Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 34)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 34)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
سیرت آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی اپنی جیولری اتار رہی تھی جب موبائل کی میسج ٹون نے اس کی توجہ اپنی طرف مندمل کی…. ثوبان کا open the door پڑھ کر وہ بیڈ سے دوپٹہ اٹھاتی ہوئی دروازہ کھولنے گئی
“کیا کوئی کام تھا” ثوبان نے اندر آکر دروازہ لاک کیا تو سیرت نے اسے دیکھ کر پوچھا
“کیوں بنا کام کے میں اپنی بیوی کے پاس نہیں آ سکتا”
ثوبان سیرت کو بولتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کافی تھک چکا تھا تھا
“کبھی اس طرح میسج کر کے نہیں آئے اس لئے پوچھا”
سیرت بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتی ہوئی بولی
“گھر پر مہمان موجود ہیں اس لئے احتیاطاً میسج کیا تھا… تم بتاؤ کیا کر رہی تھی”
ثوبان اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کی چوڑیوں کو چھیڑتا ہوا بولا
“بس ڈریس چینح کرنے لگی تھی۔۔۔ تم تھک گئے ہو چائے بناؤ تمہارے لیے”
سیرت ثوبان کے خیال سے بولی اور اس کا جواب سنے بغیر روم سے باہر چلی گئی
آج صبح سے ہی وہ گھن چکر بنا ہوا تھا بہروز کے بیمار ہونے، بیڈ سے لگنے پر رنعم کی شادی کے سارے کاموں کی ذمہ داری اس پر جو آ گئی تھی… سب اپنے اپنے روم میں تھے سیرت نے کچن میں جا کر ثوبان کے لئے چائے بنائی اور اپنے روم میں آ گئی۔۔۔ ثوبان ابھی تک اسی زاویہ میں لیٹا ہوا تھا شاید سیرت کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
سیرت نے چائے کا کپ اس کے سرہانے رکھا تو ثوبان اٹھ کر بیٹھا… اب کی بار سیرت نے دروازہ لاک کر کے احتیاط سے کام لیا اور ثوبان کے پاس آکر بیٹھی
“اس طرح کب تک احتیاط سے کام لوں گے ثوبی۔۔۔ میرے خیال میں اب تمہیں مما بابا کو میرے اور اپنے بارے میں بتا دینا چاہیے”
آج ہوٹل میں بھی ایک آنٹی باقاعدہ اس کا انٹرویو لے رہی تھی۔۔۔۔ سیرت اس انٹرویو کا مطلب خوب سمجھ گئی اور غفران خالو،، وہ کیسے گھور رہے تھے اسے آنی کے شوہر تو ذرا پسند نہیں آئے تھے
“یار عجیب بات کرتی ہو تم بھی دیکھ تو رہی ہو۔۔۔ آج رنعم اور کاشی کی شادی ہوئی ہے ابھی فوری طور پر کیسے بتا سکتا ہوں اتنی بڑی بات۔۔۔ تمہیں بتایا تو ہے کہ بہت جلد بات کروں گا مما بابا سے ہمارے رشتے کے بارے میں مناسب وقت دیکھ کر”
ثوبان اپنی بات مکمل کر کے چائے پینے لگا
“تم یوں ہی بیٹھ کر مناسب وقت کا انتظار کرو وہاں تمہاری مما کی دوست مسز شعبلی میرا انٹرویو لیتی ہوئی میری کوالیفیکیشن پوچھ رہی تھی اور یہ کہ مجھے کوکنگ آتی ہے کہ نہیں”
سیرت نے ثوبان کے آرام پر جل کر کہا
“واٹ۔۔۔ مگر ان کی ٹینشن نہیں لو انہیں تو چار سال ہوگئے ہیں اپنے بیٹے کے لئے لڑکی ڈھونڈتے ہوئے اور تماشے کرتے ہوئے۔۔۔۔ شادی کے بغیر ہی بوڑھا ہو جائے گا وہ تو”
سیرت کی بات سن کر پہلے ثوبان کی پیشانی پر ناگوار لکیریں ابھری پھر سیرت کو اطمینان دلانے کے غرض سے اس کو بتانے لگا
“چلو ان کی تو تمہیں کوئی ٹینشن نہیں لیکن کل کو کوئی اور سوالی بن کر آ گیا تو پھر” سیرت نے سنجیدگی سے ثوبان سے پوچھا
“یار سیرت کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔۔۔۔ میں یہاں پر تمہارے پاس خود کو ریلیکس کرنے آیا ہوں اور تم ہو کہ ٹینشن والی باتیں شروع کر رہی ہو۔۔۔ میری جان ایسا کچھ نہیں ہوگا،، میں ایسا کچھ ہونے نہیں دوں گا میرا یقین کرو”
ثوبان چائے کا خالی کپ سائڈ پر رکھتے ہوئے سیرت سے بولا
“ٹھیک ہے تم خود کو ریلیکس کرو اب میں تمہیں ٹینشن نہیں دوں گی”
سیرت بولتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر جانے لگی تبھی ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“اب کہاں جا رہی ہو”
ثوبان نے سیرت کو غور سے دیکھ کر پوچھا ریڈ کلر کے ڈریس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی سارا وقت تو اس کو دیکھ نہیں پایا ابھی اسے فرصت ملی تھی تبھی وہ اس کے بیڈروم میں آیا
“چینج کر کے آتی ہوں”
سیرت اپنے آپ کو نارمل رکھتے ہوئے بولی
“ابھی نہیں تھوڑی دیر ایسے ہی بیٹھی ہوں میرے پاس”
ثوبان کے التجائی انداز پر وہ دوبارہ ثوبان کے پاس بیٹھ گئی تھوڑی دیر تک ثوبان لیٹے ہوئے اس سے باتیں کرتا رہا تھکن کے باعث ثوبان کی وہی آنکھ لگ گئی،، سیرت نے اپنا ڈریس چینج کیا۔۔۔ سوتے ہوئے ثوبان کو اٹھانا اچھا نہیں لگا اس لئے لائٹ آف کر کے وہ خود بھی ثوبان کے برابر میں سونے کے لئے لیٹ گئی
****
صبح سات بجے ثوبان کی آنکھ کھولی اپنے برابر میں سیرت کو سوتا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ سیرت سے باتیں کرتے کرتے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔۔ وہ سیرت کو سوتا چھوڑ کر اس کے روم سے نکلا۔۔۔ صبح کا وقت تھا اس لیے سب ہی اپنے اپنے روم میں سو رہے تھے۔۔۔ بالوں کو ہاتھ سے سنوارتا ہوا وہ اپنے بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا
مگر کچن سے نکلتی ہوئی یسریٰ کی سیڑھیوں سے اوپر سیرت کے روم کا دروازہ کھولنے پر نظر پڑی۔۔۔ سیرت کے روم سے ثوبان کو اپنے روم میں جاتا دیکھ کر وہ بری طرح چونکی
وہ بہروز کے لئے ناشتہ بنانے کے غرض سے کچن میں آئی تھی تاکہ صبح کی دوا بہروز کو دے سکے مگر یہ منظر دیکھ کر وہ گہری سوچ میں پڑگئی
ثوبان اتنے سالوں سے اس کے پاس رہ رہا تھا وہ اس کی نیچر سے اچھی طرح واقف تھی یسریٰ نے ہمیشہ اپنے اور رنعم کے لیے،، یہ دوسری عورتوں کے لئے اس کی نظر میں اور انداز میں احترام دیکھا تھا۔۔۔۔ پھر وہ کس طرح سیرت کے روم میں جا سکتا ہے وہ بھی اتنی صبح۔ ۔۔
شاید وہ سیرت کو پسند کرتا ہو
یسریٰ کے دل میں خیال آیا اگر ایسا تھا بھی تو،،، یہ کوئی مضائقہ نہیں وہ ثوبان کی پسند کو ہی ترجیح دیتی مگر پسند اپنی جگہ، پھر بھی اسے اتنی صبح ثوبان کا سیرت کے کمرے سے نکلنا اسے عجیب لگا
****
رنعم کی آنکھ کھلی اس نے سائڈ پر گردن موڑ کر گھڑی میں ٹائم دیکھا صبح کے آٹھ بج رہے تھے اس کا پور پور رات کی نچھاور کردہ کاشان کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔ وہ باتھ لینے کے غرض سے واش روم جانے کی نیت سے اٹھی تب ہی کاشان نے اس کا سر دوبارہ اپنے سینے پر رکھ کر لیٹایا
“کیوں اٹھ گئی ہوں اتنی جلدی سو جاؤ تھوڑی دیر”
کاشان نے بند آنکھوں کے ساتھ نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں اس سے بولا
“آپی اور بھیا آتے ہو گے۔۔۔ آپ بھی اٹھ جائے”
رنعم کاشان کو دیکھے بغیر آہستہ سے بولی
“نہیں آئے گا تمہارا بھیا اتنی جلدی۔۔۔ میں نے اس کو کل رات ہی بول دیا تھا صبح جلدی آکر ہمہیں ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں آرام سے آنا”
کاشان نے بند آنکھوں کے ساتھ رنعم کو اپنا کارنامہ بتایا جس پر وہ کاشان کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
“آپ نے بھیا کو ایسے بول دیا وہ کیا سوچ رہے ہوں گے ہمارے بارے میں”
رنعم نے سبز آنکھوں حیرانی سمائے ناراضگی سے بولا۔۔۔جس پر کاشان نے اپنی آنکھیں کھولیں
“جو تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہیں سوچ رہا ہوگا۔۔۔ اور ویسے بھی تمہارا بھیا، میرا بھی بھائی لگتا ہے اس لیے زیادہ فیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جادوگرنی”
کاشان اس کے گلابی گالوں پر انگلیاں پھیرتا ہوا بولا
“جادوگرنی۔۔۔ آپ میرے لیے ایسا لفظ بول رہے ہیں کاشان”
رنعم کو کاشان کے منہ سے اپنے لیے ایسا الفاظ سن کر افسوس ہوا
“تو اور کیا بولو آئستہ آئستہ اپنا جادو تو چلاتی آئی ہو اب تک۔۔۔۔ اور کل رات تو اپنے حسن کا ایسا جال بجھایا کاشی کو تو اپنا ہی ہوش نہیں رہا”
وہ خمار بھری آواز میں بولتا ہوا رنعم کو لٹا کر اس پر جھکا۔۔۔۔ مگر اگلے ہی پل رنعم کا موبائل بج اٹھا جس پر کاشان نے ناگواری سے اسکے موبائل کو گھورا اور اٹھ کر بیٹھا۔۔۔ رنعم کاشان کے موڈ خراب ہونے پر معذرت بھری نظریں کاشان پر ڈال کر کال ریسیو کرنے لگی
“ہیلو کون”
گھبرائٹ میں رنعم موبائل پر نام دیکھنے کے باوجود سیرت سے بےوقوفی کا سوال کر بیٹھی
“کون کی بچی ایک رات میں ہی اپنی آپی کو بھول گئی ہو۔۔۔ آرہی ہو تھوڑی دیر میں پھر اچھی طرح بتاتی ہو کون”
رنعم کی آواز سن کر سیرت نان اسٹاپ شروع ہوگئی جبکہ دوسری طرف کاشان۔۔۔ اور اس افتاد پر رنعم بوکھلا گئی
“آپی آپ نے کیوں فون کیا”
کاشان کو خود پر جھکتا دیکھ کر رنعم گھبراتی ہوئی سیرت سے پوچھنے لگی
“چیک کر رہی تھی تم جاگی ہوئی ہو یا سوئی ہوئی ہو اور کیا کر رہی ہو اس وقت”
سیرت اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی
“اس وقت کیا کر رہی ہو میں۔۔۔۔۔ آپی میں اس وقت۔۔۔ نہیں پلیز صبر”
کاشان نے کھینچ کر رنعم کو بیڈ پر لٹایا تو بےساختہ رنعم کے منہ سے نکلا
“ہییییں۔۔۔۔ کیا بول رہی ہو بہن،،، عقل تو ٹھکانے پر ہے تمھاری”
سیرت نے پہلے اپنے موبائل کو گھورا پھر حیرت سے وہ رنعم کو بولی
“نہیں”
کاشان رنعم کی گردن پر جھکا تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا یہ لفظ وہ کاشان کو بولنا چاہ رہی تھی جس کا کاشان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور سیرت دوبارہ موبائل کو آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگی
“کییییا۔۔۔۔ کل تک تو تم نارمل تھی رنعم،،، یہ صبح صبح کیا ہوگیا تمہیں۔۔۔۔ کہیں وہ بھوت تو نہیں جاگا ہوا”
سیرت فکر مندی سے پوچھنے لگی مگر آخری بات اس نے شرارت سے پوچھی
“ایسا ہی ہے”
رنعم نے کوڈ ورڈ میں بتانا چاہا۔۔۔۔ کاشان کی بڑھتی ہوئی جسارتوں پر رنعم کا سانس ہی روکنے لگا وہ گردن کے اشارے سے بار بار کاشان کو منع کر ہی تھی جبکہ وہ اشارے سے اسے فون رکھنے کا کہتا۔۔۔ مگر سیرت اگلی بات شروع کر دیتی اور کاشان کوئی ایسی شرارت جس پر رنعم مزید بوکھلا جاتی
“کیا کر رہا ہے وہ جن اس وقت”
سیرت مزے سے رنعم سے پوچھنے لگی
“وہ۔۔۔۔ وہی۔۔۔ نہیں نہیں میرا مطلب ہے۔۔۔ پلیز کوئی تو سمجھو میری بات کو”
رنعم نے آخری جملہ جھنجھلا کر دونوں کو بولا
جس پر ایک طرف سیرت تو دوسری طرف کاشان دونوں اسٹاپ ہوگئے۔۔۔۔۔ کاشان نے رنعم کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے موبائل اس کے ہاتھ سے لیا
“کیا مسئلہ ہے بھئی تمہارے ساتھ،،، کیوں پکائے جا رہی ہے صبح صبح ہم دونوں کو”
اب کاشان سیریز ہوکر سیرت سے پوچھنے لگا
“میں تو اپنی بہن سے بات کر رہی تھی۔۔۔ تم کیو جاگ رہے ہو اور کیا کر رہے ہو سو جاؤ ایک طرف پڑ کر”
کاشان کی آواز سن کر سیرت نے اسے نراٹھے پن سے کہا
“تمہاری بہن میری بیوی ہے اور میں اپنی بیوی کے آنکھوں کا کاجل چیک کر رہا ہوں کہیں پھیلا تو نہیں اور کچھ جاننا ہے تمہیں”
کاشان اس سے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“نہیں”
سیرت کو کل رات والا اپنا ثوبان کا سین یاد آیا تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا
“تو تم جاگ کیوں رہی ہو ایک طرف پڑ کر سو جاؤ”
کاشان اسی کے انداز میں بولتا ہوں لائین ڈسکنکٹ کر گیا
“سارا وقت برباد کر دیا تمہاری بہن نے”
کاشان دوبارہ رنعم کے گلابی گالوں کو دیکھ کر بولنے لگا جوکہ تھوڑی دیر پہلے شرم و حیا سے سرخ ہو چکے تھے
“کاشان میں فریش ہوجاتی ہو ڈریسز بھی تو رکھنے ہیں بیگ میں”
رنعم بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی
“ڈریسز کس خوشی میں رکھنے ہیں بیگ میں”
کاشان اب سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“وہ ہمارے ہاں رسم ہوتی ہے ولیمے کے بعد لڑکی میکے میں رکتی ہے۔۔۔ ہمارا ولیمہ آج ہی ہے تو اس لئے سوچا بیگ ابھی سے پیک کرلو”
رنعم کاشان کی نظروں سے ہچکچاتے ہوئے اسے بتانے لگی
“فضول کی رسمیں ہیں یہ سب۔۔۔ ابھی ثوبی آئے گا تو، تم صرف دو گھنٹے کے لئے جا رہی ہوں اپنے گھر۔۔۔ آنٹی انکل سے مل کر واپس آ جانا اور میرے ساتھ پیکنگ کروانا کیوکہ آج ہمارا ولیمہ ہے اور کل دوپہر کو ہماری فلائٹ ہے دبئی کی، ہنی مون ٹرپ کے لیے نکلنا ہے۔۔۔۔ بعد میں مجھے آفس کی طرف سے چھٹیاں نہیں ملیں گی”
کاشان نے کھڑے ہوکر نرمی سے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے اپنا پروگرام بتایا جس پر رنعم سرہلا کر خاموش ہو گئی
****
“اور سنائیں باجی کیسی ہیں آپ اور غفران بھائی کیسے ہیں”
یسریٰ تھوڑی دیر پہلے ہی بہروز کو کھانا کھلا کر فارغ ہوا تھا تو فرح کی کال آگئی
“میں اور تمہارے بھائی ٹھیک ہے تم سناؤ شادی کی تھکن اتری”
فرح نے یسریٰ سے پوچھا
“دس دن گزر چکے ہیں ماشاءاللہ سے کاشان اور رنعم کی شادی ہوئے تھکن تو کیا سارے گھر کے کام بھی معمول پر آگئے ہیں”
یسریٰ نے مسکرا کر جواب دیا
“رنعم کیسی ہے ابھی تک آئی نہیں واپس۔۔۔ میں نے ایک دفعہ کال کی تھی اسے،، اس نے ریسیو نہیں کی دوبارہ یہ سوچ کر نہیں کہ نئی شادی ہوئی ہے ڈسٹرب نہ ہو وہ اور کاشان”
فرح نے یسریٰ کو بتایا
“ڈسٹرب کیوں ہوگی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ گھوم پھر رہی ہوگی اس کی کال رسیو نہیں کر سکی ہوگی۔۔۔ میری تو کل رات کو ہی بات ہوئی ہے وہ دونوں آج شام واپس آرہے ہیں” یسریٰ نے فرح کو آگاہ کیا
“چلو اچھی بات ہے اللہ خوش رکھے دونوں کو۔۔۔ دراصل مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی اس لیے میں نے کال کی”
فرح کام کی بات پر آتی ہوئی بولی
“جی باجی بولیے کونسی ضروری بات ہے”
یسریٰ سامنے رکھی ہوئی چیز پر بیٹھتی ہوئی بولی
“دیکھو یسریٰ عاشر کے لئے شروع سے ہی میں نے رنعم کا سوچا تھا۔۔۔۔ تم سے ذکر اسلیے نہیں کیا کہ دونوں چھوٹے بچے ہیں۔۔۔۔ بڑے ہو کر ان کی کیا رجحانات ہو۔۔۔ خیر اب رنعم اپنے گھر کی ہو گئی ہے تو یہ گلہ ہی فضول ہے دراصل اب میں چاہتی ہوں بلکہ سمجھو یہ غفران کی خواہش ہے میں تم سے سیرت کے لیے عاشر کی بات کرو۔۔۔ دیکھو یسریٰ رنعم کی باری میں تمہیں جو مناسب لگا وہ کیا مگر اس دفعہ مجھے مایوس مت کرنا پلیز کیونکہ یہ بات غفران نے مجھ سے کی ہے اور تم ان کی نیچر کو بخوبی جانتی ہو”
فرح کی بات پر یسریٰ کے کندھوں پر دوبارہ بوجھ ان گرا۔۔۔ وہ فلحال چپ ہوگئی ہاں ہو کر کے ادھر ادھر کی بات کرنے لگی
فون رکھنے کے بعد ایک دفعہ پھر اسے وہ منظر یاد آیا جب ثوبان صبح کے وقت سیرت کے کمرے سے نکل رہا تھا یسریٰ ایک بار پھر الجھ گئی اور گہری سوچ میں پڑ گئی
