Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel Readelle 50391 Basilsila e Ta Azal (Episode 42)
No Download Link
Rate this Novel
Basilsila e Ta Azal (Episode 42)
Basilsila e Ta Azal By Zeenia Sharjeel
“آکر اپنے بھیا سے مل لو”
رنعم کچن میں کھانا بنانے کے غرض سے موجود تھی تب اس نے کاشان کی آواز پر مڑ کر دیکھا
“بھیا آئے ہیں”
ثوبان کا ذکر سن کر رنعم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تو کاشان اسمائل دے کر واپس ڈرائنگ روم میں چلا گیا
“بھیا کیسے ہیں آپ۔۔۔ کتنی بڑی بات آپ نے مجھ سے چھپائی ہے اب بتائے ہو جاؤ آپ سے ناراض سچی والا”
رنعم نے ڈرائنگ روم میں آنے کے ساتھ ہی بولنا شروع کیا تو ثوبان اور کاشان دونوں ہی مسکرائے
“نہ سچی والا ناراض ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی جھوٹ والا۔۔۔ تمہاری ناراضگی میں بالکل افورڈ نہیں کر سکتا۔۔۔ ہاں اتنی اہم بات اپنی بہن سے چھپائی اس کے لئے کان پکڑ کر سوری کر سکتا ہوں”
ثوبان نے بولنے کے ساتھ ہی اپنے کان پکڑے رنعم نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ کانوں سے ہٹائے
“میں بہت خوش ہوں آپ کے اور آپی کے لئے”
رنعم نے مسکرا کر کہا۔۔۔ ثوبان نے اس کا سر سینے سے لگا کر تھپتھپایا
“مجھے معلوم ہے جتنی میری بہن خود خوبصورت ہے اتنا ہی اس کا دل بھی خوبصورت ہے” ثوبان صوفے پر بیٹھا اور رنعم کو اپنے ساتھ ہی بیٹھایا
“کل کہاں گئے ہوئے تھے اپنی بیگم کو لے کر”
کاشان ان کے سامنے صوفے پر بیٹھا اور گفتگو میں حصہ لیا
“یار وہی جو خواتین کا اہم مسئلہ اور شوہر کا اہم فریضہ۔۔۔۔ شاپنگ”
ثوبان کے بولنے پر کاشان اور رنعم دونوں مسکرا دیئے ثوبان اپنی پاکٹ سے ایک بریسلیٹ نکال کر رنعم کے ہاتھ میں پہنانے لگا
“یہ کس خوشی میں ہے بھیا”
رنعم نے خوبصورت سے گولڈ کے بریسلیٹ کو اپنی سی نازک کلائی میں دیکھ کر ثوبان سے پوچھا
“اچھا لگا تھا مجھے، تو سیرت اور تمہارے لئے لے لیا”
ثوبان نے رنعم کو بریسلیٹ پہناتے ہوئے جواب دیا
“یہ واقعی بہت خوبصورت ہے دیکھیے کاشان”
ثوبان کے بریسلٹ پہنانے کے بعد رنعم نے ستائشی نظروں سے دیکھ کر کہا ساتھ ہی وہ کاشان کے پاس اٹھ کر گئی تاکہ اسے بھی بریسلیٹ دکھا سکے۔۔۔۔ رنعم نے اپنی کلائی آگے بڑھائی مگر کاشان کے دیکھنے سے پہلے ہی بریسلیٹ اس کے ہاتھ سے نیچے فرش پر گر گیا۔۔۔ جسے کاشان نے اٹھایا
“بریسلیٹ تو واقعی خوبصورت ہے لیکن اس کے نگ میں دراڈ پڑگئی”
کاشان نے بریسلیٹ کو دیکھتے ہوئے کہا
“کہاں پر دکھائیں”
رنعم کے بولنے پر کاشان نے اس کے ہاتھ میں بریسلیٹ دیا
“اووو یہ میرے ہاتھ سے گر گیا شاید اس وجہ سے”
رنعم کو افسوس ہونے لگا
“کوئی بات نہیں میں اسی ڈیزائن کا دوسرا لے لوں گا”
ثوبان نے رنعم کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا اور اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا
“ارے نہیں یہ ریپیر ہو جائے گا،، رنعم تم یہ بریسلیٹ مجھے صبح دے دینا آفس جاتے ہوئے”
کاشان نے رنعم کو دیکھ کر کہا تو اس نے اسمائل دے کر اثبات میں سر ہلایا اور ثوبان کے پاس جاکر بیٹھ گئی
“اور یہ ایک ڈریس بھی مجھے تمہارے لیے پسند آیا تھا”
ثوبان نے ٹیبل پر رکھا شاپر رنعم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“تم تو یار ٹپیکل بھائی بن گئے ہو جو بہن کے گھر خالی ہاتھ نہیں آتے۔۔۔ اب میں اپنے بھائی کو مس کر رہا ہو”
کاشان نے ثوبان کو دیکھ کر چھیڑتے ہوئے بولا
“زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میری زندگی میں تمہاری کیا اہمیت ہے یہ تم اچھی طرح جانتے ہو”
ثوبان کی بات پر کاشان ہنسا رنعم نے مسکرا کر شاپر میں موجود ڈریس نکال کر دیکھا تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ ایک دم تھم گئی۔۔۔ ڈریس بہت خوبصورت تھا مگر اس کی آستینے غائب تھی بے ساختہ اس کی نظریں کاشان کے چہرے پر گئی جو آنکھیں سکھیڑے ڈریس کو ہی دیکھ رہا تھا
“کیا ہوا پسند نہیں آیا تمہیں”
ثوبان نے رنعم کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا
“نہیں بھیا یہ تو بہت اچھا ہے بلکہ میں تو آج ہی شاپنگ کر کے آ رہی ہوں کاشان کے ساتھ۔۔۔ اپنے لیے ایسا ہی میں نے ایک ڈریس لیا ہے”
رنعم نے مسکرا کر بات بناتے ہوئے ثوبان کو بتایا
“تو کیا ہوا وہ پھر کبھی پہن لینا،، یہ ثوبی تمہارے لئے اتنے پیار سے لے کر آیا ہے اسکے ریسیپشن پر تم یہی پہننا”
ثوبان کے کچھ بولنے سے پہلے کاشان رنعم کو دیکھ کر بول پڑا رنعم کاشان کو دیکھنے لگی
“ارے یار کچھ بھی پہن لینا اس سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ سیرت اور مما کے لیے پسند آیا تو رنعم کے لیے بھی پسند آگیا مجھے۔۔۔۔ تم دونوں یہ بتاؤ روکنے کیوں نہیں آرہے ہو گھر پر اور رنعم خاص کر تمہیں بابا کتنا مس کر رہے ہیں”
ثوبان نے بات ختم کر کے نیا موضوع چھیڑ دیا اور رنعم اسی سے بچنا چاہ رہی تھی
“یار میرا تو مشکل ہے پھر کبھی آ جاؤں گا ایسا کرو آج رنعم کو لے جاؤ اگر اس کا موڈ ہے تو کاشان کی بات پر رنعم کو رونا ہی آنے لگا اس نے افسوس بھری نگاہ کاشان پر ڈالی اور ثوبان کی طرف دیکھ کر بولنے لگی
“بھیا آج تو ممکن نہیں ہے انشاءاللہ پھر کبھی چکر لگاؤں گی”
رنعم نے معذرت خواہانہ لہجے میں ثوبان کو دیکھتے ہوئے بولا
“اور میں آج مائینڈ بنا کر آیا تھا کہ تم دونوں کو اپنے ساتھ لے کر جاؤنگا” ثوبان نے رنعم کو دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے آنے کا اصل مقصد بتایا پر نظریں جھکا کر نیچے دیکھنے لگی
“ارے یار یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔۔۔ رنعم اپنے بھیا کو ایسے ہی گھر بیچنے کا ارادہ ہے کھانا بناؤ جاکر آج ثوبی ہمارے ساتھ ڈنر کرے گا”
کاشان موضوع بدلا رنعم کچن میں چلی گئی
بے دلی سے اس نے فریزر سے چکن نکالا اور یخنیٰ چڑھانے لگی تب ہی کاشان کچن میں آیا
“کیا بنا رہی ہو،، میری ڈول کو کچھ میری ہیلپ چاہیے”
وہ رنعم کی پشت پر کھڑا ہو کر رنعم کے گرد ہاتھ باندھ کر پیار سے پوچھنے لگا
“یخنی پلاؤ جلدی بن جائے گا وہی بنا لیتی ہو ساتھ میں اسٹیکز اور کباب فرائی کر لیتی ہو۔۔۔۔ کاشان آپ بھیا کے سامنے ایسی باتیں کیوں کر رہے تھے جو میرے لئے امتحان کا باعث بنے”
رنعم نہ چاہتے ہوئے بھی کاشان سے شکوہ کر بیٹھی کیوکہ اس کا دل اچانک اداس ہو گیا تھا
“کیا کہہ دیا یار میں نے ایسا”
کاشان اس کا چہہرہ اپنے سامنے کیے حیرت سے پوچھنے لگا
“آپ بھیا کے سامنے کہہ رہے تھے کہ میں ان کا لایا ہوا ڈریس پہنوں جب کے آپ نے خود۔۔۔۔۔”
رنعم نے اپنی بات ادھوری چھوڑی اس کے ہاتھ پر سگریٹ کا نشان ابھی بھی موجود تھا اور وہ اس دن کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی
“تو میری جان اس میں پرابلم کیا ہے اس ڈریس میں سلیوز لگوالینا تم نے دوسرے کپڑوں میں بھی تو سلیوز لگوائی ہیں”
کاشان اس کی اداسی محسوس کر کے بانہوں میں لیتا ہوا بولا
“آپ نے میرے رکنے کا کیوں بولا بھیا کے سامنے”
رنم کاشان کے سینے پر سر رکھے اس کے دل پر اپنی انگلی سے R بناتی ہوئی بولی۔۔۔۔ کاشا نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کا چہرہ تھاما
“تمہارا دل چاہ رہا ہے آنٹی انکل کے پاس جانے کا”
کاشان کے انداز میں نرمی دیکھ کر رنعم نے اثبات میں سر ہلایا
“تو پھر آج ثوبی کے ساتھ چلی جاؤں مگر کل میرے آفس کے ٹائم پر آنے سے پہلے واپس اپنے گھر آ جانا۔۔۔۔ جیسے تمہارا بھئیا تمہاری ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا ایسے ہی تمہارا شوہر تم سے دوری نہیں افورڈ کر سکتا”
کاشان نے یونہی اس کا چہرہ تھام کر کہا تو رنعم مسکرا دی
“آئی لو یو”
رنعم کے اظہار پر کاشان نے مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹ رنعم کے ماتھے پر رکھے
“میں تم سے تھوڑا سا زیادہ”
وہ رنعم کو بولتا ہوا واپس ڈرائینگ روم میں چلا گیا
رنعم مسکراتے ہوئے جلدی ڈنر کی تیاری کرنے لگی تھوڑی دیر پہلے چھائی ہوئی افسردگی اب غائب ہو چکی تھی کیوکہ آج وہ کتنے دنوں بعد اپنے مما بابا کے پاس رکھنے جا رہی تھی
****
ثوبان کے ساتھ رنعم گھر میں داخل ہوئی تو وہاں پر عاشر بھی موجود تھا وہاں پر عاشر موجودگی پر رنعم نے شکر ادا کیا کہ کاشان یہاں پر موجود نہیں۔۔۔ بہروز اور یسریٰ رنعم کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے سیرت بھی اس سے بہت خوشدلی سے ملی
رات کے بارہ بجے تک ثوبان، عاشر، سیرت اور رنعم ہال میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے اس کے بعد رنعم بہروز اور یسریٰ کے پاس آگئی
“اب ثوبان اور سیرت کے فنگشن والے دن واپسی پر کاشان اور تم یہی رکنا۔ ۔۔ میں نے کاشان سے بھی کہہ دیا ہے۔۔۔ آج سب موجود ہیں صرف تمہاری کمی محسوس ہو رہی تھی”
یسریٰ کے کہنے پر رنعم ایک دم چونکی
“آپ کی کب بات ہوئی کاشان سے”
رنعم یسریٰ سے پوچھنے لگی
“یہی کوئی دس سوا دس بجے جب تم چاروں بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے،، میں نے سوچا میں اپنے داماد سے بات کرلو”
یسریٰ کی بات پر رنعم نے بے ساختہ گھڑی میں ٹائم دیکھا
“اوہ ایک بجنے والا ہے اب۔۔۔ آپ دونوں سو جائیں میں بھی سوتی ہو کافی دیر ہو گئی آج”
رنعم نے صوفے سے اٹھتے ہوئے شب بخیر کہا اور روم سے نکل گئی
“وہ اپنے کمرے میں آئی،،، ٹیبل پر رکھا اس نے اپنا موبائل اٹھایا جس پر کاشان کی 30 مسڈ کالز شو ہورہی تھی رنعم نے جلدی سے کاشان کو کال ملائی
“کہاں پر موجود تھی تم”
بیل کے جاتے ہی فون اٹھا لیا گیا مگر کاشان کی آواز اس کے غصے کا پتہ دے رہی تھی
“کاشان میں مما بابا کے پاس بیٹھی تھی اور اپنا موبائل بیڈروم میں ہی بھول گئی تھی۔۔۔ ابھی آپ کی اتنی ساری کالز دیکھی آپ ٹھیک ہے ناں”
رنعم نے ایک سانس میں وضاحت دینے کے ساتھ کاشان سے پوچھا
“باقی سب کہاں پر ہے”
وہ اب بھی غصے میں رنعم سے پوچھ رہا تھا
“سب اپنے اپنے رومز میں موجود ہیں کاشان،، کیا ہوگیا آپ کو”
اس طرح وضاحت دیتے ہوئے اسے اپنی ذات کتنی ہلکی لگ رہی تھی
“ابھی اور اسی وقت تیار ہو جاؤ میں لینے آ رہا ہوں تمہیں،،، کوئی فالتو بات اس وقت مجھ سے مت کرنا”
کاشان نے کہنے کے ساتھ ہی کال کاٹ دی
رنعم اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رو پڑی۔۔۔دروازے کی دستک پر رنعم نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے اور دروازہ کھولنے گئی
“سو تو نہیں گئی تھی۔۔۔ میں نے سوچا آج تم پہلی دفعہ رک۔۔۔۔ رنعم کیا ہوا تمہیں تم روئی ہو کیا”
سیرت دروازہ کھلتے ہی نان اسٹاپ بولنا شروع ہوگئی مگر رنعم کی سرخ آنکھیں دیکھ کر اپنی بات بھول گئی اور غور سے اس کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“نہیں آپی وہ تو سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے بس”
رنعم دو انگلیاں سے سر دبا کر بولی
“یہاں دیکھو میری طرف سر میں تو تمہارے بالکل درد نہیں ہو رہا ہے اتنا مجھے معلوم ہے چلو جلدی سے بتاؤ کیا ہوا ہے”
سیرت اس کے گال پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر بولی
“کچھ نہیں ہوا آپی سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔ سونے کی کوشش کر رہی تھی،،، درد کی وجہ سے نیند نہیں آرہی”
رنعم بے بسی سے مسکراتے ہوئے بولی
“اچھا رکو میں پین کلر لاتی ہو وہ کھا لینا آرام آجائے گا” سیرت کہتے ہوئے جانے لگی
“پین کلر میں نے لی تھی دراصل اس بیڈ روم میں سونے کی عادت نہیں رہی نا۔۔۔ تو بے چینی بھی ہو رہی ہے اب سو نہیں پاو گی تو مزید درد ہوگا اس وجہ سے میں نے کاشان کو بلا لیا ہے”
رنعم نے بات بناتے ہوئے کہا
“تم پاگل تو نہیں ہو جو اتنی رات کو بلا لیا اُسے اور اس طرح رات میں جاؤ گی تو گھر میں سب کیا سوچیں گے”
سیرت نے اس کو دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا
“کچھ نہیں ہوگا میں صبح مما کو کال کر کے بتا دوں گی۔۔ آپ بھی میری وجہ سے پریشان مت ہو”
رنعم میں بال بنا کر دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے سیرت سے کہا
“رنعم سب ٹھیک ہے نا تم کچھ چھپا تو نہیں رہی”
سیرت نے جانچتی ہوئی نظروں سے اس کو دیکھ کر دوبارہ پوچھا تو رنعم مسکرا دی
“آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں آپ سے کچھ چھپاؤں گی بڑی بہن ہے آپ میری،، سب ٹھیک ہے”
رنعم نے سیرت کے گلے لگتے ہوئے کہا
“چلو تم کہہ رہی ہوں تو سب ٹھیک ہوگا”
سیرت نے اس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا رنعم کا موبائل بیچنے لگا
“چلو میں بھی اس کاشی کے بچے سے مل لیتی ہوں” سیرت نے اس کے موبائل پر نظر ڈالتے ہوئے کہا
“نہیں آپی آپ ریسٹ کریں گھر پہنچنے کے بعد آپ کو کال کرو گی اوکے بائے”
رنعم بولنے کے ساتھ ہی اپنا بیگ لے کر روم سے باہر نکل گئی سیرت ایک دفعہ پھر اس کے رویے پر غور کرنے لگی
****
“وہاں پر عاشر موجود تھا یہ بات تم نے مجھے کال کر کے کیوں نہیں بتائی”
کار میں تو ان دونوں کے درمیان خاموشی رہی مگر گھر آنے کے ساتھ ہی کاشان رنعم سے باز پرس پر اتر آیا
“اگر عاشر بھائی وہاں پر موجود تھے۔۔۔ تو یہ کوئی بریکنگ نیوز نہیں تھی جو میں آپ کو فون کر کے بتاتی”
رنعم کے بولنے کی دیر تھی کاشان نے لب بینچ کر اس کا منہ پکڑا
“زبان چلاؤں گی تم میرے آگے،، بولو”
کاشان اس کا جبڑا دبائے اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ رنعم نے اس کا ہاتھ ہٹا کر اپنا منہ چھڑانا چاہا مگر ناکام ہونے کی صورت میں اپنی کوشش ترک کر دی۔۔۔۔ کاشان نے اس کا منہ جھٹکے سے چھوڑا تو وہ روم کے دروازے سے جا لگی
“نہیں چلاتی آپ کے آگے زبان،، آج بھی آپ اپنے غصے کا نشانہ بنائے مجھے،، جیسے شروع سے بناتے آئے ہیں مگر اس کے بعد کاشان، پلیز مجھ سے ایکسکیوز مت کریے گا مجھے منائیے گا مت”
بولنے کے ساتھ ہی رنعم کی سبز آنکھیں برسنا شروع ہوگئی
“عاشر کی آنکھوں میں اگر تم اپنے لیے محبت دیکھتی، تو تمہیں میری فیلنگز سمجھ میں آتی۔۔۔ کتنا برا لگتا ہے مجھے اس کا دیکھنا تمہاری طرف”
کاشان کا بس نہیں چلا تو اس نے کہتے ہوئے زور سے دروازے پر ہاتھ مارا
“آپ نے میری آنکھوں میں کس کے لیے محبت دیکھی ہے کاشان،، اپنے لیے یا عاشر بھائی کے لیے،، آج اس بات کا جواب دیں مجھے۔۔۔۔ میں نے ہمیشہ آپ سے محبت کی ہے تو پھر آپ آخر کیوں اتنی انسکیور ہیں”
رنعم کاشان کے غصے کی پروا کئے بناء اس کا چہرہ اپنے نازک ہاتھوں میں تھام کر روتے ہوئے اس سے سوال کرنے لگی
“اس طرح کا رویہ مت اختیار کیا کریں کاشان،، مجھے دکھ پہنچتا ہے،، تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ میں آپ کو کس طرح سمجھاؤ”
رنعم اب روتے ہوئے کاشان کے سینے سے لگ کر اپنی انگلی سے اس کے دل پر R بنا کر مٹانے لگی کاشان خاموش کھڑا تھا اپنے سینے سے لگی رنعم کی باتیں سنتا ہوا اسکی انگلیوں کی حرکت دیکھ رہا تھا
“مجھے آپ کہتے ہیں کہ مجھ سے کبھی نفرت مت کرنا۔۔۔ مگر آپ تو میرا اعتبار کیا کریں کاشان۔۔۔۔ ہمارے رشتے میں اعتبار ہوگا ناں تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ میں کیسے آپ کو اپنا اعتبار دلاو،، پلیز مجھ پر اعتبار کریں”
رنعم روتے ہوئے بے بسی میں اپنی مٹھی بند کر کے نازک ہاتھ سے مُکہ بنا کر کاشان کے سینے پر مارنے لگی
کاشان نے اپنا ایک ہاتھ رنعم کی کمر کے گرد حائل کر کے اپنے دوسرے ہاتھ سے رنعم کی کلائی کو تھاما اور اپنے ہونٹوں سے لگایا۔۔۔۔
اسے اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا جگ میں سے پانی نکال کر گلاس رنعم کے ہاتھ میں تھمایا۔۔۔ رنعم نے دو گھونٹ پانی پی کر گلاس سائڈ پر رکھا
“سوجاو”
وہ رنعم کو بیڈ پر لٹاتا ہوا خود اپنا سگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر اٹھا کر دوسرے روم میں چلا گیا
*****
رات کا آخری پہر تھا جب رنعم کی بے چینی سے آنکھ کھلی۔۔۔۔ کاشان اسے بیڈ پر لٹا کر خود دوسرے روم میں چلا گیا تھا معلوم نہیں رنعم کی کب آنکھ لگی۔۔۔۔ کب کاشان واپس اپنے روم میں آیا اس کے برابر میں لیٹا،، اسے خبر نہیں تھی
رنعم نے کاشان پر ایک نظر ڈالی تو وہ بے خبر سو رہا تھا۔۔۔ روم کا اے۔سی بند تھا رنعم نے کھڑکی کھولی۔۔۔۔ تیز بارش برس رہی تھی رنعم نے دوبارہ کاشان کو دیکھا وہ اب بھی گہری نیند سویا ہوا تھا
معلوم نہیں رنعم کے دل میں کیا سمائی وہ فلیٹ سے نکل کر اپنے فلیٹ کی اوپر چھت پر چلی گئی بارش زوروں سے برس رہی تھی رنعم رات کے پہر چھت پر اکیلی تھی بادل بہت زور سے گرجا مگر شادی کے دو ماہ کے اندر شاید وہ اتنی بہادر ہوگئی تھی کہ اسے بادلوں کی گڑگڑاہٹ سے اب ڈر نہیں لگتا تھا شاید اسے کاشان کے غصے کے علاوہ آب کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا تھا
اگر کاشان کو معلوم ہوگیا کہ میں یوں بارش میں اکیلی چھت پر موجود بھیگ رہی ہو تو۔۔۔۔
کاشان کے ساتھ ہے رہتے اس کا غصہ برداشت کرتے وہ شاید ڈھیٹ ہوگئی تھی یا عادی۔۔۔
رنعم نے سوچتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ کھولے آنکھیں بند کر کے چہرہ اوپر کئے وہ آئستہ سے کا گول گوم رہی تھی تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے اوپر کسی نظریں محسوس کی بھلا اس وقت کون ہو سکتا تھا رنعم نے سوچتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں تو اپنے سامنے کاشان کو کھڑا پایا وہ خاموشی سے اسی کو دیکھ رہا تھا
رنعم کو چند ماہ پہلے والا منظر دماغ میں آیا کاشان نے اس کے اوپر کس طرح غصہ کیا تھا بارش میں بھیگنے پر۔۔۔
کاشان رنعم کو دیکھ کر اس کی طرف چلتا ہوا آیا رنعم کو لگا اب وہ اس پر غصہ ہوگا
کاشان نے ہاتھ کا کٹورہ بنایا بارش کا پانی جمع کر کے چھپاک سے رنعم کے منہ پر مارا جیسے وہ ثوبان کے منہ پر مارتی تھی رنعم نے حیرت سے کاشان کو دیکھا۔۔۔ کاشان مسکرا کر اسے بانہوں میں چھپا لیا
“میری ڈول کا گزارا نہیں ہوتا بارش میں بھیگے بناء”
رنعم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا کاشان کے چہرے پر اس وقت غصے کا شائبہ تک نہ تھا رنعم میں دوبارہ سے اس کے سینے پر ٹکا دیا اور انکھیں بند کرلی
