504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 13)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“ارے بھائی جب کچھ اتا پتہ نہیں ہے تمہیں،، تو اس لڑکی کا رپورٹ میں کیا درج کرو”

ثوبان پولیس اسٹیشن پہنچا تو انسپرکٹر کسی شخص سے مغز ماری کر رہا تھا

“کیا مسئلہ ہے ان کا جواد”

ثوبان نے انسپکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

“سر میں آپ کو خود بتاتا ہوں،،، کل میں ہائی وے کے راستے سے اپنی کار میں گزر رہا تھا ایک لڑکی عبائے میں دیکھی،، جو مجھے پریشان لگ رہی تھی میں نے مدد کرنے کے لئے اس کو لفٹ دی مگر اس نے چاقو نکال کر مجھ سے میرا والڈ لے لیا اور جب میں نے گاڑی سے اتر کر پکڑنا چاہا تو مٹھی میں مٹی بھر کے میری آنکھوں میں ڈال کر کہا فرار ہو گئی مجھے کچھ اندازہ نہیں ہوا کہاں گئی”

آنے والا شخص، ثوبان کو اپنی دکھ بھری داستان سنا رہا تھا مگر ثوبان کا دماغ کہیں اور ہی چلا گیا بے ساختہ اس کے منہ سے سیرت نکلا

“جی سر کیا کہا آپ نے سیرت،، نہیں معصومہ تھا اس کا نام۔۔۔۔ اس نے مجھے خود بتایا اپنا نام،، نام اس کی شکل سے میل کھاتا تھا جبکہ وہ خود چورنی تھی سالی”

اس شخص نے آخری جملہ غصے میں کہا

“تمیز سے بات کرو کسی لڑکی کے بارے میں بات کر رہے ہو تم،،، شرم آنی چاہیے تمہیں”

ثوبان نے ماتھے پر شکنیں ڈالتے ہوئے اس کو جھڑکا

“ارے سر اس نے مجھے پورا لوٹ لیا شکر ہے یہ تن پر یہ کپڑے چھوڑ گئی اور آپ کہہ رہے ہیں میں تمیز سے بات کرو”

اس شخص کو مزید غصہ آنے لگا

“حلیہ بتاؤ اس کا کیسا تھا،، آئی مین قد رنگ وغیرہ”

ثوبان نے جواد سے سب نوٹ کرنے کے لئے کہا جبکہ وہ خود غور سے اس شخص کی بات سننے لگا

“رنگ صاف تھا قد تقریباً پانچ فٹ چھ انچ کالے بال عبائے سے جھانک رہے تھے آنکھوں کا کلر براؤن تھا شکل اتنی معصوم کہ بندہ دیکھتے ہیں اس کی ہر بات پر اعتبار کر لے جب کہ فگر بڑا ٹائٹ تھا”

ثوبان نے دوبارہ ناگوار نظر اس شخص پر ڈالی تو وہ چپ ہو گیا

“جبھی تم مفت کا مال سمجھ کر چلتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ لڑکی چالو نکلی” جواد نے ہنستے ہوئے اس شخص کو کہا

“کیا کرتی پھر رہی ہوں سیرت تم،، اف میرے خدا، اب کہاں تلاش کروں میں تمہیں”

ثوبان دل میں سوچتا ہوا اس کے لیے فکر مند ہوگیاا

****

آج کاشان کو فرسٹ سیلری ملی تھی تو وہ ثوبان کے ساتھ ساتھ بہروز، یسریٰ اور رنعم کے لئے بھی اپنی سیلری سے کچھ گفٹ لینے کا ارادہ رکھتا تھا اسی چکر میں وہ اس وقت شاپنگ مال کا چکر کاٹ رہا تھا ایک شاپ پر کاشان کی نظر ایک ڈیکوریشن پیس پر پڑی جس میں انڈے کے شیپ کے ایک پرل کے اندر خوبصورت سی ڈول بیٹھی ہوئی تھی اسے یہ گفٹ رنعم کے لئے پسند آیا وہ خود بھی تو ڈول جیسی تھی ڈیکوریشن پیس کو دیکھ کر کاشان نے مسکرا کر سوچا۔۔۔۔ ابھی وہ ڈیکوریشن پیس دیکھ ہی ریا تھا تب اسے کچھ محسوس ہوا،، کاشان نے اچانک پیچھے مڑ کر اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا جس کا ہاتھ اس کی بیک پاکٹ کی طرف بڑھتا ہوا اس نے محسوس کر لیا تھا۔ ۔۔۔ لڑکی کاشان کے ہاتھ پکڑنے پر ڈری مگر دوسرے ہی لمحے وہ اس کو پہچان گئی

“ہہہہم تو استادوں سے استادی کرنے چلی تھی”

پہچان تو اسے کاشان بھی گیا تھا تبھی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر محظوظ ہوتا ہوا بولا

“دماغ خراب نہیں ہو گیا تمہارا، میں بھلا کیو استادی کرنے لگی، ویسے جیل سے کب چھوٹے تم”

سیرت بچپن کی طرح ناک چھڑاتے ہوئے بولی جیسے وہ اتنے سالوں بعد نہیں بلکہ روز ہی ملتا رہا ہوں

“استادی کرتی بھی تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا پیسے، کریڈٹ کارڈ میں والٹ میں نہیں رکھتا ہوں اور یہ والٹ تو رکھا ہی میں نے چوروں کو دھوکا دینے کے لئے ہے”

اتنے سال بعد وہ ملا تو اس کو شرمندہ کر رہا تھا سیرت کا دل چاہا مکہ مار کے اسکا منہ توڑ دے اور اس کی بتیسی باہر نکال دے۔۔۔ وہ دونوں بھائی ہی اس لائق نہیں تھے کے ان سے اچھے طریقے سے بات کی جائے۔۔۔ اس لئے دانت پیستی ہوئی وہ وہاں سے جانے لگی

“او ہیلو ایسے کیسے جا رہی ہوں ایڈریس یا فون نمبر تو دیتی جاو”

کاشان نے اس کو جاتا دیکھا تو اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا سیرت وہی رک گئی اور اس کی طرف رخ کیا

“اگر اب تم نے میرا پیچھا کیا یا مجھ سے بات کی تو چیخ چیخ کر یہاں سب لوگوں کو جمع کرلوں گی اور اتنے جوتے پڑ واو گی کہ لڑکی چھیڑنے کے جرم میں دوبارہ اندر ہو جاؤ گے” سیرت نے سیریس ہوکر اس کو وارن کیا

“ہاہاہا میں اور تمہیں چھیڑو گا،، معاف کرنا سیرت بی بی جیل میں رہ کر بھی میرے اتنے برے دن نہیں آئے۔۔۔ مجھے تو اپنے بھائی کے ٹیسٹ اور چوائس پر افسوس ہوتا ہے،،، اسی غریب کا بھلا کرنے کے لئے موبائل نمبر مانگا تھا گڈ بائے”

جانے سے پہلے کاشان اس کو اچھی طرح تپانا نہیں بھولا

“کمینہ کہیں کا اتنے سال جیل میں رہا پھر بھی انسان نہیں بن سکا”

سیرت منی ہی منہ میں بڑبڑائی اور اپنے گھر کی طرف چل دی

****

“اف ابا بھی پتہ نہیں کہاں تفریح کرنے نکل پڑتے ہیں” سیرت فلیٹ کے اندر داخل ہوئی ناصر کو موجود نہ پا کر اپنے آپ سے بولنے لگی گلاس میں پانی نکال کر ابھی پانی کے دو گھونٹ حلق میں اتارے ہی تھے دروازہ بج اٹھا۔ ۔۔۔ سیرت نے دروازہ کھولا تو اس کا منہ بھی حیرت سے کھل اٹھا

“ہٹو بھئی راستہ دو”

کاشان نے اندر آتے ہوئے کہا

“تم میرا پیچھا کرتے ہوئے میرے گھر تک آگئے کس خوشی میں”

سیرت نے کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر کاشان سے سوال کیا

“گھر آئے مہمان سے ایسے بات کی جاتی ہے ہم تو بچپن کے دوست ہیں”

کاشان نے اس ایک کمرے کے فلیٹ کا جائزہ لینے کے بعد،،، سامنے چھوٹے سے کچن میں اسے ٹوکری نظر آئی جس میں سے سیب اٹھا کر سیرت سے بولا

“سیب واپس رکھو یہ میں ابا کے لئے لائی تھی”

سیرت نے بغیر لحاظ کیے اس سے بولا, بالکل اسی طرح جیسے وہ بچپن میں اس کا لحاظ نہیں کرتا تھا

“یقیناً یہ بھی کسی ٹھیلے سے چھپر کر کے لائی ہوگی یا اپنی اس معصوم شکل سے سیب والے کو الو بنایا ہوگا۔۔۔ چوری کا مال کھا کر ناصر کی صحت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا”

کاشان نے کمرے میں موجود اکلوتی مرمت شدہ کرسی پر بیٹھ کر سیب کی بائٹ لیتے ہوئے کہا

“یہ میں پیسوں سے خرید کر لائی ہوں اور ابا کا عزت سے نام لو”

سیرت شہادت کی انگلی اٹھاکر اسے وارن کرتی بولی،، سیرت کو اس سے مل کر رتی برابر خوشی نہیں ہوئی کیوکہ وہ بڑا ہو کر بچپن سے زیادہ بڑا ذلیل بن گیا تھا

“ناصر نے کون سے عزت والے کام کیے ہیں جو اس کا عزت سے نام لو”

کاشان نے بظاہر سنجیدگی سے بولا مگر انداز اس کا صاف مذاق اڑانے والا تھا

“عزت کے کام بےشک نہیں کیے مگر تمہاری طرح حوالات کی ہوا بھی نہیں کھائی کبھی،،، سیب کھا لیا ناں، چلو نکلو میرے فلیٹ سے فٹافٹ”

سیرت نے بھی بغیر لحاظ کے اس کی عزت افزائی کرنا اپنا فرض سمجھا

“بچپن میں کافی بدتمیز ہوا کرتی تھی تم،، اب بدتمیز کے ساتھ ساتھ کافی منہ پھٹ بھی ہوگئی ہو۔۔۔۔ افسوس ہورہا ہے مجھے ثوبی کی قسمت پر” کاشان نے مصنوئی انداز میں افسوس کرتے ہوئے کہا

“ہاہاہا شاید جیل سے چھوٹنے کے بعد تم اپنے بھائی سے نہیں ملے ہو ورنہ کبھی ایسا نہیں بولتے۔۔۔۔ کسی خوبصورت میم کو پٹایا ہے اس نے،،، بڑی سی مہنگی گاڑی میں لیے گھومتا ہے اس کو”

ایک ماہ پہلے والا منظر سیرت کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تو وہ کلس کر بولنے لگی

“یہ میرے سیدھے سادے، بھولے بھالے بھائی کر سراسر الزام ہے وہ ایسا ہرگز نہیں”

کاشان کو لگا کہ سیرت کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔۔ ثوبان نے اسے سیرت سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا تھا اور وہ بتاتے ہوئے کافی افسردہ بھی لگ رہا تھا،،، تبھی کاشان سیرت کے گھر تک پہنچا تاکہ اس کا ایڈریس معلوم کر سکے

“سیدھا سادہ بھولا بھالا وہ بچپن میں تھا اب نہیں،، میں نے اسے خود ہری آنکھوں والی لڑکی کے ساتھ دیکھا اور اب زیادہ میرا دماغ نہ کھاؤ،،، تم دونوں بھائی اس لائق ہی نہیں ہوں کہ تم دونوں سے بات کی جائے”

سیرت نے تپ کر کہا

“اوہو تو تم نے اسے میری ڈول کے ساتھ دیکھا ہے،، خیر شکل سے تم پہلے ہی مار کھائی ہوئی تھی آج تمہاری عقل کا بھی پتہ چل گیا۔۔۔۔ ثوبی خود تمہیں سمجھا لے گا”

کاشان بولتا ہوا دوسرا سیب اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا

“مجھے تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کیا بکواس کر کے چلا گیا یہ”

سیرت نے کہتے ہوئے دروازہ بند کیا