504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 56) Last Episode (Part - 1)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

“تھوڑی دیر پہلے میں نے تم سے جھوٹ کہا تھا کہ مجھے اس سے محبت نہیں رہی، میرا ایک ہی بھائی ہے مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے وہ۔۔۔۔ میں بھلا اس سے محبت کرنا کیسے چھوڑ سکتا ہوں”

آپریشن تھیٹر کے باہر ثوبان بیٹھا روتے ہوئے سیرت سے بولنے لگا،،، سیرت نے اپنے آنسو صاف کر کے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا

“اس سے کچھ نہیں ہوگا ثوبی”

سیرت کو کاشان کی حالت کے پیش نظر اپنی بات کو گھوکلی لگی مگر اسے ثوبان کو ایسے ہی بولنا تھا اتنے میں ثوبان کا موبائل بجا

“ہاں جواد بتاؤ کیا خبر ہے شیرا کی” ثوبان اپنے آنسو پوچھتے ہوئے۔۔۔ کوریڈور میں آکر جواد سے پوچھنے لگا

“ٹھیک ہے مگر اسے لاک اپ مت کرنا۔۔۔ ٹارچر سیل لے جاو اسے۔۔۔ کوشش کرنا میرے آنے تک اس میں چند سانسیں باقی رہے”

ثوبان جواد سے بات کر کے دوبارہ سیرت کے پاس آیا وہ آپریشن تھیٹر کی لال بتی کو دیکھ رہی تھی جہاں ڈاکٹر کاشان کو لگنے والی گولیاں نکال رہے تھے

“سیرت ٹیکسی کرکے گھر چلی جاؤ” ثوبان سیرت کو دیکھتا ہوا بولا ثوبان کی آواز پر سیرت نے لال بتی سے نظر ہٹا کر ثوبان کو دیکھا

“میں تم دونوں کو چھوڑ کر چلی جاو اس حال میں۔۔۔ میں ایسا نہیں کر سکتی مجھے دوبارہ جانے کا مت بولنا”

سیرت ثوبان کو دیکھ کر خفا ہوتی بولی

“سیرت بحث مت کرو، ابھی تھوڑی دیر گزرے کی میرے ساتھ ساتھ تمہاری بھی غیر موجودگی پر مما پریشان ہو جائیں گی وہ کالز کریں گیں،،، تو میں اس وقت ایسی کنڈیشن میں نہیں ہوں کہ ان سے بات کر سکو یا انہیں کچھ بتا سکو یا پھر انہیں اور رنعم کو سنبھال سکو پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو اس وقت”

ثوبان نے اس کو دیکھ کر کہا تو سیرت کو ثوبان پر ترس آنے لگا اتنی دیر میں ڈاکٹر اپریشن تھیٹر سے باہر نکلا۔۔۔ ثوبان اور سیرت کی توجہ ڈاکٹر کی طرف گئی اس سے پہلے ڈاکٹر ان کی طرف آتا وہ دونوں بھاگ کر ڈاکٹر کی پاس پہنچے

“ہم نے پیشنٹ کی باڈی سے بولڈز نکال دی ہیں۔۔۔ خون بہت زیادہ بہہ چکا ہے۔۔۔ جس کی وجہ سے فوری طور پر کوئی اچھی خبر نہیں دی جاسکتی۔۔۔ صرف تھوڑی بہت اچھی خبر یہ ہے کہ سینے پر لگنے والی گولی زیادہ اندر تک نہیں گئی تھی۔۔ پھر بھی اگلے چوبیس گھنٹے پیشنٹ کے لئے بہت اہم ہیں۔۔۔۔ ان 24 گھنٹوں کے اندر اگر پیشنٹ کو ہوش آ جائے تو ہی وہ سروائو کرسکتا ہے آدر وائس۔۔۔۔ آپ دعا کریں ان کے لیے” ڈاکٹر تسلی کے انداز میں ثوبان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلا گیا جبکہ ثوبان کرسی پر ڈھے سا گیا اور سیرت نے ایک بار پھر رونا شروع کردیا

“سیرت پلیز جاو یہاں سے میری بات مان لو”

ثوبان دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے اس سے کہنے لگا

****

“کس سے بات ہو رہی تھی اتنی دیر سے”

رنعم پچھلے آدھے گھنٹے سے کال پر مصروف تھی کاشان نے ڈرائنگ روم میں آکر اسکے موبائل پر کال ڈسکنکٹ کرتے ہوئے پوچھا

“کاشان میں کال رکھنے ہی والی تھی۔۔۔ ایک یعشل ہی تو ہے میری دوست اور کسے بات کروں گی”

رنعم نے کاشان کو دیکھتے ہوئے کہا اور صوفے سے اٹھی

“تمہیں معلوم ہے ناں اس وقت مجھے میری ڈول چاہیے ہوتی ہے بس”

کاشان اسے گود میں اٹھاتا ہوا بیڈروم میں لے جانے لگا

“آپ کی ڈول تو ہر وقت آپ کے پاس ہی ہوتی ہے۔۔۔ یعشل نے مجھے گڈ نیوز سنانے کے لیے فون کیا تھا خالہ بننے والی ہے وہ”

رنعم نے کاشان کو یعشل کے کال کرنے کی وجہ بتائی

“وہی جن کی پچھلے مہینے شادی ہوئی تھی”

کاشان کی بات پر رنعم نے اثبات میں سر ہلایا

“کتنی کوئیک سروس ہے،، ہم کو ان سے ہی سبق لینا چاہیے،، ویسے ہماری شادی کو دو ماہ ہوگئے ہیں تمہارا کیا خیال ہے اب۔ ۔۔ ویسے اس بارے میں ہمیں بھی سیریس ہوکر سوچنا چاہیے”

وہ رنعم کو بیڈ پر لٹاتا ہوا اس سے کہنے لگا

“اور کتنا سیریس ہونا چاہیے کاشان کیسی باتیں کر رہے ہیں”

رنعم نے جھینپتے ہوئے کاشان کو کہا۔۔۔ کاشان نے رنعم کے برابر میں لیٹ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا

“ایسے تھوڑی نہ جھولی میں پھل آکر گرتا ہے صبح شام محنت کرنی ہوتی ہے”

کاشان اب رنعم کے فیس ایکسپریشن انجوائے کر رہا تھا جو اس کی بات سے ایک دم چینج ہوگئے تھے

“صبح شام کیا ہوگیا آپ کو”

رنعم نے گھبراتے ہوئے کاشان کو دیکھا

“کیا آپ کو سچ میں ابھی بےبی چاہیے”

کاشان کے مسلسل دیکھنے پر رنعم سیریس ہوکر کاشان کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“تو کیا بڑھاپے میں لے کر آئے گے ہم اپنا بےبی”

وہ رنعم کا گال سہلاتا ہوا الٹا اس سے سوال کرنے لگا۔۔ اس کی بات سن کر رنعم نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر اپنی آنکھیں جھکائی۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر کاشان کو ہنسی آئی مگر وہ اپنی ہنسی چھپاتا ہوا بولا

“اے سنو تمہیں معلوم ہے مجھے کتنے بچے چاہیے” کاشان نے اسے مزید تنگ کرنے کا پروگرام بنایا اس کی بات سن کر رنعم نے سوالیہ نظروں سے کاشان کی طرف دیکھا وہ اس کے برابر میں لیٹا ہوا رنعم کے پیٹ پر اپنی انگلی سے پانچ کا فگر بنانے لگا جس طرح رنعم کی پوری آنکھیں کھل گئی۔۔۔ مگر پھر کچھ سوچنے کی ایکٹنگ کرتا ہوا کاشان نے پانچ پر کراس بنایا اور پھر اس کے پیٹ پر آٹھ نمبر لکھا

“ہاں یہ صحیح ہے آئی تھینک۔۔۔ مجھے تم سے اپنے لیے آٹھ بچے چاہیے”

کاشان خود ہی فیصلہ کن انداز اختیار کرتا ہوا بولا جس پر رنعم نے رحم طلب نظروں سے اسے دیکھا

“کاشان کیا آپ کو واقعی آٹھ بچے چاہیے”

رنعم نے اٹکے ہوئے اس سے پوچھا

“کیوں کم ہیں” کاشان اس کے بالوں کی لٹو کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“نہیں بہت زیادہ ہیں آج کل کے دور میں اتنے بچے کون پیدا کرتا ہے بھلا” رنعم نے اس کو سنجیدہ ہو کر سمجھانے کی کوشش کی

“یار ایک دو تو سب ہی پیدا کرتے ہیں،، ہمہیں تو سب سے کچھ ڈیفرنٹ کرنا چاہیے نا۔۔۔ کونسا میں کرکٹ ٹیم بنانے کی بات کر رہا ہوں” کاشان اب سیریس انداز میں رنعم کو سمجھانے لگا

“مگر آٹھ بچے کیسے آئیں گے”

رنعم کو اب واقعی ٹینشن ہونے لگی

“سمپل ایک سال میں دو کا پیکج بنا لیتے ہیں،،،مطلب ہر سال میرے اور ثوبی کی طرح ٹوئینز۔۔۔ چار سال میں فارغ”

رنعم کے کانوں میں کاشان کی آواز گونجنے لگی اشک ایک بار پھر اسکی آنکھوں سے رواں ہوئے

آج ہی اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ پریگنٹ ہے یہ خبر اگر وہ نارمل حالات میں سنتی تو یقیناً وہ بہت خوش ہوتی جبکہ اس وقت اسے نہ خوشی کا احساس تھا نہ غم کا

“اچھا نہیں کیا آپ نے کاشان میرے ساتھ،،، آپ دیکھ لیے گا میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی،،، آپ چاہے کتنا ہی سوری بولیں،،، کتنی ہی تلافی کرلیں مگر میں آپ کو نہیں بخشنے والی اب”

رنعم روتے ہوئے خود سے باتیں کرنے لگی

****

“میں کب سے کالز کر رہی ہوں تمہیں سیرت، کہاں چلی گئی تھی تم اور ثوبان بھی میری کالز نہیں اٹھا رہا میں کب سے پریشان ہو رہی تھی”

سیرت کو اپنے کمرے میں جاتا ہوا دیکھ کر کچن سے نکلتی ہوئی یسریٰ اس کے پاس آکر بولی

“سیرت یہ تمہارے کپڑوں پر خون کیسا ہے۔۔ ثوبان کہاں پر ہے بتاؤ جلدی مجھے۔۔۔ سیرت خاموش کیوں ہو بولو کچھ، ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا”

یسریٰ سیرت کے کپڑوں پر لگا ہوا خون دیکھ کر پریشان ہوگئی اور اسے جھنجھوڑنا شروع کر دیا تبھی سیرت ہوش میں آئی

“ثوبی ٹھیک ہے مما مگر آپ کاشی کے لیے دعا کریں۔۔۔ 24 گھنٹے کا ٹائم دیا ہے ڈاکٹرز نے۔۔۔ اگر ان 24گھنٹوں میں اسے ہوش نہیں آیا تو۔۔۔۔”

سیرت روتی ہوئی یسریٰ کو بتانے لگی

“کیا بول رہی ہوں سیرت مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔ کیا ہوا کاشان کو”

یسریٰ اب بھی پریشانی کے عالم میں سیرت کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“تین۔۔۔ مما تین گولیاں لگی ہیں کاشی کو”

سیرت نے یسریٰ کے گلے لگ کر روتے ہوئے اسے بتایا۔۔۔ یسریٰ شاک کے مارے کچھ بول نہیں پائی مگر رنعم جوکہ یسریٰ کی تیز آواز سن کر اپنے کمرے سے باہر آ رہی تھی سیرت کی آخری بات سن کر بھاگتی ہوئی سیرت کے پاس آئی

“کاشان کہاں پر ہیں آپی۔۔۔ مجھے بتائیں کہاں پر ہے کاشان”

رنعم تقریباً چیختی ہوئی بولی۔۔۔ سیرت نے اسے گلے لگانا چاہا مگر اس نے سیرت کے ہاتھ جھٹکے

“مجھے لے کر چلیں ابھی اور اسی وقت ان کے پاس”

رنعم اب روتی ہوئی سیرت کو بولنے لگی

“صحیح بول رہی ہے رنعم،، سیرت ہمہیں اسپتال لے چلو،، میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے”

یسریٰ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا

“پر مما اسطرح آپ کی طبیعت خراب ہوگی۔۔۔ رنعم کی بھی کنڈیشن ایسی نہیں ہے بس آپ لوگ دعا کریں”

“کیسی باتیں کر رہی ہوں سیرت تم۔۔ کچھ نہیں ہوتا میری طبیعت کو۔۔۔ اس وقت میرا ثوبان وہاں اکیلا ہے۔۔۔ کتنے سالوں سے وہ مجھے ہر موقع پر سنبھلتا آیا ہے۔۔۔ آج اسے میری ضرورت ہے اور میں گھر بیٹھ جاؤ ایسا ممکن نہیں”

یسریٰ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگی اسے اس وقت ہمت دکھانی تھی۔۔۔۔ کاشان کی زندگی کی دعا کے ساتھ ساتھ اسے اپنے بیٹے کو گلے لگا کر اس کی ہمت بھی بڑھانی تھی

“آپی دیر نہیں کریں پلیز جلدی چلیں”

رنعم روتے ہوئے کہنے لگی سیرت نے یسریٰ کو دیکھا جو کہ ڈرائیور سے کار نکالنے کا کہہ رہی تھی۔۔ سیرت جلدی سے اپنے روم سے ثوبان کی ایک شرٹ لے کر یسریٰ اور رنعم کے ساتھ کار میں بیٹھ گئی

****

یہ جگہ آبادی سے دور ایک سیف ہاؤس تھا جہاں اس وقت ثوبان موجود تھا

آدھے گھنٹے پہلے کاشان کا ہارٹ پراپر ورک نہیں کر رہا تھا۔۔ اس کی دھڑکنوں کی رفتار سست ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اسے دوبارہ ٹریٹمنٹ دینے لگے۔۔۔ ثوبان سے کاشان کی تکلیف نہیں دیکھی جا رہی تھی۔۔۔ اس وجہ سے وہ بھائی کا قرض چکانے یہاں آگیا

“کسی کو شک تو نہیں ہوا کہ اسے پولیس نے پکڑا ہے”

ثوبان نے اپنے پیچھے آتے جواد سے پوچھا

“نہیں سر سب سول ڈریس میں موجود تھے بہت صفائی سے کام کیا گیا ہے اور آپ کے کہنے کے مطابق اس نے اتنی سانسیں چھوڑی ہیں کہ وہ اپنی موت کو اچھی طرح محسوس کر سکے”

جواد ثوبان کے پیچھے چلتا ہوا اسے بتانے لگا۔۔۔ ثوبان ایک بند دروازے کے آگے رکا،،،جواد نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو ثوبان کمرے کے اندر داخل ہوا۔۔۔ جہاں شیرا کو زنجیروں سے باندھا ہوا تھا اس کی حالت اس وقت قابل رحم تھی۔۔۔۔ اس کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا کہ وہ کافی تکلیف برداشت کر چکا ہے اور اب ثوبان کو دیکھ کر شیرا کو اندازہ ہوگیا ابھی اسے کافی کچھ برداشت کرنا ہے

“میں نے۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں”

شیرا نڈھال ہوتا ہوا ثوبان کو دیکھ کر ایک دم بول پڑا

“میں نے تم سے کہا تھا شیرا کہ میرے گھر کے کسی بھی فرد کو بری نظر سے دیکھا بھی تو میں تمہیں اتنی درد ناک موت دوں گا کہ تمہاری روح تک تڑپ جائے گی شاید تم نے میری وارننگ کو اس وقت اتنا سیریس نہیں لیا تھا”

ثوبان نے کمرے میں موجود ٹیبل پر سے ایک تھیلی جس میں سفید رنگ کا سفوف موجود تھا اٹھا کر شیرا کے منہ میں بھرنا شروع کردیا

“تمہیں معلوم ہے اس وقت میرا بھائی زندگی اور موت کے بیچ کھڑا ہے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے۔۔۔ کیا تم اس کی تکلیف محسوس کرنا چاہوں گے شیرا” ثوبان نے اب جواد کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے شیرا کو مخاطب کیا۔۔۔ شیرا منہ بھرے ہوئے پاوڈر کی وجہ سے بری طرح کھانس رہا تھا۔۔۔ جواد نے لوڈڈ ریوالور نکال کر ثوبان کے ہاتھ میں تھمائی۔۔۔۔ شیرا خوفزدہ نظروں سے ثوبان کو دیکھتا ہوا نفی میں سر ہلانے لگا

ثوبان نے باری باری اس کی دونوں ٹانگوں پر اور پھر دونوں بازوؤں پر فائر کیے اس کے بعد دو گولیاں اس کے سینے میں اتارتا ہوا خالی ریوالور دوبارہ جواد کو تھما دیا

“آگے کا کام معلوم ہے”

ثوبان شیرا کے مردہ وجود کو دیکھتا ہوا جواد سے پوچھنے لگا

“سر آپ اس کی فکر نہیں کریں میں سب دیکھ لوں گا اور اس کی رپورٹ بھی تیار کر دوں گا”

ثوبان جواد کی بات سن کر کمرے سے باہر نکل گیا اسے اطمینان تھا جواد سب دیکھ لے گا

آج اس نے پہلی دفعہ اپنے اصولوں کے خلاف جا کر ایسا قدم اٹھایا تھا صرف کاشان کے لیے مگر ثوبان کو اسکا پچھتاوہ ہرگز نہیں تھا اسے معلوم تھا شیرا صرف کاشان کا ہی قصور وار نہیں ہے بلکہ کتنے ہی بے گناہ مرد اور عورت اس کی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔۔۔ یہ ملک کے ان ناسوروں میں سے تھا جس کا ختم ہو جانا ہی بہتر تھا کیوکہ جیل سے وہ ایک بار پھر سفارش کے بنا پر چھوٹ جاتا

****

“کاشان پلیز اپنی آنکھیں کھولے میری طرف دیکھیں پلیز”

رنعم بیڈ پر آنکھیں بند کئے کاشان کو لیٹا دیکھ کر روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ مختلف نلکیاں اور ٹیوبز اس کے جسم میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ وہ کبھی کاشان کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اسے دیکھ رہی تھی تو کبھی اس مشین کو جس میں ایک لمبی لائن کے بعد آڑھی تھرچی لائنز بننے لگ جاتی۔۔۔۔ رنعم کا دل بری طرح دکھ رہا تھا کاشان کو اس حالت میں دیکھ کر،، ڈاکٹر نے پیشنٹ کی وائف سن کر اسے اندر آنا آلاؤ کیا تھا

“آپ ہمیشہ میرے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں،، مجھے دکھ دے کر،، تکلیف میں دیکھ کر سکون ملتا ہے آپ کو۔۔۔ اس وقت بھی اتنے سکون سے لیٹے ہیں یہ جانے بناء کے مجھے اس وقت کتنی تکلیف ہو رہی ہے آپ کو اس حال میں دیکھ کر۔۔۔ آپ کو شاید میری کنڈیشن کی بھی خبر نہیں کہ میں کس عمل سے گزر رہی ہو پھر بھی مجھے پریشان کر رہے ہیں آپ۔۔۔ کاشان آپ بہت بہت برے ہیں بہت برے”

وہ اپنی کپکپاتی انگلی سے کاشان کے دل پر R لکھتے ہوئے اس سے شکوہ کر رہی تھی۔۔۔ تبھی اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا رنعم نے پلٹ کر دیکھا تو ثوبان کھڑا تھا

“بھیا کاشان کو بولے نا، وہ اٹھ جائے اس طرح مت کریں ہمارے ساتھ”

رنعم اب ثوبان کے گلے لگ کر روتے ہوئے بولنے لگی۔۔۔ رنعم کے آنسو ثوبان کی شرٹ بھگو رہے تھے جبکہ ثوبان کے آنسو رنعم کے بالوں میں جذب ہونے لگے

“ہم اتنے دنوں تک اس سے ناراض رہے ہیں نا۔۔۔ بس اسی کا بدلہ لے رہا ہے ہم سے یہ بدتمیز انسان۔۔۔۔ تم پریشان مت ہو ایک دفعہ اسے اٹھنے دو پھر ہم دونوں مل کر اس کی اچھی سی کلاس لیں گے” ثوبان خود روتا ہوا رنعم کو تسلی دینے لگا

ڈاکٹر نے اشارے سے اسے باہر جانے کے لیے کہا وہ رنعم کو اپنے ساتھ لیے وہاں سے چلا گیا۔۔۔ وہ ابھی چند منٹ پہلے ہی دوبارہ ہاسپٹل پہنچا تھا وہاں سیرت کی دوبارہ موجودگی پر خفا ہونے لگا۔۔۔ سیرت نے اسے ساری سچویشن بتائی۔۔۔ اور صاف شرٹ دی،، ثوبان نے یسریٰ اور رنعم کا پوچھا۔۔۔۔ سیرت نے بتایا یسریٰ نماز ادا کر رہی ہے جبکہ رنعم آئی سی یو کے اندر کاشان کے پاس موجود ہے جبھی وہ آئی سی یو میں جا کر رنعم کو باہر لے آیا

اتنے میں یسریٰ بھی نماز سے فارغ ہوکر وہاں آ گئی ثوبان کو گلے لگایا

“ٹھیک ہو جائے گا کاشان،، میرا دل کہہ رہا ہے میری اس کے لیے دعائیں رد نہیں ہوگی۔۔۔ تم بالکل فکر نہیں کرو کچھ نہیں ہوگا اسے سب ٹھیک ہو جائے گا”

یسریٰ خود ہمت سے کام لیتے ہوئے ثوبان کو گلے لگا کر اسے تسلی دے رہی تھی

“جی مما اسے ٹھیک ہونا ہی ہوگا۔۔۔ وہ میرے ساتھ ہی تو دنیا میں آیا تھا ایسے کیسے مجھے اکیلا چھوڑ کر جا سکتا ہے۔۔ اگر اس نے مجھے چھوڑا نہ میں زندگی بھر اسے معاف نہیں کروں گا”

آج ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ یسریٰ ثوبان کی ہمت باندھ کر اسے حوصلہ دے رہی تھی اور ثوبان کی آنکھیں نم تھی

رات کو ثوبان نے ان تینوں کو ڈرائیور کے ساتھ گھر بھیج دیا

“کاشی پلیز یار مجھے چھوڑ کر مت جانا میں اکیلا رہ جاؤں گا۔۔۔ رنعم کا سوچو وہ کتنا رو رہی تھی تمہیں دیکھ کر۔۔۔ تمہیں سیرت نے بتایا تھا نا وہ کس حال سے ہے۔۔۔ میں اور رنعم بہت پیار کرتے ہیں یار تم سے۔۔۔ ہم دونوں کو ضرورت ہے تمہاری بلکے ہم سے بھی زیادہ اب تمہارے بچے کو تمہاری ضرورت ہوگی۔۔۔ پلیز یار ایک بار آنکھیں کھول لو” ثوبان رات کے پہر آئی سی یو میں کاشان کا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا۔۔۔ ثوبان کا چہرہ ایک بار پھر اشکبار تھا جبھی کاشان کی انگلیوں میں ہلکی سی جنبش محسوس ہوئی۔۔۔۔ کاشان نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں تو ثوبان اپنے آنسو صاف کر کے مسکراتا ہوا ڈاکٹرز کو بلانے گیا

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹرز نے ثوبان کو خوشی کی نوید سنائی کہ پیشنٹ کی زندگی اب خطرے سے باہر ہے یہ خبر سنتے ہی ثوبان نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔ اب اسے سب سے پہلے خدا کے حضور شکر کا سجدہ کرنا تھا اور رنعم کو خوشخبری سنانی تھی