504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 50)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“مما پلیز مجھ سے یہ سب نہیں کھایا جائے گا”

سیرت نے منہ بناتے ہوئے یسریٰ کو کہا

“سیرت فاطمہ نے تمہیں پراپر ڈائٹ کا چارٹ بنا کر دیا ہے اپنا خیال نہیں رکھو گی تو بچے کا خیال کیسے رکھو گی”

یسریٰ اس کو سمجھاتے ہوئے کھانا کھلانے لگی سیرت بےبسی سے منہ بناتے ہوئے کھانے کھانے لگی

“ثوبان نے کتنے بجے کا ٹائم دیا تھا”

یسری نے سیرت سے پوچھا۔۔۔ صبح ناشتے کی ٹیبل پر یسریٰ نے ثوبان سے کہا تھا کہ سیرت کو کسی اچھی سی گائنی کے پاس لے جائے

“دو بجے کا ٹائم دیا تھا بس آتا ہی ہوگا ثوبی”

سیرت کھانا کھاتے ہوئے بولی

“یہ آتا ہی ہوگا کیا ہے۔۔۔ بیٹا شوہر ہے ثوبان تمہارا،، شوہر کو اس طرح مخاطب نہیں کرتے۔۔۔ میں نے کھبی تمھارے بابا سے تم یا تو سے بات نہیں کی اور رنعم کو دیکھ لو وہ بھی کاشان کو آپ کہہ کر مخاطب کرتی ہے”

یسریٰ نے سیرت کو دیکھ کر ایک دفعہ پہلے سمجھائی ہوئی بات کو دوبارہ سمجھایا۔۔۔ سیرت کے چہرے کے تاثرات بدلے اس سے پہلے وہ یسریٰ کو کچھ کہتی

“ارے رنعم۔۔۔۔ میری چھوٹی بیٹی یوں اچانک آگئی اپنی مما کے پاس “

یسریٰ رنعم کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر بولی۔۔۔۔ سیرت بھی اسے دیکھ کر خوش ہوگئی اور کھانا چھوڑ کر ٹیبل سے اٹھ کر رنعم کے پاس آئی۔۔۔۔ رنعم خاموشی سے چلتی ہوئی ان دونوں کے پاس آئی۔۔۔۔ پیچھے غلام بخش رنعم کا سوٹ کیس لے کر گھر کے اندر آیا۔۔۔ یسریٰ نے رنعم کا اترا ہوا چہرہ دیکھا پھر سوٹ کیس کو

“کیا ہوا سب خیریت تو ہے اتنا بڑا بیگ۔۔۔۔ کاشان کہیں گیا ہوا ہے آفس کے کام سے کیا”

یسریٰ رنعم کو دیکھ کر پوچھنے لگی مگر اس کے چہرے کے تاثرات سے گماں ہورہا تھا بات کچھ اور ہے

“بول کیوں نہیں رہی رنعم مما کیا پوچھ رہی ہیں سب ٹھیک ہے نا”

سیرت نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے پوچھا

“رنعم۔۔۔ میری جان یہاں دیکھو میری طرف۔۔۔۔ تم ٹھیک ہونا بیٹا”

یسریٰ رنعم کے قریب آکر اس کا چہرہ تھامتے ہوئی فکرمندی سے بولی

“مما”

رنعم سے آگے کچھ نہیں بولا گیا وہ بس یسریٰ کے گلے لگ کر رونے لگی جس پر سیرت اور یسریٰ دونوں ہی پریشان ہوگئی

“رنعم بول کیوں نہیں رہی ہوں کچھ۔۔۔ کاشی کہاں پر ہے اور تم اس وقت کیسے آگئی ہو۔۔۔ کیوں پریشان کر رہی ہوں ہمہیں”

رنعم کے زاروقطار رونے پر جہاں یسریٰ پریشان ہوئی وہی سیرت تیز آواز میں رنعم سے پوچھنے لگی مگر رنعم نے رونا نہیں چھوڑا

“رنعم”

ثوبان کی آواز پر ان تینوں نے مڑ کر ثوبان کو دیکھا۔ ۔۔ ثوبان اس وقت سیرت کو اسپتال لے کر جانے کے لیے گھر آیا تھا۔۔۔ رنعم کو یسریٰ کے گلے لگ کر روتا ہوا دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا

“بھیا”

رنعم نے ثوبان کو دیکھا اور چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس کے گلے لگ کر رونے لگی

“رنعم یہاں دیکھو میری طرف اور مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے”

کل تو اسے لگا تھا کہ کاشان رنعم سے مس بی ہیو کر کے پچھتا رہا ہے اس وجہ سے وہ رنعم کو اپنے ساتھ نہیں لایا تھا مگر آج رنعم کے آنسو کچھ اور ہی بیان کر رہے تھے

“بھیا میں اب کاشان کے ساتھ نہیں رہ سکتی”

رنعم رونے کے درمیان بولی جس پر سیرت اور یسریٰ شاک سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ رنعم چونکہ ثوبان کے گلے لگی ہوئی تھی اس کی پشت سیرت کی طرف تھی بالوں کا اونچا جوڑا بندھا ہونے کی وجہ سے بار بار سرخ نشان ہلکا سا اس کے کندھے کے سائڈ پر نظر آ رہا تھا۔۔۔ رنعم کی بات سن کر سیرت کا دماغ کہیں اور چلا گیا

“یہاں آؤ میرے ساتھ روم میں”

ثوبان کہ کچھ بولنے سے پہلے سیرت بول پڑی اور رنعم کا ہاتھ پکڑ کر اسے روم کے اندر لاکر فوراً دروازہ بند کیا باہر یسریٰ ثوبان کو دیکھنے لگی مگر اس وقت وہ یسریٰ کو تسلی بھی نہیں دے سکا کہ سب ٹھیک ہے اس کا دل اندر سے خود بے چین ہو رہا تھا

“رنعم یہاں میری طرف دیکھ کر مجھے بتاؤ کیا کیا ہے کاشی نے”

سیرت اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ کر پوچھنے لگی

“آپی وہ کاشان نے مجھے۔۔۔۔”

رنعم کو روتے ہوئے سمجھ میں نہیں آیا کہ سیرت کو کیا بتائے اور اب یسریٰ کو کیا بتائے گی

“یہاں بیٹھوں”

سیرت نے اسے کمرے میں موجود کرسی پر بٹھایا ساتھ ہی اس کی شرٹ کی زپ کھولی رنعم کی کمر پر لال نشانات دیکھ کر سیرت نے بے ساختہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا

“رنعم یہ کاشی نہیں کیا ہے”

وہ بے یقینی سے رنعم کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی دروازے پر دستک کی آواز پر سیرت نے کمرے کا دروازہ کھولا سامنے ثوبان سوالیہ نظروں سیرت کو دیکھ رہا تھا

“ثوبی کاشی نے بہت بری طرح رنعم کو مارا ہے اس کی کمر پر نشانات۔۔۔۔”

سیرت کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے جس پر ثوبان بےیقینی سے سیرت کو اور پھر کرسی پر بیٹھی رنعم کو دیکھنے لگا

“اس کی ہمت کیسے ہوئی اب میں اس کو نہیں چھوڑوں گا”

ثوبان غصے میں کہتا ہوں واپس مڑ کر جانے لگا مگر پیچھے کھڑی یسریٰ کو دیکھ کر ٹھٹکا۔۔۔ یسریٰ بالکل سن کھڑی تھی اس کے چہرے سے صاف لگ رہا تھا وہ سیرت کی باتیں سن چکی ہے ثوبان یسریٰ کو دیکھ کر گھر سے باہر نکلنے لگا مگر اگلے ہی لمحے سے واپس آنا پڑا کیوکہ یسریٰ بےہوش ہوکر ہوش وحواس کھو چکی تھی

****

آج آفس میں میٹنگ کے دوران اس کا ذہن بار بار رنعم اور اپنے رشتے کو لے کر فکر مند ہو رہا تھا۔۔۔ وہ غصے میں رنعم کے ساتھ اب کی بار کچھ زیادہ ہی زیادتی کر گیا تھا۔۔ کل رات رنعم کے ساتھ بد سلوکی کرنے کے بعد وہ اندر سے گلٹی فیل کر رہا تھا

کاشان نے سوچا اسے رنعم اور اپنے رشتے کو کچھ زیادہ ٹائم اور توجہ دینا چاہیے۔۔۔ وہ کل آفس سے چھٹیاں اپلائی کر کے ہفتے دس دن کے لیے رنعم کو کہیں دور لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا،،، جہاں وہ صرف اپنی ڈول کو ٹائم دے سکے۔۔۔ اب وہ باقاعدگی سے فیملی پلان کرنے کا بھی سوچ رہا تھا۔۔۔۔ ایسا ضروی تھا رنعم اور اپنے رشتے کی مضبوطی کے لیے۔۔۔۔ کاشان سوچتا ہوا آفس سے باہر نکلا

اسے گھر پہنچنا تھا،،، رنعم کی مرضی کی جگہ پر وہ اس کے ساتھ کچھ دن اسپینڈ کرے گا۔۔۔۔ اپنے ہنی مون پریڈ کی طرح،،، وہ ان دنوں کو یاد گار بنائے۔۔۔ اب اسے اپنے غصے کو بھی کنٹرول کرنا تھا۔۔۔۔ جو اس کے رشتے کو کمزور کر رہا۔۔۔۔ وہ اپنے رنعم کے ساتھ جڑے رشتے میں مضبوطی چاہتا تھا۔۔۔۔ وہ رنعم سے اپنے ہر برے رویہ کی تلافی بہت اچھی طرح مانگنا چاہتا تھا اور اسے یقین تھا رنعم ہر دفعہ کی طرح اس کی سوری ایکسپٹ کرلے گی وہ اس ڈول تھی اس سے پیار کرتی تھی

وہ ثوبان کو بھی شیرا سے متعلق اس دن والے واقعے کے بارے میں سب کچھ سچ بتانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ جوکہ عام حالات میں وہ کھبی بھی نہ بتاتا۔ ۔۔۔ مگر اسے ثوبان کا بھی دل صاف کرنا تھا۔۔۔ اسے یقین تھا دو سے تین دن میں سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے گا

“کاشان”

کاشان اپنی کار کی طرف بڑھا وہ گھر جانے کے لیے کار میں بیٹھ ہی رہا تھا تب اسے اپنے پیچھے سے مایا کی آواز سنائی دی وہ مڑا

“کانگریٹس میم یہ پروجیکٹ ہماری کمپنی کو مل گیا” مایا کاشان کے پاس آئی اس کے کچھ بولنے سے پہلے کاشان بول پڑا

“کاشان اسی بات کے لئے تو میں آپ کو تھینکس کہنے آئی تھی یہ سب آپ کی محنت کا نتیجہ ہے آپ کی محنت کے بغیر اتنی بڑی کامیابی ناممکن تھی”

مایا نے مسکرا کر کاشان کو دیکھا وہ اسے ہر لحاظ سے پرفیکٹ مرد لگتا تھا کاش وہ اس کا ہوتا مایا کو خیال آیا

“تھینکس کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے بس اپنے حصے کا کام کیا ہے اور محنت کی ہے۔۔۔۔ جس کی سیلری آپ مجھے پے کرتی ہیں”

کاشان مایا کو بولتے ہوئے اپنے ہاتھ میں باندھی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھنے لگا اس سے پہلے مایا کچھ بولتی اچانک پولیس آفس کے پارکنگ ایریا میں داخل ہوئی جس پر کاشان اور مایا دونوں چونکے

“چلو بھئی کاشی ہمارے ساتھ۔۔۔ تمہارے گرفتاری کا آرڈر آئے ہیں،،، آج رات پھر سے حوالات کے مزے لو،، کچھ پرانے دن کی یادیں تازہ کرو”

انسپیکٹر جواد نے کاشان کے پاس آ کر بولا جس پر مایا اور کاشان ایک بار پھر چونکے

“کیا مذاق ہے یہ،، تمیز سے بات کرو ذرا۔۔۔ کس کے آرڈرز ہیں”

کاشان بگڑتے تیوروں کے ساتھ جواد سے بولا

“بیٹا پولیس کسی کے ساتھ مذاق نہیں کرتی۔۔۔اور ظاہری بات ہے ارڈرز بھی اسی کے ہونگے جو تمہارے کارناموں سے باخبر ہوگا۔۔۔۔ خاور ہتھکڑی لاو بھئی کاشی صاحب کے لیے”

انسپیکٹر جواد جو کہ پہلے سے ہی کاشان کو جانتا حوالدار کو مخاطب کرکے بولا

“دیکھیں آپ انکو اس طرح آریسٹ نہیں کرسکتے ہیں۔۔۔ یہ ثوبان احمد کے بھائی ہیں،، آپ کو ساری بات پہلے ان سے کنفرم کرنی چاہیے”

کاشان کے لئے حوالدار ہتھکڑی لینے گیا تو مایا ایک دم بول اٹھی

“دیکھیے میڈم جی آپ ہمیں مت سکھائے،،، پولیس کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔۔ ہم ایس۔پی ثوبان احمد کے کہنے پر ہی ان کو آریسٹ کر رہے ہیں”

انسپکٹر جواد کی بات سن کر ایک بار پھر مایا اور کاشان چونکے

“لے چلو بھئی کاشی صاحب کو”

انسپیکٹر بولتا ہوا آگے چلا گیا اور مایا منہ کھولے دیکھتی رہ گئی

*****

“ہاں جواد بولو”

2 گھنٹے پہلے ڈاکٹر یسریٰ کو ڈپریشن کا انجکشن دے کر گیا تھا وہ ثوبان کے سامنے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی تبھی ثوبان کا موبائل بجا

“سر آپ نے کاشان کو گرفتار کرنے کے لیے کہا تھا وہ اس وقت لاکڈ اپ میں ہے اب آپ آگے حکم کریں”

جواد نے ثوبان کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔ سیرت کے منہ سے جب ثوبان نے کاشان کا رنعم سے سلوک سنا تو اس کا خون کھول اٹھا۔۔۔ اسے کاشان پر شدید غصہ تھا اور اس غصے میں وہ گھر سے باہر نکل کر کاشان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر یسریٰ کی طبیعت بگڑنے کی وجہ سے وہ کاشان کے پاس تو نہیں جا سکا۔۔۔ فی الحال اس نے جواد سے کہہ کر اسے لاک اپ میں ڈلوا دیا

“ہاں اسے ابھی لوک اپ میں ہی رہنے دو۔۔۔ میں رات تک چکر لگاتا ہوں اور اس شیرا کی کیا خبر ہے”

ثوبان نے جواد سے پوچھا

“سر شیرا کو بھی آج شام میں ہوش آگیا تھا مگر وہ اپنے بیان میں یہی کہہ رہا ہے۔۔۔ جس نے اسے مارا ہے۔۔۔ نقاب ہونے کی وجہ سے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا”

جواد کے بتانے پر ثوبان الجھ سا گیا مگر ذہن کے کسی کونے میں اسے اطمینان بھی ہوا۔۔۔ وہ کتنا ہی کاشان پر غصہ کر لیتا تھا مگر اندر اسے کہیں یہ ڈر تھا شیرا اگر کاشان کا نام لے لیتا تو کاشان بہت لمبے کیس میں اندر پھنس سکتا تھا کیوکہ شیرا عام بندہ نہیں وہ پولیٹیشن کا خاص بندہ تھا

“ٹھیک ہے شیرا سے کہو پولیس اسٹیشن میں آکر حاضری دے ایس پی ثوبان احمد کے پاس”

ثوبان نے جواد کو ایک دو باتوں کی اور ہدایت دے کر موبائل رکھتے ہوئے دوبارہ صوفے کے پیچھے سر ٹیک کر آنکھیں بند کرلی

تھوڑی دیر بعد سیرت چلتی ہوئی ثوبان کے پاس آئی اس کے قدموں کی چاپ پر ثوبان نے اپنی آنکھیں کھولیں اور سیرت کو دیکھا۔۔۔ سیرت کی آنکھیں دیکھ لگ رہا تھا جیسے وہ تھوڑی دیر پہلے روئی ہو

“کیا ہوا تمہیں”

ثوبان سیرت کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“ثوبی کاشی ایسا کیسے کر سکتا ہے رنعم کے ساتھ،، وہ تو پیار کرتا تھا نا رنعم سے”

سیرت دوبارہ آنکھوں میں دوبارہ آنسو لاتے ہوئے سیرت ثوبان سے پوچھنے لگی

وہ ابھی رنعم کے بیڈ روم میں اس کے پاس ہی موجود تھی۔۔۔ سیرت نے بہروز کی قسمیں دے دے کر رنعم سے سب کچھ پوچھا تھا وہ رنعم کو ریسٹ کا بول کر اب ثوبان کے پاس آئی تھی

“سیرت تمہیں اندازہ نہیں ہے آج کاشی نے مجھے بہت بڑا دکھ دیا ہے۔۔۔ یقین مانو میں کبھی بھی حق میں نہیں تھا اس شادی کے۔۔۔۔ اندر سے ایک ڈر ایک خدشہ لگا رہتا تھا۔۔۔ جب کاشی نے پہلی دفعہ میرے سامنے رنعم کی خواہش کی ناں وہ بالکل مجھے ایک معصوم بچہ لگا جسے اپنا من پسند کھلونا چاہیے اور دیکھو رنعم کو کوئی کھلونا ہی سمجھ بیٹھا۔۔۔۔ اس کی اس خواہش کو میں ٹالتا رہا۔۔۔۔ لیکن سب کی خوشی کے آگے میں چپ ہوگیا اور رنعم کی خوشی دیکھتے ہوئے بےبس بھی۔۔۔۔ دیکھو آج کاشی نے مجھے سب کے سامنے کتنا ذلیل کرا دیا،، میں مما سے، رنعم سے، تم سے۔۔۔ کسی سے نظریں نہیں ملا پا رہا ہوں”

ثوبان نے آنکھیں جھپکتے ہوئے آنکھوں میں آئی نمی کو اپنے اندر اتارتے ہوئے کہا

“آپ ایسے مت بولیے بھیا آپ کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔ نظروں تو میں نہیں ملا پاؤ گی کسی سے،، آپ تو میری خوشی دیکھ کر راضی ہوئے تھے۔۔۔ آپ نے ہمیشہ اچھا بھائی ہونے کا ثبوت دیا،، بس آپ مجھے معاف کر دیں”

رنعم روم کے اندر، ثوبان کے پاس آتی ہوئی بولی ثوبان نے اسے گلے لگا لیا وہ رونے لگی

“رووں مت رنعم میرا دل تو کر رہا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ” ثوبان نے رنعم کو خود سے الگ کیا شاید انکی آوازوں سے سوئی ہوئی یسریٰ جاگ گئی تھی

“ثوبان یہاں آو میرے پاس”

یسریٰ کی آواز پر ثوبان یسریٰ کے پاس آیا ضبط سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا

“جی مما بولیے” یسریٰ نے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تو ثوبان اس کے قریب بیٹھا

“کاشان کو یہاں بلاو میں اس سے پوچھنا چاہتی ہوں رنعم کی غلطیاں۔۔۔۔ اس نے رنعم پر ہاتھ اٹھایا اس کو مارا۔۔۔ کیا وجہ تھی یہ میں اسی کے منہ سے جاننا چاہوں گی” یسریٰ کے بولنے پر ثوبان ایک دفعہ پھر نظریں جھکا گیا

“مما مجھے معاف کردیں رنعم کی جو حالت”

ثوبان نے یسریٰ کے سامنے ہاتھ جوڑے تبھی یسریٰ نے اس کے ہاتھوں کو تھاما

“تم میرے بیٹے ہو اور رنعم کے بھائی،، تم کیوں معافی مانگ رہے ہو،، کسی دوسرے کے کیے کی۔۔۔ معافی وہ یہاں پر آکر مانگے گا اگر وہ غلطی پر ہے تو۔۔۔ تم اسے یہاں بلاو”

یسریٰ اپنے آنسو ضبط کرتی ہوئی بولی رنعم اور سیرت سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی اور ان دونوں کی آنکھیں نم تھی

“مما جو اس نے رنعم کے ساتھ کیا ہے وہ معافی کے لائق نہیں ہے۔۔۔ اب اسے اس کی سزا ملنی چاہیے اور وہ سزا میں اس کو دوں گا۔۔۔ وہ یہاں پر اس لیے نہیں آ سکتا کیوکہ اسے شام کو ہی میں نے اریسٹ کروا دیا ہے۔۔۔ لاک اپ میں موجود ہے وہ اس وقت”

ثوبان کے انکشاف پر کمرے میں موجود یسریٰ سیرت اور رنعم تینوں کو سانپ سونگھ گیا

“بھیا یہ دیکھیں۔۔۔ میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں آپ پلیز کاشان کے ساتھ اسطرح مت کریں انہیں جو بھی سزا دینی ہے دے لیں مگر پلیز لاک اپ نہیں کریں انہیں”

رنعم باقاعدہ ثوبان کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوئی بولی جو بھی تھا اسے ثوبان کے منہ سے کاشان کے بارے میں سن کر اچھا نہیں لگا تھا

“رنعم ہٹو میرے سامنے سے اور جاو اپنے کمرے میں۔۔۔ اس نے جو کرنا تھا وہ کر چکا ہے اب جو میرا دل چاہے گا وہ میں کروں گا” ثوبان رنعم کے ہاتھ نیچے کرتا ہوا بولا

“ثوبی مگر کاشی تمہارا بھائی ہے تم اس سے پیار”

سیرت کے کچھ بولنے سے پہلے ثوبان نے ہاتھ کے اشارے سے سیرت کو کچھ بھی بولنے سے باز رکھا

“تم بھی بیڈ روم میں جاؤ ڈاکٹر نے تمہیں ریسٹ کا بولا ہے”

ثوبان کہتا ہوا روم سے باہر نکل گیا