Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 35)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 35)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
کاشان نے بیڈ پر ڈھکی ہوئی سفید چادر اتار کر جھاڑی تو فضا میں مٹی تحلیل ہوئی
“اُف کتنی گرد مٹی ہورہی ہے پورے گھر میں”
رنعم نے اپنے چہرے کے آگے دوپٹہ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ وہ لوگ تھوڑی دیر پہلے ہی اپنے فلیٹ میں پہنچے تھے
“دس دن فلیٹ بند رہا ہے،،، چادر جھاڑنے پر مٹی ہی نکلنی تھی پھول کی پتیاں تو نکلنے سے رہی”
کاشان نے رنعم کو دیکھ کر کہا تو کاشان کو گھورنے لگی
“میں نے آپ سے کہا بھی تھا ایئرپورٹ سے ڈائریکٹ مما بابا کے پاس چلتے ہیں ان سے مل بھی لیتے اور آج اسٹے بھی کر لیتے کل میں شاہدہ کو لے کر آتی پورے فلیٹ کی صفائی کروا لیتی”
رنعم نے پریشان ہو کر کہا اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ بیٹھے کہاں پھر ثوبان نے بھی فون کر کے کاشان کو بولا تھا وہ اسے اور رنعم کو ایئرپورٹ لینے آ جاتا ہے مما بابا بھی رنعم کو مس کر رہے ہیں مگر کاشان نے سہولت سے انکار کرتے ہوئے ثوبان کو کل آنے کا بول دیا کہ ہم دونوں سب سے کل ملنے آئے گیں
“کل ملنے چلیں گے آنٹی انکل سے رنعم۔۔۔ صفائی کیا ہے مل کر کر لیتے ہیں،،، کوئی تمہارے گھر جتنا بڑا گھر تو نہیں ہے چار روم سے آدھے گھنٹے میں صفائی ہو جائے گی” کاشان نے اس کی پریشان شکل دیکھ کر اس کو آسان سا حل بتایا مگر کاشان کی بات پر رنعم کو جھٹکا لگا
“صفائی اور ہم دونوں۔،۔۔۔ کیسے کریں گے کاشان،،،، ہم دونوں پورے گھر کی صفائی۔۔۔ کتنی ڈسٹ ہے یہاں پر ہر جگہ”
رنعم نے رونی صورت بنائی۔ ۔۔۔
کاشان تو فلائٹ کے دوران سوتا ہوا آیا تھا مگر اسے تو سفر کی اتنی تھکن تھی اور اوپر سے صفائی کا سن کر اس کی روح فنا ہونے لگی
“میری جان یہ ہم دونوں کا گھر ہے۔۔۔ اسے ہم دونوں کو ہی مل کر جنت بنانا ہے۔۔۔ اب باتوں میں وقت ضائع مت کرو جاؤ ڈسٹنگ کا کپڑا لے کر آؤ اور بیڈ روم اور ڈرائنگ روم کو میں چمکا دیتا ہوں باقی دو کمرے تم دیکھ لو”
کاشان اسے پیار سے بھلاتے ہوئے کہا اور آستین کے بٹن کھول کر کف فولڈ کرنے لگا
رنعم اس کی بات سن کر مرے مرے قدموں سے ڈسٹنگ کا کپڑا اور جھاڑو لینے چلے گٙئی
ولیمہ کے دوسرے دن ہی کاشان اور رنعم دنوں ہنی مون کے لیے دبئی روانہ ہوگئے تھے یہ دس دن رنعم کی زندگی کے حسین ترین دن تھے ان دس دنوں میں کاشان نے اسے اپنے ہر انداز ہر عمل سے بتایا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے۔۔۔ اتنے دن گھر سے دور رہ کر بھی رنعم نے گھر والوں کو زیادہ مس نہیں کیا وجہ کاشان کی محبت کا اثر تھا۔۔۔ وہ رنعم کی بچوں کی طرح کیئر کر رہا تھا اس کے پہننے اوڑھنے سے لے کر کھانے پینے کا خیال رکھنا بالکل ایسے جیسے وہ اس کے لئے بہت قیمتی انمول ہوں۔۔۔ اوپر سے کاشان کا محبت لوٹانے والا انداز رنعم کو بالکل اندازہ نہیں تھا وہ رومینٹک ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا کیئرنگ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ ان دس دنوں میں کاشان کے رویے ہر عمل نے اس کو کوئی اونچی شے بنا کر آسمان پر بیٹھا دیا تھا اسے اپنے آپ پر غرور آنے لگا تھا اور اپنے انتخاب پر فخر محسوس ہونے لگا تھا
اگر وہ شادی کے بعد آنی کے گھر عاشر کے ساتھ ہوتی تو اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی لکّی ہے۔۔۔۔ ان دس دنوں میں اس نے کاشان کی سنگت میں یہ بات 10 بار سوچی
کاشان کے کہنے کے مطابق صفائی آدھے گھنٹے میں ہو جاتی مگر رنعم کو دو گھنٹے لگ گئے گھر کو چمکانے میں جب رنعم نے صفائی شروع کی تو اسے اچھا نہیں لگا کاشان جھاڑ پوچھ کرتا ہوا۔۔۔۔ کاشان کو منع کر کے خود صفائی میں جت گئی مگر کاشان نے اوپر اوپر کے بہت سارے کام نمٹادیے
جب رنعم پورے گھر کی صفائی کر کے فارغ ہوئی تب تک کاشان بیڈ کور چینج کر کے اپنے اور رنعم کے سارے کپڑے بیگ سے نکال کر وارڈروب میں ترتیب سے رکھ چکا تھا
“تم شاور لے لو جب تک میں باہر سے کھانا پیک کروا کر لاتا ہوں”
کاشان نے رنعم کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ کر اس کے گال تھپتھپاتا ہوا بولا
“مگر مجھے یاد ہے آپ نے کہا تھا جتنی ہوٹلنگ کرنی ہے یہاں کر لو جس دن ہم گھر پہنچیں گے ایک بار بھی باہر کا کھانا نہیں کھاؤں گا”
رنعم نے تین دن پہلے والی کاشان کی کہی بات دہرائی تو کاشان مسکرایا
“کھانا ان چیزوں میں سے نہیں ہے کہ تمہاری تھکن کو دیکھ کر اس پر کمپرومائز نہیں کیا جا سکے۔۔۔ شاور لے لو میں دس منٹ میں آتا ہوں”
کاشان کار کی کیز اٹھا کر باہر چلا گیا جبکہ رنعم نے اپنے لیے لون کا سلیولیس سوٹ پہننے کے لیے نکالا کیوکہ اس سال گرمی کچھ زیادہ ہی پڑ گئی تھی اس نے زیادہ تر کپڑے سلیولیس بنائے تھے جب تک رنعم شاور لے کر باہر نکلی کاشان ٹیبل پر کھانا لگایا چکا تھا۔۔۔ رنعم کو اس کا یہ روپ دیکھ کر ہنسی آنے لگی
“میں آجاتی تو نکال لیتی کھانا”
ان دس دنوں میں رنعم کا کافی حد تک جھجھکنا شرمانا کم ہو گیا تھا یہ سب بھی کاشان کی محبتوں کا ہی اعجاز تھا
“ایک ہی بات ہے آجاو شروع کرو”
کاشان ایسکریم کا پیکٹ فریج میں رکھتا ہوا بولا
کھانے کے برتن واش کرنے کے بعد جب رنعم بیڈ پر آئی تو کاشان لائٹ بند کر کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔ رنعم برابر میں آکے خود بھی لیٹ گئی۔۔۔ اپنے بیڈ روم میں آکر بیڈ پر لیٹنے کے بعد اسے مزید تھکن کا احساس نے آ گھیرا ایک تو سفر کی تھکن،،، اوپر سے گھر آنے کے بات پورے گھر کی صفائی
آج وہ واقعی تھک گئی تھی اسکی کاشان کی طرف پشت تھی،،، آنکھیں بند کئے وہ یہی سوچ رہی تھی وہ صبح دیر تک سوتی رہے گی تب رنعم کا نازک وجود کاشان نے اپنے مضبوط بازوں کے گھیرے میں لے لیا
“مائی ڈول”
کاشان نے رنعم کے کان میں سرگوشی کرنے کے بعد کمر پر بکھرے اس کے بالوں کو ہٹائے،،، اس کے شانوں پر اپنے ہونٹ جما کر اسے مزید خود میں سمیٹنے لگا
“کاشان پلیز آج نہیں، میں بہت تھک گئی ہوں”
رنعم نے جو اپنے شوہر کا ارادہ بھانپا تو اس کے بازوں کا حصار توڑتی ہوئی بیچارگی سے بولی۔۔۔ اسے خود روکنا اچھا نہیں لگا مگر اس کا شوہر اس کی مجبوری سمجھ جآئے گا۔۔۔ یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں تھی جس پر برا بنایا جائے مگر رنعم کی خوش فہمی تب شاک میں بدلی جب کاشان نے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
“کس کے آگے انکار کر رہی ہو تم۔۔۔۔ معلوم ہے تمہیں شوہر کے حقوق اور اس کے احکامات”
وہ رنعم کے بال مٹھی میں جکڑے، سرخ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے غصے میں رنعم سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ شادی کے بعد رنعم کاشان کو پہلی دفعہ اس روپ میں دیکھ کر سہم گئی وہ خوف کے مارے اسے یہ تک نہ بول سکی کہ اس نے کتنی زور سے اس کے بالوں کو جکڑا ہوا ہے جو اسے تکلیف دے رہے ہیں
“جواب دو، کیا بول رہا ہوں میں”
کاشان بالوں کو جھٹکا دے کر زور سے چیخا تو رنعم کانپ گئی
“سس۔۔۔۔ سوری میں تھک گئی تھی آج”
رنعم نے کانپتی آواز کے ساتھ اپنی صفائی پیش کی وہ تو سمجھ رہی تھی۔۔۔ ان دس دنوں میں اس نے کھبی کاشان کو منع نہیں کیا وہ سمجھی اس کا شوہر اس کی تھکن کا احساس کرتے ہوئے اس کی بات سمجھے گا مگر شاید وہ اس بات کو اپنی توہین اور انا کا مسئلہ سمجھ بیٹھا تھا
“تھوڑی دیر پہلے کیا بولا تھا میں نے،،، کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر میں کمپرومائز نہیں کر سکتا تب سمجھ میں نہیں آیا تمہیں”
کاشان چیختا ہوا بولا اور بولنے کے ساتھ وہ اس کی شرٹ پھاڑ چکا تھا
“کاش۔۔۔۔ کاشان سو۔۔ری”
یہ کونسا روپ تھا کاشان کا،، وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ کر خوف سے بولی
“بیوی ہو تم میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہو جو تم مجھے یوں نخرے دکھاؤ آئندہ کبھی میرے ہاتھ جھٹکے یا مجھے انکار کیا تو میں تمہارا وہ حشر کرو گا جو تمہاری سوچ ہوگی”
وہ رنعم کو تنبہی کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچ کر اس پر جھکا
رنعم کو اس کی دسترس میں دس دنوں والی نرمی کے آثار کہیں بھی محسوس نہیں ہوئے۔۔۔۔ بلکہ اسکا ہر عمل ہر انداز سختی اور جنونیت اختیار کئے ہوئے تھا۔۔۔۔ رنعم نے دو بار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو چیخنے سے باز رکھا۔۔۔ جب کاشان کا جنون ختم ہوا تو وہ اٹھا۔۔۔ رنعم نے کانپتے ہاتھوں سے چادر سے خود کو ڈھکا۔۔۔۔ ملامت بھری نظر اس نے کاشان پر ڈالی
شاید اس کے اندر کی آگ اب تلک نہیں بجھی تھی تبھی اس نے اٹھ کر ٹیبل پر رکھی ہوئی بوتل سے منہ لگایا غٹاغٹ پانی پیا۔۔۔ ٹراؤزر پہنے بغیر شرٹ کے وہ کاشان کا چوڑا سینہ دیکھنے لگی،،، اس کے سینے پر موجود بال، رنعم کو مردانگی کی علامت لگتے تھے مگر آج اپنی بیوی کو یوں بےبس کر کے اس نے کونسی مردانگی کی مثال قائم کی تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھی
بیڈ سے نیچے آدھی لٹکی ہوئی اپنی پھٹی شرٹ اٹھانے کے لئے رنعم نے آگے ہاتھ بڑھایا تو کاشان نے فوراً قریب آکر رنعم سے اس کی شرٹ جھپٹی اور دور اچھال کر پھینکی
“ابھی میں نے اجازت دی ہے تمہیں”
وہ اب بھی غصہ میں رنعم کو گھورتا ہوا پوچھ رہا تھا شاید پانی بھی اس کے اندر کی آگ اور غصے کو ٹھنڈا نہیں کر پایا
ایک بار دوبارہ وہ بیڈ پر رنعم کے قریب آیا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکھڑ کردوبارہ وہ رنعم پر جھکا۔۔۔۔ رنعم نے اپنے دونوں ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست کیے اور آنکھیں بند کر لی
****
“فرصت مل گئی تمہیں”
رنعم کی شادی کی وجہ سے ثوبان نے چھٹی لی ہوئی تھی اب ڈیوٹی جوائن کرنے کے بعد وہ کافی لیٹ گھر آ رہا تھا۔۔۔ بہروز بھی اس کی ڈیوٹی اور ٹف شیڈیول کو سمجھتے ہوئے اس سے کھانا کھانے کی ضد نہیں کرتا یسریٰ کے ہاتھ سے کھالیتا۔۔۔۔ رات کو جب ثوبان یسریٰ اور بہروز کے پاس عادت کے مطابق بات کرنے کے غرض سے تھوڑی دیر بیٹھا جیسے ہمیشہ بیٹھتا آیا ہے۔۔۔ بہروز اور یسریٰ دونوں ہی اسے آرام کرنے کا کہتے کیوکہ سارا دن وہ ڈیوٹی کے بعد گھر لیٹ آتا
آج چار دن بعد وہ بہروز اور یسریٰ کے سونے کے بعد سیرت کے پاس آیا تو ثوبان کو دیکھ کر سیرت نے طنزیہ بولا
“فرصت کہاں ہے یار ان دنوں،، تم دیکھ تو رہی ہوں کتنا لیٹ گھر آ رہا ہوں پھر بھی اس طرح بات کر رہی ہو”
ثوبان پہلے ہی تھکا ہوا تھا سیرت کا طنز کرنا اسے اچھا نہیں لگا
“فرصت نہیں ہے پھر بھی روٹین کے مطابق روز مما بابا کی خدمت میں تم بلاناغہ حاضر ہوتے ہو”
مما بابا لفظ پر زور دیتے ہوئے سیرت نے سر جھٹک کر کہا
“اوہ تو جلن تمہیں اس بات کی ہے۔۔۔ویسے فارغ تو تم بھی ہر وقت رہتی ہو یوں اپنے روم میں پڑے پڑے تمہارا دل نہیں بھرتا،،، تم بھی کبھی بابا کے پاس جا کر بیٹھ جایا کرو مما کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹا لیا کرو”
اپنے لہجے کو نرم رکھتے ہوئے ثوبان نے اس کو مشورہ دیا جس پر سیرت مزید تپ گئی
“اوووو تو تمہارے کان بھرے گئے ہیں جبھی تم آج یہاں آئے ہو”
سیرت نے ہنستے ہوئے کہا
“شٹ آپ سیرت، مما بابا کے لیے میں تمہارے منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات نہیں سنوں گا۔۔۔ ان دونوں کو میرے کان بھرنے کی کیا ضرورت ہے میرے پاس آنکھیں موجود نہیں ہے کیا۔۔۔۔ مجھے دکھ نہیں رہا ہوتا تمہارا بی ہیویئر۔۔۔۔ اگر میں کچھ بولتا نہیں ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں نوٹ نہیں کرتا۔۔۔ کچھ چھپا ہوا نہیں ہے میری نظروں سے۔۔۔۔ اور مما بابا تمہارے متعلق،،، یعنیٰ اپنی بیٹی کے متعلق میرے کان بھرے گے”
ثوبان کو سیرت کی بات پر غصہ آیا جس کا اظہار کرتے ہوئے اس نے سیرت سے کہا
“مجھے تو کہیں سے نہیں لگتا کہ میں ان کی بیٹی ہوں بلکہ ان کے بیٹے تم ضرور لگتے ہو۔۔۔ انہیں میری نہ پہلے ضرورت تھی،، نہ اب ہے پتا نہیں کیوں لے کر آئے ہو تو مجھے اس گھر میں”
سیرت نے بھی اپنا غصہ دبانے کے بجائے اس کا برملا اظہار کیا
“تم نے کبھی بیٹیوں کی طرح ان سے رویہ رکھا ہے کبھی ان کے پاس بیٹھتی ہوں دو گھڑی۔۔۔۔ کبھی خود سے ان کے لئے ٹائم نکالا ہے۔۔۔۔ کبھی جاکر ان کے پاس بیٹھو ان کے سینے سے لگو تو تمہیں معلوم ہو کتنا ترستے ہیں وہ تمہارے لیے اب تک۔۔۔۔ سیرت تم نے خود ایک نامعلوم سی گرہز کی لکیر انکے اور اپنے بیچ میں کھینچ دی ہے۔۔۔ نہ تم اس لکیر کو خود پار کرتی ہو نہ انہیں کرنے دیتی ہو۔۔۔۔ اور اس پر بھی تم ان سے شکوہ کر رہی ہوں حیرت ہوتی ہے مجھے تم پر”
ثوبان کی بات سن کر فی الحال وہ چپ ہو گئی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد بولی
“کمرے سے باہر تم جا رہے ہو یا میں چلی جاؤ”
سیرت نے سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر پوچھا تو ثوبان افسوس بھری نظر اس پر ڈال کر اس کے کمرے سے چلا گیا
