504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 27)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

ڈریسر کے سامنے کھڑے ہو کر رنعم گلوس لگاتے ہوئے اپنا جائزہ لینے لگی آئیز بلو جینز کے اوپر بےبی پنک کلر کا ٹاپ جس کی سلیویز ہالف سے بھی تھوڑی لمبی تھی یقیناً اب کاشان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا وہ بالوں میں برش پھیرتے ہوئے سوچنے لگی

سیرت کے ساتھ شاپنگ مال جانے کے لیے وہ اپنی تیاری مکمل کر چکی تھی اپنا موبائل ہینڈ بیگ میں ڈالتے ہوئے روم سے باہر نکل کر سڑھیاں اترنے لگی کاشان ہال میں ہی موجود اس کا اور سیرت کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔۔ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے گھر آیا تھا

رنعم کو سیڑھیاں اترتا دیکھ کر کاشان نے اس کی ڈریسنگ کا جائزہ لیا اس کا ٹاپ جو کہ صرف کمر کو ہی کور کر رہا تھا کاشان کا موڈ خراب ہوا

“واپس جاؤ اور فوراً چینج کر کے آؤ”

اس نے دماغ کو ٹھنڈا اور لہجے کو نارمل رکھتے ہوئے رنعم کو مخاطب کیا

“مگر اس کی سلیوز تو۔۔۔۔۔”

کاشان کے آنکھیں دکھانے پر رنعم کے منہ سے نکلنے والا جملہ آدھا منہ میں ہی رہ گیا

“آپ ایسا کریں آپی کوئی لے جائیں اپنے ساتھ”

رنعم نے بنا ڈرے، برا مناتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کل رات میں وہ سیرت سے کیسے ہنس کر بات کر رہا تھا جبکہ اس کو تو صرف وہ آنکھیں دکھاتا رہتا تھا

“کاشان ٹھیک ہے رہا ہے رنعم جاو اور ڈریس چینج کر کے آو”

کچن سے اپنے روم میں جاتی ہوئی یسریٰ نے رنعم کو کہا۔۔۔ وہ کچن میں اس وقت بہروز کے لیے یخنی بنا رہی تھی یقیناً ان دونوں کی گفتگو سن چکی تھی کاشان بھی یسریٰ کے سامنے رنعم کا لحاظ کر گیا تھا ورنہ جیسے رنعم نے کاشان کے آگے جواب دیا تھا اس کی شامت لازمی آنی تھی۔۔۔ رنمم منہ بناتی ہوئی اوپر چلے گئی جبکہ یسریٰ مسکراتی ہوئی کاشان کو دیکھنے لگی

“ایسی ڈریسنگ ویسے مجھے بھی خاص پسند نہیں ہے مگر یہاں ہماری سوسائٹی میں لڑکیاں آج کل ایسی ہی ڈریسنگ میں نظر آتی ہیں”

یسریٰ کی بات پر کاشان کیا کہتا یسریٰ کو اسمائل دے کر خاموش ہوگیا۔۔۔ یسریٰ اب اپنے روم میں جا چکی تھی

تھوڑی دیر بعد رنعم اسے مختلف ڈریس میں نیچے اترتی نظر آئی۔۔۔ لائٹ براون شرٹ پر بلیک ٹائٹ، بلیک ہی کلر کا اسٹول اس نے گلے میں ڈالا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ شرٹ اتنی تنگ اور باریک تھی کہ جسم کے سارے خدوخال دور سے نمایاں ہو کاشان غصہ میں لب بھینچ کر رنعم کی طرف بڑھا۔۔۔ آخر کی دو سیڑھیاں بچی تھی کاشان نے رنعم کا بازو پکڑا واپس اسے بیڈ روم میں لے جانے لگا

“اب کیا مسلہ ہوگیا کاشان”

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے رنعم نے اس سے پوچھا جس کا کاشان نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اسے بیڈ روم میں لا کر ایک جھٹکے سے بیڈ پر گرایا اور اس کا وارڈروب کھول کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ جو اسے مناسب ڈریس لگا ہینگر سے نکال کر رنعم پر اچھالا

“دس منٹ کے اندر چینج کر کے نیچے آؤ”

وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا روم سے نکلنے لگا

“کیا برائی ہے اس ڈریس میں دوسری لڑکیاں بھی تو ایسی ڈریسنگ کرتی ہیں”

رنعم نے اس کے سامنے دوبارہ منہ کھولنے کی ہمت کر لی۔۔۔ کاشان جو روم سے باہر نکل رہا تھا دوبارہ رنعم کے پاس آیا۔۔۔۔ اپنی طرف آتا دیکھ کر رنعم فوراً دو قدم پیچھے ہوئی

“تمہارے اس ڈریس میں کوئی مسئلہ نہیں سوائے اس کے کہ اس کے اندر کی ڈریسنگ کا کلر میں باآسانی دو قدم کے فاصلے سے بھی دیکھ کر بتا سکتا ہوں”

کاشان رنعم کے قریب آتا بولا اس کی بات سن کر رنعم نے نظریں چرا کر اپنی نظروں کا زاویہ دوسری طرف کر لیا مگر کاشان نے اپنے ہاتھ سے اس کا چہرہ کا رخ دوبارہ اپنی طرف کیا

“نظریں کیو پھیر لی تم نے میری بات پر، جواب دو۔۔۔ اس طرح کے کپڑے پہن کر جب تم میرے ساتھ چلو گی اور دوسرے لوگ تمہیں دیکھے گے۔۔۔ تو اس وقت میں اپنی آنکھوں کا زاویہ ِاِدھر اُدھر نہیں کرسکتا اور رہی دوسری لڑکیوں کی بات تو کوئی کچھ بھی پہنے مگر تم یہ بےہودہ قسم کے کپڑے نہیں پہنو گی۔ ۔۔۔ میں ان بےغیرت مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی عزت کو فیشن کے نام پر شو پیس بنا کر اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ تم نے کل بھی ٹاپ پہنا ہوا تھا میں نے کچھ نہیں کہا کیونکہ تم گھر میں موجود تھی،،، میں باہر نکل کر تمہیں برقع یا چادر لینے کا نہیں کہہ رہا مگر تم ایسی ڈریسنگ کرو گی تو مجھے برا بھی لگے گا اور غصہ بھی آئے گا”

وہ رنعم کو گھورتا ہوا بولا اور واپس جانے کے لئے مڑا

“بھّیا نے تو کبھی اعتراض نہیں کیا”

رنعم نے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا مگر اس کی بربراہٹ اتنی واضح تھی کہ کاشان نے آرام سے سن لیا

“کیوکہ تمہارا بھیا الو کا پٹھا ہے اور کچھ”

کاشان نے دوبارہ پلٹ کر اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے غصے میں کہا۔۔۔ رنعم کو اس طرح کاشان کا ثوبان کے بارے میں بات کرنا سخت ناگوار گزرا۔۔۔ اس سے پہلے وہ احتجاجاً کچھ بولتی کاشان نے زور سے اس کا منہ پکڑا

“کچھ زیادہ ہی زبان نہیں چل رہی ہے آج تمہاری۔۔۔ اب اگر آگے سے تم نے ایک لفظ نکلا ناں تو اپنے حشر کی تم خود ذمہ دار ہوگی۔۔۔ دس منٹ کے اندر چینج کرکے باہر آو فوراً”

کاشان نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر پیچھے کیا تو رنعم کو اپنے جبڑے دکھتے ہوئے محسوس ہوئے

“اور جب تم باہر آؤ گی تمہارا منہ بالکل بنا ہوا نہیں دیکھو میں”

کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوکر وہ ایک بار پھر رنعم کو باور کرانا نہیں بھولا

ڈریس چینج کر کے جب رنعم باہر آئی تو سیرت اور کاشان کار کے پاس کھڑے باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔ رنعم پر ایک نظر ڈال کر گلاسز لگاتے ہوئے کاشان ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا

“آگے آپ بیٹھ جائے آپی”

سیرت کار کے پیچھے کا ڈور کھولنے لگی تو رنعم نے مسکرا کر کہا سیرت کاندھے اچکا کر آگے بیٹھ گئی

****

“تم ثوبی کا پیسہ شاپنگ کرکے حلال کرو جب تک میں تمہاری نازک سی بہن کے ساتھ مال کا ایک چکر لگا کر آتا ہوں”

سیرت کاشان اور رنعم تینوں اس وقت شاپنگ مال میں موجود تھے۔۔۔ سیرت اپنے لیے ڈریس دیکھ رہی تھی تبھی کاشان اس کے پاس آ کر بولا۔۔۔ رنعم کا اس وقت منہ تو نہیں بنا ہوا تھا مگر کاشان کو معلوم تھا اس کی ڈول اس سے ناراض ہے

“ہہہمم تو یعنی پٹانے کا کام اب تک جاری رکھا ہوا ہے۔۔۔ کتنے فیصد کامیابی کے چانز ہیں ویسے”

سیرت ایک ڈریس کو دیکھتی ہوئی مصروف انداز میں پوچھنے لگی

“پٹنے پٹانے کے مراحل تو کب طے ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ثوبی تھوڑی ہوں جو بچپن سے ٹرائی کرتے کرتے جوانی میں آکر نکاح کرو۔۔۔ بہت جلد تمہیں اپنی سالی بنانے والا ہو”

کاشان کی بات پر سیرت نے اس کو مسکرا کر دیکھا

“میں سوچ رہی ہوں تم بچپن میں زیادہ خبیث تھے یا اب زیادہ خبیث ہو گئے ہو”

کاشان سیرت کی بات پر ہنسنے لگا

“یہ خبیثوں والی فیلینگ تم سے بات کرتے ہوئے خود آجاتی ہے ویسے تم یقین نہیں کرو گی میں تھوڑا بہت ڈیسنٹ بھی ہو”

کاشان کی بات پر سیرت مسکرا کر نفی میں سر ہلانے لگی

****

“کچھ پسند آیا تمہیں”

رنعم جیولری شاپ پر جیولری کے آئٹمز دیکھ رہی تھی تب کاشان نے اس کی پشت پر کھڑے ہو کر اس سے پوچھا

“اپنے لئے نہیں آپی کے لئے پسند کر رہی ہو آیئررنگ،، انہیں گفٹ کرنے کا سوچ رہی ہوں”

رنعم نے خوبصورت سے آیئر رنگز کو دیکھتے ہوئے کاشان سے بولا۔۔۔ کاشان نے اس کے ہاتھ سے آئیر رنگز واپس رکھے اور اسکا رخ اپنی طرف کیا

“اب تم مجھے خود ہی بتا دو ایسا کیا کرو کہ تمہاری ناراضگی دور ہو جائے”

وہ رنعم کو دیکھتے ہوئے نرم لہجے میں اس سے پوچھنے لگا

“آئندہ آپ بھیا کے لیے ایسے الفاظ استعمال مت کریئے گا کاشان پلیز”

رنعم نے شکوہ کرتے ہوئے کاشان کو بولا

“ارے نہیں بول رہا تمہارے بھیا کو کچھ بھی۔۔۔۔ قسم سے تم سچ میں برگر بچی ہو”

کاشان نے اپنی مسکراہٹ چھپا کر رنعم کی ناک کھینچتے ہوئے کہا

“کیا، وہ کیا ہوتا ہے”

رنعم اپنی ناراضگی بھلائے کاشان سے پوچھنے لگی

“کچھ نہیں ہوتا ہے چھوڑو اسے، یہ دیکھو میں نے یہ اپنی پسند سے خریدی ہے تمہارے لیے اچھی لگے گی تمہاری نوز پر”

کاشان نے اپنی مٹھی کھولی تو اس کی ہتھیلی پر چھوٹی سی نوزپن موجود تھی

“مگر یہ میں نہیں پہن سکتی۔۔۔ اس کے لئے تو ناک چھدانی پڑے گی”

رنعم نے کنفیوز ہو کر اپنی ناک کو چھوتے ہوئے کہا

“تو اس میں پرابلم کیا ہے یہ کام بھی ابھی کروا لیتے ہیں چلو میرے ساتھ”

کاشان جیسے تیار کھڑا تھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگا

“رکیئے کاشان میں ناک نہیں چھدا سکتی”

رنعم نے اس کے ساتھ چلتے چلتے اچانک بولا تو کاشان رکا

“کیوں”

رنعم کو دیکھتا ہوا وہ اس کا ہاتھ پکڑے حیرت سے پوچھنے لگا ہوا

“درد ہوگا کافی”

رنعم نے گھبراتے ہوئے بولا۔۔۔ جس پر کاشان اسے مزید حیرت سے دیکھنے لگا

“مستقبل میں تم کاشان احمد کی بیوی بننے والی ہو۔۔۔ اور اس کے لیے تمہیں اپنے اس ننھے سے دل کو مضبوط کرنا پڑے گا ورنہ میری شدتیں کیسے برداشت کر پاؤ گی”

وہ رنعم کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تو رنعم اپنی نظریں نیچے جھکا گئی۔۔۔

کاشان اس کا ہاتھ پکڑے اسے جیولری شاپ پر لے آیا مگر وہاں ناک چھیدنے والا لڑکا تھا رنعم کرسی پر بیٹھ گئی اس لڑکے نے پین سے اس کی ناک پر گول نشان بنایا کاشان کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ لڑکا اب باریک چاندی کا تار لے کر رنعم کے پاس آیا تو رنعم نے رونے والی شکل بنا کر کاشان کو دیکھا

“ایک منٹ یہ تار مجھے دو”

کاشان نے اس لڑکے سے تار مانگا اور اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا کیونکہ اب آگے کا کام وہ سمجھ گیا تھا

“کاشان آپ کیا کرنے لگے ہیں”

رنعم نے روہانسی انداز میں کاشان سے پوچھا

“خاموش ہوکر بیٹھی رہو”

کاشان نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا

“کاششان”

کاشان نے جب باریک تار رنعم کی ناک کے پار کیا تو وہ کاشان کے دونوں ہاتھ پکڑ کر چیخ اٹھی

“ریلیکس دیکھو، چھید گئی تمہاری ناک”

کاشان اپنے کارنامے پر خوش ہوتا ہوا بولا مگر رنعم کا اچھا خاصا منہ بن چکا تھا بھلا ایسے بھی کوئی کرتا ہے رنعم کاشان کو دیکھ کر سوچ رہی تھی جبکہ وہ اپنی مسکراہٹ چھپائے اس کا ہاتھ پکڑ کر شاپ سے باہر نکل گیا

****

کہاں رہ گئے تھے تم دونوں ثوبان کی کال آرہی ہے میرے پاس”

سیرت نے دور سے آتے کاشان کو دیکھ کر پوچھا

“کہیں نہیں گئے تھے یار، میں نے سوچا مستقبل میں ہونے والی بیوی کے نقیل ابھی سے ڈال دو۔۔۔ تمہارا اور ثوبی کا نکاح ایمرجنسی میں ہوا ورنہ اس کو بھی یہی مشورہ دیتا۔۔ بیوی کو قابو میں رکھنے کا نسخہ نمبر ١٨٦

کاشان کی بات سن کر سیرت ہے اس کے پیچھے آئستہ قدموں سے چل کر آتی رنعم کو آتے دیکھا جس کے ناک میں بالی موجود تھی۔۔۔۔ کاشان نے جتنی سنجیدگی سے بات کی تھی سیرت کے لئے ہنسی چھپانا مشکل ہوگئی

“تم کسی دن بری طرح پٹوگے مجھ سے”

وہ ایک زوردار دھموکڑا کاشان کے کمر پر جڑتی ہوئی بولی

“سوٹ کررہی ہے بالی تم پر بہت”

رنعم قریب آئی تو سیرت نے مسکرا کر رنعم سے کہا رنعم نے ہلکی سی اسمائل دی۔ ۔۔۔

اچانک رنعم کی نظر ایک اسٹال پر پڑی

“ارے آپی وہ دیکھیں شاہنہ پامسٹ یہاں پر موجود ہیں۔۔۔۔ آج کل یہ پاکستان میں موجود ہوتی ہیں ان کا بتایا ہوا %99 سچ ہوتا ہے کل یعشل نے مجھے ان کے بارے میں بتایا تھا چلے ہم لوگ بھی ان کو اپنا ہاتھ دکھا کر فیوچر جانتے ہیں”

رنعم نے ایکسائیٹڈ ہوکر سیرت سے کہا

“دماغ صحیح ہے تمہارا،، گناہ ہوتا ہے یہ اور فضول لوگوں کا کام ہے ہاتھ دیکھنا اور دکھانا” سیرت کے کچھ بولنے سے پہلے کاشان رنعم کو دیکھ کر بولا تو وہ چپ ہوگئی

“ارے کاشی کے بچے تم کیوں اتنا سیریس ہو رہے ہو۔۔۔ ہم نے کونسا یقین کرنا ہے۔۔۔ ہم تو صرف انجوائے منٹ کے لیے ہاتھ دکھا رہے ہیں۔۔۔۔ چلو چلتے ہیں مزا آئے گا”

سیرت نے دوستانہ انداز میں کاشان کو دعوت دی

“شرافت سے گھر چلو،، کارٹونز جیسے شوق ہے تم دونوں بہنوں کے”

کاشان نے سنجیدگی سے ان دونوں کو دیکھ کے جھڑکا

“اوئے یہ ہیرو نا تم اس کے سامنے بنا کرو جو تمہیں ہیرو سمجھتا ہے۔۔۔ چلنا ہے تو شرافت سے چلو نہیں تو یہی ویٹ کرو ہم آرہے ہیں تھوڑی دیر میں”

سیرت نے بولنے کے ساتھ ہی رنعم کا ہاتھ پکڑا اور اسٹال کی طرف بڑھنے لگی

کاشان بھی اب ان دونوں کو اکیلے کیسے جانے دیتا اس لئے ان دونوں کے پیچھے چل پڑا

“آئندہ ثوبی سے کہوں گا اپنے پیس کو اپنے ساتھ شاپنگ پر لے کر آؤ۔۔۔ وہ زیادہ اچھی شاپنگ کرائے گا تمہیں”

رنعم اپنے موبائل پر آنے والی کال پر مصروف تھی تب کاشان نے سیرت سے کہا

“ارے جاو یہاں سے تم اور تمہارا بھائی،، تم دونوں نے سیرت کو ہلکا لیا ہوا ہے”

سیرت نے اکڑتے ہوئے کاشان کو دیکھ کر کہا

“سیرت بی بی تم نے ثوبی کو بہت ہلکا لیا ہوا ہے،، جس دن اس نے اپنا رنگ دکھایا نہ لگ پتہ جائے گا۔۔۔ بھائی ہے وہ میرا اچھی طرح جانتا ہوں میں اسے”

کاشان نے اسے ڈرانے کی کوشش کی جس کا سیرت پر خاص اثر نہیں ہوا

وہ تینوں اسٹال کے اندر داخل ہوئے جہاں پر اس وقت اتنا رش نہیں تھا۔۔۔ وہاں ایک 45 سالہ خاتون بیٹھی ہوئی تھی

“ہم تینوں کو آپ سے اپنا فیچر جاننا ہے”

سیرت نے مسکراتے ہوئے سامنے بیٹھی شاہینہ کو مخاطب کیا۔۔۔۔ کاشان نے سیرت کو گھور کر دیکھا

سیرت نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جسے شاہینہ تھام کر مسکرائی

“دیکھو میں پہلے ہی بتا دیتی ہوں جو میں بتاؤں گی وہ ضروری نہیں کہ پتھر پر لکیر ہو ہاں مگر میرا بتایا ہوا زیادہ تر سچ ہوتا ہے یہ لوگ کہتے ہیں تو کیا بتاؤں میں تمہارے بارے میں۔۔۔ شکل سے تو تم بہت معصوم ہو مگر کارنامے تمہارے۔۔۔۔

شاہینہ نے ابھی اس کا ہاتھ دیکھ کر اتنا ہی بولا ویسے ہی سیرت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا

“شاہینہ جی مجھے اپنا پاسٹ معلوم ہے۔۔ میں فیوچر جاننے میں دلچسپی رکھتی ہوں”

سیرت اس کو دیکھ کر مسکرائی اسے ڈر تھا کہیں وہ رنعم کے سامنے کچھ الٹا سیدھا نہ بول دے اس کی بات سن کر شاہینہ بھی مسکرائی

“چلو پھر بتاؤ کیا جاننا چاہتی ہوں”

شاہینہ نے اس سے پوچھا

“یہی کہ آگے کی لائف کیسی رہے گی”

سیرت نے مسکرا کر پوچھا

“ہہمم پہلے کافی ٹف لائف گزار چکی ہو تم مگر لکیریں دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ آگے کی زندگی تمہارے لیے کافی سہل ہے مگر اس کو سہل بنانے کے لئے تمہیں خود بھی کوشش کرنی پڑے گی ایک چھوٹا سا امتحان بھی آئے گا کسی پیاری سی چیز کو کھونے کا۔۔۔ مگر فکر کرنے کی بات نہیں ہے آگے سب کچھ ہوگا۔۔۔ صرف تمہارے ہی ہاتھ میں ہے اپنی اگے زندگی کو مزید آسان بنانا”

شائینہ کی بات سن کر وہ کندھے اچکا کر رہ گئی

“پلیز مجھے بھی میرے بارے میں بتائے”

رنعم نے اپنا ہاتھ شاہینہ کے آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ شاہینہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے غور سے دیکھنے لگی

“ہاں تو بھئی تم نے کافی لاڈ پیار میں اب تک کی زندگی بسر کی ہے۔۔۔ شادی کے بعد”

شاہینہ نے خاموش ہوکر دوبارہ رنعم کو دیکھا کاشان اور سیرت بھی شاہینہ کو ہی دیکھ رہے تھے

“شادی کے بعد ایک اچھی سی لائف تمہاری منتظر ہے اور یہ شادی تمہاری پسند کی ہوگی مگر خوبصورت لڑکی حالات کو دیکھتے ہوئے تمہیں مضبوط رہ کر ثابت قدم رہنا پڑے گا”

شائینہ نے رنعم کو دیکھ کر کہا مگر اسے لگا جیسے وہ بات بدل کی ہے یا کچھ چھپا گئی ہے

“ہو گیا تم دونوں کا اب چلو گھر”

کاشان جو کافی دیر سے چہرے پر بیزاری لائے شائینہ کی گفتگو سن رہا تھا سیرت اور رنعم کو دیکھ کر بولا

“میں تمہارا ہاتھ پڑھنے میں دلچسپی رکھتی ہوں”

شاہینہ نے کاشان کو دیکھ کر بولا

“مگر مجھے اپنا ہاتھ پڑوانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں”

کاشان نے شائینہ کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا

“میں فیس ریڈنگ بھی جانتی ہوں کاشی۔۔۔ کیا تم ایک کہانی سننا پسند کروگے”

شاہینہ اس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی

“ایک ریاست کا مغرور شہزادہ جوکہ اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اپنے غصے کی وجہ سے بھی کافی مشہور تھا۔۔۔ اس کی پیدائش پر اس کے ماں باپ بہت خوش تھے مگر ایک جوشتی نے اس شہزادے کے بارے میں اس کے والدین کو بچپن میں ہی بتایا کہ ان کے بیٹے کے ہاتھوں کی لکیروں میں ایک قتل لکھا ہے”

شاہینہ کے بولنے پر کاشان ہنسا

“آج سے چودہ سال پہلے میں اپنے باپ کا قتل کر چکا ہوں”

کاشان کی بات پر شاہینہ کے چہرے پر پر اسرار مسکراہٹ آئی ساتھ ہی وہ کاشان کے پاس آکر کاشان کا ہاتھ دیکھنے لگی

“تم سمجھے نہیں کاشی میری بات کو۔۔ اس شہزادے کے ہاتھ میں ایک قتل لکھا تھا مگر جہاں تک میں دیکھ رہی ہوں تمہارے ہاتھوں کی لکیروں میں دو قتل لکھے ہیں”

شاہینہ نے کاشان کو دیکھتے ہوئے بولا اس کی بات سن کر کاشان کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے وہی سیرت کے چہرے پر پریشانی کے جبکہ رنعم کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں ہوئے

کاشان نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑایا

“چلو تم دونوں”

وہ شائینہ کو گھورتا ہوا سیرت اور رنعم سے مخاطب ہوا