504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 41)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“کل ڈنر پر جانے سے انکار کیوں کر دیا تم نے”

ثوبان موقع پاتے ہی سیرت کے بیڈروم میں داخل ہوا ورنہ وہ کل سے اس کو مکمل نظرانداز کر رہی تھی بلکہ ثوبان اس سے اکیلے بات کر سکے، ایسا موقع ہی نہیں رہی تھی

“بتایا تو تھا موڈ نہیں تھا باہر جانے کا۔۔۔۔۔ پیچھے ہٹو باہر جانا ہے مجھے” سیرت نے سیریز ہو کر ثوبان سے کہا جو اچانک ہی کسی جن کی طرح اس کے کمرے میں نمودار ہو گیا تھا اور اس کا راستہ روکے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا

“باہر بعد میں جانا پہلے میری بات کا جواب دو، کل رات کو اپنا روم کیو لاک کیا تھا تم نے اور موبائل پر کال کیو نہیں رسیو کر رہی تھی میری”

وہ اب بھی نرم نظروں کے حصار میں لیے سیرت سے نرمی سے پوچھ رہا تھا

“میں نے اپنا روم کا دروازہ اس لیے لاک کیا ہوا تھا تاکہ تم اندر نہیں آ سکوں اور کال میں تمہاری اس لیے نہیں ریسیو کر رہی تھی تا کہ میں تمہاری آواز نہیں سن سکوں اور میں ایسا کیوں کر رہی تھی اس کی وجہ تم بخوبی جانتے ہو، مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ہٹو میرے راستے سے”

سیرت کے لہجے میں سنجیدگی ہنوز برقرار اب کی بار بولنے کے ساتھ سیرت میں ثوبان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا جو دروازے کے پاس اس کا راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا مگر ثوبان نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں پر رکھے

“کیا بہت زیادہ ناراض ہو”

اب ثوبان اسے بانہوں میں لئے پوچھ رہا تھا

“اپنا غصہ دیکھا تھا تم نے پہلی دفعہ کتنا برا سلوک کیا تم نے میرے ساتھ،، میرے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ بھی نہیں کیا کتنے پیار سے تمہارے لیے بنایا تھا کتنا دکھ ہوا مجھے اس کا اندازہ ہے تمہیں”

سیرت اس کی بانہوں میں اسی کو شرمندہ کر رہی تھی مگر وہ اب زیادہ دیر تک اس سے ناراضگی برقرار نہیں رکھ سکتی تھی بالکل اسی طرح جسطرح ثوبان اسے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتا تھا

“اندازہ ہے مجھے جبھی تو کل سے منانا چاہ رہا تھا اور تمہارے ہاتھوں سے بنا ہوا ناشتہ نہ کرنے کا پچھتاوہ تو مجھے سارے دن ہوتا رہا کتنی بار کوشش کی بات کرنے کی مگر تم ہاتھ ہی نہیں آرہی تھی کل۔۔۔ اچھا اب معاف کر دو نا”

وہ اس کو بانہوں میں لیے لاڈ اٹھانے والے انداز میں کہنے لگا

“ہاتھ پکڑ کر تم نے مجھے اپنے روم سے نکالا تھا”

دوسری طرف سیرت اپنے لاڈ اٹھوانے کے لیے تیار بیٹھی تھی

“چلو پھر آج بانہوں میں اٹھا کر تمہیں اپنے روم میں لے جاتا ہوں”

ثوبان نے بولنے کے ساتھ ہی عملی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جس پر سیرت نے اس کے پاؤں پر زور سے اپنا پاؤں مارا۔۔۔ ثوبان گھور کر اسے دیکھنے لگا

“زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے اب میں اتنی آسانی سے تو ہرگز نہیں جاؤں گی”

سیرت نے اسے اترانے سے منع کیا، خود اتراتے ہوئے بولی

“ٹھیک ہے پھر میں آج تمہیں لے کر نہیں جاؤں گا،، دھڑلے سے ہمارے ولیمے والے دن سب کے سامنے لے کر جاؤ گا اپنے بیڈ روم میں اور جب لے کر جاو گا تب تمہارے کوئی بھی داؤں بیچ کام نہیں آئیں گے”

ثوبان چیلنج کرتا ہوں اسے دیکھ کر کہنے لگا جس پر سیرت نے اس کو ابرو اچکا کر دیکھا

“اور ابھی کیا ارادے ہیں آپ کے،، راستہ چھوڑنا پسند کریں گے آپ میرا یا یونہی دیوار بن کر کھڑے رہنے کا ارادہ ہے”

سیرت معصومیت سے اس سے پوچھنے لگی اور ثوبان تو جیسے اس کی اسی معصومیت پر ہر دفعہ مر مٹتا تھا

“اپنے ارادوں کا تو میں تمہیں تب بتاؤں گا جب تم میرے بیڈروم میں آؤں گی فی الحال یہ جان لو کہ میرے ارادے ذرا سے بھی نیک نہیں ہیں”

ثوبان اسے خود سے قریب کر کے معنی خیزی سے بولا

“ثوبی میں نوٹ کر رہی ہو تم دن بہ دن کافی بدتمیز ہوتے جا رہے ہو”

ثوبان کی بات پر سیرت نے اپنی مسکراہٹ چھپا کر اسے ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے کہا

“جبکے صحیح والی بدتمیزی تو میں نے ابھی تک شروع بھی نہیں کی”

بولنے کے ساتھ ہی وہ جھک کر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا

“بےشرم پیچھے ہٹو دروازہ کھلا ہے اس دن کی طرح کہیں مما نہ آجائے۔۔۔۔ اپنے نیک بیٹے کو اس روپ میں دیکھ کر وہ بلاوجہ ہی شرمندہ ہی ہو جائیں گی”

سیرت ثوبان کو بولتے ہوئے پیچھے ہٹانے لگی اور خود باہر جانے لگی

“فل الحال مما یہاں پر نہیں آرہی ہیں بلکہ ہم دونوں باہر جارہے ہیں۔۔۔۔ جلدی سے ریڈی ہو جاؤ فنکشن کے حساب سے ڈریس لینا ہے تمہارے لیے،، مما بابا کو میں بتا چکا ہوں”

وہ سیرت کو بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا

****

سیرت کے کافی منع کرنے کے باوجود ثوبان نے اس کے لئے کافی ہیوی میکسی لی۔۔۔۔۔ اس کا کہنا تھا کوئی مزاق بات نہیں ہے ہمارے ولیمے کا فنگشن ہے۔۔۔ اس کے جیولری شاپ سے رنعم اور سیرت دونوں کے لئے ایک جیسے بریسلیٹ لے کر وہ دونوں کار میں بیٹھے ثوبان ابھی کار ڈرائیو کر رہا تھا سیرت اچانک چیخی

“ثوبی کار روکو جلدی سے”

سیرت کے چیخنے پر ثوبان نے فوراً کار کو بریک لگایا

“کیا ہو گیا سب خیریت ہے”

ثوبان نے اپنی گاڑی کے پاس آس پاس نظر دوڑائی پھر دماغ میں اپنا ریوالور جو کہ اس نے سیٹ کے نیچے رکھا ہوا تھا اس کو نکالنے کا سوچتے ہوئے بولا

“ہاں وہ پانی پوری والا پیچھے رہ گیا مجھے وہ کھانی ہے” سیرت نے معصومیت سے بولا جس پر ثوبان نے اسے غصے میں گھورا

“سیرت دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا،، پریشان کر کے رکھ دیا تم نے مجھے۔۔۔ خاموش کر کے بیٹھو اب”

ثوبان اس کو ڈانٹتا ہوا دوبارہ کار اسٹارٹ کرنے لگا

“اپنی بیوی کی تم ایک ننھی سی خواہش پوری نہیں کرسکتے،، بدتمیز قسم کے شوہر ہو تم اب دیکھنا تمہارے ارادے کیسے کامیاب ہونے دیتی ہو میں۔۔۔ سارے ارمانوں پر بالٹی بھر بھر کے پانی نہ ڈالو تو نام بدل دینا میرا”

سیرت نے ثوبان کو دھمکاتے ہوئے کہا

“سیرت میں تمہیں اچھے سے ہوٹل میں ڈنر کرانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور تم ٹھلیے کی پانی پوری کے لئے مجھ سے ناراض ہو رہی ہو” ثوبان نے اس کی ناراض صورت دیکھتے ہوئے افسوس سے کہا

“میرا دل نہیں چاہ رہا ہے بڑے بڑے ہوٹلز کے پھیکے پھیکے کھانے کھانے کا اور اگر تمہیں مجھ سے ذرا سی بھی محبت ہے تو فوراً گاڑی پیچھے لو”

ثوبان نے تاسف سے سیرت کو دیکھا اور گاڑی واپس پیچھے موڑی

“اب مجھے اندازہ ہو رہا ہے کاشی بالکل ٹھیک کہتا ہے تمہاری لگامیں مجھے نکاح کے دن ہی کھینچنی چاہیے تھی”

ثوبان کو افسوس ہوا اس کی بیوی اس کی محبت کا اندازہ اس کے پانی پوری کھلانے سے لگا رہی تھی

“اچھا تو وہ بدتمیز انسان تمہارے کان بھرتا ہے میرے خلاف،، ابھی رنعم سے اس کی لگامیں کھینچواتی ہو۔۔۔ کل ہی رنعم کو فون کرکے بتاؤں گی کہ اپنے شوہر کا جینا حرام تم نے کیسے کرنا ہے”

سیرت کی بات پر ثوبان ہنسنے لگا

“میری بہن بہت سیدھی ہے وہ تمہاری باتوں میں نہیں آئے گی۔۔۔ مگر تمھاری باتیں سن کر تو اب مجھے خود پر ترس آ رہا ہے تھوڑا تھوڑا”

ثوبان اپنی مسکراہٹ چھپا کر سیرت کو دیکھتے ہوئے بولا

“ارے بے فکر رہو ڈرو نہیں مجھ سے تمہارا جینا حرام تھوڑی کروں گی میں۔۔۔ تم تو میرے بہت پیارے سے شوہر ہو”

ثوبان نے پانی پوری والے کے پاس اپنی کار روکی تو سیرت نے آنکھوں میں شرارت لیے اسے بولا ثوبان نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا

“بھائی ذرا جلدی سے دو پلیٹ پانی پوری کی بنا دو” کار کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے ثوبان نے پانی پوری والے سے کہا کافی عرصے بعد وہ یوں آج اپنی بیوی کی بددولت پانی پوری کھائے گا ثوبان سوچنے لگا

“دو پلیٹ کیوں کہا تم نے اس سے۔۔۔ کیا تم نہیں کھاؤ گے” سیرت نے معصومیت سے ثوبان کو دیکھ کر پوچھا تو ثوبان نے اسے ناسمجھی سے دیکھا

“تمہارا مطلب ہے تم دو پلیٹ پانی پوری کھاو گی”

ثوبان نے آنکھیں نکال کر سیرت سے پوچھا

“ثوبی یہ آنکھیں نکالنا بند کرو اور جلدی سے تیسری پلیٹ کا بھی بولو۔۔۔ میں چاہے تم سے کتنی ہی محبت کرو مگر پانی پوری بالکل نہیں شیئر کرنے والی”

سیرت نے گردن اکھڑا کر کہا۔۔۔ ثوبان افسوس سے اپنی خود غرض بیوی کو دیکھنے لگا اور اپنے لیے پانی پوری کا بولا

“او بھائی ذرا ایک پلیٹ چنے چاٹ بناؤ مرچے ڈالتے ہوئے تکلف مت کرنا”

دو پلیٹ پانی پوری کھانے کے بعد سیرت نے ہانک لگاتے ہوئے کہا جس پر ثوبان غش کھا کر رہ گیا

“سیرت خدارا چٹورپن سے باز آجاؤ ابھی کھانا بھی کھاؤ گی تو کہیں تمہاری طبیعت ہی نہ خراب ہو جائے”

ثوبان نے اس کا خیال کرتے ہوئے اسے مشورہ دیا

“ایس۔پی صاحب میں نے صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا اور اب میرا کھانا کھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تم مما بابا کے ساتھ کھانا کھا لینا”

وہ چاٹ کی پلیٹ سے انصاف کرتے ہوئے بولی ثوبان نے ایک دفعہ پھر نفی میں اپنی گردن ہلائی

جب بل دینے کی باری آئی اور ثوبان نے اپنا والٹ نکالا سیرت ایک بار پھر بولی

“او بھائی کس سے پیسے مانگ رہے ہو پولیس والے کبھی پیسے دے کر کھاتے ہیں کچھ۔ ۔۔۔ ثوبی اپنا والٹ اندر رکھو اپنا کارڈ دیکھاو اسے”

سیرت نے اماں بن کر مشورہ دیا جس پر ثوبان شرمندہ ہوا

“سیرت اپنا منہ بند رکھو اب،، کسی بھی سامنے کچھ بھی بولتی ہو تم”

ثوبان نے اسکی اسے گھورتے ہوئے ٹوکا اور کار اسٹارٹ کردی

“میں تو تمہارے بھلے کی بات کر رہی تھی اور میرا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ تم کبھی ترقی نہیں کر پاؤ گے”

سیرت نے کندھے اچکا کر کہا ثوبان نے کار میں موجود ایف ایم ان کر دیا۔۔۔۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے یقین تھا کہ سیرت اب سارے راستے اسے اس کی جاب سے متعلق آوٹ پٹانگ مشورے دیتی رہے گی

****

“کاشان آپ کو معلوم ہے بھئیا اور آپی کا پہلے سے نکاح ہوا تھا”

وہ دونوں تھوڑی دیر پہلے ہی یسریٰ اور بہروز کے پاس سے ہو کر اپنے گھر آئے تھے۔۔۔ وہاں انہیں معلوم ہوا کہ ثوبان اور سیرت باہر نکلے ہوئے ہیں۔۔۔کاشان بہروز کے پاس بیٹھا اس سے باتیں کر رہا تھا جبکے رنعم اٹھ کر یسریٰ کے پاس کچن میں آگئی۔۔۔ یسریٰ کو اندازہ تھا کہ کاشان کو شاہدہ کے ہاتھ کا کھانا نہیں پسند۔۔۔ وہ اس لیے کاشان کے لیے کڑھائی بنا رہی تھی یسریٰ نے ہی رنعم کو نکاح والی بات بتائی۔۔۔ بغیر تین دن پہلے والی بدمزگی والے واقعے کےے

“ہاں میری جان ان دونوں کے نکاح میں ایک گواہ تمہارا شوہر بھی تھا”

کاشان ابھی چینج کرکے بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔ رنعم کا ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گراتے ہوئے اس کی معلومات میں اضافہ کرنے لگا

“مطلب آپ کو معلوم تھا آپی اور بھیا پہلے سے ہنسبینڈ اور وائف ہیں۔۔۔ آپ نے مجھے بھی نہیں بتایا”

رنعم نے شکوہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا

“یار ایمرجنسی میں ہوا تھا ان کا نکاح،، اس وقت سچویشن ایسی تھی ثوبی نے کہا وہ خود بعد میں بتائے گا اب تم اپنے بھیا سے ناراض ہونا اس بات کو لے کر”

کاشان نے اس کے بالوں سے کلپ نکال کر سائڈ پر رکھا۔۔۔ اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے بولا

“میں کیوں ناراض ہونے لگی اپنے بھیا سے،، مجھے تو حیرت کے ساتھ ساتھ بہت خوشی ہورہی ہے یہ سن کر۔۔۔ کتنے پیارے لگے گے بھیا اور آپی ہسبنڈ اور وائف کے روپ میں”

رنعم نے خوش ہوتے ہوئے کاشان سے کہا تو وہ مسکرایا

“انکل بتا رہے تھے کہ اس سیٹرڈے کو فنکشن رکھا ہے۔۔۔ اب اپنے بھیا اور آپی کو چھوڑو اپنے ہسبنڈ پر غور کرو”

بولنے کے ساتھ ہی وہ رنعم کے گلے میں موجود گولڈ کی چین اتارنے لگا اسے معلوم تھا یہ اسے ڈسٹرب کرے گی

“میں سوچ رہی ہوں کاشان،، بھیا اور آپی کے لئے گفٹ لیا جائے”

کاشان اس کی گردن پر جھکنے لگا تبھی رنعم اکسائٹڈ ہوکر بولی

“میرے دماغ میں آیا تھا کل تیار رہنا آفس سے آنے کے بعد چلتے ہیں دونوں کے لئے گفٹ لینے” کاشان بولتا ہوا دوبارہ اس کی گردن پر جھک چکا تھا

“میں بھی فنکشن کے حساب سے نیو ڈریس لوگی اپنی شادی کا کوئی بھی ڈریس نہیں پہنوگی”

رنعم کے بولنے پر کاشان نے سر اٹھایا اور سنجیدگی سے اسے دیکھا

“تمہیں ضروری ہے اس وقت یہ والی باتیں کرنا”

وہ سنجیدہ ہوکر رنعم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“آپ بتائیں پھر یہ والی باتیں میں کب کرو”

رنعم نظریں جھکا کر اس کے سینے پر اپنی ہاتھ کی انگلی سے R بناتے ہوئے پوچھنے لگی

“کل میں آفس سے ایک گھنٹے پہلے چھٹی لے کر آؤں گا تب تم یہ والی باتیں کر لینا مگر اس وقت مجھے میری ڈول چاہیے اس لیے اب کوئی فضول بات نہیں”

کاشان نے اس کا جواب سننے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے

****

“ارے کاشی کیسا ہے تو”

کاشان رنعم کو لے کر سیرت اور ثوبان کے لیے گفٹ لے کر جیولری شاپ سے نکل رہا تھا تبھی اسے اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی کاشان نے مڑ کر دیکھا تو شیرا اس کے سامنے کھڑا تھا کاشان کو مخاطب کرنے کے بعد اب وہ رنعم کو غور سے دیکھ رہا تھا

“جاو کار میں جا کر بیٹھو”

شیرا کے رنعم کو دیکھنے پر کاشان کے ماتھے پر ناگوار بل پڑے اس نے رنعم کو مخاطب کیا رنعم تیزی سے چلتی ہوئی کار میں بیٹھ گئی

“بولو کیو روکا ہے مجھے”

رنعم کے جانے کے بعد کاشان نے شیرا سے پوچھا

“تیرا حال چال پوچھنے کے لئے روکا ہے، دوست ہے تو میرا۔۔ جیل سے رہاح ہوکر گیا مل کر بھی نہیں گیا۔۔۔ اور سنا لگتا ہے شادی وادی کرلی”

شیرا اس وقت بڑے دوستانہ لہجے میں کاشان سے بات کر رہا تھا جبکہ جیل میں اسکی اور کاشان کی دو سے تین بار ہاتھا پائی ہو چکی تھی

“ایک منٹ اپنا جملہ درست کرلو ہم دونوں کبھی دوست نہیں رہے اور نہ کبھی دوست ہو سکتے ہیں اس لئے میں رہاح ہوکر گیا تو کیوں نہیں مل کر گیا اور اب کیا کر رہا ہوں،،، شادی کی ہے یا نہیں ہے ان سب باتوں سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے اور اگر آئندہ کبھی ہمارا سامنا ہو تو مجھے مخاطب کرنے کی ضرورت نہیں”

کاشان اس کو جواب دے کر وہاں سے چلا گیا

جیل میں کاشان کو اس سے چڑ تھی وہ ایک لڑکی کے ریپ کے کیس میں جیل کے اندر آیا تھا۔۔۔ عورتوں کے متعلق گھٹیا قسم کی باتیں کرنا چرس کا نشہ کرنا خراب طبیعت کا مالک تھا وہ،، دو دفعہ کاشان سے وہ خود ہی الجھا اور اس بات پر کاشان نے اس کو بری طرح مارا تھا اتنا کہ اس کے منہ سے خون نکال دیا

کاشان کے منہ سے ٹکا سا جواب سن کر شیرا اس کو ہنس کر دیکھتا رہا۔۔۔ کاشان جب تھوڑی دور کھڑی اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھا تو شیرا رنعم اور گاڑی کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔۔ دو مہینے پہلے ہی وہ جیل سے باہر نکلا تھا۔۔۔ اور خوش قسمتی سے ایک پولیٹیشن کا گارڈ بھی لگ گیا تھا

****

“دوپٹہ ٹھیک سے لو رنعم”

کاشان نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا اور فوراً کار اسٹارٹ کردی۔۔۔ رنعم نے اپنے دوپٹے کو دیکھا تو اس کے بازو ڈھکے ہوئے تھے مگر کاشان کے موڈ کو دیکھ کر جو اس آدمی سے مل کر اچانک خراب ہوگیا تھا۔۔۔ وہ ایک دفعہ پھر اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی

“کاشان آپ سے ایک بات پوچھو اگر آپ مائینڈ نہیں کرے تو”

چند منٹ بعد رنعم نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کاشان کو دیکھ کے کہا

“ہہم بولو”

کاشان رنعم کو دیکھے بغیر ڈرائیونگ کرتا ہوا بولا

“میں سوچ رہی تھی کے عبایا لے لو”

رنعم کی بات پر کاشان نے ایک نظر رنعم کو دیکھا

“میرے کہنے کا مطلب ہے اچھا لگتا ہے۔۔۔ یونیورسٹی میں نے کافی لڑکیوں کو دیکھا ہے۔ ۔۔ فیشن میں بھی ہے،، سوٹ کرے گا نہ مجھ پر”

رنعم نے جلدی سے بات بنائی اور ساتھ ہی اس کی رائے بھی جاننی چاہیی

“ضرورت نہیں ہے اس کی،، دوپٹے سے اپنے آپ کو اچھی طرح کور کر لیا کرو بس اتنا ہی کافی ہے”

ڈرائیو کرتے ہوئے کاشان نے ایک ہاتھ سے اس کے گلے کی طرف سے دوپٹہ اوپر کرتے ہوئے کہا تو رنعم خاموش ہوگئی۔۔۔ کاشان نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک نظر رنعم پر ڈالی تو وہ سر جھکائے اپنے ناخنوں کو دیکھ رہی تھی

“اچھا بتاؤ ریسٹورینٹ میں ڈنر کرنا ہے یا پیک کرا لو”

کاشان نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا

“نہیں آپ کار گھر کی طرف لے لیں کل ہی ایک نئی ریسپی نوٹ کی تھی آج ٹرائے کرتی ہوں”

رنعم نے کاشان کو دیکھ کر کہا تو کاشان نے اس کو دیکھ کر اسمائل دی اور کار کا رخ اپنے فلیٹ کی طرف کیا

تھوڑی ہی دیر گزری تھی انہیں گھر آئے ہوئے ایک دفعہ پھر بیل بجی۔۔۔ کاشان لیپ ٹاپ سائڈ میں رکھتا ہوا ایک نظر کچن میں رنعم پر ڈال کر دروازہ کھولنے لگا