504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 40)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کیا کر رہی ہو بیٹا” سیرت کچن میں موجود تھی یسریٰ آ کر اس سے پوچھنے لگی

“بابا کو میرے ہاتھوں سوپ پسند آیا تھا جو میں نے ان کے لئے پرسوں بنایا تھا وہی بنا رہی ہوں ان کے لئے”

پرسوں والے تماشے کے بعد اور کل صبح ثوبان کے جانے کے بعد وہ اپنا کمرہ بند کر کے بیٹھی رہی یسریٰ دو بار اس کے پاس آئی مگر سیرت میں دروازہ نہیں کھولا ابھی تھوڑی دیر پہلے جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اپنے روم سے نکل کر بہروز کے پاس بیٹھ گئی باتوں ہی باتوں میں اسے اندازہ ہوگیا بہروز اور یسریٰ کو ثوبان نکاح کے بارے میں بتا چکا ہے

“میں اور تمہارے بابا سوچ رہے ہیں ایک بڑی سی پارٹی ارینج کریں جس میں ہم سب کو تمہارے اور ثوبان کے نکاح سے آگاہ کردیں گے اور وہ ایک طرح سے ولیمے کی دعوت ہوگی” یسریٰ نے مسکرا کر بہروز کا آئیڈیا سیرت کو بتایا جس پر سیرت نظر جھکا گئی

“شاک تو بہت لگا ہوگا آپ کو اور بابا کو یہ خبر سن کر،، خاص کر آپ کو،،، آپ کو تو ثوبی کے لئے کوئی بہت ہی حسین ایجوکیٹڈ ویل آف لڑکی چاہیے تھی جو کہ کسی طرح اس سے کم نہیں لگے”

سیرت نے نظریں اٹھا کر یسریٰ کو دیکھتے ہوئے کہا اس کی بات سن کر مسکرا کے چہرے کی مسکراہٹ تھم گئی

“تم خود کو حسین ایجوکیٹڈ اور ویل آف نہیں سمجھتی۔۔۔ یہ ساری خوبیاں تم میں بھی تو ہیں اور سب سے بڑھ کر تم میری پہلی اولاد ہو میری بیٹی،،، جنم دیا ہے میں نے تمہیں۔۔۔ ایسا لگتا رہا ہے تمہیں، ،، کہ مجھے یا تمہارے بابا کو شاک لگا ہوگا ارے ہم دونوں بہت خوش ہیں تمہارے لیے کہ اب تم ہمیشہ ہمارے پاس رہوں گی آنکھوں کے سامنے۔۔۔۔ بیٹا اپنے بابا اور میری خوشی کا تو تم اندازہ ہی نہیں لگا سکتی پلیز سیرت اپنے دل سے ساری بدگمانی نکال دو۔۔۔ میں اور بہروز پیار کرتے ہیں تم سے”

یسریٰ نے سیرت کو یقین دلاتے ہوئے گلے سے لگا لیا وہ چپ ہی رہی۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ وہ یسریٰ اور بہروز سے بدتمیزی کرتی ہو یا ان کی بات نہیں مانتی ہو بس وہ چاہ کر بھی ان سے مکس نہیں ہو پاتی اور ان دونوں کے بیچ اور اپنے بیچ ایک فاصلہ رکھے ہوئی تھی

“کیا ہو رہا ہے لیڈیز کس بات پر کچن میں کھڑے ہوکر اتنا ایموشنل ہوا جا رہا ہے”

ثوبان پولیس اسٹیشن سے ابھی آیا تھا یسریٰ کی آواز پر کچن میں آیا تو یسریٰ اور سیرت کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“تمہارے بابا اور میں فنکشن رکھنے کا سوچ رہے ہیں۔۔۔ جس کو سیدھا سیدھا تمہارا اور سیرت کا ولیمہ کہا جا سکتا ہے۔،۔ بہروز مشورہ کریں گے تم سے بھی”

یسریٰ نے سیرت سے الگ ہوکر ثوبان کو بتایا

“مشورہ کرنے کی کیا ضرورت ہے آپ کا اور بابا کا حکم ہمیشہ کی طرح سر آنکھوں پر بس یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے گا میں داماد ہرگز نہیں بننے والا آپ دونوں کا،، ہمیشہ بیٹا ہی بن کر رہوں گا۔۔۔ بے شک آپ دونوں اپنی بیٹی کو بہو سمجھ لینا”

ثوبان یوسریٰ کے کندھے پر تھوڑی ٹکائے اپنے سامنے کھڑی سیرت کو دیکھتا ہوا کہنے لگا جو کہ ثوبان کو نظر انداز کیے سوپ کے باول کو ٹرے میں رکھ رہی تھی شاید اب وہ ثوبان سے ناراض ہو گئی تھی ثوبان کو فیل ہوا

“تم میرے اور بہروز کے بیٹے ہی ہو۔۔۔۔ یہ بات تم نہ بھی بولو تو مجھے معلوم ہے۔۔۔ تم کبھی داماد بن ہی نہیں سکتے ہمیشہ بیٹے ہی بن کر رہو گے تمہاری وجہ سے ہی تو سیرت ہم دونوں کی زندگی میں واپس آئی ہے”

یسریٰ نے پیار سے ثوبان کا گال تھپتھپایا جو کہ یسریٰ کے کندھے کے قریب تھا

“اگر ایسی بات ہے تو پھر اجازت دیں اپنے بیٹا کو کہ وہ آپ کی پیاری سی بہو کو ڈنر کرانے آج باہر لے جائے”

ثوبان ابھی سیرت کا چہرہ دیکھتے ہو یسریٰ سے بات کر رہا تھا

“میں آج بزی ہو میرا موڈ نہیں ہے ڈنر کا”

یسریٰ کے کچھ بولنے سے پہلے سیرت بولتی ہوئی سوپ کی ٹرے لے کر کچن سے باہر نکل گئی یسریٰ گردن موڑ کر ثوبان کو دیکھنے لگی تو وہ سر کھجانے لگا

“آپ ٹینشن مت لیں۔۔۔ تھوڑا غصہ دکھائے گی ایک دو باتیں سنائے گی،،، تین چار بار نخرے دکھانے کے بعد آخر میں مان جائے گی،، پٹالو گا میں اُسے”

ثوبان کے ایسے بولنے پر یسریٰ کو ہنسی آگئی ثوبان کے گال پر ہلکی سی چپت رسید کر کے وہ کچن سے نکل گئی۔۔۔ ثوبان بھی ہنستا ہوا بہروز کے روم میں چلا گیا

****

رنعم بیڈ پر لیٹی ہوئی سسکیاں لے رہی تھی کافی دیر سے رونے کے بعد اب آنسو خشک ہو چکے تھے کاشان نے بہت بے دردی سے اس کے بازو پر سگریٹ داغی تھی

اس کے بازو پر جلنے کا نشان واضح نظر آرہا تھا وہ رنعم کو زخم دے کر اب دوسرے روم میں چلا گیا تھا جبکہ رنعم کا وجود دو گھنٹے سے رونے کے بعد اب سسکیاں لے رہا تھا

جبھی بیڈروم کا دروازہ کھلا اور کاشان روم میں داخل ہوا رنعم تیزی سے بیڈ سے اٹھی اور وارڈروب کی طرف جا کر اپنے لئے لمبی آستین کا ڈریس نکالنے لگی

وہ ڈریس لے کر واش روم کی طرف جانے لگی تبھی کاشان نے اس کا راستہ روکا اس کے ہاتھ سے ڈریس لے کر واپس وارڈروب میں رکھا رنعم کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے ڈریسر کے پاس لایا ڈریسر کے پاس موجود چھوٹے سے اسٹول پر رنعم کو بٹھایا۔۔۔ اب وہ اس کی پشت پر کھڑا ہو کر اس کے بال برش کر رہا تھا

“جب میرا باپ میری ماں کو مارتا تھا وہ مار مار کر ان کے ہاتھ سُجھا دیتا تھا، امی کو اتنی تکلیف ہوتی کہ دو دن تک وہ ہاتھ اٹھا کے خود سے پانی پینے کے قابل بھی نہیں رہتی تھی تب میں اسی طرح امی کے بال بناتا تھا”

وہ رنعم کے بالوں میں چٹیا بناتا ہوا بولا کاشان کی باتیں سن کے رنعم کو ڈر لگنے لگا وہ خوفزدہ نظروں سے کاشان کو دیکھنے لگی

“تب میں اور ثوبی سارے گھر کا کام کرتے امی کو کھانا بھی ہم دونوں اپنے ہاتھ سے کھلاتے تھے۔۔۔۔ میرا باپ بہت ظالم تھا رنعم، وہ صرف امی کو مارنے کے وجہ ڈھونڈتا تھا۔۔۔۔ موقع تلاش کرتا تھا کہ امی پر ہاتھ اٹھائے”

کاشان نے رنعم کو کھڑا کر کے اس کا رخ اپنی طرف کیا رنعم کو اس کی باتوں سے گھبراہٹ ہونے لگی

“مجھے اچھا نہیں لگا آج یہ سب کر کے تمہیں تکلیف دے کر میں بہت بے سکونی محسوس کر رہا ہوں۔۔۔ تکلیف ہو رہی ہے مجھے بھی تمہیں تکلیف پہنچا کر شاید پیار کرتا ہوں تم سے ڈول ہو تم میری، اس لیے”

کاشان رنعم کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر بول رہا تھا رنعم کو ایک بار پھر رونا آنے لگا

“میں افتخار احمد نہیں ہوں جو تمہیں مار پیٹ کر، تکلیف دے کر خود کو پرسکون کرو۔۔۔ تم بہت معصوم ہو رنعم تمہیں باہر کی دنیا کا،، ان مردوں کی سوچ کا اندازہ نہیں ہے۔۔۔ ان کی گھٹیا سوچ اور گندی نظروں کو تم نہیں سمجھ سکتی۔۔۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ایسے مردوں کے ساتھ جیل میں گزارا ہے،، چاہے چھوٹا بچہ ہو یا آدمی سب عورت کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔ تم اس چیز کے لئے مجھے ظالم کہنا چاہتی ہو تو کہو مگر میں تم پر کسی کی بھی بری نظر برداشت نہیں کر سکتا،، اس لڑکے نے آج تمہارا بازو دیکھا ہوگا کیا کیا خیالات اس کے دماغ میں آئے ہوں گے،،، یہ سوچ کر میرے دماغ کی نسیں پھٹ رہی ہیں پلیز تم اسے میری خود غرضی کہہ لو یا پھر تنگ نظری میں کسی کی بھی بری نظر تمہاری طرف اٹھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ عزت ہو تم میری اور اپنی عزت پر میں کمپرومائز ہرگز نہیں کر سکتا۔۔۔۔ رنعم تم مجھے افتخار احمد مت سمجھنا میں نفرت کرتا ہوں اپنے باپ سے،، میں نے تمہارا ہاتھ جلانے کا بہانہ نہیں ڈھونڈا یا کوئی موقع تلاش نہیں کیا کہ تمہیں تکلیف دو،، بس تمہیں نوید کے سامنے اس طرح بغیر آستین کے کپڑے اور گلے میں دوپٹہ ڈالے دیکھ کر مجھے غصے آ گیا جو تمہارے لیے تکلیف کا سبب بنا،، مگر اب مجھے بھی تکلیف ہو رہی ہے تمہیں تکلیف دے کر پلیز مجھے معاف کر دو”

کاشان کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے جیسے اس کا بھی بازو بری طرح جلا ہوں جیسے وہ بھی تکلیف سے گزر رہا ہو کاشان اپنی آنکھوں میں نمی لیے رنعم کے وجود کو اپنی بانہوں میں لیے رنعم سے معافی مانگ رہا تھا۔۔۔۔ رنعم کا دل چاہا وہ اس سے پوچھے اگر سارے ہی مرد گھٹیا اور گندی نظروں کے مالک ہوتے ہیں تو کاشان احمد تم میرے باپ اور اپنے بھائی کو ترازو کے کس پلڑے میں رکھتے ہو۔۔۔۔ رنعم کا دل چاہا وہ اسے بتائے کہ وہ جس ماحول میں پلی بڑھی ہے اس نے اپنے اردگرد مردوں کی نظروں میں احترام دیکھا ہے اس کا باپ بھائی کزن خالو سبھی اس کو، اس کی ماں کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے مرد ہیں یہاں تک کہ اس کے نوکر بھی۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے شوہر کو یہ نہیں بول سکی کہ جیل کی چھاپ نے تمہارے دماغ پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔۔۔ رنعم کو لگا کاشان آج اسے زخم دے کر شرمندہ ہے اور کہیں اندر سے کاشان کو یہ ڈر بھی ہے کہ اس کی بیوی اسے، اس کے باپ جیسا ظالم نہ سمجھ لے جس سے وہ نفرت کرتا ہے مگر وہ یہ سب کچھ سوچ سکتی تھی بولنے کی غلطی دوبارہ نہیں کرسکتی تھی کیوکہ اسے اپنے بازو پر ابھی بھی جلن ہو رہی تھی اور وہ کچھ بھی کاشان کے سامنے بول کر دوبارہ کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی

“آو کھانا میں ٹیبل پر لگا چکا ہوں کھانا کھاتے ہیں اپنے سے الگ کر کے کاشان اس کو بولتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑ کر ٹیبل پر لے گیا رنعم کو کھانا بھی اس نے اپنے ہاتھ سے کھلایا اس کے بعد اس کے لئے فریزر سے آئسکریم نکالی جو اس وقت رنعم کا کھانے کا بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا مگر وہ انکار کرے بغیر چپ کر کے کاشان کے ہاتھوں سے کھاتی گٙئی

جب رنعم کھانے کے بعد ٹیبل سے جھوٹے برتن اٹھانے لگی تب بھی کاشان نے اس کو منع کردیا اور بیڈ روم میں جا کر لیٹنے کو کہا وہ خود ہی برتنوں واش کر کے رنعم کے پاس آیا۔۔۔ رنعم کے برابر میں لیٹ کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھا

“آفس جانے سے پہلے میڈ کا ارینج کر کے جاؤ گا تھوڑی دیر پہلے واچ مین سے بات کی تھی میں نے وہ صبح ہی میڈ کو بھیج دے گا۔۔۔ مجھ سے کھبی نفرت مت کرنا رنعم،، میں برداشت نہیں کر پاو گا۔۔۔ ثوبی اور تمہارے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے مجھے پیار کرنے والا امی مجھے بہت پیار کرتی تھیں وہ بھی دور چلی گئی”

کاشان رنعم کا بازو نرمی سے سہلاتا ہوا اس سے بات کرتے کرتے کہیں کھو گیا لیمپ کی مدھم روشنی میں رنعم سر اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھنے لگی

آج کاشان نے پہلی بار فائزہ کا ذکر اس سے کیا تھا۔۔۔۔ اور آج پہلی بار ہی رنعم کو فائزہ سے ہمدردی کے ساتھ اس پر دکھ بھی ہو رہا تھا نہ جانے وہ کیسے اتنی مار برداشت کرتی ہوگی۔۔۔۔

رنعم چاہتی تھی اس کا شوہر اپنے دل میں دبا غم غصہ غبار سب نکال کر ہلکا پھلکا ہو جائے۔۔۔ رنعم کو وہ دن آج بھی یاد تھا جب فائزہ کی پہلی برسی تھی اور 14 سالہ ثوبان اپنے کمرے میں فائزہ کو یاد کر کے رو رہا تھا اس وقت یسریٰ نے اس کو گلے سے لگایا تھا اور یقین دلایا تھا کہ وہ اسے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گی۔۔۔۔ رنعم نے اکثر ثوبان کو یسریٰ سے فائزہ کا ذکر کرتے سنا ثوبان کو جب بھی ماں کی یاد آتی تو وہ یسریٰ سے اس کا ذکر کرتا۔۔۔ رنعم نے چاہا اسی طرح کاشان بھی اس سے فائزہ کا ذکر کرے اپنے دل پر رکھا ہوا بوجھ اس سے شیئر کرے

“آپ کو بہت پیار تھا نا کاشان اپنی امی سے”

کاشان رنعم کی بات پر چونک کر اسے دیکھنے لگا

“اپنی ماں سے کون بچہ پیار نہیں کرتا۔۔۔ جب میں کبھی کبھی کسی بات پر غصہ ہوتا ہو یا بہت زیادہ ہرٹ ہوتا ہوں آج بھی امی میں میرے خواب میں آتی ہیں مجھے پیار کرتی ہیں۔۔۔۔ میرا سر اپنی گود میں رکھ کر مجھ سے باتیں کرتی ہیں”

کاشان رنعم کی ناک پر موجود ڈائمنڈ کی چمکتی ہوئی لونگ کو دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا

“پتہ ہے میری امی کے پاس زیور کے نام پر ایک لونگ ہی موجود تھی جو ان کی ناک میں ہمیشہ موجود رہتی۔۔۔ آدھا زیور تو میرے باپ نے بیچ دیا تھا تاکہ وہ اپنے جوّے میں ہاری ہوئی رقم لوٹا سکے اور آدھا زیور خود امی نے میری اور ثوبی کی پڑھائی کے لیے بیچ دیا تھا”

کاشان رنعم کی ناک میں موجود ننھی سی لونگ کو چھوتے ہوئے اسے بتانے لگا رنعم بہت غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی

“تمہیں معلوم ہے رنعم میری امی نے شادی کے بعد بہت تکلیف میں زندگی گزاری۔۔۔۔ میرے باپ نے انہیں کبھی بھی خوشی نہیں دی اور میری ماں نے اس انسان سے صرف ہم دونوں بھائیوں کی وجہ سے سمجھوتا کیا اور دیکھو ظالم نے کیا کیا ہمیشہ کے لئے چھین لیا ہم سے ہماری ماں کو”

کاشان کی باتیں سن کر رنعم کو اس سے ہمدردی محسوس ہونے لگی۔۔۔۔ رنعم نے اپنا سر کاشان کے سینے سے ہٹا کر تکیے پر رکھا تو کاشان اس کے سینے پر اپنا سر رکھ کے لیٹ گیا رنعم اس کے بالوں میں آپنی انگلیاں پھیرنے لگی

“مجھے معلوم ہے میں کبھی کبھی تم سے بہت زیادہ مس بی ہیو کر جاتا ہوں۔۔۔ تمہارا دل دکھا دیتا ہوں اپنے رویے سے۔۔۔ تمہیں میری باتیں بہت ہرٹ بھی کرتی ہوگی مگر یہ سب کچھ میں جان بوجھ کر نہیں کرتا۔۔۔ غصے میں کر جاتا ہو ایسا بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے مجھے۔۔۔۔ رنعم میں تم سے پیار کرتا ہو،، ہمیشہ تمہیں اپنے پاس ریکھنا چاہتا ہوں تم مجھے معاف کردیا کرو پلیز”

کاشان اس کے سینے پر اپنا سر رکھے ہوئے آنکھیں بند کرکے بولے جارہا تھا اور رنعم اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کی باتیں سن رہی تھی

“کاشان پلیز دوبارہ میرے ساتھ اس طرح مت کریے گا۔۔۔ مجھے آج بہت تکلیف ہوئی تھی”

رنعم کے بولنے پر اس نے سر اٹھا کر رنعم کو دیکھا

“سوری”

شرمندہ ہوکر وہ رنعم کا چہرہ اور بازوں چومنے لگا کاشان نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی بھی غصہ نہیں کرے گا کل اس کو اس کے مما بابا اسے بھی ملوانے لے کر جائے گا اپنے پیار کی یقین دہانی کروا کر اسے بانہوں میں لیتا ہوا نیند کی وادیوں میں اتر گیا

مگر رنعم کو معلوم تھا وہ اس وقت شرمندہ ہے اپنی غلطی پر پچھتا رہا ہے۔۔۔۔ اتنے سالوں کا اپنے اندر غصہ بھرے ہوئے وہ اتنی جلدی نارمل کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ رنعم کو لگا جیسے اس کے لیے امتحان کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے وہ سوتے ہوئے کاشان کو دیکھنے لگی۔۔۔

“میں اپنے پیار سے آپکے اندر موجود محرمیوں سے پنپتے ہوئے اس غصے کو باہر نکال دوں گی کاشان۔۔۔۔ مگر پلیز آپ مجھ پر اعتبار کرنا مت چھوڑیے گا”

رنعم کاشان کا چہرہ دیکھ کر سوچنے لگے اور ہاتھ بڑھا کر لیمپ کی روشنی بند کردی