504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 33)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

آج برات کا دن تھا آج کی تقریب کے لیے ثوبان نے ہوٹل بک کرایا تھا۔۔۔۔ بہروز اور یسریٰ فرح عاشر کے ساتھ ہوٹل پہنچ گئے تھے کیوکہ گیسٹ آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔ ثوبان اپنے روم میں تیار ہو رہا تھا اس کا ارادہ سیرت کے ساتھ رنعم کو لے کر ہوٹل پہنچنا تھا،، آج شام سے ہی کاشان بھی وہی پر موجود تھا وہ بھی یہی سے ہوٹل پہنچنے کا ارادہ رکھتا تھا

“یہ دیکھو ثوبی مما پھولوں کے گجرے سے بھرا تھال جلدی میں یہی بھول گئی ہیں”

سیرت ہاتھ میں تھال اٹھائے ثوبان کے کمرے میں آ کر کہنے لگی۔۔۔۔ آج اس نے ثوبان کا دلایا ہوا لال کلیوں کا فراک پہنا ہوا تھا جو کہ کافی ہیوی تھا مگر اس پر لائٹ سے میک اپ میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی

“کوئی بات نہیں میں غلام بخش سے کہہ کر کار میں رکھوا دیتا ہوں تم ذرا یہاں آؤ میرے پاس”

ثوبان خود بھی تیار ہو چکا تھا وہ سیرت کے حسین سے سراپے پر گہری نظر ڈالتا ہوا بولا

“ثوبی انسان بن جاو رنعم کو لے کر ہمہیں ہوٹل پہنچنا ہے”

سیرت اس کی پر شوخ نظروں کو دیکھ کر کہتی ہوئی روم سے جانے لگی۔۔ ثوبان نے اس کو روم سے باہر جاتا دیکھ کر فوراً اس کا ہاتھ کھینچا اور خود سے قریب کیا سیرت کے ہاتھ میں موجود تھال نیچے گر پڑا

“یہ کیا کیا تم نے ثوبی۔۔۔۔ پورا تھال گرا دیا معلوم ہے کتنی بری علامت ہوتی ہے اس طرح تھال کا گرنا”

سیرت اس کو گھور کر کہتی ہوئی پھول اور گجرے سمیٹنے لگی

“یہ کونسی دقیانوسی باتیں شروع کر دی تم نے”

وہ بھی اس کی مدد کرتا ہوا بولا

“میں نے سنا ہے ایسے تھال گرنے سے شادی شدہ جوڑے پر بری نظر لگ جاتی ہے”

سیرت نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا

“اللہ نہ کرے جو کاشی اور رنعم پر کسی کی بری نظر نہ لگے فضول قسم کی بکواس ہے یہ سب۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا”

ثوبان پیشانی پر شکن لائے بولا اور سیرت کے ہاتھ تھال لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا

“کبھی تو اپنے میرے بارے میں بھی سوچ لیا کرو۔۔۔۔ میں نے ان دونوں کی بات نہیں کی ہے،، کپل ہم دونوں بھی ہیں”

سیرت بولتی ہوئی جانے لگی ایک بار پھر ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر خود سے قریب کیا

“ہم دونوں کے رشتے کو لے کر بھی آئندہ ایسی بات نہیں کرنا، میں اپنے اور تمہارے رشتے پر کبھی کسی کی بری نظر نہیں لگنے دوں گا”

ثوبان اس کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جس پر سیرت مسکرا دی

“چلو جلدی سے رنعم کا میسج آیا ہے وہ ویٹ کر رہی ہے ہمارا”

سیرت بولتی ہوئی روم سے باہر جانے لگی تبھی ثوبان نے اس کے گرد اپنے ہاتھ باندھے

“پہلے مجھے جی بھر کے دیکھ لینے دو،، تمہیں معلوم ہے نا بعد میں بزی ہو جاؤں گا موقع نہیں ملے گا”

ثوبان نے کہنے کے ساتھ اپنے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھے

“تم میرا سارا میک اپ خراب کر دو گے”

سیرت نے اس کو گھورتے ہوئے کہا

“کوشش کرو گا زیادہ خراب نہ ہو اور اگر خراب ہوگیا تو پانچ منٹ دو گا صحیح کرکے کار میں آجانا”

وہ بولنے کے بعد اب اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا

“آہم آہم۔۔۔۔۔ یار مانا تم دونوں میاں بیوی ہو مگر روم کا دروازہ تو بند کرنا چاہیے،، اب آنے والا تو اپنی آنکھیں بند کرنے سے رہا”

کاشان کی آواز پر ثوبان ایک دم سیرت سے دور ہٹا۔۔۔ وہی سیرت بھی شرمندہ ہوگئی جبکہ وہ ان دونوں کو شرمندہ دیکھ کر مسکراتا ہوا روم میں داخل ہوگا۔۔۔ لائٹ گولڈن شیروانی جس پر نفاست سے مہرون کلر کا کام ہوا تھا۔۔۔ اس میں کاشان کی شخصیت خوب جچ رہی تھی

“پاگل ہوگئے ہو کیا اس کی آنکھ کا کاجل پھیل گیا تو وہ دیکھ رہا تھا” ثوبان اپنے آپ کو نارمل کرتا ہوا کاشان کو وضاحت دینے لگا

“چلو اگر تم کہتے ہو تو میں مان لیتا ہوں۔۔۔ ویسے اچھا انداز ہے کاجل چیک کرنے کا میں کار میں تم دونوں کا ویٹ کر رہا ہوں،، تم دوسری آنکھ کا کاجل بھی دیکھ کر باہر آجانا”

کاشان خباست سے ہنس کر بولتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ ثوبان اپنا سر کھجانے لگا

“یہ سچی میں بہت زیادہ خبیث نکلا ہے بڑا ہوکر”

سیرت نے جتنی سنجیدگی سے کہا ثوبان نے اتنی زور کا قہقہہ لگایا اور کار کی کیز اور موبائل کو پاکٹ میں رکھتا ہوا سیرت کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا

****

وہ لوگ ہوٹل پہنچ چکے تھے رنعم کو لاکر کاشان کے ساتھ بٹھایا گیا۔۔۔ آج صحیح معنوں میں کاشان اس کے حسن کو دیکھ کر چاروں خانے چت ہو چکا تھا۔۔۔ دلہن بن کر رنعم پر ایک الگ ہی روپ آیا تھا ریڈ اور گرین کلر کے کمبینیشن کے برائیڈل ڈریس میں وہ کسی اور جہاں کی اپسر معلوم ہورہی تھی

“رنعم تم اتنی پیاری لگ رہی ہو لگتا ہے آج کاشان بھائی کی خیر نہیں”

یشعل نے اسٹیج پر اکر رنعم کے کان میں سرگوشی کی

“تمہاری سہیلی دوسرا جملہ غلط بول گئی ہے آج کاشان کی نہیں مسز کاشان کی خیر نہیں”

یعشل کے اسٹیج سے جانے کے بعد کاشان سامنے دیکھتا ہوں برابر میں بیٹھی رنعم سے بولنے لگا۔۔۔ رنعم نے ہاتھ میں موجود کلچ کو مضبوطی سے تھام لیا

تھوڑی دیر بعد کاشان اسٹیج سے اٹھ کر اپنے دوستوں سے ملنے چلا گیا

رنعم اسٹیج پر اکیلی بیٹھی تھی تبھی مایا اس کے پاس آئی

“بہت بہت مبارک ہو تمہیں، آخرکار تم کاشان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔۔۔ حسن چیز ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی اس کا دیوانہ ہو جاتا ہے چلو دیکھتے ہیں تمہارے حسن کا جادو اپنے شوہر کب تک چلتا ہے”

مایا مسکراتے ہوئے اسے کہہ کر اسٹیج سے نیچے اتر گئی

جبکہ مایا کی بات سن کر رنعم کا دل عجیب سا ہوگیا

****

تقریب اپنے عُروج پر تھی۔۔۔ غفران نے بھی لگے باندھے انداز میں بارات میں شرکت کر کے بہروز اور یسریٰ کو مبارکباد دی اور ایک کونے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا۔۔۔ فرح بھی شوہر کی موجودگی کا احساس کر کے غفران کے پاس آئی

“یہ لال رنگ کے کپڑوں والی لڑکی بہروز اور یسریٰ کی بڑی بیٹی ہے”

غفران نے دور کھڑی سیرت کو دیکھ کر فرح سے پوچھا جس پر فرح نے سر ہلایا

“اپنی شکل کے برعکس کافی نک چڑی لگ رہی ہے۔۔۔ ابھی یسریٰ نے تعارف کروایا تھا۔۔۔ مجھے تو لگ رہا ہے یسریٰ اور بہروز کو بھی زیادہ گھاس نہیں ڈالتی ہے” غفران نے فرح کے سامنے تبصرہ کیا

“ایسی بات نہیں ہے نیا ماحول ہے ایڈجسٹ کرنے میں ٹائم لگتا ہے معصوم سی ہے۔۔۔۔ بس زیادہ بات نہیں کرتی” فرح نے اپنی بھانجی کی سائیڈ لیتے ہوئے کہا جس نے اسے بھی کوئی خاص لفٹ نہیں کرائی تھی

“خیر شادی کے ہنگامے ختم ہو تو ایک بار پھر تم عاشر کے لیے یسریٰ سے بات کرنا”

غفران اصل بات پر آتا ہوا بولا

“میں سمجھی نہیں غفران آپ کی بات”

فرح نے نا سمجھی سے بولا

“اس میں سمجھنے والی کونسی بات ہے اپنے عاشر کے لیے سیرت کے رشتے کی بات کرنی ہے۔۔۔ اس میں عاشر کا ہی فائدہ ہے،،، بھئی جیسے کہ بہروز نے رنعم کی شادی پر خرچا کیا ہے اسے ہر چیز دی ہے ویسے ہی اپنی بڑی بیٹی کو بھی دے گا۔۔۔ میں نے سنا ہے دلہے کو سلامی میں کار بھی دی ہے۔۔۔دیکھ لو بھئی اس میں عاشر کو ہی فائدہ پہنچے گا اور اب یسریٰ انکار بھی نہیں کرے گی دوسری دفعہ بھلا بہن کو کون انکار کرتا ہے۔۔۔ تم عاشر کے رشتے کے لئے یسریٰ سے بات کر کے ہی واپس گھر آنا”

غفران نے اپنی بیوی کو سمجھاتے ہوئے کہا جس پر فرح فی الحال چپ ہی رہی اسے معلوم تھا عاشر رنعم کو پسند کرتا تھا۔۔۔ سیرت کے لیے وہ تیار نہیں ہوگا اور یہ بات وہ اپنے شوہر کو سمجھا کر فی الحال اس کا موڈ نہیں خراب کرنا چاہتی تھی اس لئے خاموشی میں ہی عافیت جانی

****

بیس منٹ پہلے ہی فرح اور سیرت اسے کاشان کے بیڈ روم میں بٹھا کر روم سے گئی تھی۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور آخر کار وہ وقت آ گیا جب کاشان اپنے بیڈروم کا دروازہ کھول کر روم کے اندر آیا دروازہ لاک کیا

اب رنعم کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگ گئی۔۔۔۔ کاشان بیڈ پر بیٹھی ہوئی رنعم کو دیکھ کر چلتا ہوا اس کے پاس آ کر بیٹھا اور اس کا ٹھنڈا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے گرمائش فراہم کرتا ہوا بولا

“بے شک تمہارا حسن یہ ہنر جانتا ہے کہ کیسے اپنے آپ منوایا جائے، مگر مجھے تمہارے حسن کے ساتھ ساتھ تمہاری نیچر نے اپنی طرف اٹریکٹ کیا۔۔۔ کبھی بھی ایک حد سے زیادہ بے باک اور بولڈ لڑکی مجھے پسند نہیں جو اپنی ذہانت کے جھنڈے گاڑھنے کے لئے یا اپنا آپ منوانے کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے چکر میں مردوں سے مقابلے پر اتر آتی ہیں۔۔۔ اسلام میں بھی عورت کے مقابلے مرد کا درجہ بلند رکھا ہے لیکن آج کل کی لڑکیاں اس چیز کو بھول چکی ہیں مگر جب میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے لگا میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی گزار سکتا ہوں”

کاشان اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اسے اپنی پسند کی وجہ بتا رہا تھا

“اور اگر میری نیچر ایسی نہیں ہوتی تو یقیناً آج یہاں میری جگہ پر کوئی اور ہوتی”

رنعم نے جرات کر کے دل میں اٹھتا ہوا سوال ہچکچاتے ہوئے کاشان سے پوچھا،، تو وہ اس کی بات پر مسکرایا

“ایسی بات نہیں ہے تھوڑی دیر پہلے میں نے کہا تمہارا حسن یہ ہنر جانتا ہے کیسے اپنا آپ منوایا جائے۔۔۔ کاشان احمد کو تم نے تسخیر کرلیا ہے اسی وجہ سے تم یہاں پر موجود ہو۔۔۔ اگر تمہاری نیچر میری طبیعت سے میل نہ کھاتی تو اور اس کے باوجود میرا دل تم پر آجاتا تو میری جان، کاشی یہ فن رکھتا ہے کہ کیسے اپنی بیوی کو اپنے رنگ میں رنگے۔۔۔۔ اس کے سارے رنگ اتار کر اپنے رنگ چڑھا دینا کاشان اچھی طرح سے جانتا ہے۔۔۔ مگر آج رات میں تم پر صرف اپنی محبت کا رنگ چھڑانے کا ارادہ رکھتا ہوں” کاشان رنعم کا ہاتھ تھامے کھڑا ہوا اور اپنا دوسرا ہاتھ، اس کے دوسرے ہاتھ کی طرف بڑھایا جیسے تھوڑی جھجھک کے بعد رنعم نے تھاما تو کاشان نے اس کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔۔۔ کاشان کے آخری جملے سے رنعم کے ہاتھ آہستہ آہستہ کانپ رہے تھے جس کو کاشان بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔۔۔ وہ رنعم کا ہاتھ تھامے اسے ڈریسر کے پاس لے کر آیا اس کا ہاتھ چھوڑ کر، ڈریسر کی دراز سے ایک چھوٹی سی ڈبیہ نکالی جس میں ایک خوبصورت سی ڈائمنڈ کی لونگ موجود تھی

کاشان نے وہ ڈائمنڈ کی نوز پن رنعم کو پہنائی اور رنعم کا چہرہ اوپر کر کے اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی۔۔۔ جس پر رنعم کی دھڑکنیں ایک بار پھر بے ترتیب ہونے لگی۔۔۔۔

باری باری اس کا سارا زیور اتارنے کے بعد کاشان نے وارڈروب سے نائٹ ڈریس نکال کر رنعم کو تھمایا

“جاؤ چینج کرکے آؤ”

کاشان اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔ جوکہ یقیناً نائٹ ڈریس کو دیکھ کر سرخ ہوچکا تھا۔۔۔ رنعم نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر کاشان کے ہاتھوں نائٹ ڈریس لیا تو کاشان اس کا دوسرا ہاتھ تھامے مہندی کے خوبصورت نقش و نگار دیکھنے لگا

“تمہارے ہاتھ میں لگی مہندی کا رنگ زیادہ گہرا ہے یا میری محبت کا اس کا اندازہ تمہیں بخوبی صبح تک ہو جائے گا”

وہ اس کی ہتھیلی کو چومتے ہوئے کہنے لگا

****

اتنا چھوٹا اور کھلا نائٹ ڈریس۔۔۔ وہ کہیں سے بھی اس قابل نہیں تھا کہ اس کو پہن کر روم سے باہر جایا جائے رنعم نے چوتھی بار دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر واپس ہٹایا،،، رنعم کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا تو نائٹ ڈریس کو کس طرح گھٹنوں سے کھینچ کر نیچے تک لایا جائے کندھوں پر موجود باریک اسٹیپ کو کس طرح پھیلا کر وہ بازوں کو ڈھانکے۔۔۔ رنعم نے بیچارگی سے سوچا اور دل کو تھوڑا مضبوط کر کے اپنی آنکھیں بند کرتی ہوئی دروازے کا ہینڈل گھمایا

بیڈ روم کے اندر داخل ہونے کے ساتھ ہی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔ روم میں پہلے سے ہی اندھیرا تھا بیڈ پر کاشان بیٹھا ہوا اسموکنگ کر رہا تھا وہ بھی ٹراوزر اور ٹی شرٹ میں موجود تھا یقیناً جتنی دیر رنعم نے بیڈ روم میں آنے میں لگائی اس نے بھی اپنا ڈریس چینج کر لیا تھا

لیمپ کی مدہم روشنی کمرے کے ماحول خوابناک بنارہی تھی رنعم چلتی ہوئی بیڈ کے مخالف سائڈ پر آئی اور چپ کر کے بیڈ پر بیٹھ گئی

اس کے ہاتھ پاؤں یخ ہو رہے تھے مگر اس کی وجہ اے۔سی کولنگ ہرگز نہیں تھی۔۔۔ کاشان اس کا گھبرانا جھجھکنا نوٹ کر رہا تھا وہ سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر رنعم کے پاس آیا

“ریلیکس میری جان میں محرم ہوں تمہارا”

وہ اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکتا ہوا کہنے لگا۔۔۔ رنعم کاشان کی بات پر خود کو ریلیکس تو کیا کرتی مزید نروس ہونے لگی

You are my doll

وہ اپنے ہاتھ کی انگلیاں رنعم کے چہرے پر پھیرتا ہوا کہنے لگا

I want to play game with you

اس نے انوکھی فرمائش کے بعد رنعم کی شہ رگ پر اپنے ہونٹ رکھے

رنعم اس کی سانسوں کی گرمائش اپنی گردن پر محسوس کر کے خود میں سمٹنے لگی اور احتجاجاً کاشان کی شرٹ شولڈر سے پکڑ لی

I will feel bad if you refuse to do so

وہ اپنی شرٹ سے رنعم کے ہاتھ ہٹاتا ہوا کہنے لگا۔۔۔

آگے کی مزید پیش و رفت پر رنعم نے مضبوط سے بیڈ شیٹ کو مٹھی میں جکڑ لیا۔۔۔۔ اتنی ہی نرمی سے کاشان نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر اسے ریلیکس کیا۔۔ اس کا شرمانا جھجھکنا اور خود میں سمٹنا دیکھ کر کاشان نے لیمپ کی مدہم روشنی کو بھی بند کردیا

اب وہ اپنے انداز میں نرمی لائے ہوئے اپنی ڈول پر محبت کی بارش کر رہا تھا