Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 43)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 43)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
سیرت اور ثوبان آج صحیح معنوں میں محفل کی جان بنے ہوئے تھے۔۔۔ دونوں کی ہی جوڑی بہت پیاری لگ رہی تھی سب مہمانوں نے بہروز اور یسریٰ کے ساتھ ثوبان اور سیرت کو بھی مبارکباد دی
فرح بہن تھی اس لیے بات کو سمجھتے ہوئے یسریٰ کی خوشی کی خاطر آج اس کی خوشی میں شریک ہوگئی،، بغیر دل میں کوئی شکوہ لیے اس نے بہروز اور یسریٰ کو مبارکباد دی مگر غفران نے کافی ناراضگی کا اظہار کیا اور فنکشن میں شرکت نہ کر کے یہ ظاہر کیا کہ وہ ان سے ناراض ہے جبکہ عاشر آفس کے کام سے آؤٹ آف سٹی گیا ہوا تھا ابھی وہ سفر میں تھا گھر پہنتے پہنتے بھی اسے تین سے چار گھنٹے لگ جاتے اس نے ثوبان کو فون کر کے مبارکباد دی
“چلو بھئی آج میرے بھائی کے پیسے تو وصول ہوئے اور بیوٹیشن آنٹی کی محنت نظر آرہی ہے ان کی بدولت اج تمہاری بھی کچھ شکل نکل کر آئی”
کاشان نے سیرت کے پاس آکر اس کی اپنے انداز میں تعریف کی
“میری شکل کو چھوڑو یہ بتاؤ تین دن پہلے تمہارا کیوں تھوبڑا کیو سوجھا ہوا تھا۔۔۔۔ جو بیچاری میری بہن کو رات کو ہی واپس لے گئے”
سیرت نے سوچا لگے ہاتھوں کاشان کے بھی کان کھینچ کر اس کی خبر لے
“یار مجھ معصوم کا تھوبڑا کس بات پر سوجھنا ہے بس اپنی بیوی کی اچانک یاد آئی تو اسے لینے آ گیا۔۔۔ ویسے تمہیں یہ کس نے کہا کہ میرا تھوبڑا سوجھا ہوا تھا”
کاشان نے اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھتے ہوئے سیرت سے پوچھا
“بس اب رنعم بےچاری کی شامت مت لے آنا۔۔۔ میں بچپن سے تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں اور مسٹر کاشان ہم نے رنعم کو تمہارے ساتھ رخصت کر کے اس سے اپنا تعلق توڑا نہیں ہے اس لیے شرافت سے ہمارے پاس اسے خود سے ہفتے میں ایک آدھ بار چھوڑ جایا کرو بے شک خود بھی اپنا بسترا لے کر یہاں پر آجاؤ کیوکہ شاید اب تمہیں ہمارے گھر نیند نہیں آتی”
سیرت نے مذاق مذاق میں کاشان کو سنا دی کیوکہ اس دن رنعم کو دیکھ کر وہ صاف محسوس کر سکتی تھی لازمی کاشان اسے زبردستی لینے آیا تھا
“اف کتنا بول رہی ہو یار تم،، ایسے موقع پر پٹر پٹر کرتی لڑکیاں زہر لگتی کچھ باتوں میں تمہیں میری بیوی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اب اپنی چونچ بند کرکے ذرا میرے بھائی صاحب کے پاس چلی جاؤ کب سے دور کھڑا ہوا بےچارہ یہی دیکھ کر آہیں بھر رہا ہے” کاشان کے بولنے پر سیرت مسکراتی ہوئی ثوبان کے پاس چلی آئی
“اب تک کتنے لوگ بتا چکے ہیں کہ تم بہت حسین لگ رہی ہو”
ثوبان نے ستائشی نظروں سے سیرت کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا
“تقریباً یہاں پر موجود سارے ہی لوگ ہی بات بتا چکے ہیں ایک تمہارے علاوہ”
سیرت میں بہت اسٹائل سے اسے جتایا
“تم کتنی حسین لگ رہی ہوں یہ بات میں تمھیں یہاں سب کے سامنے نہیں بتا سکتا کیوکہ یہ بات میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں ایک پرائیویٹ پرسن اس لیے میں پرائیویٹ میں بتاؤں گا کہ تم کتنی حسین لگ رہی ہو”
ثوبان نے والہانہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ سیرت اس کی بات سن نظریں جھکا کر مسکرادی
کاشان کی نظروں نے رنعم کو ڈھونڈنا شروع کیا وہ اسے بہروز کے پاس بیٹھی ہوئی نظر آئی
مگر اس سے پہلے وہ یسریٰٰ کے پاس آیا اس کے برابر میں صوفے پر بیٹھ کر ہاتھ تھام کر اس سے باتیں کرنے لگا
رنعم بہروز کے پاس بیٹھی ہوئی یسریٰ اور کاشان کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ وہ سب سے ملنے کے بعد بہروز کے پاس ہی آ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ دور سے کاشان جس طرح یوسریٰ کا ہاتھ تھامے اس سے باتیں کر رہا تھا کوئی بھی دور سے دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ ساس اور داماد میں کافی اچھی انڈراسٹینڈنگ ہے۔۔۔۔ کاشان کی بہروز اور یسریٰ سے اچھی انڈراسٹینڈنگ تو تھی مگر رنعم کو معلوم تھا اس وقت اس کا شوہر یوسریٰ کا ہاتھ تھامے،، ان لوگوں کے گھر نہ روکنے کا کوئی جواز پیش کر رہا تھا۔۔۔ یہ بات وہ رنعم کو اپنے گھر سے بول کر آیا تھا جس پر رنعم خاموش ہوگئی
****
تقریب اب اختتام پر پہنچی تھی رنعم اور کاشان دونوں ہی بینکوئیٹ سے باہر نکلے۔۔۔ رنعم کی نظر اچانک دور کھڑی کار کے پاس ایک آدمی پر پڑی وہ فوراً اپنا چہرہ چھپانے کی غرض سے اپنی کار میں بیٹھ گیا مگر رنعم اسے پہچان چکی تھی یہ وہی آدمی تھا جو کاشان اور اسے تین دن پہلے دکھا تھا اور اس کو دیکھ کر کاشان کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوگیا تھا۔۔۔۔ رنعم نے ایک نظر کاشان پر ڈالی۔۔۔ وہ موبائل پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا موبائل پر بات کرتے کرتے ہی اس نے کار کا دروازہ کھولا رنعم کار میں بیٹھ گئی۔۔۔۔ وہ اب سوچ میں پڑ گئی کہ کاشان کو یہ بات بتائے کہ نہیں مگر وہ آج بہت خوش تھی اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ کاشان کا بھی موڈ خراب ہو اس لیے اس نے اسے کچھ بھی بتانے کا ارادہ ترک کر دیا
“تین دن پہلے جب میں تمہیں گھر واپس لے کر گیا تھا تم نے سیرت سے کچھ ذکر کیا تھا ہمارے متعلق”
کاشان ڈرائیونگ کرتے ہوئے نارمل انداز میں رنعم سے پوچھنے لگا
“نہیں کاشان میں نے تو نہیں یہی کہا آپی سے کے میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔۔۔ کیا آپی نے آپ سے کچھ کہا”
رنعم نے کاشان کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“ایسا کچھ نہیں کہا سیرت نے، میں ویسے ہی پوچھ رہا تھا”
کاشان نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے رنعم کو جواب دیا
“کاشان بس آپ مجھ پر اعتبار کیا کریں۔۔۔۔ اور پلیز مجھ سے ناراض مت ہوا کریں نہ ہی غصہ کیا کریں”
رنعم نے اسٹیرنگ کو پکڑے کاشان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
“پاگل نہیں ہوں میں جو بلاوجہ میں تم پر غصہ کرو یا ناراض ہو مگر میری ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھنا رنعم جو باتیں ہم دونوں کے بیچ میں ہیں،، ہمارے بیڈ روم کی باتیں۔۔۔ وہ ہمیشہ ہمارے درمیان رہنی چاہیے اگر کبھی بھی کوئی بات میں نے کسی دوسرے کے منہ سے سنی یا کوئی بات باہر نکلی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا بس یہ بات تم یاد رکھنا”
کاشان نے اپنی بات مکمل کر کے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پے لگایا رنعم اثبات میں سر ہلا کر چپ ہو گئی
کاشان ڈرائیونگ کرنے لگا رنعم کی کھڑکی سے باہر شیشے پر نظر پڑی تو اسے وہی گرے کار دکھائی دی جس میں وہ شخص بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ رنعم نے بےساختہ گردن موڑ کر پیچھے دیکھا کار ایک دم دوسری گلی میں مڑ گئی
“کیا ہوا کیا دیکھ رہی ہو کاشان نے اس کو چونکتے اور پیچھے مرنے کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا
“وہ مجھے ایسا لگا جیسے کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہے” رنعم نے ڈرتے ہوئے آدھی بات بتائی اس کی بات سن کر کاشان چونکا اور سائیڈ مرر سے روڈ پر دیکھنے لگا
کوئی نہیں ہے وہم ہے تمہارا۔۔۔ ہمارا پیچھا کون کرے گا” کاشان کی بات سن کر رنعم نہ خاموشی اختیار کرلی وہ دونوں اپنے فلیٹ پہنچ گئے
“کتنے پیارے لگ رہے تھے نہ آج بھیا اور آپی”
رنعم ڈریسر کے سامنے اپنی جیولری اتارتے ہوئے کاشان سے پوچھنے لگے وہ ابھی ابھی چینج کر کے آیا تھا اس کی بات سن کر مسکرایا
“ان دونوں کو کپل کی صورت میں ایک ساتھ کھڑا دیکھ کر،، مجھے ہم دونوں کی برات کا دن یاد آگیا۔۔۔۔ چلو آج تھوڑا سا اس دن کو یاد کر لیتے ہیں
کاشان نے وارڈروب سے رنعم کو نائٹ ڈریس نکال کر دیا
“کاشان آپ بھی ناں۔ ۔۔۔
رنعم نے آنکھیں جھکا کر نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا دیتے ہوئے نائٹ ڈریس کاشان کے ہاتھ سے لیا۔۔۔۔ کاشان نے رنعم کو اسمائل دے کر دیکھا وہ آج بھی پہلے دن کی طرح اس کی بڑھتی ہوئی شدتوں سے اسی طرح شرما جاتی تھی
****
“ثوبی تمہیں معلوم ہے نہ موتیے کے پھول کی خوشبو بچپن سے ہی میرے دماغ پر چڑھ جاتی ہے۔۔۔۔ اور تم نے پورا کمرہ ان پھولوں سے بھر دیا”
یہ دنیا کی پہلی دلہن تھی۔۔۔۔ جس نے اپنے دولہا کے کمرے میں اینٹری دیتے ہی شکوے شروع کر دیے۔۔۔۔ دوسری طرف ثوبان، جسے اپنے کمرے میں سیرت کی موجودگی کا احساس ہی سر شار کر گیا تھا۔۔۔ مگر سیرت کو دلہن کے روپ میں شکوہ کرتے ہوئے دیکھ کر حیرت کا اظہار کرنے لگا
“آج تھوڑا بہت شرما لو اور اگر نہیں آرہی تو کم ازکم ایکٹنگ ہی کر لو”
وہ مسکراتا ہوا منہ پھلائی سیرت کے قریب آتا ہوا بولا
“یہ خوشبو میرے دماغ پر چڑھ رہی ہے اور تم مجھ سے شرمانے کی بات کر رہے ہو ایسے میں تو مجھ سے سچی میں نہیں شرمایا جائے گا”
سیرت نے آنکھیں گول کھماتے ہوئے ثوبان کو دیکھا۔۔۔ ثوبان نے اس کے انداز پر مسکرا اسے بانہوں میں لے لیا
“اور اگر آج میں تمہیں شرمانے پر مجبور کر دوں تو”
ثوبان سیرت کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگلی رکھ کر اس کا چہرہ اونچا کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
“ثوبی اگر تم نے زیادہ بدتمیزی کی ناں۔۔۔۔۔ ثوبان کی بات سن کر سیرت کا دل زور سے دھڑکا مگر اس کی بات مکمل بھی نہیں ہو پائی کے ثوبان نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی
“آج تو میری ساری بدتمیزیاں شرافت سے برداشت کرنی ہے تمہیں۔۔۔ اگر ذرا بھی ہوشیاری دکھائی نا،،، تو یاد رکھنا۔۔۔ قانون کا محافظ ہو۔۔۔ پوری پوری قانونی کاروائی کر ڈالوں گا”
ثوبان کے کہنے کے انداز پر نہ چاہتے ہوئے بھی سیرت کو ہنسی آگئی
“جتنے تم شکل سے شریف لگتے ہو ناں اتنے ہی بدمعاش ہوں”
وہ سیرت کو بازوں میں اٹھا کر بیڈ پر لایا تو سیرت نے اس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا
“شریف سے شریف شوہر بیوی کے سامنے بدمعاش ثابت ہوتا ہے پھر تم ایک پولیس والے شرافت کی تواقع رکھ رہی ہو”
وہ سیرت کے اوپر جھکتے ہوئے بولا
اپنی تمام تر شددتیں سیرت پر لٹاتے ہوئے ثوبان نے واقعی سیرت کو شرمانے پر مجبور کر دیا۔۔۔ ثوبان کی ایک کے بعد ایک بڑھتی ہوئی جسارتوں پر سیرت نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے تک سیرت کے دماغ پر موتیے کی خوشبو سوار تھی۔ ۔۔۔ اب اس کے دل اور دماغ کے ساتھ ساتھ حواسوں پر بھی صرف ثوبان قابض تھا
****
دروازے پر زور زور سے دستک کی آواز پر ثوبان نے لیمپ کی مدہم روشنی میں الار پیس پر نظر ڈالی۔۔۔ اس وقت صبح کے چھ بج رہے تھے
“ثوبان جلدی سے دروازہ کھولو پلیز” یسریٰ کی پریشان آواز پر ثوبان تیزی سے اٹھا۔۔۔ ثوبان کے اٹھنے پر برابر میں لیٹی ہوئی سیرت کی بھی آنکھ کھل گئی
