Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 32)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
آج مایوں کی تقریب گھر کے لان میں ہی منعقد کی گئی تھی گھر کے سبھی لوگ مختلف کاموں میں مصروف نظر آرہے تھے۔۔۔ ثوبان کے انسسٹ کرنے پر سیرت نے بھی مختلف کاموں میں حصہ لیا ہوا تھا
ویسے بھی اس کی بہن کی شادی تھی وہ کاشان اور رنعم کی شادی پر خوش تھی بے شک ماں باپ سے ناراض ہو مگر چند دنوں میں ہی رنعم اسے عزیز ہو گئی تھی
نکاح کی تقریب دوپہر میں ہی انجام دے دی گئی تھی۔۔۔ اب شام کا وقت تھا لہذا مہمانوں کی آمد و رفت شروع ہو چکی تھی
“سیرت بیٹا ذرا رنعم کو دیکھ کر آؤ تیار ہوگئی ہے تو اسے باہر لے آؤ۔۔۔ کاشان پتہ نہیں کیوں نہیں آیا ابھی تک”
یسریٰ نے عجلت میں سیرت سے کہا
“رنعم کو میں دیکھ لیتی ہوں بلکہ مہمان بھی آگئے ہیں تھوڑی دیر بعد ہی اس سے باہر لے آؤں گی اور کاشان اپنے فلیٹ سے نکل چکا ہے پہنچنے ہی والا ہوگا۔۔۔ ابھی فون کیا تھا میں نے اسے” سیرت نے ابٹن اور مہندی سے سجے تھال کچن میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کاشان ہفتے پہلے ہی اپنے فلیٹ میں شفٹ ہو چکا تھا تھا،، رات کے کھانے کے ٹائم پر وہ یہاں سب کے پاس آ جاتا کیوکہ اس کا فلیٹ زیادہ دور نہیں تھا،، دو ایک دفعہ وہ نہیں آ سکا تو رنعم نے کھانا بنا کر شاہدہ کے بیٹے کے ہاتھ اسے بھجوا دیا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھ سے کاشان کے لیے کھانے بنا بنا کر اب کھانا بنانے میں پرفیکٹ ہوچکی تھی اور کاشان اس کے ہاتھ کے بنے کھانے کھا کھا کر، وہی کھانے کا عادی
****
“مانا کے کاشی تمہارا شوہر بن چکا ہے مگر آج اس کے دل پر بجلیاں گرانے کا سامان پیدا مت کرو ورنہ وہ کل تک کنٹرول نہیں کر پائے گا”
سیرت نے رنعم کے کمرے میں آ کر اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھ کر جملہ پاس کیا جس پر رنعم جھینپ گئی۔۔۔۔ یلو اور پرپل کلر کے کمبینیشن کے لہنگے میں،، پھولوں کے زیور پہنے وہ کوئی ناز کسی گڑیا لگ رہی تھی میک اپ کے نام پر نیچر شیڈ کا گلوز لگایا ہوا تھا
“آپی آپ ایسی باتیں کر کے مجھے ڈرا رہی ہیں”
رنعم نے نروس ہوتے ہوئے سیرت سے کہا
“اف پاگل لڑکی اس میں ڈرنے والی کونسی بات ہے اگر تم ابھی سے ڈر جاو گی تو ساری زندگی ڈرتی ہی رہو گی عورت کا حسن ہی اس کا ہتھیار ہوتا ہے۔۔۔ تم اس ہتھیار سے مالامال ہو اور دوسرا پلس پوائنٹ تمہارے پاس یہ ہے کہ تمہارا شوہر پہلے سے ہی تمہارے حسن کے اگے مکمل گھائل ہے۔۔۔۔ اب میری بات غور سے سنو کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اس سے،،، اپنی اداؤں سے اسے مجبور کر دینا کہ کل وہ تمہارے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے صرف دو باتیں اس کی ماننا مگر دس باتیں اپنی منوانا۔۔۔ اگر پہلی رات کو تم اپنی منوانے میں کامیاب ہو گئی تو سمجھو زندگی بھر کے لیے وہ تمہاری مانے گا۔۔۔ سمجھ میں آ رہی ہے میری بات”
سیرت بڑے بوڑھوں کی طرح رنعم کو سمجھانے میں مصروف ہو گئی اور رنعم ہونقوں کی طرح اس کی شکل دیکھنے میں
“آپی سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزر گیا۔۔۔ آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں”
رنعم نے اس کی باتوں سے مزید نروس ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔ جس پر سیرت نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا
“آف رنعم تم کتنی بدھو ہو،، دیکھو اب میں تمہیں آسان لفظوں میں سمجھاتی ہوں”
سیرت نے تحمل سے اس کو دوبارہ سمجھانا چاہا
“یہ کیا الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہی ہو تم، میری معصوم اور بھولی بھالی بیوی کو”
کاشان نے روم کا دروازہ جو کہ پہلے سے ہی ذرا سا کھلا ہوا تھا پورا کھول کر سیرت سے کہا
“تم یہاں کیا کر رہے ہو”
سیرت نے حیرت سے کاشان کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ جو کہ اب پورا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو چکا تھا۔۔۔۔ دوسری طرف رنعم کاشان کو اپنے سامنے دیکھ کر اور سیرت کی باتوں پر مزید گھبرا گئی یقیناً وہ سب باتیں کاشان سن چکا تھا
“ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں بائے دا وے کیا مشورہ دے رہی تھی تم اسے،،، دو باتیں مانو دس باتیں اپنی منواؤں تو سیرت بی بی یہاں ایسا کوئی سین نہیں ہونے والا،۔۔۔ بے شک میری بیوی حسن کی دولت سے مالا مال ہے مگر کاشان احمد پر اب تک کوئی قابض ہو، یہ ناممکن ہے۔۔۔ کاشی تو صرف منوانا جانتا ہے یقین نہیں آتا تمہیں پرسوں اندازہ ہو جائے گا کون چاروں خانے چت ہوتا ہے”
کاشان نے دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے سیرت سے کہا
“جانتی ہوں تمہیں تم ہی قابض ہوگے “جن” جو ٹہرے،،، وہ بھی بے ہودہ قسم کے”
سیرت نے اس کی مسکراہٹ پر تپ کر کہا
“مانا کہ ہم پہلے سے تجربے کار نہیں اس میدان میں نئے اترے ہیں مگر فتح پر پورا یقین ہے پرسوں بیشک اپنی بہن سے پوچھ لینا کس نے کس کے آگے گھٹنے ٹیکے”
وہ آنکھ مارتا ہوا دوبارہ سیرت سے بولا۔۔۔۔ رنعم ان دونوں کی گفتگو سن کر شرمندہ ہوئے جا رہی تھی جبکہ سیرت اپنے سامنے کھڑے بے ہودہ دیور کی بےہودگیاں دیکھ کر گرھتی جا رہی تھی
“تم یہاں کیا کرنے آئے ہو چلو نکلو۔۔۔ گھٹنے کل ٹکوانا ابھی مہمانوں سے گھر بھرا ہوا ہے”
سیرت سے کوئی بات نہیں بنی تو وہ بگڑتی ہوئی بولی
“اب جو میں کرنے آیا ہوں وہ تمہارے سامنے تو کرنے سے رہا تھوڑی دیر اپنی بیوی سے بات کرنا چاہتا ہوں پلیز مہربانی کر کے آپ دروازہ بند کر کے یہاں سے چلی جائے شاید ہم بھی ایسے موقعے پر کبھی نہ کبھی آپ کے کام آہی جائے”
کاشان بڑے مودبانہ انداز میں سیرت سے مخاطب ہوا تو وہ ایک نظر گھبرائی رنعم کو دیکھ کر افسوس میں سر ہلا کر چلی گئی اور دل ہی دل رنعم کو مخاطب کیا
“اللہ ہی حافظ ہے تمہارا رنعم بی بی”
“یہ نہیں پوچھوں گا کیسی ہو بلکہ میں خود دیکھنے آیا ہوں کہ آج تو کیسی لگ رہی ہوں”
سیرت کے جانے کے بعد کاشان رنعم کو خود سے قریب کر کے مخاطب ہوا
“کوئی آجائے گا کاشان”
رنعم کو اپنی دھڑکن مزید تیز ہوتی لگی تو وہ گھبرا کر بولی
“تمہارا سیرت کے فضول مشوروں پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ تو نہیں ہے نہ بے شک اس نے سو فیصد سچ کہا ہے کہ تمہارا شوہر تمہارے حسن کا پہلے سے ہی گھائل ہے مگر میں نے بھی یہ غلط نہیں کہا کہ منواوں گا اپنی ہی”
کاشان نے اسے باور کرانے بعد ساتھ اپنے ہونٹ رنعم کے ہونوں پر رکھ کر مزید باور کرایا۔۔۔ رنعم کو اب اپنی دھڑکنوں کی رفتار سست لگی اس نے زور سے آنکھیں بند کیں۔۔۔ کاشان اسے اپنی بانہوں میں لے کر سہارا نہیں دیتا تو یقیناً وہ زمین پر گر چکی ہوتی
“مسز کل آپ اپنے اس نازک سے دل کو تھوڑا مضبوط کر کے میرے پاس آئیے گا کیوکہ کل فرار کا کوئی راستہ کام نہیں آنے والا”
کاشان رنعم کے نازک سے سراپے کو بانہوں میں لیے رنعم کے کان میں کہتا ہوا اسے صوفے پر بیٹھا کر باہر نکل گیا اور رنعم کو لگا کے وہ اسے اچھا خاصا ڈرا کر چلا گیا
****
سیرت رنعم کی روم سے نکل کر باہر جانے لگی۔۔۔ باہر سے گھر میں آتی یسریٰ اسے راستے میں مل گئی
“ابھی تک رنعم کو لے کر نہیں آئی بیٹا،، اب تو سارے گیسٹ پہنچ چکے ہیں”
یسریٰ کی نظر سیرت پر پڑی تو وہ اسکو دیکھ کر پوچھنے لگی
“جی مما میں بس رنعم کو لے کر آرہی ہوں۔۔۔ آپ کس کام سے اندر آ رہی ہیں” سیرت نے یسریٰ سے پوچھا وہ آج شام سے ہی کافی مصروف دیکھ رہی تھی
“ثوبان کو بلانے جا رہی تھی وہ ابھی چینج کرنے گیا تھا مگر اس کے فرینڈز وغیرہ آ گئے ہیں اس کا پوچھ رہے ہیں۔۔۔ ایسا کرو تم ثوبان کو کہو فٹافٹ باہر آجائے اور رنعم کو بھی لیتی آنا تاکہ رسم شروع کریں”
سیرت سے کہتے ہوئے یسریٰ کی نظر سامنے سے آتی مسز حمید پر پڑی جو اسی کی طرف آ رہی ہوتی
“ارے یسریٰ بہت بہت مبارک ہو بھئی اور یہ آپ کی بڑی بیٹی ہے نا”
مسز حمید جو یسریٰ کی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ رشتے بھی کرواتی تھی سیرت کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“جی یہ میری بڑی بیٹی ہے”
یسریٰ نے مسکراتے ہوئے سیرت کو پیار بھری نظروں سے دیکھ کر مسز حمید کو جواب دیا سیرت نے مسکرا کر سامنے کھڑی مسز حمید کو سلام کیا
“بہت پیاری ہے یہ تو ماشاءاللہ آپ نے اس کے لئے کچھ سوچ رکھا ہے”
مسز حمید نے سیرت کو دیکھتے ہوئے یسریٰ سے پوچھنے لگی ان کی بات سن کر سیرت کے مسکراتے لب ایک دم سکھڑ گئے
“اس میں کوئی شک نہیں میری بیٹی واقعی بہت پیاری ہے مگر یہ اتنے سالوں بعد ہمہیں ملی ہے ہم اتنی جلدی سے اپنے پاس سے جانے نہیں دیں گے”
یسریٰ نے مسکراتے ہوئے سیرت کا ہاتھ تھام کر مسز حمید کو کہا وہ تینو ہی مسکرا دی
“مما میں رنعم کو لے کر آتی ہوں” سیرت یسریٰ کو کہہ کر وہاں سے جانے لگی
“بیٹا ثوبان کو بھی بولو جلدی آجائے” یسریٰ کی بات سن کر سیرت نے سر ہلایا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑی تبھی مسز حمید کی آواز سیرت کے کانوں میں پڑی
“وہ جو ثوبان کے لیے میں نے آپ کو لڑکیوں کی تصویریں دی تھی ان میں سے کوئی لڑکی پسند آئی آپ کو”
مسز حمید اب یسریٰ سے پوچھ رہی تھی
“دیکھیں میں نے آپ کو بتایا تھا نہ میرا ایک ہی بیٹا ہے،، اسکے لئے مجھے ہر لحاظ سے پرفیکٹ لڑکی چاہیے دونوں لڑکیاں ماشاءاللہ بہت پیاری تھی مگر ثوبان نے سی ایس ایس کیا ہے اس لحاظ سے میں اس کے لئے خوبصورت لڑکی کے ساتھ ساتھ یہ چاہو گی کہ لڑکی کی کوالیفکیشن بھی اچھی ہو اور دوسری بات سے کہ بیک گراونٹ اچھا ہو ہر کوئی آجکل یہی دیکھتا ہے،، آپ سمجھ رہی ہیں نہ میری بات”
یسریٰ کی بات سن کر سیرت کا دل بجھ گیا وہ گھر کے اندر جانے لگی
ایک مہینے پہلے ہی اس کا بی ایس کا رزلٹ آیا تھا جس میں اس کا ایک پیپر رہ گیا تھا اور اس کا بیک گراؤنڈ بےشک اچھا ہو مگر اس کی پرورش دو لور کلاس انسان نے کی تھی
“ثوبی کے لیے شاید مما کو میرا خیال بھی نہ آئے”
سیرت دل ہی دل میں سوچتی ہوئی ثوبان کے روم میں جانے لگی
****
“کون”
دروازہ کھٹکھٹانے پر ثوبان نے مصروف انداز میں پوچھا
“مما بلا رہی ہے تمہیں۔۔۔ فرینڈز آگئے ہیں سارے تمہارے” ثوبان وارڈروب کھولے کھڑا تھا تبھی سیرت اس کے روم میں آتی ہوئی بولی
“جلدی سے میرا موبائل چارجر سے نکالو اور میری واچ پکڑاو مجھے”
وہ سیرت کی طرف دیکھے بغیر اس سے کہنے لگا۔۔۔۔ سیرت بے دلی سے اس کا موبائل اور واچ لے کر اس کے پاس آئی
“یہ لو”
سیرت کی آواز پر وہ پلٹا سیرت اسے دونوں چیزیں پکڑا کر وہاں سے جانے لگی تبھی ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔ سیرت نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ آنکھوں میں پیار سمائے اسی کو دیکھ رہا تھا
“دور سے میں نے غور ہی نہیں کیا۔۔۔ تم اتنی پیاری لگ رہی ہو،،، میرے قریب قریب رہا کرو”
ثوبان نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا سیرت سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی اور طنزیہ ہنسی
“اب دور سے ہی دیکھنے کی عادت ڈالو کیوکہ مما تمہارے لئے کوئی پرفیکٹ لڑکی ڈھونڈ رہی ہے”
سیرت کی شکایت کرتی نظروں کو دیکھ کر ثوبان ہنس دیا
“یار میں ایک اچھے بیٹے کے ساتھ ساتھ اچھا شوہر بھی ثابت ہونے والا ہو۔۔ مما کا حکم تو سر آنکھوں پر مگر تمہارا بھی اترا ہوا چہرہ نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ ویسے بھی دو شادیاں کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے”
ثوبان نے بانہوں کے گھیرے کو مزید سخت کیا۔۔۔۔ سیرت کو لگا وہ اسے تسلی دے گا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا مگر ثوبان کی بات سن کر سیرت نے اس کو دھکا دیا
“بہت شوق ہو رہا دوسری شادی کرنے کا”
سیرت اس کا گریبان پکڑ کے خونخوار نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“کیا کر رہی ہو یار ساری پریس خراب کروں گی”
ثوبان سیرت کو مصنوعی گھوری سے نوازتا ہوا بولا اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹائے
“بھاڑ میں جاؤ تم ثوبان احمد اور شوق سے مما کی پسند سے کرو شادی مگر سیرت سے بھی اچھی امید مت رکھنا۔۔۔ گلا دبا کر جان لے لو گے ڈائن کی”
سیرت اسے دھماکے ہوئے بولی اور اس کی آنکھوں میں نمی آگئ
“بس اتنی ہی برداشت ہے۔۔۔ مذاق کر رہا تھا یار یہاں دیکھو میری طرف،، مما ایسا کچھ نہیں کرنے والی اور یہ مما کا بیٹا پورا کا پورا تمہارا ہے۔۔۔ کاشی اور رنعم کی شادی سے فارغ ہوجائے اس کے بعد مما بابا کو سب بتا دوں گا”
ثوبان اس کا چہرہ تھامتے ہوئے بولا اور اس کی پیشانی پر لب رکھے
“نیچے چلو سب گیسٹ آگئے ہیں” سیرت اپنا موڈ ٹھیک کرتی ہوئی بولی
“چلو”
ثوبان اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روم سے لے کر نکل گیا
