیٹ گیا۔۔۔۔ بیس منٹ بعد رنعم کو احساس ہوا کہ وہ سو چکا ہے تب رنعم نے اس کا سر تکیے پر رکھا اور کمرے کی لائٹ بند کر کے کمرے سے باہر چلی گئی

*****

ثوبان آج تین دن کے بعد پولیس اسٹیشن آیا تھا بہروز کی بیماری کو لے کر اس نے ساری چیزوں کو ہی ایک طرف رکھ دیا تھا۔ ۔۔۔

آج وہ صبح سے ہی سیرت کو کال ملا رہا تھا مگر اس کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا

“کیا مصیبت ہے” اس نے جھنجھلا کر فون رکھا۔۔۔۔ ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو چھ بج رہے تھے گاڑی کی چابی اور سیل فون اٹھا کر سیرت کے پاس فلیٹ میں پہنچا

اس کا ارادہ تھا وہ ناصر کو ہوسپٹل میں شفٹ کرا کر۔۔۔ سیرت کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئے گا کیوکہ بہروز سے وہ وعدہ کر چکا تھا اور اس کی بات وہ ٹال نہیں سکتا تھا۔۔۔ دو دن سے وہ سیرت کی کال نہیں اٹھا رہا تھا پرسوں اس نے میسج بھی کیا تھا جو ثوبان نے پڑھ کر بھی کوئی رسپونس نہیں دیا

وہ جانتا تھا اس دن ناصر کا ڈائیلائسس تھا سیرت کے ساتھ ناصر کو لے کر اسے اسپتال جانا تھا اسی وجہ سے سیرت نے اس کو میسج کیا ہوگا مگر اس وقت بہروز کو بھی ثوبان کی ضرورت تھی اور بہروز وہ شخص تھا جس نے ثوبان کو تب سنبھالا جب ثوبان کو واقعی کسی مضبوط سہارے کی ضرورت تھی۔۔۔۔ اس وجہ سے وہ اس وقت دنیا کو نظر انداز کر سکتا تھا مگر بہروز کو کسی دوسرے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ تین دن تک بہروز کو ایک پل کے لئے چھوڑ کر گھر بھی نہیں گیا

ثوبان نے فلیٹ میں کار پارک کی، کار سے اتر کر فلیٹ کے دروازے پر پہنچا کافی دیر تک بیل بجانے کے بعد جب سیرت نے دروازہ نہیں کھولا اس کا موبائل آف دیکھ کر ثوبان کو نئے سرے سے پریشانی نے آ گھیرا

برابر والوں کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک خاتون نکلی جنھوں نے ثوبان کو ناصر کا انتقال کے بارے میں بتایا اور فلیٹ کی چابی ثوبان کو تھمادی

ناصر کی موت کی خبر سن کر اسے حیرت کا جھٹکا تو لگا ہی دلی طور پر افسوس بھی ہوا۔۔۔۔ یہ تو اس کے وہم وگماں میں بھی نہیں تھا کہ اس کے پیچھے اتنا کچھ ہوگیا ہوگا۔۔۔۔

اب اسے رہ رہ کر سیرت کا خیال آنے لگا نہ جانے اس نے کیسے اپنے آپ کو سنبھالا ہوگا۔۔۔ کیسے اتنا سب کچھ خود اکیلے کیا ہوگا۔۔۔ وہ اسے اس طرح چھوڑ کر کہاں چلے گئی یقیناً اپنے پرانے فلیٹ میں۔۔

ثوبان خود سے سوال کر کے خود ہی جواب دیا اور اپنی کار کی طرف بڑھا

“اور اگر وہ وہاں بھی نہیں ہوئی تو۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی اسے ہوا میں آکسیجن کم ہوتی محسوس ہوئی جیسے اب اس کا سانس بند ہو جائے گا

“ایک دفعہ پھر سے نہیں کھو سکتا اسے”

ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے تیزی سے کار فلیٹ سے باہر نکالی اب وہ جلد سے جلد سیرت کے پاس پہنچنا چاہتا تھا

“اسے واقعی میری کتنی ضرورت ہوگی”

یہ سوچتے ہوئے اسے ایک بار پھر افسوس ہونے لگا ثوبان نے کار کی اسپیڈ مزید بڑھا دی

****

“بہروز، یسریٰ میں تم دونوں سے کچھ بات کرنے آئی ہو” تھوڑی دیر پہلے ہی بہروز کو یسریٰ نے چینج کر آیا تھا تب بھی فرح ان کے بیڈروم میں آ کر کہنے لگی

“ہاں جی آئیے ناں۔۔۔ کیا بات ہے”

یسریٰ نے فرح کو دیکھتے ہوئے پوچھا فرح بہروز کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ آج صبح ہی عاشر کے کہنے پر وہ یہ بات ان دونوں سے کرنے آئی تھی اس نے بات کا آغاز کیا

“ویسے تو نہ ہی یہ وقت ہے نہ ہی موقع پلیز تم دونوں میری بات کو غلط معنوں میں مت لینا۔۔۔ میں رنعم کو اپنے عاشر کے لئے مانگنا چاہتی ہوں”

فرح کی بات پر یسریٰ نے بہروز کو دیکھا جبکہ بہروز فرح کے آگے بولنے کا انتظار کرنے لگا

“دیکھو زندگی موت کا کبھی بھی کسی کا بھی بھروسہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ معلوم نہیں آج میں تمہارے سامنے بیٹھی ہوں کل کو اس دنیا میں موجود ہوں یا نہ ہوں۔۔۔۔۔۔ اب بیٹھے بٹھائے بہروز کے لئے کس نے ایسا سوچا تھا کہ وہ اس طرح بستر سے لگ جائے گا۔۔۔ انشاءاللہ،، اللہ پاک تمہیں جلد صحت یاب کرے سچے دل سے تمہارے لئے دعا گو ہوں،، مگر بہروز کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کی خوشیاں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں۔۔۔۔۔ کون سا اب ہمارے بچے،، بچے رہے ہیں۔۔۔ بالغ اور باشعور ہو چلے ہیں،،، ان کے بالغ ہونے پر والدین کے لئے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں” فرح نے بہروز کو دیکھتے ہوئے کہا تو بہروز کی آنکھیں بھرنے لگی جب سے وہ پیرالائیسس ہوا تھا تب سے شاید اس کا دل بھی کمزور ہو گیا تھا

“باجی یہ آپ کس قسم کی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔ یہ واقعی نہ ہی کوئی موقع ہے اور نہ ہی وقت ان باتوں کا اور بہروز کو کچھ نہیں ہوا ہے وہ ٹھیک ہو جائیں گے انشاءاللہ”

یسریٰ نے فرح کو جواب دیا

“با۔۔۔۔جی ٹھ۔۔یک بو۔۔ل ری ہیں”

بہروز نے یسریٰ کو دیکھتے ہوئے کہا وہ تھوڑا اٹک کر بولنے لگا تھا کیوکہ ابھی اسے بولنے میں دقت ہوتی تھی

“یسریٰ میں تمہاری بہن ہو، مجھے یا میری بات کو تم غلط معینوںٰ میں مت لو۔۔۔ ٹھنڈے دل سے سوچو کل ہی ثوبان نے کہا ہے کہ وہ انعم کو تمہارے پاس لے آئے گا،، تم دونوں ایک بیٹی کے نہیں، دو بیٹیوں کے ماں باپ ہو۔۔۔۔ سمجھو دو بیٹیوں کی ذمہ داری ہے تم دونوں پر اور رنعم کو تو میں نے بچپن سے ہی عاشر کے لئے سوچا ہوا تھا۔۔۔ سب سے بڑی بات مجھے غفران نے بولا ہے کے رشتے کی بات کرکے آنا۔۔۔۔ پھر بھی کوئی زور زبردستی نہیں ہے ماں باپ ہو تم رنعم کے اس لئے سوچ سمجھ کر،، رنعم کی مرضی جان کر،، ثوبان سے مشورہ کر کے جو بھی تم دونوں کا فیصلہ ہو مجھے فون پر آگاہ کردینا۔۔۔ میں اور عاشر آج شام کو ہی نکل رہے ہیں اور کبھی تم دونوں اپنے آپ کو تنہا تصور نہیں کرنا”

فرح بڑے سبھاو سے بات کرتے ہوئے ان دونوں کے لیے سوچوں کے نئے در کھول کر خود انکے کمرے سے چلی گئی

یسریٰ کو فرح کی بات پسند نہیں آئی اور جب اسے معلوم ہوا کہ ایسا غفران بھائی کی خواہش ہے تو اس کے پیچھے اس مطلب کو بھی اچھی طرح سمجھ گئی

چند دن پہلے جب وہ فرح کی طرف رہنے کے لئے گئی تھی کیسے غفران بھائی طنزیہ گفتگو کر رہے تھے بہروز کے پاس پیسے، جائیداد اور شوروم کا بار بار پوچھ رہے تھے اپنی غریبی اور تنگدستی کا رونا رو رہے تھے ۔۔۔۔

غفران فطرتاً ناشکرا انسان تھا اس کی عادت سے نہ صرف گھر والے بلکہ پورا خاندان بھی واقف تھا یسریٰ نے سر جھٹک کر سوچا

عاشر یسریٰ کا بھانجا تھا مگر اس نے رنعم کے ساتھ عاشر کا بالکل نہیں سوچا تھا جبکہ دوسری طرف فرح کی باتیں سن کر بہروز ایسا سوچنے لگا

****

آخر وہ کیوں اتنی دی مول تھی کے ہر کوئی اسے چھوڑ کر چلا جاتا تھا آج اس کے باپ کو مرے ہوئے تیسرا دن تھا وہ بھی اسے اس بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا افسردگی سے سیرت نے سوچتے ہوئے اپنا سر دوبارہ گھٹنوں میں ٹکا دیا۔ ۔۔۔

برابر والے فلیٹ سے آ کر فاطمہ کا بیٹا اسے چاولوں سے بھری پلیٹ دے گیا تھا مگر سیرت کی بھوک کو مرے ہوئے تین بھی دن ہو چکے تھے کیوکہ آب کھلانے والا کوئی موجود نہیں تھا باہر کا دروازہ کھولا تو سیرت نے سر اٹھا کر آنے والے کو دیکھا۔۔۔۔ ثوبان نے سیرت کو وہاں دیکھا تو اس کی جان میں جان آئی

“دروازہ ایسے ہی کھلا چھوڑ دیا، لاک کیوں نہیں کیا”

ثوبان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ بات کا آغاز کیسے کرے مگر کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا اس لیے دروازہ لاک نہ کرنے کا پوچھ بیٹھا

“یہاں کون آئے گا کوئی چور تو آنے سے رہا،، ہے ہی کیا اس فلیٹ میں چرانے کو”

سیرت نے تلخی سے ثوبان کو دیکھ کر کہا معلوم نہیں وہ ہر بار کیوں اس کے سامنے آجاتا تھا

“ابھی معلوم ہوا تہمارے آبا کا،، مجھے افسوس ہے کہ میں آ نہیں سکا”

ثوبان نے سیرت کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر کہا شاید تھوڑی دیر پہلے کافی رو چکی تھی

“تم ابھی بھی کیوں آئے ہو، کر لیا نہ افسوس اب جاؤ یہاں سے”

سیرت تلخی سے کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی مگر ثوبان نے اس کی بات کا برا مانے بغیر اسے اپنے گلے سے لگا لیا، گلے لگنے کی دیر تھی سیرت اب دوبارہ ثوبان کے گلے لگ کر زاروقطار رونے لگ گئی۔۔۔۔ ایک ہاتھ سے اس کا سر تھپتھپا کر دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپیٹے ثوبان اسے دلاسا دینے لگا کافی دیر رونے کے بعد جب سیرت کو تھوڑا صبر آیا تو وہ ثوبان سے الگ ہوئی

“اپنے گھر سے کیوں واپس آ گئی تھی”

ثوبان اب نرمی سے اس سے پوچھ رہا تھا

“کیا کرتی وہاں رہ کر،، بچا ہی کیا تھا وہاں”

سیرت نے پلنگ پر بیٹھ کر جواب دیا

“میں تمہیں لینے آیا ہوں،، آب میرے ساتھ میرے گھر چلو”

ثوبان نے اسے دیکھ کر کہا

“کون سا گھر میرا گھر یہی ہے اور میں یہی رہو گی۔ ۔۔ تمہارے ساتھ میں کہیں نہیں جانے والی”

سیرت نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا

“بیوی کا اصلی گھر اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے تم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ چلنے والی ہو میرے گھر”

ثوبان نے اسے اپنا اور اس کا رشتہ واضح کراتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا

“شوہر۔۔۔ مجھے جب اپنے شوہر کی ضرورت تھی، تو میرے شوہر کو میری رتی برابر پروا نہیں تھی”

سیرت نے طنزیہ مسکراتے ہوئے ثوبان کو دیکھ کر کہا

“تمہیں اندازہ ہے تمہارے وہاں سے جانے کے بعد بابا کو کتنا صدمہ پہنچا کل رات میں انہیں ہسپٹل سے واپس گھر لے کر آیا ہوں پیرالائیز ہیں وہ تین دن سے،،، میں کتنا پریشان تھا تم اس بات کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی”

ثوبان اس کے طنزیہ لہجے کو اگنور کرتا ہوا اپنی صفائی دینے لگا جسے سن کر سیرت ایک پل کے لیے چپ ہو گئی

“جب میرا باپ مر رہا تھا تو مجھے تمہاری ضرورت تھی مگر تم اپنے بابا کو دیکھتے ہوئے بیوی کو تو کیا، پوری دنیا کو بھلائے ہوئے تھے”

اس نے ایک دفعہ پھر ثوبان پر طنز کیا

“غلط بات مت کرو مجھے اس وقت تمہارے ابا کی ڈیتھ کا علم نہیں تھا،، نہ ہی تم نے مجھے ایسا کچھ بتایا”

اب کی بار سیرت کی طنزیہ گفتگو سن کر ثوبان کو بھی غصہ آنے لگا جبھی وہ بولا

“تو تم نے کونسی میری کالز ریسیو کی، ویسے میرا میسج تو پڑھا ہوگا۔۔۔ خیر یہ تو اب فضول کی باتیں ہیں۔۔۔ اب تم مجھے صرف اس بات کا جواب دو،، تمہیں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنا ہے یا بیوی کے ساتھ کیوکہ یہ تو طے ہے میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانے والی”

سیرت کھڑی ہو کر اس کے مقابل آ کر بولی ثوبان اسے حیرانی سے دیکھنے لگا

“کیا فضول بکواس کر رہی ہو تم۔۔۔۔دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا”

اب اسے سیرت پر غصہ آنے لگا

“آپشنز تمہارے پاس موجود ہیں چوائس تمہاری ہے۔۔۔ تمہیں اپنی بیوی یا ماں باپ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا”

سیرت کندھے اچکا کر بولی

“میں اپنی فیملی کو نہ کسی کے پیچھے اگنور کرسکتا ہوں نہ چھوڑ سکتا ہوں اور تم بھی اب اسی فیملی کا حصہ ہوں اس لیے یہ بچکانہ اور بے وقوفانہ باتیں مجھ سے نہیں کرو اور چپ کر کے میرے ساتھ ابھی اور اسی وقت چلو”

ساری نرمی کو ایک طرف رکھ کر ثوبان نے اپنی سیرت کا بازو پکڑا جسے سیرت نے فوراً جھٹک دیا

“میں یہاں سے کہیں نہیں جانے والی اور تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے”

سیرت نے بھی سخت لہجے میں کہا ثوبان نے غصہ کنٹرول کرکے اپنے لب بھینچے

“وہ میرے ماں باپ ہیں،، نہ میں انہیں چھوڑ سکتا ہوں نہ تمہیں اور رہی بات زبردستی کی تو بیوی ہو تم میری حق رکھتا ہوں تم پر،، سیدھی شرافت سے میرے ساتھ چلو مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرنا”

ثوبان اس کو وارن کرتا ہوا اس کا بازو تھامے باہر نکلنے لگا سیرت کا رونا مزاحمت کرنا سب کچھ اگنور کرتا ہوا اسے گاڑی میں بٹھا کر ثوبان نے گاڑی اسٹارٹ کر دی