Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 12)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“آج بن موسم مینہ برسنے سے کئی دنوں کی گرمی کا زور ٹوٹا کاشان کو یہ موسم بچپن سے ہی اچھا نہیں لگتا تھا کیوکہ بارش ہونے کے بعد سب سے پہلے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ شروع ہو جاتا اس کے بعد اس محلے کے گلیوں میں کئی دنوں تک پانی کھڑا رہتا جو کہ چند دن بعد کیچڑ میں تبدیل ہوجاتا جس سے بدبو الگ اٹھتی اور گندگی الگ ہوتی۔۔۔۔۔ فائزہ سلائی کی وجہ سے گھر کی صفائی پر زیادہ توجہ نہیں دیتی تھی مگر کاشان کو پھیلاوے اور بے ترتیبی سے چڑ ہوتی وہ کبھی کبھی فائزہ سے بھی اس بات کو لےکر ناراض ہوتا اور اسے صفائی کے لئے بولتا مگر جب اسی بات کو لے کر افتخار فائزہ پر ہاتھ اٹھاتا تو ثوبان اور کاشان دونوں ہی چپ کر کے گھر کی صفائی کرتے
“یار رنعم کیا کر رہی ہو پورا بھیگاو گی کیا مجھے” ثوبان کی آواز پر کاشان بچپن کی یادوں سے نکلتا ہوا اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا یہ کھڑکی گھر کے لان میں کھلتی تھی جہاں اسے رنعم ثوبان کا ہاتھ کھینچتی ہوئی ثوبان کو لان میں لاتی ہوئی نظر آئی
“کیا بھیا اتنا مزہ آ رہا ہے بالکل ہی بور ہوتے جارہے ہیں آپ تو”
رنعم کی چہکتی ہوئی آواز پر کاشان کی نظر رنعم پر گئی۔۔۔ وہ بارش کو بالکل بچوں کی طرح انجوائے کر رہی تھی اور اب ثوبان بھی پوری طرح بھیگ چکا تھا وہ اور رنعم لان میں کھڑے کسی بات پر ہنس رہے تھے کاشان کھڑکی میں کھڑا ان دونوں کو دیکھ کر سگریٹ پینے لگا۔۔۔۔ رنعم نے دونوں ہاتھوں کا کٹورہ بنا کر بارش کا پانی جمع کیا اور بات کرتے ہوئے ثوبان کے منہ پر پھینکا جس پر ثوبان نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی،،، اس کی مسکراہٹ دیکھ کر کاشان کے لب بھی بےساختہ مسکرائے
“انسان بن جاؤ تم، چلو اندر بیمار پڑ جاؤں گی ورنہ” ثوبان کہتا ہوا اب خود اندر جانے لگا
“بھیا آپ بور ہونے کے ساتھ ساتھ بوڑھے بھی ہوگئے ہیں مگر ابھی میرا بارش میں مزید انجوائے کرنے کا ارادہ ہے”
وہ بولنے کے ساتھ کیچر سے اپنے بالوں کو آزاد کرچکی تھی
“ہاں جب تک مما یہاں آ کر تمہاری شامت نہیں لائے گیں، تم سدھرنے والی نہیں ہو”
ثوبان نے جاتے جاتے اسے ڈرایا
“اگر مما کو آپ نے یہاں آنے سے نہیں روکا تو میں آپ سے سچی والا ناراض ہو جاؤ گی”
رنعم نے دھمکی دینے والے انداز میں کہا تو ثوبان ہنستا ہوا اندر چلے گیا ہے
رنعم مسکرانے لگی اسے یقین تھا ناراض ہونے والی دھمکی ہمیشہ کارآمد ہوتی ہے اب اسے یسریٰ کا خوف نہیں تھا وہ آرام سے دیر تک بارش میں انجوئے کر سکتی ہے۔ ۔۔۔۔
کاشان ابھی بھی سگریٹ پیتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا،، وہ آنکھیں بند کیے چہرہ آسمان کی طرف کر کے دونوں ہاتھ کھولے آئستہ آئستہ گول گھوم کر دنیا بھلائے اپنے آپ میں مگن تھی اور کاشان اس کو دیکھنے میں۔۔۔۔ آج سے پہلے کاشان کو بارش کبھی اتنی اچھی نہیں لگی آج اسے یہ موسم اتنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا وہ مہبوت سا کھڑکی میں کھڑا رنعم کو دیکھے گیا
“رنعم”
زیرلب اس نے رنعم کا نام پکارا۔۔۔۔ اس کا دل نئے انداز میں دھڑکا۔۔۔۔
“یہ بتا اگر باہر نکل کر تجھے کوئی لڑکی پسند آگئی تو”
اچانک اسے جیل میں آزر کی بات یاد آئی
“میں بھی کیا سوچنے لگ گیا”
کاشان نے اپنی سوچوں کو جھٹکا
اس کی نظر سامنے والے گھر کی بالکونی پر پڑی جہاں تین لڑکے آنکھوں میں دلچسپی لیے رنعم کو دیکھ رہے تھے وہ لڑکے زیادہ بڑے بھی نہیں تھے انیس یا بیس سال کے لڑکے ہوگیں،، انہیں دیکھ کر کاشان کے ماتھے پر اچانک لاتعداد شکنوں کا جال سج گیا۔۔۔۔
اب اس نے رنعم کی ڈریسنگ پر غور کیا رنعم نے کیپری پر ٹاپ پہنا ہوا تھا جو بارش میں پورا بھیگ کر اس کے بدن سے چپک چکا تھا،، جس سے اس کے جسمانی خدوخال واضح ہو رہے تھے اور کیپری کی وجہ سے آدھی پنڈلیاں بھی نظر آرہی تھی۔۔۔ کاشان نے سگریٹ کا ٹکڑا ایش ٹرے میں مسل کر لان کا رخ کیا
کاشان پر نظر پڑتے ہی وہ تینوں لڑکے بالکونی سے غائب ہوگئے۔۔۔۔ رنعم اب لان میں موجود پھولوں اور پودوں کا جائزہ لے رہی تھی کاشان نے لان سے چند قدم دور کھڑے ہوکر رنعم کو مخاطب کیا
“اندر آو فوراً”
کاشان کی آواز پر رنعم نے مڑ کر اسے دیکھا جو اسے گھورتے ہوئے بول رہا تھا
“آپ نے مجھ سے کچھ کہا”
بھلا انہیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے میرے یہاں موجود ہونے سے۔۔۔۔ رنعم نے یہی سوچ کر اس سے پوچھا
“یہاں تمہیں اور کون دیکھ رہا ہے اپنے سوا”
پہلے سے زیادہ سخت لہجے میں طنز کیا گیا تو رنعم کو حیرت ہوئی
“مگر کیوں”
وہ جرح کرنے والے انداز میں بولی تو کاشان نے اسے غصے میں گھورا
“ابھی وہاں آکر بتاو کیوں”
وہ اب بھی آنکھیں دکھائے رنعم سے پوچھ رہا تھا تو رنعم چپ کر کے اندر چلے گئی
****
کاشان آفس کی بلڈنگ کے باہر کھڑا آفس کا جائزہ لینے لگا یہی ایڈریس تھا جہاں ثوبان نے اس کو شکیب الریحان کے پاس جاب کے سلسلے میں بھیجا تھا۔۔۔۔ شام میں اس نے ڈرائیونگ کی کلاس بھی لی ہوئی تھی اور ثوبان کے کہنے کے مطابق وہ واقعی جلد ڈرائیونگ سیٹ گیا۔۔۔۔ بہروز نے اسے اپنے شو روم میں مینیجر کی جاب کی آفر کی ژتھی مگر اس نے سہولت سے انکار کر دیا یا شاید اندر کہیں اس کے دل میں یہی بات تھی جتنا احسان وہ ان دونوں میاں بیوی کالے چکا ہے اتنا کافی ہے جبکہ ثوبان کا تو ان دونوں کے ساتھ الگ معاملہ تھا۔۔۔ ہر انداز سے ثوبان اسی فیملی کا حصہ لگتا تھا
“ایکسکیوزمی میم مجھے شکیب الریحان صاحب سے ملنا ہے چار بجے کا اپوائنمنٹ ہے میرا”
باہر بیٹھی پی۔اے کو کاشان نے مخاطب کر کے کہا
“آپ کاشان احمد ہیں؟ سر شکیب کچھ ذاتی مصروفیات کی بنا پر آج نہیں آسکے مگر انکی بیٹی مس مایا تھوڑی دیر میں تشریف لارہی ہیں جب تک آپ کا انٹرویو ہمارے مینجر فیصل لے لیتے ہیں آپ اندر تشریف لے جائے”
پی۔اے نے پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ کاشان کو جواب دیا تو کاشان سرہلا کر روم کے اندر چلا گیا
“السلام علیکم سر” کاشان نے اندر داخل ہو کر سلام کیا سامنے 30 سالہ شخص فیصل چیئر پر برجمان تھا جس نے سر ہلا کر اس کے سلام کا جواب دیا اور کرسی کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا
“ہاں تو کاشان احمد اس سے پہلے کہ کہاں جاب کی آپ نے۔۔ کوئی ایکسپیرینس ہے آپ کو”
فیصل نے کاشان کی فائل دیکھتے ہوئے سوال کیا پھر ایک نظر کاشان کو دیکھ کر ہنسا
“او سوری میں تو بھول گیا، تم نے تو جیل میں رہ کر ایجوکیشن کمپلیٹ کی ہے تمہارے پاس بھلا کس چیز کا ایکسپرینس ہوگا”
فیصل نے ہنستے ہوئے اس کا مذاق اڑایا
“قتل کا ایکسپیرینس ہے مجھے”
کاشان نے چہرے پر سنجیدہ تاثرات رکھتے ہوئے کہا تو فیصل کی مسکراہٹ غائب ہوئی
“ویسے ثوبان سے ملا ہوں میں اچھا انسان ہے وہ اعلیٰ عہدے پر فائز بھی۔ ۔۔ شرمندہ ہوتا ہوگا تمہارے بارے میں کسی کو بتاتے ہوئے بچارا”
فیصل نے ثوبان سے ہمدردی کی آڑ میں دوبارہ اس کی ذات کو نشانہ بنایا
“نہیں وہ بالکل شرمندہ نہیں ہوتا جس وجہ سے وہ شرمندہ ہوتا تھا،،، وہ وجہ میں نے ہمیشہ کے لئے ختم کردی جس کے سبب میں جیل گیا،، یقین مانو مجھے دوسرا قتل کرتے ہوئے بھی بالکل شرمندگی نہیں ہوگی”
کاشان کے تاثرات بالکل سنجیدہ تھے وہ آنکھیں سکھڑے فیصل کو دیکھ کر بول رہا تھا اچانک آفس کے روم کا دروازہ کھلا اور ایک نسوانی وجود اندر آیا جسے مڑ کر کاشان نے دیکھا
“آو مایا تمہارا ہی ویٹ کر رہا تھا، یہ ہے کاشان جس کے بارے میں انکل نے بتایا تھا اب تم خود ہی دیکھ لو کس سیٹ کا چارج اسے دینا ہے”
فیصل نے مایا کو دیکھ کر کاشان کے بارے میں ایسے تبصرہ کیا جائے اس کی نظر میں، وہ پیون کی سیٹ کے بھی اہلیت نہیں رکھتا۔۔۔۔ مایا نے کاشان کو دیکھا،،،، وہ بھی تنقیدی نگاہ سے اسی کو دیکھ رہا تھا وہ ڈریسنگ کے لحاظ سے کافی ماڈرن جب کے باڈی لینگوج کے حساب سے کافی بولڈ لگی
‘ہائے آئی ایم مایا”
مایا نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ ملانے کے غرض سے کاشان کی طرف بڑھا کر اپنا تعارف کرایا
“کاشان احمد”
کاشان نے اس کے ہاتھ پر سرسری نگاہ ڈال کر مایا کو دیکھتے ہوئے کہا مایا نے خفت سے ہاتھ نیچے کر لیا کاشان کو اس طرح خود سے فری ہونے والی بےباک لڑکیاں ذرا پسند نہیں تھی اور مایا کا پہلا امپریشن اس پر اچھا نہیں پڑا اس لیے وہ یہاں آکر بدمزہ ہوا اور بدمزہ تو وہ یہاں فیصل کی شکل دیکھ کر بھی ہوا تھا جو اپنے آپ کو توپ ٹائپ کوئی چیز سمجھ رہا تھا
“ثوبان نے مجھے شکیب صاحب کے پاس بھیجا تھا اب وہ یہاں نہیں ہے تو یقیناً میرا ٹائم ضائع ہوا خیر چلتا ہوں” کاشان نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا
“ڈیڈ آفس کم ہی آتے ہیں زیادہ تر یہاں کام میں ہی دیکھتی ہوں۔۔۔ ہمہیں آپ کے قیمتی وقت کا بھی احساس ہے، آپ کل سے آفس جوائن کر لیے گا،،، آفس کے متعلق خاص معلومات اور ضروری باتیں آپ کو فیصل سمجھا دیں گے” مایا نے اپنی چیئر پر بیٹھتے ہوئے کاشان سے کہا تو سر ہلا کر دروازے سے باہر نکل گیا
“ٹشن دیکھو ہیرو کے ایسا لگ رہا ہے حوالات سے نہیں لندن سے آرہا ہو جیسے ایڈیٹ۔۔۔ ذرا اچھا نہیں لگا مجھے”
فیصل نے کاشان کے باہر نکلتے ہی جل کر تبصرہ کیا
“پر مجھے اچھا لگا” مایا نے چیئر پر جھولتے ہوئے دروازے کو دیکھتے ہوئے کہا جہاں سے ابھی کاشان باہر گیا تھا
****
“شوگر کافی بڑھی ہوئی ہے بابا آپ کی، احتیاط کیا کریں” کھانے سے فارغ ہوکر ثوبان،، یسریٰ اور بہروز کے پاس
بیڈ روم میں آیا تو اس نے بہروز کی رپورٹ دیکھتے ہوئے کہا
“ارے یار میں کون سا میٹھا کھاتا ہوں جو احتیاط کرو، یہ چھوڑو تمہاری مما نے تمہیں کچھ دکھانا تھا”
بہروز نے یسریٰ کو اشارہ کیا تو وہ اٹھ کر دراز میں سے کچھ نکالنے لگی چند لڑکیوں کی تصویریں لاکر اس بے ثوبان کے ہاتھ میں تھمائی
“یہ کیا ہے مما” ثوبان نے تعجب سے یسریٰ کو دیکھ کر کہا تو بہروزہ یسریٰ دونوں ہی ہنس دیے
“لڑکیوں کی تصویریں ہیں بدھوں اگر کوئی تمہاری نظر میں نہیں ہے تو ان میں سے دیکھ کر مجھے بتاؤ۔۔۔ سب ہی خوبصورت اور ویل ایجوکیٹڈ، ہائی سوسائٹی سے موو کرتی ہیں اور تمھارے ساتھ میچ کریں گی”
یسریٰ نے آکسائیڈ ہوکر ثوبان کو بتایا
“مما آپ کن چکروں میں پڑ گئی ہیں،، میں ابھی شادی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور ان میں سے تو کسی سے نہیں اور سب سے امپورٹنٹ بات رنعم سے پہلے تو میں شادی کرنے والا ہرگز نہیں ہو، آپ دونوں پہلے اس کا سوچیں”
ثوبان نے اپنے اوپر سے لٹکی ہوئی تلوار کو فی الحال ہٹایا۔۔۔ مگر یہ سچ بھی تھا وہ چاہتا تھا پہلے رنعم اپنے گھر کی ہو جائے
“بات تمہاری بھی ٹھیک ہے مگر اس کے لئے کوئی نظر میں بھی تو ہو”
بہروز نے ثوبان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا
“میری نظر میں ہے ایک،، اگر آپ دونوں کو مناسب لگے تو سوچیے گا”
ثوبان نے کچھ سوچتے ہوئے ان دونوں کو دیکھا
“بھلا ایسا کون ہے” یسریٰ کے ذہن میں کاشان کا خیال آیا مگر بنا ظاہر کیے اس نے ثوبان سے پوچھا
“عاشر۔۔۔ عاشر کیسا رہے گا اپنی رنعم کے ساتھ”
ثوبان ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
“عاشر”
یسریٰ نے حیرت سے ثوبان کو دیکھا
“ہاں اس کی طرف تو میرا دھیان نہیں گیا اچھا بچہ ہے وہ بھی”
بہروز نے تھوڑی دیر بعد اپنی رائے کا اظہار کیا مگر اتفاق سے وہ بھی ثوبان کے منہ سے عاشر کا نام ایکپٹ نہیں کر رہا تھا
“کیا ہوگیا ہے آپ دونوں کو بالکل ہی سیریز ہوگئے ہیں۔۔ مانا عشر اچھا ہے مگر رنعم کے ساتھ وہ کہاں سوٹ کرے گا
یسریٰ کو جیسے کہ بہروز اور ثوبان دونوں ہی کی بات پسند نہیں آئی۔۔۔ انعم اس کے پاس تھی نہیں ایک طرح سے رنعم اس کی اکلوتی بیٹی تھی وہ ہر لحاظ سے اس کے لئے پرفیکٹ انسان سوچتی تھی،، جو رنعم کے ساتھ کھڑا ہو کر بھی اچھا لگے
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں مما،، آخر کیا برائی ہے اس میں، اس کا اخلاق کردار سب ہی ہماری نظروں میں ہے۔۔۔ وہ تو آپ کا بھانجا ہے اور آپ کو عزیز”
ثوبان کو یسریٰ کی سوچ پر حیرت ہوئی وہ سمجھ گیا یقیناً ساری خاصیت ہونے کے باوجود عاشر اچھی ہائٹ اور رنگ سے مار کھا گیا ہے یقیناً یہی وجہ ہوگی جو یسریٰ بتانے سے جھجک رہی ہے مگر ثوبان کے سامنے اس چیز سے زیادہ اہمیت عاشر کے دل کی تھی وہ ایک اچھے دل کا انسان کا سب سے بڑھ کر ثوبان نے عاشر کی نظروں میں رنعم کے لیے پسندیدگی بھی دیکھی تھی۔۔۔ ثوبان نے بھائی ہونے کے ناطے رنعم کا بھلا ہی چاہا تھا
“برائی تو ان چند دنوں میں مجھے کاشان میں بھی نظر نہیں آئی ویسے، اس کے بارے میں کیوں نہیں خیال آیا تمہیں رنعم کے لیے۔۔۔۔ کاشان بھی سوٹ کرے گا ویسے رنعم کے ساتھ”
یسریٰ کی بات پر ثوبان کے ساتھ ساتھ بہروز بھی چونکا
“کاشی”
ثوبان بڑبڑایا
“یسریٰ”
بہروز نے حیرت سے اپنی بیوی کو دیکھتے ہوئے اس کا نام پکارا
“کیو کیا برائی ہے اس میں،، پڑھا لکھا ہے خوش اخلاق ہے،، خوش شکل ہے،، کردار بھی ہماری نظروں میں ہے اسکا، اسٹیبل نہیں ہے تو کیا ہوا،، جو کچھ ہمارا ہے وہ کس کے کام آئے گا آگے،، رنعم کے اور ثوبان کے”
یسریٰ کی بات پر بہروز چپ ہوگیا
“مما کاشی میرا بھائی ہے اور رنعم میری بہن، یہ دونوں ہی مجھے بہت عزیز ہیں مگر ان دونوں کی نیچر ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے”
اگر ثوبان صرف کاشی کے متعلق سوچتا تو کاشان کے لیے اس سے بہتر آپشن کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا تھا مگر اس نے سچے دل سے کھرا جواب دیا
“یسریٰ ثوبان رنعم سے پیار کرتا ہے وہ اس کے لیے بہتر سوچے گا،، اس نے کچھ سوچ کر ہی عاشر کا نام لیا ہوگا کاشان کا نہیں”
بہروز ثوبان کے سامنے اس سے زیادہ واضح لفاظوں میں یسریٰ کو نہیں سمجھا سکتا
“میں جانتی ہوں ثوبان رنعم سے ہی نہیں ہم دونوں سے بھی پیار کرتا ہے،،، آپ دونوں کے ہی اگر دل میں یہ بات ہے کہ کاشان جیل سے آیا ہے تو پلیز وہ اپنی سزا مکمل کر کے آگیا ہے آخر اسے بھی نئی زندگی شروع کرنے کا حق ہے”
یسریٰ نے دوبارہ نیا جواز پیش کیا جس پر وہ دونوں ایک بار پھر چپ ہوگئے
“چلو ٹھیک ہے رنعم کی کون سی عمر نکلی جارہی ہے۔۔۔ ابھی پڑھ رہی ہے وہ میرے خیال میں ابھی بچوں کے ذہنوں میں ایسی بات ڈالنی بھی نہیں چاہیے۔۔۔ میں چاہوں گا یہ بات ہم تینوں کے درمیان رہے اس کمرے تک،، جب وقت ہوگا تو دیکھا جائے گا کیا بہتر رہے گا”
بہروز نے اس وقت کے لیے ٹاپک کو کلوز کرتے ہوئے کہا ثوبان اٹھ کر اپنے روم میں آ گیا
****
رنعم یشعل سے موبائل پر بات کرتے ہوئے تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی،،، آج وہ یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہو گئی تھی آخر کی تین رہ گئی تھی اچانک رنعم کا پیر سلپ ہوا۔۔۔ اس سے پہلے وہ بری طرح گرتی،،،، عجلت میں سیڑھیاں چڑھتا کاشان جو کہ کسی ضروری کام سے ثوبان کے روم میں جا رہا تھا۔۔۔ رنعم اس سے ٹکرا گئی۔۔۔۔ اس افتاد کے لیے کاشان تیار نہیں تھا۔۔۔ رنعم کو گرنے سے بچانے کے لیے اپنا ایک ہاتھ اس کے گرد لپیٹ کر دوسرے ہاتھ سے دیوار کا سہارا لیا تاکہ خود کو بھی گرنے سے بچا سکے۔۔۔۔۔ مگر مسئلہ یہاں حل نہیں ہوا گرنے سے بچانے کے چکر میں رنعم کے سر کاشان کے سینے سے بری طرح ٹکرایا جب وہ دونوں سنمبل گئے تو رنعم نے اپنا سر اس کے سینے سے ہٹانا چاہا مگر رنعم کے بال کاشان کی شرٹ کے بٹن میں پھنس چکے تھے۔۔۔ رنعم نے مدد طلب نظروں سے ذرا سا سر اٹھا کر کاشان کو دیکھا تو گہری نظروں سے اس کے چہرے کو تک رہا تھا۔۔۔
وہ مکمل حسن رکھنے والی لڑکی تھی جس کا کوئی بھی دیوانہ ہو سکتا تھا پھر بھلا کاشان احمد کیسے بچ سکتا تھا،،،، ویسے تو یہ سبز آنکھیں آہستہ آہستہ اپنا کام دکھا رہی تھی مگر آج ان کے وار سے وہ نہیں بچ سکا تھا
“پلیز میری ہیلپ کریں ناں”
رنعم اپنے بال شرٹ کے بٹن سے نکالنے کے چکر میں اور گھبراہٹ میں مزید الجھا چکی تھی،، اس لئے جب خود کچھ نہیں کر پائی تو بےبس ہوکر کاشان سے کہنے لگی وہ بس خاموش ہوکر اسے دیکھے جا رہا تھا،،، رنعم کے بولنے پر کاشان نے اس کے بالوں کو بینڈ سے آزاد کیا پھر آہستہ سے اس کے بال اپنے شرٹ کے بٹن سے نکالے جب کہ کاشان کو ایسا کرنے کا دل ذرا نہیں چاہ رہا تھا کیوکہ ایسا کرنے کے بعد وہ یہ چہرہ دوبارہ اتنے قریب سے نہیں دیکھ پاتا،،، ابھی تو اس کا دل بھرا بھی نہیں تھا
“تھینکس”
جیسے ہی اس کے بال آزاد ہوئے وہ بنا کاشان کو دیکھے تھینکس بولتی ہوئی باہر نکل گئی جبکہ کاشان مڑکر آنکھیں سکھیڑ کر اسے باہر جاتا ہوا دیکھتا رہا
کاشان کو اس گھر میں رہتے ہوئے ایک ماہ ہوگیا تھا بہروز اور یسریٰ سے وہ کافی حد تک بات چیت کر لیتا تھا مگر رنعم سے اس کی کوئی خاص بات چیت نہیں تھی۔۔۔ جب وہ غلطی سے اس کے روم میں آیا تھا یا تو رنعم اس کی باتوں سے ڈر گئی تھی یا پھر شاید وہ کسی اجنبی سے فری نہیں ہوتی تھی اور یہ دونوں ہی باتیں کاشان کو پسند آئی تھی مگر جو بات اسے پسند نہیں آئی تھی وہ سوچتے ہوئے اس کے ماتھے پر شکن آئی مگر وہ کوئی ایسی مسلے کی بات بھی نہیں تھی اور دوسرا کاشان کو بھی سمجھانے کے بہت سے طریقے آتے تھے
“کیا مجھے اپنے احساسات ثوبان سے شیئر کرنے چاہیے” کاشان سوچتا ہوا سیڑھیاں چڑھنے لگا
