Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 11)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
کافی دیر تک کروٹیں بدلنے کے بعد کاشان کو نیند نہیں آئی تو وہ روم سے نکل کر ثوبان کو تلاش کرنے لگا
“کاشی کیا ہوا یہاں کیا کر رہے ہو”
ثوبان اپنے لیے کافی بناکر کچن سے دوبارہ اسٹیڈی کا رخ کر رہا تھا کاشان کو اپنے کمرے سے باہر دیکھ کر پوچھنے لگا
“یار شاید اکیلے سونے کی عادت نہیں رہی اس لیے بےچینی ہورہی ہے” کاشان سر کھجاتے ہوئے کہنے لگا
“اچھا ایسا ہے یہاں سے اوپر جاؤ لیفٹ سائیڈ کا سیکنڈ روم میرا ہے، میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں” ثوبان نے مسکراتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف اشارہ کیا تو کاشان سیڑھیوں پر چڑھتا ہوا اس کے روم میں داخل ہوا
“ثوبی کا روم بھی اچھا ہے مگر تھوڑا الگ ٹچ لگ رہا ہے”
وائٹ اور پنک کلر کے کومبینیشن کے فرنیچر کو دیکھتے ہوئے کاشان سوچتا ہوا روم کا جائزہ لینے لگا ابھی کاشان روم کا جائزہ لینے میں مصروف تھا اچانک واش روم کا دروازہ کھلا،،، ایک لڑکی بالوں کو ٹاول سر رگڑ کر کچھ گنگناتی ہوئی باہر نکلی۔۔۔ اس سے پہلے وہ اسے دیکھ کر چیخ مارتی کاشان تیزی سے لپک کر اس کی طرف بڑھا اور اپنا سخت ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کے منہ بند کر دیا۔۔۔ جیل میں مشعقت کے کام کر کر کے اس کے ہاتھوں میں نرمی نام کی چیز باقی نہیں رہی تھی بلکے ہاتھ ملانے والا بھی اس کے ہاتھوں کی سختی کو باآسانی محسوس کر سکتا تھا
“کون ہو تم”
کاشان نے ہری آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا جہاں ڈھیڑ سارا خوف ہلکورے لے رہا تھا
“کیا پوچھ رہا ہوں میں سنائی نہیں دے رہا”
کاشان آنکھیں دکھاتا ہوں اسے دوبارہ دریافت کرنے لگا، اس لڑکی نے اپنی انگلی کے اشارے سے کاشان کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جو کہ کاشان نے اس کے ہونٹوں پر رکھا ہوا تھا اب بھلا منہ بند ہو تو کیسے اور کیا بتاتی کہ کون ہے وہ، کاشان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو آئستہ سے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا تو رنعم نے لمبا سانس خارج کیا
وہ یقیناً رنعم تھی کیوکہ اسکی بہروز اور یسریٰ سے تو ملاقات ہوگئی تھی بس ایک وہی رہ گئی تھی۔۔۔۔ ثوبان نے بتایا تھا کہ وہ بہت معصوم ہے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ خوبصورت بھی ہے وہ اسے معصوم کے ساتھ خوبصورت بھی لگی وہ اس کے سہمے ہوئے روپ کو دیکھ کر سوچنے لگا
“آاآ۔۔۔پ کون ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں”
رنعم نے گھبرا کے پوچھا بھلا کون ہو سکتا ہے یہ شخص جو اس کو دیکھے نہیں بلکہ گھورے جا رہا تھا رنعم نے اسکو دیکھتے ہوئے پوچھا
“ثوبی کے روم میں کیا کر رہی ہو تم”
کاشان اس کی بات کو اگنور کرتا ہوا الٹا اس سے سوال پوچھنے لگا بات وہ اس سے ایسے کر رہا تھا جیسے پہلے سے جانتا ہو
“یہ بھیا کا نہیں میرا روم ہے، بھیا کا اپوزڈ سائیڈ کا سیکنڈ والا روم ہے”
رنعم کے جواب پر کاشان کو دوسری بار پھر اپنی غلطی کا احساس ہوا شاید وہ غلط روم میں داخل ہوگیا تھا
“سوری، میں ثوبی کا روم سمجھ کر غلطی سے یہاں آ گیا تھا، مگر تم بھی سوتے ہوئے روم کا دروازہ لاکڈ کرلینا شاور لیتے ہوئے شاید بھول گئی تھی”
جانے سے پہلے وہ اسے اس کی غلطی کا احساس دلانا نہیں بھولا جس پر رنعم اس کو دیکھتی رہ گئی
تھوڑی دیر پہلے ہی وہ حیدرآباد سے فرینڈز کے ساتھ سفر کر کے اچانک گھر آئی تھی اور اس طرح آنے پر ثوبان سے ڈھیر ساری ڈانٹ بھی سنی تھی کہ جب وہ اسے صبح لینے آنے والا تھا تو اسے بتائے بغیر رات کو اس طرح آنے کی کیا ضرورت تھی تھکن کی وجہ سے وہ شاور لینے گئی شاور لے کر نکلی تو اس کا اس عجیب و غریب مخلوق سے ٹکراؤ ہوگیا
“سنیں آپ بھیا کے بھائی ہیں نہ جو جیل سے۔۔۔۔
ثوبان کی کافی زیادہ مشابہت اس میں آ رہی تھی تبھی وہ فوراً بولی مگر آدھی بات منہ سے نکال کر چپ ہو گئی کاشان اس کی بات سن کر رکا دروازے سے پلٹ کر واپس اس کے قریب آیا۔۔۔ اس کے مزید قریب آنے سے رنعم دو قدم پیچھے ہوئی اور دیوار سے لگ گئی
“ہاں میں ثوبی کا وہی بھائی ہوں جو اپنے باپ کے قتل کے جرم میں 14 سال کی سزا جیل سے کاٹ کر آرہا ہوں اور کچھ”
کاشان رنعم کے بالکل قریب آ کر آنکھوں میں سنجیدگی لیے اسے گھورتا ہوا بولا۔۔۔ تو رنعم نے فوراً نفی میں سر ہلایا
“کاشان تنقیدی نگاہ اس کے سراپے پر ڈال کر روم سے باہر نکل گیا تو رنعم کا رکا ہوا سانس بحال ہوا
“آففف کیسا فولادی ہاتھ تھا ان کا۔۔۔۔ یقیناً جیل میں خوب چکییاں پسی ہوگئں بےچارے نے”
رنعم نے خود کو ہی مخاطب کرتے ہوئے کہا
“اور بھیا سے تو یکسر مختلف ہے،، بھیّا تو کتنے سوئیٹ سے ہیں اور یہ خود نیم چڑھا کریلہ ٹائپ شخصیت”
رنعم سوچتی ہوئی آئینے کی طرف مڑی۔۔۔ تو اس کی نظر اپنے نائٹ ڈریز کے اوپر کے کھلے ہوئے دو بٹن پر پڑی جلدی سے اس نے دونوں بٹن بند کیے اب اسے کاشان کا یوں روم سے جاتے وقت اپنے اوپر تنقیدی نظروں کا مطلب سمجھ میں آیا وہ شرمندہ ہونے لگی۔۔۔ سونے کے لئے بیڈ پر لیٹی تو ایک بار پھر اسے کاشان کی بات یاد آئی وہ اٹھ کر اپنے روم کا دروازہ لاک کرنے لگی
**
“جب ثوبان نے کہا تھا کہ وہ تمہیں آج صبح لینے آئے گا تو یوں رات گئے منہ اٹھا کر بغیر کسی کو بتائے،، آنے کی کیا ضرورت تھی”
یسریٰ نے صبح ناشتے کی ٹیبل پر سب کے سامنے رنعم کی کلاس لینا شروع کردی جس پر رنعم شرمندہ ہوکر سر جھکائے بیٹھی تھی
“یسریٰ میں اس کو سمجھا چکا ہوں اب وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گی”
بہروز کاشان کی موجودگی کے خیال سے رنعم کی روہانسی شکل کو دیکھتا ہوا بولا
“آئندہ ایسی نوبت آئے گی ہی نہیں اب تم اپنی کسی فرینڈ کی شادی میں نہیں جاو گی سنا تم نے”
یسریٰ نے ڈپٹتے ہوئے رنعم کو کہا رنعم کا منہ مزید پلیٹ میں جھگ گیا۔۔۔ کاشان ایک سرسری نظر رنعم کے شرمندہ جھکے ہوئے سر پر ڈال کر دوبارہ اپنا ناشتہ کرنے میں مگن ہوگیا
“کم ان مما رنعم کو میں نے ہی کہا تھا آجاؤ اپنی فرینڈز کے ساتھ، اس نے مجھ سے ٹیکس کر پوچھا تھا”
برابر میں بیٹھے ہوئے ثوبان نے رنعم کے ٹیبل پر رکھے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔ یہ دلاسہ دینے کی کوشش تھی کہ وہ اب یسریٰ کی ڈانٹ سے رو ہی نہ دے ننھا سا تو دل تھا اسکا
“تم بھی نہ ذرا اس کی سائیڈ لینا بند کرو،، سر چڑھا لیا ہے تم نے اسے۔۔۔ اگر خدا نہخاستہ راستے میں کوئی اونچ نیچ ہوجاتی تو کیا کرتے ہم”
یسریٰ نے اب گھورتے ہوئے ثوبان کی کلاس لی
“یسریٰ ریلیکس ہوکر ناشتہ کرو رنعم اب گھر آگئی ہے بس اب ختم کرو بات کو”
بہروز نے دوبارہ یسریٰ کو ٹوکا اور شوروم جانے کے لیے نکل گیا جبکہ یسریٰ چپ کر کے ناشتہ کرنے لگی
“رنعم کریم چھٹی پر گیا ہوا ہے جلدی سے ریڈی ہو کر آؤ تمہیں یونیورسٹی ڈراپ کر دو اور کاشی ناشتہ کر کے ذرا باہر آؤ۔۔۔ مما ناشتے کے بعد میڈیسن یاد سے لے لیے گا،، شام میں جلدی آؤں گا،، ڈاکٹر کے پاس اپوائنمنٹ ہے آپ کا”
ثوبان کہتا ہوا ہال سے باہر نکل گیا جبکہ رنعم اپنے کمرے میں جانے لگی کاشان نے دوبارہ اس کے اوپر نظر ڈالی جینز کے اوپر شارٹ کرتا پہنے ہوئے، وہ اسے کل کے مقابلے میں اس وقت بجھی بجھی لگی،،، کل جو وہ رات کو نہا کر نکلی تھی تو فریش فریش لگ رہی تھی مگر شاید ابھی تازہ تازہ عزت افزائی وہ بھی کسی اجنبی کے سامنے یہی وجہ ہوسکتی ہے اس اداسی کی۔۔۔۔ کاشان نے سوچتے ہوئے چائے کا سپ لیا
“آپ سے تو مجھے اب ڈر لگ رہا ہے کل تو آپ کافی پولائٹ لگ رہی تھی”
کاشان نے یسریٰ کو دیکھ کر کہا تو وہ ہلکے سے مسکرا دی
“ڈرنے کی ضرورت نہیں، غصہ مجھے کم ہی آتا ہے۔۔۔ بیٹی کی ماں ہوں تھوڑی سختی برتنی پڑتی ہے اور رنعم کون سے بڑی ہے اسی لیے بولا تاکہ آئندہ خیال رکھے وہ”
یسریٰ نے ناشتے سے فارغ ہوتے ہوئے کہا
“یہ تو بجا فرمایا آپ نے،، اوکے ثوبان کی بات سن کر آتا ہوں”
کاشان اٹھتا ہوا بولا
**
“آؤ کاشی یہ میری طرف سے تمہارے لئے گفٹ ہے”
کاشان باہر نکل کر ثوبان کے پاس آیا تو ثوبان نے زیرو میٹر کی کار کی طرف اشارہ کیا اور مسکرا کر کیچین کاشان کی طرف بڑھائی
“کل تم نے سیل فون بھی دیا تھا اس کی کیا ضرورت ہے اور کون سا مجھے ڈرائیونگ آتی ہے”
کاشان نے ہاتھ بڑھائے بغیر گاڑی کی چابی کو دیکھ کر کہا
“موبائل تو میں نے رنعم کے لیے لینا تھا اس سے پرامس کیا ہوا تھا تو سوچا تمہارے لیے بھی لے لو اور رہی بات ڈرائیونگ کی تو جب کار ہاتھ میں ہوگی تو ڈرائیونگ بھی آ ہی جائے گی اور مجھے پورا یقین ہے تم بہت جلد سیکھ لو گے۔۔۔۔ یاد ہے رشید کی بائیک پیچھے میدان میں تم اور میں چلاتے تھے اور بائیک چلانا تم مجھ سے پہلے سیکھ گئے تھے اور بہت اچھی چلاتے تھے”
ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چابی کو اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا
دور سے رنعم ہاتھ میں بکس اور شولڈر پر بیگ لئے جینس اور اوپر کرتے میں مبلوس ان دونوں کی طرف آتی دکھائی دی
“چودہ سال میں کافی کچھ بدل گیا ہے دنیا جتنی حسین ہوگئی ہے، لوگ اتنے ماڈرن اور بے پردہ بھی”
کاشان نے دور سے آتی رنعم کو دیکھ کر تبصرہ کیا
“بے پردگی کی کیا بات ہے، رنعم کونسی بڑی ہے بچی ہے وہ ابھی”
کاشان کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے ثوبان نے نارمل سے انداز میں اپنی راۓ دی
“غلط، جوان ہے تمہاری بہن۔۔۔ وہ کسی بھی اینگل سے بچی نہیں ہے”
کاشان انکھوں کو سکھیڑتا ہوا اب بھی رنعم کو دیکھتا ہوا بولا اس کی بات سن کر ثوبان کو غصہ آیا
“کاشی اپنی زبان نظر اور دماغ ان تینوں چیزوں کو درست رکھو اور یاد رکھنا میں رنعم کو بہن کہتا ہی نہیں دل سے مانتا ہوں،،، اس لئے آئندہ اس کے بارے میں سوچ سمجھ کر بات کرنا”
ثوبان کی پیشانی پر اچھے خاصے بل واضح ہوچکے تھے جنہیں دیکھ کر کاشان ہلکے سے مسکرایا
“باہر کس کس کا منہ اور آنکھیں بند کروں گے یقین جانو باہر کوئی تمہاری بہن کو بہن کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا اسلیئے گھر کے مرد کو خود محتاط ہونا چاہیے”
کاشان نے تحمل سے ثوبان کو دیکھ کر کہا
“چلیں بھیا میں آگئی ہوں”
رنعم نے ثوبان کے پاس آکر اسے مخاطب کیا
“جاو رنعم اسکارف لے کر آؤ”
ثوبان نے رنعم کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا رنعم کو دیر ہو رہی تھی مگر جتنا سیریس ہوکر ثوبان نے کہا تھا رنعم ایک نظر کاشان پر ڈال کر،، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا بغیر کچھ بولے اسکارف لینے چلی گئی
**
“ایکسکیوزمی کیا میں آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہوں” عبائے میں ایک معصوم سی لڑکی جو کافی دیر سے فٹ پاتھ پر کھڑی ہوئی تھی کار میں موجود لڑکا اس کو دیکھ کر بولا
“جی دراصل میں اپنا موبائل اور پیسے گھر بھول گئی ہو اب سمجھ میں نہیں آرہا گھر کیسے جاؤ”
لڑکی نے پریشان ہو کر کار میں موجود لڑکے کو بتایا
“آئیے میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں” لڑکے نے اس کی مدد کرنے کی کوشش کی
“بہت بہت شکریہ، اب تو دنیا میں بہت ہی کم نیک صفت لوگ بچے ہیں جو دوسرے کے کام آئے”
لڑکی نے مشکور بھری نگاہوں سے اس کو دیکھ کر کہا اور کار کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی اور اپنا ایڈریس بتانے لگی
“بائے دا وے کیا نام ہے آپ کا”
لڑکے نے اس کا نام جاننا چاہا
“معصومہ”
لڑکی نے مسکرا کر اپنا نام بتایا
“نام تو بالکل آپ سے میچ ہوتا ہوا ہے ویسے مجھے وسیع کہتے ہیں”
لڑکے نے اپنا تعارف کرایا۔۔۔۔ باتوں کے دوران وہ معصومہ کے بتائے ہوئے ایڈریس پر جانے لگا
“ہم شاید غلط آ گئے ہیں،، میں نے یہ ایڈریس نہیں بتایا تھا آپ کو”
گاڑی ایک سنسان علاقے میں رکی جہاں پر دور کہیں کنسٹرکشن ہو رہی تھی
“نہیں ہم بالکل ٹھیک آئے ہیں،، وہ کیا ہے نا معصومہ آج کل کا دور بہت خراب ہے اور لڑکی کو آپ جتنا معصوم بھی نہیں ہونا چاہیے”
وسیع کی آنکھ میں شیطانیت اتری تو معصومہ نے ابھی بھی اسے معصومیت سے دیکھا
“کیا مطلب، میں آپ کی بات سمجھی نہیں”
معصومہ نے معصومیت کی انتہا کرتے ہوئے کہا
“سب مطلب سمجھا دوں گا مگر پہلے اپنا مطلب پورا کر لو”
وسیع نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے اوپر جھکنے کی کوشش کی تو معصومہ نے چاقو کی نوک اس کے پیٹ میں چبھوئی
وہ اب بھی معصومیت سے مسکرا کر وسیع کو دیکھ رہی تھی وسیع پیچھے ہو کر واپس شرافت سے اپنی سیٹ پر بیٹھا
“یہ کیا کر رہی ہیں آپ بہن جی، چاقو کو نیچے کریں پلیز”
وسیع نے اسے باتوں میں لگا کر اس کے ہاتھ سے چاقو پکڑنا چاہا تو معصومہ نے چاقو سے اس کے ہاتھ پر وار کیا
“آآآآ کیا چاہیے تمہیں”
وسع نے اپنے زخمی ہاتھ کو دیکھ کر پوچھا
“اب آئے نہ تم مطلب کی بات پر، چلو جلدی سے اپنا والٹ سیل فون نکالو کوئی بھی ہوشیاری کیے بغیر،،، ورنہ اب کے یہ چاقو تمہارے پیٹ میں گھسیڑ دو گی”
معصومہ ابھی بھی مسکراتے ہوئے معصومیت سے کہہ رہی تھی
“تم صرف نام کی معصوم ہو”
وسیع نے والٹ اور سیل فون معصومہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس سے معصومہ نے دوسرے ہاتھ میں تھام کر عبائے میں کہیں چھپا لیا اب اس نے عبائے میں سے کوئی چیز نکالی مگر مھٹی بند ہونے کی وجہ سے وسیع کو وہ چیز نظر نہیں آئی
“مگر تم مجھے شکل سے ہی پکےّ خبیث لگے تھے”
بند مٹھی اس کے منہ کے سامنے کھول کر پھونک ماری تو لال مرچوں کا پاڈر وسیع کی آنکھوں اور منہ میں گیا جس سے وہ بری طرح تڑپ اٹھا۔۔۔۔ مچلتا ہوا وہ اسے گالیاں دے رہا تھا معصومہ جلدی سے کار سے اتر کر کہاں غائب ہوگئی وسیع کو اندازہ نہیں ہوسکا
