504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 26)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“میں امید کروں گا کہ اب کی بار تمہارے الفاظ مما بابا یا رنعم کے لیے دکھ یا دل آزاری کا سبب نہیں بنے۔۔۔۔ ٹھیک ہے تم انہیں اپنے ماں باپ کے طور پر قبول نہیں کر سکتی مگر تمہیں ان سب کو میری فیملی کے طور پر ایکسیپٹ کرنا ہوگا اور مجھے امید ہے تم مجھے مایوس ہرگز نہیں کروں گی”

ثوبان نے کار پارک کرتے ہوئے سیرت کو دیکھ کر کہا

آج اس نے اپنی طبیعت کے برخلاف جاکر سیرت کو غصے میں زبردستی اپنے ساتھ گھر لے کر آیا تھا،،، اگر وہ آج ایسا نہیں کرتا تو پھر سیرت اس کے ساتھ کبھی بھی چلنے کو تیار نہیں ہوتی اور ڈرائیونگ کے دوران ہی اس نے سیرت کو یہ ساری حقیقت بتادی کہ وہ کس طرح بہروز اور یسریٰ سے جدا ہوئی مگر سیرت کی خاموشی سے وہ یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ وہ اس بات کو کس حد تک سمجھ پائی ہے کہ اس سارے واقعے میں یسریٰ اور بہروز کی کہیں کوئی غلطی نہیں

ثوبان نے اپنی بات مکمل کر کے گاڑی سے باہر نکل کر سیرت کی طرف کا دروازہ کھولا تو سیرت ثوبان کو دیکھنے لگی۔۔۔ ثوبان نے آگے بڑھ کر سیرت کا ہاتھ پکڑ کر اسے کار سے باہر نکالا تو وہ ثوبان کا ہاتھ جھٹک کر خود گھر کے اندر جانے لگی،، ثوبان اسے کچھ کہے بغیر اپنا سر نفی میں ہلا کر اس کے پیچھے گھر کے اندر چلا گیا۔۔۔۔۔

اپنے روم کی کھڑکی سے سگریٹ پیتے ہوئے کاشان نے یہ منظر دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی

“واہ کیا بات ہے۔۔۔۔ سیرت بی بی کے کارنامے دیکھو اور انکی آکڑ دیکھو۔۔۔۔ اور ایک ہمارے بھائی صاحب ہیں ان کا عہدہ دیکھو اور ان کی حالت دیکھو۔۔۔۔ کچھ نہیں بن سکتا ثوبی تمہارا”

کاشان نے خود سے باتیں کرتے ہوئے سگریٹ کا ٹکڑا کھڑکی سے باہر پھینکا کھڑکی کے پردے برابر کرتا ہوا اپنے روم سے نکل کر ثوبان کے پاس چلا گیا

****

“تم آگئی واپس میری جان،،، اب کہیں نہیں جانا دیکھو تمہارے بابا، تمھارا دوبارہ جانا برداشت نہیں کر سکے اور کیا حالت ہوگئی ان کی۔۔۔ اگر اب کی بار تم ہمہیں چھوڑ کر گئی تو میرا دل بند ہو جائے گا”

یسریٰ سیرت کو گلے سے لگا کر روتے ہوئے اسے کہنے لگی سیرت چپ کر کے کھڑی رہی اس نے آگے سے کوئی جواب نہیں دیا تو ثوبان نے یسریٰ کو شانوں سے تھام کر سیرت سے الگ کیا

“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ مما، میرا اور رنعم کا بھی کچھ خیال کریں،،، رہی آپ کی ان صاحبزادی کی بات تو اب یہ ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی اس کی آپ فکر نہیں کریں”

یسریٰ کو بہلاتے ہوئے اس نے سیرت کو دیکھ کر کہا ثوبان کی بات پر سیرت بھی اسے دیکھنے لگی

“آپی”

رنعم اپنے روم سے نکل کر ہال میں آئی وہاں سیرت کو دیکھ کر اس کے پاس جا کر رکی۔۔۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی،،، جب وہ دونوں ایک دوسرے سے پہلی دفعہ ہائی وے پر ملی تھیں تب ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی خبر نہیں تھی کہ ان دونوں کا آپس میں کتنا گہرا رشتہ ہے۔۔۔ سیرت رنعم کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔۔۔

یقیناً پچھلی بار کا رویہ تھا،، جو رنعم کو اس کے قریب آنے سے روک رہا تھا مگر سیرت کے اسمائل دینے پر رنعم آگے بڑھ کر اس کے گلے لگ گئی یسریٰ کے مقابلے میں سیرت رنعم سے خوش ہو کر ملی۔،۔۔ اس کو نہیں معلوم تھا یہ خوبصورت سی لڑکی اس کی سگی بہن ہے

“آو سیرت بابا اپنے روم میں تمہارا ویٹ کر رہے ہوں گے ان سے مل لو”

ثوبان نے سیرت کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر ثوبان کے پیچھے چلی گئی ہے یسریٰ اور رنعم بھی اسکے ساتھ ہی روم میں پہنچی

سیرت بہروز کے پاس بیٹھی ہوئی تھی بہروز اسے دیکھ کر مسلسل روئے جا رہا تھا اپنی بیماری کے باعث وہ کافی حساس ہو گیا تھا

“بابا آپ نے پرومس کیا تھا انعم کے آنے کے بعد آپ بالکل نہیں روئیں گے”

ثوبان نے بہروز کو دیکھ کر اس کا پرومس یاد دلایا

“می۔۔ خو۔۔۔ش ہو می۔۔۔۔ری بیٹی وا۔ ۔۔پس آگئی ہے”

بہروز اٹک اٹک کر بولنے لگا

“مما آنی نظر نہیں آرہی ہیں”

ثوبان بیڈ پر ریلیکس انداز میں بیٹھتے ہوئے یسریٰ سے پوچھنے لگا

“آدھے گھنٹے پہلے عاشر اور باجی نکلے ہیں واپس اپنے گھر کے لئے”

یسری نے صوفے پر بیٹھے ہوئے ثوبان کو جواب دیا

“بھیا چائے لیکر آؤ آپ کے لئے یا کھانے کے بعد ہی پیئے گے” بہروز ثوبان اور کاشان تینوں کو کھانے کے بعد چائے پینے کی عادت تھی۔۔۔ کبھی کبھار آفس سے آنے کے بعد بھی ثوبان چائے پی لیتا تھا اس لئے رنعم ثوبان سے پوچھنے لگی

“نہیں یار ابھی موڈ نہیں ہے کاشی آفس سے آگیا”

ثوبان رنعم کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“جی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آئے ہیں اپنے روم میں ہوگیں شاید”

رنعم نے ثوبان کو کاشان کے بارے میں بتایا

سیرت بہروز کے پاس بیٹھی ہوئی ان سب کی گفتگو سن رہی تھی۔۔۔ ثوبان اسے اس گھر میں اس فیملی کا ہی حصہ لگا۔۔۔ معلوم نہیں اب وہ ان سب میں ایڈجیسٹ ہو پائے گی کہ نہیں

سیرت ان لوگوں کو دیکھ کر سوچنے لگی

“رنعم ایسا کرو سیرت کو اس کا روم دکھادو۔۔۔ تھوڑی دیر بعد میں فریش ہو کر آتا ہوں جب تک فیزیوتھراپسٹ بھی آ جائے گا”

ثوبان نے سیرت کو چپ چاپ بیٹھا ہوا دیکھ کر رنعم کو بولا اور خود بھی اپنے روم میں چلا گیا

“آئیے آپی آپ کو آپ کا روم دکھادو”

رنعم بولتی ہوئی اسے اپنے ساتھ لے گئی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنے برابر والے بیڈروم میں لے آئی

سیرت نے ایک نظر بیڈروم کا جائزہ لیا جو کافی اچھا ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔۔۔۔ اتنے بڑے گھر میں پیدا ہونے کے باوجود وہ بچپن سے کتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ترستی رہی تھی اور کتنی چیزوں سے محروم رہی تھی سیرت نے تلخی سے سوچتے ہوئے اپنا سر جھٹکا

“برابر والا بیڈ روم میرا ہے آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو آپ بلا جھجک مجھ سے کہہ سکتی ہیں” رنعم نے مسکرا کر کہا تو سیرت نے اثبات میں سر ہلایا رنعم اس کے بیڈروم سے چلی گئی

****

“زہے نصیب سیرت بی بی آج اپنے گھر آ ہی گئی”

ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی دروازہ دوبارہ ناک ہوا سیرت نے دروازہ کھولا تو سامنے کاشان کھڑا مسکراتا ہوا اسے دیکھ کر بولا

اسے دیکھ کر سیرت کا منہ حلق تک کڑوا ہوگیا وہ اس کی بات کا بغیر جواب دیے اپنے روم میں آکر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ کاشان چلتا ہوا آیا اور صوفے پر اس کے سامنے بیٹھا

“ناصر کا، آئی مین تمہارے والد محترم کا معلوم ہوا بہت افسوس ہوا سن کر” کاشان بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے تعزیت کرنے لگا مگر اس نے کبھی اتنی سنجیدگی سے سیرت سے بات نہیں کی تھی اس لئے سیرت کو اس کا یہ اندازہ ہضم نہیں ہوا سیرت نے اس کو گھور کر دیکھا

“ایسے کیوں گھور رہی ہوں واقعی افسوس کرنے آیا ہوں تمہارے ابا کا” اس کو گھورتے دیکھ کر کاشان نے سنجیدگی سے کہا

“تمہیں دیکھ کر تو میں خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے ثوبان کو میرے نصیب میں لکھا ہے اور وہ تم جیسا ہرگز نہیں ہے”

سیرت نے خار کھانے والی نظروں سے دیکھ کر اس سے کہا اسے لگا کہ وہ اس کے ابا کی تعزیت کرنے کے بجائے اسے تپانے آیا ہے

“قسم سے یار ہم دونوں کی مزاج ایک جیسے نہیں ہیں مگر سوچ بالکل ایک جیسی ہے تمہیں دیکھ کر میں بھی خدا کا لاگھ لاکھ دفعہ شکر ادا کرتا ہوں کہ رنعم تم جیسی ہرگز نہیں ہے”

کاشان نے مسکراتے ہوئے سیرت سے کہا مگر وہ الگ بات تھی یہ مسکراہٹ دل جلانے والی تھی

“بتایا تھا مجھے ثوبی نے تمہاری پسند کے بارے میں۔۔۔ کہاں رنعم اتنی نازک سی، معصوم سی اور کہا تم۔۔۔ پورے کے پورے لفنگے،،، پیر دھو دھو کے پینے چاہیے تمہیں تو اس کے، اگر وہ تم سے شادی کے لیے راضی ہوگئی تو”

سیرت نے بھی اس کو تپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر وہ بڑا ہی ڈھیٹ ثابت ہورہا تھا اس کی بات سن کر تپنے کی بجائے مسلسل ڈھیٹوں کی طرح مسکرائے جارہا تھا

“سیرت بی بی تمہاری معصوم سی نازک سی بہن،، تمہارے اس لفنگے دیور کے قبضے میں سمجھو۔۔۔۔ شادی کے لئے تو اس کے اچھے بھی راضی ہوں گے اور رہی بات پیر دھو دھو کے پینے کی۔۔۔ جس دن تم نے ثوبی کے پیر دھو کے پی لیے اس دن یہ کوشش میں بھی کر کے دیکھ لوں گا چلو پھر ڈنر پر ملاقات ہوتی ہے” کاشان بولتا ہوا سیرت کے روم سے جانے لگا سیرت اس کو دیکھ کر دانت پیس کر رہ گئی

“اور ہاں بری عادتیں ہے ذرا دیر سے ہی جاتی ہیں،، یہاں زرا اپنے اوپر کنٹرول رکھنا کوئی چیز ادھر سے ادھر ہوئی تو تم ہی نظروں میں آؤں گی کیونکہ گھر کی نئی فرد تم ہی ہو”

کاشان جاتے جاتے اسے سلگانا نہیں بھولا سیرت نے اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر بیڈ سے تکیہ اٹھا کر کھینچ کر اسے مارا مگر تب تک وہ روم سے جا چکا تھا

“خبیث کہیں کا۔۔۔ اسے بھی جھیلنا پڑے گا اب”

سیرت میں تپتے ہوئے سوچا

****

کھانے کی میز پر سب ہی موجود تھے سوائے ثوبان کے سیرت باری باری سب کا جائزہ لینے لگی مگر سمجھ نہیں آیا کس سے پوچھے

“وہ 5 منٹ بعد آئے گا انکل کو کھانا کھلا رہا ہے تم اسٹارٹ کرو”

کاشان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے بولا جس پر سیرت بلاوجہ شرمندہ ہونے لگی

“دوپہر کو تمہارے بابا کو میں کھانا کھلا دیتی ہوں مگر ثوبان اگر گھر جلدی آجائے تو بہروز اس کے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہیں”

یسریٰ سیرت کو بتانے لگی جس پر اس نے سر ہلایا

“آپ کی بھیا سے کافی اچھی فرینڈشپ لگتی ہے” رنعم نے اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے ہوئے سیرت سے پوچھا مگر اس کے کچھ بولنے سے پہلے کاشان بول پڑا

“ایسی ویسی دونوں ہی میں بچپن سے کافی انڈر اسٹنڈنگ ہے”

کاشان کے بولنے پر سیرت نے اس کو گھور کر دیکھا یسریٰ بھی کاشان کی بات پر سر اٹھائے اسے دیکھنے لگی

“میرا مطلب ہے کہ ہم تینوں میں ہی کافی اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے بچپن سے، ایک ہی اسکول میں پڑھے ہیں ایک ہی محلے میں رہے ہیں اس وجہ سے”

اب کے کاشان یسریٰ کو دیکھتے ہوئے تھوڑا سنبھل کر بولا معلوم نہیں اب ثوبی کب اپنے اور سیرت کے رشتے کی حقیقت سے سب کو آگاہ کرتا ہے کاشان نے سوچا

“رنعم کھانا کھاتے ہوئے ثوبان اور سیرت کے بارے میں سوچنے لگی ہائی وے پر لفٹ دیتے ہوئے ثوبان کا انداز اور سیرت کا گریز پھر ثوبان کا سیرت کو گھر لانا یہ سب کچھ اسے فرینڈشپ سے زیادہ لگا

“بھیا اور آپی۔۔۔ اگر ایسا ہو جائے تو کچھ برا بھی نہیں۔۔۔ آف کیا سوچنے لگی میں شاید ایسا کچھ ہوہی نہیں رنعم نے اپنی بات کی خود ہی نفی کی اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئی

“آپ نے کھانا شروع نہیں کیا”

ثوبان نے کرسی پر بیٹھے ہوئے یسریٰ سے کہا جب کہ سب کھانا شروع کر چکے تھے

“تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی آجاو شاباش”

یسریٰ نے کھانے کی ڈش اس کی طرف بڑھائی تو ثوبان اپنی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگا

سیرت کن انکھیوں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی

“تمہارے لیے اچھی بیٹی بننے سے زیادہ ضروری ہے اچھی بہو بننا”

اپنے برابر میں بیٹھے ہوئے اسے کاشان کی ہلکی سی سرگوشی سنائی دی سیرت نے سر اٹھا کر کاشان کو دیکھا تو وہ اسے کھانے سے انصاف کرتا ہوا نظر آیا

“ثوبان اگر کل تم فری ہو بیٹا تو سیرت کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔۔ جو بھی اپنے لیے ضرورت کی چیزیں سمجھے گی وہ لے لیں گی”

یسریٰ کے بولنے پر سیرت نے اسے دیکھا

“میرے پاس ضرورت کی چیزیں پہلے سے موجود ہیں اس تکلف کی ضرورت نہیں میں کل اپنے فلیٹ سے لے آؤں گی ساری چزیں” سیرت نے روکھے پھیکے لہجے میں یسریٰ کو دیکھ کر جواب دیا

اس کا لہجہ کسی نے نوٹ کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر ثوبان نے نوٹ کیا جو اسے کچھ خاص پسند نہیں آیا

“مما ٹھیک کہہ رہی ہے بالکل،، مگر کل میرا شیڈیول تھوڑا بزی رہے گا۔۔۔۔ بابا کو چیک اپ کے لیے لے کر جانا ہے اور شوروم کیا بھی چکر لگانہ ہے۔۔۔ کاشی اگر تم فری ہو تو سیرت اور رنعم دونوں کو لے کر چلے جانا اپنے ساتھ”

ثوبان نے کاشان کو دیکھتے ہوئے کہا

“نو پروبلم لے جاؤں گا۔۔۔ تم یہ بریانی ٹیسٹ کرو مزے کی بنی ہے”

کاشان نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر رنعم نے اسمائل دے کر سر نیچے جھکا لیا

****

نئی جگہ پر لیٹنے کی وجہ سے اسے نیند نہیں آ رہی تھی یا شاید آج دوپہر میں وہ زیادہ سوگئی تھی اس وجہ سے نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی

وہ اپنے روم سے نکل کر گھر میں بنے ہوئے لان میں آگئی لان میں موجود جھولا دیکھکر سیرت اس پر بیٹھ گئی۔۔۔ گھر میں سناٹے کو دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے سب اپنے روم میں سوگئے ہوگیں اور ثوبان وہ تو اسے گھر لا کر ہی بھول گیا تھا سیرت جھولے پر بیٹھی ہوئی سوچنے لگی

“کیا ہوا نیند نہیں آ رہی کیا”

کاشان کی آواز پر چونک کر سیرت نے اسے دیکھا کاشان کو دیکھ کر دوسری بار سیرت کا منہ کڑوا ہوا

“مجھے دیکھ کر تمہاری اتنی سڑی ہوئی شکل کیسے بن جاتی ہے آخر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی کڑوا بادام منہ میں چبا لیا ہو تم نے”

کاشان اس کے پاس آ کر پوچھنے لگا

“تم اتنی رات گئے تک کیوں جاگ ریے ہو الّووں کی طرح” سیرت نے اس کی بات کو اگنور کر کے اسکے جاگنے کی وجہ پوچھی

“اُلّو کے علاوہ عاشق بھی راتوں کو جاگتے ہیں،، ویسے تم کیوں چمکادڑ کی طرح درخت کی بجائے اس جھولے پر لٹکی ہوئی ہو اس وقت”

کاشان مسکراتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو سیرت نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا

“کوئی کام تھا یا ایسے ہی میرا دماغ کھانے آئے ہو”

سیرت نے تپ کر اس سے پوچھا

“یار ضروری ہے ہم دونوں ہر وقت لڑتے رہے، ، چلو آج سے دوستی کر لیتے ہیں تم بھابھی تو بن چکی ہو میری،، چند دنوں بعد سالی آدھی گھر والی بھی بن جاو گی پھر کیا خیال ہے”

کاشان نے سیرت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تو سیرت نے اس سے ہاتھ ملایا

“یہ تمہارا ہاتھ ہے یا ہتھوڑا لگتا ہے جیل میں رہ کر کافی پتھر توڑے ہیں تم نے۔۔۔ شکر ہے دل ابھی تک پتھر نہیں ہوا”

سیرت نے اس کے ہاتھوں کی سختی کو محسوس کر کے تبصرہ کیا جس پر کاشانہ ہنسا

“دل بھی پتھر ہو گیا تھا مگر اب قطرہ قطرہ اس پر موم گرتی رہتی ہے” کاشان نے مسکرا کر کہا

“اچھا تو اس دن ڈول تم رنعم کو کہہ رہے تھے لگتا ہے زیادہ ہی پسند آگئی ہے”

سیرت نے مسکراتے ہوئے پوچھا

“زیادہ نہیں بہت زیادہ”

کاشان سیگریٹ سلگاتے ہوئے بولا

“چھی تم نے سگریٹ پینا بھی اسٹارٹ کردی ویسے تم سے توقع رکھی جا سکتی ہے گٹکا، پان، مین پوری کچھ بھی استعمال کر سکتے ہو”

سیرت کے بولنے کے اسٹائل پر کاشان پھر ہنسا

“گٹکا، مین پوری، پان واہ کیا بات ہے ساری الٹی سیدھی چیزوں کے نام پتہ ہے تمہیں”

کاشان نے سگریٹ پیتے ہوئے داد دینے والی نظروں سی سیرت کو دیکھا

“میں تمہاری ڈول کی طرح کوئی برگر بچی تھوڑی ہوں۔۔۔ چھوٹی سی عمر میں دنیا دیکھی ہے سیرت نے”

سیرت نے آبرو اچکا کر کہا

“برگر بچی”

کاشان دوبارہ ہنسا

“اور وہ برگر بچی اپنے ٹیررس میں کھڑی کافی دیر سے ہم دونوں کو گھور رہی ہے”

کاشان نے سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے سیرت کو دیکھ کر کہا

سیرت نے نا محسوس ہونے والے انداز سے رنعم کو دیکھا جو واقعی ٹیرس میں کھڑی آنکھوں میں الجھن سمائے ہوئے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ سیرت نے کاشان کو دیکھا تو دونوں مسکرانے لگے