504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 52)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

رات کو ثوبان یسریٰ کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آیا بیڈ کر لیٹنے کے چند منٹ بعد ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔ جب سیرت روم میں آئی تو اس نے ثوبان کو سوتا ہوا دیکھا۔۔۔ سیرت کو اس پر ترس آنے لگا،،، کل ہی تو ان دونوں کو کتنی بڑی خوشی کی خبر ملی تھی۔۔۔ ثوبان اور وہ کتنے خوش تھے مگر آج یوں رنعم کی حالت دیکھ کر ثوبان کے ساتھ ساتھ سیرت کا بھی دل اداس ہونے لگا۔۔۔ سیرت نے آگے بڑھ کر اے۔ سی آن کیا اور کمرے کی لائٹ آف کی ثوبان کا موبائل سائلینٹ کیا اور خود بھی اس کے برابر میں لیٹ گئی

****

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ثوبان کو معلوم ہوا تھا کہ کاشان بیل پر لاک اپ سے چھوٹ گیا ہے۔۔۔ یہ خبر اس نے ناشتے کی ٹیبل پر یسریٰ کو تب بتائی جب اس نے ثوبان سے اسرار کیا کہ وہ کاشان کو چھوڑ دے۔۔۔ اس کے خیال میں گھر کے معاملات کو گھر کی حد تک رکھنا مناسب تھا اسطرح سے اشتہار لگانا صرف جگ ہنسائی کا سبب بنتا

اس وقت چاروں کی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے ناشتہ کر رہے تھے رنعم کو ثوبان خود ناشتے کی ٹیبل پر لے کر آیا کیوکہ اس کا ناشتے کا موڈ نہیں ہورہا تھا وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر ناشتہ کروا رہا تھا اور بار بار سیرت کو بھی صحیح سے ناشتہ کرنے کا کہہ رہا تھا کیوکہ کھانے پینے میں وہ شروع سے ہی نخرے دکھاتی تھی،،، اس وقت بھی ثوبان کے تیسری بار ٹوکنے پر وہ منہ بنا کر دودھ سے بھرے گلاس کے چھوٹے چھوٹے سپ لے رہی تھی جبکہ ثوبان کی خالی پلیٹ میں یسریٰ کچھ نہ کچھ ڈال رہی تھی اور اسے بھی ناشتہ کرنے کا کہہ رہی تھی

ثوبان کو گھر میں سب کا خیال رکھتے دیکھ کر یسریٰ کو ثوبان کا خیال رکھنا پڑتا وہ اس کی صحت کی فکر کرنے لگتی ویسے بھی اب گھر میں ایک وہی مرد تھا۔۔۔ ان لوگوں کے سر پر،،، اس وجہ سے یسریٰ کی اور بھی زیادہ ثوبان کی طرف سے فکر مند رہتی۔۔۔ ثوبان یسریٰ کو اپنے لیے ہلکان اور پریشان دیکھ کر جلد گھر آنے کی کوشش کرتا۔۔۔ شو روم کا بھی اس نے کافی دنوں سے چکر نہیں لگایا تھا

“سیرت چار بجے ریڈی رہنا ڈاکٹر سے اپوائنمنٹ لیا ہے تمہارا اور رنعم ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد یشعل کو یہاں پر بلا لینا اور اب اپنی اسٹیڈیز دوبارہ سے کنٹینیو کرو،، گھر میں بیکار بیٹھے رہنے سے یہی بہتر ہے”

ثوبان اس وقت یونیفارم میں موجود تھا ناشتہ کرنے کے بعد وہ پولیس اسٹیشن جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس سے پہلے وہ سیرت اور رنعم سے مخاطب ہوا

اس کی بات سن کر سیرت نے تابعداری سے سر ہلایا جبکہ رنعم سوچنے لگ گئی اب وہ چاہ کر بھی اسٹڈیز کمپلیٹ نہیں کر سکتی تھی اس نے شادی کے بعد کاشان سے اپنی اسٹڈیز کا ذکر کیا تھا مگر اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ جب تک پڑھ سکتی ہے جب تک کنسیف نہیں کر لیتی کیوکہ بچے کے آنے کے بعد اسے پورا ٹائم بچے کو ہی دینا ہوگا۔۔۔ اس کا بچہ دوسروں کے ہاتھوں پلے یا اس کے لیے گورنس کا انتظام کیا جائے یہ بات کاشان کو پسند نہیں تھی۔۔۔ اس لیے رنعم نے میں کچھ کنسیو کرنے سے پہلے ہی یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا تھا،،، اور رنعم کے یوں اسٹیڈیز چھوڑنے پر تھوڑا سا ثوبان نے اعتراض بھی کیا تھا جبکہ دوسری طرف کاشان نے کوئی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا

ابھی وہ لوگ ناشتے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ کاشان ہال میں آتا ہوا دکھائی دیا

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں پر آنے کی”

ثوبان کی جیسے ہی گھر میں داخل ہوتے کاشان پر نظر پڑی وہ پچھڑے ہوئے شیر کی طرح اس پر جھپٹا اس کے پاس پہنچ کر ایک زوردار مُکا کاشان کے گال پر جڑ دیا مگر دوسری بار مُکا مارنے پر کاشان نے زور سے اس کا ہاتھ پکڑا

“دوبارہ یہ غلطی مت کرنا ثوبی، ورنہ اب کی بار میرا بھی ہاتھ اٹھ جائے گا”

کاشان اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے غصے میں بولا یسریٰ، رنعم، سیرت تینوں شاک کی کیفیت میں کھڑی دونوں بھائیوں کو لڑتا ہوا دیکھ رہی تھی

“ابھی اور اسی وقت اس گھر سے نکل جاؤ تم”

ثوبان نے شہادت کی انگلی سے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

“میں یہاں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں رنعم چلو میرے ساتھ”

کاشان ثوبان کو بولتا ہوا اب رنعم سے مخاطب ہوا۔۔۔ وہ سانس روکے کھڑی تھی

“اس کی طرف غلطی سے بھی آنکھ اٹھا کر مت دیکھنا کاشی۔۔۔ وہ اب تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی”

ثوبان نے اسے سختی سے وارن کیا

“بیوی ہے یہ میری دیکھتا ہوں کیسے نہیں جائے گی”

کاشان ثوبان کو گھورتا ہوا بولا اور رنعم کی طرف بڑھا وہی ثوبان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔ کاشان نے ہاتھ کی مٹھی کا مُکا بنایا اس سے پہلے وہ ثوبان کے منہ پر مارتا۔۔۔ یسریٰ بول اٹھی

“رکو کاشان،،، خبردار جو تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔ یوں بات بات پر ہاتھ اٹھانا کوئی فخر کا کام نہیں۔۔۔۔ ثوبان تم بھی ہاتھ چھوڑو اس کا۔۔۔ کاشان یہاں آ کر بیٹھو بات کرنی ہے مجھے تم سے”

یسریٰ کے کہنے پر ثوبان نے کاشان کا ہاتھ چھوڑا کاشان ماتھے پر شکنیں لائے ثوبان کو غصے میں دیکھا اسے ثوبان پر اور بھی غصہ تھا ایک تو کل وہ اسکی وجہ سے پانچ گھنٹے لاک اپ میں بند رہا اور اب اسے صاف لگ رہا تھا وہ رنعم کو اس کے ساتھ جانے نہیں دے گا۔۔۔

“میں یہاں بیٹھنے نہیں آیا ہوں آنٹی، رنعم کو لینے آیا ہوں آپ بولئیے جو آپ کو بولنا ہے میں آپ کی بات سن رہا ہوں”

کاشان کے لہجے میں بھلے ہی سنجیدگی تھی مگر احترام بھی شامل تھا کچھ بھی تھا وہ یسریٰ کا لحاظ کرتا تھا اور عزت بھی مگر یسریٰ کو مخاطب کرنے کے بعد اس نے رنعم پر سخت نگاہ ضرور ڈالی آخر کیسے وہ اپنے سارے کپڑے ساتھ لاکر اسکو اور اس کے گھر چھوڑ سکتی تھی کاشان کو رنعم پر بہت غصہ تھا مگر فی الحال وہ اسے اس وقت اپنے ساتھ لے جانے کے ارادے سے آیا

“ایسی باتیں کھڑے ہو کر نہیں کی جاتی صوفے پر بیٹھو اور ثوبان تم بھی یہاں بیٹھو”

یسریٰ نے ان دونوں کو صوفے کی طرف اشارہ کیا اور خود بھی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ کاشان صوفے پر بیٹھا،،، کڑے تیوروں کے ساتھ ثوبان بھی سر جھٹک کر یسریٰ کی بات ماننے پر مجبور تھا تبھی آکر وہ بھی صوفے پر بیٹھا۔۔۔ یسریٰ نے رنعم کو اشارے سے بلایا۔ ۔۔۔ سیرت اور رنعم دونوں آکر بیٹھ گئی

“غلام بخش اور شاہدہ تم دونوں اپنے کوارٹر میں جاو جب کوئی کام ہوگا تو بلا لیا جائے گا” یسریٰ نے گھر کے نوکروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

“کیا مقصد ہے تمہارا اس طرح بنا اجازت کے اپنا سب سامان لے کر یہاں پر آنے کا”

کاشان رنعم کو گھورتا ہوا پوچھنے لگا جبکہ رنعم کے ساتھ ساتھ سیرت کو بھی اس ڈھٹائی پر حیرت ہوئی اور ثوبان کو غصہ آیا جبھی وہ بول اٹھا

“تمہیں اس کا سب سامان لے کر یہاں پر آنے کا مقصد سمجھ میں نہیں آ رہا،، اس سے مت پوچھو میں سمجھا دیتا ہوں تمہیں اس بات کا مطلب،، نہیں رہنا چاہتی اب وہ تمہارے ساتھ”

ثوبان اسکو دیکھ کر تیز لہجے میں بولا

“ثوبان ایک منٹ بیٹا مجھے اس سے بات کرنے دو۔۔۔۔ اور کاشان تم رنعم سے کوئی بھی بات بعد میں پوچھنا پہلے تم میری بات کا جواب دو”

چند منٹ کی خاموشی کے بعد یسریٰ دوبارہ بولی

“کاشان تم نے رنعم کے ساتھ ایسا کیوں کیا۔۔۔ میں نے یہ بات رنعم سے ابھی تک نہیں پوچھی بلکہ میں تم سے پوچھنا چاہو گی آخر اس نے ایسی کون سی غلطی کی تھی جس کی وجہ سے تم نے اتنی بےدردی سے اس کو مارا کہ اس کی بہن وہ نشان دے کر رو پڑی۔۔۔ میں تو ماں ہوں شاید دیکھ بھی نہ پاؤ ان نشانات کو۔۔۔ کاشان بتاؤ مجھے اس کا کیا جرم تھا”

یسریٰ نے بات کرتے ہوئے بہت حد تک اپنے آپ کو رونے سے روکا مگر سامنے بیٹھے ہوئے کاشان کو آج پہلی دفعہ یسریٰ کے سامنے شرمندگی ہوئی

“آنٹی میں رنعم کے ساتھ ایسے نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ مگر میں غصے میں اپنے آپ پر قابو نہیں کر پایا کیوکہ اس نے میرے منع کرنے کے باوجود ثوبان سے ہماری باتیں شیئر کی۔۔۔ میں نے اسے بہت پیار سے سمجھایا تھا کہ یہ باتیں ہم دونوں کے درمیان رہنی چاہیے”

کاشان نے بولنا شروع کیا مگر ثوبان نے اسے وہی ٹوکا

“شیرا کے متعلق اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا تھا۔۔۔ رنعم کا بریسلیٹ وہاں پر پایا گیا۔۔۔۔ تو میں نے اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ شیرا کی حالت کی ذمہ دار تم ہو”

ثوبان نے ان تینوں کا لحاظ کرتے ہوئے، کاشان کو کوئی سخت الفاظ کہنے سے اپنے آپ کو باز رکھا

رنعم نے کل رات ہی ثوبان کو،، پرسوں والے دن ثوبان کے جانے کے بعد کی بات بتائی کہ کس وجہ سے کاشان نے اسے بیلٹ سے مارا۔۔ اس سے آگے کی بات تو وہ سیرت کو بھی نہیں بتا پائی تھی اور ثوبان رنعم کی بات سن کر اپنا سر تھام کر بیٹھ گیا تھا

اس وقت ثوبان کے منہ سے یہ انکشاف سن کر کہ رنعم نے شیرا کے متعلق اسے کچھ نہیں بتایا کاشان ہکا بکا رہ گیا یعنی اس نے رنعم کی غلطی نہ ہونے کے باوجود اسے کتنی بری طرح اس بات کی سزا دی۔۔۔ کاشان نے بے ساختہ رنعم کی طرف دیکھا وہ سبز آنکھوں میں ہزار شکوے لیے کاشان کو ہی دیکھ رہی تھی کاشان رنعم سے نظریں چرا گیا

“سوری مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا اس بات کا۔۔۔ یہ بات میرے اور رنعم کے بیچ میں تھی، مجھے لگا ثوبی کو اگر یہ بات معلوم ہے تو یقیناً اسے رنعم نے بتائی ہوگی”

کاشان اپنی نظریں نیچے جھکائے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے لگا

“اور تم نے اس کے بدلے میری بیٹی کو جانوروں کی طرح پیٹنا شروع کر دیا کاشان،،، تمہارا دل نہیں دکھا اس پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے۔۔۔ میں نے رنعم سے تمہاری شادی یہ سمجھ کر کی تھی کہ تم رنعم کو پسند کرتے ہو تو اس کی قدر بھی کرو گے۔۔۔ اسے اپنے نام کے ساتھ ساتھ عزت بھی دوگے۔۔۔ آج مجھے سمجھ میں آرہا ہے لوگ کیوں بیٹیوں کے پیدا ہونے سے خوف کھاتے ہیں،، انہیں بیٹی کے پیدا ہونے کا ڈر نہیں ہوتا بلکہ ان کے برے نصیب سے خوف آتا ہے”

یسریٰ اب اپنے آپ کو رونے سے روک نہیں پائی۔۔۔ یسریٰ کے ساتھ ساتھ سیرت اور رنعم کی آنکھیں بھی اشکبار تھی ثوبان اپنے آپ کو ضبط کیے بیٹھا تھا جب کہ کاشان کا سر مزید جھگ گیا

“کاشان جب پرسوں تم نے رنعم کو مارا ہوگا اس نے تمہیں اپنی بے گناہی کے بارے بتایا تو ہوگا ناں۔۔۔۔ تمہیں اس پر ذرا یقین نہیں آیا،، وہ بیوی ہے تمہاری تمہیں اپنی بیوی پر اعتبار نہیں۔۔۔ میرے خیال میں اگر کوئی بھی شخص تمہیں آ کر یہ کہہ دے کہ فلاں انسان کے ساتھ تمہاری بیوی کو میں نے دیکھا ہے۔۔۔ تم تو رنعم سے کچھ بھی پوچھے بغیر اسے مار ڈالو گے”

یسریٰ کے بولنے پر کاشان تڑپ اٹھا اس نے ایک دم سے نظریں اٹھا کر یسریٰ کا آنسو سے تر چہرہ دیکھا

“آنٹی پلیز۔۔۔ اس طرح مت بولیں میں اپنے کیے پر آج واقعی شرمندہ ہوں،، میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔ آئندہ کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا” کاشان اٹھ کر یسریٰ کے پاس آتا ہوا بولا تو یسریٰ اس کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی

“کاشان میں نے کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا ہمیشہ کوشش کی کہ میری ذات سے بھی کسی دوسرے سے تکلیف نہ پہنچے لیکن پھر بھی میری بیٹی کی قسمت۔۔۔ اگر میں تم سے سہی بات کرو میرا دل اندر سے بالکل نہیں چاہ رہا کہ میں اس وقت تمہیں معاف کر دو لیکن اگر تمہیں رنعم معاف معاف کرتی ہے تو بے شک اسے لے جاؤ اپنے ساتھ” یسریٰ کاشان کو بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ کاشان نے لمبا سانس کھینچ کر رنعم کو دیکھا،،، وہ اپنا سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔ کاشان نے اس کی طرف قدم بڑھایا ویسے ہی ثوبان صوفے سے اٹھا

“ایک منٹ ثوبی مجھے رنعم سے بات کرنی ہے”

کاشان نے اسے سخت تیورں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ سیرت نے ثوبان کو آنکھوں کے اشارے سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا،۔۔۔ کاشان رنعم کے پاس آیا اور اسے کندھوں سے تھام کر اٹھایا

“آیم سوری میں نے غصے میں آکر کافی زیادتی کی ہے تمہارے ساتھ بلکہ اکثر کر جاتا ہوں،،، مجھے اس وقت تمہاری بات سننی چاہیے تھی تم پر اعتبار کرنا چاہیے تھا۔۔ میں واقعی بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ رنعم پلیز اپنے گھر چلو میں تمہیں لینے آیا ہوں،،، آئندہ آگے سے کوئی بات ایسی نہیں ہوگی بس تم اس وقت میرے ساتھ چلو پلیز”

کاشان رنعم کو کندھوں سے تھاما ہوا نرم لہجے میں بول رہا تھا،، کاشان کی بات سن کر بے اختیار رنعم نے ثوبان کی طرف دیکھا جو چہرے پر غصہ اثار لیے کاشان کو گھور رہا تھا۔۔۔ رنعم کو ثوبان کی طرف دیکھنے پر کاشان نے رنعم کے گال پر ہاتھ رکھ کر اس کے چہرے کا رخ دوبارہ اپنی طرف کیا

“نہیں اس کی طرف مت دیکھو،، یہاں مجھے دیکھو پلیز۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہے نا مجھ سے تمہارے بغیر نہیں رہا جائے گا اسی وجہ سے تو میں تمہیں یہاں نہیں رکنے دیتا،،،، مجھے اچھا لگتا ہے اپنے گھر میں اپنی بیوی کی موجودگی کا احساس،،،، کل سے یہاں رکی ہوئی ہو تم، بس اتنا کافی ہے۔۔۔۔ اگر تمہیں ناراض بھی رہنا ہے تو بےشک ناراض رہو مگر ابھی میرے ساتھ گھر چلو پلیز”

کاشان لہجے میں نرمی لائے رنعم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ چلنے کا اسرار کرنے لگا

“وہ اب تمہارے ساتھ کہی بھی نہیں جائے گی کاشی اس کا ہاتھ چھوڑ دو”

ثوبان کاشان کو دیکھتے ہوئے بولا

“تم اس کے اور میرے معاملے میں کچھ مت بولو ثوبی۔۔۔ میں تمھیں کافی دیر سے برداشت کر رہا ہوں لیکن اب تم میری بیوی اور میرے بیچ میں کچھ بھی بولے تو میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ چلو رنعم”

کاشان ثوبان کو خونخوار نظروں سے دیکھتا ہوا بولا اور رنعم کا ہاتھ کھینچ کر لے جانے لگا۔ ۔۔۔مگر جب رنعم اپنی جگہ سے نہیں ہلی تو کاشان نے پلٹ کر رنعم کو دیکھا

“میں آپ کے ساتھ اب واپس نہیں جانا چاہتی کاشان آپ میرا ہاتھ چھوڑ دیں”

رنعم کاشان کو دیکھ کر بولنے لگی کاشان نے حیرت سے رنعم کو دیکھا

“سنائی نہیں دے رہا وہ کیا بول رہی ہے چھوڑو اس کا ہاتھ” ثوبان کاشان کے قریب آکر کاشان کے ہاتھ سے رنعم کا ہاتھ چھڑاتا ہوا بولا

“تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے تم جان بوجھ کر اسے میرے ساتھ نہیں بھیج رہے۔۔۔ تمہیں اس کے لیے میری فیلنگز کا اندازہ ہے پھر بھی تم ایسا کر رہے ہو میرے ساتھ”

کاشان ثوبان کا گریبان پکڑ کر غصے میں چیختا ہوا بولا تو ثوبان نے بھی اس کا گریبان پکڑ لیا

“بھیا پلیز چھوڑ دیجئے،،، کاشان نہیں پلیز”

رنعم ان دونوں کے غصے کو دیکھ کر گھبرا گئی وہ ثوبان کا بازو تھامے مسلسل روتے ہوئے اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولنے لگی۔۔۔ دوسری طرف سیرت بھی اٹھ کر ان دونوں کے قریب آئی

“کاشی چھوڑ دو ثوبی کو،، رنعم نہیں جانا چاہتی تمہارے ساتھ تمہیں سمجھ نہیں آرہا”

سیرت نے کاشان کے ہاتھ پکڑ کر ثوبان کے گریبان سے ہٹانے چاہے۔۔۔ شور شرابے کی آواز سن کر یسریٰ بھی اپنے کمرے سے باہر نکل گئی اور ہال میں موجود منظر دیکھ کر وہ بھی ان کی طرف بڑھی

“ہاں جان بوجھ کر کر رہا ہوں، میں تم جیسے حیوان کے حوالے اب اپنی بہن نہیں کروں گا” ثوبان چیختا ہوا بولا اس کی بات سن کر کاشان کو مزید غصہ آیا اس نے اپنے ہاتھ سیرت کے ہاتھوں سے چھڑانے کے چکر میں بےدھیانی میں اسے پیچھے دھکا دیا۔۔۔۔

اب وہ ثوبان پر ہاتھ اٹھانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس سے پہلے سیرت کی زوردار چیخ نے نہ صرف اسے پیچھے پلٹنے پر مجبور کیا بلکہ ثوبان اور رنعم کے ساتھ یسریٰ بھی سیرت کی طرف بڑھی