Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 19)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“سیرت اٹھو صبح ہوگئی ہے”
ثوبان کے تیسری بار پکارنے پر جب وہ نہیں اٹھی تو ثوبان نے اس کے ہونٹوں پر جھک کر اپنے ہونٹ رکھے جس سے ایک سیکنڈ لگا سیرت کو اپنی آنکھیں کھولنے میں۔۔۔۔ بلکہ اپنی آنکھیں کھولتے ہی اس نے ثوبان کو پیچھے دھکیلا
“کیا فضول حرکت ہے ثوبی”
سیرت کی انکھوں سے نیند رخصت ہوچکی تھی اب وہ ثوبان سے گھورتے ہوئے پوچھ رہی تھی
“اچھا مجھے ایسا لگا کہ تم اسی حرکت کے انتظار میں اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔ سوچا آج اپنے دن کا آغاز میں تھوڑا رومانٹک طریقے سے کر لیا جائے”
ثوبان شرارت سے بولتا ہوا اس کے قریب آیا
“پرے ہٹو شکل سے کتنے سیدھے اور بھولے لگتے اور حرکتیں دیکھو اپنی”
ایسا روپ اس نے ثوبان کا پہلی دفعہ ہی تو دیکھا تھا جو اس کے لیے بالکل نیا تھا، اس کو ایک بار پھر پیچھے کرتی ہوئی وہ واش روم میں چلی گئی،،، واپس آئی تو ثوبان اپنے موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا اس پر ایک نظر ڈال کر سیرت آئینے کے سامنے اپنے بال سنوارنے لگی ثوبان چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور اس کے دونوں شانے تھام کر بولا
“چلو جلدی سے تیاری پکڑو، بہت سارے کام ہیں پہلے تمہارے فلیٹ سے ضروری چیزیں لیں گیں۔۔۔۔ اپنے دوست سے میں نے فلیٹ کے سلسلے میں بات کی ہے تمہیں اور انکل کو وہاں شفٹ کروں گا اور پھر گھر جاؤں گا”
اس کے کندھے پر اپنی تھوڑی ٹکاتے ہوئے وہ اپنا پروگرام سیرت کو بتانے لگا
“دوسرے فلیٹ کی کیا ضرورت ہے میں اور ابا بھی تو فلیٹ میں ہی رہ رہے ہیں،،، کوئی ضرورت نہیں ہے شفٹنگ کی” سیرت کو اس کا آئیڈیا خاص پسند نہیں آیا وہ آئینے میں سے ثوبان کو دیکھتے ہوئے بولی
“ضرورت کیوں نہیں ہے تم اب میری ذمہ داری ہو اس فلیٹ کا ماحول زیادہ اچھا نہیں ہے،، اس لیے وہاں رہنے کی ضرورت بھی نہیں ہے اور رضوان (کیئر ٹیکر) انکل کے ساتھ ہی رہے گا اس لئے الگ روم کی ضرورت ہوگی۔۔۔ روزانہ شام کو میں چکر لگا لیا کروں گا کچھ دنوں کی بات ہے تب تک مما بابا سے بھی بات کر لوں گا”
ثوبان سیرت کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے بولا وہ چپ ہو کر ثوبان کو دیکھنے لگی
“اتنی فرصت سے ابھی نہیں پھر کبھی دیکھ لینا،، جب میں بھی فری ہو بلکہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ لیں گے”
ثوبان اس کی پیشانی پر اپنی پیشانی کے ٹچ کرتے ہوئے بولا دروازہ ناک ہوا تو ثوبان نے روم کا دروازہ کھولا
ثوبان کے آرڈر کرنے پر ناشتہ روم میں ہی آ گیا تھا جو ان دونوں نے کیا اور وہاں سے نکل گئے
****
وہ دونوں سیرت کے فلیٹ پہنچے فلیٹ میں استعمال کرنے کی کوئی ضروری چیز نہیں تھی سیرت الماری سے اپنے اور ناصر کے چند جوڑے نکال کر بیگ میں ڈالنے لگی جبکہ ثوبان وہی پلنگ پر بیٹھ گیا غیر ارادی طور پر الماری میں رکھی ہوئی ننھی سی گلابی فراک پر ثوبان کی نظر پڑی ایک گوندہ سا ذہن میں لپکا
“یہ کیا ہے سیرت” وہ بے اختیار اٹھ کر الماری کے پاس آیا اور فراک ہاتھوں میں لئے غور سے دیکھتے ہوئے بولا
“معلوم نہیں کیوں ابا نے میرے ان کپڑوں کو ابھی تک سینے سے لگا کر رکھا ہوا ہے،،، انہی کپڑوں اور اس گدے میں، مجھ گناہ کی پوٹ کو کوئی کچرے کے ڈھیر میں پھینک گیا تھا۔۔۔ فضول ہی ہیں یہ دونوں چیزیں میرے لیے انہیں پھینک دو”
سیرت نے ثوبان سے کہتے ہوئے بیگ میں کپڑے ترتیب سے کپڑے رکھنے شروع کیے اور بیگ کی زپ بند کی مگر ثوبان کا دماغ کہیں اور ہی تھا
جو تصویر یسریٰ نے انعم کی ثوبان کو دکھائی تھی یسریٰ کے کہنے کے مطابق یہ اسی دن کی تصویر ہے جب نوکرانی انعم کو اسکے گھر سے لے کر غائب ہوئی تھی
“کتنی دیر لگے گی تمہیں”
کمرے میں موجود شاپر میں چھوٹا سا گدا اور فراک ڈال کر، ثوبان نے سیرت سے پوچھا۔۔۔ وہ اب الماری کی ڈراز سے کچھ فائل وغیرہ نکالتے ہوئے اپنے ہینڈ بیگ میں رکھ رہی تھی
“دس منٹ تو دو مجھے،،، میرے کچھ ضروری ڈاکومنٹ ہیں انہیں رکھ لو” وہ مصروف انداز میں بولی
“ٹھیک ہے میں باہر میں ویٹ کر رہا ہوں تمہارا”
ثوبان کے بولنے پر سیرت نے سر ہلایا وہ سیرت کا بیگ اور شاپر لیے باہر نکل گیا کار میں پہنچ کر وہ دوبارہ سوچ میں پڑگیا
معلوم نہیں اس میں کتنی سچائی ہے اگر واقعی سیرت مما بابا کی بیٹی انعم ہے تو کتنا حیرت ناک انکشاف ہوگا۔۔۔۔
وہ دل میں سوچتا ہوا سیرت کا ویٹ کرنے لگا تھوڑی دیر میں وہ آگئی تو ثوبان نے کار اسٹارٹ کر دی
ناصر کو اسپتال سے لے کر اس نے سیرت اور ناصر کو اپنے دوست کے فلیٹ میں چھوڑا یہ فلیٹ اچھے علاقے میں تھا۔۔۔۔ تین کمروں کا یہ فلیٹ ان باپ بیٹی کے لیے کافی تھا اس کے بعد وہ پولیس سٹیشن آ گیا باقی کے کاموں میں پھنسا رہا مگر دماغ بار بار گاڑی میں رکھی فراک میں اٹکا رہا
****
رات کے کھانے کی ٹیبل پر وہ چاروں موجود تھے ارے واہ بھئی لگتا ہے میری بیٹی کوکنگ کا شوق چڑھا ہوا ہے بہروز نے قیمہ پلیٹ میں نکالتے ہوئے کہا تو رنعم نے مسکرا دی
“رنم پیپرز کب ختم ہو رہے ہیں تمہارے” ثوبان نے کھانا نکالتے ہوئے اس سے پوچھا
“جی بھیئا اسی فرائیڈے کو لاسٹ پیپر ہے”
رنعم نے چاول اپنی پلیٹ میں نکالیتے ہوئے ثوبان کو جواب دیا
“دیکھ لیں بابا پیپرز اب ختم ہو جائیں گے اور رنعم اب کھانا بھی بنانا سیکھ گئی ہے۔۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے اب کچھ سوچنا پڑے گا اسکے لیے ہمیں”
ثوبان نے شرارت سے رنعم کو دیکھ کر بہروز کو مخاطب کیا بہروز مسکرانے لگا
“بھیا ایسی باتیں مت کریں ورنہ میں یہاں سے چلی جاؤ گی”
رنعم نے نظریں جھگاتے ہوئے ثوبان سے کہا کیوکہ دو آنکھیں اور بھی اسی کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھی
“چپ کر کے بیٹھ کر کھانا کھاو اور اگلی دفعہ نمک پر ہلکا ہاتھ رکھنا۔۔۔ بابا آپ زیادہ مت کھائیے گا بی پی ہائی ہو جائے گا” ثوبان نے بہروز کو منع کیا کیوکہ نمک اچھا خاصا تیز ہوگیا تھا مگر رنعم نہ فیل کرے ثوبان نے اس کے ہاتھ کا بنا ہوا قیمہ تھوڑا سا نکالا جبکہ کاشان نے کسی دوسری چیز کو ہاتھ نہیں لگایا صرف رنعم کے ہاتھ کا بنا ہوا قیمہ کھایا۔۔۔
کھانے کے بعد کاشان بہروز سے اپنی جاب کے متعلق باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔ ثوبان بھی صوفے پر بیٹھا ہوا تھا تب رنعم ان تینوں کے لیے چائے بنا کر لائی اور سرو کی
“بابا میرے پیپرز ختم جائیں گے تو پھر میں آنی کے گھر جاؤں گی ایک ہفتے کے لیے”
رنعم نے بہروز کو مخاطب کیا
“ٹھیک ہے میرا بیٹا چلی جانا”
بہروز کی اجازت پر رنعم کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی مگر کاشان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے
“تھینک یو”
رنعم ٹرے رکھنے کے لیے کچن میں چلی گئی
“چینی کم میں شاید”
کاشان بولتا ہوا کچن میں گیا ثوبان بہروز سے باتیں کرنے لگا
****
رنعم ٹرے رکھ کر جانے کے لئے مڑی تو کاشان کچن میں داخل ہوا
“آپ۔۔۔۔ کچھ چاہیے تھا کیا”
رنعم نے کاشان کو دیکھ کر مخاطب کیا وہ چائے کا کپ تھامے چلتا ہوا اس کے قریب آیا
“آنٹی کل پرسوں واپس آجائیں گی تو پھر تمہیں جانے کی کیا ضرورت ہے”
رنعم کی بات کو اگنور کرتے ہوئے وہ اس سے بولا
“مما کے آنے سے کیا ہوتا ہے آنی کے پاس تو میں ہر سال روکنے کے لیے جاتی ہوں۔۔۔ وہ ہر سال ویٹ کرتی ہیں میرا”
رنعم نے مسکرا کر کاشان کو بتایا
“لیکن اب تم نہیں جاؤں گی”
کاشان کے سنجیدگی سے کہنے پر رنعم کی مسکراہٹ بھی تھم گئی
“مگر کاشان میری ایک ہی تو خالہ ہیں اور میں تو ہر سال ہی۔۔۔۔
ابھی رنعم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کاشان کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹا
آااا
گرما گرم چائے کے گرنے سے رنعم بری طرح چیخی اس نے پتلے سے اسٹیپ والی سلیپر پہنی ہوئی تھی اس لئے اس کے پاؤں زیادہ متاثر ہوئے
“کیا ہوا”
ثوبان اور بہروز رنعم کی آواز سن کر کچن میں آ گئے
“غلطی سے میرے ہاتھ سے کپ چھوٹ گیا رنعم کے پاؤں پر چائے گر گئی”
کاشان نے ان دونوں کو دیکھ کر جواب دیا جب کہ جلن کی وجہ سے رنعم نے رونا شروع کردیا ثوبان آگے بڑھ کر کندھوں کے گرد ہاتھ پھیلائے رنعم کو چپ کرانے لگا
“کاشی تمہیں دیکھنا تو چاہیئے تھا ایسے کیسے چھوٹ گیا کپ تمہارے ہاتھ سے سرخ ہو گئے اس کے پاؤں بری طرح” ثوبان کاشان پر برہم ہوتا ہوا بولا وہ ابھی بھی رنعم کو بچوں کی طرح چپ کرا رہا تھا
“چلو اس نے کون سے جان بوجھ کر گرایا ہے غلطی سے گرا ہے کپ۔ ۔۔۔۔یہاں آو رنعم بابا کے پاس”
بہروز نے کاشان کو چپ دیکھ کر رنعم کے آنسو صاف کیے مگر رنعم بہروز کے گلے لگ کر پھر رونے لگی
“آئی ایم سوری” کاشان نے بہروز کو دیکھتے ہوئے کہا
“کوئی بات نہیں میری بیٹی بہت بہادر ہے”
بہروز رنعم کو بہلاتے ہوئے کہنے لگا
“چلو شاباش اب اپنے روم میں جاگ کر سو جاؤں۔۔۔ ثوبان تم پرانی البم کو پوچھ رہے تھے وہ یسریٰ نے اسٹیڈی روم میں رکھی ہے” بہروز رنعم کو روم میں جانے کا کہہ کر ثوبان کی بات کا جواب دینے لگا جس پر ثوبان اثبات میں سر ہلا کر اسٹڈی روم میں چلا گیا تاکہ اپنی کنفیوزن دور کر سکے
****
کاشان اپنے روم میں ٹہلنے لگا پندرہ بیس منٹ گزرنے کے بعد وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا رنعم کے روم میں پہنچا اور دروازہ ہلکے سے ناک کیا رنعم کی آواز پر دروازہ کھول کر بیڈ روم میں داخل ہوا اور دروازہ بند کیا رنعم جو کہ اپنے بیڈ پر سونے کے غرض سے لیٹی ہوئی تھی کاشان کو دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی کاشان چلتا ہوا بیڈ پر اس کے پاس آیا اور بیٹھ گیا
اس کے بیٹھنے پر رنعم نے اپنے پاؤں مزید سمیٹے مگر کاشان نے اس کے پاؤں پکڑ کر اپنی گود میں رکھے اور پاکٹ سے آئینٹمینٹ نکال کر اس کے پاوں پر لگانے لگا یہی عمل اس نے دوسرے پاؤں پر بھی دہرایا۔۔۔۔۔ رنعم اس کو دیکھنے لگی معلوم نہیں کیوں مگر اسے ایسا لگا جیسے کاشان نے کپ غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر۔۔۔۔
“تم دیکھنے میں ہی نہیں واقعی نازک سی ڈول ہو۔۔۔۔ چائے اتنی گرم بھی نہیں تھی جو جلن برداشت نہ ہو مگر پھر بھی سوری”
کاشان رنعم کو دیکھ کر کہنے لگا
“اتنی گرم نہیں تھی کیا مطلب آپ نے جان بوجھ کر چائے میرے پاوں پر گرائی تھی”
رنعم نے حیرت سے اسے دیکھ کر پوچھا یعنی جو وہ سوچ رہی تھی بالکل ٹھیک سوچ رہی تھی
“تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں نے جان بوجھ کر تم پر چائے گراو گا”
کاشان مزید اس کے قریب سرک کر پوچھنے لگا
“نہیں میرا وہ کہنے کا مطلب نہیں تھا”
کاشان کو سنجیدگی سے اپنے اوپر نظر جمائے اور قریب دیکھ کر وہ پیچھے بیڈ کے کراون سے ٹیک لگاتی ہوئی جلدی سے بولی
“مجھے نہیں معلوم تھا کہ کوئی لڑکی خوبصورت ہونے کے ساتھ اتنی معصوم بھی ہو سکتی ہے، میں نے اپنے لیے ایسی ہی لڑکی کی چاہ کی تھی۔۔۔۔ کسی بھی چیز کی عادت ہو جانا کوئی اچھی علامت نہیں ہے اور میں تمہارا ایڈک ہوتا جا رہا ہوں۔۔۔ اب تم خود بتاؤ پورے ایک ہفتے تم میری آنکھوں سے اوجھل رہوگی تو میرا کیا ہوگا۔۔۔ اس وجہ سے تمہیں جانے کے لیے منع کر رہا تھا تمہیں آنی کے گھر جانا ہے۔۔۔ چلو ایسا کرتے ہیں تمہارے لاسٹ پیپر میں ابھی کافی دن کا گیپ ہے،،، کل ہم دونوں انٹی کو لینے چلتے ہیں تم اپنی آنی سے بھی مل لینا اور واپسی پر ہم آنٹی کو بھی لے آئیں گے میں انکل سے اجازت لے لیتا ہوں”
رنعم کی سبز آنکھیں میں اداسی دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی کاشان نے رنعم کو اس کی آنی سے ملانے کا سوچا مگر وہ خود اس کے ساتھ جائے گا یہ زیادہ اچھا ہوگا۔۔۔ اس کا پروگرام سن کر رنعم خوش ہوگئی اور اسکو خوش دیکھ کر کاشان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
“سو جاؤ اب میں انکل سے بات کر لیتا ہوں”
کاشان نے اسے شانوں سے تھام کر بیڈ پر لٹاتے ہوئے کہا اور خود اس کے بیڈروم کا دروازہ بند کر کے نکلا
سامنے سے سیڑھیاں چڑھ کر آتے ثوبان نے کاشان کو رنعم کے کمرے سے نکلتے دیکھا تو وہ ایک دم چونکاا
