504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 39)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

کل وہ اپنی آنی کے گھر ایک اچھا دن گزار کر واپس گھر آئی تھی،، کل کاشان رنعم کو اس کی آنی کے گھر لے گیا۔۔۔ فرح،، رنعم اور کاشان سے مل کر بہت خوش ہوئی عاشر بھی ان دونوں سے بہت اچھے طریقے سے ملا جبکہ غفران خالو کاشان سے ہاتھ ملا کر اور رنعم کے سر پر ہاتھ رکھ کر ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں بیٹھ کر لاتعلق ہوگئے فرح اور عاشر ہی رنعم اور کاشان سے باتیں کرتے رہے رنعم نے نوٹ کیا کاشان فرح سے تو بات کر رہا تھا مگر عاشر کی صرف باتوں کا جواب دے رہا تھا رنعم کو یہ بات کافی فیل ہوئی تھوڑی دیر بعد جب فرح کسی کام سے ڈرائینگ روم سے باہر گئی تو،،، رنعم بھی کاشان کے دیکھنے یا بولنے سے پہلے فرح کے پیچھے روم سے نکل گئی۔۔۔ شاید رنعم آئستہ آئستہ اپنے شوہر کے مزاج کو سمجھنے لگی تھی

کھانا اچھے ماحول میں میں کھا کر کاشان اور رنعم اپنے گھر کے لیے نکل گئے۔۔۔۔ گھر پہنچتے پہنچتے رات کے بارہ بجے مگر رنعم نے اس بات کا شکر ادا کیا کہ کاشان کا موڈ وہاں پر بھی اور واپسی پر بھی اچھا رہا صبح آفس بھی وہ اچھے موڈ میں گیا۔۔۔۔ کاشان کے آفس جانے کے بعد رنعم معمول کے مطابق سونے کے لئے لیٹ گئی ابھی وہ تھوڑی دیر پہلے ہی سو کر اٹھی تھی اور گھر کی صفائی کر رہی تھی

“اف کیا مسئلہ ہے”

جھاڑو دیتے ہوئے میز سے رنعم کا پاؤں ٹکرایا تو وہ چڑتے ہوئے بولی۔۔۔ رنعم کا موبائل بجا تو اس نے جھاڑو پٹخ کر یسریٰ کی کال ریسیو کی

“اور بتاؤ کیا کر رہی تھی اس وقت”

سلام دعا حال احوال کے بعد یسریٰ نے رنعم سے پوچھا

“کاشان کے آفس جانے کے بعد سو گئی تھی،، آج کافی لیٹ اٹھنا ہوا۔۔۔ بس ابھی گھر کی صفائی میں لگی ہوئی ہو”

رنعم نے سامنے دیوار پر لٹکی گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوۓ کہا جو کہ دو بجا رہی تھی

“ابھی تک میڈ کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔۔۔ کیسے صفائی کر رہی ہو تم خود سے،،، تمہیں تو کبھی گھر کی صفائی کرنے کی عادت نہیں رہی رنعم”

یسریٰ کو ایک دم بیٹی کی فکر ہوئی

“عادت تو واقعی نہیں ہے مما مگر گھر بھی تو صاف رکھنا ہے،، کاشان کو بالکل پھیلاوا پسند نہیں ہے۔۔۔ سامنے والے فلیٹ کی فیملی سے کاشان نے بات کی ہے۔۔۔ کوئی میڈ کام کرتی ہے مگر وہ چھٹیوں پر گئی ہے کاشان نے بتایا کہ وہ پرسوں آ جائے گی”

یسریٰ کو فکر مند دیکھ کر رنعم نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا

“چلو میں شاہدہ سے کہتی ہوں وہ تمہارے فلیٹ میں آکر کام کردے گی اور جب تک کوئی کام میڈ ارینج نہیں جاتی وہی کام کرلے گی۔۔۔ تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے جھاڑ پونچھ کر کے اپنی اسکن کا بیڑہ غرک کرنے کی”

یسریٰ نے منٹوں میں اس کے مسئلے کا حل نکالا تو رنعم ریلکس ہوگئی

“یہ بتاؤ تم گھر کا چکر کب لگا رہی ہو شادی کے بعد تو تم ایک دفعہ بھی رکنے نہیں آئی رنعم”

یسریٰ کی بات سن کر رنعم ایک دم چپ ہو گئی

“مما رکنے کا تو تھوڑا مشکل ہے۔۔۔ کاشان کو آفس جانے کا مسئلہ ہوگا انہیں صبح کے لیے جگانا بریک فاسٹ کے لیے مسلہ ہوگا۔۔۔ وہ تو خود سے کبھی نہیں منع نہیں کریں گے مگر مجھے اچھا نہیں لگے گا کہ میری وجہ سے انہیں کوئی پرابلم ہو”

رنعم نے سہولت سے بات بناتے ہوئے کہا

“تو یہاں پر کاشان کے روکنے پر پابندی ہے کیا۔۔۔ تم دونوں ہی نیکسٹ ویک اینڈ پر رکنے آجاو۔ ۔۔۔ بلکہ میں خود کاشان سے رکنے کا کہہ دو گی۔۔۔ اب تم جاو فریش ہو کر اچھی سی تیار ہو،، شوہر کے آنے پر سر جھاڑ منہ پھاڑ نہیں گھومتے۔۔۔۔ جب تم کاشان کو فریش نظر آؤں گی تو وہ اپنے سارے دن کی تھکن بھول جائے گا۔۔۔ اور گھر کی صفائی کی بھی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے بس میں ابھی شاہدہ کو بھیجتی ہوں”

یسریٰ سے بات کرنے کے بعد رنعم جھاڑو وہی چھوڑ کر کھانا بنانے چلے گئی

کھانا بنانے کے بعد وہ ریلیکس ہو کر ٹی وی دیکھنے لگی کام کی اسے کوئی ٹینشن نہیں تھی کیوکہ تھوڑی دیر بعد شاہدہ آجاتی ایک گھنٹے بعد جب گھر کی بیل بجی تو اپنے سامنے نوید (شاہدہ کے بیٹے) کے بیٹے کو دیکھا

“تم۔۔۔ اماں کہاں ہے تمہاری”

رنعم نے 12 سالہ نوید سے شاہدہ کے بارے میں پوچھا۔۔۔وہ اکثر شاہدہ کے ساتھ ان کے گھر پر بھی آتا تھا اور چھوٹے موٹے کام نبھٹا دیتا تھا

“باجی اماں کو تو ابا نے بلا لیا تھا۔۔۔ اماں نے مجھے کہا کے جا کر باجی کے گھر کی صفائی کر آو”

“چلو اب جلدی جلدی ہاتھ چلا کر کام نبھٹاو”

رنعم نوید کو کام سمجھا کر خود شاور لینے چلی گئی کیوکہ کاشان کے آنے کا وقت ہوگیا تھا

جب تک وہ شاور لے کر نکلی نوید نے گھر کی صفائی کرلی

“واہ بھئی تم نے تو بہت ہی کوئیک سروس دکھائی۔۔۔۔ ایسا کرنا کل بھی تم ہی آجانا مگر بارہ بجے تک۔۔۔ یہ بتاؤ کھانا کھایا تم نے”

رنعم نے اپنی حساس طبیعت کی مد نظر نوید کا خیال کرتے ہوئے پوچھا

“جی باجی کھانا تو میں گھر سے کھا کے آگیا تھا”

نوید کے جواب پر اس نے فریج سے فریش جوس نکالا اور گلاس میں بھر کر اسے تھما دیا

آج گرمی بھی کافی تھی بچہ بیچارہ صفائی کرتے ہوئے پسینے پسینے ہو گیا تھا

گرمی کے باعث رنعم نے بھی سلیولیس شڑٹ پہنی ہوئی تھی جس کا دوپٹہ عادت کے مطابق گلے میں ڈال کر وہ شام کی چائے کا ارینج کر رہی تھی کیوکہ پانچ بچ چکے تھے اور کاشان کے آنے کا وقت ہو گیا تھا ابھی وہ چائے کا پانی رکھ کر چولہا جلانے والی تھی تب ڈور بیل بجی نوید نے خالی گلاس ٹیبل پر رکھ کر دروازہ کھولا۔۔۔

کاشان مسکراتا ہوا اندر آیا مگر نوید کی اپنے فلیٹ میں موجودگی دیکھ کر اس کا موڈ خراب ہوا

“تم یہاں کیا کر رہے ہو”

نوید کے سلام کے جواب میں کاشان اس سے پوچھنے لگا

“باجی نے بلایا تھا صفائی کرنے کے لئے” نوید نے جواب دیا تو کاشان کو غصہ آنے لگا اتنے میں رنعم لانچ میں داخل ہوئی

“آپ آگئے آفس سے، فریش ہو جائیں میں چائے لے کر آتی ہوں”

رنعم نے مسکراتے ہوئے کاشان سے کہا کاشان ناگوار نظروں سے اس کو دیکھا اور پھر نوید سے بولا

“صفائی کرلی تم نے اب جاؤ”

کاشان کا لہجہ دیکھ کر رنعم کے لب سکھڑ گئے اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ کاشان کا موڈ ٹھیک نہیں

“نوید تم جاو کل 12 بجے تک آ جانا”

رنعم نے جلدی سے بولا تو کاشان نے اسے گھور کر دیکھا

“کل یا اب کھبی یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے جاو یہاں سے”

کاشان نے ڈپٹتے ہوئے نوید سے کہا تو وہ خاموش کر کے چلا گیا

“کیا ہوگیا ہے کاشان آپ کو”

رنعم نے حیرت سے اس کے خراب موڈ کی وجہ جاننی چاہی۔۔۔۔ کاشان چلتا ہوا رنعم کے پاس آیا رنعم کا بازو پکڑ کر اس کو بیڈروم میں لے گیا اور بیڈ پر پھینکا

“کاشان”۔

رنعم اس کے ردعمل پر حیرت زدہ ہوگئی

“کیوں بلایا تم نے نوید کو”

کاشان نے چیخ کر پوچھا رنعم اب اس کو غصے میں دیکھ کر ڈر گئی

“مما کا فون آیا تھا انہوں نے کہا جب تک میڈ کا ارینج نہیں ہوجائے تب تک شاہدہ صفائی کر جائے گی شاہدہ نے نوید کو بھیج دیا”

رنعم کاشان کو ساری بات بتاتی ہوئی بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی۔۔۔ کاشان نے اسے دوبارہ دھکا دے کر بیڈ پر لٹا دیا

“یعنی تم آنٹی کو فون پر اپنے دکھڑے روتی ہوں کہ کاشان کے گھر مجھے کام کرنا پڑتا ہے”

کاشان بیڈ کے پاس رنعم کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے غصے میں پوچھنے لگا

“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ بہت غلط سمجھ رہے ہیں مجھے کاشان۔۔۔ میں ایسا کیوں کروں گی بھلا،، بات کرتے ہوئے ویسے ہی ذکر نکلا تو مما نے کہا وہ شاہدہ کو بھیج دیں گی”

کاشان کے دوبارہ بیڈ پر دھکا دینے کی وجہ سے وہ اٹھی نہیں یونہی لیٹے ہوئے اپنی صفائی دینے لگی

“اوکے چلو مان لیتا ہوں ذرا مجھے اپنی روزمرہ کی روٹین بتاؤ میرے آفس جانے کے بعد تم کیا کیا کرتی ہو”

کاشان یونہی کھڑے ہوکر اسے استفاسر کرنے لگا

“کاشان سوری”

رنعم کو اپنی غلطی سمجھ میں نہیں آئی مگر پھر بھی وہ کاشان کو غصے میں دیکھ کر معافی مانگنے لگی

“جو پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دو مجھے”

وہ چیخ کر کہتا ہوں اس سیگریٹ سلگانے لگا

“آپ کے جانے کے بعد سو جاتی ہوں 12 بجے اٹھنے کے بعد گھر کی صفائی سے فارغ ہو کر کھانا چڑھاتی ہو۔۔۔ اس کے بعد شاور لے کر ٹی وی دیکھ لیتی ہو یا موبائل پر یشعل سے بات کر لیتی ہوں۔۔ پانچ بجے آپ کے آنے کے ٹائم پر شام کی چائے کی تیاری کرتی ہو”

رنعم بتاتے ہوئے ایسے شرمندہ ہو رہی تھی جیسے اپنی غلطیاں بتا رہی ہو کاشان سگریٹ پیتا ہوا غور سے اس کی ساری روٹین سن رہا تھا

“تم بارہ بجے گھر کی صفائی اسٹارٹ کرتی ہوں مطلب میرے جانے کے بعد تم بارہ بجے سو کر اٹھتی ہوں گڈ،، چار کمروں کی صفائی کتنی دیر میں ہو جاتی ہوگی”

وہ رنعم سے پوچھنے لگا

“ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں”

رنعم نے روہانسی لہجے میں کہا

“یعنی تم دو بجے تک صفائی سے فری ہو کر کھانا بناتی ہوں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ کھانا بنانے میں لگتا ہوگا۔۔ اس کے بعد سارے کا سارا ٹائم تمہارا اپنا ہوتا ہے”

کاشان سگریٹ پیتا ہوا ٹہلتا ہوا بول رہا تھا رنعم اب باقاعدہ رونے لگی کاشان اس کے پاس آیا اور بازو سے پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھایا

“پورے دن میں 3 گھنٹے تمہاری محنت صرف ہوتی ہے منع کیوں نہیں کیا تم نے آنٹی کو جب انہوں نے شاہدہ کی آفر کی۔۔۔ جبکہ صرف دو دن بعد میڈ یہاں کام کرنے آ جاتی”

وہ سختی سے اس کا بازو پکڑ کر سنجیدگی سے رنعم سے پوچھنے لگا

“کاشان مجھے بالکل عادت نہیں ہے اس لیے تھوڑا مشکل لگتا ہے مگر میں کر لو گی صفائی پلیز آپ کو غصہ نہیں کریں”

وہ کاشان کے غصے کا اندازہ اپنے بازو پر اس کی گرفت سے خوب لگا سکتی تھی کاشان کو غصے میں دیکھ کر رنعم کی جان نکلنے لگی

“یہ بھی مان لیتا ہوں نازک سی ڈول ہو تو مشکل ہوتا ہو گا تمھارے لیے روز اتنی محنت کرنا یہ بتاؤ نوید کے سامنے تم بغیر آستین کے کپڑے کیوں پہنا کر آئی اب وہ رنعم کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کر چکا تھا

رنعم کے وارڈروب میں اس کے سارے کپڑے تقریبا سلیو لیس تھے۔۔۔ اسے شادی سے پہلے بھی عادت سلیو لیس ڈریس پہننے کی۔۔۔ شادی کے بعد اس نے گرمی کے وجہ سے سلیولیس ڈریس بنائے جس پر کاشان اسے بول چکا تھا یہ ڈریسنگ وہ صرف گھر میں اس کے سامنے کر سکتی ہے باہر سلیو لیس پہننے کی ضرورت نہیں

“کا۔۔۔ کاشا۔۔۔ن وہ تو بچ۔۔۔ بچہ ہے”

رنعم نے ہکلاتے ہوئے کہا کیوکہ اب وہ دوبارہ سے وہ سیگرٹ جالاتا ہوا اس سیگریٹ والے ہاتھ سے رنعم کا دوسرا بازو پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔ رنعم کو ڈر تھا کہ کہیں سگریٹ اس کے ہاتھ پر نہ لگ جائے وہ سگریٹ کو دیکھتی ہوئی کاشان سے بولی

“بارہ سال کی عمر کا لڑکا بچہ نہیں ہوتا جب میں 13 سال کی عمر میں قتل کے جرم میں جیل گیا تھا تو بارہ سال کی عمر کا بچہ پہلے سی جیل میں موجود تھا ریپ کیا تھا اس نے اپنے سے چھوٹے دس سال کے لڑکے کا”

کاشان نے بتاتے ہوۓ سگریٹ اس کے بازو پر رکھی جس پر رنعم کی زور سے چیخیں نکل گئی