504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 45)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“ثوبی آ بھی جاو اب، کھانا لگا چکی ہوں میں”

سیرت نے دوسری بار ثوبان کو آواز دی تو وہ سیڑھیوں سے اترا ہوا نظر آیا

اس سیرت نے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا بنایا تھا اس نے رنعم اور کاشان کو بھی روکنا چاہا مگر ان کا پروگرام ڈنر کا پروگرام تھا

“مما کہاں پر ہیں” ثوبان چیئر پر بیٹھتا ہوا یسریٰ کی خالی چیئر کو دیکھتے ہوئے سیرت سے پوچھنے لگا

“وہ کہہ رہی تھی ان کا دل نہیں چاہ رہا تھا کھانا کھانے کا لیٹ کھائے گی”

سیرت نے خود بھی چیئر پر بیٹھے ہوئے ثوبان کو بتایا

“اس وقت نو تو بج رہے ہیں اور کتنا لیٹ کھائے گی”

ثوبان نے سیرت کو دیکھتے ہوئے کہا

“کیا ہوگیا ثوبی اس وقت ان کا موڈ نہیں ہوگا”

سیرت میں حیرت سے دیکھتے ہو ثوبان سے کہا

“بات انکے موڈ کی نہیں ہے بات ان کی میڈیسن کی ہے۔۔۔ جو کھانے کے بعد ان کو لازمی دینی پڑتی ہے ورنہ ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔۔۔۔ اور جس فیس سے وہ گزر رہی ہے نہ ان کا موڈ کبھی بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔ پہلے تو بابا تھے ان کی کیئر کرلیتے تھے انہیں میڈیسن کا یاد دلا دیتے تھے۔ ۔۔۔ ابھی تک رنعم موجود تھی مگر اب یہ ہماری ذمہ داری ہے”

وہ سیرت کو رسانیت سے سمجھتا ہوا چیئر سے اٹھا

“ارے اگر ایک بندہ کھانا نہیں کھانا چاہتا تو اسے زبردستی کھینچ کر نہیں لاو گی ناں اور اب تم کیو اٹھ گئے ہو”

سیرت میں جھنجھنملاتے ہوئے ثوبان کو کہا

“سیرت زبردستی سے تو کوئی کام ہوتا بھی نہیں ہے۔۔۔ تھوڑا تحمل برداشت اور پیار کی ضرورت پڑتی ہے،، تم بہلا کر لے آتی مما کو آخر وہ بھی تو ہم سب کا کتنا خیال رکھتی ہیں خیر میں انہیں لے کر آتا ہوں”

سیرت ثوبان کو یسریٰ کے روم میں جاتا دیکھ کر خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھی رہی

“ثوبان کبھی کبھی تم ضد کرنے لگ جاتے ہو،، میں نے سیرت سے کہا تو تھا میرا دل نہیں چاہ رہا بھوک نہیں لگ رہی ہے اس وقت”

ثوبان یوسریٰ کو کندھوں سے تھام کر اپنے ساتھ لا رہا تھا اور یسریٰ چلتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی

“کھانے کا تو میرا بھی خاص موڈ نہیں ہے مگر میں بھی تو آپ کی اور سیرت کی خاطر بیٹھا ہوں نہ کھانا کھانے کے لئے۔۔۔ اب آپ بھی ہم دونوں کی خاطر تھوڑا سا کھا لیں”

ثوبان چیئر کھینچ کر یسریٰ کو بٹھانے کے بعد خود بھی اس کے برابر میں چیئر پر بیٹھا سیرت نے گھور کر ثوبان کو دیکھا یعنی آج اس نے ثوبان کے لیے اپنے ہاتھ سے کھانا بنایا تھا اور ثوبان کا موڈ نہیں تھا

“دیکھ کیا رہی ہو یار،، کھانا تو سرو کرو مجھے اور مما کو”

ثوبان نے سیرت کے گھومنے کا نوٹس لیا اور مگر اسے نارمل سے انداز میں کہنے لگا

“ارے نہیں میں خود ہی نکال لیتی ہوں” یسریٰ نے سیرت کو دیکھتے ہوئے کہا اسے محسوس ہوا جیسے وہ کچھ خاموش ہے

“آپ رہنے دیں ثوبی نے مجھ سے کہا ہے تو میں نکال رہی ہوں”

سیرت سنجیدگی سے کہتی ہوئی یسریٰ کی پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی

“مما سیرت صحیح کہہ رہی ہے بلکے آپ کو چاہیے اپنی ساری ذمہ داریاں اپنی بہو کو دے دیں اور خود اس جھولے پر بیٹھ کر ارڈر چلائے”

ثوبان نے مسکراتے ہوۓ یسریٰ کو دیکھ کر کہا تو وہ بھی مسکرا دی جبکہ سیرت کو اس وقت ثوبان کا مذاق اچھا نہیں لگا

*****

کاشان جب واپس آیا کار میں رنعم کو نہ پا کر وہ حیرت زدہ تو ہوا مگر کار کا شیشہ ٹوٹا ہوا دیکھ کر وہ اچھا خاصا پریشان بھی ہو گیا۔۔۔۔رنعم کو تین سے چار بار پکار کر اس نے رنعم کے موبائل پر کال کی تین سے چار بیلز کے بعد کال ریسیو کر لی گئی

“رنعم کہاں ہو تم” کاشان نے پریشان ہوکر بےساختہ پوچھا

“میرے پاس ہے تیری بیوی”

مردانہ آواز سن کر کاشان کا دماغ ایک دم گھوما

“کون بات کر رہا ہے”

کاشان نے غصے میں چیخ کر اس شخص سے پوچھا

“کاشی مجھے نہیں پہچانا تو نے،،، چل میں آج تجھ سے اپنا ایسا تعارف کراو گا کہ اگر تو بھولنا بھی چاہے گا تو بھلا نہیں پائے گا مجھے”

وہ خباثت سے ہنستا ہوا بولا اس کی مکروہ ہنسی کی آواز پر کاشان کو ایک پل لگا اسے پہچاننے میں

“شیرا اگر تو نے میری بیوی کو چھوا بھی ناں۔۔۔۔ تو، تو سوچ بھی نہیں سکتا میں تیرے ساتھ کیا کروں گا۔۔۔ اگر مرد ہے نا تو یہاں میرے سامنے آ ایک بار”

کاشان سے آپ اپنا غصہ کنٹرول نہیں ہورہا تھا اس لیے وہ زور سے چیختا ہوا بولا

یہ سوچ کر اس کا دماغ غصے سے پھٹا جا رہا تھا اس کی بیوی، اس کی عزت ایک گھٹیا قسم کے انسان کے پاس ہے جو کہ غلطی سے انسانوں کی فہرست میں شامل تھا

“نہ میرے شیر اتنا غصہ مت کر۔۔۔ شیرا میرا نام ہے اور شیر کی طرح تو مجھ پر دھاڑ رہا ہے۔۔۔ دیکھ میں نے تیری بیوی کو ابھی تک ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے مگر تجھے معلوم ہے ناں عورت میری کمزوری ہے اور اگر وہ خوبصورت بھی ہو تو ہاہاہا۔۔۔۔ خیر تیرے اوپر میرے کچھ پچھلے حساب بھی نکلتے ہیں ایسا کر اگر تو مرد کا بچہ ہے تو میرے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ جا اور آ کر اپنی بیوی کو بچا لے اگر بچا سکتا ہے تو۔۔۔۔ صرف ٢٠ منٹ ہیں تیرے پاس،، اسے زیادہ دیر میں نہیں رکوں گا”

شیرا ایڈرس بتا کر کال کاٹ چکا تھا۔۔۔ کاشان نے بڑی سی گالی بک کر ہاتھ میں موجود پانی کی بوتل کو کار کے انجن میں ڈالا اور کار اسٹارٹ کری

****

ڈرائیونگ کے دوران کاشان کی آنکھوں کے سامنے بار بار رنعم کا چہرہ گھوم رہا تھا معلوم نہیں اس کی کیا حالت ہوگی،،، کتنا ڈرتی ہے وہ اس وقت وہ کتنی خوفزدہ ہوگی۔۔۔ کاشان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ شیرا اس کے سامنے آئے اور وہ شیرا کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے

کاشان نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اب دوبارہ زندگی میں دوسرا قتل بھی کر سکتا ہے مگر آج اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ شیرا کو زندہ نہیں چھوڑے گا کیوکہ بہت بڑی جرات کر چکا تھا وہ رنعم کو اٹھا کر

کاشان 15 منٹ کے اندر شیرا کی بتائی گئی جگہ پر موجود تھا کیوکہ اس کی عزت اور جان دونوں ہی آج داؤ پر لگی ہوئی تھی

کاشان نے اپنے سامنے کھنڈر عمارت کو دیکھا یہ کوئی پرانی کیمیکل کی فیکٹری تھی جو کہ کئی سالوں سے بند پڑی ہوئی تھی کاشان فیکٹری کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا بدبو کا بھپکا اس کی ناک سے ٹکرایا۔۔۔

وہاں پر بہت ساری خالی اور بھری ہوئی ہر سائز کی شیشیاں جگہ جگہ موجود تھیں۔ ۔۔۔۔ ایک سائڈ پر بڑے بڑے ڈرم اور ٹوٹا ہوا سامان کا ڈھیر لگا ہوا تھا جبکہ درمیان میں بڑا سا ٹیبل موجود تھا جس پر مختلف سامان اور زنگ شدہ آلات بکھرے پڑے تھے جبکہ دوسری طرف ٹوٹی ہوئی کرسی اور لکڑیوں کا ڈھیر ملبے کی صورت پڑا ہوا تھا

“شیرا”

فیکٹری کے اندر داخل ہوتے ہی کاشان نے چیخ کر شیرا کو آواز دی۔۔۔۔ مگر کوئی بھاری چیز زور سے اس کی کمر پر آ لگی جسے کاشان کا توازن برقرار نہیں رہا اور وہ اوندھے منہ گرا۔۔۔ لوہے کا موٹا سا روڈ ہاتھ میں تھامے شیرا دروازے کی آڑھ سے نکل کر کاشان کے سامنے آیا

“بڑا ہی جی دار آدمی ہے تو، تو کاشی جو یوں مرنے کے لیے میرے پاس آگیا”

شیرا کاشان کے قریب آکر ہنستا ہوا بولا۔۔۔ کاشان نے دونوں ہاتھ زمین پر جما کر پر کر اٹھنے کی کوشش کی مگر شیرا نے بھاری بوٹ سمیت اپنا پاؤں زور سے کاشان کی کمر پر مارا جس سے کاشان کا منہ فرش پر لگا

“میری بیوی کو چھوڑ دے شیرا ورنہ میں تجھے نہیں چھوڑوں گا”

کاشان نے شیرا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ لوہے کا راڈ اس نے دوبارہ کاشان کی کمر پر مارا جس پر کاشان کے منہ سے چیخ نکلی شیرا زور زور سے ہنسنے لگا

“کاشان”

کہیں اندر سے کاشان کو رنعم کی آواز سنائی دی وہ روتی ہوئی کاشان کو پکار رہی تھی۔۔۔

“تجھے مجھ سے خار ہے اپنا بدلہ مجھ سے لے مرد بن کر۔۔۔۔ اسے چھوڑ دے۔۔۔۔ ورنہ شیرا میں تیرا بہت برا حشر کروں گا” کاشان نے بے بسی سے لب بھینچ کر شیرا کو مخاطب کیا رنعم کی رونے کی آواز پر وہ اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا

“نہ بچے،، ایسی حالت میں بڑے بڑے ڈائیلاگ سوٹ نہیں کرتے ہیں۔۔۔ آج تو اپنی بیوی کا حشر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا مگر اس سے پہلے میں تجھ سے اپنا پرانا حساب چکالو”

شیرا نے کاشان کو کہتے ہوئے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔ اور ہاتھ میں موجود روڈ سے اب کے اس کے بازو پر وار کیا جس سے کاشان ایک بار پھر چار قدم پیچھے گر پڑا۔۔۔

شیرا روڈ ہاتھ میں لیے دوبارہ اسے مارنے کے ارادے سے کاشان کے پاس پہنچا۔۔۔ کاشان کی نظر وہی پر نیچے بڑی سی کانچ کی بوتل پر پڑی جس میں کوئی محلول موجود تھا،،، اس سے پہلے شیرا کاشان کو ایک اور ضرب لگاتا۔۔۔ کاشان نے وہ بوتل اٹھا کر پوری شدت سے کھینچ کر شیر کو دے ماری جو کہ شیرا کے سر پر جا کر ٹوٹی بوتل میں موجود پرانے کیمیکل سے شیرا کے منہ پر جلن ہونے لگی جس سے وہ چیخا اور روڈ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی وہ دونوں ہاتھ اپنے منہ پر ملتا ہوا چیخنے لگا۔۔۔

کاشان اپنی پوری ہمت جمع کر کے اٹھا شیر کے ہاتھوں سے گرا ہوا لوہے کا روڈ اٹھا کر اس نے شیرا کو مارنا شروع کر دیا۔۔۔ شیرا کو سمبھلنے کا موقع دیے بغیر وہ روڈ سے اسے رضائی کی روئی کی طرح دھوندتا رہا

جب شیرا مار کھا کھا کر ادھ موا ہوگیا تو کاشان نے ملبے میں سے کرسی اٹھائی۔۔۔۔ شیرا کے فرش پر گرے ہوئے ناپاک وجود کو گھسیٹ کر اٹھاتا ہوا اسے کرسی پر بٹھایا اور ٹیبل پر پڑی ہوئی رسی سے اسے مضبوطی سے باندھنا شروع کیا

شیرا درد سے کرا رہا تھا

اس کو مار مار کر کاشان کا خود بھی سانس پھول گیا تھا وہ خود لمبے لمبے سانس لینے لگا

“رنعم”

دو سے تین منٹ بعد کاشان رنعم کو پکارتا ہوا اس کمرے میں موجود تھا جہاں سے رنعم کی آواز آئی تھی

کمرے میں ڈھیر سارے ملبے اور کچرے کے ساتھ ہی رنعم آنکھیں بند کیے پڑی تھی اسکے ہاتھ اسی کے دوپٹے سے پیچھے کر کے باندھے ہوئے تھے۔۔۔ کمرے میں موجود تیز کیمیکل کی بدبو سے شاید وہ بےہوش ہو چکی تھی

“رنعم”

کاشان اس کا نام پکارتا ہوا بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا اور اس کے ہاتھ کھولے

“آنکھیں کھولو رنعم تم ٹھیک ہو ناں”

کاشان رنعم کا گال تھپتھپاتا ہوا بولا رنعم نے ہلکی سی آنکھیں کھولی

“کاشان”

رنعم نے کاشان کو اپنے قریب دیکھ کر خدا کا شکر ادا کیا وہی کاشان نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے سکون کا سانس لیا اسے صحیح سلامت دیکھ کر کاشان کی جان میں جان آئی

رنعم نے کاشان کے سر پر لگی چوٹ کے نشان کو اپنی انگلیوں سے چھونے کی کوشش کی

“میں ٹھیک ہوں جان اٹھو یہاں سے”

کاشان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگایا اور اس کو اٹھنے میں سہارا دیا نیچے پڑا ہوا اس کا دوپٹہ رنعم کو پہنا کر اس کے گرد ہاتھ حائل کر کے اسے باہر لے آیا

شیرا رسیوں سے بندھا ہوا درد سے کرا رہا تھا۔۔۔۔ وہ کاشان سے ہونے والی دھلائی سے ادھ موا ہو کر نیم وا آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگا

“کاشان پلیز جلدی چلیں یہاں سے”

رنعم نے کاشان کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ کر شیرا کو دیکھتے ہوئے ڈر کر کہا

“ایک منٹ میری جان اس کمینے نے آج کمینگی کی انتہا کر کے اپنی شامت خود بلائی ہے اسے زندہ چھوڑ کر تو میں اب ہرگز نہیں جاؤں گا”

کاشان نے رنعم کا ہاتھ اپنی شرٹ سے ہٹا کر شیرا کے موقع پر مُکہ جڑتے ہوئے کہا

“دیکھ کاشی مجھے چھوڑ دے میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں”

شیرا نے کاشان کی بات سن کر خود کو رسیوں سے آزاد کرنا چاہا

“شیرا تو گٹر کا وہ گندا کاکروچ ہے جو صرف دنیا میں آکر گندگی پھیلا سکتا ہے۔۔۔ تیرے زندہ رہنے سے معلوم نہیں کتنی لڑکیوں کو اپنی عزت سے ہاتھ دھونے پڑے اور مجھے یقین ہے تیرے نہ ہونے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا”

کاشان محلول کی بھری سے ہوئی بوتلیں ایک ایک کر کے اٹھا کر اس کے پاس لاتا ہوا بولنے لگا

“کاشان اس کو چھوڑ دیں پلیز۔۔۔ ہم پولیس کو انفارم کر دیتے ہیں۔۔۔ آپ قانون کو اپنے ہاتھ میں مت لیں”

شیرا کے ساتھ ساتھ رنعم کو بھی اب اس کے ردعمل پر ڈر لگنے لگا۔۔۔ نہ جانے وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا

“جاؤ جا کر باہر کار میں بیٹھو”

کاشان رنعم کے پاس آکر آرڈر دینے والے انداز میں بولا

“کاشان ایک سیکنڈ آپ صرف میری بات تحمل سے”

رنعم نے اسے سمجھانا چاہا

“کار میں جاؤ”

اب کے وہ رنعم پر دھاڑتا ہوا بولا۔۔۔ رنعم کا کچھ بھی بولنا یا ضد کرنا بےکار ہی نہیں الٹا اپنی شامت بلانے کے برابر تھا اس لیے افسوس بھری نظر اس نے شیرا پر ڈالی۔۔۔۔ جس کی حالت پٹ پٹ کر کتوں سے بھی بدتر ہوچکی تھی رنعم وہاں سے باہر نکل گئی

“کاشی دیکھ مجھے معاف کردے میں نے تیری بیوی کو کچھ نہیں کیا”

وہ کاشان کے خطرناک کے تیوروں کو دیکھ کر گویا ہوا

“کچھ کیا نہیں مگر سوچا تو تھا ناں تو نے”

کاشان نے بولنے کے ساتھ ایک بوتل اٹھا کر اس کے منہ پر دے ماری جس سے شیرا کے منہ سے چیخ نکل گئی

“تجھے شاید اس بات کا اندازہ نہیں ہے میں اپنی بیوی کو لے کر کتنا حساس ہوں۔۔۔۔ انہی ہاتھوں سے پکڑ کر لایا ہوگا ناں تو اسے”

ایک چھوٹی سی بوتل جس میں ایسڈ (تیزاب) موجود تھا۔۔۔ کاشان نے شیرا کے رسیوں سے بندھے ہاتھ پر گرایا۔۔۔۔ جس سے وہ دیوانہ وار چیخنے لگا

وہ تکلیف کی شدت سے شاید بے ہوش ہونے لگا تھا کاشان نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر اس کا سر اونچا کیا

“شیرا اگر میں چاہتا تو یہ تیزاب تیرے منہ کے اندر بھی انڈیل سکتا تھا مگر میں چاہتا ہوں تو سسک سسک کر مرنے سے پہلے یہ سوچتا رہے کہ تو نے پنگا کس سے لیا تھا”

کاشان نے ایک شیشے کی بوتل جو کیمیکل سے بھری ہوئی تھی اس کے منہ کے اندر انڈیلنا شروع کردی شیرا کی آنکھیں تکلیف کے مارے سرخ ہو چکی تھی اور وہ نفی میں بار بار سر ہلا رہا تھا جبکہ کاشان تحمل سے ایک ہاتھ سے اس کے بال مٹھی میں دبوچے ہوئے دوسرے ہاتھ سے بوتل میں موجود محلول اس کے منہ سے پیٹ کے ذریعہ اتار رہا تھا خالی بوتل فرش پر پھینک کر وہ شیرا پر حقارت بھری نظر ڈال کر فیکٹری سے باہر نکل گیا

“رنعم کیا ہوا رو کیو رہی ہو،،، تم ٹھیک ہو نا”

کاشان فیکٹری سے باہر نکل کر کار کے پاس آیا تو رنعم کار کے پاس کھڑی ہوئی رو رہی تھی

“کاشان آپ۔۔۔۔ آپ نے اسے مار”

شاید خوف کے مارے رنعم سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا اس لیے وہ کاشان کے گلے لگ کر رونے لگی

“بری آنکھ سے دیکھا تھا اس نے تمہاری طرف۔۔۔۔ اسی بات کی سزا دے کر آرہا ہوں اسے۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوا، بالکل ریلکس ہو جاؤ “

کاشان اسے بانہوں میں لیے کر اس کا ڈر کم کرنے کی کوشش کرنے لگا

“میں یہاں پر رکھنا نہیں چاہتی،، آپ پلیز جلدی سے چلیں کاشان”

وہ ابھی بھی سہمی ہوئی فیکٹری کے دروازے کو دیکھتے ہوئے کاشان سے بولی

“چلو”

کاشان نے اس کو کار میں بٹھایا خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر کار اسٹارٹ کر دی

****

ثوبان بیڈ روم میں آیا تو سیرت پاوں سے لے کر سر تک چادر تانے ہوئے لیٹی تھی۔۔۔ ثوبان نے بیڈ کے دوسری سائیڈ پر لیٹنے کے بعد سیرت کے اوپر سے چادر کھینچیی

“کیا تکلیف ہے تمہیں، مجھے سونے دینا ہے یا نہیں” سیرت ایک دم تیار بیٹھی تھی ثوبان کے چادر کھینچتے ہی اس پر چڑھ دوڑی

“جب آج رات میرا سونے کا پروگرام نہیں ہے تو تم کیسے سو پاوں گی”

وہ سیرت کو اپنی طرف کھینچتا ہوا اس پر جھکا

ثوبی اس وقت میرا موڈ فل آف ہے۔۔۔ دور ہٹو میرے پاس سے”

سیرت اس کو پیچھے ہٹانے لگی ثوبان نے اس کے دونوں ہاتھ قابو کر لیے

“تو اپنا موڈ آن کرو ناں یار ورنہ میرا موڈ آف ہو جائے گا”

ثوبان بولنے کے ساتھ ہی نرمی سے اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے اور سیرت کو مسکرا کر دیکھا

“ابھی تھوڑی دیر پہلے تو بڑی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جارہا تھا سیرت کو”

سیرت نے اپنا موڈ آف ہونے کی وجہ بتائی تو ثوبان پیچھے ہوا

“دیکھو سیرت تمہیں میری باتوں کا برا نہیں لگنا چاہیے۔۔۔ وہ تو میں تمہیں اب بھی کہو گا کہ تھوڑی بہت ذمےداریوں کو سمجھو۔۔۔۔ مما جس غم سے گزر رہی ہیں انہیں نارمل ہونے میں تھوڑا ٹائم لگے گا۔۔۔ تب تک تمہیں اور مجھے ان کو ٹائم دینا ہوگا پلیز میرے ساتھ مل کر اس معاملے میں تعاون کرو”

ثوبان ابھی بھی اسے نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولا

“یار مما کو میرے تم سے “تم” کہہ کر بھی بات کرنے پر اعتراض ہوتا ہے پرسوں مجھے سمجھانے لگی کہ ثوبان سے اس طرح بات نہیں کیا کرو۔۔۔میں تو تم سے اسی طرح بات کرتی ہوں بچپن سے،،، مجھے تو عادت نہیں آپ جناب کرنے کی”

سیرت کی بات سن کر ثوبان ہنسنے لگا

“ویسے مما کچھ غلط تو نہیں بول رہی تھی”

ثوبان نے مسکراتے ہوئے سیرت سے کہا سیرت نے فوراً اس کو آنکھیں دکھائی

“اچھا نا یار اس طرح آنکھیں پھاڑ کر مت دیکھو۔۔۔ کیا ہر وقت کاٹ کھانے کو دوڑتی ہو۔۔۔ مجھے اس بات سے کوئی ایشو نہیں تم مجھے آپ کہو یا تم کہو۔۔۔۔ لیکن اگر مما ایسا بول رہی ہیں تو تم ان کے سامنے۔۔۔ ان کی بات رکھنے کے لئے آپ کہہ لیا کرو اسے سے کون سے تمہاری عزت گھٹ جائے گی۔۔۔۔ مما کو خوشی ہوگی تم نے ان کی بات کا احترام کیا اور ویلیو دی۔ ۔۔۔۔ بھلے ہی بیڈ روم میں تم کہہ لیا کرو۔ ۔۔۔ اب تو موڈ آن کرو نا یار”

آخری بات وہ بہت بے چارگی سے بولا تو سیرت کو اس کی بات پر ہنسی آگئی

“بس سستی اتارنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے تمہارا”

سیرت ثوبان کے گلے میں اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر مسکراہٹ دبائے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔

“آج میں سستی نہیں پوری تھکن اتارنے کا ارادہ رکھتا ہوں”

ثوبان سیرت کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کر کے اسے بیڈ پر لٹاتا ہوا اس پر جھکا

****

“کاشان آپ کو تو چوٹ لگی ہے ایک منٹ رکیں”

گھر آکر کاشان نے بیڈ روم میں شرٹ چینج کرنے کی غرض سے اتاری تو پیچھے سے اس کی ِپیٹھ کا حصہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ رنعم نے اس کے ہاتھ سے شرٹ لی اور آئینمنٹ لینے کے لیے جانے لگی۔۔۔ تبھی کاشان نے اس کا ہاتھ پکڑا

“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میری جان،،، اس سے زیادہ بڑی بڑی چوٹیں کھائی ہیں۔۔۔ یہ معمولی چوٹ تمہارے شوہر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی”

وہ رنعم کے ہاتھ سے شرٹ لے کر اچھالتا ہوا اس کو گود میں اٹھا کر بیڈ پر آیا

“معلوم ہے بہت سالوں بعد آج مجھے بہت خوف محسوس ہوا۔۔۔ میں سچ میں ڈر گیا تھا کہیں تمہیں کھو نہ دوں”

کاشان بولتے ہوئے اس کا چہرہ چومنے لگا جیسے اس کے ہونے کا احساس خود میں محسوس کر رہا ہوں

“آج میں بھی بہت ڈر گئی تھی کاشان۔۔۔ اگر آپ وہاں پر نہیں پہنچتے تو وہ میرے ساتھ۔۔۔۔

رنعم کے چہرے پر ایک دم خوف کے آثار نمایاں ہوئے

“ششش آگے کچھ بھی نہیں بولنا۔۔۔ میرے ہوتے ہوۓ میری ڈول کو کوئی کچھ نہیں کر سکتا”

کاشان نے اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھتے ہوئے کہا

“کاشان آپ کو کب ایسا لگا کہ آپ کو مجھ سے شادی کر لینی چاہیے”

رنعم اس کے دل پر اپنی انگلی سے R بناتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی

“جس دن تمھارے بال میری شرٹ میں الجھ گئے تھے۔۔۔ اس دن میں بھی الجھ کر رہ گیا تھا بار بار دل اکسا رہا تھا تم سے پیار کرنے کو،،، اور جب پیار ہوگیا تو شادی تو کرنی تھی پھر”

کاشان رنعم کو بتاتے ہوئے اس کی گردن پر جھک چکا تھا

“کاشان آپ نے اس کو مار کر جرم کیا ہے۔۔۔ قانون اپنے ہاتھ میں لیا ہے آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا”

رنعم کا دماغ ایک دفعہ پھر بھٹک کر دوبارہ چند گھنٹے گزرے ہوئے واقعے پر چلا گیا جس پر کاشان نے سر اٹھا کر اسے سنجیدگی سے دیکھا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما

“بھول جاو رنعم اس واقعے کو برا خواب سمجھ کر، یہ ہم دونوں کے درمیان کی بات ہے اور ہمارے بیچ میں ہی رہنی چاہیے۔۔۔۔ بلکہ آئندہ یہ ذکر میں تمھارے منہ سے دوبارہ نہ سنو”

کاشان اس کا چہرہ تھامے سنجیدگی سے اسے بولنے لگا۔۔۔ بولنے سے زیادہ اس کے انداز میں وارننگ تھی جس پر رنعم نے سر ہلایا۔۔۔۔ کاشان سونے کے لئے لیٹ گیا جبکہ رنعم کروٹ موڑ کر ایک بار پھر اس واقعے کو سوچنے لگی بھلا یہ کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں کی جو برا خواب سمجھ کر اسے بھولا دیتی