Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 46)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 46)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“کیا کر رہی ہیں مما”
ثوبان گھر آیا تو یسریٰ کے روم میں داخل ہوا وہ بہروز کی تصویر پر ہاتھ میں لیے اسے دیکھ رہی تھی ثوبان کی آواز پر چونکی
“کچھ نہیں تمہارے بابا سے باتیں کر رہی تھی، تم کب آئے”
یسریٰ نے مسکرا کر تصویر ایک سائڈ پر رکھ کر ثوبان سے پوچھا
“بالکل ابھی آیا ہوں بابا سے کیا باتیں کررہی تھی آپ” ثوبان یسریٰ کے پاس صوفے پر بیٹھ کر اس کے کندھے کے گرد ہاتھ رکھتا ہو اس سے پوچھنے لگا
“یہی شکوہ کر رہی تھی بہروز سے کہ مجھے ساری زندگی بے وقوف بناتے رہے جھوٹ بولتے تھے کہ مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں اور ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے اور دیکھو اپنی اولادوں کی خوشیاں دیکھ کر مجھے تنہا چھوڑ کر چلے گئے یہ کون سی محبت ہے بھلا”
یسریٰ ثوبان کے کندھے پر سر رکھ کر اس سے بولنے لگی
“بابا نے سب سے زیادہ آپ ہی کو چاہا تھا مما، اس کے بعد ہمارا نمبر آتا ہے۔۔۔ اکثر ہلکے پھلکے بخار بھی وہ فوراً مجھ سے کہتے تھے میرے بعد اپنی مما کا خیال رکھنا اور اپنی طبیعت خرابی میں بھی تو انکو آپ ہی کا احساس رہتا تھا”
ثوبان کے منہ سے بہروز کا ذکر سن کر کندھے سے لگی یسریٰ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے
“بس میری سیرت کی اور رنعم کی خوشیاں دیکھ کر۔۔۔ ہمہیں اپنی زندگی میں مطمئن دیکھ کر انہوں نے فوراً ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلی”
بہروز کے ذکر سے ثوبان کے لہجے میں افسردگی شامل ہونے لگی
“تمہارے بابا کی مجھے بہت یاد آتی ہے ثوبان”
یسریٰ نے ثوبان کے کندھے سے سر اٹھا کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا
“تو آپ مجھ سے یا سیرت سے بابا کی ذکر کر لیا کریں مگر یوں مت رویا کریں مجھے تکلیف ہوتی ہے”
ثوبان یسریٰ کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا
“اچھا یہ بتائیں کہ سیرت کہاں پر ہے،، آج کہیں باہر ڈنر کرنے کا پروگرم رکھ لیتے ہیں ایک گھنٹے بعد نکلیں گے اور نیکسٹ ویک ہم تینوں آنی کی طرف چکر لگا لیں گے کافی دن ہوگئے ہیں ان سے ملے ہوئے”
ثوبان نے یسریٰ کو اداس دیکھ کر پروگرام بنا لیا۔۔۔ ثوبان نے سوچا اسطرح وہ اپنے کمرے میں تنہا رہے گی تو مزید اس کی طبیعت خراب ہوگی اسلیے ثوبان کو یسریٰ کی فکر ہونے لگی
****
“کب آئے تم معلوم ہے آج میرا دن کتنا بور گزرا کیا بتاو” ثوبان بیڈروم میں داخل ہوا تو میگزین دیکھتی ہوئی سیرت اس کو دیکھ کر بولنے لگی
“سیرت اگر اتنی ہی بوریت کا شکار ہوتی ہو تو تھوڑی دیر مما کے پاس بیٹھ جایا کرو وہ بھی اکیلی بور ہوتی ہیں” ثوبان نے نارمل سے انداز میں صوفے پر بیٹھ کر شوز اتارتے ہوئے اسے مشورہ دیا
“یہ بھی صحیح ہے میں تم سے اپنی بوریت کا ذکر کر رہی ہوں اور تم مما کی بوریت کا ذکر کر رہے ہو۔۔۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ میں صبح سے دوپہر کو ان کے پاس ہی تھی اور آج تو میں نے ان کو خود ہی میڈیسن بھی دی”
سیرت میگزین سائڈ پر رکھتے ہوئے منہ بنا کر بتایا
“سیرت مما نے مجھ سے تمہارے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا۔۔۔ تم نے اپنی بوریت کا بولا تو میں نے تمہیں مشورہ دے دیا۔۔۔ بلو شرٹ کہاں ہے میری صبح میں کہہ کر گیا تھا پریس کروا دینا”
ثوبان وارڈروب میں اپنی شرٹ تلاش کرتے ہوئے بولا
“یہ شاہدہ ناں بہت کام چور ہے۔۔۔ ابھی پوچھتی ہو اس سے”
سیرت ثوبان سے بولتے ہوئے روم سے باہر جانے لگی تو ثوبان نے اس کا بازو پکڑا
“سیرت شاہدہ اس گھر میں کافی عرصے سے کام کرتی ہے اور مما بابا نوکروں کے ساتھ کبھی مس بی ہیو نہیں کرتے پلیز تم بھی تھوڑا سا خیال کیا کرو یار تم نے کل اسے کتنی باتیں سنائی”
ثوبان اس کو پیار سے سمجھانے لگا
“تو پھر تم شاہدہ سے خود پوچھ لو میری تو ہر بات پر ٹوکتے ہو مجھے”
سیرت ثوبان سے اپنا بازو چھڑاتی ہوئی بولی
“میں کیوں پوچھو شاہدہ سے۔۔۔ بیوی تم ہو میری۔۔۔۔ بیوی کا فرض ہوتا ہے اپنے شوہر کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔۔۔۔۔ میں بس یہی کہہ رہا ہو لہجے میں نرمی لا کر بات کیا کرو”
ثوبان نے ابھی بھی تحمل سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو سیرت چپ ہوگئی۔۔۔۔۔ اسے ثوبان کی یہی بات اچھی لگتی تھی کہ وہ دوسرے مردوں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر چیخ و پکار شروع نہیں کر دیتا تھا۔۔۔
“اچھا دو منٹ رک جاو میں خود پریس کرکے لا رہی ہو”
سیرت بولتے ہوئے روم سے باہر جانے لگی نکال تو ثوبان نے اس کا ہاتھ تھاما
“رہنے دو میں کوئی اور شرٹ پہن لیتا ہوں تم جلدی سے تیار ہو رہا آج میں مما اور تم رات کا ڈنر باہر کریں گے”
ثوبان اسے اپنے پروگرام کے بارے میں بتایا
“جی نہیں آج بھی میں نے تمہارے لئے خود اپنے ہاتھوں سے تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے وہ بھی اتنی محنت سے”
سیرت نے اس کو گھورتے ہوئے کہا تو ثوبان نے اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہونٹ رکھ خود سے قریب کیا
“یار مما سے بول چکا ہوں ڈنر کا، تم نے اپنے ہاتھوں سے میرے لیے کھانا بنایا ہے تو وہ میں وہی کھانا کل کھا لوں گا پلیز ابھی میری بات مان لو”
ثوبان کے اتنے پیار سے بات کرنے پر سیرت مسکرا دی
“اوکے میں تیار ہوتی ہوں پھر”
ثوبان کو سیرت کی یہی بات پسند تھی وہ کسی بھی بات کو انا کا مسئلہ نہیں بناتی تھی اور فوراً مان جاتی تھی
****
رنعم شام میں شاور لے کر نکلی بیڈروم کی کھڑکی سے اس نے باہر جھانکا تو موسم ابر آلود ہو رہا تھا
“اف لگتا ہے بارش ہو جائے گی تھوڑی دیر میں”
رنعم سوچتی ہوں جلدی سے ٹیرس میں گئی
آج صبح ہی اس نے نوراں(ملازمہ) سے ہفتے بھر کے میلے کپڑے دھلواۓ تھے اگر بارش میں وہ بھیگ جاتے تو دوسری بار ساری محنت اس کو کرنی پڑتی کیوکہ نوراں نے پہلے ہی اسے اپنے کل کی چھٹی سے آگاہ کر دیا تھا
ٹیرس میں پہنچ کر وہ جلدی جلدی سے رسی پر موجود ٹنگے ہوئے کپڑے اتارنے لگی خود وہ شاور لے کر نکلی تھی گیلے بال اس کی کمر کو چھو رہے تھے۔۔۔ جن کو اس نے ابھی تک ڈرائے نہیں کیا تھا وجہ یہ تھی کہ بارش سے پہلے وہ ٹیرس میں موجود کپڑے روم میں لاکر وارڈروب میں رکھنا چاہتی تھی
جلدی جلدی میں اس نے دوپٹے کا بھی دھیان نہیں دیا۔۔۔ وہ اپنا دوپٹہ بھی بیڈ روم میں چھوڑ کر آ گئی تھی کیوکہ اس کا سارا دھیان بادل کی طرف تھا۔۔۔ ہاتھ جلدی جلدی چلاتی ہوئی وہ رسی پر موجود کپڑے اتارنے میں مصروف تھی
****
“یار ٹاپ فلور پر دیکھ کیا فٹ بندی ہے”
کاشان کار پارکنگ میں کار پارک کر کے کار سے باہر نکلا تو اسے چار قدم دور دو لڑکوں میں سے ایک کی آواز سنائی دی
“بندی ٹائٹ ہے مگر افسوس ہے کہ میرڈ ہے ورنہ میں نے سوچا تھا کہیں سے اس کا موبائل نمبر معلوم کیا جائے”
دوسرے لڑکے نے اپنے دوست سے تبصرہ کیا۔۔۔ کاشان ان لڑکوں کی پشت پر کھڑا تھا اس لیے وہ کاشان کو نہیں دیکھ سکے مگر کاشان نے اپنے فلیٹ کے ٹیرس پر نظر اٹھا کے دیکھا جہاں رنعم بغیر دوپٹے کے کھلے بالوں کے ساتھ رسیوں پر سے دھلے ہوئے کپڑے اتارنے میں مصروف تھی۔۔۔ رنعم کو بغیر دوپٹے اور گہرے گلے میں دیکھ کر کاشان کا خون کھولنے لگا،، وہ بالکل لاپرواہی کے انداز میں بس اپنے کام میں مصروف تھی
“میرڈ ہے تو کیا ہوا کونسا ہمہیں شادی کرنی ہے فگر چیک کر کتنا ٹائٹ ہے۔۔۔ موبائل نمبر معلوم کر ہی لیتے ہیں تھوڑے دن انجوائے کر لیں گے”
پہلے لڑکے نے اپنے دوست سے کہا کاشان کا غصے میں خود پر قابو رکھنا مشکل ہوگیا
وہ ان دونوں لڑکوں کی گھونسوں اور مّکوں سے تواضع کرنے کے بعد گھر پہنچا جب تک بارش بھی اسٹارٹ ہو چکی تھی
****
رنعم نے ابھی سارے کپڑے وارڈروب میں ترتیب سے رکھے ہی تھے گھر کی بیل بجی۔۔۔ بیڈ پر رکھا دوپٹہ، اٹھا کر اپنے گلے میں ڈالتے ہوئے وہ دروازہ کھولنے لگی کاشان کے آنے کا ٹائم تھا اسے معلوم تھا کاشان ہی ہوگا
“آج چائے رکھنے میں لیٹ ہوگئی ہو آپ چینج کرلیں میں جلدی سے چائے رکھتی ہوں”
دروازہ کھولتے ہی رنعم نے کاشان کو دیکھ کر بولنا شروع کر دیا۔۔۔
کاشان نے فلیٹ کے اندر قدم رکھتے ہی زور دار تھپڑ رنعم کے منہ پر دے مارا۔۔۔ جس کی شاید رنعم کو توقع نہیں تھی وہ لڑکھڑاتی ہوئی دور جا گری۔۔۔۔ تھپڑ سے جہاں رنعم کا بندھا ہوا جوڑا کھل گیا وہی کاشان کے ہاتھ کی ریسٹ واچ بھی اتر کر دور جاگری ایک پل کے لئے رنعم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا
سر اوپر کے رنعم نے بے یقینی سے کاشان کو دیکھا کاشان لب بھینچتا ہوا اسی کو گھور رہا تھا۔۔۔ رنعم کے دیکھنے پر وہ تیزی سے اس قریب آیا
“مجھے الو کا پٹھا سمجھ کے رکھا ہے تم نے۔۔۔۔ غیر مردوں کے سامنے بغیر دوپٹے کے آنے میں کوئی جھجھک نہیں اور شوہر کے سامنے دوپٹہ لے کر ڈرامہ کرنا یاد آتا ہے”
وہ رنعم کے بالوں کو مٹھی میں جگڑ کر اسے اٹھاتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس کا دوپٹہ گلے سے کھینچ کر دور پھینکا۔۔۔۔ کاشان کی گرجدار آواز کے ساتھ بادل بھی زور سے گرجا
“کیا کہہ رہے ہیں آپ کا۔ ۔۔۔۔شان”
رنعم نے روتے ہوئے خوفزدہ ہوکر کاشان کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ۔۔۔ کاشان نے رنعم کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اسے بیڈروم میں لاکر بیڈ پر پھینکا اور خود روم سے باہر نکل گیا
رنعم بیڈ پر اوندھے منہ رونے لگی باہر بارش اپنے زوروں پر برس رہی تھی تب رنعم کو دروازے بند کرنے کی آواز آئی۔۔۔ قریب قدموں کی آواز پر رنعم نے سر اٹھا کر کاشان کو دیکھا مگر اس کے ہاتھ میں چھری دیکھ کر رنعم کی آنکھیں خوف پھٹی کی پھٹی رہ گئی بادل ایک بار پھر زور سے گرجا
“کاش۔۔۔ان یہ آ۔۔۔پ کک کیا”
خوف کے مارے رنعم کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے کاشان بیڈ پر چڑھ کر اس کے بےحد قریب بیٹھا
“ایک ماہ پہلے تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے بازو پر سگریٹ کیو لگائی تھی۔۔۔ کیوکہ تم بغیر آستین کے کپڑے پہن کر نوید کے سامنے آئی تھی جوکہ صرف 12 سال کا تھا اور آج تم بغیر دوپٹے کے ٹیرس میں گئی۔۔۔ 22 سال کے لڑکے تھے وہ۔ ۔۔۔تمہیں معلوم ہے وہ لڑکے تمہارا گہرا گلا دیکھ کر تمہارے بارے میں کیا جملے بول رہے تھے”
کاشان چھری کو تھرچا پکڑ کر آہستہ سے چھری کی نوک رنعم کے چہرے پر پھیرتا ہوا گردن تک لایا رنعم اپنی سانسیں روکے بالکل پتھر کی بنی ہوئی تھی۔۔۔ اگر وہ ذرا بھی ہلتی تو چھری اس کو زخمی کر سکتی تھی
“روز رات کو تمہارے حسن کو سراہانہ نہیں بھولتا۔۔۔ اپنے لفظوں سے، ہونٹوں سے، آنکھوں سے، ہر عمل سے تمہاری تعریف کرتا ہوں۔۔۔۔ کون سی کمی رہ جاتی ہے میری سرہانے میں جو تم یوں بغیر دوپٹے کے گہرا گلا پہنے اپنی نمائش کرنے ٹیرس میں آئی تھی۔۔۔ جواب دو”
کاشان اب چھری کی نوک کو سیدھا کر کے۔۔۔ رنعم کے سینے پر رکھتا ہوا بولا۔۔۔ اس کے ردعمل سے رنعم کی جان نکلنے لگی
“کاشان قسم لےلیں میرا مقصد باہر ٹنگے ہوئے کپڑوں کو اتارنا تھا ورنہ وہ بارش میں خراب ہوجاتے مجھے جلدی میں دوپٹے کا دھیان نہیں رہا پلیز مجھے ماریئے گا مت”
رنعم روتی ہوئی اسے صفائی دینے کے ساتھ اپنی کانپتی ہوئی انگلی سے کاشان کے سینے پر R بنانے لگی۔۔۔۔ اسے اس وقت کاشان سے بےپناہ خوف محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ کاشان اس پر اعتبار کرے
“تمہیں کیا لگ رہا ہے کہ میں تمہیں مار دوں گا۔۔۔۔ تمہیں مار سکتا ہوں بھلا؟ ؟؟ میں ایسا نہیں کرو گا۔۔۔ میں ایسا کر ہی نہیں سکتا”
کاشان نے چھری کو دور پھینکتے ہوئے کہا
“مگر میں کیا کروں بتاؤ ان لڑکوں کی باتیں میری یہاں یہاں۔۔۔۔ یہاں چبھ رہی ہیں”
کاشان اپنے سینے سے رنعم کی انگلی پکڑ کر اپنے پیشانی پر زور سے مارتا ہوا بولا رنعم کو مزید رونا آنے لگا۔۔۔۔ وہ ایک نظر رنعم کے سرخ گال پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا
****
رنعم اب بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی رو رو کر اس کی آنکھیں خشک ہو چکی تھی۔۔۔۔ باہر بھی برسات بند ہو چکی تھی۔۔۔۔ تین گھنٹے گزر چکے تھے اسے نہیں معلوم تھا کہ کاشان دوسرے کمرے میں کیا کر رہا ہے
وہ خوف کے مارے بیڈ سے اٹھی تک نہیں تھی چھری وہی بیڈ روم میں پڑی تھی جسے رنعم ہر تھوڑی دیر بعد خوفزہ نظروں سے دیکھتی
جیسے ہی کاشان دوبارہ بیڈروم میں آیا۔۔۔ رنعم نے خوف کے مارے آنکھیں بند کرلی اور کاشان پر یہ تاثر چھوڑا کہ وہ سو رہی ہے
کاشان چلتا ہوا ہے رنعم کے پاس آیا بیڈ پر اس کے قریب آ کر بیٹھا۔۔۔ کاشان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر دیکھا جس سے اس نے رنعم کو تھپڑ مارا تھا۔۔۔ اس کی انگلیوں میں ہلکی ہلکی سنسناہٹ کا احساس ابھی تک موجود تھا۔۔۔ تو پھر رنعم کے گال کا کیا حشر ہوا ہوگا۔۔۔ کاشان نے رنعم کے چہرے پر آئے بالوں کو ہٹا کر اس کا گال دیکھا۔ ۔۔۔ اب اس کے گال پر سرخی کی بجائے سوجن تھی شاید زوردار تھپڑ کھانے کے بعد وہ بری طرح فرش پر گری تھی اس وجہ سے اس کا گال سوجھ چکا تھا اور نیچے والا ہونٹ بھی پھٹا ہوا تھا۔۔۔ شاید کاشان کے ہاتھ میں موجود ریسٹ واچ۔۔۔ رنعم کے ہونٹ کو زخمی کر گئی تھی
کاشان نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اس کے گال کو چھوا،،، اب وہ اس کے ہونٹ کے زخم کو چھو کر محسوس کر رہا تھا۔۔۔ آج رنعم نے اس کے پسند کا کھانا بنایا تھا اور اس وقت کاشان رنعم کو کھانے کے لیے ہی بلانے آیا تھا۔۔۔۔ کاشان کو معلوم تھا،، رنعم اس وقت جاگ رہی ہے،،، وہ اس کو دیکھ کر سوتی ہوئی بن گئی تھی
کاشان کچھ کہے بغیر بیڈ سے اٹھا کمرے کی لائٹ بند کر کے اپنی سائڈ پر آکر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور اسموکنگ کرنے لگا
رنعم کو معلوم نہیں وہ کب تک سگریٹ پھونکتا رہا شاید اس نے بھی رات کا کھانا نہیں کھایا تھا رنعم نیند کی ایکٹنگ کرتے کرتے سچ میں نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔ نیند میں بھی اپنے گال پر کاشان کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر سکتی تھی پھر بھی اس کی آنکھ نیند سے یا خوف سے نہیں کھلی
