504.4K
57

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Basilsila e Ta Azal (Episode 37)

Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel

رنعم کو گھر کے کام کرنے کی عادت نہیں تھی کھانا بھی اس نے کاشان کے کہنے پر بنانا سیکھا تھا مگر یہ جھاڑ پونچھ والے کام میں اسے کافی وقت لگ جاتا تھا۔۔۔۔ کاشان نے اسے کہا تھا وہ جلد کسی میڈ کا انتظام کر دے گا مگر وہ خود اتنی چھٹیوں کے بعد آفس گیا تھا اس لئے اس کا گھر لیٹ آنا ہو رہا تھا اور جب وہ ایک بزی دن گزار کر گھر آتا تو رنعم مروتاً اس سے میڈ کے بارے میں کچھ نہیں پوچھتی۔۔۔ تین دن ہو گئے تھے اسے گھر کی خود صفائی کرتے ہوئے

شادی سے پہلے جب کاشان فلیٹ میں شفٹ ہوا تھا تب اس نے کام کرنے کے لئے ایک لڑکا رکھا تھا مگر شادی کے بعد وہ رنعم کو نظر نہیں آیا۔۔۔ آج صبح کاشان کے آفس جانے کے بعد اسے نیند نہیں آئی تو وہ صبح ہی گھر کی صفائی سے فارغ ہو گئی۔۔۔۔ اتفاق سے گھر میں گروسری کا ضروری سامان بھی موجود نہیں تھا۔ ۔۔۔

معلوم نہیں آج کاشان کب تک آفس سے گھر واپس آئے گے

رنعم نے سوچتے ہوئے خود گروسری کرنے کا پلان بنایا وقت بھی کافی تھا۔۔۔ اور مارٹ بھی زیادہ دور نہیں تھا اس کے اپارٹمنٹ کے سامنے والے روڈ پر دس قدم کے فاصلے پر ہی مارٹ موجودہ تھا

دن کے 12 بج رہے تھے وہ ٹیکسی سے قریبی مارٹ میں اتری اس نے گھر کی کافی اشیاء خریدی وہ فرسٹ ٹائم یہ کام کر رہی تھی اسے بڑا مزا آیا دو گھنٹے کیسے گزر گئے اسے معلوم ہی نہیں ہوا سب چیزیں خرید کر وہ گھر آئی سارا سامان اپنی جگہ پر پہنچا کر وہ شاور لینے چلی گئی۔۔۔ ابھی وہ بال ڈرائر ہی کر رہی تھی کہ گھر کی بیل بجی

“ارے واہ آج تو جلدی گھر آ گئے آپ”

دروازہ کھولنے پر اسے کاشان کا چہرہ نظر آیا تو رنعم نے مسکرا کر کہا

“اپنی ڈول کی یاد جو آرہی تھی اس لیے آگیا”

وہ فریش فریش سی اپنی بیوی کو بانہوں میں لیتے ہوئے بولا

“شکر ہے تین دن بعد آپ کو خیال تو آیا،، ورنہ روز رات کے نو بج رہے تھے گھر آتے آتے”

رنعم کاشان کے سینے پر اپنا سر رکھ کر شکوہ کرنے لگی

“خیال تو ہر لمحہ آتا ہے میری جان،، مگر یہ آفس والے بہت ظالم ہے سمجھتے نہیں ہیں نئے شادی شدہ آدمی کو رات گئے تک آفس میں نہیں بٹھانا چاہیے”

کاشان رنعم کو بانہوں میں اٹھائے بیڈ روم میں لاتا ہوا بولا

“اف،،، میرا وہ مطلب تھوڑی تھا”

رنعم شرمندہ ہوتے ہوئے بولی

“مگر میرا وہی مطلب تھا”

کاشان رنعم کو بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکتا ہوا بولا مگر تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہ رنعم کو دیکھنے لگا

“کچھ چہولے پر رکھا ہے تم نے”

کسی چیز کے جلنے کی خوشبو آئی تو کاشان رنعم کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا

“ہلکی آنچ پر چائے رکھی تھی اپنے لیے”

رنعم سہمے ہوئے انداز میں بتانے لگی

جب سے اس نے کاشان کا جارحانہ انداز دیکھا تھا تب سے رنعم ایسے موقع پر کچھ بھی کہنے سے ڈرتی تھی

“جاو پھر چائے لے کر آو۔۔۔۔ اب تم سے رات کو نبھٹو گا،،، تین دن بہت عیش کر لی تم نے”

کاشان بیڈ سے اٹھتا ہوا معنی خیزی سے بولا۔۔۔ رنعم نظریں جھکائے خود بھی بیڈ سے اٹھ گئی اور کچن میں جانے لگی

“یار چائے کے ساتھ کچھ کھانے کے لیے بھی لے کر آجاؤ،، آج دوپہر کو لنچ نہیں کیا میں نے”

کاشان وارڈروب سے کپڑے نکالتا ہوا رنعم سے بولا تو وہ سر ہلا کر کچن میں آگئی

فرج سے فروزن پیکٹ نکالے جو وہ آج ہی وہ خرید کر لائی تھی۔۔۔۔ شامی کباب اور نگٹس تل کر وہ چائے سمیٹ ٹیبل پر لے کر آئی اور کاشان کو وہی سے آواز دی

“اتنی جلدی یہ سب کچھ بنا لیا زبردست”

وہ چینج کرچکا تھا،،، کرسی پر بیٹھا ہوا بولا

“ابھی اتنی ماہر بھی نہیں ہوئی ہے آپ کی بیوی یہ سب باہر کا سامان ہے”

رنعم نے پلیٹ میں کباب اور نگٹس نکال کاشان کے سامنے رکھتے ہوئے ہوئے اسے مزے سے بتایا

“باہر سے کون لایا یہ سب”

کاشان نے ماتھے پر بل سجائے رنعم کو دیکھ کر پوچھا

“آج صبح گھر کی صفائی سے جلدی فارغ ہو گئی تھی تو سوچا کیوں نہ گروسری کرنے جایا جائے فرسٹ ٹائم میں نے اس طرح گھر کا سامان لیا ہے کاشان اتنا مزہ آیا یہ سب کر کے”

وہ دونوں کپز میں چائے نکال کر مگن انداز میں کاشان کو بتائے جا رہی تھی بغیر یہ دیکھے کہ اس کی باتوں سے کاشان کے چہرے پر غصے کے کتنے رنگ آ چکے ہیں۔۔۔ رنعم کی زبان تالو سے جب چپکی جب کاشان نے چائے سے بھرا کپ ایک کے بعد ایک اٹھا کر دیوار پر دے مارے چھناکے کی آواز سے نہ صرف کپ ٹوٹے بلکہ کاشان کے ردعمل سے رنعم سہم کر پیچھے ہوگئی

اس کے بعد ایک ایک کر کے کاشان نے ٹیبل پر ساری پلیٹز چیزوں سمیت اٹھا کر زمین پر پٹخنا شروع کی رنعم خوف کے مارے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھتی ہوئی دیوار سے جا چپکی

ساری چیزیں تہس نہس کرنے کے بعد جب رنعم نے کاشان کو اپنی طرف آتا دیکھا تو وہ مزید خوف سے کانپ گئی اور آہستہ آہستہ قدموں سے دیوار سے جڑی پیچھے ہٹنے لگی مگر تین قدم میں کاشان فاصلہ طے کر کے اس کے قریب آیا

“کس سے پوچھ کر گھر سے باہر قدم نکالا تم نے”

بالوں کو مٹھی میں جکڑے اب وہ رنعم کا چہرہ اوپر کیے،،، غصے میں اس سے سوال کر رہا تھا

“کاشان وہ۔۔۔۔ وہ گھر میں چیزیں ختم ہو گئی تھی۔۔۔ اس لئے میں نے سوچا”

رنعم اس کو غصہ میں دیکھ کر بری طرح کانپتی ہوئی اپنی صفائی دینے لگی

“کس کی اجازت سے”

کاشان نے دوبارہ چیخ کر پوچھا رنعم کو رونا آنے لگا

“سوری میں پوچھنا بھول گئی تھی” کاشان کو جواب دیتے ہوئے وہ باقاعدہ رونے لگ گئی

“پیسے کہاں سے آئے”

کاشان نے اس کے بالوں مٹھی میں دبائے، مزید اس کی گردن کو پیچھا کرتا ہوا ایک اور سوال کیا

“آپ نے جو پاکٹ منی دی تھی مجھے”

رنعم کو خوف آنے لگا اس کی گردن ہی نہ ٹوٹ جائے وہ کاشان کی شرٹ مٹھی میں دبائے ہوئے بولی

“مارٹ کیسے گئی” وہ غصے رنعم سے سے ایک کے بعد ایک سوال کر رہا تھا

“ٹیکسی میں کاشان پلیز مجھے درد ہو رہا ہے”

رنعم نے کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔۔۔ جیسے آج ہی اس کی زندگی کا آخری دن ہو

“کسی غیر مرد کے ساتھ ٹیکسی میں اکیلی کیسے بیٹھی تم۔۔۔معلوم نہیں تمہیں آدمی کس طرح کے ہوتے ہیں”

جھٹکے سے وہ اس کے بالوں چھوڑ کر،، اس سے پہلے رنعم کا سر دیوار پر لگتا۔۔۔ اب اس کا منہ پکڑ چکا تھا

“وہ ٹیکسی والا شریف تھا،،، بوڑھا تھا پلیز کاشان سوری”

کاشان کے فولادی ہاتھوں کی انگلیاں اس کے گالوں میں بری طرح دھنس رہی تھی۔۔۔۔ جن کو اپنے ہاتھوں کی مدد سے ہٹا کر وہ بہت مشکل سے بول پا رہی تھی

کاشان نے اسکا منہ چھوڑا تو وہ پیچھے دیوار سے جا لگی۔۔۔۔ کاشان نے زور سے دو دفعہ اپنے ہاتھ دیوار پر مارے،،، برابر میں دیوار سے لگی رنعم نے اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔ اسے خوف تھا کہ کاشان کا بھاری ہاتھ کہیں اس کے منہ پر ہی نہ پڑ جاہے۔۔۔۔ ویسے بھی جس طرح کاشان نے اس کا منہ پکڑا تھا اس کے جبڑے ابھی بھی دکھ رہے تھے

کاشان ایک دو ڈیکوریشن پیس توڑ کر اپنا مزید اپنا غصہ نکالتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا اور رنعم اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے نیچے بیٹھتی چلی گئی

****

پورے ڈائننگ ہال میں کانچ بکھرا پڑا تھا۔۔۔ وہ روتی ہوئی خود بھی اپنے آپ کو کانچ کی طرح بکھرتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ کاشان کے گھر سے نکلنے کے بعد جلدی سے اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور بالوں کا جوڑا بنایا

کاشان کے ساتھ رہتے ہوئے ان پندرہ دنوں میں اسے اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ اسے گھر میں بے ترتیبی پسند نہیں ہے یہ بات کاشان نے باتوں ہی باتوں میں اسے دو تین بار باور کرائی تھی۔۔۔۔ اس لیے اپنی قسمت پر ماتم کرنے کی بجائے شاپر میں سارا کانچ جمع کرنے کے بعد کمرے کو سمیٹنے میں لگ گئی

رنعم کو ڈر تھا کہ کاشان گھر واپس آگیا اور بکھرا ہوا لانچ دیکھ کر اسے کہیں دوبارہ غصہ نہ آ جائے پورا لانچ سمیٹ کر جب وہ بیڈ روم میں داخل ہوئی تو اس کے موبائل پر فرح کی کال آرہی تھی مگر وہ اس وقت بات کیسے کر سکتی کال کاٹ کر وہ واش روم چلی گئی تاکہ اپنا منہ دھو سکے اس کے بعد اسے رات کے لیے کھانا بنانا تھا

****

ایک گھنٹے کے بعد جب کاشان گھر واپس آیا تو ڈائننگ ہال سمٹا ہوا تھا۔۔۔ کاشان بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو بیڈ پر رنعم سمٹی ہوئی بیٹھی تھی کاشان کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک دفعہ پھر خوف کے آثار نمایاں ہوئے

“یہاں آؤ”

بیڈروم کا دروازہ بند کر کے،،، وہی کھڑے کھڑے اس نے رنعم کو ارڈر دیا

“کاشان آئی ایم سوری میں آئندہ کبھی باہر نہیں نکلو گی آپ کی پرمیشن کے بغیر پلیز مجھے کچھ مت کیجئے گا۔۔۔ میں سمجھی تھی آپ کو خوشی ہوگی میرے گھر داری کی طرف توجہ دینے پر”

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے منہ میں جو جو آیا خوف کے مارے بولتی ہوئی کاشان کے پاس آ رہی تھی۔۔۔ رنعم کو دیکھ کر کاشان کو صاف محسوس ہورہا تھا وہ بری طرح سہم چکی ہے،،، جب رنعم کاشان کے سامنے آ کر رکی تو کاشان نے آگے بڑھ کر اسے اپنے گلے لگایا۔۔۔ کاشان کے سینے سے لگنے کے بعد رنعم نے ایک بار پھر رونا شروع کردیا تھوڑی دیر پہلے والا کاشان کا غصہ ختم ہوچکا تھا وہ اب رنعم کے گرد اپنے ہاتھ لپیٹے اسے نرمی سے بانہوں میں لے چپ کرا رہا تھا

“اگر کسی چیز کی ضرورت تھی تو مجھے بولنا چاہیے تھا نا میں کوئی غیر ذمہ دار انسان یار لاپروا شخص تو نہیں ہوں۔۔۔۔ تمہیں کیا لگا میں سب چیزیں تمہیں نہیں لاکر دیتا۔۔۔۔ تم سے شادی میں نے اس لیے تو نہیں کی ہے کہ تمہیں فاقوں میں مار دوں اور اگر تمہیں خود جانے کا دل تو مجھے بول دیتی میں لے کر چلا جاتا،،، یوں اکیلے باہر جانا کہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔ کوئی بچی تو نہیں ہونا تم،،، کس طرح کی نظروں سے باہر کی لڑکیوں اور عورتوں کو دیکھا جاتا ہے،، اور وہ پیسے بھی میں نے تمہیں اس لیے تو نہیں دیے تم گھر کا سودا سلف لاتی۔۔۔ اب چپ ہو جاؤ اور آئندہ ایسی حرکت مت کرنا”

وہ رنعم کو اپنے سینے سے الگ کر کے اس کے آنسوں صاف کرتا ہوا بولا

“کھانا تو نہیں بنایا ہوگا رات کا”

وہ اب بھی اس سے نرمی سے سوال کر رہا تھا

“بنا لیا تھا میں لے کر آتی ہوں”

اب رنعم اسے کیا بتاتی کہ کتنا ڈرنے لگی تھی وہ اس کے غصے سے

کچن میں آکر وہ مائیکرو ویو اوون میں کھانا گرم کرتی ہوئی کاشان کے مزاج اور غصے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔ کھانا کھانے تک کاشان اس کو بہلانے میں کامیاب ہوگیا تھا اور رات کو سونے سے پہلے وہ اسے یہ بتانا نہیں بھولا کہ وہ اس پر جتنا بھی غصہ کرلے مگر اس سے کہیں زیادہ پیار کرتا ہے

****

“جلدی سو گئے بابا آج”

رات کے کھانے کے بعد ثوبان ہر روز کی طرح بہروز کے پاس آیا تو اسے سوتا دیکھ کر یسریٰ سے پوچھنے لگا

“ہاں دوپہر میں کم نیند لی تھی اس لیے سو گئے۔۔۔ تم تین دن سے گھر کتنا لیٹا آرہے ہو ثوبان”

یسریٰ نے اس کا خیال کرتے ہوئے پوچھا

“شوروم میں جو مینجر رکھا تھا اسے چیٹینگ کرنے پر نکال دیا ہے اس لیے وہاں کا بھی چکر لگا رہا ہوں تین دن سے۔۔۔۔ بابا دوائی وقت پر لے رہے ہیں ناں”

وہ سامنے ٹیبل پر دوائی چیک کرتے ہوئے پوچھنے لگا

“ٹھیک سے لے رہے ہیں میں خود دے دیتی ہوں اپنے ہاتھ سے۔۔۔ تم اپنی فکریں کم کرو ذرا،،، اور کاشان کو کہہ دو کہ شوروم وہ دیکھ لیا کرے تمہاری تو ویسے بھی ٹف جاب ہے”

یسریٰ کو احساس تھا کہ اس کے اوپر گھر کی باہر کی ساری ذمہ داریاں ہیں اس لیے وہ اس کا احساس کر کے بولی

“میری فکر کرنے کے لئے آپ اور بابا موجود ہیں تو۔۔۔ کاشان سے کہا تھا میں نے اپنی جاب کی بجائے شوروم دیکھ لیا کرے مگر اس نے کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔۔۔۔ اشتہار دیا ہے میں نے جلدی کسی مینیجر کا انتظام ہو جائے گا”

وہ یسریٰ کا ہاتھ عقیدت سے تھامے اسے بتانے لگا۔۔۔۔ پھر چپ ہو کر اسے دیکھنے لگا جیسے کچھ کہنا چاہ رہا مگر بول نہیں پا رہا

“کچھ کہنا چاہتے ہو یا پوچھنا چاہتے ہو تو بول دو بیٹا”

بیشک یسریٰ نے اسے جنم نہیں دیا تھا مگر 14 سالوں میں بیٹا ہی سمجھا تھا جبھی اس کی نظروں سے اس کے چہرے سے جانچ لیا کہ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہے

“آپ اس دن کاشی اور رنعم کے آنے پر آپ بتا رہی تھی کہ سیرت کا رشتہ آیا ہے”

وہ اب بھی یسریٰ کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔۔۔۔ یسریٰ کو اب اس کے پوچھنے پر یقین ہوگیا اس کا شک بلکل ٹھیک تھا۔۔۔ وہ سیرت کو یقیناً پسند کرتا ہے مگر سیرت نے تو اس رشتے کے لیے حامی بھری تھی۔۔۔ یوسریٰ نے اپنا ہاتھ چھڑا کر اس کا چہرہ تھاما

“پسند ہے تمہیں سیرت،، ثوبان یہ مت سوچنا وہ میری بیٹی ہے،،، میں اپنی بیٹی کا تم سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔ بلکے میں اپنے بیٹے سے اسکی پسند پوچھ رہی ہوں”

یسریٰ اس کی ہچکچاہٹ کو دیکھتے ہوئے فوراً بولی

“پہلے بتائیں رشتہ کس نے بھیجا ہے”

تین دن سے وہ یسریٰ سے یہ بات پوچھنا چاہ رہا تھا کیوکہ سیرت سے اس نے پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا،، آج اس نے ہمت کر کے یسریٰ سے پوچھ لیا

“فرح باجی نے بھیجا ہے اس کا رشتہ عاشر کے لیے،، مگر مجھے اپنی بہن اور بیٹی سے پہلے تمہاری خوشی عزیز ہے۔۔۔ اس لیے بے فکر ہو جاؤ آپ کہیں نہیں جانے دوگی سیرت کو”

یسریٰ نے مسکراتے ہوئے اس کو دیکھ کر کہا

“بیٹی”

ثوبان نے لفظ بیٹی پر الجھ کر یسریٰ کو دیکھنے لگا

“ہاں یہ بات میں نے سیرت کو بتائی کہ تمہاری آنی نے تمہارے لیے رشتہ بھیجا ہے تو اس نے بناء اعتراض کے فیصلہ میرے اور تمھارے بابا کے اوپر چھوڑ دیا”

یسریٰ نے اپنی بیٹی کی سعادت مندی کے بارے میں ثوبان کو خوش ہوکر بتایا

“آپ بھی اب ریسٹ کریں بابا صبح جلدی اٹھ جائیں گے تو آپ کو بھی اٹھنا ہوگا”

وہ یسریٰ کو کہتا ہوا ایک نظر سوئے ہوئے بہروز پر ڈال کر اپنے روم میں جانے کے لیے کھڑا ہوا مگر اس سے پہلے اس کا ارادہ سیرت کے پاس جانے کا تھا

“ارے ہاں ثوبان کل فرح باجی نے رنعم اور کاشان کی دعوت کی ہے اور ہم سب کو بھی بلایا ہے۔۔۔ رنعم کی تو بات ہو گئی ہے باجی سے،،، میں تمہارے بابا کی وجہ سے بھلا کیسے جا سکتی ہوں تم سیرت کو لے کر کل چلے جانا۔۔۔۔ کاشان اور رنعم بھی وہاں پر موجود ہوں گے” یسریٰ کی بات پر ثوبان سر ہلا کر اس کے روم سے نکل گیا

*****

“اچھا ہوا تم آگئے میں کنفیوز ہو رہی تھی کہ ان دونوں ڈریسز کو لے کر ذرا بتاؤ کل آنی کے گھر یہ والا ڈریس پہن کر جاؤں گی پھر یہ والا”

سیرت نے دونوں ڈریس ہینگر سمیت ثوبان کے سامنے لہراتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی

“بہت زیادہ دل چاہ ہے آنی کے گھر جانے کا دونوں ڈریسز کو ہاتھ میں لے کر ایک سائیڈ پر رکھتا ہوا وہ بولا

“تمہیں ہی شکوہ ہوتا ہے کہ میں ریزرو ہو کر رہتی ہوں۔۔۔ آپ جانے کے لیے ڈریس کا پوچھ رہی ہوں تو بھی تمہیں برا لگ رہا ہے” سیرت اس کے چہرے کے زاویہ دیکھ کر بولی

“ڈریس کا مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہوں یہ لو موبائل عاشر سے پوچھ لو اسے کون سے کلر پسند ہے”

ثوبان نے اپنا موبائل نکال کر سیرت کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا

“آوووو تو یہ بات ہے”

سیرت نے بمشکل اپنی ہنسی چھپائی جو اس سے چھپائی نہیں جا رہی تھی اور ثوبان کا موبائل لے کر دوبارہ اس کی پاکٹ میں ڈالا

“کیوں کی تم نے یہ حرکت”

ثوبان کو اس وقت سیرت کی ہنسی ضبط کرنا زہر لگ رہا تھا وہ ابھی بھی سیرت کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“اف تمہیں تو میری ہر بات ہی بری لگ رہی ہے ثوبی۔۔۔ آخر اعتراض کیا ہے تمہیں”

شاید وہ اس کو مزید تپانے کے موڈ میں تھی یا اس کو ایسا کرنے میں مزا آ رہا تھا

“مجھے آنی کے بھیجے گئے رشتے پر تمہارے اعتراض نہ کرنے پر اعتراض ہے۔۔۔۔ تمہیں میری پوزیشن معلوم ہے ہر وقت کسی نہ کسی کام میں الجھا رہتا ہوں تم پھر بھی مجھے سمجھنے کی وجہ میرے لئے پریشانیاں پیدا کر رہی ہو”

ثوبان نے اسے شرم دلانی چاہی

“یہ پوزیشن تو اب تمہاری ساری زندگی رہنی ہے اور نہ ہی کام ختم ہونے ہیں تمہارے کھبی۔۔۔۔ اصل بات تو یہ کہ تم سے اپنے مما بابا کے سامنے منہ کھولا ہی نہیں جائے گا۔۔۔ تم ان کے سامنے اپنے اور میرے رشتے کی حقیقت بتانے کی ہمت رکھتے ہی نہیں ہو۔۔۔ اگر مجھے ذرا بھی احساس ہوتا ہے ثوبی کہ تم اتنی کم ہمتی کا مظاہرہ کرو گے تو میں تم سے کبھی نکاح نہیں کرتی”

سیرت نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر اسے پیچھے دھکا دیتے ہوئے غصے میں کہا

“شٹ اپ سیرت، تم میرے گریز کو کم ہمتی کا نام دو اور اس گریز کی اصل وجہ یہی ہے کہ تم مما بابا کی سگی اولاد ہوں۔۔۔ مجھ سے نکاح نہیں کرتی بس ساری زندگی لوگوں کو بے وقوف بناتی”

ثوبان کو سیرت کی بات پر اس سے زیادہ غصہ آنے لگا تبھی وہ طنز کر بیٹھا جو سیرت کو بری طرح چبھا

“ہاں بناتی لوگوں کو بیوقوف اور کر لیتی اپنا خود کا گزارا جیسے تیسے بھی،،، تمہارے ہاتھوں بے وقوف بننے سے تو یہی بہتر تھا”

سیرت نے چیخ کر کہا

“آواز نیچی رکھو سیرت، اب کمرے سے باہر تمہاری آواز نہیں جانی چاہیے” ثوبان نے غصے میں اسے وارن کرتے ہوئے کہا

“نہیں تو کیا کرو گے تم،، کچھ نہیں کر سکتے تم،، اس روز روز کے ڈرامے کو آج یہی ختم کرو طلاق دو مجھے تاکہ یہ قصہ آج ہی ختم ہو”

سیرت نے مزید بلند آواز میں کہا

“طلاق چاہیے تمہیں اس سے بہتر ہے کہ میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالو” ثوبان نے سختی سے اس کا بازو پکڑ کر کہا سیرت کے مزید چیخنے پر ثوبان کو بھی غصہ آنے لگا

“اور کر بھی کیا سکتے ہو تم۔۔۔ آخر کو تمہارے باپ نے بھی تو یہی کیا تھا اپنی بیوی کے ساتھ”

سیرت طنزیہ ہنسی مگر اس کے الفاظ نے تیزاب کے چھینٹو کا کام کیا جس پر ثوبان تڑپ ہی اٹھا

“سیرت”

ثوبان زور سے چیخا اس کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا اس سے پہلے وہ سیرت کے منہ پر نشان چھوڑتا بیڈروم کا دروازہ کھلا

“ثوبان”

سیرت کے کمرے سے باہر آتی چیخوں کی آواز پر جب یسریٰ کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے سیرت اور ثوبان کو قریب کھڑے دیکھا،، ثوبان کا ہاتھ ہوا میں بلند دیکھ کر یسریٰ نے بے یقینی سے ثوبان کو پکارا۔۔۔ دوسری طرف ثوبان یسریٰ کو بیڈروم میں آتا دیکھ کر ایک دم شرمندہ ہوگیا

“مما میری بات سنیں”

ثوبان سیرت کو چھوڑ کر یسریٰ کے پاس آیا مگر وہ چپ کر کے سیڑھیاں اترتی ہوئی اپنے بیڈروم میں چلی گئی اور اندر سے اپنا دروازہ لاک کر لیا

ثوبان اپنے کمرے میں آیا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ کر بیٹھ گیا اس کا دل اندر سے پشیماں تھا معلوم نہیں یسریٰ اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی

“آئی ایم سوری، غصے میں بھی مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا” سیرت کو جب اپنے لفظوں کی سختی کا احساس ہوا تو وہ ثوبان کے پاس اس کے روم میں آئی۔۔۔ اس کو یوں سر تھامے بیٹھا دیکھ کر سیرت کو مزید افسوس ہوا۔۔۔۔ سیرت کی آواز سن کر ثوبان نے اپنا سر اٹھایا،،،ضبط سے ثوبان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی

“آئی ایم سوری ثوبی”

سیرت نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے دوبارہ کہا۔۔۔ ثوبان لب بھینچ کر جھٹکے سے اٹھا سیرت کا بازو پکڑ کر اسے اپنے روم سے باہر نکالتا ہوا بولا

“جب تک مما کا دل صاف نہیں ہوجاتا تم اپنی شکل مت دکھانا مجھے”

سیرت کے منہ پر دروازہ بند ہوا تو وہ ہک دھک ثوبان کا رویہ دیکھتی رہ گئی اور چپ کر کے اپنے بیڈروم میں چلی آئی