504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 47)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کیا رپورٹ ہے جواد معلوم ہوا کچھ شیرا کے بارے میں۔۔۔ کس نے اس کی یہ حالت کی اور اسے ہوش آیا کہ نہیں”

ثوبان نے انسپکٹر جواد سے شیرا کے متعلق تفصیلات معلوم کرنی چاہئی۔۔۔ کیوکہ شیرا ایک پولیٹیشن کا خاص آدمی تھا،،، اور اس پولیٹیشن کا دوسری بار ثوبان کے پاس فون آیا تھا

ایک ہفتے پہلے دو آدمی اسے زخمی حالت میں اسپتال پہنچا گئے تھے،، فوری ٹریٹمینٹ سے اس کی جان تو بچ گئی تھی مگر کیمیکل پیٹ میں جانے سے اندر سے اس کی آنتیں گل گئی تھی۔۔۔ وہ اسپتال میں بے ہوش پڑا ہوا تھا اور اس کی جان کو ابھی بھی خطرہ لاحق تھا

“سر ڈاکٹرز کے مطابق،، ابھی شیرا مکمل ہوش و حواس میں نہیں ہے۔ ۔۔۔ اس وجہ سے اس کا بیان نہیں لیا جاسکتا۔۔۔۔۔ اور آپ کے کہنے پر کل ایک دفعہ پھر موقع واردات کی جگہ کی یعنیٰ پوری فیکٹری کی تلاشی دوبارہ لی گئی۔۔۔ مگر ثبوت کے طور پر جو چیز سامنے آئی اس کو دیکھ کر بہت زیادہ حیرت ہوئی”

ثوبان جواد کی بات غور سے سن رہا تھا اس کی آخری بات پر ثوبان نے سوالیہ نظروں سے جواد کو دیکھا

“سر شیرا کی اس حالت کی ذمہ دار کوئی لڑکی ہے”

جواد نے ثوبان کو بتایا

“ایک لڑکی۔۔۔ اور وہ شیرا جیسے لمبے چوڑے آدمی کی یہ حالت کرے گی۔۔۔ کیا ہوگیا جواد تمہیں”

ثوبان نے چڑتے ہوئے کہا

“اس فیکٹری کی دوبارہ تلاشی لینے پر ہمہیں یہ بریسلٹ ملا”

جواد اتنے پلاسٹک کے بیگ میں موجود بریسلیٹ ثوبان کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔۔۔ بریسلیٹ کو دیکھ کر ثوبان ایک دم چونکا۔۔۔ اس نے جواد کو جانے کا اشارہ کیا اور پلاسٹک کا بیگ اٹھا کر غور سے بریسلیٹ دیکھنے لگا۔۔۔ کیا یہ بریسلیٹ رنعم کا ہے یا پھر یہ ایک محض اتفاق ہے،،، وہ بریسلیٹ کے چٹخے ہوئے نگ کو دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ ۔۔ ہفتے پہلے جب کاشان رنعم کو لینے آیا تھا تو شاید اس نے کہیں باہر ڈنر کا ذکر کیا تھا۔۔۔ اور شیرا کو بھی اسی رات زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔۔۔۔ ثوبان سوچ میں پڑ گیا۔۔۔مگر تین دن پہلے ہی تو کاشی اور رنعم مما اور سیرت سے مل کر گئے تھے

کیا ایسی کوئی بات ہے جو کاشی اور رنعم دونوں ہی مجھ سے چھپا رہے ہیں۔۔۔۔ کیا اس رات ان دونوں کے ساتھ کوئی حادثہ۔۔۔۔ رنعم ٹھیک تو ہے۔ ۔۔۔

ایک کے بعد ایک سوال ثوبان کے دماغ میں آرہے تھے۔۔۔ آخری سوال پر اس نے فوراً رنعم کا نمبر ملایا جو کہ دوسری بیل پر اٹھا لیا گیا

“رنعم تم ٹھیک تو ہو ناں”

بے ساختہ ثوبان کے منہ سے نکلا

“آپ اس طرح کیوں پوچھ رہے ہیں بھیا” رنعم نے اپنے سوجھے ہوئے گال کو چھوتے ہوئے پوچھا

“پرسوں تم اور کاشی گھر آئے تھے تو میری ملاقات نہیں ہو پائی تھی ناں تم دونوں سے۔ ۔۔۔۔ اور بتاؤ ہفتے پہلے باہر ڈنر کیسا رہا تم لوگوں کا”

ثوبان بات بناتے ہوئے اصل موقف پر آیا

“اس دن کا ڈنر کیسے بھول سکتی ہو وہ تو یادگار ڈنر تھا”

رنعم نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا

“رنعم تم ٹھیک ہونا بیٹا”

رنعم کا انداز نوٹ کر کے ثوبان کو اس کی فکر ہونے لگی۔۔۔ گاڑی کی چابی تھام کر وہ چیئر سے اٹھا۔۔۔ اب وہ رنعم کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا

“جی۔۔۔۔ جی بھیا میں بالکل ٹھیک ہوں آپ بتائیں مما اور آپی کیسی ہیں”

رنعم ثوبان کے فکر مندانہ انداز پر ایک دم ہوش میں آئی۔۔۔ کہیں ثوبان پریشانی میں یہی نہ آجائے اور وہ یہ بالکل نہیں چاہتی تھی اس لیے اپنی آواز کو بشاش کرتی ہوئی بولی

“سب ٹھیک ہے۔۔۔ اچھا سنو وہ جو بریسلیٹ کا اسٹون ٹوٹ گیا تھا، میں نے جیولر سے بات کرلی ہے۔۔۔ تم وہ بریسلیٹ مجھے دے دینا میں ریپیئر کروا دوں گا”

ثوبان نے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے رنعم سے بولا

“بھیا آئی ایم سوری مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے وہ بریسلیٹ مجھ سے کہیں کھو گیا ہے۔۔۔ مجھے معاف کردیں میں آپ کے دیئے ہوئے گفٹ کی حفاظت نہیں کر پائی”

اس دن جب رنعم کاشان کے ساتھ گھر پہنچی تھی تب اس کے ہاتھ میں بریسلیٹ موجود نہیں تھا اسے افسوس ہوا کہ وہ بریسلیٹ اس سے کہیں کھو گیا

“پگلی معافی کیوں مانگ رہی ہوں ایسے دس بریسلیٹ میں اپنی بہن کے اوپر سے وار کر پھینک دوں۔۔۔ اچھا سنو چائے کا پانی رکھو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں تمہارے پاس”

ثوبان نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے رنعم سے کہا

“نہیں بھیا نہیں پلیز آپ آج مت آئیے گا۔۔۔ میرا مطلب ہے میں تو خود ابھی یعشل کے گھر جانے کے لیے تیار ہورہی ہو۔۔۔ بس نکلنے ہی والی ہو”

ثوبان کی بات سن کر رنعم نے ایک دم اسے منع کردیا۔۔۔ ڈریسر کے آگے آکر اپنا سوجھا ہوا گال دیکھا جلدی سے بہانہ بھی گڑ دیا

“اووو چلو کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میں یہاں سے گزر رہا ہے تو سوچا تم سے ملتا چلوں۔۔۔۔ چلو پھر کبھی ملیں گے۔۔ دھیان سے جانا یعشل کی طرف”

ثوبان نے اسے احتیاط برتنے کی تلقین کرتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر کال کاٹی

مگر اس کا رخ کاشان کے فلیٹ کی طرف تھا۔۔۔ رنعم کی بات سے ثوبان کو مزید اندازہ ہوگیا کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔۔۔ رنعم کا کھویا کھویا انداز، معنی خیز باتیں اور سب سے بڑی بات وہ اس طرح ثوبان کو گھر آنے سے کبھی منع نہیں کر سکتی تھی بے شک اسے یعشل کے گھر جانا بھی ہو تب بھی نہیں۔۔۔ اب جلدی سے ثوبان کو رنعم کے پاس پہنچنا تھا تاکہ وہ اس سے مل کر اصل بات کی تہہ تک پہنچ سکے

****

“بھیا کیا سوچ رہے ہوں گے میرے بارے میں۔۔۔ انہوں نے فیل تو کیا ہوگا میرا اس طرح بولنا، لیکن اگر وہ یہاں آ جاتے اور میرا چہرہ دیکھ لیتے تو انہیں زیادہ دکھ ہوتا۔۔۔ اچھا ہی ہوا جو منع کردیا رنعم آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر افسردگی سے سوچنے لگی

آج صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو کاشان آفس جا چکا تھا۔۔۔ اسے جگائے بغیر جب وہ ڈائنگ ہال میں آئی تو دیکھا۔۔۔ تھرمس میں چائے موجود تھی ناشتہ ڈھکا ہوا ٹیبل پر موجود تھا جو کاشان اس کے کرنے کے لئے رکھ کر گیا تھا

کل شام سے اس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔۔۔ رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔۔ رنعم نے تھرمس سے اپنے لئے چائے نکال کر ایک بریڈ کا پیس حلق سے اتارا اور گھونٹ گھونٹ چائے پینے لگی۔۔۔ چائے کے ساتھ ساتھ وہ کل رات والی تلخی بھی اپنے اندر اتارنے لگی

ناشتے سے فارغ ہوکر اس نے گھر کی صفائی کا ارادہ کیا مگر اتفاق سے منع کرنے کے باوجود نوراں اس وقت آگئی۔۔۔ وہ کام کرتے ہوئے بار بار رنعم کا سوجھا ہوا گال دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے رنعم سے اس کے گال پر نشان کے بارے میں پوچھا۔۔۔ رنعم نے “گر گئی تھی” کہہ کر ٹال دیا

کام سے فارغ ہو کر جانے سے پہلے نوراں نے رنعم کو اپنی بیٹی کے بارے میں بتایا۔۔۔ اس کی بیٹی کا گال بھی ایسے ہی سوجھا ہوا تھا،، مگر وہ گری نہیں تھی بلکہ اس کے شوہر نے اسے مارا تھا۔۔۔ نوراں کی بات سن کر رنعم کا دل مزید بجھ گیا۔۔۔ اس کا دل کاشان کی طرف سے بدظن ہونے لگا

“یہ میں کیا سوچنے لگی ہو کاشان پیار بھی تو کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔ رنعم نے فوراً اپنے دل کو سمجھایا اور کاشان کے اور اپنے سارے پیار بھرے لمحات یاد کرنے لگی

****

تھپڑ سے جیسے ہی رنعم فرش پر نیچے گری۔۔۔ کاشان نے وہ منظر یاد کر کے اپنی مٹھی زور سے ٹیبل پر ماری۔۔۔ جب جب اسے کل والا منظر یاد آرہا تھا وہ اپنے ہاتھ کو اسی طرح سزا دے رہا تھا معلوم نہیں کس طرح اس کا ہاتھ اتنی زور سے رنعم پر اٹھا۔۔۔ وہ آفس میں بیٹھا ہوا سوچنے لگا

“کیا ہوا کاشان آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں”

مایا نے اس کے روم میں آکر پوچھا جس پر کاشان چونک کر اسے دیکھنے لگا

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ بتائیں۔۔۔ کوئی کام تھا کیا”

کاشان نے مایا کو دیکھ کر پوچھا

“کل ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے کچھ ڈسکشن کرنی تھی۔۔۔ آئی تھینک میں تھوڑی دیر بعد آتی ہو”

مایا روم سے جانے کے لیے مڑی

“نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ہم ڈسکس کر لیتے ہیں آپ بیٹھیں”

کاشان نے مایا کو کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ بیٹھ گئی

اس دن کاشان کی باتیں سننے کے بعد مایا نے واقعی کوئی ایسی بات یا حرکت نہیں کی تھی جو کاشان کو اریٹیٹ کرتی۔۔۔۔ اب وہ کاشان سے صرف آفس کے کام سے ریلیٹڈ بات کرتی جس سے کاشان کو لگ رہا تھا کہ وہ واقعی سدھر گئی ہے

“ایکسیلنٹ۔۔۔ اب سب کچھ کلیئر ہے،،، مجھے امید ہے کل کا پروجیکٹ ہمہیں ہی ملے گا”

ڈسکشن کرنے کے بعد مایا نے خوش ہوتے ہوئے کہا جس پر کاشان اسمائل دے کر ہاتھ میں بندھی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھنے لگا۔۔۔ افس آورز ختم ہوچکے تھے

“ٹھیک ہے میم اب اجازت دیجئے انشاءاللہ کل میٹنگ کے وقت ملاقات ہوگی”

کاشان نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا

اسے رنعم کے پاس پہنچنے کی جلدی تھی۔۔۔ رات کو بھی وہ اپنے رویے کی تلافی نہیں کر سکا تھا۔۔۔صبح بھی وہ رنعم کو جگائے بغیر چلا گیا تھا مگر اب اسے اپنی بیوی کو منانا تھا۔۔۔۔ اسے اپنی محبت کا یقین دلانا تھا

آفس سے نکل کر اس نے کار فلاور شاپ پر روکی ریڈ روزز کا بوکے لے کر اس میں سوری کا چھوٹا سا کارڈ ڈالا اب وہ جیولری شاپ پر موجود تھا۔ ۔۔ کافی دنوں سے اس نے رنعم کوئی گفٹ نہیں دیا تھا اسے رنعم کے لئے رینگ پسند آئی جو اس نے فوراً پرچیز کرلی۔۔۔ آئس کریم شاپ سے رنعم کا من پسند فلیور پیک کروا کر وہ تمام چیزیں لیتا ہوا اپنے فلیٹ کی طرف جانے لگا

****

رنعم شاور لے کر نکلی تو آئینے میں اپنے گال کا جائزہ لینے لگی۔۔آج صبح کی بانسبت سوجھن تھوڑی کم تھی مگر ابھی بھی دیکھ کر واضح ہو رہا تھا جیسے کوئی چوٹ لگی ہو۔۔۔ اچھا ہی ہوا جو بھیا کو منع کردیا ویسے بھی کاشان کے آنے کا ٹائم ہے

رنعم نے گھڑی میں ٹائم دیکھا اپنے گیلے بالوں کو ڈرائر کی مدد سے خشک کرکے جوڑا بنایا اتنے میں ڈور بیل بجی فولڈ دوپٹے کو کھولنے کے بعد اچھی طرح اوڑھتی ہوئی وہ دروازہ کھولنے چلی گئی

“بھیا آپ”

رنعم نے میں دروازہ کھولنے پر کاشان کی توقع کی تھی مگر سامنے ثوبان کو کھڑا دیکھ کر وہ شاک رہ گئی پھر زبردستی مسکرائی

“کیا ہوا بھیا کو اندر آنے کا نہیں کہو گی”

ثوبان اس کو حیرت زدہ دیکھکر خود اندر آتا ہوا بولا۔۔۔ تو رنعم نے سائڈ میں ہوکر راستہ دیا

“کاشی کہاں پر ہے آیا نہیں ابھی تک”

ثوبان ڈرائنگ روم کی طرف جاتا ہوا رنعم سے پوچھنے لگا

“بس وہ بھی آتے ہوں گے۔۔۔ میں پانی لے کر آتی ہوں آپ کے لئے”

رنعم کچن میں جانے کے لیے مڑی۔۔۔ تبھی ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑا

“چہرے پر کیا ہوا ہے تمہارے”

ثوبان رنعم کا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا وہ جب سے آیا تو اس کا ایک ایک انداز نوٹ کر رہا تھا رنعم کی گھبراہٹ،،، زبردستی کا مسکرانا،، اپنی پریشانی چھپانا ہے یقیناً اس کے پیچھے کوئی بڑی بات تھی

“یہ تو میں گر گئی تھی کل،،، اس لیے چہرہ سوجھ گیا”

وہ ثوبان سی نظریں ملائے بغیر بولی

“رنعم یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔ میں بےوقوف نہیں ہوں۔۔۔ مجھے بالکل سچ بتاؤ کیا ہوا ہے” ثوبان اس کے چہرہ کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔۔ ایسے نشان تو وہ بچپن سے فائزہ کے منہ پر دیکھتا آیا تھا اس کا دل اندر سے انجانے خوف سے ڈرنے لگا

“بھیا کیا ہوگیا آپ کو میں آپ سے جھوٹ بولوگی کیا”

رنعم کا دل ہی تو بھر آیا تھا،،،، ثوبان اس کو جس طرح دیکھ کر پوچھ رہا تھا مگر وہ لہجہ نارمل رکھتے ہوئی بولی

“گر کر چوٹ لگنے میں اور تپھڑ کے نشان میں فرق ہوتا ہے رنعم۔۔۔ کاشی نے ہاتھ اٹھایا ہے تم پر”

ثوبان جس مقصد کے لئے آیا تھا وہ رنعم کا سوجھا ہوا گال دیکھ کر سب بھول چکا تھا مگر اب وہ دعا کر رہا تھا کہ رنعم سچ بول دے اور یہ بھی کہ یہ تکلیف رنعم کو کاشی نے نہ دی ہو” رنعم آخر کب تک ضبط کرتی

“بھیا”

ثوبان کے گلے لگ کر وہ بری طرح رو پڑی اور رنعم کا رونا ثوبان کو بہت کچھ سمجھا گیا ثوبان دونوں ہاتھوں سے اسے تھامے خاموش کھڑا رہا۔ ۔۔ رنعم کو اس طرح روتا دیکھ کر اس کا دل تڑپ گیا تھا اتنے میں ڈور بیل بجی

“بھئا آپ میری بات سنیں پلیز”

بیل کی آواز پر ثوبان دروازہ کھولنے کے لیے بڑھا وہی رنعم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

“ہاتھ چھوڑو میرا”

ضبط سے ثوبان کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔۔۔ وہ بولنے کے ساتھ رنعم سے ہاتھ چھڑا کر لانچ میں آیا اور فلیٹ کا دروازہ کھولا

“ثوبی تم کب آئے”

دروازہ کھولنے پر رنعم کی بجائے کاشان نے ثوبان کا چہرہ دیکھا۔۔۔ ایک ہاتھ میں بوکے اور دوسری چیزیں تھام کر کاشان گھر کے اندر داخل ہوا

“رنعم کہاں ہے”

ثوبان کی طرف سے جواب نہ پا کر کاشان نے دوسرا سوال کیا اور ائیسکریم کا جار ٹیبل پر رکھا۔۔۔ کوئی بھی جواب دینے کے بجائے ثوبان نے زوردار تھپڑ کاشان کے منہ پر دے مارا جس سے کاشان کے ہاتھ میں موجود بوکے نیچے گرا اور سرخ پھول فرش پر بکھر گئے

“بھیا پلیز آپ کو خدا کا واسطہ ہے آپ ایسا مت کریں”

رنعم جو کہ ڈرائنگ روم میں موجود تھی ان دونوں کی گفتگو سن کر، تھپڑ کی آواز پر لانچ میں آئی اور ثوبان کا بازو پکڑتے ہوئے رونے لگی جبکہ کاشان نے اتنی ہی بے یقینی سے ثوبان کو دیکھا ثوبان اسے غصے میں گھور رہا تھا

“ہمت کیسے ہوئی تمہاری اس معصوم پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔ آخر کیا سوچ کر تم نے اس کو اتنی بے دردی سے مارا ہے”

ثوبان رنعم کا رونا اگنور کرتا ہوا غصے میں کاشان کی طرف بڑھنے لگا مگر رنعم نے اس کا بازو مغبوطی سے تھام لیا

“دیکھو ثوبی تم بولکل غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔ غلطی اس کی تھی تب میرا ہاتھ اٹھا۔۔۔ یہ بات الگ ہے اسے کافی زور سے لگی ہے جس کا مجھے احساس ہے”

کاشان ثوبان سے کہتا ہوا رنعم کے پاس آیا اس کا رخ اپنی طرف کیا

“اور تم۔۔۔۔ تم نے فوراً اپنے بھیا کو بتا دیا انتظار تو کر لیتی تھوڑا۔۔۔ ایکسکیوز کرنے ہی والا تھا میں تم سے” کاشان نرمی سے رنعم کے گال پر انگلیاں پھیرتے ہوئے اس سے شکوہ کرنے لگا جس پر ثوبان نے کاشان کا ہاتھ رنعم کے گال سے دور جھٹکا اور کاشان کا گریبان پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

“اس کو چھوڑو مجھ سے بات کرو، یہاں مجھے دیکھ کر اور بتاؤ ایسا کیا کیا تھا اس نے جس پر تم نے جانور بننے میں دیر نہیں کی”

ثوبان کو کاشان کی شکل دیکھ کر مزید غصہ آرہا تھا

“یہ ہم دونوں ہسبنڈ وائف کے بیچ کی بات ہے اور میں اس وقت اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں”

کاشان نے ثوبان کا ہاتھ سے اپنا گریبان ہٹا کر اسے گھورتے ہوئے کہا

“ہسبینڈ وائف کے بیچ کی بات ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کاشی کے تم جانور بن جاو اور بیچ میں کوئی نہ بولے۔۔۔ اس کا باپ مرا ہے لیکن بھائی ابھی زندہ ہے،، چلو رنعم میرے ساتھ”

ثوبان رنعم کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جانے لگا

“ثوبی بات کا بتنگڑ مت بناؤ،، میں اس سے ایکسکیوز کرنے والا تھا وہ کہیں نہیں جائے گی تمہارے ساتھ”

کاشان نے آگے بڑھ کر رنعم کا ہاتھ ثوبان کے ہاتھ سے چھڑایا۔۔۔ رنعم اپنا دل تھام کبھی ثوبان کو تو کبھی کاشان کو دیکھ رہی تھی

“رنعم کو میں ابھی اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں اور اب تم دوبارہ میرا راستہ نہیں روکو گے” ثوبان نے تنبہی کرتے ہوئے کاشان سے کہا۔۔۔ کاشان غصے سے ضبط کرتا ہوا ثوبان کو دیکھنے لگا

“چلو رنعم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ گھر چلو”

اس نے رنعم کو دیکھ کر کہا

“بھیا میں ٹھیک ہوں، کاشان ٹھیک کہ رہے تھے غلطی میری تھی،، آپ مجھے اس حالت میں لے کر جاۓ گی تو بات بڑھے گی۔۔۔ مما، آپی بھی پریشان ہوگیں مجھے یوں آپ کے ساتھ آتا دیکھ کر میں بالکل ٹھیک ہوں آپ جائیں پلیز”

رنعم نظر جھکا کر ثوبان سے بولی

“رنعم تم میرے ساتھ گھر چل رہی ہو ابھی اور اسی وقت”

ثوبان نے دوبارہ زور دیتے ہوئے رنعم سے کہا

“بھیا پلیز”

رنعم ثوبان کے آگے ہاتھ جوڑ کر رونے لگی ثوبان چپ ہوگیا وہ کاشان کی طرف مڑا

“اسے ہم نے بہت نازوں سے پالا ہے کاشی، اگر آئندہ تم اس کی آنکھ میں آنسو لانے کا سبب بنے تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ چاہے اس کی غلطی ہو تب بھی تم اسے کچھ نہیں کہو گے۔۔۔ جتنی میں تم سے محبت کرتا ہوں ناں اس سے ذیادہ اس سے محبت کرتا ہوں اور اس سے محبت کا تو تم نے بھی دعویٰ کیا ہے ناں تو اپنی محبت کا ثبوت دو،،، جہالت کا نہیں۔۔ اس کا خیال رکھنا اور دوبارہ یہ بات مجھے دہرانی نہ پڑے”

ثوبان کاشان کو وارن کرتا ہوا دوبارہ رنعم کی طرف پلٹا۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا اسے گلے سے لگایا

“جب میں انٹرن شپ کا پیپر دے رہا تھا اور تم سے ایک پرابلم سولو نہیں ہو رہی تھی، جو میں نے تمہیں سمجھائی تھی یاد ہے نا میں نے تم سے ایک وعدہ لیا تھا”

ثوبان رنعم سے پوچھنے لگا رنعم ثوبان کو دیکھ کر مسکرا دی اور اثبات میں سر ہلایا

“ابھی میں جا رہا ہوں،، رات میں فون کروں گا پھر تفصیل سے بات کریں گے اور کل دوپہر کو میں یہاں پر دوبارہ آو گا۔۔۔ اپنا خیال رکھنا”

ثوبان رنعم کو گال تھپتھپاتا ہوا۔۔ کاشان پر ایک سنجیدہ نگاہ ڈال کر گھر سے باہر نکلنے لگا کچھ یاد آنے پر وہ دوبارہ مڑا

“اور ہاں ایک بات یاد رکھنا کاشی، میری بات کان کھول کے سن لو آئندہ اگر تم نے قانون کو ہاتھ میں لیا تو میں بغیر کسی سے پوچھ گچھ کیے تمہیں لاک اپ کر دوں گا۔۔۔ تمہارے بے رحمانہ سلوک سے شیرا ابھی زندہ ہے مگر اس نے ہوش میں آنے کے بعد اگر بیان میں تمہارا نام لیا ناں تب بھی تم اس جرم کی سزا کاٹنے کے لیے تیار رہنا”

ثوبان کاشان کو بولتا ہوں اس کے فلیٹ سے نکل گیا

وہ رنعم کی باتوں سے اندازہ تو لگا سکتا تھا کہ کسی حادثے کے بناء پر ہی شیرا اور کاشان میں لڑائی ہوئی ہوگی رنعم کا بریسلیٹ وہاں پر موجود تھا مگر رنعم اتنے توانا مرد پر تشدد کرنے سے رہی یقیناً شیرا کے ساتھ جو بھی کچھ ہوا اس کا ذمہ دار کاشان ہوگا