504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 21)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“اُف میں اتنی دیر تک سوگیا تم نے اٹھایا بھی نہیں مجھے”

آج ہفتے بعد ناصر کا دوسرا ڈائیلائسس تھا ڈیوٹی کے بعد ثوبان،، سیرت اور ناصر کو اسپتال لے گیا۔۔۔ وہاں سے فارغ ہوکر ان دونوں کو گھر چھوڑا۔۔۔۔ خود واپس اپنے گھر جانے کا ارادہ کیا مگر سیرت کی ضد کے باعث “کھانا یہی کھا کر جاو” اسے رکنا پڑا کیوکہ کل اس کی اور کاشان کی برتھ ڈے تھی۔،۔۔۔ کل وہ چاہ کر بھی ٹائم نہیں نکال پاتا کہ سیرت کے پاس چکر لگائے۔۔۔۔ کھانے کے بعد اس کی آنکھ لگ گئی اسے خبر ہی نہیں ہوئی۔۔۔۔ سیرت کے جگانے پر اس کی آنکھ کھلی تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا

“اچھی گہری نیند سو رہے تھے اس لیے اچھا نہیں لگا اٹھانا” سیرت نے چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر کہا

“میں سو رہا تھا مگر تم کیا کر رہی تھی”

وہ سیرت کو خود سے قریب کر پوچھنے لگا

“تمہیں دیکھ رہی تھی”

سیرت نے مسکرا کر جواب دیا اسے اندازہ نکاح کے بعد ثوبان کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اپنا گھر اور اب وہ ڈیلی یہاں پر بھی وہ چکر لگاتا تھا

“تم بس دور دور سے ہی دیکھتی رہا کرو”

ثوبان سیرت سے کہتا ہوا اس کی گردن پر جھکا

“ثوبی یہ کیا بدتمیزی ہے پیچھے ہٹو”

اسکے ہونٹوں کو اپنی شہ رگ پر محسوس کر کے سیرت نے اسے پیچھے ہٹانا چاہتا مگر شاید وہ پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں تھا اسے بانہوں میں لے کر بیڈ پر آیا

“ثوبی تم ہوش میں ہو کہ نہیں”

ثوبان کے دوبارہ جھکنے پر وہ اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر بولی

“اس وقت بالکل موڈ نہیں ہے میرا ہوش میں رہنے کا چپ کر کے مجھے اپنی سستی اتارنے دو”

وہ سیرت کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹاتا ہوا بولا

“یہ سستی اتارنے کا تم نے کونسا بہودہ طریقہ نکالا ہے اب تمہیں کبھی کھانے پر نہیں روکوں گی”

وہ اپنی سستی اتارنے میں مگن تھا اور سیرت مسلسل بولنے میں

“مجھے تو لگتا ہے ڈارلنگ تم نے کھانے میں کچھ ملا دیا تھا اب بھگتو”

اس سے پہلے سیرت اس الزام پر کچھ بولتی ہو نرمی سے اس کا منہ بند کر چکا تھا

“اری سیرت”

چند منٹ کی خاموشی کو ناصر کی آواز نے توڑا تو ثوبان پیچھے ہٹ کر بیڈ سے اٹھا

“آئی ابا”

سیرت لڑکھڑاتی آواز میں کہا اور سرخ چہرہ لئے ثوبان کو دیکھنے لگی مگر وہ مسکراتا ہوا اسی کو دے رہا تھا

“چائے تھوڑی ٹھنڈی ہوگئی ہے، سستی بھگانے کے چکر میں”

ثوبان سر کجاتا ہوا سیرت کو دیکھ کر بولا

“چپ کر کے ٹھنڈی چائے پیو ورنہ یہ کپ تمہارے سر پر توڑ دوگی”

وہ دوپٹہ درست کرتی ہوئی روم سے باہر نکلی ثوبان بھی چائے گا کپ لیے ناصر کے روم میں چلا گیا

****

کاشان آفس میں موجود لیپ ٹاپ پر بڑے انہماک سے اپنا کام کر رہا تھا تب مایا خود اس کے روم میں آکر اس سے کسی ضروری فائل کا پوچھنے لگی جس کا کاشان سرسری انداز میں جواب دیا اور دوبارہ اپنے کام میں بزی ہو گیا تو مایا اسکی چیئر کے پیچھے جا کر نیچے جھکتی ہوئی لیپ ٹاپ کی اسکرین دیکھنے لگی

“آخر ایسا کون سا ضروری کام ہے جو آپ نے مایا پر ایک نظر ڈالنا ضروری نہیں سمجھا”

مایا کاشان کے کان میں سرگوشی کرتی ہوئی بولی تو کاشان کی تیزی سے کی بورڈ پر چلتی ہوئی انگلیاں روک گئی

“آپ کو اگر اپنی مطلوبہ فائل نہیں مل رہی تو میں ریاض سے کہہ کر آپ کے روم میں بھجوا دیتا ہوں”

کاشان نے ابھی بھی اس کے اوپر نظر ڈالنا گوارا نہیں کی وہ اسکرین کو ہی دیکھ کر بولنے لگا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا مایا اس کا انداز دیکھ کر مسکرائی

“تو آپ مجھے اپنے روم سے نکلنے کے لیے بول رہے ہیں” مایا گھوم کر چیئر پر اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھنے لگی

“ماشاءاللہ سے کافی باشعور خاتون ہیں آپ”

کاشان کے دوبارہ طنز پر وہ ڈھیٹ بن کر مسکرائی۔۔۔ یونہی باتوں ہی باتوں میں کاشان اس کی عزت افزائی کرتا رہتا اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک نوکری سے فارغ ہو چکا ہوتا مگر وہ کاشان کے لیے کوئی ایکشن نہیں لیتی تھی۔۔۔۔ اور یہ بات کاشان کو بھی نہیں سمجھ میں آتی ہے کہ ہفتے دس کے دن بعد مایا کو کیا دورہ پڑتا کہ وہ کاشان کو زچ کرنے پر اتر آتی۔۔۔ پھر کاشان کے ردعمل پر مسکراتی ہے

“حامد گروپ اف انڈسٹریز کے آنر سے آج ہماری میٹنگ ہے سوچا میں خود آپ کو آگاہ کر دو، چار بجے ریڈی رہیے گا” اب کے مایا کی بات پر کاشان نے اس کو دیکھا

“مگر شکیب صاحب تو ان کے ساتھ کسی بھی ڈیلنگ کے لیے منع کرچکے ہیں پھر اس میٹنگ کا مقصد”

کاشان نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا تو مایا نے اسمائل دی

“ڈیلینگ کے لیے منع کیا ہے مگر ان کی آفر سننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ ہو سکتا ہے اس میں ہماری کمپنی کا مفاد ہو”

مایا کے کہنے پر کاشان نے سر ہلا دیا

“ٹھیک ہے میں چار بجے ریڈی رہوگا” کاشان اس کو بولتا ہوا دوبارہ لیپ ٹاپ میں بزی ہوگیا۔۔۔۔ مایا اس کے روم سے چلی گئی

آج اس کی اور ثوبان کی برتھ ڈے کا دن تھا یسریٰ نے اسے صبح ہی وش کر دیا تھا اور گھر جلدی آنے کو کہا تھا یقیناً یسریٰ نے ان دونوں کے لیے کچھ اسپیشل ارینجمنٹ کیا تھا مگر اب اس کو گھر جلدی جانا ممکن نہیں لگ رہا تھا اس لیے وہ یسریٰ کو ٹیکسٹ میں اپنے گھر لیٹ آنے کا بتانے لگا

واٹس اپ پر رنعم کے میسج پر اس کی نظر پڑی تو کاشان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی،،، رات میں رنعم نے میسج پر اسے وش کیا تھا جس کے رپلائی میں کاشان نے اسے تھینکس کا میسج کیا۔۔۔۔ صبح کاشان کی آنکھ کھلی تو رنعم کا دوبارہ میسج آیا ہوا تھا جس میں برتھ ڈے سے ریلیٹڈ پوئٹری رنعم نے اس کو سینڈ کی تھی جس پر کاشان نے اسکو اسمائیلی اموجی سینڈ کیا

جب وہ آفس پہنچا تو دو تین میسجز مزید رنعم کے واٹس اپ پر شو ہو رہے تھے جس میں بیسٹ ویشیز اور آج کے دن کی مبارک بات تھی،، جس کو پڑھ کر کاشان نے اسے ہارٹ سینڈ کیا

اس کے بعد رنعم نے اسے کیک کی پیکچر کے ساتھ بہت سارے بالون سینڈ کئے جس پر کاشان نے اسے اسمائل کے ساتھ “مائی ڈول” لکھ کر سینڈ کیا۔۔۔۔۔ابھی تھوڑی دیر پہلے میسج ٹون پر کاشان نے دوبارہ رنعم کا میسج دیکھا اور لمبا سانس کھینچ کر اس نے میسج چیک کیا جس میں برتھ ڈے کارڈ تھا کاشان نے ڈھیر سارے کس والے ایموجی رنعم کو سینڈ کر دیے اور جب سے ہی اس کے میسجز پر بریک لگا ہوا تھا۔۔۔۔ کاشان نے مسکراتے ہوئے موبائل ٹیبل پر رکھ دیا

****

“تمہارا بھی کوئی جواب نہیں ہے رنعم کوئی برتھ ڈے والے دن ہی برتھ ڈے کا گفٹ لیتا ہے۔۔۔ پورے تین گھنٹے خوار کر کے تمہیں یہ شرٹ اور پرفیوم پسند آیا ہے”

یشعل نے چیئر پر بیٹھ کر اپنے اور رنعم کے لئے آئس کریم کا آرڈر کرتے ہوئے رنعم سے کہا

“یار بھیا کی چوائس کا تو مجھے معلوم ہے ان کے لیے تو میں گفٹ کب کا لے چکی تھی مگر کاشان کو فرسٹ ٹائم گفٹ دے رہی ہوں اس لیے کنفیوز تھی۔۔۔۔ پیپر کی وجہ سے میرا گفٹ لینے کے لیے پہلے نکلنا نہیں ہوا”

رنعم نے آج صبح ہی یسریٰ سے منت کر کے یشعل کے ساتھ کاشان کے لئے گفٹ لینے کا پروگرام بنایا اور کافی دیر بعد اسے ایک شرٹ اور پرفیوم کاشان کے لیے پسند آئی یعشل اور وہ اس وقت گفٹ خرید کر ہوٹل میں بیٹھی ہوئی تھی

“پورے تین گھنٹے کا وقت لگا کر رنعم بی بی نے کاشان صاحب کے شانِ شیان کچھ پسند کیا ہے یعنی دال میں کچھ کالا ہے پکا والا”

یعشل نے رنعم کو دیکھتے ہوئے شرارتاً کہا

“پاگل ہوگئی ہو کیا ایسی کوئی بات نہیں ہے،، بھیا کے بھائی ہیں وہ ہماری فیملی کا حصہ۔۔۔ جبھی سوچ سمجھ کر گفٹ لینا تھا”

رنعم کی بودی سی وضاحت یعشل کو ہضم کرنا مشکل ہوئی

“مگر مجھے لگتا ہے تم بھیا کے بھائی کو،، بھیا نہیں سائیاں سمجھتی ہوں جبھی تمہارے منہ سے کاشان کے لیے بھیا نکلنا تھوڑا مشکل ہو رہا ہے۔۔۔۔ رنعم اب کم از کم مجھ سے تو مت شرماؤ بتا بھی دو کیا بات ہے”

یعشل نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو رنعم کے چہرے پر کئی رنگ ایک ساتھ آئے

“معلوم نہیں ہوا دل کب کیسے ان کی طرف مائل ہو گیا۔۔۔۔ تھوڑے اکڑو ٹائپ انسان ہیں مگر دل کے برے نہیں،،، اچھا لگتا ہے ان کے ساتھ وقت گزارنا”

رنعم نے مسکراتے ہوئے یشعل کے ساتھ اپنی فیلنگسز شئیر کی

اچانک رنعم کی نظر ایک خوبصورت اور ماڈرن سی لڑکی پر پڑی جو کہ اس سے تین سیٹ چھوڑ کر کسی آدمی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی معلوم نہیں کیوں رنعم کو لگا جیسے وہ کاشان ہو۔۔۔۔ الجھن دور کرنے کے لیے رنعم اٹھی اور اس کے ٹیبل کی طرف بڑھی

****

مایا اسے میٹنگ کا کہہ کر ہوٹل میں لے آئی تھی۔۔۔۔۔ کاشان بار بار گھڑی دیکھنے میں مصروف تھا

“کتنے بجے میٹنگ کا ٹائم دیا تھا آپ نے” کاشان نے چہرے پر بیزاری لائے تیسری دفعہ پوچھا ویسے ہی ویٹر ایک کیک لے کر آیا اور ٹیبل پر رکھا جس پر مایا نے مسکرا کر اسے دیکھا

“مینی مینی ہیپی ریٹرنز آف دی ڈے کاشان”

مایا کینڈلز جلاتی ہوئے بولی جس پر کاشان نے غصے سے لب بھینچے اب وہ اس کا پلان سمجھا یقیناً یہاں پر کوئی میٹنگ نہیں تھی وہ جھوٹ بول کر اسے یہاں لے کر آئی تھی کاشان کا دل چاہا کہ اس کے منہ پر تھپڑ رسید کر دے

“یہ کیا فضول قسم کی حرکت ہے مس مایا،، اس بے ہودگی کی وجہ سے آپ مجھے یہاں لائی ہیں”

کاشان نے تیز لہجے میں اس سے دریافت کیا

“اسے فضول حرکت نہیں کہتے کاشان سرپرائز برتھ ڈے وش کرنا کہتے ہیں۔۔۔ فرینڈ میں تو اس طرح چلتا ہے اور میں تمہیں فرینڈ سے کچھ زیادہ سمجھتی ہو،،، اس کا تو تمہیں اب تک اندازہ ہوگیا ہوگا”

مایا نے اس کی بات کا برا مانے بغیر اپنی محبت کا اعتراف کیا جس پر کاشان کو مزید خار چڑھی

“سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں آپ کا فرینڈ نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے اس طرح کے سرپرائز پسند ہیں۔۔۔ آپ سر شکیب کی بیٹی ہیں اس لحاظ سے میں آپ کا احترام کرتا ہوں آئندہ کوئی ایسی دوسری حرکت کر کے میرے سامنے اپنا امیج مزید خراب مت کریئے گا”

کاشان نے سوچا آج اس کی طبیعت اچھی طرح صاف کر ہی دےے

“واٹ ڈو یو مین مزید امیج مت خراب کرئیے گا،،، اگر محبت میں پہل لڑکی کردے تو اس میں امیج کہاں سے آگیا”

مایا کو شاید کاشان کی بات بری لگی جبھی وہ بولی

“میں ان مردوں میں سے ہرگز نہیں ہوں،، جو سامنے بجھی ہوئی عورتوں کی محبت پر سرشار ہو”

کاشان کے الفاظ اور انداز پر مایا بری طرح سلگی

“کیا۔۔۔۔ تم نے مجھے بچھی ہوئی عورت کہا،،، تمہاری ہمت کیسے ہوئی مایا کو اس طرح مخاطب کرنے کی۔۔۔ آخر تم میں غرور کس بات کا ہے،، کس بات پر اتنا اکڑتے ہو۔۔۔۔۔ آخر کون ہے وہ جس کے پیچھے تم مایا کو نظر انداز کر رہے ہو۔۔۔ مقابلہ کرسکتی ہے کوئی میرے آگے،، کیا نہیں ہے میرے پاس دولت اسٹیٹس حسن۔۔۔ ارے خوش نصیب ہو تم جو مایا نے تمہیں اپنے لئے چنا”

وہ ابھی بھی کاشان کو مزید کچھ کہتی مگر کاشان کی نظر سامنے رنعم پر پڑی

“رنعم”

وہ چیئر سے اٹھ کھڑا ہوا تو مایا بھی چپ ہو کر اس لڑکی کو دیکھنے لگی جس کے لیے کاشان ایکدم کھڑا ہوکر اس کی طرف بڑھا

رنعم نے ایک نظر اس ماڈرن لڑکی پر،، پھر ٹیبل پر رکھے کیک اور کاشان پر ڈالی چپ کر کے کاشان کی بات سنے بغیر ہوٹل سے باہر نکل گئی جبکہ کاشان مایا پر قہر بھری نظر ڈال کر رنعم کے پیچھے باہر نکلا

“اوہ تو یہ بات ہے ساری”

مآیا نے رنعم کے پیچھے کاشان کو جاتے ہوئے دیکھا تو سوچنے لگی

“تمہیں آواز نہیں آرہی ہے میری کب سے پکار رہا ہوں میں”

رنعم ہوٹل سے باہر جاکر رکی تو کاشان نے اس کے سامنے کھڑے ہوکر باروعب لہجے میں اسے مخاطب کیا

“مما ویٹ کر رہی ہوں گیں گھر جانا ہے مجھے جلدی۔۔۔ آپ کو اٹھ کر یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی اپنی برتھ ڈے سیلیبریٹ کریں آپ”

وہ اسے دیکھے بغیر سامنے گاڑیوں کو دیکھتے ہوئے بولی وہ الگ بات تھی آنکھیں اس کی سرخ ہورہی تھی جیسے ابھی وہ رو دے گی

“او تو یہ دکھ میری برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے پر ہے،، اندر چلو میرے ساتھ”

اس طرح شکوہ کرتے ہوئے وہ کاشان کو وہ اور بھی کیوٹ لگی۔۔۔۔ کاشان نے اس کے آگے ہاتھ بڑھا کر کہا

“نہ ہی مجھے کوئی دکھ ہے اور نہ ہی مجھے واپس جانا اور نہ ہی مجھے آپ کی کوئی وضاحت چاہیے”

رنعم کو اس وقت اس سے ذرا ڈر محسوس نہیں ہو رہا تھا بلکہ الٹا اپنے اوپر رونا آنے لگا

“تو تمہیں وضاحت دے کون رہا ہے،، اندر چلو میرے ساتھ آج کسی اور کو کچھ باور کرانا ہے”

کاشان اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے جانے لگا سامنے سے آتے جاتے لوگ شاید جوان مرد کا یوں ایک نازک سی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر چلنے کا انداز محبت بھرا لگ رہا ہوں۔۔۔۔ مگر کاشان کے ہاتھ کی سختی رنعم اچھی طرح محسوس کرسکتی تھی

سامنے سے یعشل رنعم کا ہینڈ بیگ اور گفٹ پیک جو کہ شاپر میں موجود تھا لے کر باہر آ رہی تھی،،، کاشان نے اس کو دیکھ کر بھی رنعم کا ہاتھ نہیں چھوڑا

“تم اکیلے کہاں چلی گئی تھی اپنا سامان چھوڑ کر گھر نہیں چلنا کیا واپس” یعشل نے کاشان کو سلام کر کے رنعم کو مخاطب کیا اور بیگ اور شاپر اسے تھمایا تو کاشان نے رنعم کا ہاتھ چھوڑا

“میں بھی گھر کے لئے ہی نکل رہا ہوں رنعم کو ساتھ ہی لے جاؤں گا”

رنعم کی بجائے کاشان نے ہلکی سی اسمائل کے ساتھ یعشل کو جواب دیا جس پر یہ یعشل نے کندھے اچکا کر اوکے کہا اور خدا حافظ کہہ کر اپنی کار کی طرف چلی گئی

کاشان نے دوبارہ رنعم کا ہاتھ پکڑا اور اسے ہوٹل کے اندر لے کر آیا جہاں مایا موجود تھی شاید وہ بھی اپنا بیگ کاندھے پر لٹکائے خراب موڈ کے ساتھ گھر کے لئے نکلنے والی تھی جبھی اسے سامنے سے کاشان اسی لڑکی کے ساتھ اندر آتا دکھائی دیا۔۔۔ ان دونوں کو ہاتھ تھامے اپنی طرف آتا دیکھ کر مایا اپنا غصہ ضبط کرنے لگی

“ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھ سے پوچھ رہی تھی آخر کون ہے وہ لڑکی جس کے پیچھے میں آپ کو نظر انداز کرتا ہوں۔۔۔۔ اس سے ملیں یہ ہے رنعم۔۔۔۔ جس کے آگے مجھے اور کوئی دوسری لڑکی اچھی ہی نہیں لگتی،،، آپ نے اپنے پاس موجود چیزوں کے بارے میں مجھے بتایا حسن، دولت، عزت، نام بے شک آپ ان چیزوں کی مالک ہیں مگر دو ایسی چیزیں رنعم کے پاس ہیں جس سے آپ محروم ہیں جاننا چاہیے گی آپ، وہ کیا چیزیں ہیں”

کاشان نے مایا کو دیکھ کر سوال پوچھا جس پر وہ چپ کھڑی غصے میں ان دونوں کو گھور رہی تھی جبکہ رنعم کنفیوز کھڑی کبھی مایا کو تو کبھی کاشان کو دیکھنے لگی

“میم اس کی آنکھوں میں شرم ہے جو کہ میں نے آج تک کبھی آپ کی آنکھوں میں نہیں دیکھی اور دوسری چیز اس کے پاس کاشان احمد ہے اور میری نظر میں آپ کا اور اس کا کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا”

کاشان مایا کو کہتا ہوئے دوبارہ رنعم کا ہاتھ تھامے اسے وہاں سے باہر لے گئے جبکہ مایا ان دونوں کو جاتا دیکھتی رہی

****

“میں ان مردوں میں سے نہیں ہو جو جگہ جگہ منہ مارتا پھروں۔۔۔۔ جو ایک بار دل میں بس گیا وہ ہمیشہ کے لیے بس گیا،، یہ وضاحت اب میں زندگی میں دوبارہ کبھی تمہیں نہیں دوں گا”

ڈرائیونگ کے دوران کاشان نے رنعم کو دیکھتے ہوئے کہا پھر ان دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی رنعم نے ایک دو مرتبہ گردن موڑ کر اسے دیکھا اس سے بات کرنی چاہی مگر وہ بالکل خاموش ڈرائیونگ کر رہا تھا تو رنعم نے بھی خاموشی اختیار کرلی۔۔۔۔

شام میں چائے پر یسریٰ نے اچھا خاصا ارینجمنٹ کیا ہوا تھا سب گھر کے فرد تھے جن کے درمیان کاشان اور ثوبان نے کیک کاٹا رات کا کھانا معمول سے تھوڑا لیٹ کھایا گیا اس کے بعد بہروز، ثوبان اور کاشان روز کی طرح باتوں کے درمیان چائے پی رہے تھے جبکہ یسریٰ اور رنعم اپنے اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں

رنعم کو بار بار آج مایا کے سامنے کاشان کے کہے ہوئے الفاظ یاد آ رہے تھے جس سے وہ اندر تک سرشار ہو گئی تھی،، بیڈروم کا دروازہ آہستہ سے ناک ہوا تو اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا ابھی بارہ بجنے میں دس منٹ تھے عموما اس وقت سب اپنے روم میں موجود ہوتے تھے رنعم نے دروازہ کھولا تو سامنے کاشان کو موجود پایا پیچھے ہٹ کر کاشان کو اندر آنے کا راستہ دیا کاشان نے روم میں آکر دروازہ بند کیا

“آج تم نے کھانے میں کوئی ڈش نہیں بنائی اپنے ہاتھوں سے”

کاشان نے رنعم کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پوچھا جس پر رنعم چونکی یعنی 15 دنوں میں وہ اس کے ہاتھ سے بنے کھانے کے ذائقے کو اس حد تک پہچاننے لگ گیا تھا

“آج مما نے کچن میں جانے ہی نہیں دیا نہ ہی کک کو کچھ بنانے دیا بلکہ آج انہوں نے اسپیشلی خود آپ کے اور بھیا کے لیے اپنے ہاتھ سے کھانا بنایا”

رنعم آئستہ آواز میں اسے بتانے لگی

“جبکہ آج میرا اسپیشل ڈے تھا اس لحاظ سے تو تمہیں کھانا بنانا چاہیے تھا، خیر آج کی معافی ہے مگر اب ڈیلی میرے لیے کھانا تم بناؤں گی۔۔۔ چاہے کہیں بھی جانا ہو کوئی بھی گیسٹ آئے یا کچھ بھی ہو”

وہ رنعم کو دیکھتا ہوا بولا

“آپ کو اچھے لگتے ہیں میرے ہاتھ کے کھانے”

رنعم نے خوش ہو کر کاشان سے پوچھا

“اب میں نے ایسا بھی کچھ نہیں کہا”

کاشان کے جملے پر رنعم نے اپنے لبوں کو سکھیڑا۔۔۔ وہ اب بھی دلچسپ نظروں سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے اسی کو دیکھ رہا تھا

“کیا ہوا اپنی تعریف سن کر آج تمہارا دل نہیں بھرا کہو تو پھر سے شروع ہو جاؤ”

وہ یقیناً آج دوپہر کی بات کا ذکر کر رہا تھا

“اب میں نے ایسا بھی خوش نہیں کہا”

رنعم نے اس کو دیکھ کر بولا تو کاشان مسکرایا

“ویسے تم مجھے آج صبح سے موبائل پر 20 بار وش کرچکی ہوں ایک بار فیس ٹو فیس وش کرو تاکہ میں ٹھیک سے تھینکس بول سکو”

کاشان بولنے کے ساتھ اس کا ہاتھ اپنے لبوں تک لے گیا،،، رنعم کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوا وہ بار بار اسے وش کر کے اپنی شامت خود لاچکی تھی۔۔۔۔

“کاشان پلیز”

رنعم نے جیسے ہی اپنا ہاتھ کاشان کے ہاتھ سے چھڑایا،، مگر دوسرے ہی لمحے رنعم کے بال اس کی مٹھی میں قید تھے

“کہا تھا نہ میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ مت چھڑانا”

رنعم کے بال اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جکڑے وہ رنعم کا چہرہ اونچا کرتا ہوا بولا

رنعم اب بری طرح ڈر گئی تھی مگر کاشان کا غصہ دیکھ کر اس میں کچھ بولنے کی سکت نہیں تھی۔۔۔۔ اب وہ رنعم کا چہرہ اپنے چہرے سے مزید قریب کر کے اس کے ہونٹوں پر اپنی شہادت کی انگلی پھیر رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے رنعم کے ریشمی بال مٹھی میں ابھی تک جکھڑے ہوئے تھے۔۔۔ جب وہ اپنے ہونٹ رنعم کے ہونٹوں کے قریب لایا تو رنعم نے آنکھیں بند کرلی لفظ بے شک اس کے احتجاج نہیں کر رہے تھے مگر انکھوں نے برس کر احتجاج کرنا شروع کردیا

“پرانا اور کامیاب ہتھیار”

رنعم کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر دیکھ کر اس نے اپنا ارادہ ملتوی کیا۔۔۔ انگلی کے پور سے اس کے آنسو صاف کر کے روم سے نکلتا ہوا باہر چلا گیا