504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 8)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کاشی کل پھر جھگڑا کیا تم نے کسی قیدی سے” ثوبان کاشان سے ملنے آیا تو اس سے پوچھنے لگا

“بتا دیا تمہیں اس سالے حوالدار نے… یار کوئی شیرا نام کا نیا قیدی آیا تھا بلاوجہ ہی اکسا رہا تھا کہ میں اسے لگاؤ،، بس میٹر شارٹ ہوا تو جبڑا توڑ دیا۔۔۔ مگر سمجھو یہ خواہش اسی کی تھی”

کاشان کی بات سن کر ثوبان ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا

“کیا لینگویج ہے یہ کاشی۔۔۔۔ سالے، میٹر شارٹ، مار داڑھ۔ ۔۔ کیا ہے یہ سب ہاں حلیہ دیکھو اپنا، یہ پونی، جنگلیوں کی طرح اگی ہوئی شیو،،،، کہیں سے بھی نہیں لگ رہا کہ تم پڑھے لکھے ہو، ڈگری ہے تمہارے پاس”

ثوبان اس کے گریبان کے بٹن بند کرتا ہوا بولا

“ایس۔پی ثوبان احمد تم ایک جیل کے قیدی سے کیا توقع کر رہے ہو کہ میں آپ جناب کرتا ہوا سر جھکا کر ہر آنے جانے والے کو آداب پیش کرو۔۔۔۔ یہ جیل ہے اور میرے ارد گرد ایسے ہی لوگ بستے ہیں”

کاشان نے تلخی سے اس کو کہا

“میں نے اپیل کی تھی کہ کمشنر صاحب سے کے تمہیں B کیٹگری میں رکھا جائے مگر تمہارے آئے دن کے پھڈے مارپیٹ اور لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے انہیں تمہیں یہی رکھنا مناسب لگا۔۔۔۔۔ کاشی پلیز میری بات غور سے سنو صرف چند دن رہ گئے ہے تمہاری اس قید کو، اس کے بعد تم رہاہ ہو جاؤ گے پلیز یہ چند دن میری خاطر تحمل سے گزار لو”

ثوبان منت بھرے لہجے میں کاشان کو سمجھانے لگا

“14 سال جیل میں گزارنے کے بعد اب باہر کی دنیا کی کوئی چاہ نہیں رہی ہے مجھے۔۔۔ یہی چار دیواری گھر سا لگتی ہے مجھے تو اب”

کاشان نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے سوچا جب اس نے پہلی رات جیل میں گزاری تھی کتنا ڈرا ہوا تھا وہ اور کتنا رویا تھا فائزہ اور ثوبی اس کو کتنا یاد آئے تھے

“دوبارہ شروع کردی تم نے اپنی فضول باتیں میں پاگل نظر آ رہا ہوں تمہیں جو باہر تمہارا نکلنے کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ تمہیں معلوم ہے مجھے اس دن کا کتنا انتظار ہے کہ جب تم اس قید خانے سے آزادی حاصل کر کے باہر نکلو گے”

ثوبان اسے مزید باتیں سناتا مگر اس کا موبائل بج اٹھا

“ہاں رنعم بولو” ثوبان نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا کہ کاشی میدان میں موجود دوسرے قیدیوں کو دیکھنے لگا مگر اسے ثوبان کو دیکھ کر خوشی ہوتی تھی کم از کم اس کا بھائی ایک فیملی کے ساتھ فیملی والے ماحول میں اچھی زندگی گزار رہا تھا۔۔۔ بہروز سے بھی اس کی تین سے چار دفعہ ملاقات ہوئی تھی جبکہ یسریٰ اور رنعم کا نام وہ اکثر ثوبان کے منہ سنتا،،،،جسے لیتے ہوئے ثوبان کے لہجے میں عزت پیار اپنائیت ہوتی

“پریشان مت ہو مشکل سے 15 منٹ میں پہنچتا ہوں تمہارے پاس”

ثوبان کال کاٹ کر جانے کے لیے تیار ہو گیا

“کیا ہوا سب خیریت ہے”

ثوبان کے چہرے پر فکرمندی دیکھ کر کاشان نے اس سے پوچھا

“ہاں یار یونیورسٹی میں کوئی جھگڑا وغیرہ ہوگیا ہے رنعم گھبرا رہی ہے،، میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا”

ثوبان کاشی سے گلے ملتا ہوا وہاں سے چلا گیا

****

“اوہو ہمارے گھر تو بڑے بڑے لوگ تشریف لائے ہیں آج” ثوبان کے ساتھ رنعم یونیورسٹی سے گھر میں داخل ہوئی تو سامنے صوفے پر یسریٰ کے ساتھ بیٹھے عاشر کو دیکھ کر کہنے لگی رنعم کو دیکھ کر عاشر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی

“کیسی ہو رنعم اور ثوبان تم کیسے ہو” عاشر رنعم کے خیریت پوچھ کر ثوبان کی طرف بڑھا

“میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ بڑے دنوں بعد چکر لگایا ہے اور آنی کیسی ہیں” ثوبان نے گلے مل کر فرح کے بارے میں پوچھا

“امی بھی ٹھیک ہے تم سب کو سلام بول رہی تھی،، تم لوگ تو چکر ہی نہیں لگاتے ابھی میں خالہ سے یہی شکوہ کر رہا تھا” عاشر نے یسریٰ کو دیکھ کر کہا تو وہ مسکرا دی

“بس یار جب سے ڈیوٹی جوائن کی ہے بہت ٹف پروٹین ہوگئی ہے اور رنعم کی بھی یونیورسٹی اسٹارٹ ہو گئی ہے۔۔۔ مما سے میں نے کہا تھا کہ آنی کے پاس تھوڑی دن کے لیے چلے جائیں مگر سچ تو یہ ہے مما کے بغیر ہمارا بھی کا گزارا زرا مشکل ہے”

ثونان نے یسریٰ کے برابر میں بیٹھے ہوئے مجبوری بتائی

“آپ سب لوگ بیٹھے میں فریش ہو کر آتی ہوں”

رنعم سب کو باتیں کرتے چھوڑ کر اپنے روم میں آ گئی

“تم دونوں بیٹھو میں کھانا لگواتی ہو تب تک رنعم بھی آجائے گی”

یسریٰ نے اٹھتے ہوئے کہا

“مما دوپہر کا کھانے کھایا تو لیٹ ہوجاو گا میں رنعم کو چھوڑنے آیا تھا عاشر سے بات کر کےتھوڑی دیر میں نکلوں گا”

ثوبان نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا، اس ٹائم وہ گھر پر کم ہی ہوتا تھا

“چپ کر کے بیٹھو، خود تو صحت کا خیال نہیں ہے تمہیں اپنی دن بدن کمزور ہوتے جا رہے ہو” یوسریٰ کے جھڑکے پر ثوبان کے ساتھ ساتھ عاشر بھی ہنسنے لگا۔۔۔ وہ اچھا خاصا ورزشی جسم کا مالک یسریٰ کو ہر وقت کمزور لگتا تھا،، اب کچھ بھی ہو جاتا یسریٰ ثوبان کو کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دیتی اس لیے وہ ریلیکس ہو کر بیٹھ گیا

“اور سناؤ تمہاری جاب کا کیا بنا” ثوبان نے عاشر سے پوچھا

“اسی کے بارے میں بتانے آیا ہوں بلکہ منہ میٹھا کرانے آیا ہوں جس کمپنی میں جاب کے لئے اپلائی کیا تھا کل وہی سے کال آئی تھی”

عاشر نے خوش ہوکر ثوبان کو بتایا

“زبردست یار یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے بہت بہت مبارک ہو”

ثوبان نے خوش ہو کر مبارک باد دی

“خالی خولی مٹھائی سے کام نہیں چلنے والا اب آپ کو مجھے اور بھیا کو ٹریٹ دینی ہوگی” رنعم واپس آکر سنگل صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی

“چلو پھر آج رات کا ڈنر میری طرف سے کیا یاد کرو گے تم دونوں”

عاشر نے دریا دلی سے ان دونوں کو دیکھ کر کہا

“عاشر ثوبان کھانا لگ گیا ہے رنعم جلدی آؤ تم بھی، یسریٰ کی آواز پر وہ تینوں اٹھ کر ٹیبل پر پہنچے

عاشر یسریٰ کی بہن فرح کا بیٹا تھا یسریٰ کی بہن فرح حیدرآباد میں رہائش پذیر تھی اس لیے کافی دن ہو جاتے ملے ہوئے،، زیادہ تر فون پر دونوں کی بات چیت ہوتی جبکہ عاشر چند سال پہلے پڑھائی کے سلسلے میں یسریٰ کے پاس آکر کا رکا تھا۔۔۔ اس کی اور ثوبان کی تبھی سے کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی وہ ثوبان سے تین سال چھوٹا تھا مگر دونوں کی اچھی نیچر کے باعث دوستی میں عمر کا فرق آڑے نہیں آیا۔۔۔۔ عاشر کی پرسنلٹی درمیانے قد اور سنوالی رنگت کے باعث ثوبان کے مقابلے میں دب جاتی مگر اس کمی کو عاشر کا اخلاق اور بلند کردار پورا کردیتا

****

“کیا میں اندر آ جاؤ”

ڈنر کے بعد ثوبان بہروز سے اپنا ایک کیس ڈسکس کر رہا تھا تب رنعم نے دروازے سے جھانک کر اجازت مانگی،،، بہروز دو ماہ پہلے ہی ریٹائر ہوا تھا فارغ بیٹھنا اس کی نیچر میں شامل نہیں تھا اسی لیے اس نے اپنے دوست کے ساتھ پارٹنر شپ کی بنیاد پر کار کا شوروم کھولا تھا

“آ جاؤ میرا بیٹا” بہروز نے اجازت دیتے ہوئے کہا تو رنعم مسکرا کر اندر آئی

“بابا وہ میری فرینڈ ہے نا شانزہ۔۔۔۔ جو حیدرآباد سے یہاں پڑھنے آئی تھی،، وہی جو ہوسٹل میں رہتی ہے اس کے بھائی کی شادی ہے باقی ساری فرینڈز بھی جا رہی ہیں میں بھی حیدرآباد چلی جاؤ،، بھیا نے تو کہا ہے بابا آرام سے پرمیشن دے دیں گے”

رنعم کے آخری جملے پر ثوبان نے اسے گھور کر دیکھا کیوکہ اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا بلکے اسے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ کس کی شادی ہے

“رنعم ثوبان کا نام لے کر پرمیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے،، میں جانتا ہوں اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا ہوگا اور اکیلے حیدرآباد اتنی دور جانے کی اجازت میں تمہیں بالکل نہیں دوں گا”

بہروز کے صاف انکار کرنے پر اب وہ التجائی نظروں سے ثوبان کو دیکھنے لگی آنکھوں ہی آنکھوں میں منت کرنے پر ثوبان نے لمبا سانس کھینچ کر بہروز کو مخاطب کیا

“بابا ٹھیک ہے،، رنعم کی ساری دوستیں جارہی ہیں اجازت دے دیں اس کو صرف دو دن کی بات ہے”

ثوبان نے سوچا ایک فنکشن تو اسے اٹینڈ کرنا نہیں ہوگا اس لیے دو دن اپنی طرف سے کہہ دیا

“بھیا دو نہیں چار دن”

بہروز کی کچھ بولنے سے پہلے رنعم جھٹ سے بولی جس پر ثوبان نے باقاعدہ اس کو گھور کر دیکھا وہ دوبارہ معصوم شکل بنا کر ثوبان کو دیکھنے لگی

“دیکھ لو تم خود ہی تمہاری بہن چار دن گھر سے باہر رہنے کی فرمائش کر رہی ہے”

بہروز ثوبان کو دیکھ کر کہنے لگا

“آپ فکر نہیں کریں اسے حیدرآباد میں چھوڑ کر آؤں گا اور واپسی پر بھی یہ مجھے ٹائم بتا دے گی تو میں ہی اسے لینے پہنچ جاو گا”

ثوبان نے بہروز کو اطمینان دلایا تو رنعم بھی خوش ہوگئی،،، بہروز کے بعد اب ثوبان کی بھی جاب ایسی تھی وہ لوگ رنعم کو کہیں اکیلے باہر آنے جانے نہیں دیتے تھے

“ٹھیک ہے مگر میں یسریٰ کو راضی نہیں کروں گا” بہروز نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا

“مما کی ٹینشن نہیں ہے انہیں بھی بھیا راضی کریں گے،،، جیسے آپ کو کیا ہے”

رنعم نے بہروز کے گلے میں لاڈ سے بازوں ڈالتے ہوئے کہا کہا تو ثوبان اور بہروز دونوں ہی اس کی بات پر مسکرا دیئے

****

“تو آخر آپ نے اجازت دے ہی دی رنعم کو”

بہروز سونے کے لئے بیڈ پر لیٹا تو برابر میں بیٹھی یسریٰ نے اس کو دیکھ کر کہا

“یسریٰ اسے میں نے ثوبان کے چھوڑنے اور واپس لانے پر اجازت دی ہے اور ثوبان تم سے بھی تو پرمیشن لینے آیا تھا تمہیں ٹینشن تھی تو منع کردیتی”

بہروز نے یسریٰ کی طبیعت کو مدنظر رکھ کر جواب دیا اسے معلوم تھا رنعم کو جانا ہے اب چار دن تک وہ پریشان رہے گی۔۔۔۔ ایسے ہی ثوبان اپنی ڈیوٹی کے باعث کبھی کبھی رات کو گھر نہیں آتا تو وہ پوری رات جاگتی رہتی۔۔۔۔ چاہے ثوبان کتنا ہی بزی کیوں نہ ہو دو منٹ کی کال کرکے وہ یسری کو اپنی خیریت ضرور بتاتا تاکہ یسریٰ کو اطمینان ہو سکے

“کتنی تیز ہوگئی ہے رنعم اسے معلوم ہے ہم دونوں پرمیشن نہیں دیں گے،،، جبھی ثوبان کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی”

یسریٰ بھی رنعم کو سمجھتے ہوئے بہروز کو بتانے لگی

“تیز نہیں ہے ابھی بہت سیدھی ہے میری بیٹی، تم نے اب اگر اجازت دے دی ہے تو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں”

بہروز نے یسریٰ کو دیکھ کر کہا

“بہروز میں کافی دن سے ایک بات سوچ رہی ہوں سوچا آپ سے شیئر کر لوں کیوں نہ رنعم اور ثوبان کی شادی کر دیں” یسریٰ کی بات سن کر بہروز اٹھ کر بیٹھ گیا

“کیا سوچ کر تم نے یہ بات کی ہے وہ دونوں بہن بھائی سمجھتے ہیں ایک دوسرے کو،،، آخر تمہارے ذہن میں ایسی بات آئی بھی کیسے”

بہروز نے حیرت سے یسریٰ کو دیکھتے ہوئے کہا

“بہن بھائی سمجھتے ہیں مگر بہن بھائی ہیں تو نہیں، ثوبان ہمارے بیٹوں کی طرح ہے بہروز بلکہ بیٹا ہی تو ہے وہ ہمارا۔۔۔ ہمارے سامنے پلا بڑا ہے اس سے زیادہ اچھا رنعم کے لئے کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا اور رنعم ایک ہی تو بیٹی ہے ہمارے پاس ان دونوں کی شادی ہو جانے سے ہماری بیٹی بھی ہمارے پاس رہے گی”

یسریٰ نے اپنے دل کی ساری بات شیئر کری جو کافی دن سے وہ سوچ رہی تھی

“یسریٰ میں اپنے بچوں پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کے حق میں بالکل بھی نہیں ہوں،، رنعم کا مجھے اچھی طرح اندازہ ہے وہ اس بات پر بہت ہرٹ ہوگی بلکہ ثوبان بھی یقیناً ہرٹ ہوگا۔۔۔ الٹا اس کے دماغ اور دل میں یہ بات نہ آجائے کہ ہم نے اسے اپنے اسی مفاد کے لیے پالا ہے مجھے تمہاری بات سے بالکل اتفاق نہیں ہے”

بہروز نے یسریٰ کے سامنے اپنا نظریہ پیش کیا

“چلیں ٹھیک ہیں میں اپنے طور پر ثوبان سے اس کی رائے لے کر دیکھتی ہوں ایک دفعہ بغیر کوئی اپنی مرضی مسلط کیے اگر وہ ایگری ہوتا ہے تو رنعم سے بات کروں گی”

یسریٰ جیسے تیار بیٹھی تھی،، اس کی بات سن کر بہروز نے آگے سے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ سونے کے لئے لیٹ گیا