Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 24)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“رعنم روتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے روم میں آئی اور بیڈ پر لیٹ کر رونے لگی۔۔۔ دو سے تین منٹ ہی گزرے تھے جو اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور کاشان کمرے کے اندر داخل ہوا کمرے کا دروازہ بند کر دے وہ بیڈ پر اس کے قریب آیا اور اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
“میری ایک دفعہ کی بات تمہارے بھیجے میں نہیں اترتی، جب میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے روم میں جاؤ تو کیوں کھڑی تھی وہاں پر۔۔۔۔ آئندہ اگر تم نے ایک دفعہ کی کہی میری بات نہیں مانی تو دیکھنا پھر میں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ”
کاشان کے ہاتھوں اور لہجے کی سختی وہ اندر تک محسوس کر کے سسک اٹھی
“آپ میرے ساتھ اس طرح کیسے۔۔۔۔”
رنعم نے اپنا پورا جملہ مکمل بھی نہیں کہ کاشان نے اس کا بازو چھوڑ کر وہی ہاتھ اس کی گردن پر رکھا
“خاموش،،، جب میں بات کر رہا ہوں تمہاری آواز بالکل نہیں نکلنی چاہیے” ایک ہاتھ سے گردن پکڑتا ہوا دوسرے ہاتھ اسکی کمر کے باندھ باندھ کر وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔۔۔۔ رنعم اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں سے اس کی شرٹ جکڑے ہوئے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
“سمجھ میں آ رہی ہے میری بات”
گردن پر ہلکا سا دباؤ ڈال کر اس نے رنعم سے پوچھا تو خوف کی شدت سے رنعم کی سبز آنکھوں سے آنسو روا ہوئے اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا تو کاشان نے اس کی گردن سے اپنا ہاتھ ہٹایا رنعم نے بھی اسکی شرٹ چھوڑی اور آنسو صاف کرکے شکوہ کناں نظر اس پر ڈالی،،، کاشان نے اس کی کمر سے ہاتھ ہٹایا تو رنعم پیچھے ہٹی
“بہت نازک سی ڈول ہو تم ذرا سی سختی برداشت نہیں فوراً انسو نکل آئے تمھارے”
وہ نرمی سے کہتا ہوا رنعم کے بازو پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا ابھی وہ کاشان کی رویہ ہے جی بھر کے حیران بھی نہیں ہو پائی تھی تو کاشان کے دوسرا عمل اسے مزید پریشان کر گیا
“آپ پلیز اس طرح مت کریں”
رنعم کو دوبارہ رونا آنے لگا وہ التجائی انداز اختیار کرتے ہوئے اس سے بولی
“کیسے نہیں کرو” کاشان رنعم کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھتا ہوا اس کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ سے ہلکا سا دباؤ ڈالتا ہوا پوچھنے لگا رنعم سے آگے کچھ بولا نہیں گیا وہ خاموش نظروں سے اس کے ہاتھوں کو دیکھنے لگی اب کاشان نے اس کے دونوں شانوں کو تھاما ہوا تھا
“کیوں اچھا نہیں لگ رہا تمہیں میرا چھونا۔۔۔۔۔ جب عاشر تمہارے بازوں کو نظر بھر بھر کے دیکھ رہا تھا تب تمہیں اعتراض کیوں نہیں ہوا”
کاشان نے اسے شانوں سے پکڑ کر پیچھے بیڈ کر دھکا دیتے ہوئے بولا رنعم اس کے الزام پر تڑپ اٹھی
“عاشر بھائی ایسے نہیں۔۔۔۔
“ششش بالکل خاموش۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے کیا کہا میں نے،، جب میں بات کر رہا ہوں تمہاری آواز نہیں نکلنی چاہیے”
وہ اپنی اور عاشر کی صفائی کاشان کو دینا چاہتی تھی تب کاشان بیڈ پر اپنا ایک گھٹنا ٹکائے رنعم کے دائیں بائیں جانب اپنے دونوں ہاتھ بیڈ پر رکھتا ہوا بولا۔ ۔۔۔ کاشان کے اس انداز پر رنعم کی زبان تالو سے چپک گئی۔۔۔
رنعم کی سبز آنکھیں خوف لیے کاشان کو دیکھ رہی تھی اور وہ اسے غصے میں گھور رہا تھا
رنعم کا سارا خون خوف سے خشک ہونے لگا تب وہ اپنی دو انگلیوں سے کنپٹی کو دباتا ہوا بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا سہمے ہوئے وجود پر ایک نظر ڈال کر اس کے کمرے سے نکل گیا
****
کاشان رنعم کے روم سے باہر نکلا تو یسریٰ اور فرح اسے اپنے بیڈروم سے نکلتی ہوئی دکھائی دی
“کاشان آفس سے کب آئے تم”
یسریٰ کاشان کو رنعم کے کمرے سے باہر نکلتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگی
“دس منٹ پہلے ہی آیا ہوں۔۔۔۔ سوچا رنعم کی طبیعت پوچھ لو،،، ہلکا سا بخار تھا اسے،، ابھی ڈوس دی ہے تھوڑی دیر میں سیٹ ہو جائے گی۔۔۔ آپ بتائیں آپ کی طبیعت کیسی ہے”
فرح کو سلام کر کے اب وہ یسریٰ کا حال احوال پوچھنے لگا
“اب میری طعبیت کافی بہتر ہے ثوبان کا فون آیا تھا کہہ رہا تھا ایک گھنٹے بعد بہروز کو لے کر آنے والا ہے۔۔۔ نیچے والا روم سیٹ کروا دوں بہروز کے لیے”
یسریٰ پریشان ہوتی ہوئی اسے بتانے لگی
“ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ثوبی،،، چند دن لگے گیں انکل کی کنڈیشن کو اسٹیبل ہونے میں تب تک آپ اور انکل نیچے روم میں شفٹ ہو جائیں،، پرابلم کیا ہے اس میں ۔۔۔۔۔ آپ بالکل فکر نہیں کریں ماشاءاللہ انکل کی ول پاور اچھی ہے وہ جلدی ریکور کرلیں گے”
کاشان یسریٰ کو تسلی دیتے ہوئے کہنے لگا
“تم اور ثوبان نہیں ہوتے تو معلوم نہیں کیا ہوتا ہمارا”
یسریٰ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی،، کل سے وہ کاشان کو بھی بھاگ دوڑ کرتا ہوا دیکھ رہی تھی
“کیسی غیروں جیسی باتیں کر رہی ہیں آنٹی آپ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف آپ ہم دونوں کو اپنا بیٹا کہتی ہیں اور پھر گھر کے ممبرز ایک دوسرے کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا بھلا گھر کے باہر سے تو کوئی آنے سے رہا” کاشان مسکراتا ہوا یسریٰ سے کہنے لگا آخری بات پر اس نے سرسری نگاہ فرح پر ڈالی جسے فرح نے اچھی طرح محسوس کی
“سر کیوں دبا رہے ہو بار بار اس طرح، طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”
کاشان کو انگلی سے کنپٹی دباتے ہوئے دیکھ کر یسریٰ نے فکر مندی سے پوچھا
“دوپہر سے ہی ہلکا سا پین ہو رہا ہے خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ جائیں آپ انکل کے لئے روم سیٹ کروا دیں” کاشان بولتا ہوا سیڑھیوں سے اترنے لگا
“تم اپنے روم میں جاؤ میں چائے بجھواتی ہوں تھوڑی دیر ریسٹ کرلو۔ ۔۔۔ ثوبان اور بہروز آجائے گیں تو تمہیں بلوا لوگی”
یسریٰ کے کہنے پر وہ یسریٰ کو اسمائل دیتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا
“کافی تیز لگتا ہے مجھے یہ لڑکا”
کاشان کے جاتے ہی فرح نے اپنا اظہار خیال پیش کیا
“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ باجی، بالکل سگی اولادوں کی طرح کل سے خیال رکھا ہے دونوں نے بہروز کا بھی اور اس گھر کا بھی۔۔۔۔ ثوبان تو چلو ہمارے ساتھ رہا ہے اس کا پریشان ہونا، اس طرح فکر کرنا سمجھ میں آتا ہے مگر کاشان کو تو چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ ۔۔۔ کل شام سے ہی گھن چکر بنا ہوا ہے،، کبھی گھر میں، تو کبھی اسپتال میں، تو کبھی آفس میں۔۔۔ میرے دل میں ثوبان کی طرح جگہ بنانے لگا ہے کاشان بھی”
فرح کی بات سن کر یسریٰ نے اسے جواب دیا تو وہ چپ ہوگئی
“مجھ سے عاشر نے بھی کہا تھا خالہ اور رنعم اکیلا محسوس نہ کریں میں چند دنوں کی افس سے چھٹیاں لے کر ان کے پاس رک جاتا ہوں اور ہاں یاد آیا بہروز بھائی کا شوروم تو اب جانا نہیں ہوگا۔۔۔۔ تو میں عاشر کو کہوں گی تم چھٹیاں لے کر یہی رک جاؤ اور شوروم دیکھ لیا کرو”
فرح نے اپنی طرف سے پوری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بہن سے کہا
“نہیں باجی میں بھلا کیوں اکیلا محسوس کرنے لگی ثوبان ہے تو میرے پاس،، دیکھیں ابھی تک گھر میں قدم نہیں رکھا کیوکہ اس کے بابا جو موجود نہیں گھر پر اور اب کاشان بھی تو ہے۔۔۔ عاشر کی ابھی نئی جاب ہے اس طرح چھٹیاں کرنے سے اس کی پروگریس پر اچھا اثر نہیں پڑے گا شوروم کا کیا ہے وہ تو ثوبان یا کاشان میں سے کوئی بھی چکر لگا لے گا،،، عاشر کو آپ کوئی تکلیف نہیں دیجئے گا ورنہ غفران بھائی ناراض ہوں گے”
یسریٰ نے سہولت سے جواب دیا اور نیچے اتر کر بہروز کا اور اپنے روم سیٹ کروانے لگی
*****
تھوڑی دیر بعد ثوبان بہروز کو اپنے ساتھ گھر لے آیا عاشر کی مدد سے اسے نیچے بیڈ روم میں بیڈ پر بٹھایا یسریٰ اور رنعم کے رونے سے ماحول میں ایک دم افسردگی چھا گئی فرح یسریٰ کو چپ کرانے لگی جبکہ ثوبان رنعم کو پیار سے سمجھانے لگا کہ بابا جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔۔ رنعم بیڈ پر بہروز کے برابر میں ہی بیٹھ گئی فرح اور عاشر ایک صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ثوبان یسریٰ کے برابر میں آگر یسریٰ کے پاس بیٹھا اب وہ یسریٰ کا ہاتھ تھامے اس کی طبیعت پوچھ رہا تھا
کاشان بھی اپنے روم سے آیا اور بہروز کی طبیعت پوچھ کر سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ دو سے تین منٹ بعد اس کی نظر رنعم پر اٹھتی مگر جلد ہی وہ اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیتا جب کہ رنعم نے اس کو بالکل ہی نظرانداز کیا ہوا تھا وہ بہروز سے چپکی ہوئی بیٹھی تھی۔۔۔۔ فالج زدہ باپ کا وجود بھی اسے اپنی مضبوط ڈھال محسوس ہو رہا تھا
رنعم نے اس وقت ڈریس چینج کر کے فل سلیوز پہنی ہوئی تھی یہ بات کاشان کے ساتھ ساتھ عاشر نے بھی نوٹ کی جس پر عاشر بلاوجہ ہی شرمندہ ہونے لگا۔ ۔۔۔ کاشان رنعم کے گریز کو محسوس کر چکا تھا وہ نظر اٹھا کے اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی یہ بات اسے اچھی نہیں لگی
“اب انعم واپس نہیں آئے گی”
تھوڑی دیر بعد بہروز کی لڑکھڑاتی آواز کمرے میں گونجی وہ ثوبان سے مخاطب تھا اور اس کی آنکھوں میں نمی تھی بہروز کی بات پر یسریٰ ایک بار پھر رونے لگی
“صبر کر لیں بہروز اس پر جیسے میں نے اپنے دل پر بھاری سل رکھا ہے،،، ویسے اب آپ بھی پتھر رکھ لیں”
وہ ثوبان کے بولنے سے پہلے روتی ہوئی کہنے لگی
ثوبان اٹھ کر بہروز کے قریب آ کر بیٹھا اور اس کا بےجان ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما
“انعم واپس اس گھر میں دوبارہ آئے گی۔۔۔ اسے میں لے کر آؤں گا آپ کے پاس مگر آپ پہلے وعدہ کریں اس طرح پریشان نہیں ہوں گے”
ثوبان بہروز کی آنکھوں میں آئی نم کو اپنی انگلی کے پوروں سے صاف کرتا ہوا بولا
“کیا انعم واقعی ہمارے پاس آ جائے گی وہ یہیں رہے گی ہمارے پاس”
یسریٰ نے ثوبان کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا تیئس سال بعد وہ اپنی جوان بیٹی کو دیکھ کر جتنا خوش ہوئی تھی۔۔۔ اس کا رویہ دیکھ کر اتنا ہی مایوس ہو چکی تھی
“مما اسے اسی گھر میں آنا ہے کیوکہ یہ اس کا بھی گھر ہے میں اسے کل ہی لے آؤں گا مگر آپ اس طرح روئے گیں تو آپ کو دیکھ کر بابا بھی پریشان ہوگے اور آپ دونوں کو میں اس طرح بالکل نہیں دیکھ سکتا” ثوبان بیڈ سے اٹھ کر دوبارہ یسریٰ کے پاس آ کر بولا
“اب نہیں روتی،،، جاو فریش ہو کر آو کھانا لگواتی ہوں” یسریٰ نے اپنی آنکھیں صاف کر کے ثوبان کا گال تھپتھپاتے ہوئے کہا دو دن سے وہ اسپتال میں مستقل بہروز کے پاس رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ منہ دے نہیں بول رہا تھا مگر حالت سے وہ اس کی تھکن کا اندازہ لگا سکتی تھی
****
بہروز کو یسریٰ کھانا کھلا چکی تھی کھانے کی میز پر بہروز کے علاوہ سب ہی موجود تھے کاشان نے پلیٹ میں تھوڑا سا پلاو نکالا مگر وہ رنعم کے ہاتھ کا بنا ہوا نہیں تھا اس نے دوسری ڈش میں سے آلو گوشت نکالا اس کا بھی ذائقہ جدا تھا ایک نوالہ کے بعد اس نے سامنے رکھی بیف چلی ٹیسٹ کی اور کرسی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
“کیا ہوا کھانا کیوں نہیں کھا رہے”
کاشان کے اس طرح اٹھنے پر یسریٰ نے اسے دیکھ کر پوچھا
“سر درد کی وجہ سے شاید کھانے کا ٹیسٹ معلوم نہیں ہو رہا پلیز آپ لوگ کھانا کھائیں”
وہ کہتا ہوا رنعم پر سنجیدہ نظر ڈال کر اپنے روم میں چلا گیا اس کے جانے کے بعد رنعم نے اپنی پلیٹ میں جھکا ہوا سر اٹھایا
آج اس نے بھی تو رنعم کو ہرٹ کیا تھا اس لئے رنعم نے اس کے لئے کھانا نہیں بنایا
****
“کیا کر رہی ہیں آپ”
کھانے کے بعد رنعم کچن میں آئی تو یسریٰ کو بریڈ کی پیس پلیٹ میں نکالتے دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی
“کاشان نے کھانا نہیں کھایا،،، بھوکا لیٹا ہوا ہے اپنے روم میں۔۔۔ سر بھی درد کر رہا ہے اس کا کافی دیر سے،، سینڈوچ بنا رہی ہوں اس کے لئے ورنہ وہ ایسے ہی سو جائے گا”
یسریٰ بریڈ کے پیس کے کنارے،، چھری سے کاٹتے ہوئے رنعم کو بتانے لگی
“کاش میں اس بیچارے کی حرکتیں آپ کو بتا سکتی” رنعم سوچ کر ہی رہ گئی اور فریج میں سے انڈا، چیز، کیبچ اور مایونیز نکالنے لگی
“بھیا بلا رہے ہیں آپ کو، بابا کی میڈیسن کا چارٹ سمجھ لیں جاکر۔۔۔۔ لائیں یہ میں بنا دیتی ہوں”
انڈا بوائل کرنے رکھ کر وہ پلیٹ یسریٰ سے لیتے ہوئی بولی
“اچھا سنو،،، سینڈوچز کے ساتھ چائے اور پینکیلر بھی لیتی جانا کاشان کے لئے” یسریٰ مصروف انداز میں ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی اسے تلقین کر کے بولی اور اپنے روم میں چلی گئی رنعم خاموشی سے سینڈوچ بنانے لگی
