Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 36)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 36)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
رنعم کی آنکھ صبح الارم کی آواز سے کھلی،، الارم بند کر کے وہ بیڈ سے اٹھتی ہوئی آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے وجود کو دیکھنے لگی اس کے ہاتھوں اور بازوں پر کاشان کی انگلیوں کے نشانات ابھی تک موجود تھے بے ساختہ اس نے اپنے نچلے کٹے ہوئے ہونٹ پر انگلی پھیری
کل رات اس کا شوہر کس بری طریقے سے اس کی ذات کو روند چکا تھا رات والا منظر یاد کر کے رنعم کی آنکھیں بھیگی۔۔۔۔ ہونٹوں پر سے وہ اپنے انگلی کو گردن تک اور پھر اس کے بعد سینے تک لائی جہاں پر جا بجا اس کے شوہر کی حیوانیت اور جنونیت کے نشانات موجود تھے۔۔۔
نیوز میں یا اخبارات میں جب وہ اس طرح کی خبریں دیکھتی اور پڑھتی تو وہ ایسے مردوں کے بارے میں یہی سوچتی ان کو کس پلڑے میں تولا جائے انسانیت کہ یا حیوانیت کہ۔۔۔۔ گردن موڑ کر اس نے سوئے ہوئے کاشان پر افسوس بھری نظر ڈالی،، جو اس کی ذات پر فتح کا جشن بنا کر گہری پُر سکون کی نیند سو رہا تھا۔۔۔ شادی کے بعد آج گیارویں دن اس کے محبت کرنے والے شوہر نے اسے عرش پر سے اچانک زمین پر لا پٹخا تھا۔۔۔۔ کل رات اپنا غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد اسی نے رنعم کو وارڈروب سے کمیز نکال کر دی جو رنعم نے خاموشی سے پہن لی اس کے بعد کاشان دوسری طرف پیٹھ کر کے سو گیا
رنعم دوبارہ کل رات والا منظر سوچنے کے بعد گہری سانس لے کر واش روم گئی۔۔۔ واپس آنے کے بعد اس نے دیکھا کاشان ابھی تک سو رہا تھا
آج اسے اپنی ڈیوٹی جوائن کرنا تھی مگر رنعم کو اس وقت کاشان کو اٹھانے یا مخاطب کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ الارم سیٹ کر کے اسے سائڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ کچن میں ناشتہ بنانے کے غرض سے چلی آئی۔۔۔ ناشتہ ٹرے میں سیٹ کر کے وہ ٹیبل پر آئی تب تک کاشان ڈریس اپ ہو کر ٹیبل پر آ چکا تھا
کاشان نے فریش موڈ کے ساتھ اسمائل دے کر رنعم کو دیکھا مگر رنعم نے اسے دیکھے بناء کیٹل سے کپ میں چائے نکال کر کاشان کے سامنے رکھی کاشان چیئر پر بیٹھا رنعم اسی کے پاس کھڑی ٹرے سے باقی چیزیں نکال رہی تھی
“تم ناشتہ نہیں کروں گی”
میز پر صرف اپنا ناشتہ دیکھ کر کاشان نے رنعم کا ہاتھ تھام کر اسے مخاطب کیا۔۔۔۔ اس وقت اس کے لہجے میں کل رات والا غصہ کہیں موجود نہیں تھا
“موڈ نہیں ہو رہا میرا”
وہ آملیٹ کی پلیٹ کاشان کے سامنے رکھتے ہوئے کہنے لگی،، کاشان نے اس کا ہاتھ چھوڑا تو رنعم بریڈ پر بٹر لگانے لگی۔۔۔ کاشان نے دوبارہ اسے دیکھا وہ اپنے کام میں مصروف نظر آئی کاشان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھا لیا
“موڈ ٹھیک کرو یار اپنا،،، اب جو ہو گیا سو ہو گیا”
وہ ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالے دوسرے ہاتھ سے چہرہ تھامتے ہوئے بولا
“جو ہوگیا سو ہوگیا مطلب۔۔۔۔ کاشان میں آپ کی بیوی ہو”
رنعم کو کاشان کے اس طرح بولنے پر اور زیادہ دکھ ہوا،،، مطلب یہ اس کی نظر میں ایک معمولی سی بات تھی رنعم نے کاشان کو احساس دلاتے ہوئے اپنا اس سے رشتہ بتایا
“رنعم یہی تو، تم بیوی ہو میری۔۔۔۔ میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو گھر میں بیوی کے ہوتے ہوئے اپنا منہ گھر سے باہر اِدھر اُدھر ماروں”
کاشان اس کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے اپنی بات سمجھانے لگا
“پھر بھی آپ کو اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ کل رات کو آپ نے کتنی بری طریقے سے۔۔۔۔۔”
کاشان کا سیریس موڈ دیکھ کر وہ اتنا ہی بول پائی،،، بات مکمل کیے بغیر ہی اس کے ہونٹ لرزے
“تم نے خود کل رات کو کیا، کیا تھا میرے ہاتھ پیچھے ہٹائے۔۔۔ مجھے خود سے دور کیا،،، مجھے منع کیا”
کاشان نے ابھی بھی سنجیدگی سے بولا۔۔۔ اس کی نظر رنعم کے ہونٹ اور گردن کے نشانات پر پڑی جو کل رات اس کے ساتھ ہونے والی زبردستی کو بیان کر رہے تھے
“صحیح ہے میں نے زندگی کا ایک حصہ جیل میں گزارا ہے مگر میرا معیار پھر بھی اتنا گرا ہوا نہیں ہے کہ میں اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کسی کال گرل کے پاس جاوں یا اپنی ضرورت پورا کرنے کے لیے کسی کو گھر لے کر آو۔۔۔۔
رنعم میں نے تم سے جائز بندھن باندھا ہے،،، مجھے جب ضرورت ہوگی تو میں تمہارے پاس ہی آؤں گا”
وہ رنعم کی آنکھوں میں اپنے لیے ناراضگی دیکھ کر دوبارہ بولا
“ٹھیک ہے کاشان مگر پلیز اب کبھی بھی آپ میرے ساتھ کل رات والا سلوک مت کریے گا”
رنعم کو بولتے ہوئے رونا آنے لگا
“تو پھر تم بھی آگے سے مجھے منع مت کرنا۔۔۔ غصہ آ گیا تھا مجھے کل رات جب تم نے میرے ہاتھ پیچھے کیے،،، اب یوں رو کر مجھے گلٹی فیل کرانے کی ضرورت نہیں ہے جاو شاباش اپنے لیے بھی ناشتہ لے کر آؤ میں اکیلے ناشتہ نہیں کروں گا”
کاشان نرم لہجے میں بولنے لگا رنعم اپنے آنسو صاف کر کے اٹھی اور کچن سے اپنا ناشتہ لے کر آ گئی۔۔۔۔ ان دونوں نے ناشتہ کیا کاشان آفس جانے لگا تب رنعم سے چھوڑنے دروازے تک آئی
“اسمائل دو مجھے دیکھ کر۔۔۔۔ ورنہ افس میں سارا دن مجھے تمہاری روتی ہوئی شکل یاد آئیگی”
کاشان نے رنعم کو دیکھ کر کہا تو وہ ہلکے سے مسکرا دی
“ڈول ہو تم میری اور میں تمہیں ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں”
رنعم کے اسمائل دینے پر کاشان نے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا
“دروازہ صحیح سے لاک کرو اور جاکر ریسٹ کرو۔۔۔ شام کو جلدی آنے کی کوشش کروں گا پھر تمہاری طرف چلیں گے”
کاشان پیار سے اس کے گال تھپتھپاتا ہوا باہر نکل گیا
رنعم دروازہ لاک کر کے واپس آئی برتن ٹیبل سے اٹھا کر کچن میں رکھے اور اپنے بیڈ روم میں آکر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔
کاشان گلٹ تھے مگر ایک دفعہ بھی انہوں نے اپنے رویے کی معافی نہیں مانگی۔۔۔۔ کیا واقعی صرف غلطی میری تھی مجھے اس طرح انہیں روکنا نہیں چاہیے تھا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کے نشانات پر انگلیاں پھیرتے ہوئے سوچنے لگی پھر سر جھٹک کر آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی
****
“کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہو کوئی بات ہوئی ہے کیا”
بہروز نے یسریٰ کو کافی دیر سے خاموش دیکھا تو پوچھ بیٹھا وہ کل سے ہی چپ تھی
“بہروز مجھے باجی کا بھی سمجھ میں نہیں آتا آخر انہوں نے کیا سوچ کر عاشر کے لئے سیرت کا بولا۔۔۔ جب میں نے ایک بیٹی کو دینے سے منع کردیا تو دوسری کیوں دوگی۔۔۔۔ دوبارہ انہیں ایسی بات کرنی ہی نہیں چاہیے تھی اب بھلا سیرت کو عاشر کے لئے مانگنے کی کیا ضرورت تھی”
یسریٰ نے پریشان ہوکر اپنی الجھن بہروز سے شیئر کی
“ظاہری بات ہے ہم جوان بیٹیوں کے ماں باپ ہیں رشتے تو آئیں گے۔۔۔ پریشان ہونے والی کیا بات ہے تمہیں مناسب نہیں لگ رہا تو منع کردو”
بہروز نے لیٹے ہوئے اسے پروبلم کا سلوشن بتایا
“آپ جتنی آسانی سے مسئلے کا حل بتا رہے ہیں نا اتنا آسان نہیں ہے منع کرنا۔۔۔ وہ میری بہن ہیں”
یسریٰ نے مزید پریشان ہوکر منہ بنایا
“اگر منع کرنا آسان نہیں ہے تو نہیں کرو منع،،، عاشر برا لڑکا نہیں ہے مجھے پسند ہے”
ؑبہروز ایک دفعہ پھر بولا جس پر یسریٰ اسے دیکھتی رہ گئی
“رنعم اور سیرت کے مزاج میں کافی فرق ہے بہروز آپ کو لگ رہا ہے وہ اتنی آسانی سے مانے گی”
یسریٰ نے بہروز کو دیکھ کر بولا
“ایسی کونسی بات ہے جو میں آسانی سے نہیں مانوں گی ذرا مجھے بھی تو معلوم ہو”
کل رات ہونے والی تلخی کے بعد صبح ناشتے کی ٹیبل پر وہ موجود نہیں تھی مگر شام کے وقت سیرت اپنے کمرے سے باہر نکلی بہروز اور یسریٰ کے روم میں آنے لگی،،، اپنے نام سن کر وہ یسریٰ سے پوچھ بیٹھی
“میری بیٹی آئی ہے میرے پاس یہاں آ کر بیٹھو میرے پاس”
بہروز کے بولنے پر سیرت اس کے پاس آئی بہروز نے اٹھ کر بیٹھنا چاہا،، جس پر سیرت نے اس کی مدد کی اور اسے بیڈ پر بٹھایا
“کیسی طبیعت ہے آپ کی”
وہ خود بھی بہروز کے قریب بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی
“ٹھیک ہوں بیٹا اور اب تو اور بھی زیادہ فریش محسوس کر رہا ہوں میری بیٹی جو میرے پاس آئی ہے” بہروز خوشی سے سیرت کو دیکھتا ہوا بولا تو وہ مسکرا دی۔۔۔۔ شاید آج وہ ہفتے بعد ہی بہروز کی روم میں آئی تھی
“کچھ کام تھا بیٹا” یسریٰ نے سیرت کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“کچھ خاص کام نہیں تھا آپ بتائے میرے آنے سے پہلے کیا ذکر ہو رہا تھا۔۔۔ کیا باتیں کر رہے تھے آپ دونوں”
سیرت کے پوچھنے پر بہروز اور یسریٰ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
“دراصل تمہاری آنی فرح باجی نے تمہارے لیے عاشر کا رشتہ بھیجا ہے مگر تم فکر نہیں کرو۔۔۔ کوئی بھی فیصلہ تمہاری مرضی کے بغیر نہیں ہوگا۔۔۔ ظاہری بات ہے زندگی تو تم نے گزارنی ہے”
یسریٰ نے اصل بات کے ساتھ ساتھ اس کی مرضی کو بھی اہمیت دینے کا اس لئے کہا کہیں وہ برا ہی نہ مان جائے یسریٰ کو معلوم تھا اور وہ انکار ہی کرے گی کیوکہ ثوبان اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے
“یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس میں میری مرضی پوچھی ہے آپ کو جو بہتر لگتا ہے وہ کریں اور عاشر برا لڑکا نہیں ہے”
سیرت کی بات بر خلافِ توقع تھی دونوں میاں بیوی حیرت سے منہ کھولے سیرت کو دیکھنے لگے جبکہ یسریٰ کو تو دوہرا جھٹکا لگا تھا یعنی ثوبان یک طرفہ ہی۔۔۔ یسریٰ مزید الجھ گئی
“اس میں اتنا حیران زدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے اب دونوں پیرنٹس ہیں میرے۔۔۔۔ میرے لیے فیصلہ کرسکتے ہیں۔۔۔۔ یہ باتیں تو ہوتی رہے گی،،، آج شام کو کاشان اور رنعم گھر پر آ رہے ہیں مینو بتا دیں مجھے،،، کاشان کے لئے کوفتے بنانے ہیں مجھے پسند ہیں اس کو”
سیرت نے مسکرا کر کہا آج یقیناً سیرت کا دونوں میاں بیوی کو حیران کرنے کا پلان تھا
“میں بھی بس کچن میں جانا ہی والی تھی اچھا ہے تم میری ہیلپ کردوں گی۔۔۔ کاشان کو شاہدہ کے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں ہے میں نے بھی نوٹ کیا ہے”
یسریٰ سارے خیالات جھٹک کر سیرت کی بات پر خوش ہوتے ہوئے بولی۔۔۔ مگر اسے سیرت کی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنے ثوبان کی خوشی بھی عزیز تھی اخر کو اس کا ایک ہی بیٹا تھا اب اسے ہی کچھ کرنا تھا
ابھی وہ تینوں باتیں ہی کر رہے تھے ثوبان بھی بہروز اور یسریٰ کے روم میں آ گیا وہ یونیفارم میں مبلوس تھا مطلب سیدھا انہی کے پاس آیا تھا وہاں سیرت اور کو بہروز اور یسریٰ کے بیڈ روم میں دیکھ کر اس کی طبیعت پر خوشگوار اثر پڑا
چند منٹ گزرنے کے بعد سیرت یسریٰ سے تھوڑی دیر بعد کچن میں آنے کا کہہ کر اپنے بیڈروم میں چلی گئی تاکہ رات کے ڈریس بھی پریس کر سکے ثوبان بھی چینج کرنے کا کہہ کر اٹھا اور وہاں سے چلا گیا مگر پہلے اسے اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو منانا تو جو یقینناً اس سے کل رات والی بات پر ناراض تھی اور اسے مسلسل اگنور کر رہی تھی
****
“ایسا کرو آج بلیک کلر کا ڈریس پہن لو”
سیرت وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال رہی تھی تبھی ثوبان روم کا دروازہ بند کرتا ہوا اس کے پیچھے آیا۔۔۔ سیرت نے خاموشی سے ایک نظر اس کو دیکھا اور آج کے دن کے لئے پیک کلر کا ڈریس نکال کر وارڈروب کا دروازہ بند کیا۔۔۔۔ اس کی اس حرکت پر ثوبان نے مسکرا کر اسے دیکھا
“ویسے تم پیک کلر کے ڈریس میری پوری پنکی لگو گی”
ثوبان وارڈروب کے ساتھ اسکو لگا کر اس کا راستہ بند کرتا ہوا بولا
“ہوگئی کامیڈی اب مجھے پریس کرنے دو”
سیرت بغیر ہنسے اس کو دیکھ کر کہنے لگی
“کامیڈی تو ہوگئی مگر ابھی اپنی بیوی کو منانا تو باقی ہے”
ثوبان نے بولنے کے ساتھ ہی اپنا چہرہ قریب کر کے سیرت کے گال پر آہستہ سے اپنے ہونٹ رکھے
“اب تمہاری باری”
وہ پیار بھری نظروں سے سیرت کو مسکرا کر دیکھتا ہوا بولا جبکہ سیرت ابھی بھی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ثوبان کے بولنے پر سیرت اس کے گال کے قریب اپنے ہونٹ لائی جس پر ثوبان نے اسمائل دی مگر جب ہلکی سی چپت اس کے گال پر سیرت نے نرم انگلیوں سے رسید کی تو وہ سیرت کو گھورنے لگا
“شرم آنی چاہیے تمہیں اپنے شوہر پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے” ثوبان نے افسوس سے کہتے ہوئے اسے شرم دلانے کی کوشش کی
“شرم آنی چاہیے تمہیں اپنی بیوی پر غصہ کرتے ہوئے” سیرت ابھی بھی سنجیدگی سے اس کو بولی
“تلافی بھی تو کر رہا ہوں نا”
ثوبان نے دوبارہ اس کے دوسرے گال کو آئستہ سے اپنے ہونٹوں سے چھوا
ویسے ہی سیرت نے دوبارہ ثوبان کے دوسرے گال پر ہلکی سی چپت رسید کی
“اوئے اب ہاتھ لگایا ناں دیکھنا پھر کیا کروں گا تمہارے ساتھ”
ثوبان نے گھور کر سیرت کو ڈرانا چاہا
“تم نے سیرت کو بہت ہلکا لیا ہوا ہے ثوبان احمد۔۔۔ سیرت نے بڑے بڑوں کو سیدھا کیا ہے”
سیرت اس سے پہلے مُکا اس کے پیٹ میں جڑتی ثوبان نے اس کی کلائی پکڑ کر ہاتھ پیچھے کی طرف موڑا
“نہیں میری جان تم نے ثوبان احمد کو بہت ہلکا لیا ہوا ہے اب دیکھنا تمہارا ثوبی تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے”
ثوبان نے اس کا نازک وجود اپنے کندھے پر ڈال کر اس کو بیڈ پر لٹایا اور خود اس کے اوپر جھک گیا
“پیچھے ہٹو ثوبی ورنہ تم بہت پچھتانے والے ہو” سیرت اپنی کلائی اس کے ہاتھ سے چھڑاتی ہوئی اسے دھمکانے لگی
“میں پچھتانے کے لیے تیار ہوں مگر اپنی سستی اتارنے کے بعد”
وہ اسے دوبارہ کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر اپنی پر اتر آیا۔۔۔ اور کافی دیر تک اپنی چلائی
“میری چائے میں چینی کم ڈالنا آج کچھ زیادہ ہی میٹھا ہو گیا ہے”
تھوڑی دیر بعد ثوبان بیڈ سے اٹھا سیرت کا سرخ چہرہ دیکھ کر آنکھ مارتا ہوا بولا
“اب قریب آکر دکھانا۔۔۔ میں تمہاری سستی اچھی طرح اتارو گی”
سیرت اپنا جوڑا باندھ کر اتنا دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی ثوبان سے کہنے لگی
“اگر مجھے چیلنج کر رہی ہو تو آج رات دروازہ لاک کرکے مت سونا”
وہ سیرت کو کہتا ہوا مسکرا کر اس کے روم سے باہر نکل گیا
****
رنعم نے آج میکے جانے کے لیے ریڈ کلر کا ڈریس سلکیٹ کیا تھا وجہ یہ تھی کہ اس ڈریس کا گلا کولر شیپ میں بنا ہوا تھا جو اوپر تک بند تھا اور اسکی سلیوز لونگ تھی
اسطرح اس کے ہاتھ اور گردن کے نشانات باآسانی چھپ گئے تھے۔۔۔ جیولری کے نام پر اس نے کانوں میں چھوٹی چھوٹی جھمکے پہنے ہوئے تھے جبکہ ڈائمنڈ کی ننھی سی نوز پن ہمہ وقت شادی کے بعد اس کی ناک میں ڈلی رہتی۔۔۔۔ سرخ لپ اسٹک لگا کر اس نے اپنے بال کھول لیے۔۔۔۔ اب آئینے میں کھڑی وہ اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی جبکہ کاشان بیڈ پر لیٹ کر اس کی تیاری دیکھ رہا تھا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں کچھ اوور لگ رہا ہے کیا”
رنعم نے پیچھے بیڈ پر لیٹے ہوئے کاشان کو دیکھ کر پوچھا
“یہ آئینہ تمہیں صیح نہیں بتا پائے گا کہ تم کیسی لگ رہی ہو میری آنکھوں میں جھانک لیا کرو تمہیں خود معلوم ہو جائے گا”
وہ رنعم کے پاس آکر اسے بانہوں میں لے لیتا ہوا بولا
“آپ کو میں کب کب اچھی لگتی ہو کاشان”
رنعم نے کاشان کے سینے پر اپنا سر ٹکانے کے ساتھ اسکے دل پر اپنی انگلی سے اپنے نام کا پہلا ورڈ لکھتے ہوئے پوچھا
“تم میرے دل کو نہ ہی کبھی بری لگی ہو اور نہ ہی کبھی لگ سکتی ہو میرے دل پر تمہارے نام کا پہلا حرف نہیں بلکہ پورا نام لکھا ہوا”
وہ اپنے سینے پر سے اس کی انگلی اٹھا کر چومتا ہوا بولا
“جب آپ کو مجھ پر غصہ آتا ہے تب۔۔۔۔ کیا میں آپ کو تب بھی اچھی لگتی ہوں”
رنعم نے سر اٹھا کر کاشان کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“غصہ آنے کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا۔۔۔ کہ جس کو ہم محبت کریں وہ ہمہیں برا لگنے لگے۔۔۔ اوروں کے ساتھ شاید ایسا ہوتا ہوگا مگر میرے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔۔۔ تم مجھے تب بھی بہت اچھی لگتی ہو”
کاشان اس کی کمر سے اپنے ہاتھ ہٹا کر اس کا چہرہ تھام کر کہنے لگا جس پر رنعم ہلکے سے مسکرا دی کاشان رنعم کو غور سے دیکھنے لگا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں”
رنعم کاشان کو دیکھ کر پوچھنے لگے
“میں جب تم پر غصہ کرتا ہوں مجھے نہیں معلوم کہ میں تمہیں اچھا لگتا ہوں کہ برا۔۔۔۔ لیکن اگر تمہیں برا بھی لگو تو بے شک مجھ سے ناراض ہو جانا مجھ پر غصہ کر لینا مگر پلیز کبھی مجھ سے نفرت نہیں کرنا”
کاشان رنعم کی آنکھوں میں جھانک کر سنجیدگی سے کہنے لگا
“عورت کی محبت کو آپ نے کیا سمجھا ہے کاشان۔۔۔۔ وہ جسے ایک بار اپنے دل میں بسا لے اس سے نفرت نہیں کر سکتی اور محبت تو میں نے بھی آپ سے کی ہے”
رنعم کے اقرار پر کاشان نے مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کی پیشانی پر رکھے اور پیچھے ہوا
“سب کے گفٹس رکھ لیے تم نے”
اب وہ ڈریسر کے آگے کھڑا ہوکر ہیئر برش سے اپنے بال بناتے ہوئے رنعم سے پوچھ رہا تھا،، دبئی سے ان دونوں نے تھوڑی بہت سب کے لئے شاپنگ کی تھی
“جی وہ تو میں نے شام میں ہی رکھ لیے تھے”
رنعم اسے تیار دیکھ کر روم سے نکلنے لگی تبھی کاشان نے اس کا بازو پکڑ کر اسے جانے سے روکا
“ایک بات اور کوئی بھی ہم دونوں کو یا پھر تمہیں آج روکنے کے لیے بولے گا تو تم میری طرف دیکھے بغیر رکنے سے منع کر دوگی انڈر اسٹینڈ”
کاشان رنعم کا بازو پکڑے اسے نرمی سے سمجھانے لگا
“کاشان میں شادی کے بعد کہا اب تک مما بابا کے گھر رکی ہو”
رنعم کا پورا ارادہ تھا کہ وہ آج اپنے گھر پر رکے اس لیے آئستہ سے بولی
“میری جان بیس سال سے تم اپنے مما بابا کے گھر پر ہی تھی۔۔۔ میرے خیال میں بیس سال کا عرصہ کافی ہوتا ہے”
کاشان نے مسکراتے ہوئے رنعم سے کہا رنعم کا بازو ابھی بھی کاشان کے ہاتھ میں تھا
“پر کاشان اتنے دن ہوگئے ہیں”
رنعم نے کاشان کا اچھا موڈ دیکھ کر دوبارہ بولنا چاہا
“رنعم اب بحث نہیں”
کاشان کے لہجے میں ابھی بھی نرمی تھی مگر اس کے ہاتھ کی سختی نے رنعم کو آگے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا
“جی”
رنعم اتنا ہی بول سکی اور کاشان نے اس کا بازو چھوڑ دیا
“گڈ، سارے دروازے کھڑکیاں چیک کر کے باہر آجاؤ”
کاشان اپنے ہاتھوں کی دو انگلیوں سے اس کا گال چھوتا ہوا گفٹ والے شاپرز لے کر باہر نکل گیا
صبح کی طرح رنعم کا دل ایک دفعہ پھر اداس ہونے لگا۔۔۔۔ مگر اسے ابھی اپنی فیملی سے ملنا تھا خوش ہوکر تاکہ وہ سب اس کو خوش دیکھ کر مطمئن ہو جائیں اس لیے اپنے آپ کو نارمل کرتی ہوئی وہ گھر سے باہر نکل گئی
****
“واہ بھئی آنٹی یہ کوفتے تو یقیناً آپ نے بنائے ہوگے” کاشان نے کھانے کی میز پر یسریٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“نہیں یہ کوفتے میری پیاری سی بڑی بیٹی نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے خاص کر بنائے ہیں”
یسریٰ نے مسکرا کر سیرت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کاشان نے ابرو اچکا کر سیرت کو دیکھا
“لوگ تو بھئی بڑی ویلیو شیلیو دینے لگ گئے ہیں اب۔ ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا بہنوئی بن کر ہم اتنے اہم ہو جائیں گے”
کاشان نے ہمیشہ کی طرح سیرت کو چھیڑتے ہوئے کہا
“زیادہ عرش پر چڑھنے کی ضرورت نہیں ہے نیچے آجائے زرا۔۔۔۔ شادی کے بعد پہلی دفعہ تم دونوں گھر آئے ہو تبھی میں نے تم دونوں کی فیورٹ ڈش بنائی ہے۔۔۔ رنعم تمہیں چاومن پسند ہے نا”
سیرت نے کاشان کو ٹکا سا جواب دیکھ کر چاومن کا باول رنعم کی طرف بڑھایا جو اس نے تھینک یو کہہ کر تھام لیا
“اور میرے لیے کیا بنایا ہے اپنے ہاتھوں سے”
سیرت کے برابر میں بیٹھے ثوبان نے، بالکل آہستہ سے سیرت کے کان میں پوچھا۔۔۔۔ تو سیرت نے مرچوں کے سالن سے بھرا ہوا بول، ثوبان کو تھما دیا۔۔۔
“آج میٹھا زیادہ ہوگیا تھا اب اس سے کام چلاو” سیرت نے ثوبان کو دیکھ کر کہا اس کی بات سن کر ثوبان نے افسوس بھری نظر سیرت پر ڈالی وہی ان کے سامنے بیٹھے کاشان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری
“مرچ تو اس کے پاس پہلے سے موجود ہے”
کاشان نے مرچوں کے سالن کو دیکھ کر سیرت سے کہا کاشان کی بات سن کر ثوبان نے اس کو آنکھیں دکھائی
“کیا مطلب بیٹا”
یسریٰ نے کاشان کو دیکھ کر پوچھا سب کے ساتھ رنعم بھی ان کی طرف متوجہ ہوئی
“آنٹی میرا کہنے کا مطلب ہے کھانے میں نمک مرچ بالکل پرفیکٹ ہے کوفتے بہت ٹیسٹی بنائے ہیں سیرت نے اور جب لڑکی کے ہاتھ میں ذائقہ آجائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے اس کی شادی فوراً کر دینی چاہیے”
میز کے نیچے سے ثوبان کا کاشان کو پاؤں مارنا بھی کام نہیں آیا۔۔۔۔ اور ثوبان کی آنکھوں کی طرف وہ پہلے سے ہی نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔ کاشان نے سوچا ثوبان تو اپنے منہ سے کچھ بولے گا نہیں کیوں نہ میں ان دونوں کی نیّا پار لگا دو اس لیے وہ یسریٰ کی طرف دیکھ کر بولا
“ویسے تو تمہارے انکل اور میرا ارادہ تھا کہ اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ وقت گزاریں مگر باہر سے اچھا رشتہ آیا ہے سیرت کے لیے”
یسریٰ نے ایک نظر ثوبان کو غور سے دیکھ کر کاشان کی طرف رخ کر کے اسے بتاتا
یسریٰ کے بولنے کی دیر تھی زوردار قسم کا پھندہ ثوبان کو لگا اس کے وجہ سے وہ زور سے کھانسنے لگا۔۔۔۔ رنعم نے جلدی سے پانی کا بھرا گلاس ثوبان کی طرف بڑھایا سب اس وقت ثوبان کی طرف متوجہ ہوگئے۔ ۔۔۔ کاشان کو ثوبان کا پھندہ لگنا تو سمجھ میں آیا مگر اس وقت اسے سیرت کی پراسرار مسکراہٹ کچھ عجیب سی لگی
