504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 49)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

لاونچ کے فرش پر سرخ پھولوں کی پتیاں مسلی ہوئی پھڑی تھی جنہیں بے دردی سے قدموں تلے روندا گیا تھا وہ لاؤنچ میں کرسی پر بیٹھا مسلسل ایک گھنٹے سے اسموکنگ کر رہا تھا۔۔۔ سگریٹ کے بیشتر ٹکڑے ایش ٹرے باہر نکل کر گرے ہوئے تھے

اسموکنگ کرتے ہوئے 2 گھنٹے پہلے والا واقعہ یاد کرنے لگا ایسا پہلی بار ہوا تھا جو ثوبان کا ہاتھ اس پر اٹھا تھا۔۔۔ ثوبان کے اس عمل سے اسے کتنی تکلیف ہوئی تھی کتنی محبت کرتا تھا وہ اپنے بھائی سے۔۔۔ ثوبان کی نظروں میں اپنے لئے اجنبیت اور غصہ دیکھ کر آج اسے کتنی تکلیف ہوئی تھی

دوسری طرف رنعم اس کی بیوی جسے چند مہینوں میں ہی وہ اپنی کمزوری ماننے لگا تھا۔۔۔ جو اس کے دل پر اپنے نام کا پہلا حرف لکھ کر ہمیشہ اسے بتاتی کہ وہ صرف اسی کی ہے۔۔۔ پیار تو وہ اسے بے پناہ کرتا تھا مگر اب آئستہ آئستہ اس اعتبار بھی کرنے لگا تھا لیکن آج اس کی بیوی نے کیا، کیا۔۔۔ ساری کی ساری بات ثوبان کو بتا دی

اس نے شیر کو کس لیے مارا تھا صرف اسی وجہ سے کہ وہ اس کی بیوی کو اٹھا کر لے گیا تھا۔۔۔ اگر کاشان اسے زندہ چھوڑ دیتا تو یہ حرکت وہ دوبارہ کرتا اور کاشان دوبارہ رنعم کے لیے کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتا تھا

آج کاشان کو لگا رنعم نے ثوبان کو سب کچھ بتا کر اس کا اعتبار توڑا ہے نہ صرف اس کا اعتبار توڑا بلکہ اس کے اور ثوبان کے رشتے میں بھی دارڑ ڈال دی ہے۔۔۔ اسی بات کی کاشان نے اس کو سزا دی تھی شاید یہ ضروری ہوگیا تھا تاکہ اس کی بیوی آئندہ زندگی میں ایسی غلطی دوبارہ نہ کرے

اسے جیل میں اسد کاڑھے کی بات یاد آئی ٹھیک ہی کہتا تھا وہ عورت کی لگامیں کھینچ کر رکھنی چاہیے،، اسے پیار بھی کرنا چاہیے مگر اس کی غلطی پر اسے سزا بھی دینی چاہیے

کاشان ہاتھ میں موجود سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلتا ہوا اٹھا لاونچ میں موجود ساری پھولوں کی پتیوں کو ڈسٹ بن کی نظر کرتا ہوا وہ آئینمینٹ نکالنے لگا

جب رنعم کاشان سے ڈرتی ہوئی بیڈروم کی طرف بھاگی تھی تب کاشان نے بیڈ روم میں آکر اسے بیڈ پر دھکا دیا وہ بیڈ پر اوندھے منہ گری۔۔۔۔ اسے سیدھا ہونے کی مہلت دیے بغیر کاشان نے اس کی کمر پر بیلٹ ماری اور غصے میں بیلٹ وہی پھینک کر بیڈروم سے باہر چلا گیا

آئینٹمینٹ نکال کر کاشان نے اپنی پاکٹ میں رکھی ہوئی گولڈ کی رینگ جیب سے نکالی دیوار پر ٹنگی ہوئی گھڑی میں ٹائم دیکھا اور اپنے بیڈروم کا رخ کیا

*****

درد سے رنعم کا پورا وجود پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا وہ بیڈ پر گٹری کی مانند لیٹی ہوئی رو رہی تھی خاموشی میں رنعم کے رونے کی آواز اس کی تکلیف کو بیان کر رہی تھی۔۔۔

اتنے میں بیڈروم کا دروازہ کھلا رنعم میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ مڑ کر آنے والے کو دیکھتی مگر اور کون ہو سکتا تھا بھلا کاشان کے سوا

“کیا ہوا زیادہ درد ہو رہا ہے دکھاؤ ذرا”

کاشان بیڈ پر اس کے قریب بیٹھتا ہوا فکرمندی سے پوچھنے لگا ساتھ ہی رنعم کی شرٹ کی زپ کھولی۔۔۔۔ اسکی کمر جا بجا لال نشانات سے بھری ہوئی تھی

“کون سا تمہیں مار کر مجھے خوشی ہوتی ہے آخر ایسی حرکتیں کرتی ہی کیوں ہو جو میرا ہاتھ اٹھے”

کاشان نرمی سے بولتا ہوا اس کی کمر پر موجود نشانات پر نرمی سے اپنی انگلیاں پھیر رہا تھا۔۔۔ رونا اب سسکیوں میں بدل چکا تھا کیوکہ اب رنعم کاشان کے ہونٹوں کا لمس ان نشانات پر محسوس کر رہی تھی جس سے اسے راحت کی بجائے مزید تکلیف ہو رہی تھی،،، مگر وہ چاہ کر بھی اسے ایسا کرنے سے روک نہیں سکتی تھی۔۔۔ کیوکہ وہ اس کا انجام جانتی تھی

“تمہیں ثوبی کو ہمارے بیڈروم کی باتیں نہیں بتانی چاہیے تھی جان، میاں بیوی کو تو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔۔۔ جانتی ہو اس بات کا مطلب۔۔۔ تم نے آج میرے بارے میں ثوبی کو بتا کر مجھے ہی اس کے سامنے بے لباس کر دیا،،، یہ اسی بات کی ایک چھوٹی سی سزا ہے تاکہ تم آئندہ احتیاط کرو”

کاشان نشانات پر آئینٹمینٹ لگاتا ہوا رنعم سے مخاطب ہوا

“جانتی ہو ناں تمہیں کتنا پیار کرتا ہوں میں۔۔۔ اس دنیا میں وہ تم ہی ہو جسے میں سب سے زیادہ چاہتا ہوں، زندگی مانتا ہو تمہیں اپنی”

کاشان رنعم کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا اپنی شرٹ اتارنے لگا

“کاشان آج نہیں پلیز۔۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے”

کاشان کی طلب کو سمجھتے ہوئے بے ساختہ رنعم کے منہ سے نکلا،، اس سے پہلے وہ اپنی بات پر پچھتاتی اس کی ریشمی زلفیں،، کاشان کی مٹھی میں تھی

“زور سے بولو مجھے آواز نہیں آئی”

کاشان مٹھی میں رنعم کے بالوں کو جکڑے ہوئے نرمی سے پوچھنے لگا

“نہیں۔۔۔ کچھ نہیں”

رنعم کو دوبارہ رونا آنے لگا۔۔۔ وہ رونے کے درمیان بولی

“شاباش اب چپ ہو جاؤ تمھارا رونا مجھے پریشان کر رہا ہے”

کاشان اس کے بالوں کو چھوڑ کر اس کے آنسو پونچھتا ہوا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر،، اس کی گردن پر جھگ چکا تھا۔۔۔

رنعم اس کی بات مانتے ہوئے اپنے آپ کو رونے سے باز رکھ رہی تھی مگر اس کے باوجود اپنی سسکیوں کو نہیں روک پا رہی تھی کمرہ ایک دفعہ پھر اس کی سسکیوں کی آواز سے گونج اٹھا مگر اسکی سسکیاں سننے والا اس کا شوہر اپنی ضرورت پوری کرنے میں مگن تھا

****

تھوڑی دیر پہلے ہی یسریٰ نے اسے زبردستی دودھ سے بھرا ہوا گلاس پلایا تھا جو سیرت نے بہت زیادہ نخرے دکھا کر اور منہ بنا کر ختم کیا تھا۔۔۔۔

ڈاکٹر فاطمہ نے اس کی ون ویک پریگنینسی بتائی تھی۔۔۔ اور آرلی پریگننسی کی وجہ سے بیڈ ریسٹ کے ساتھ بہت زیادہ احتیاط بھی بتائی تھی۔۔۔۔ یسریٰ نے خوشخبری سناتے ہوئے ثوبان کو گلے لگایا تو ثوبان نے یسریٰ کے چہرے پر کافی دنوں بعد خوشی دیکھی تھی۔۔ اس کے ہر عمل،، ہر انداز،، بات کرنے کے طریقے سے خوشی جھلک رہی تھی۔۔۔۔ اور خود ثوبان،، وہ کتنا زیادہ خوش تھا یہ خبر اس کے لئے بہت زیادہ معنی رکھتی تھی۔۔۔ اس نے جب سیرت کا چہرہ دیکھا تو اسے اپنی بیوی پر بہت پیار آیا۔۔۔ کتنا قیمتی اور انمول تحفہ کو اسے دینے والی تھی۔۔۔۔ ثوبان کی محبت لٹاتی نظروں کو دیکھ کر،،، سیرت نے مسکرا کر اپنی پلکیں جھکالی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے والی تلخ کلامی کا اثر ان کے درمیان،، اب کہیں ضائع ہوگیا تھا

یسری دودھ کا خالی گلاس لے کر اس کے بیڈ روم سے نکلی تو ثوبان بیڈ روم کے اندر داخل ہوا

سیرت اس کو دیکھ کر ایک بار پھر مسکرائی۔۔۔ ثوبان مسکراتا ہوا بیڈ پر اس کے قریب آیا

“آئی لو یو”

ثوبان جھک کر اس کی پیشانی کو چومتا ہوا بولا

“کیسا فیل کر رہے ہو”

سیرت نے اس کے چہرے سے چھلکتی ہوئی خوشی کو دیکھ کر اس سے سوال کیا

“اپنے آپ کو بہت لکّی فیل کر رہا ہوں یار۔۔۔۔ یہ میری زندگی کے خوبصورت لمحوں میں سے ایک لمحہ ہے۔۔۔ ویسے بہت چلاک ہو تم۔۔۔۔ اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین طریقہ ڈھونڈا ہے تم نے”

وہ اس کے نرم و ملائم گالوں پر اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا محبت سے سیرت کو دیکھ کر بولا تو سیرت مسکرا دی

“ایس۔پی ثوبان احمد اب آپ سے آپ کا سارا ٹائم مانگنے والا آنے والا ہے”

سیرت کے بولنے پر ثوبان نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر چوما

“آنے والا نہیں،،، آنے والی۔۔۔ مجھے تو پیاری سی بیٹی چاہیے۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہے میری زندگی میں چار عورتیں بہت زیادہ اہم رہی ہیں جنھیں میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پیار کیا ہے۔۔۔۔ پہلی میری ماں جنہوں نے مجھے جنم دیا۔۔۔ دوسری مما جنہوں نے امی کے جانے کے بعد بھی کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میری ماں اس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔ تیسری رنعم جس نے ہمیشہ مجھے بھائیوں کی طرح چاہا بھائیوں والا مان دیا،،، ہمیشہ خیال رکھا اور چوتھی”

سیرت لیٹی ہوئی مزے ثوبان کی بات سن رہی تھی مگر چوتھے نمبر کی باری آنے پر ثوبان تکیے پر اپنی کہنی ٹکا کر سیرت کے برابر میں لیٹتا ہوا مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا

“بتاؤ نا وہ چھوتھی ہستی کون ہے جو تمہیں پیاری ہے”

سیرت نے اس کو خاموش دیکھ کر بے قراری سے پوچھا سیرت کو معلوم تھا وہ اور کوئی نہیں ہے۔۔۔ ثوبان اسی کا نام لے گا مگر اپنا نام اسے ثوبان کے منہ سے سننے کا دل چاہنے لگا

“کرسٹین اسٹیورٹ۔۔۔بہت پسند ہے مجھے بلکے یوں سمجھو عشق ہے مجھے اس سے۔۔۔ ٹاپ کلاس ایکٹریس ہے میری نظر میں وہ”

ثوبان کی بات سن کر سیرت نے خونخوار نظروں سے ثوبان کو گھورا۔۔۔ جو اپنا نام سننے کی توقع کر رہی تھی اس کا شوہر کسی ہالی ووڈ کی چھچھوری کے قصیدے پڑھ رہا تھا

“بھاڑ میں جاو ثوبی۔۔۔ تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تم سے بات کی جائے”

سیرت تپتی ہوئی اس کے پاس سے اٹھنے لگی تو ثوبان نے اس کو بانہوں میں بھر کر واپس لیٹا دیا

“چھیڑ رہا تھا یار تمہیں”

ثوبان نے اس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا

“بس اسی کام کے لئے تو رہ گئی ہو میں۔۔۔ ہر وقت چھیڑتے رہا کرو۔۔۔ کیا تھا اگر میرا نام بھی لے لیتے”

سیرت گھورتے ہوئے ثوبان کو دیکھنے لگی

“چھیڑنے والا کام اگر میں باہر کروں گا تو پھر تمہیں پرابلم ہوگی۔۔۔ چوتھا اور کون ہو سکتا ہے تمہارے علاوہ،،، تم ہی تو تھی جس سے میں اپنی ہر پریشانی شیئر کرتا تھا۔۔ جس نے مجھے میرے برے حالات میں بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ تمہیں یاد ہے وہ دن جس دن تم بریانی لے کر آئی تھی۔۔۔ اس دن میں سارے دن کا بھوکا تھا”

ثوبان اس سے باتیں کرتے کرتے اپنے بچپن میں کھو گیا

“ہاہاہا وہ تو میں کسی کو بیوقوف بنانا کر لے کر آئی تھی لیکن آج بریانی میں نے تمہارے لئے اپنے ہاتھ سے بنائی تھی”

سیرت نے اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے اسے بتایا

“فاطمہ آنٹی بتا رہی تھی کہ تم کافی ویک ہو اپنے ڈائٹ پر دھیان دو۔ ۔۔ ہمارے بےبی کے لیے۔۔۔ مجھے ہیلدی بےبی کے ساتھ اس کی مما بھی بالکل فٹ چاہیے”

ثوبان اس کو بانہوں میں لئے کیئرینگ انداز میں بولا

“اب باری ہے رنعم کی۔۔۔ دیکھتے ہیں وہ گڈ نیوز کب سناتی ہے”

سیرت کے بولنے پر ثوبان کا دماغ بھٹک کر دوبارہ کاشان اور رنعم کی طرف چلا گیا وہ اپنی خوشی میں تھوڑی دیر کے لیے رنعم کے آنسو بھول گیا تھا

“انشاءاللہ جب اللہ پاک کو مناسب لگے”

ثوبان نے اپنا موبائل اٹھا کر رنم کا نمبر ملانے لگا تاکہ اس کی خیریت پوچھ لے

“بس اب اس موبائل میں مگن ہو جانا ادھر رکھو موبائل؛ اور مجھ سے باتیں کرو”

سیرت نے اس کا موبائل ہاتھ سے لیتے ہوئے اپنے پاس رکھا۔۔۔ ثوبان بھی کچھ کہے بغیر اپنی توجہ دوبارہ سیرت کی طرف مندمل کرنے لگا اور سوچا کہ وہ دوپہر میں رنعم کے پاس جائے گا

*****

اپنی طبیعت ڈل اور چال میں سستی محسوس کرنے کے باوجود رنعم نے اپنے کپڑے وارڈروب سے نکال کر بیگ میں ڈالنا شروع کیے۔۔۔ کل شام ثوبان کے جانے کے بعد جو کاشان نے اس کے ساتھ کیا۔۔۔ اس سے رنعم کی روح تک کانپ گئی تھی

کتنی بے دردی سے وہ اس کو بیلٹ سے مار رہا تھا۔۔۔ اپنے غصے کے آگے شاید اسے رنعم سے محبت بھول جاتی تھی یا غصہ اس کی محبت پر حاوی ہو جاتا تھا اور اس کے بعد کیا کیا۔۔۔ اپنی ضرورت کو تلافی کا نام دے کر وہ اس کی ذات کو روندھتا گیا۔۔۔

رنعم نے بیگ میں اپنے کپڑے رکھنے کے بعد ساری ضرورت کی چیزیں بیگ میں ڈالنا شروع کی وہ دوبارہ رات والا واقعہ سوچنے لگی

“آئندہ میں کبھی بھی ہم دونوں کی باتیں کسی دوسرے کے منہ سے نہ سنو۔۔۔۔ ورنہ محبت کے ساتھ ساتھ تم میرے غصے سے بھی واقف ہو”

رنعم پر چادر ڈال کر خود شرٹ پہنتے ہوئے وہ رنعم سے کہنے لگا۔۔۔۔ رنعم کی سسکیاں اب تھم گئی تھی

رنعم نے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے کل رات والی کاشان کی وارننگ کے بارے میں سوچا

“جاؤ شاباش شاور لےکر آو جب تک میں کھانا لگاتا ہوں” شرٹ پہننے کے بعد کاشان بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا تو رنعم بھی بیڈ سے اٹھنے کی ہمت کرنے لگی

“جب میں واپس آؤں تو مجھے میری ڈول ہنستی مسکراتی چائیے” رنعم کے بیڈ سے اٹھنے پر وہ رنعم کے قریب آکر اسکا چہرہ تھامے اسے نرمی سے کہتا ہوا روم سے باہر نکل گیا اور رنعم دونوں ہاتھوں سے اپنے ہونٹوں کو دبائے رونا روکنے لگی وہ اپنے نڈھال سے وجود کو واش روم لے کر چلی گئی

ایک دفعہ پھر کل رات والا منظر رنعم کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔۔ اس نے سارے گھر کے کھڑکیاں اور دروازے بند کیے اور اپنا بیگ لے کر لانچ میں آگئی اچانک اس کی نظر اپنے ہاتھ میں موجود رینگ پر پڑی ذہن ایک دفعہ پھر کل رات والے منظر میں گم ہونے لگا

“آنکھیں اتنی ریڈ کیوں ہو رہی ہے تمہاری۔۔۔ باتھ لیتے ہوئے روتی رہی ہو ناں تم”

رنعم جب واش روم سے نکلی تو کاشان کو بیڈ روم میں موجود پایا وہ اس کی آنکھوں کی سرخی کو دیکھ کر سوال اٹھانے لگا

“کاشان مجھے درد ہو رہا تھا”

رنعم نے بتاتے ہوئے مسکرانا چاہا کیوکہ اسے اپنی ڈول روتے ہوئے نہیں مسکراتے ہوئے چاہیے تھی مگر رنعم سے مسکرایا نہیں گیا۔۔۔ رنعم کی بات سن کر کاشان اس کے پاس آیا اور رنعم کو اپنے سینے سے لگایا

“یہ آخری دفعہ تھا رنعم۔۔۔۔ میں اس سے زیادہ سخت سزا تمہیں نہیں دے سکتا،، ڈول ہو تم میری مگر یہ سب ہمارے بیچ آخری دفعہ ہوا ہوں،، یہ کوشش تمہیں کرنی ہے۔۔۔ مجھے ایسا کر کے بالکل اچھا نہیں لگا۔۔۔۔ اس لیے اب تم کوشش کرنا ہمارے بیچ کی باتیں ہمارے بیچ میں ہی رہے۔۔۔ چلو بالوں کو برش کرو اپنے” کاشان اس کی سبز آنکھوں کو چومتے ہوئے کہنے لگا جو کہ رونے کی وجہ سے ریڈ ہو رہی تھی

رنعم اپنے بالوں پر برش پھیرنے لگی ڈریسر پر رکھا ہوا پرفیوم اٹھا کر کاشان رنعم پر چھڑکنے لگا اور گلوس اٹھا کر اس کے ہاتھوں میں تھمایا۔۔۔ رنعم بالوں کو برش کرنے کے بعد اپنے ہونٹوں پر گلوس لگانے لگی

“یہاں دیکھو اور اسمائل دو مجھے”

کاشان نے اس کے چہرے کو تھامتے ہوئے کہا تو رنعم کوشش کر کے بہت دقت سے مسکرائی کاشان اسکی انگلی پکڑ کر اپنے سینے پر R لکھنے لگا اس کو اسمائل دے کر دوبارہ اپنے سینے سے لگایا

“میں تم پر اعتبار کرنا چاہتا ہو رنعم،، اسلیے کے میں تم سے بہت محبت کرتا ہو۔۔۔ مجھے معلوم ہے ابھی ہمارے بیچ کچھ ٹھیک نہیں چل رہا،،، مگر جب تم مجھے سمجھو گی۔۔۔ مجھے اپنا اعتبار دو گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ میں ثوبی کو بھی منالو گا مجھے معلوم ہے بھائی ہے وہ میرا،،، مجھ سے زیادہ وہ مجھے پیار کرتا ہے۔۔۔ ناراض تھوڑی رہ سکتا ہے مجھ سے زیادہ دیر تک۔۔۔۔ میرے پاس تم دونوں ہی تو ہو ناں جان،،، اور تم تو میری زندگی ہو تمہاری آنکھوں میں اپنی محبت اور تمہیں اپنے قریب دیکھ کر ہی تو جیتا ہو میں،،، سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا،،، میں سب کچھ ٹھیک کردو گا۔۔۔ ثوبی کو بھی منالو گا تمہیں بھی ہمیشہ ایسے ہی اپنے سینے سے لگا کر رکھو گا۔۔۔ چلو ڈنر ریڈی ہے ڈنر کرنے بعد یا تو لونگ ڈرائیو پر چلے گے یا کوئی اچھی سی مووی دیکھیں گے جو تم کہو گی وہ کریں گے۔۔۔۔ اب اپنی ڈول کے ساتھ کچھ زبردستی نہیں، ،،، جب تم ایگری ہو تمہارا موڈ ہو تب۔ ۔۔۔ اوکے”

کاشان بولنے کے ساتھ اسے بیڈروم سے لے گیا

کھانا کھانے کے بعد کاشان نے اس کو رینگ پہنائی جو کہ وہ آج ہی اس کے لیے خرید کر لایا تھا،،، کھانا کھانے سے لے کر سونے تک وہ اپنی ڈول کو مختلف طریقوں سے اپنے پیار کا احساس دلانے لگا جس پر رنعم کو اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھنا تھی

ایک بار پھر رنعم حال میں واپس آئی ہاتھ کی انگلی میں موجود رینگ اتار کر اس نے ٹیبل پر رکھی اور گھر اور وارڈروب کی چابیاں بھی۔۔ ایک نظر پورے گھر کو دیکھ کر اس نے اپنا بیگ اٹھایا۔۔۔ کاشان کے ساتھ ساتھ اسے اس گھر سے بھی محبت تھی مگر جیسے محبت ہونے کے باوجود وہ اب کاشان کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی بالکل اسی طرح اس گھر کی عادت ہونے کے باوجود وہ اس گھر میں بھی نہیں رہ سکتی تھی رنعم نے انکھوں میں آئے آنسووں کو بےدردی سے پونچھا

اسے صرف کاشان سے اعتبار چاہیے تھا مگر کل رات کاشان نے ہاتھ اٹھا کر اس پر ثابت کردیا کہ وہ اس پر اعتبار نہیں کرتا۔۔۔ اور رنعم اب اسے دوبارہ سے اعتبار نہیں دلا سکتی تھی کیوکہ کاشان ہر بار اس پر ہاتھ اٹھاتا اور پھر زبردستی اس کا احساس کیے بناء۔۔۔۔ رنعم اپنا بیگ اٹھا کر گھر سے باہر نکل گئی