504.2K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 55) 2nd Last Episode

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

کل ہی اس نے ثوبان سے کاشان کا ذکر کیا تھا اور آج صبح اسے جو خبر پتہ چلی تھی تو سیرت نے فوراً کاشان سے ملنے کا ارادہ باندھا وہ کاشان کے گھر پہنچی تو اسے حیرت ہوئی فلیٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا

سیرت اندر داخل ہوئی سارے کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا ہر کمرے کی لائٹ آن کرتی ہوئی اس نے تمام کمروں کا جائزہ لیا پورا گھر بے ترتیب پڑا ہوا تھا جہاں تک وہ بچپن سے کاشان کو جانتی تھی اسے پھیلاؤ اور بے ترتیبی ذرا پسند نہیں تھی جبکہ لاونچ میں کرسیوں پر میلے کپڑے اور ٹاول اخبارارت بکھرے پڑے تھے ۔۔۔۔ کچن میں پانی کی خالی بوتلیں،، جھوٹے برتن، کپز میں آدھی بچی ہوئی چائے۔۔۔۔ سیرت کو افسوس ہوا وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی بیڈروم میں داخل ہوئی۔۔۔ بیڈروم میں جب داخل ہوکر جب کاشان پر اس کی نظر پڑی تو اسے اور بھی زیادہ افسوس ہوا

وہ بیڈ پر آڑھا تھرچا سو رہا تھا سیرت کو وہ چند دنوں میں تھوڑا کمزور بھی لگا۔۔۔ بڑھی ہوئی شیو، ،، آنکھوں کے گرد ہلکے چہرے پر چھائی بے رونقی سیرت افسوس سے دیکھتے ہوئے اس کے قریب آئی

“کاشی۔۔۔۔ کاشی”

سیرت نے اس کو آواز دی

“رنعم”

کاشان نے نیند میں بولا تو سیرت نے لمبی سانس خارج کی

“میں رنعم نہیں ہوں سیرت ہو آنکھیں تو کھولو”

سیرت نے اس کا بازو ہلایا کاشان نے آنکھیں کھولیں

“سیرت تم یہاں پر”

کاشان نے لیٹے ہوئے اس کو دیکھ کر پوچھا پھر اس کے حواس تھوڑے بحال ہوئے تو اٹھ کر بیٹھا

“تم سے ملنے آئی تھی یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے اپنا”

سیرت نے افسوس سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور اس کے برابر میں بیٹھی

“وہ چلی گئی ہے ناں تو کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ ثوبی بھی مجھ سے ناراض ہے اور تم۔۔۔ تمہارا بھی تو کتنا نقصان کر چکا ہو میں۔۔۔۔ تم سے تمہاری خوشی چھین لی،، مجھے معاف کردو سیرت میں نے ایسا نہیں چاہتا تھا،،، تمہارے ساتھ ایسا میں ہرگز نہیں کر سکتا۔۔۔ میں اپنے بھائی کے ساتھ بھی ایسا نہیں کر سکتا میں بہت برا ہو”

کاشان نے ملامتی انداز میں اس سے بولا سیرت کو افسوس ہونے لگا۔۔۔ وہ رنعم اور ثوبان کی جدائی میں بالکل ٹوٹ سا گیا تھا

“تم برے نہیں ہو کاشی۔۔۔ تم کسی کے ساتھ برا نہیں کرنا چاہتے مگر پھر بھی تم سے برا ہو جاتا ہے۔۔۔ غصے میں آکر اپنے رویے اور عمل سے دوسرے کو تکلیف دے جاتے ہو۔۔۔ پہلی اولاد کی خوشی ہی الگ ہوتی ہے بہت انوکھا سا احساس ہوتا ہے۔۔۔ خاص کر عورت کے لیے،، جب وہ ماں بننے جا رہی ہوتی ہے۔۔۔ شاید میری خوشی کی مدت ہی اتنی تھی،، تم انجانے میں مجھ سے میری اولاد چھیننے کا سبب بنے۔۔۔ مگر اس طرح کر کے تم نے میرے دل میں میری ماں کی قدر ڈال دی۔۔۔ تبھی میں نے اپنی مما کی تڑپ کو سمجھا۔۔۔ جو اولاد ابھی دنیا میں آئی بھی نہیں تھی اس کو ختم ہوتا دیکھ کر میں کتنا روئی۔۔ تبھی مجھے احساس ہوا۔۔۔ مما بابا سے تو میں چار ماہ کی بچھڑی تھی وہ دونوں کتنا تڑپے ہوگے میرے لیے۔۔۔ میں تم سے ناراض نہیں ہوں کاشی،، ایک لڑکی اس سے کبھی بھی ناراض نہیں ہو سکتی جو اس کی عزت کا نگہباں ہو”

سیرت نے کاشان کو دیکھ کر کہا کاشان کو ایک بھولا بسرا منظر یاد آیا وہ سیرت کو دیکھنے لگا

“تمہیں یاد ہے کاشی آج سے پندرہ سال پہلے جب میں آٹھ سال کی تھی۔۔۔ کس طرح اس جانور نما انسان کی آنکھوں میں ہوس ٹپک رہی تھی۔۔۔ تم نے اس کے سر پر پتھر مار کر مجھے بچایا تھا اور تم نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ بات صرف ہم دونوں کے بیچ میں رہے گی،،، میں نے یہ بات واقعی کبھی کسی سے شیئر نہیں کی یہاں تک کہ ثوبی سے بھی نہیں۔۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میری عزت کا سوال تھا مگر دوسری وجہ یہ تھی کہ تم نے مجھ سے وعدہ لیا تھا۔۔۔ لوگوں نے مشہور کیا ہوا ہے کہ عورت پیٹ کی ہلکی ہوتی ہے اگر عورت اتنی ہی پیٹ کی ہلکی ہوتی تو بہت سے مرد سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہ ہو۔۔۔ عورتیں تو اپنے سینے میں کتنے راز دفن کر کے خود بھی دفن ہو جاتی ہیں۔۔۔ کاشی تمہیں رنعم پر اعتبار کرنا چاہیے تھا اس نے کبھی بھی ہمہیں کچھ نہیں بتایا تم نے جو بھی اس کے ساتھ کیا اس نے کبھی بھی ہم سے شیئر نہیں کیا۔۔۔ اس نے تم سے محبت کی، محبت نبھانے کی کوشش بھی کی مگر وہ انسان ہے کب تک بے رحمانہ رویہ برداشت کرتی”

سیرت اس کو شرمندہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی مگر کاشان نے اپنا سر جھکا لیا

“میں نے اپنے رویے سے اس کا دل دکھایا ہے اسے بہت ہرٹ کیا ہے اب اس کے دور جانے سے مجھے احساس ہوگیا ہے۔۔۔ سیرت میں اس کو کھونے سے ڈرتا ہوں،، میں پرامس کرتا ہوں آئندہ کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہیں کروں گا جو اس کے لئے ثوبی کے کے لیے یا کسی اور کے لئے دل آزاری کا باعث بنے۔۔۔ وہ آجائے گی نہ دوبارہ میرے پاس”

کاشان بہت امید سے پوچھنے لگا

“تمیں معلوم ہے آج میں تمہیں کیا نیوز دینے آئی ہو”

سیرت نے کاشان سے سوال کیا

“ثوبی ٹھیک ہے”

کاشان اس سے پوچھنے لگا

“ہاں وہ ٹھیک ہے۔۔۔ میں بس تمہیں یہ بتانے آئی تھی کہ تم ایک معاملے میں ثوبی سے پہلے نمبر لے گئے ہو”

سیرت نے پراسرار ہنسی ہنستے ہوئے کہا

“پہلیاں مت بجھاو،، جو بھی بولنا ہے جلدی بولو”

کاشان نے چڑتے ہوئے کہا سیرت بیڈ پر سے اٹھ کر کاشان کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی تاکہ اسے دینے والی خبر سے اس کے فیس ایکسپریشن صیح سے دیکھ سکے

“تمہیں معلوم ہے کاشی،، تم بابا بننے والے ہو”

سیرت نے راز دارانہ طریقے سے اسے بتایا

“اچھا بابا بننے والا ہوں”

وہ بے خیالی میں بولتا ہوا ایک دم سے چونکا

“کیا بابا بننے والا ہوں۔۔۔ تمہارا مطلب مییں بابا بننے والا ہوں یعنی کے رنعم پریگنینٹ اومائی گاڈ”

پہلے حیرت بعد میں ایکسائٹمنٹ اب وہ خوشی سے خود ہی مسکرا دیا۔۔۔ سیرت اس کے فیس ایکسپریشنز کو دیکھ کر خود بھی ہنس دی۔۔۔ اب وہ خود بھی سیرت کے ساتھ ہنسنے لگا۔۔۔ جیسے یہ خبر اس کو نئے سرے سے توانا کر گئی ہو

“تمھیں معلوم ہے اس سے اچھی خبر تو تم نے مجھے زندگی میں کبھی نہیں دی۔۔۔ تمہیں اندازہ نہیں سیرت میری خوشی کا،، میں خوش ہوں۔۔۔ سچی بہت خوش”

کاشان اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتا ہوا بولا

“رنعم کیسی ہو۔۔۔ وہ ٹھیک ہے ناں،، وہ بھی خوش ہے ناں۔۔۔ خوش کیوں نہیں ہوگی مجھے معلوم ہے وہ بہت خوش ہوگی،، تم اس کا بہت خیال رکھنا،، خاص کر اس کے کھانے پینے کا دھیان رکھنا”

کاشان دوبارہ نم انکھوں کے ساتھ مسکراتا ہوا سیرت کو بول رہا تھا۔۔۔ اس کا بہت شدت سے دل چاہا کہ اس وقت رنعم اس کے سامنے ہوتی۔۔۔۔ اس نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا کہ جب اسے یہ خوشی کی خبر ملے گی تب تک رنعم اور اس کے رشتے میں اتنی دوریاں آجائے گی

“آج صبح ہی ہمہیں معلوم ہوا اور دیکھو میں نے اپنی دوستی کا فرض نبھایا تمہیں بتانے فوراً آگئی”

سیرت نے فخریہ انداز اپناتے ہوئے کہا

“تھینکیو”

کاشان نے مشکور نظروں سے سیرت کو دیکھتے ہوئے کہا

“اتنی اچھی خبر سنائی ہے میں نے تمہیں،، جاؤ جا کر اپنا حلیہ درست کرو جب تک میں تمہارے گھر کا حلیہ درست کرتی ہو”

سیرت کاشان کو بولتی ہوئی اور تیزی سے ہاتھ چلاتی ہوئی چیزوں کو ترتیب سے رکھنے لگی۔۔۔ کافی حد تک پھیلا ہوا گھر سمیٹ کر اب وہ کچن کی حالت درست کرتی ہوئی کھانا بنانے لگی۔ ۔۔۔ کاشان شاور لے کر جب کچن میں آیا تو ایسے کاموں میں مگن دیکھا

“دو ہفتوں میں ہی تم نے گھر کتنا گندا کردیا کاشی،، اس طرح تم کبھی بھی نہیں رہتے تھے اب میں نے گھر کو تھوڑا بہت رہنے کے قابل کردیا ہے۔۔۔ کل نوید کو بھیج دوں گی وہ آکر صفائی کر جائے گا”

سیرت کی زبان اور ہاتھ دونوں چل رہے تھے۔۔ وہ اپنا اور کاشان کا پلیٹ میں کھانا نکالتی ہوئی بولی۔۔۔ کاشان چیئر کھسکا کر بیٹھ گیا کتنے دنوں بعد وہ گھر کا بنا ہوا کھانا کھا رہا تھا

“پھر کیا سوچا ہے تم نے کب رنعم کو لینے آ رہے ہو”

کھانے کے دوران سیرت نے کاشان سے پوچھا وہ کھانے سے ہاتھ روک کر سیرت کو دیکھنے لگا

“وہ آجائے گی ناں میرے ساتھ۔۔۔ کیا وہ مجھے معاف کر چکی ہے”

کاشان بےقراری سے سیرت کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“اب تو آنے کا جواز بھی بن گیا ہے،،، آنا تو پڑے گا اسے مگر تمہیں پہلے تمہیں اس سے معافی مانگنی چاہیے اور پرامس بھی کرنا ہوگا کاشی کہ آئندہ تم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاو گے جس سے نقصان اب تمہارا اور رنعم کے ساتھ ساتھ تمہارے آنے والے بچے کا بھی ہو”

سیرت کاشان کو دیکھتے ہوئے سمجھانے لگی

“تمہیں معلوم ہے ان چند دنوں میں رنعم اپنی عادت کے برخلاف کتنی چڑچڑی ہوگئی ہے۔۔۔۔ مجھ سے، ثوبی سے یہاں تک کہ مما سے بھی بات نہیں کرتی نہ ہمارے پاس آ کر بیٹھتی ہے،،، ثوبی اسے خوش رکھنے کے چکر میں، مما اسے کھانا کھلانے کی فکر میں ہلکان ہوتی رہتی ہیں مگر بس وہ ایک خول میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔۔ اپنے آپ کو اس نے اپنے کمرے میں بند کر لیا ہے۔۔۔ کھانے کے لئے بھی اسے میں یا ثوبی بہلا کر یا زبردستی باہر نکال کر لاتے ہیں۔۔۔ شاید اندر سے وہ تمہیں اور اپنے اس گھر کو مس کر رہی ہے مجھے ایسا لگتا ہے”

کاشان غور سے سیرت کی باتیں سن رہا تھا اس کی باتیں سن کر کاشان کو دکھ بھی ہوا وہ آنکھیں بند کیے بے بسی سے سوچنے لگا وہ کیا کچھ کر چکا ہے اپنے ساتھ، اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔ آنکھیں کھول کر وہ سیرت سے گویا ہوا

“سیرت تم اور ثوبی اس کا بہت خیال رکھنا میں رنعم کو بہت مس کر رہا ہوں،، اپنا گھر مجھے گھر نہیں لگتا کیوکہ اس میں رنعم موجود نہیں ہے مگر اب میں اسکو تب لینے آو گا جب میں خود کو اس قابل کرلو اور خود کو اس کے لائق بنالو۔۔۔ اپنے غصے کو کنٹرول کر لو۔۔۔ میں اپنے رویے سے، اپنے اور اس کے بیچ قائم کردہ رشتے کو کافی کمزور کر چکا ہوں۔۔۔ اب سب کچھ مجھے ہی ٹھیک کرنا ہے۔۔۔ اتنی زیادہ دوری تو میں خود بھی اپنی بیوی سے برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ میں اسے بہت جلد لینے آوں گا مگر تب تک تم اس کا بہت زیادہ خیال رکھنا”

کاشان سیرت کو دیکھتا ہوا بولا اتنے میں سیرت کا ٹیبل پر رکھا ہوا موبائل بجا۔۔۔ سیرت نے ثوبان کی کال ریسیو کی

“تم کاشی کے فلیٹ میں کیا کر رہی ہو”

سیرت کا میسج ابھی ثوبان نے پڑھا کر جو کہ 2 گھنٹے پہلے آیا تھا۔۔ وہ نارمل لہجے میں سیرت سے پوچھ رہا تھا

“ملنے آئی تھی اس سے”

سیرت نے کاشان کو دیکھتے ہوئے ثوبان کو بتایا کاشان اسے ہی دیکھ رہا تھا

“اوکے نیچے آجاو میں ویٹ کر رہا ہوں تمہارا کار میں”

ثوبان سیرت سے بولا

“اوکے میں آتی ہوں” سیرت نے کال کاٹ کر موبائل ٹیبل پر رکھا اور کرسی سے اٹھ کر اپنا بیگ اٹھانے لگی

“ثوبی آیا ہے تمہیں لینے،، تم اسے یہاں پر آنے کا کہتی نا”

کاشان سیرت کو اٹھتا ہوا دیکھ کر خود بھی چیئر سے اٹھتا ہوا بولا

“سب کچھ آئستہ آئستہ ہی ٹھیک ہوگا کاشی۔۔۔ تم کھانا کھا لینا اور اپنا خیال رکھنا”

سیرت کاشان کو کہتی ہوئی اپنا بیگ لے کر دروازے سے باہر نکل گئی

کاشان دوبارہ کھانا کھانے بیٹھا کھانا کھاتے ہوئے اس کی نظر ٹیبل پر رکھے سیرت کے موبائل پر گئی۔۔۔ وہ بے دھیانی میں اپنا موبائل یہی چھوڑ گئی تھی۔۔۔ کاشان نے اس کا موبائل اٹھایا اور اس کے موبائل پر ثوبان کا نمبر ڈائل کیا مگر اتنے میں اس کے گھر کا دروازہ کھلا،،، کوئی اندر آیا

موبائل پر بیل جا رہی تھی مگر کاشان کا دماغ گھر کے اندر داخل ہوتے شیرا کی طرف گیا

“کیوں آئے ہو تو میرے گھر پر”

کاشان نے موبائل ٹیبل پر رکھ کر شیرا سے پوچھا ویسے تو کاشان اپنے غصے کو کافی حد تک کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا مگر شیرا کو دیکھ کر اسے غصہ آنے لگا مگر پھر بھی اس نے اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھ کر منہ سے بات کی

“کاشی تو نے مار مار کر میری شکل بگاڑ دی مجھے کتنے برے طریقے سے مارا تو نے اور ابھی بھی تو مجھ سے یہ پوچھ رہا ہے کہ میں آج یہاں پر کیوں آیا ہوں”

شیرا نے پسٹل نکالتے ہوئے کاشان کو دیکھا

“مجھے ایک ہی گولی مارنا اور وہ بھی یہاں کیوکہ اگر میں بچ گیا تو پھر تو نہیں بچ پائے گا” کاشان اپنی پیشانی پر انگلی رکھتا ہوا بولا

“پاگل سمجھا ہوا ہے تو نے مجھے، ایک گولی مار کر تجھے میں اتنی آسان موت دوں گا۔۔۔ میں آج تجھے تڑپا تڑپا کر مارو گا تاکہ تو اپنی موت کا صحیح طریقے سے مزا لے”

شیرا نے بولنے کے ساتھ ہی پہلا فائر اس کی ٹانگ پر کیا جس سے کاشان نیچے گھٹنے کے بل گرا،،، وہ کرسی کا سہارا لیتے ہوئے وہ دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا مگر سینے پر لگنے والی گولی سے اس کی چیخ نکلی،،، وہ فرش پر گرا۔۔۔ فرش اس کے خون سے رنگنا شروع ہوگیا۔۔۔ تیسری گولی شیرا نے اس کی کمر پر ماری اور اس کے فلیٹ سے نکل گیا

کاشان فرش پر گرا ہوا بری طرح تڑپ رہا تھا تکلیف کی شدت سے اس کے منہ سے کراہ نکل رہی تھی اور آنکھیں بار بار دھندلا رہی تھی۔۔۔ اسے رنعم کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا۔۔۔ وہ کراہتے ہوئے زور سے آنکھیں جھپکنے لگا پھر اسے ثوبان نظر آیا اب اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی،، اس کا سانس اُکھڑنے لگا۔۔۔ اس نے زور سے سانس لینے کی کوشش کی۔۔۔ اب وہ اپنے سامنے فائزہ کو دیکھ رہا تھا جو اسے اپنے پاس بلا رہی تھی دھڑکنوں کی رفتار آہستہ آہستہ معدھم ہونے لگی۔۔۔ اسے لگا جیسے ان تینوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔۔۔آج اس کا دل بھی اس کا ساتھ چھوڑ دے گا۔۔۔ اس کا دماغ تاریکی میں جانے لگا اور آنکھیں بند ہونے لگی

****

“کیسا ہے کاشی”

سیرت کے گاڑی میں بیٹھتے ہی ثوبان نے سیرت سے پوچھا

“خود اوپر آ کر دیکھ لیںتے تو معلوم ہوجاتا کیسا ہے”

سیرت کے بولنے پر ثوبان نے افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالی اور کار سٹارٹ کردی

“ثوبی اب یہ ناراضگی ختم کرو اپنے بھائی سے۔۔۔ وہ بہت اکیلا ہو چکا ہے، اسے اس وقت تمہاری اور رنعم کی ضرورت ہے۔۔۔ اور اب تو رنعم کی گڈ نیوز سے ناراضگی کا کوئی جواز بنتا ہی نہیں”

سیرت ڈرائیونگ کرتے ہوئے ثوبان کو دیکھ کر اسے سمجھانے لگی

“کہیں تم نے یہ بات کاشی تو شیئر نہیں کہ رنعم ایکسپیکٹڈ ہے”

ثوبان سنجیدگی سے سیرت کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“اس میں چھپانے والی کیا بات ہے بھلا اور میں گٙئی کس لیے تھی۔۔۔ وہ باپ بننے والا ہے اور اتنی بڑی خوشی کی خبر اس نہیں بتاتی”

سیرت نے حیرت سے ثوبان کو دیکھتے ہوئے کہا

“سیرت تمہیں یہ بات ابھی اسے فلالحال نہیں بتانی چاہیے تھی”

ثوبان نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے اپنا سر جھٹکا

“آخر تم سوچ کر کیا بیٹھے ہو ثوبی”

سیرت نے اس کو دیکھ کر پوچھا

“سائکیٹرک کے پاس جا رہا ہے اینگر تھراپی کے لیے،،، تمھیں تو اسے یہ بولنا چاہیے تھا کہ ہم رنعم کو خلع دلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔ ذرا معلوم تو ہوتا،، اس اینگر تھراپی کا کوئی فائدہ بھی ہو رہا ہے یا نہیں،، کتنا کنٹرول کر پایا ہے اپنے غصے کو”

ثوبان نے تلخی سے کہا

“یعنی تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اسے وہاں جاکر مینٹلی ٹارچر کرتی”

سیرت نے برا مانتے ہوئے کہا

“اس نے ہم سب کو مینٹلی ٹارچر کیا ہے۔۔۔ اور اب خود سائکیٹرک کے پاس جاکر سیشن کروا رہا ہے اپنے”

ثوبان نے غصے میں کہا

“ثوبی مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تمہیں غصہ کس بات پر آرہا ہے آخر۔۔۔ اس کے سائکیٹرک کے پاس جانے سے یا پھر یہ کہ تمہیں اپنے بھائی سے محبت ہی نہیں رہی ہے”

اب کہ سیرت بھی اس پر غصہ کرتی ہوئی بولی

“بالکل ٹھیک کہا اس سے محبت نہیں رہی ہے سب کچھ ختم کر چکا ہے وہ اپنے ہاتھوں سے”

ثوبان کی بات کا سیرت جواب دیتی اس سے پہلے ثوبان کا موبائل بجا

“تمہارے نمبر سے کال آرہی ہے کہاں ہے تمہارا موبائل”

ثوبان نے اپنا موبائل دیکھتے ہوئے کہا اور سیرت کے کچھ بولنے سے پہلے کال ریسیو کی

“کاشی۔۔۔۔ کون ہے وہاں پر۔۔۔۔ اے کون ہو تم،،، ہاتھ مت لگانا میرے بھائی کو”

ثوبان نے موبائل کان پر لگاتے ہوئے زور سے چیختے ہوئے ایک ہاتھ سے گاڑی دوبارہ ٹرن کی

“ثوبی کیا ہوا ہے کچھ بتاؤ،، کاشی کیا بات کر رہا ہے”

ثوبان کو سیرت کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی وہ بس تیزی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا وہ کاشان کے پاس پہنچنا چاہتا تھا

“کاشی”

گولی کی آواز پر ثوبان دوبارہ زور سے چیخا۔۔۔۔ دوسری گولی پر ثوبان نے کار فلیٹ کے باہر روکی۔۔۔ سیرت خود بھی پریشان ہو کر ثوبان کو دیکھنے لگی۔۔۔ ثوبان تیزی سے کار سے نکل کر بھاگا۔۔۔۔ سیرت بھی بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے جانے لگی اس کا دل گھبرانے لگا۔۔۔ ثوبان تیزی سے لفٹ کا انتظار کئے بناء سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر پہنچا جبکہ لفٹ سے شیرا نکل کر فلیٹ سے باہر چلا گیا

“کاشی۔۔۔ کاشی آنکھیں کھولو دیکھو میں آگیا ہوں”

ثوبان کاشان کا خون میں لت پت وجود کو گلے سے لگاتے ہوئے چیخ کر بولا

سیرت جب تک اس کے پیچھے پہنچی وہ اندر کا منظر دیکھ کر چیخ مار کر وہی دروازے پر جم گئی۔۔۔۔ ثوبان نے کاشان کا بے جان ہوتا وجود اٹھایا تو وہ خود گرنے لگا مگر اسے گرنا نہیں اسے اس وقت بہت ہمت اور حوصلے سے کام لینا تھا اور اپنے بھائی کی زندگی بچانی تھی

وہ ایمبولینس کا انتظار کئے بناء کاشان کو اپنی گاڑی تک لایا ثوبان کے کپڑے خود بھی کاشان کر خون میں رنگ چکے تھے۔۔۔ اب اسے کاشان کو لے کر اسپتال جانا تھا