Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 5)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“کیا سوچ رہی ہو” بہروز جو بیڈ کے گراؤن سے ٹیک لگائے کافی دیر سے کیس اسٹڈی کر رہا تھا یسریٰ کو دیکھ کر پوچھنے لگا جو بیڈ پر لیٹے ہوئےمسلسل چھت کو گھور رہی تھی
“سوچ رہی ہوں کبھی کبھی آپ کو بھی کمی محسوس ہوتی ہوگی، بیٹا نہیں دے سکی میں آپ کو”
یسریٰ نے نظروں کا زاویہ بدلے بغیر بہروز سے کہا رنعم کی پیدائش کے بعد کچھ اندرونی پیچیدگیوں وہ دوبارہ کنسیو نہیں کر سکی
“کیا اس طرح کی باتیں سوچتی ہوں یسریٰ، میں نے تم سے کبھی شکوہ کیا یہ طعنہ دیا پھر کیوں اسطرح کا خیال آیا تمہارے دل میں”
بہروز فائل بند کرتا ہوا اسے دیکھ کر پوچھنے لگا
“آپ نے کبھی طعنہ نہیں دیا، نہ شکوہ کیا مگر آپ نے یہ بھی نہیں کہا کہ آپ کو کبھی ایسا خیال نہیں آیا”
یسریٰ اب بہرروز کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“دیکھو یسریٰ ہر کام میں اوپر والے کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے چلو اگر بیٹے کے بارے میں میرے دل میں کبھی خیال بھی آیا تو میں یہ سوچ کر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں صاحبِ اولاد رکھا، بیٹا نہیں ہے تو کیا ہوا، اولاد جیسی نعمت سے محروم تو نہیں ہے نا ہم دونوں۔۔۔ تم بھی یہ سب باتیں سوچنا چھوڑ دو اور رنعم پر دھیان دیا کرو بس”
وہ یسریٰ کا ہاتھ تھامے اسے پیار سے سمجھا جانے لگا
“رنعم پر ہی رہتا ہے میرا دھیان،،، کہیں اسے بھی کوئی انعم کی طرح”
سبز انکھوں میں خوف لیے یسریٰ نے پوری بات بولی بھی نہیں تھی بہروز نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا
“خدانخواستہ کیسی باتیں نکال رہی ہو منہ سے،،، ہماری کل کائنات رنعم ہی تو ہے اس کے بارے میں ایسی باتیں مت سوچو”
بہروز کے بولنے پر یسریٰ چپ ہوگئی وہ جانتی تھی بیٹی کھونے کا جتنا اسے غم تھا اتنا بہروز کو بھی ہے مگر وہ مرد تھا برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ۔۔۔
چند سالوں پہلے بہروز نے نامی گرامی شخصیت کو اکسپوز کیا تھا،،، جس پر کیس بھی چلا مگر پاور کی بنیاد پر وہ باعزت بری ہوگیا بعد میں جس کا خمیادہ بیٹی کی صورت بہروز کو بھکدنہ پڑا
****
یہ جیل میں cکیٹیگری کا بیرک تھا جہاں ١۵ قیدیوں کے رہنے کی جگہ تھی مگر وہاں پر ٢۵ قیدیوں کے گدے لائن سے بچھیں ہوئے تھے۔۔۔ پنکھے وہاں پر موجود تھے مگر آٹھ آٹھ گھنٹے لائٹ کا کچھ پتہ نہیں ہوتا، نہ پینے کے لئے ٹھنڈا صاف پانی میسر تھا
دو وقت کے کھانے کے نام پر پانی ملی پتلی دال اور تین روٹیاں دی جاتی ان تین روٹیوں کو محدود دال کے ساتھ کسی بھی طرح کھانا ہوتا کیونکہ دال صرف ایک دفعہ ملتی،، اتوار کے دن گوشت یا کوئی اچھی چیز دی جاتی
کاشان کو جیل میں وقت گزارتے ہوئے ایک ماہ ہوچکا تھا جس میں صرف مشکل سے دو بار ثوبان اسے ملنے آسکا تھا وہ کاشان کی ہمت بڑھاتا اور اسے تسلی دیتا کہ وہ اسے جلد کسی نہ کسی طرح یہاں سے نکال لے گا مگر کاشان کو اندازہ تھا وہ صرف اسے تسلی دے رہا ہے لہذا وہ آرام سے یہاں ١۴ سال گزارنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔۔۔ کاشان کو دوسرے دن ہی افتخار کی موت کا معلوم ہوگیا مگر اسے اس بات کا کوئی دکھ یا پچھتاوا نہیں تھا یہاں پر اس کی کسی سے کوئی خاص دوستی نہیں تھی وہ زیادہ تر خاموش بیٹھا رہتا یا مشقت کیے ہوئے پیسوں سے جیل میں موجود لائبریری میں کوئی کتاب پڑھ لیتا
“اوئے وہاں کیا بیٹھا ہے یہاں پر آ” کاشان اپنے بستر پر چپ چاپ بیٹھا ہوا تھا تب اسے بابو بشیر نے مخاطب کیا کاشان چپ کر کے اسے دیکھنے لگا بابو بشیر دو دن پہلے ہی قتل کے الزام میں جیل آیا تھا کیوکہ یہ بچوں کی جیل تھی اور یہاں زیادہ تر دس اٙٹھارہ سال کی عمر کے بچے موجود تھے مگر بابو بشیر بیس سال کا نیا مجرم بنا تھا اور اپنی عمر اور قتل کا روعب وہ یہاں پر ہر دوسرے قیدی پر جما کر کبھی کسی سے اپنے ہاتھ پاؤں دبوا رہا ہوتا یا لائن میں لگوا کر کسی سے اپنے لیے کھانا منگوا رہا ہوتا
“کیا دیکھ رہا ہے آنکھیں پھاڑ کے، تجھے ہی بول رہا ہوں”
کاشان کے دیکھنے پر وہ روعب دار آواز میں ایک دفعہ پھر بولا
“تجھے کام ہے نا مجھ سے، تو تو یہاں آ”
کاشان کے بولنے پر وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا
“ابے کس کو بول رہا ہے تو اور کیا بول رہا ہے”
بابو بشیر چلتا ہوا کاشان کے پاس آیا
“میں بات کو ایک دفعہ بولنے کا عادی ہوں تو اپنے کان صاف کر،، پھر آکر مجھ سے بات کرنا” کاشان نڈر انداز میں اس سے مخاطب ہوا
“کان تو میں اپنے بعد میں صاف کروں گا، پہلے تیری طبیعت صاف کردو”
بولنے کے ساتھ ہی بابو بشیر چلتا ہوا کاشان کے پاس آیا اور جھک کر کاشان کو اٹھانا چاہا مگر کاشان نے اس کے منہ پر لات ماری جس سے وہ دور جاگرا،، اس کے بعد دونوں ہی ایک دوسرے پر بری طرح گتھم گھتہ ہوئے جب تک دو حوالدار نے حوالات کے اندر آکر ان دونوں کو چھڑوایا تب تک وہ دونوں ایک دوسرے کا گریبان پھاڑ چکے تھے دونوں کے ہی منہ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔ حوالدار نے دونوں کو سزا کے طور پر لاٹھیوں سے بری طرح مارا
****
“ارے رکو تم اپنے بھائی سے ملنے کے سلسلے میں یہاں آئے ہو نا اور ملے بغیر جا رہے ہو”
کانسٹیبل نے سینٹرل جیل سے نکلتے ہوئے ثوبان سے پوچھا
“انسپیکٹر کو ملاقات کروانے کے لیے جتنے پیسے چاہیے تھے اتنے نہیں ہیں میرے پاس۔۔۔ مہربانی کر کے آپ یہ کھانا میرے بھائی کو دے دیں گے”
ثوبان نے اس کونسٹیبل کو مجبوری بتاتے ہوئے ایک ٹفن اس کی طرف بڑھاتے ہوئے درخواست کی
اسے معلوم تھا کہ یہاں کھانے میں پانی کی طرح پتلی دال دی جاتی وہ خود بھی کوئی بہت زبردست سا کھانا نہیں لایا تھا مگر ایسا ضرورت ہے جو کہ ایک وقت کاشان اچھے سے کھالے پچھلی دفعہ بھی وہ جو کھانا کاشان کے لئے لایا تھا انسپیکٹر نے اس سے ٹفن لے کر اسے چلتا کر دیا تھا یہ کہہ کر کہ یہ کھانا تمہارے بھائی تک پہنچا دیا جائے گا
“تم ابھی تھوڑی دیر صبر کرو ہمارے بڑے صاحب آتے ہوں گے، ان کو اپنا مسئلہ بتاو،، وہ بھلے آدمی ہے تمہاری مدد کریں گے”
وہ کونسٹیبل بھی ثوبان کو بھلا آدمی محسوس ہوا جبھی اس کی بات مان کر ثوبان بڑے صاحب کا انتظار کرنے لگا
****
“سر پلیز میری ایک بات سننے میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا،،، میں آپ ہی کا انتظار کر رہا ہوں یہاں پر دو گھنٹے سے بیٹھ کر”
بہروز کا آفیشلی کام سے سینٹرل جیل میں آنا ہوا تھا کام نمٹا کر جب وہ واپس جانے لگا تو ثوبان اس کے پاس آیا اور بہت معذبانہ انداز میں گزارش کرنے لگا
“بولو کیا بات کرنی ہے تمہیں”
بہروز نے اپنے سامنے کھڑے 13سالہ بچے کو دیکھا،، عام کپڑے اس کی غربت کی نشاندہی ضرور کر رہے تھے مگر بات کرنے کے انداز سے وہ پڑھا لکھا اور تمیزدار لگ رہا تھا
“سر میں یہاں اپنے بھائی سے ملاقات کرنے آیا ہوں مگر سب انسپکٹر علیم کو جتنی رقم درکار ہے ملاقات کرانے کے لیے،، اتنے پیسے میرے پاس موجود نہیں ہیں، میں آپ سے گزارش کرتا ہوں مجھے میرے بھائی سے ملاقات کروا دیں”
ثوبان نے بہت امید بھرے لہجے میں بہروز کے آگے اپنی مدعا بیان کی
“انسپیکٹر علیم کو بولو ڈی ایس پی بہروز نے کہا ہے اس بچے کو اس کے بھائی سے ملاقات کروائی جائے بغیر کسی خرچہ پانی کے”
گیٹ پر کھڑے سپاہی سے بہروز مخاطب ہوا
“مہربانی ہے سر آپ کی بہت بہت شکریہ”
ثوبان نے عاجزانہ انداز اپناتے ہوئے بہروز سے کہا
“تم اپنے بھائی سے ملاقات کرکے آؤ میں تمہارا گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں” بہروز کو اس بچے کے اخلاق نے متاثر کیا تو وہ مسکراتا ہوا ثوبان سے بولا
“جی سر میں دس منٹ میں آتا ہوں” ثوبان ہاتھ میں ٹفن لئے خوش ہوکر کاشی سے ملنے گیا
****
“گاڑی میں بیٹھو بہروز صاحب انتظار کر رہے ہیں”
ثوبان کاشی سے مل کر آیا تو گاڑی کا ڈرائیور اس کے پاس آ کر بولا ثوبان گاڑی میں بیٹھ گیا جہاں پہلے سے ہی بہروز بیٹھا ہوا تھا
“مل لیے اپنے بھائی سے”
ثوبان کے بیٹھتے ہی بہروز نے اس سے پوچھا
“جی سر اللہ کے کرم سے آپ کی مہربانی سے میں مل لیا اپنے بھائی سے”
ثوبان نے مسکرا کر کہا وہ آج خوش تھا بہت دنوں بعد کاشی کو دیکھا تھا اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا اس کو تھمایا معلوم نہیں دو دفعہ کھانا سے بھجوایا تھا وہ ملا بھی تھا یا نہیں،،، کل اس نے دو وقت دہاڑی لگا کر کچھ پیسے جمع کیے تھے ان پیسوں میں سے آدھے اس نے کاشی کو دیے کیوکہ جیل میں ہی کینٹین موجود تھی جہاں پیسوں سے تھوڑا ڈھنگ کا کھانا کھایا جاسکتا تھا یا لائبریری میں پیسے دے کر تین گھنٹے کے لیے کتاب لے کر پڑھ سکتے تھے یقینا وہ پیسے کاشی کے کام آتے
“کتنا بڑا ہے تمہارا بھائی، کس جرم میں جیل گیا ہے وہ”
بہروز نے اس پہلے ایڈریس معلوم کر کے گاڑی اس کے گھر کی طرف مڑوائی،، پھر اس کے بھائی کے متعلق پوچھنے لگا ثوبان نے تھوڑا ہچکچا کر اپنی پوری کہانی بہروز کو سنائی
کیسے اس کا باپ جوئے کی لت میں گھر میں پیسے نہیں دیتا لڑتا جھگڑتا۔۔۔۔ کیسے کاشی نے اس کے باپ کو مارا ثوبان کی کہانی سن کر بہروز کو اس پر ہی نہیں کاشان پر بھی ترس آیا
“یہ تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا ہے”
بہروز نے اس کی کہانی سننے کے دوران ہی اس کے ہاتھ دیکھے تھے جہاں ہتھیلیوں پر جابجا چھالے بنے ہوئے تھے
“یہ تو کل میں نے وزن دار بوریاں زیادہ اٹھالی تھی جس سے ہاتھوں پر چھالے بن گئے” ثوبان نے اپنے ہاتھ چھپاتے ہوئے بہروز کو بتایا
“کیوں کیا تم نے یہ کام، پڑھائی نہیں کرتے اب”
بہروز کو دکھ ہوا
“زندہ رہنے کے لیے کھانا ضروری ہوتا ہے پڑھائی کروں گا تو کماؤں گا کب اور اگر کچھ کماؤں گا نہیں تو کھاؤں گا کیسے جیونگا کیسے۔۔۔۔ بے بسی کے باوجود خودکشی بھی نہیں کرسکتا کیوکہ وہ بھی حرام ہے”
ثوبان نے تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہا گاڑی اس کے محلے میں رکی
“جاو ثوبان تمہیں جو بھی ضروری چیزیں لینی ہے اپنے گھر سے وہ لے آؤ میں یہاں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں” بہروز نے کچھ سوچتے ہوئے ثوبان سے کہا
“مگر سر آپ مجھے کہاں لے کر جا رہی ہے اور کیوں”
ثوبان نے بہروز کی بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا
“میں تمہیں اپنے گھر لے کر جا رہا ہوں آج سے تم میرے پاس رہو گے اور وہی پڑھو گے اور اس کیوں کا فل الحال میرے پاس بھی کوئی جواب نہیں۔۔۔ تم ضروری سامان لے آؤ میں یہاں تمہارا ویٹ کر رہا ہوں”
بہروز کو خود بھی اندازہ نہیں ہوا آخر کیوں اسے اس بچے پر ترس آیا اور ہمدردی محسوس ہوئی اس نے فیصلہ کرلیا وہ اسے اپنے گھر میں رہنے کے لئے جگہ دے گا اور پڑھا لکھا آئے گا
دوسری طرف ثوبان بھی حیرت زدہ ہوکر گاڑی سے اترا اور اپنے گھر گیا گھر میں تھا ہی کیا جو وہ لے کر آتا اپنے کورس کی کتابیں چند کپڑے فائزہ کی تصویر اٹھا کر اس نے گھر کو تالا لگایا بے ساختہ اس کی نگاہ سیرت کے گھر کے دروازے پر پڑی دروازہ بند تھا
“کاش سیرت اس وقت گھر پر موجود ہوتی اس کو بتا ہی دیتا ہے”
وہ سوچتا ہوا گاڑی کی طرف چل دیا ثوبان کو چند منٹ لگے یہ فیصلہ کرنے میں کہ اسے بہروز کی بات ماننا چاہیے بہروز اسے اچھا اور نیک صفت انسان لگا اس طرح وہ اس کے گھر پر چھوٹے موٹے کام کر کے اپنی پڑھائی مکمل کرے تو کیا حرج ہے شاید اپنے بھائی سے بھی ہر ماہ ملاقات ہوجائے سیرت سے پھر کبھی آکر مل لوں گا یہ سوچتے ہوئے ثوبان کار کے اندر بیٹھ گیا
