Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 54)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 54)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
فائزہ بیڈ روم کے دروازے کے پاس کھڑی ہوئی کاشان کو دیکھ رہی تھی وہ نیچے فرش پر بیٹھا ہوا اور اپنا سر بیڈ پر رکھے سو رہا تھا
“کاشی۔۔۔۔ کاشی”
فائزہ چلتی ہوئی کاشان کے پاس آئی بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ گئی اور کاشان کو پکڑنے لگی کاشان آنکھیں کھول کر فائزہ کو دیکھا تو اس کو دیکھ کر مسکرائی
“سو گیا تھا میرا بیٹا، ایسے کیوں سو رہے ہو بیڈ پر صحیح سے لیٹو”
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے بولی
“امی آپ اتنے دنوں سے کہاں تھی کتنے دنوں بعد میرے پاس آئی ہیں”
کاشان نے اٹھ کر فائزہ کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں پر لگایا
“ہر وقت تو نہیں آ سکتی نہ بیٹا۔۔۔ بس آج روح میں بےچینی محسوس ہوئی تو لگا جیسے میرا بیٹا مجھے یاد کر رہا ہے۔۔۔ پھر آگئی تمہارے پاس”
فائزہ نے مسکراتے ہوئے کاشان سے کہا اور اشارے سے اپنے پاس بلایا۔۔۔ کاشان نے فائزہ کے قریب سرک کر فرش پر بیٹھے ہوئے اپنا سر فائزہ کی گود میں رکھ لیا
“سب نے مجھے چھوڑ دیا ہے امی ثوبی نے رنعم نے۔۔۔۔ ان دونوں نے مجھ سے تعلق ختم کر لیا بلکے نفرت کرنے لگے ہیں وہ دونوں مجھ سے۔۔۔ میں اکیلا ہو گیا ہوں بالکل اکیلا”
کاشان فائزہ کی گود میں سر رکھ کر اسے بتانے لگا
“ثوبی بھائی ہے تمہارا،،، بھائی کا بھائی سے کبھی تعلق ختم نہیں ہوتا۔۔۔۔ خونی رشتہ ہے تم دونوں کے بیچ،،، ثوبی تم سے نفرت کر ہی نہیں سکتا بلکہ وہ میرا بیٹا کسی سے بھی نفرت نہیں کر سکتا اور تم سے تو وہ اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتے ہے۔۔۔ بس اس کا دل دکھا ہوا ہے اس لیے خفا ہے تم سے”
فائزہ کاشان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سے بتانے لگی
“امی میں نے اس کی خوشی اس سے چھین لی اس کی اولاد کو مار ڈالا اپنے ہاتھوں سے۔۔۔ میں اپنے بھائی کی خوشیوں کا قاتل ہو،، اس کی اولاد کا قاتل میں۔۔۔ وہ مجھے کبھی بھی معاف نہیں کرے گا”
کاشان کی آنکھوں سے اشک رواں ہو کر فائزہ کے آنچل میں جذب ہونے لگے
“وہ سب عمل تم سے جان بوجھ کر نہیں ہوا انجانے میں ہوا مگر اس کا محرک غصہ تھا۔۔۔ جبھی میں تم سے ہر بار یہی کہتی ہوں اپنے غصے کو قابو میں کرو،، اس میں صرف انسان نقصان اٹھاتا ہے۔۔۔ اپنا دل چھوٹا مت کرو ثوبی سے جاکر ایک دفعہ معافی مانگو وہ تمہیں معاف کر دے گا”
فائزہ اسے نرمی سے سمجھانے لگی
“وہ معاف نہیں کرے گا مجھے معلوم ہے”
کاشان فائزہ کی گود میں سر رکھے اس سے بولا
“وہ معاف بھی کرے گا اور تمہاری محبت میں دوڑہ چلا آئے گا جب خون جوش مارے گا”
فائزہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی
“امی اس نے بھی مجھے چھوڑ دیا،، میں نے اسے بتایا تھا۔۔۔ اسے معلوم ہے کہ میرے پاس کوئی بھی نہیں ہے پھر بھی وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔ میرے اس گھر کو چھوڑ کر چلی گئی”
کاشان فائزہ کی گود میں لیٹے ہوئے سائڈ ٹیبل پر رکھی رنعم کی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“تو وہ کیوں رہتی تمہارے ساتھ۔۔۔۔ تم نے کیا کیا تھا اس کے ساتھ”
فائزہ بھی رنعم کی تصویر کو دیکھتی ہوئی کاشان سے پوچھنے لگی
“وہ کہتی ہے اسے مجھ سے محبت ہے میں اسے منانے گیا تھا۔۔ اسے لینے گیا تھا۔۔۔ وہ پھر بھی نہیں آئی میرے ساتھ”
کاشان فائزہ کی گود میں لیٹا ہوا شکوہ کرتے ہوئے بولا
“کیوں آتی وہ تمہارے ساتھ محبت کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عورت تذلیل برداشت کرے۔۔۔ تمہیں بھی اس سے محبت تھی ناں،،، تو بیٹا اس کی قدر کرنی چاہیے تھی۔۔۔ عورتوں تو محبت میں سب کچھ قربان کر دیتی ہے اپنی ہستی تک مٹا دیتی ہے۔۔۔۔ مگر بدلے میں صرف محبت کی توقع نہیں کرتی اسے عزت اور مان بھی چاہیے ہوتا ہے اپنے شوہر سے۔۔۔۔ مرد جب عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے نہ تو عورت کے دل میں اپنا مقام اور اپنی عزت کھو دیتا ہے۔۔۔ تم نے اس معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔۔۔ آخر کیوں۔۔۔ تم نے ساری زندگی اپنی ماں کو، اپنے باپ کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھا پھر بھی تم نے وہی راستہ اختیار کرلیا جس پر تمہارا باپ چلا۔۔۔۔ جبکہ تم نے اس راستے پر چلنے کا انجام بھی دیکھا کاشی۔۔۔ اپنے باپ سے نفرت کرنے کے باوجود تم اس کے نقش قدم پر چلے۔۔۔ اس معصوم نے تو اپنے آپ کو تمھارے رنگ میں ڈھالنا چاہتا تھا نا وہ سلوک کی مستحق نہیں تھی جو تم نے اس کے ساتھ کیا۔۔۔۔ کیا یہ بڑی بات نہیں ہے تمہاری اتنی بدسلوکی کے باوجود وہ تم سے ابھی بھی محبت کرتی ہے۔۔۔ اس کی قدر کرو جا کر اسے دوبارہ معافی مانگو اپنے بھائی سے معافی مانگو اور سب سے پہلے سچے دل سے اللہ سے معافی مانگو جب اللہ معاف کرے گا تو اس کے بندے خودبخود معاف کریں گے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا”
فائزہ کاشان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نرمی سے سمجھا رہی تھی اور کاشان آنکھیں بند کر کے فائزہ کی بات غور سے سن رہا تھا
****
“کیا کر رہی ہو سیرت”
سیرت کچن میں موجود کسی برتن میں پانی ابال رہی تھی تبھی یسریٰ نے آکر اس سے پوچھا
“ایک نسخہ نوٹ کیا تھا کافی لوگوں کو افاقہ بھی ہوا اس سے۔۔۔۔ آپ کے لیے تیار کر رہی ہو شوگر کنٹرول میں رہتی ہے اس سے” سیرت کام میں مگن یسریٰ کو بتانے لگی
“میری جان اس کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ تمہاری خود طبیعت ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر نے ٹو ویکز کا بیڈ ریسٹ کہا ہے تمہیں”
یسریٰ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی
“ٹو ویکز ہوگئے ہیں مما اتنے دنوں تک میں ریسٹ کر بھی نہیں سکتی۔۔۔ اچھا بتائے آنی کا کیا پروگرام ہے کب لگا رہی ہیں وہ چکر” سیرت نے یسریٰ کو دیکھ کر پوچھا
جب سے اس کا ایبارشن ہوا تھا تب سے وہ یسریٰ سے بہت زیادہ اٹیچ ہوگئی تھی۔۔۔ ثوبان کے کہے بغیر یسریٰ کی میڈیسن سے لے کر ہر ضرورت کا خیال رکھتی۔۔۔ رات کے کھانے کے بعد ثوبان کو تو شروع سے ہی عادت تھی بہروز اور یسریٰ کے پاس بیٹھنے کی مگر اب سیرت بھی ثوبان کے ساتھ یسریٰ کے پاس بیٹھ جاتی۔۔۔ اپنی اولاد کو کھونے کے بعد ہی اسے ماں کی تڑپ کا احساس ہوا تھا
“نہیں غفران بھائی نے منع کر دیا ہے انہیں۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی پھر کبھی چکر لگاؤں گی۔۔۔ اور اچھا ہی ہوا ایک طرح سے۔۔۔ رنعم یہاں پر موجود ہے اسکی بجھی ہوئی صورت دیکھ کر دس سوالات ذہن میں آتے اور میں نہیں چاہتی کہ گھر کی کوئی بھی بات باہر نکلے”
یسریٰ سیرت کو کہنے لگی
“دونوں ساس بہو مل کر یہ کونسی کھچڑی پکا رہی ہیں آخر”
ثوبان نے گھر میں داخل ہو کر کچن کا رخ کرتے ہوئے شرارتاً کہا۔۔۔ اس کی بات سن کر یسریٰ اور سیرت دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“ثوبان ہر وقت مت چھیڑا کرو اسے۔۔۔ جتنی میں تمہاری مما ہو اتنی اس کی بھی ہو،، جیسے تم میرے داماد نہیں ہو سکتے ویسے وہ بھی میری بہو نہیں ہوسکتی تم دونوں بیٹا اور بیٹی ہو میرے”
یسریٰ ثوبان کی شرارت سمجھتے ہوئے اسے آنکھیں دکھا کر بولی
“یہ بات تو ماننا پڑے گی۔۔۔ مما ویسے آپ نے نوٹ کر رہی ہیں آپ کی بیٹی چند دنوں سے کچھ عقلمند عقلمند ٹائپ خاتون بن گئی ہے”
وہ ابھی بھی آنکھوں میں شرارت لئے سیرت کو چھیڑنے سے باز نہیں آیا
“میری بیٹی شروع سے ہی عقلمند ہے تو میں اس کی خوبی آج معلوم ہوئی ہے۔۔۔ سیرت میں رنعم کو بلاکر لاتی ہوں شاہدہ سے کہو چائے بنالے شام کی”
یسریٰ سیرت کو بولتی ہوئی ثوبان کے گال پر پیار سے چپت لگاتی ہوئی کچن سے نکل گئی اب ثوبان مسکرا کر سیرت کو دیکھ رہا تھا
“کیا بول رہے تھے مما کے سامنے اب ذرا پھر سے بولو”
سیرت ثوبان کے پاس آکر اس کا گریبان پکڑتے ہوئے بولی تو ثوبان نے اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حاہل کیے
“میں کیا بول رہا تھا مما بول رہی تھیں کہ مجھے تمہاری خوبیاں آج معلوم ہوئی ہے۔۔۔ جبکہ مما کو تو اندازہ ہی نہیں میں ان کی بیٹی کی کون کون سی خوبیوں سے لاعلم ہوں”
سیرت کو بانہوں میں لے لیتے ہوئے ثوبان سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔ سیرت نے اپنی مسکراہٹ کنٹرول میں کی اور ثوبان کے گال پر ایک چپت لگائی
“سدھر جاو ثوبی”
وہ مسکراتی آنکھوں کے ساتھ ثوبان کو دیکھ کر بولی۔۔۔ ثوبان نے اب بھی سنجیدگی سے اپنے دوسرے گال پر انگلی رکھی۔۔۔ اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے سیرت نے اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھ دیے
“اب جاؤ یہاں سے”
سیرت ثوبان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دھکا دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
ثوبان مسکراتا ہوا اپنے گال سے لپ اسٹک کا نشان صاف کرتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا
****
“کیا سوچ رہی ہو مما کہاں چلے گئیں” سیرت یسریٰ کے روم میں بیٹھی ہوئی تھی تب ثوبان اس کے پاس آتا ہوا پوچھنے لگا
“آنی کی کال آگئی تھی ان سے بات کرنے گئی ہیں۔۔۔۔ ثوبی دو ہفتے ہوگئے ہیں،، کاشی سے کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔ نہ ہی اس کو دیکھا”
سیرت نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے پوچھا ثوبان کی نیچر تھی وہ شروع سے سب کا خیال رکھتا تھا۔۔۔ سیرت کو حیرت ہوئی وہ اپنے سگے بھائی کو کیسے فراموش کر سکتا ہے
“اس نے جو ہمارے ساتھ کیا،، خاص کر تمہارے ساتھ۔۔۔ تم اب بھی اس کو یاد کر رہی ہوں معاف کر سکتی ہو اسے”
ثوبان نے سنجیدگی سے سیرت کو دیکھ کر پوچھا
“اس نے جو بھی کچھ کیا میرے ساتھ، انجانے میں کیا۔۔ اگر جان بوجھ کر کرتا تو میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھتی مگر اسے تو کچھ علم ہی نہیں تھا ثوبی”
سیرت نے ثوبان کو دیکھ کر نرمی سے کہا۔۔۔ اس نے بچپن سے ہی ان دونوں بھائیوں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے صرف محبت دیکھی تھی۔۔۔ 2 ہفتے پہلے اس طرح ایک دوسرے سے لڑتا ہوا دیکھ کر سیرت کو دلی طور پر افسوس ہو رہا تھا
“میں اسے اپنی اولاد کے لیے معاف کر سکتا ہوں سیرت مگر رنعم کے لئے نہیں۔۔ اس نے بہت غلط کیا ہے رنعم کے ساتھ،، میرا دل دکھایا ہے اس نے۔۔۔ اس پر غصہ ہونے کے باوجود میں اسے اپنے دل سے نہیں نکال سکتا، کیا کرو ایک ہی بھائی میرا اسے لاپروا تو ہرگز نہیں ہو سکتا برابر والے فلیٹ میں شفیق صاحب رہتے ہیں ان سے اس نالائق کی خیریت لیتا رہتا ہوں،،، ہم سب کو دکھ دے کر اب پشیمان ہو کر اکیلا جو ہو گیا ہے مگر اچھا ہے اسے ایسے ہی اپنے رشتوں کا احساس ہوگا اور قدر بھی ہوگی”
ثوبان کے بولنے پر سیرت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا یسریٰ بھی کمرے کے اندر داخل ہوئی وہ ثوبان کی باتیں سن چکی تھی
“مجھے فکر ہوتی ہے ثوبان، رنعم کی اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئی ہے نہ ہمارے ساتھ بیٹھتی ہے نہ باتیں کرتی ہے۔۔ بس ہر وہ اپنے کمرے میں موجود رہتی ہے اس کو دیکھ کر میرا دل دکھتا ہے۔۔۔ تم کاشان بھلاو اس سے بات کرو”
یسریٰ نے ثوبان کے برابر میں بیٹھ کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا پہلے تو اپنی ساری فکریں بہروز سے شیئر کر لیتی تھی۔۔۔ اب ثوبان تھا اس کے پاس،،، اس لیے اسی سے اپنا غم ہلکا کرنے لگی
“آپ کیوں فکر کرتی ہے رنعم کی،، میں ہوں نا اس کا بھائی اس کی فکر کرنے کے لیے۔۔۔۔ آپ اسکی فکر کرنا چھوڑ دیں میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا۔۔۔ بس اپنے آپ کو ریلیکس رکھا کریں اور ہمارے لئے دعا کیا کریں”
ثوبان نے یسریٰ کا ہاتھ تھام کر اسے کہا وہ خاموش ہوگئی
****
ان دو ہفتوں میں اس کی زندگی کی طرح اس کا خود کا بھی روٹین اپ سیٹ ہوگیا تھا۔۔۔ اسے 12 دن ہوگئے تھے سائکیٹرس کے پاس انگر تھراپی کے لیے جاتے ہوئے۔۔۔۔ ریلکس کرنے کی دواوں سے اس پر اکثر نیند کا غلبہ چھایا رہتا۔۔۔۔ بارہ دن میں تین مرتبہ اس کی آفس کی چھٹی ہو چکی تھی۔۔۔ صبح آفس، شام میں سائکیٹرس وہی سے کسی ہوٹل میں کھانا کھا کر کسی پارک کی بینچ پر بیٹھ کر لوگوں کو دیکھنا اور رات گئے تک گھر لوٹ کر آنا ان چند دنوں میں اس کا یہی روٹین ہوگیا تھا اس وقت آفس سے ڈرائیو کر کے وہ سیدھا گھر آ گیا تھا۔۔۔ ایک نظر اس نے اپنے بیڈ روم میں بےترتیب اور بکھری چیزوں پر نظر ڈالی۔۔۔ اپنا دماغ بالکل سن محسوس کر کے وہ آفس ڈریس میں ہی بغیر شوز اتارے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔ سائڈ ٹیبل سے رنعم کی تصویر اٹھا کر سینے پر رکھتے ہوئے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے خبر نہیں ہوئی
“کاشی۔۔۔۔ کاشی”
کاشان کو محسوس ہو جیسے کہیں دور سے کوئی اسے پکار رہا ہوں
“رنعم”
بند آنکھوں کے ساتھ نیند میں کاشان بولا اور آنکھیں کھول دی
