Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 38)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
صبح سیرت کی آنکھ کھلی اس نے سائڈ پر رکھے اپنے موبائل میں ٹائم دیکھا صبح کے آٹھ بج رہے تھے یعنی ثوبی ابھی گھر پر ہوگا سیرت سوچتے ہوئے اپنے کمرے سے نکل کر ثوبان کے پاس جانے لگی
“جب تک مما کا دل صاف نہیں ہوجاتا تم شکل مت دکھانا مجھے”
اسے کل والے ثوبان کے لفظ یاد آئے بے ساختہ اس کے قدم وہی تھم گئے
“اف کتنی بری طرح ناراض ہو گیا ہے کیسے مناؤں اب اس بدتمیز انسان کو”
وہ ناخن چباتے ہوئے سوچنے لگی
“ایسے ہی سوچتی رہو گی تو اس کے پولیس اسٹیشن جانے کا وقت ہوجائے گا”
سیرت نے ناخن چبانا بند کر کے وارڈروب کھولی،، ثوبان کی پسند کے رنگ کا بلیک ڈریس نکالا اور چینج کرنے چلی گئی
****
فریش ہو کر اپنے روم سے باہر نکلی تو شاہدہ ثوبان کا یونیفارم ہاتھ میں پکڑے، ثوبان کے کمرے سے بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل رہی تھی
“کیا ہوا تمہارے بھی منہ پر بارہ بجے ہوئے ہیں خیریت تو ہے”
سیرت نے شاہدہ کی شکل دیکھتے ہوئے کہا جس کے چہرے پر ہوائیاں اڑتی ہوئی صاف نظر آرہی تھی
“وہ جی بڑے مہینوں بعد آج ثوبان صاحب غصے میں نظر آرہے ہیں نا۔۔۔۔ وہ جب سے یہاں پر آئے ہیں میں نے انہیں صرف 2 بار غصے میں دیکھا ہے۔۔۔ ایک بار تب جب رنعم بی بی روتی ہوئی گھر آئی تھی اور انہیں معلوم ہوا تھا کہ رنعم بی بی کی اکیڈمی کے کسی لڑکے نے ان سے بدتمیزی کی ہے، تب وہ بہت غصے میں اس لڑکے کے گھر گئے تھے۔۔۔۔ اور دوسری بار تب جب بڑے صاحب (بہروز) کے دوست یہاں پر ہمارے ہی گھر میں آ کر بڑے صاحب سے لڑائی کرتے ہوئے انہیں برا بھلا کہہ رہے تھے۔۔۔ تب پہلی دفعہ میں نے ثوبان صاحب کو بڑے صاحب کے دوست پر چیختے ہوئے دیکھا۔۔۔۔ اور آج کتنے مہینوں بعد صبح صبح ہی غلام بخش کی شامت آگئی ہے ویسے تو وہ ہم سے بڑی نرمی سے بات کرتے ہیں،،، کبھی نوکروں والا سلوک بھی نہیں کیا مگر آج لگ رہا ہے کوئی بات ہوگئی ہے صبح صبح”
شاہدہ نے ایک سانس میں سیرت کو کھڑے کھڑے پوری کہانی سنائی اور پھر سانس لی
“جانتی ہو میں تمہارے صاحب کے غصے کو بالکل سمندر کے جھاگ کی طرح ہوتا ہے۔۔۔ یہ یونیفارم کہاں لے کر جا رہی ہوں”
سیرت نے شاہدہ کے ہاتھ میں پکڑا ثوبان کا یونیفارم دیکھ کر پوچھا
“وہ جی کل اس پر استری مارنا بھول گئی تھی”
شاہدہ نے تھوک نگلتے ہوئے اپنی غلطی بھی بتائی
“لاو مجھے دو یہ یونیفارم میں آئرن کر دیتی ہوں۔۔۔ جاو ناشتے کے لیے چائے کا پانی رکھو پراٹھوں کے لئے تازہ آٹا گوندھو”
سیرت نے شاہدہ کے ہاتھ سے یونیفارم لے کر اسے ہدایت دی شاہدہ سر ہلا کر چلی گئی
سیرت ثوبان کا یونیفارم آئرن کر کے اس کے کمرے میں آئی تو وہ کل رات والے کیجیول حلیے میں کمرے میں ٹہلتا ہوا شاید اپنے یونیفارم کا انتظار کر رہا تھا مگر سیرت کو کمرے میں آتا دیکھ کر اسکے چہرے کے زاویے یکسر بدلے نرمی کی بجائے اس کے چہرے پر سختی آگئی
“تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے میرا یونیفارم لے کر میرے کمرے میں آؤ، یہ کام کرنے کے لئے میں نے شاہدہ سے کہا تھا تم سے نہیں”
ثوبان نے اپنا یونیفارم سیرت کے ہاتھ سے چھینتے ہوئے کہا
“اف ارام سے بھئی کتنی محنت سے آئرن کیا ہے۔۔۔تمہاری بیوی میں ہوں یا شاہدہ سے نکاح کیا ہے تم نے”
سیرت نے معصومیت سے ثوبان سے پوچھا۔۔۔۔ 45 سالہ شاہدہ کے بارے میں اپنے سے نکاح کی بات سن کر وہ مزید تپا
“اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھا کرو سیرت”
ثوبان انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتا ہوا بولا
“واہ میرے ایس۔پی آج لگ رہے ہو صحیح کے دبنگ پولیس والے”
سیرت اس کے غصیلے انداز پر اسے چھیڑتے ہوئے بولی
“ہوگیا تمہارا۔۔۔ اب جاو میرے کمرے سے چینج کرنا ہے مجھے”
ثوبان نے کرخت لہجے میں کہا
“اچھا نہ اب اتنا زیادہ تو غصہ مت دکھاؤ جلدی سے نیچے آ جاؤ،، ناشتہ بنا رہی ہوں تمہارے لیے”
ثوبان کا لہجہ اس کو اس لئے فیل ہوا کہ پہلے کبھی ثوبان نے اس طرح بات نہیں کی تھی مگر سیرت اس کے لہجے کو اگنور کرتی بولی
“تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے میرے لیے ناشتہ بنانے کی”
ثوبان نے کہنے کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کیا اور اپنے کمرے کل دروازہ بند کیا۔۔۔۔ شاید وہاں سے زیادہ ہی ہرٹ کر چکی تھی سیرت سیڑھیاں اتر کر کچن میں جاتے ہوئے سوچنے لگی
ناشتے میں سیرت میں تہہ دار پراٹھے بنائے بالکل ویسے ہی جیسے فائزہ ثوبان اور کاشان دونوں کو اسکول کے لنچ میں بنا کر دیتی تھی اور ثوبان کے پسندیدہ پیاز والا آملیٹ ناشتہ بنا کر ٹرالی میں ساری چیزیں رکھتی ہوئی وہ ہال میں آئی تو اسے ثوبان سیڑھیاں اترتا ہوا نظر آیا
“آو ثوبی دونوں دونوں مل بانٹ کر ناشتہ کرتے ہیں اس سے محبت بڑھتی ہے”
سیرت نے مسکراتے ہوئے ثوبان کو دیکھ کر کہا
“میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ کہ میرے لیے ناشتہ بنانا”
ثوبان سیرت سے کہتا ہوا باہر جانے لگا
“ناشتہ نہیں کرنا تو پھر اپنا یونیفارم اتارو”
سیرت اس کا راستہ روکتے ہوئے بولی کیوکہ اب اس کو غصہ آنے لگا اتنے نخرے اس نے کبھی پہلے زندگی میں نہیں دکھائے تھے
“کیا بےہودگی ہے۔۔۔ منہ کھولنے سے پہلے ذرا سوچ لیا کرو کیا بول رہی ہو”
ثوبان اس کی بات سن کر اپنے ماتھے پر ناگوار شکنیں لاتا ہوا بولا
“بس تمہارے دماغ میں تو ایک ہی بات آتی ہے میرے کہنے کا مطلب تھا۔۔۔۔ جب میرے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ نہیں کرنا تو یہ کپڑے بھی تمہارے میں نے آئرن کیے تھے اتارو انہیں بھی”
اپنے لفظوں پر غور کرنے کے بعد سیرت بغیر شرمندہ ہوئے بولی اور آگے بڑھ کر ثوبان کا کالر اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔ ثوبان اس کے ہاتھ جھٹک کر باہر نکل گیا
****
آج چھٹی کا دن تھا کاشان گھر پر ہی موجود تھا رنعم کو گھر کے کام میں لگے دیکھ کر۔۔۔۔ رنعم کے نہیں نہیں کرنے کے باوجود اس نے رنعم کی کافی ہیلپ کرائی۔۔۔۔ اپنے فلیٹ کے برابر والے غفار صاحب سے کاشان نے ان کے گھر کی میڈ کے بارے میں بات کی
“تمہارے لیے گڈ نیوز یہ ہے کہ میڈ کا ارینج ہوگیا ہے مگر ساتھ ہی بیڈ نیوز یہ ہے کہ وہ آج سے نہیں تین دن کے بعد آئے گی چھٹیوں پر گئی ہوئی ہے”
رنعم کے ہاتھ سے آئرن لے کر وہ خود اپنی شرٹ پریس کرتا ہوا بولا
“شکر خدا کا،،، یہ تو واقعی گڈ نیوز ہے میرے لئے”
رنعم نے خوش ہوکر بے ساختہ کہا مگر کاشان کے دیکھنے پر دانتوں تلے زبان دبالی
“میرا وہ مطلب نہیں تھا اپنے گھر کے کام کرنا تو بہت اچھی بات ہوتی ہے”
رنعم نے مسکراتے ہوئے بات بنائی تو کاشان بھی اس کو دیکھ کر مسکرایا
“مجھے معلوم ہے رنعم۔۔۔۔ تم نے یہ کام کبھی اپنے گھر پر نہیں کیے ہوں گے،،، آفس سے لیٹ آنے کی وجہ سے میں بھی فوری طور پر میڈ کا انتظام نہیں کر سکا۔۔۔۔ پھر بھی تم نے بنا شکوہ کیے اتنے دنوں تک گھر کی صفائی کی۔۔۔ میں شاید اچھا شوہر ثابت نہ ہوں مگر تم ایک اچھی بیوی ہو”
کاشان اپنے کپڑے آئرن کرتا ہوا رنعم سے بولا اور رنعم خاموشی سے کاشان کو دیکھتی رہی۔۔۔۔ رنعم کے دیکھنے پر کاشان اس کو دیکھ کر مسکرایا
“کیا ہوا کیا سوچنے لگی”
اب کاشان دوسری شرٹ آئرن کرتا ہوا رنعم سے پوچھنے لگا وہ اچھی بیوی اسے کیا بتاتی کہ کبھی کھبی اس کا شوہر اپنی بیوی کا دل کتنا دکھاتا ہے
“کچھ نہیں سوچ رہی،،، یہ کپڑے آپ کیوں پریس کر رہے ہیں،، آفس کی شرٹ ہیں ساری، لائے میں آئرن کردو”
رنعم نے اس کے ہاتھ سے شرٹ لینی چاہی
“رہنے دو میں جلدی کر دوں گا جاو تم شاور لے لو”
کاشان مصروف انداز میں اپنا کام جاری رکھتے ہوئے بولا تو رنعم شاور لینے چلی گئی
واپس آئی تو کاشان دیوار سے چپکی ایل ای ڈی پو کرکٹ دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔ آج اسے آنی کے گھر جانا تھا۔۔۔ کل رات سونے سے پہلے رنعم نے کاشان کا اچھا موڈ دیکھ کر۔۔۔ اسے فرح کے گھر ڈنر کا بتایا،،، جس پر کاشان آسانی سے ایگری کر گیا
رنعم نے سونے سے پہلے فرح کو اپنے آنے کا ڈن کیا۔۔۔ وہ خوش تھی کیوکہ شادی کے بعد پہلی بار آنی کے گھر جا رہی تھی کپڑے اور جیولری اس نے پہلے ہی سلیکٹ کر لیے تھے
“کاشان آپ آنی کے گھر کونسا ڈریس پہن کر جائیں گے”
رنعم نے برش سے اپنے بالوں کو سلجھاتے ہوئے پوچھا
“بتاتا ہوں”
کاشان بولتا ہوا دوبارہ میچ دیکھنے میں مگن ہو گیا۔۔۔ دو گھنٹے کاشان کو کرکٹ دیکھتے ہوئے
“آخر آپ بتا کیوں نہیں دیتے پچھلے دو گھنٹے سے بار بار پوچھے جا رہی ہو”
رنعم نے ضبط کرتے ہوئے چوتھی دفعہ کاشان سے پوچھا
“کیا پوچھ رہی ہو میری جان”
میچ اب بور ہو چکا تھا اس لیے ریموٹ سے پاور آف کرتا ہوا وہ رنعم کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“یہی کہ آنی کے گھر کونسا ڈریس پہن کر جائیں گے”
رنعم بالوں کا جوڑا بنا کر بیڈ پر کاشان کے پاس بیٹھتی ہوئی بولی
“ایسی باتیں کر کے بور مت کرو۔۔۔ محبت بھری باتیں کرو تاکہ میری چھٹی کا دن اچھا گزرے”
وہ رنعم کا جوڑا کھول کر اسے بیڈ پر لٹاتا ہوا بولا
“میں اس وجہ سے بول رہی تھی راستہ کافی دور ہے جلدی گھر سے نکلیں گے تبھی وہاں سے جلدی واپسی کریں گے”
وہ کاشان کو پیچھے ہٹانے کے جرات تو نہیں کر سکی یونہی لیٹے ہوئے آہستہ سے بولی
“آج تو باہر نکلنے کا بالکل موڈ نہیں ہو رہا کسی اور دن کا پروگرام رکھ لو” کاشان اس کے بالوں کی لٹ اپنی انگلی پر رول کرتا ہوا بولا
“کیسی باتیں کر رہے ہیں کاشان،، آپ کے ایگری کرنے پر ہی تو آنی کو ہم دونوں کی آنے کا بول چکی ہو۔۔۔ وہاں سب ہمارا ویٹ کر رہے ہوں گے”
رنعم نے بہت پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
“تو اب بھی میں ہی بول رہا ہوں،،، میرے بولنے پر ان سے فون کر کے معذرت کر لینا”
رنعم کو بولنے کے بعد اب وہ اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
“اگر آپ کو وہاں جانے کا موڈ نہیں تھا تو آپ کو رات کو نہیں بولنا چاہیے تھا کاشان۔۔۔ انہوں نے ہمارے لیے کتنا ارینج کرلیا ہوگا” رنعم کو اس طرح فون کر کے منع کرنا عجیب لگ رہا تھا اس لئے وہ برا مناتے ہوئے بولی
مگر اب اس کی بات کا کاشان بھی برا مان گیا تھا جبھی وہ اٹھ کر بیٹھا
“میں تمہیں الو کا پٹھا لگ رہا ہوں جو چھٹی کا دن بھی ڈرائیونگ کی نظر کر دو،، جب کہہ رہا ہوں کہ کسی اور دن چلے گے تو اب آگے سے کوئی بحث نہیں ہونی چاہیے”
وہ زور دار آواز میں رنعم سے بولا تو رنعم اٹھ کر روم سے باہر جانے لگی
“کہاں جا رہی ہو” کاشان اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھنے لگا
“آنی سے فون پر معذرت کرنے۔۔۔۔ انھیں بتانے کے لئے آپ کا انویٹیشن ہم نے قبول کیا،، بناء کسی ریژن کے اب ہم آپ کے گھر نہیں آ رہے کیوکہ آج ہمارا موڈ نہیں لہذا اس کو اپنی انسلٹ سمجھئے گا اور آپ آئندہ ہمہیں بلانے کی کوئی ضرورت نہیں”
رنعم کا بات کرتے کرتے گلا روندھنے لگا وہ کاشان کو جواب دیتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔۔۔ کاشان نے پاس پڑا ریموٹ کھینچ کر دیوار پر مارا اور بیڈ پر لیٹ گیا
****
وہ بیس منٹ سے ڈرائنگ روم میں صوفے پر دونوں پاوں اونچے کیے بیٹھی یہی سوچ رہی تھی اینڈ وقت پر آنی کو کیا بہانہ بنا کر انکار کرو۔۔۔ تین دفعہ اس نے اپنا موبائل ہاتھ میں لیا اور پھر صوفے پر رکھ دیا جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اسے رونا لگا
“کیا مصیبت پڑی ہے تمہیں،، میں ابھی مرا نہیں ہوں جو یوں سوگ منانے بیٹھ گئی ہو یہاں آکر”
کاشان ڈرائنگ روم کے دروازے پر کھڑا ہوا اس کو ڈانٹنے لگا جس پر رنعم کو مزید رونا آیا وہ حیرانگی سے کاشان کو دیکھنے لگی
“کیا۔۔۔۔۔ ہاں بس یہ ٹسوے بہا بہا کر دکھاؤ مجھے،،، میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو بیوی کے آنسو دیکھ کر پگھل جاؤ۔۔۔۔ صرف میرے ایک دفعہ کے کہنے پر تم اپنی آنی کے گھر سے نہیں اٹھی تو پھر دیکھنا۔۔۔ اب یوں دیدے نکال کر گھورنا بند کرو اور 15 منٹ کے اندر تیار ہو فوراً”
کاشان رنعم کو بولتا ہوا ڈرائنگ روم سے چلا گیا۔۔۔۔ رنعم نے کھڑی میں ٹائم دیکھا اسے واقعی 15 منٹ کے اندر جلدی جلدی تیاری کرنی تھی اس لئے وہ فوراً اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی
****
رات کے دس بج رہے تھے جب ثوبان کا واپس گھر آنا ہوا گھر میں داخل ہوتے ہی یسریٰ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔ صبح بھی یسریٰ کے بیڈروم کا دروازہ بند دیکھ کر دل میں افسوس لیے ثوبان یسریٰ اور بہروز سے ملے بخیر پولیس اسٹیشن کے لیے نکل گیا
“مما پلیز آپ میری بات سن لیں”
ابھی ابھی یسریٰ موبائل پر فرح سے آج ڈنر پر نہ آنے کی معذرت کر کے بیٹھی تھی
تبعی ثوبان اسے دکھائی دیا۔۔۔۔ یسریٰ اس کے لئے کھانا گرم کرنے کے غرض سے کچن میں جانے لگی کیوکہ شاہدہ اب اپنے کواٹر میں چلی گئی تھی تبعی ثوبان کی آواز پر اسے روکنا پڑا وہ دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ ثوبان چلتا ہوا یسریٰ کے پاس آیا اور اس کے قدموں میں بیٹھ کر ثوبان نے یسریٰ کا ہاتھ تھاما
“مما آئی ایم سوری مجھے معلوم ہے میری وجہ سے اور میرے عمل سے کل آپ کا بہت دل دکھا ہوگا۔۔۔۔ آپ میری پوری بات سن لیں پھر بے شک جو سزا چاہے دے دیئے گا میں آپ کے آگے اف نہیں کروں گا۔۔۔۔ سیرت مجھے بچپن سے ہی اچھی لگتی تھی آپ کے اور بابا کے پاس، آنے کے بعد میرا اس سے کوئی کونٹیکٹ نہیں رہا وہ کھو گئی تھی مجھ سے۔۔۔ مگر شاید اللہ کو اسے آپ سے اور بابا سے ملانا تھا،، چند ماہ پہلے وہ مجھے دوبارہ ملی اس کے ابا جنھوں نے اسے پالا ہے وہ بہت بیمار تھے ان کے کہنے پر بہت زیادہ اسرار پر میں نے سیرت سے نکاح کیا مگر اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ آپ دونوں کی سگی بیٹی ہے۔۔۔۔ وہ وقت اور سچویشن ایسی تھی کے میں آپ کو یا بابا کو نکاح کے بارے میں بتا نہیں سکا یا شاید اندر سے ڈر تھا کہ آپ انکار نہ کر دیں۔۔۔۔ میں کسی دوسری لڑکی کے ساتھ اپنی لائف نہیں گزار سکتا اس لیے میں نے سیرت سے نکاح کرلیا۔۔۔۔ اس بات کا ملال مجھے ساری زندگی رہے گا کہ میں نے اپنے نکاح سے اپنے ماں باپ کو لاعلم رکھا ان سے چھپ کر نکاح کیا۔۔۔ مجھے معاف کر دیں مما میں نے آپ کے اور بابا کے بغیر یہ سٹیپ اٹھایا۔۔۔۔ نکاح کے بعد مجھے معلوم ہوا سیرت آپ کی اور بابا کی کھوئی ہوئی بیٹی ہے۔۔۔۔ بعد میں بابا کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے میں اندر سے ڈرتا تھا کہ یہ خبر کہیں ان کو ہڑٹ نہ کرے۔۔۔ آپ کو یا بابا کو میری طرف سے دکھ پہنچے گا تو میں سکون میں نہیں رہوں گا،،، آپ مجھ سے کل سے بات نہیں کر رہی ہیں میں سکون میں نہیں ہوں پلیز آپ دونوں مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا میں کسی بھی قیمت پر آپ دونوں کو کھونا نہیں چاہتا نہ آپ دونوں کی آنکھوں میں یا دل میں اپنے لیے ناراضگی دیکھ سکتا ہوں”
ثوبان اپنا سر یسریٰ کے گھٹنے پر رکھ کر ملول انداز میں اس سے بول رہا تھا اور یسریٰ آنکھوں سے آنسو اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی لیے
“جب میں رنعم کے لیے تمہارا سوچ سکتی ہو تو سیرت کے لئے کیوں انکار کرتی مجھے تو بتا دیتے بیٹا۔۔۔ مجھے کیوں اس بات سے دکھ ہوتا اتنے دن تک تم نے اپنے دل پر بوجھ رکھا”
یسریٰ کے لہجے میں کہیں ناراضگی کا عنصر شامل نہیں تھا یہ آنسو بھی شاید تشکر کے تھے کہ ان کا بیٹا اپنے دل میں اپنے ماں باپ کے لیے اونچا مقام رکھتا ہے ان کے دل دکھانے سے ناراضگی سے ڈرتا ہے
“یہی سوچ کر آپ کو بتانے سے ہچکچاتا تھا کہیں آپ یہ نہ سوچیں کہ میری بڑی بیٹی پر نگاہ رکھی ہوئی تھی ثوبان نے”
ثوبان کے بولنے پر یسریٰ کو ہنسی آگئی
“پاگل”
اس نے ثوبان کے سر پر چپت لگائی تو ثوبان نے اس کی گود سے سر اٹھایا
“آپ واقعی ناراض نہیں ہے مجھ سے”
وہ دوبارہ یسریٰ کے ہاتھوں کو تھام کر پوچھنے لگا
“نہ میں ناراض ہو ناں نہ تمہارے بابا ناراض ہوں گے اس بات کو لے کر صرف باجی کو منانا مشکل ہو گا مگر میں منا لوں گی”
وہ ثوبان کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر کہنے لگی تو ثوبان یسریٰ کے دونوں ہاتھ ہونٹوں سے لگا کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ یسریٰ مسکرا کر ثوبان کو دیکھنے لگی ثوبان کے ہر انداز میں عقیدت، عزت، محبت اور اپنائیت کو دیکھ کر اپنے اور بہروز کے اوپر فخر کرنے لگی
“کہاں جارہے ہو یہیی بیٹھو کھانا لے کر آتی ہوں تمہارے لیے”
یسریٰ نے اس کو جاتا ہوا دیکھا تو فوراً بولی اور خود بھی صوفے سے اٹھی
“بابا کے پاس جا رہا ہوں صبح بھی نہیں دیکھا تھا انہیں،، وہی کھانا لے آئیں”
ثوبان یسریٰ سے کہتا ہوں اب بہرروز کے بیڈ روم میں چلا گیا
