504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 6)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کون ہے یہ بچہ بہروز”

یسریٰ جو ہر شام کی طرح بہروز کا چائے پر ویٹ کر رہی تھی بہروز کے ساتھ ایک لڑکے کو آتا دیکھ کر پوچھ بیٹھی

“یسریٰ یہ ثوبان ہے اور ثوبان یہ میری وائف ہے”

تعارف کروانے پر ثوبان نے یسریٰ کو دیکھ کر سلام کیا تو اس نے سر ہلا کر اس کا جواب دیا

“غلام بخش گیسٹ روم میں ثوبان کا سامان رکھ دو۔۔۔ آج سے یہ وہی رہے گا،، جاو ثوبان اپنا روم دیکھ لو پھر رات میں کھانے پر ملتے ہیں”

غلام بخش کو کہہ کر بہروز نے ثوبان کو مخاطب کیا۔۔۔ ثوبان اثبات میں سر ہلا کر غلام بخش کے ساتھ چلا گیا

“آپ بتا کیوں نہیں رہے بہروز کون ہے یہ لڑکا”

یسریٰ کو تجسس میں دیکھ کر بہروز نے ثوبان کی پوری داستان اسے سنائی جسے سن کر یسریٰ کو بھی دلی طور پر دکھ ہوا

“بیچارہ کتنا کچھ فیس کیا ہوگا اس نے اور اس کے بھائی نے”

یسریٰ کو بھی بہروز کی زبانی اس کی کہانی سن کر ثوبان اور کاشان پر ترس آیا

“ہاں دنیا میں پتہ نہیں ایسے کتنے اور مجبور لوگ ہیں جن کی زندگیاں، تلخیوں سے بھری پڑی ہے۔۔۔ مگر معلوم نہیں کیوں اس بچے کی آنکھوں میں مجھے سچائی لگی بہت معصوم اور شریف ہے یہ بچہ دل نہیں چاہا اس کی حقیقت جاننے کے بعد اسے چھوڑ کر آجاؤ،،، اس لیے اپنے ساتھ لے آیا تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں میرے فیصلے سے”

بہروز نے یسریٰ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“آپ کے کسی فیصلے سے پر مجھے کبھی اعتراض ہوا ہے بھلا۔۔۔ بہت اچھا کیا آپ نے جو ثوبان کو یہاں لے آئے”

یسریٰ نے مسکرا کر بہروز سے کہا پھر اس کے لئے چائے بنانے لگی

****

“بابا آج ریان کی پارٹی میں میجک شو والے انکل بھی آئے تھے جو اپنی آستین سے پیجن نکال رہے تھے”

رنعم تھوڑی دیر پہلے ہی اپنے کلاس فیلو کے گھر سے آئی تھی اور کھانے کی میز پر پوری رواداد بہروز کو سنا رہی تھی جو کہ بہروز بڑی دل جمی سے سن رہا تھا اس نے ثوبان کو روم سے آتا دیکھا

“آجاو ثوبان کھانا لگنے والا ہے”

بہروز نے اسے کھانے کی ٹیبل پر بلایا تو رنعم کا نان اسٹاپ چلتا ہوا منہ ایک دم بند ہوگیا

“آو ثوبان یہاں بیٹھو کیا پسند ہے تمہیں کھانے میں

یسریٰ نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنائیت سے کہا

“میں آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کیسے کھا سکتا ہوں میں یہاں بیٹھ جاتا ہوں” ثوبان نے فرش کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔ کیوکہ ثوبان کو اپنی حیثیت کا اندازہ تھا جو اسے اس گھر میں رہتے ہوئے ساری عمر یاد رکھنی تھی

“نیچے فرش پر کیوں بیٹھو گے تم، گھر کے فرد ہو یہاں ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ”

بہروز نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا تو ثوبان چپ کر کے کرسی پر بیٹھ گیا ایک نظر اپنے سامنے بیٹھی چھوٹی سی بچی کو دیکھا جو اسے سبز آنکھوں والی کوئی گڑیا لگی،،، وہ بھی ثوبان کو دیکھے جا رہی تھی ثوبان نے فوراً آنکھیں جھکالی

“بابا یہ کون ہے”

رنعم جو کہ بڑے غور سے ثوبان کو دیکھ رہی تھی بہروز کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“بیٹا یہ آپ کا بھائی ہے آج سے ہمارے ساتھ رہے گا” بہروز پیار سے رنعم کو سمجھانے لگا

“نہیں آنٹی بس،، میں بعد میں اور لے لوں گا۔۔۔ رزق ہے ضائع ہوگا”

یسریٰ ثوبان کی پلیٹ میں چاول نکال رہی تھی ثوبان کی بات پر بے ساختہ مسکرا دی

“چلو ٹھیک ہے آج سے یہیں رہنا ہے تو شرمانے کی ضرورت نہیں ہے خود سے لے لینا جو بھی کھانا ہو”

یسریٰ کے کہنے پر وہ ہلکا سا مسکرایا

“یہ آنٹی نہیں مما ہیں، جب تم میرے بھائی ہو اور اس گھر میں رہو گے تو یہ آنٹی کیسے ہوگئی۔۔۔ یہ مما ہیں اور یہ بابا”

رنعم نے اپنی عقل کے مطابق ثوبان کو سمجھانا چاہتا جس پر وہ بہروز اور یسریٰ کو دیکھنے لگا کہیں انہیں برا ہی نہ لگ جائے مگر وہ دونوں رنعم کی بات پر مسکرا رہے تھے تو اسے حیرت ہوئی

“ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے ثوبان تم مجھے اور یوسریٰ کو بابا مما کہو گے تو ہمیں اچھا لگے گا کیوں یسریٰ”

بہروز نے مسکرا کر ثوبان سے کہہ کر بیوی سے رائے لینی چاہیے جس پر یسریٰ نے مسکرا کر پاس بیٹھے ثوبان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تو ثوبان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

“میری اتنی حیثیت نہیں ہے آپ دونوں کو مما بابا کہو، میں اس گھر میں جو بھی کام ہوگا کر لیا کروں گا بس میں اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتا ہو تاکہ اپنے بھائی کے لیے کچھ کر سکو”

ثوبان نے آنکھوں میں نمی کو صاف کر کے کہا تو یسریٰ بھی افسردہ ہوگئی

“ثوبان آئندہ کبھی اپنی حیثیت کے بارے میں بات مت کرنا تم اپنی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہو ہم دونوں تمہیں بیٹے کی جگہ دے رہے ہیں”

بہروز نے سنجیدگی سے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا

“آپ تو بہت اچھے ہیں میرے ابو سے تو لاکھ درجے اچھے”

ثوبان کو مزید رونا آنے لگا تو بہروز چپ ہوگیا

“ماں تو ماں ہوتی ہے ثوبان، اس کا نعم البدل کوئی نہیں ہوتا مگر میں کوشش کروں گی تمہیں ماں کی کمی کبھی محسوس نہ ہو”

یسریٰ نے پانی کا گلاس ثوبان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جسے تشکر بھری نظروں کے ساتھ ثوبان نے تھام لیا

“میری سمجھ میں نہیں آرہا ہم سب لوگ کھانا کیوں نہیں کھا رہے ہیں” رنعم نے سبز آنکھوں میں حیرت سمائے معصومیت سے پوچھا تو بہروز اور یسریٰ ہنس دیے وہی ثوبان نے مسکرا کر رنعم کو دیکھا اسے دیکھ کر ثوبان کو سیرت یاد آنے لگی

****

“تم دوبارہ اتنی جلدی کیسے آ گئے ثوبی”

کاشان نے ثوبان کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا کیوکہ کل ہی تو وہ اس سے مل کر گیا تھا اب تو ایک ماہ بعد ان دونوں کو ملنا نصیب ہونا تھا

“اچھا وقت آتے معلوم نہیں ہوتا کل میرے ساتھ بھی ایسا ہوا کاشی، وہ جو میں نے تمہیں بہروز صاحب کا بتایا تھا نہ، جن کی وجہ سے ہم دونوں کی ملاقات ہوئی وہ کل مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے تھے۔۔۔ تمہیں معلوم ہے انہوں نے مجھے اپنا بیٹا بنا کر گھر میں رکھا ہے۔۔۔ بہت اچھا برتاؤ کیا ہے انہوں نے اور ان کی بیوی نے،،، بہت اچھی طبیعت کے مالک ہیں دونوں اور رنعم بھی بہت اچھی ہے معصوم سی”

ثوبان خوشی خوشی کاشان کو سب بتانے لگا

“اتنی نوازشوں کے پیچھے کہیں کوئی وجہ تو نہیں اور اب سیرت کا کیا ہوگا” کاشان نے اس کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

“کاشی کسی کی خلوص اور نیت پر ایسے شک نہیں کرتے وہ دونوں میاں بیوی واقعی بہت اچھے ہیں اور سیرت کہاں سے بیچ میں آگئی”

ثوبان حیرت سے اس سے پوچھا

“نہیں وہ تم کہہ رہے تھے رنعم اچھی ہے تبھی میں نے کہا”

کاشی کی نظروں سے بھلا اپنے بھائی کی پسندیدگی کیسے چھپ سکتی تھی اس لیے بولا

“دماغ خراب تو نہیں ہوگیا تمہارا،، رنعم تو بالکل بہنوں کی طرح لگی مجھے اور سیرت میری بہت اچھی دوست ہے”

ثوبان سٹپٹاتا ہوا اپنی صفائی دینے لگا اسے معلوم تھا کاشی چار آنکھیں رکھتا ہے

“چلو میں مان لیتا ہوں تمہاری بات، شکر ہے تم نے صرف رنعم کو ہی بہن بولا۔۔۔ یہ بتاؤ کھانے میں کیا لائے ہو”

کاشان نے اس کے ہاتھ میں ٹفن دیکھتے ہوئے پوچھا

“ہاں یسریٰ آنٹی میرا مطلب ہے مما نے تمہارے لیے کھانا بھیجا ہے گھر کب بنا ہوا، اب روز تمہیں ڈرائیور کھانا دے جائے گا میں تم سے ہر ہفتے ملنے آؤں گا مگر ابھی مجھے جلدی جانا ہے اپنے اور تمہارے لئے کتابیں خریدنی ہیں۔۔۔۔ کاشی میں نے بابا سے بات کی ہے تم یہاں رہ کر بھی اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتے ہو اور ایکزامز بھی دے سکتے ہو بس اسے میری خواہش سمجھو انکار مت کرنا،،، یہاں رہ کر تم پڑھو۔ ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ جب تم اس چار دیواری سے باہر نکلوں تو ایک اچھے شہری کی طرح زندگی گزارو”

ثوبان کاشان کو بہت پیار سے سمجھا رہا تھا

“اگر تمہاری خواہش ہے تو میں پڑھ لوں گا یہاں رہ کر اور کرو گا بھی کیا،، تمہیں نئے ماں باپ مبارک ہو،،،بس تم ہر ہفتے مجھ سے ملنے آ جایا کرو میرے لیے اس دنیا میں یہی واحد رشتہ بچا ہے اور اپنی مما کو میری طرف سے شکریہ ادا کرنا” کاشان نے ٹفن لیتے ہوئے کہا

****

“خالہ ثوبی دوبارہ آیا، کچھ معلوم ہوا اس کے بارے میں” سیرت نے ثوبان کے گھر کے برابر والے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر بڑی امید سے پوچھا

“اری باولی ہوئی ہے جو روزانہ پوچھنے آ جاتی ہے بتایا تو تھا بڑی سی کار میں بیٹھ کر آیا تھا، گھر پر تالا لگا کر چلا گیا جو بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر جاتے ہیں وہ بھلا واپس آئیں گے اس گندے محلے میں”

خالہ نے بیزاری سے کہتے ہوئے دروازہ بند کر دیا سیرت اپنا سا منہ لے کر جانے لگی۔۔۔ ہفتہ بھر ہو گیا تھا اسی ثوبان کا معلوم کرتے ہوئے مگر بس اسے یہی معلوم ہوا تھا کہ وہ کسی کے ساتھ بڑی سی کار میں بیٹھ کر چلا گیا ہے مگر وہ کہاں گیا ہے اس سے سب ہی لاعلم تھے

“تم بڑی سی کار میں بیٹھ کر گئے ہوں تو اس سیرت کو بھول گئے ہو نا،،، اب کبھی زندگی میں دوبارہ ملو گے تو سیرت تمہاری صورت پہچاننے سے انکار کر دے گی تم دیکھنا”

سیرت ثوبان کے گھر کا بند دروازہ دیکھ کر دل میں ثوبان سے مخاطب ہو کر کہنے لگی۔۔۔۔

آج ہی اسے اور ناصر کو یہ گھر چھوڑ کر جانا تھا کرایہ دار کو چار ماہ سے ناصر کرایہ نہیں دے پا رہا تھا اس وجہ سے اس نے انہیں گھر سے نکال دیا سیرت افسردگی کے ساتھ اپنے گھر کی طرف چل دی تاکہ ناصر کے ساتھ نئی منزل پر روانہ ہو سکے

****

“بھیا آپ بزی تو نہیں ہیں”

ثوبان یونیورسٹی کے اینٹری ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا تب رنعم نے اس کے روم میں آکر پوچھا

“تھوڑا بزی تو ہوں، مگر اپنی پیاری سی بہن کے لیے وقت نکال سکتا ہوں بتاؤ کیا بات ہے”

ثوبان نے بک بند کرتے ہوئے کہا ان پانچ سالوں میں ثوبان کی شخصیت کافی نکھار آگیا تھا

“یہ پرابلم سولو نہیں ہو رہی تھی مگر یاد آیا کل تو آپ کا ٹیسٹ ہے نہ آپ پڑھیں میں فرینڈ سے ہیلپ لے لوں گی اسکول میں”

رنعم نے مسکراتے ہوئے کہا

“کیوں لے لوں گی اپنی فرینڈ سے ہیلپ، بھائی کے ہوتے ہوئے دکھاؤ کونسی پرابلم ہے جو سولو نہیں ہورہی”

ثوبان کے کہنے پر رنعم نے اس کی طرف بک بڑھائی اور ثوبان کے پاس ہی بیٹھ گئی

“اس پروبلم میں کیا پروبلم ہے یار،، یہ دیکھو ہوگئی سولو اب اس کو سمجھو”

ثوبان نے ناصرف پانچ منٹ میں مسلئہ حل کردیا بلکہ رنعم کو سمجھا بھی دیا

“اف ایک گھنٹے سے بلاوجہ خوار ہو رہی تھی پہلے ہی آپ کے پاس آ جاتی باقی کے پرابلمس میں خود آسانی سے سولو کرلو گی”

رنعم خوش ہوتے ہوئے کتاب اٹھانے لگی تو ثوبان نے اس کی کتاب پر ہاتھ رکھ دیا

“اللہ نہ کرے میری بہن کی زندگی میں کبھی کوئی پروبلم آئے لیکن اگر خدانہخواستہ کبھی کوئی مسئلہ ہوا تو وعدہ کرو سب سے پہلے اپنے بھائی کو بتاؤں گی”

ثوبان نے رنعم کو دیکھتے ہوئے کہا تو رنعم ہنس دی

“جس کا آپ جیسا کیئرنگ بھائی ہو،، اس کی لائف میں بھلا کیا پروبلم آ سکتی ہے۔۔۔ بنا ٹینشن کے اپنے ٹیسٹ کی تیاری کریں شاہدہ سے کہہ کر ابھی کافی بھیجواتی ہوں آپ کے لیے”

رنعم کو ثوبان سے بہت محبت تھی کیوکہ وہ اس کے ہر مسئلے کا حل چٹکیوں میں نکال دیتا تھا

“خوش رہو”

ثوبان کے کہنے پر رنعم بکس اٹھاتی ہوئی باہر نکل گئی

ان پانچ سالوں میں وہ اسے کاشی کی طرح عزیز ہوگئی تھی۔۔۔ رنعم نے ثوبان کو بھائی بولا ہی نہیں بلکہ دل سے مانا بھی تھا اپنی ہر چھوٹی بڑی بات خوشی یا پروبلم وہ سب ثوبان سے شیئر کرتی اس کا خیال رکھتی

ان پانچ سالوں میں ثوبان کی حیثیت گھر کے ایک فرد کی بجائے،، گھر کے ایک اہم فرد کی سی ہو گئی تھی۔۔۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات ہو یا بڑے سے بڑا فیصلہ یا کوئی بھی مشورہ کرنا ہو اس میں ثوبان کی رائے کو بھی اہمیت دی جاتی بہروز اور یسریٰ نے حقیقتاً ثوبان کو اپنا بیٹا مانا تھا ثوبان کو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شروع سے ہی اس فیملی کا حصہ ہو۔ ۔۔۔ ثوبان نے بھی ان تینوں کی محبتوں کا حق بہروز اور یسریٰ کا بیٹا بن کر جبکہ رنعم کا بھائی بن کر ادا کیا تھا۔۔۔ بہروز اپنے بڑھتے ہوئے عہدے کے باعث اب پہلے سے زیادہ مصروف ہوگیا تھا اس وجہ سے آئستہ آئستہ ثوبان نے بہروز کی ساری ذمہ داری خود ہی سنبھال لی تھی۔۔۔۔

اب کبھی ڈیڑھ دو سال بعد جب کبھی یسریٰ کو ڈپریشن ہوتا تو بہروز کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ یسریٰ کو باتوں سے بہلاتا اسکی کیئر کرتا۔۔۔ ثوبان یسریٰ کا ماں کی طرح خیال رکھتا سارا دن اس کے پاس رہتا گھر کے پاس بنے پارک میں اسے لے جاتا۔۔۔۔ کبھی ڈاکٹر کے پاس جانا ہو یا رنعم کے ایڈمیشن کا مسئلہ ہو یا اسے کسی دوست کے جانا ہو گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے کام وہ بناء کسی کے کہیںے خود ہی خوش اسلوبی سے انجام دیتا۔۔۔ وہ بہروز اور یسریٰ کے جاننے والوں اور دوستوں میں ان کے بیٹے کی حیثیت سے جانا جاتا

ان پانچ سالوں میں کوئی بھی ایسا ہفتہ نہیں آیا جب وہ کاشی سے ملنے نہیں گیا ہوں۔۔۔ اس کی بکس کپڑوں کا خیال ہتہ کہ روز کھانے کا خیال رکھتا۔۔۔۔ ثوبان بہروز کو اپنا آئیڈیل مانتا تھا اس لیے وہ آگے زندگی میں بہروز کی طرح ایک ایماندار پولیس افسر بننا چاہتا تھا۔۔۔ بہروز کی وجہ سے نہ صرف اس کی زندگی سنوری تھی بلکہ کاشان کو بھی جیل میں رہتے ہوئے کافی چیزوں کی سہولت تھی وہ بہروز کی کوششوں سے ہی وہی جیل میں پڑھ رہا تھا

****

“کاشی چھوڑ اسے مر جائے گا وہ۔۔۔ جلدی کوئی پولیس کو بلاؤ کاشی اور بختاور میں ہاتھا پائی ہوگئی ہے”