Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode

التمش نے اذہاد کو بتایا تھا۔کہ حور نے فون پر انہیں صاف الفاظوں میں اذہاد سے دور رہنے کو کہا تھا۔۔
وہ اس کی باتوں سے اچھے سے سمجھ گئے تھے کہ وہ انہیں پسند نہیں کرتی اور ڈرتی ہے کہ وہ جنّت اور زیاد کی طرح اسے بھی اذہاد سے دور کر دیں گے۔۔ تبھی اذہاد نے انہیں خاموشی اختیار کرنے کو کہا تھا جب تک وہ اسے اس بات کے لئے خود راضی نہیں کر لیتا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤🌷❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد جیسے ہی اس سے اس معملے پر بات کرنا شروع کرتا یا تو حور اٹھ کر چلی جاتی یا پھر اس سے ناراض ہو کر کچھ بھی نا کھا پی کر خود کو نقصان پوھنچاتی۔۔۔
اذہاد کی کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ آخر کیا کرے۔۔کیسے اسے سمجھاۓ۔کیسے مناے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔🌷❤🌷۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی یہ کیسا ہے؟ وہ اس کے ساتھ شاپنگ کے لئے آئی تھی جب ایک شرٹ اس پر رکھتی دیکھنے لگی۔۔
حور میرے لئے شاپنگ کرنی تھی یا تمھیں خود کے لئے؟؟ وہ منہ بناتا اس کے ہاتھ سے شرٹ لیتا بولا۔۔
وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی تھی جاتی خود کے لئے تھی مگر خریداری اس کے لئے کر کے لاتی تھی۔۔۔
پھر جہاں اسے اذہاد کی ایک ایک چیز کا خیال ہوتا تھا وہی اذہاد حور کی ایک ایک چیز خود کی پسند سے لیتا تھا۔۔۔
اب بھی وہ اس سے تھوڑا دور ہٹ کر اس کے لئے ایک شرٹ پسند کر رہی تھی۔۔جب اسے زور کا چکر آیا۔۔اس نے خود کو سمبھالنے کے لئے سامنے کی دیوار کو پکڑنا چاہا مگر کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔۔اور پھر اس سے پہلے کہ وہ زور سے زمین پر گرتی اذہاد نے زور سے اسے پکارتے ہوے گرنے سے پہلے ہی تھام لیا۔۔
حور کیا ہوا؟؟ وہ زور سے چیخا تھا۔۔دل کو جیسے کوئی مٹھی میں جکڑ کر اسے دھڑکنے سے روک رہا ہو۔۔
حور نے بند ہوتی آنکھوں سے اذہاد کو دیکھا تھا اور پھر جیسے اس کی گردن پیچھے کی طرف لڑکھ گئی۔۔
وہ بازوں میں بھرتا اسے تیزی سے بھاگنے لگا۔۔
وہ اپنی گاڑی کو چھوڑ کر سامنے کھڑی ٹیکسی میں جلدی سے بیٹھتا ڈرائیور کو ہسپتال چلنے کو کہا۔۔
حور ۔۔اذہاد کے آنسو حور کے چہرے کو تیزی سے بھگو رہے تھے۔۔وہ دیوانوں کی طرح کبھی اس کے چہرے کو تھپ تھاپاتا تو کبھی اس کے وجود کو جھنجھوڑ کر اسے حوش میں لانے کی کوشش کرتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔❤🌷❤۔۔۔
یا اللہ‎ میری حور کو کچھ نا ہو۔۔۔اس کی ہر تکلیف ہر دکھ درد بیماری تو مجھے دے دے۔۔بس میری حور کو ٹھیک کر دے اسے پہلے جیسا ہنستا مسکراتا ہوا مجھے لوٹا دے۔۔۔خالی رکھی کرسیوں پر اکیلا بیٹھا وہ تڑپ کر روتا اپنے رب سے فریاد کر رہا تھا۔۔۔
اس کی ذرا سی جدائی جیسے اذہاد کو اپنی زندگی موت کی طرف جاتی محسوس ہونے لگی تھی۔۔
وہ مسلسل 2 گھنٹوں سے روتا ہوا دعائیں کر رہا تھا اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔۔۔
مسٹر اذہاد۔۔ڈاکٹر کی آتی آواز پر اس نے روتے ہوے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا آنکھوں میں ایک ڈر اور خوف تھا۔۔
آپ رو رہے ہیں؟؟ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔۔وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔۔
اذہاد نے نا سمجھی سے ڈاکٹر کو دیکھا۔۔
مبارک ہو آپ فادر بننے والے ہیں۔۔اذہاد کو ایسا لگا جیسے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔۔جی؟؟
ڈاکٹر مسکراتی ہوئی پھر اسے ساری بات بتانے لگی۔۔
اس کے حادثہ میں سر پر لگنے والی گہری چوٹ اور سات مہینے کوما میں ہونے کی وجہ سے اسے اس کنڈیشن میں چکر آسکتے ہیں۔۔جس پے گھبرانے کی بلکل ضرورت نہیں۔۔۔۔
حور سے مل سکتا ہوں؟؟ لبوں پے آتی مسکراہٹ اور نم آنکھوں سے بولا۔۔۔
ڈاکٹر ہاں کا اشارہ کرتے ہوے وہاں سے آگے بڑھ گئی۔۔۔
اذہاد دروازہ کھول کر تیزی سے اندر آیا تھا۔۔
حور جو اٹھ کر بیٹھ ہی رہی تھی اذہاد کو اندر آتا دیکھ کر ہنستے ہوے دونوں ہاتھ اس کی طرف اٹھاے۔۔
اذہاد تیزی سے اس کی طرف آتا زور سے اس کے سینے سے لگا تھا۔۔۔کہاں وہ کچھ دیر پہلے رو رو کے بے حال ہوا وا تھا اب اس کے کمرے میں گونجتے زندگی سے بھرپور قہقے روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔❤🌷❤🌷۔۔۔۔۔۔
اذہاد اور حور کی خوشی کا کوئی عالَم نہیں تھا۔۔
اذہاد حور کا پھولوں کی طرح خیال رکھتا تھا۔۔پاکستان جیسے ہی اس خوشی کی خبر پوھنچی سب اس سے ملنے اور ان کی خوشی میں چار چاند لگانے لندن پوھنچ گئے۔۔
اذہاد بھی اپنی اس خوشی میں اور حور کو اس حالت میں کوئی بھی ٹینشن دینے کے خیال سے التمش کا چیپٹر ابھی بند کر چکا تھا۔۔۔
وہ جتنا اس کا خیال رکھتا تھا حور اس سے بڑھ کر اس کا خیال رکھتی تھی۔۔جو بھی کھانا وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھلاتا حور جب تک اسے آدھا کھانا نا کھلاتی خود نہیں کھاتی۔۔وہ جتنا اسے آرام کا کہتا وہ اتنا ہی اس کے پیچھے پیچھے رہتی۔۔مجبور اذہاد کو اس کی آرام کی خاطر خود بھی اس کے ساتھ آرام کرنا پڑتا۔۔
عظمیٰ ارتضیٰ اور باقی سب تو ان دونوں کی عجیب غریب افلاطونی محبت کو دیکھ کر ہنستے رہتے تھے۔۔عظمیٰ تو حور کا خیال رکھنے آئی تھی مگر اذہاد کو دیکھ کر ان کی ساری فکر دور ہوگئی۔۔کوئی گنجائش ہی نا چھوڑی تھی اذہاد نے اپنی محبت میں۔۔
عنایا تو صاف منہ پر اس کا مذاق بھی اڑا دیتی تھی جسے سن کر حور صرف مسکراتی تھی۔۔
دن بہت تیزی سے گز رہے تھے اور بہت جلد وہ وقت بھی آگیا جب ڈاکٹر نے اذہاد کی گود میں لاکر ایک بہت پیاری سی بچی کو دیا۔۔۔
اللہ‎ نے اسے اپنی رحمت سے نوازا تھا۔۔ایک بہت پیاری اور حسین سی بیٹی دے کر اسے دنیا میں ہی جنّت اور حور عطا کر دی تھی۔۔اس معصوم اور حسین وجود کو باہوں میں اٹھاۓ اس پل وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تصور کرتا رہا تھا۔۔۔بے تحاشہ خوشی کو محسوس کرتا اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلتا سوئی ہوئی پری پر گرا۔۔اپنے باپ کے آنسو کو چہرے پر محسوس کرتی وہ کسمسائی۔۔اذہاد نے محبت سے اسے چوم لیا اور سینے سے لگایا۔۔
اذہاد نے حور کے ماتھے پر ہلکے سے اپنے لب رکھے۔۔وہ مسکراتی ہوئی اسے کاندھے کی طرف سے دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملاتی اس کے گرد اپنے نازک ہاتھوں کا حصار باندھا۔۔
تھینک یو۔۔اذہاد نم آنکھوں سے اسے مسکرا کر دیکھتا بولا۔۔
حور نے آگے بڑھ کر اس کی نم آنکھوں کو محبت سے چوم لیا اور اس کے کاندھے پر سر رکھ کر اس کی گود میں سوئی معصوم سے وجود کو دیکھنے لگی۔۔
ان کی دنیا مکمل ہو گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔❤🌷۔۔۔۔۔۔۔
حور نے بچی کا نام جنّت رکھا تھا۔۔اذہاد نے اپنی زندگی میں دو ہی نصف نازک سے بے پنہا محبت کی تھی۔۔ایک اس کی مما جنت اور دوسری حور۔۔
جنّت جسے وہ اپنے بچپن میں ہی کھو چکا تھا۔۔جس کا درد ہر پل اس کے ساتھ رہتا کہیں نا کہیں حور کو محسوس ہوتا رہتا تھا تبھی حور نے اس ننھی پری کا نام جنّت رکھا تھا۔۔اذہاد کا درد وہ کبھی ختم تو نہیں کرسکتی تھی۔۔مگر اس ننھی پری کی صورت وہ اذہاد کو پھر اس کی جنّت سے ملا تو سکتی تھی۔۔ایک بار پھر اذہاد اپنی جنّت کو پا کر بہت خوش تھا۔۔جو اس کی بیٹی تھی۔۔اب اس کے پاس جنّت بھی تھی اور اس کی حور بھی۔۔۔اسے اور کسی چیز کی خواہش نہیں رہی تھی۔۔۔
ہادی کیا جنّت مما یا بابا کے گال پر بھی ایسی ڈیمپل پڑتا تھا؟؟حور اذہاد کے چہرے کو غور سے دیکھتی اس کے ڈیمپل پر ہاتھ پھیرتی بولی۔۔
اذہاد جو جنّت کو گود میں اٹھاے پیار کرتا مسکرا رہا تھا حور کی بات سن کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔پتا نہیں مجھے نہیں یاد۔۔تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ وہ اب محبت سے حور کے گال چومتا ہوا بولا۔۔
ہادی جنّت کی آنکھیں پھر کس پر گئی ہیں؟؟ وہ اب جنّت کو غور سے دیکھتی سوچ کر بولی۔۔
جنّت کے نین نقش اذہاد اور حور دونوں پر گئے تھے۔۔
سرخ سفید رنگ بڑی بڑی آنکھیں اور بال حور جیسے جب کہ ناک ہونٹ آئی برؤ مسکراہٹ اور گال میں پڑتا ڈیمپل بلکل اذہاد جیسے تھے۔۔۔مگر آنکھوں کا رنگ نا تو حور جیسا تھا نا ہی اذہاد جیسا۔۔ایک دم ڈارک گرین چمکتی آنکھیں تھی جنّت کی۔۔۔
حور تم کتنا سوچتی ہو یار۔۔میری حور پر گئی ہیں جنّت کی آنکھیں۔۔وہ ہنستا ہوا اس کی توجہ ہٹاتا ہوا بولا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤🌷❤🌷
پاکستان سے سب کو آنے میں وقت لگنے والا تھا۔۔
آج حور کی ہسپتال سے واپسی تھی۔۔
جب اذہاد نے اپنے گھر کہ سامنے گاڑی روکی دونوں سامنے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔۔۔
اذہاد کے گھر کے سامنے بھاری پروٹکول کے ساتھ 4 سے 5 شاندار گاڑیاں کھڑی تھی۔۔
وہ حیران ہوتا گاڑی سے باہر آیا اس کی اجازت کے بینا کون تھا جو اتنے سب لوگوں کے ساتھ اس کی زاتی زندگی میں گھس آیا تھا۔۔۔
حور نے جنّت کو گود میں لیا ہوا تھا۔۔اذہاد اس کی طرف آتا جنت کو اس کی گود سے لیا اور اسے تھام کر باہر آنے میں مدد کرنے لگا۔۔
حور نے اذہاد کا بازو زور سے اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما ہوا تھا۔۔اسے اپنے چاروں طرف خطرے کی بو آرہی تھی۔۔
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوے۔۔تو دونوں نےحیران نظروں سے سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھا۔۔جنہیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں تھی کوئی بھی انہیں دیکھ کر آرام سے پہچان سکتا تھا کے وہ کون ہے۔۔
حور کی ساری پہیلیاں جیسے آج سلجھ گئی تھیں۔۔
ان کی شاندار قد گالوں میں پڑتا ڈیمپل اور خاص کر ان کی آنکھیں جن رنگ بلکل جنّت کی آنکھوں کے رنگ جیسا تھا۔۔یعنی وہ التمش عریض تھے۔۔اذہاد کے دادا۔۔اذہاد کا قد اس کی مسکراہٹ اس کے دادا پر گئی تھی۔۔۔حور کی سانس تیز رفتار سے چلنے لگی۔۔اذہاد کے ہاتھ پر رکھے اس کے ہاتھوں کی گرفت مضبوط ہو گئی۔۔
وہ اس عمر کے حصے میں بھی شاندار نظر آتے تھے۔۔
میرے بچوں میرے جگر کے ٹکڑوں خوش آمدید۔۔میرے سینے سے لگ کر میری سزا ختم کر دو۔۔وہ آنکھوں میں نمی لئے بازو پھیلاتے عجیب سی زبان میں بولے تھے۔۔۔۔جو حور کے سر سے گزر گئی تھی۔۔
اذہاد انہیں دیکھ کر پگھل گیا تھا وہ ان کے سینے سے لگنا چاہتا تھا مگر حور کی مضبوط گرفت اسے زنجیر لگی۔۔وہ نم آنکھوں سے حور کی طرف بےبسی سے دیکھنے لگا۔۔
بہت مشکل لمحہ تھا وہ کیسے اس کی التجا اور درد بھری آنکھوں کو دیکھ سکتی تھی۔۔مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی وہ اسے خود سے دور جاتا بھی تو نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔ڈر۔خوف کیا کچھ نہیں تھا حور کی آنکھوں میں۔۔تبھی وہ ایک فیصلہ کرتی اس کے بازو سے اپنا ہاتھ آہستہ سے ہٹا کر اسے آزاد کر دیا۔۔۔
اذہاد کو یقین ہی نا آیا تھا۔۔تبھی وہ مسکراتا ہوا ان کی طرف بھگا تھا اور زور سے ان کے سینے سے لو کر ان کی ساری سزاوں کو معاف کر دیا تھا۔۔۔
حور کی آنکھیں آنسوں سے بھری ہوئی تھی۔۔اس کا دل کر رہا تھا ابھی وہ جا کر زور سے اس کے سینے سے لگ کر اسے التمش سے دور کر دے۔۔۔
اذہاد کتنی ہی دیر ان کے سینے سے لگا رہا تھا برسوں کی پیاس تھی اتنی جلدی کیسے بجھ جاتی۔۔تبھی وہ آہستہ سے ان سے الگ ہوا تھا۔۔۔
جد (دادا ) یہ دیکھیں میری بیٹی۔۔وہ خوشی سے ان کی گود میں جنّت کو دیتا عربی میں بولا۔۔
بہت پیاری ہے ماشاءالله بلکل تم پر اور حور پر گئی ہے۔۔وہ اسے چومتے ہوے پیار سے عربی میں بولے۔۔
تبھی انہوں نے حور کی طرف دیکھا جو انہیں ہی ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔اور پھر ایک بازو اس کی طرف بھی پھیلا دیا۔۔
حور نے بے یقینی سے اذہاد کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔۔اور تبھی حور بھی ہنستی ہوئی سارے ڈر اور خوف بھلا کر ان کے سینے سے آکر لگ گئی۔۔۔
وہ دونوں عربی میں ہی ساری باتیں کر رہے تھے۔وہ دادا کو تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی ہاں اذہاد کو خوب گھور رہی تھی۔۔۔ان کی ایک بھی بات پلے نہیں پڑ اس کے۔۔
تبھی وہ مسکراے اور حور سے آسان انگلش میں آہستہ آواز میں بولے ۔۔میںنے اپنی جنّت اپنی خوشیاں بہت پہلے اپنے ہاتھوں سے خود کھوئی ہیں۔۔ایک عرصہ میں نے اس کی سزا بھی کاٹی۔۔میں معافی مانگتا۔۔۔
نہیں آپ پلیز ایسا مت کہیں۔۔۔حور شرمندہ ہوئی۔۔
مگر اس بار مجھے دیکھو دو جنتیں ملی ہیں اور اس کا شہزادہ بھی۔۔وہ مسکراتے اذہاد کو دیکھ کر بولے۔۔
گلے شکوے سب دور ہوے تھے۔۔ایک ساتھ اتنی خوشیاں ملی تھیں۔۔
وہ جو اتنی خاموشی سے آے تھے اتنی ہی خاموشی سے چلے بھی گئے تھے۔۔انہوں نے صرف اذہاد سے اتنی خواہش کی تھی جاتے ہوے کہ وہ ان سے اب منہ نا موڑے۔۔ان کے ساتھ رہ نہیں سکتا تو کبھی کبھی ان سے آکر مل لیا کرے۔۔۔کیا پتا کب آنکھیں بند ہو جایئں۔۔
اور اذہاد نے ان کے ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ ان سے ملنے ضرور آیا کرے گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔❤💞❤۔۔۔۔۔۔۔۔
(پانچ سال بعد )
وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگتی ہوئی اس کمرے میں آئی تھی جہاں اذہاد گہری نیند سویا ہوا تھا۔۔
الاب (بابا)۔۔وہ پیار سے اس کے چہرے پر بوسے لیتی اسے جگا رہی تھی۔۔
اذہاد اس کے وجود کی خوشبو اور محبت بھرے معصوم سے لمس کو بند آنکھوں سے محسوس کرتا مسکرایا۔۔۔
اس نے یہ انداز اپنے ماں باپ سے سیکھے تھے۔۔
اذہاد نے آنکھیں کھول کر جنّت کو دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔
میرا پیارا بچہ۔۔وہ آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا کر چومنے لگا۔۔
الاب۔۔اٹھیں سورج نکل گیا۔۔اس کے گلے میں اپنی ننھی باہیں ڈالتی ہوئی وہ اپنی ماں کی کاپی کرتی اذہاد سے بولی۔۔۔
اذہاد زور سے ہنسا۔۔
جنّت میری حور کہاں ہے؟؟ منہ لٹکا کر پیار سے بیٹی سے پوچھا۔۔
جنّت منہ پر ہاتھ رکھ کر کھلکھلائی۔۔۔
حور جنّت کے پیچھے آہستہ آہستہ اوپر سیڑهیياں چڑتی آرہی تھی۔۔وہ ایک بار پھر امید سے تھی اپنے بھاری وجود کی وجہ سے وہ جنّت کے پیچھے تیزی سے بھاگ کر نہیں آسکتی تھی۔۔اسے ڈر تھا وہ اس سے پہلے بھاگ کر اپنے باپ کو جگا چکی ہو گی۔۔
جتنا اسے سونے کا خبط تھا اتنا ہی جنّت نے اس کی نیندیں اڑائی ہوئی تھیں۔۔۔وہ اب ایک ماں تھی جسے اولاد کی فکر ہر نیند بھوک اور پیاس مٹا دیتی ہے۔۔
وہ جیسے ہی کمرے میں آئی تھی اذہاد پہلے ہی اٹھ کر قریب آچکا تھا۔۔
حور کو زور سے سینے سے لگاتا اس کا چہرہ چومتا ہوا۔۔عربی میں اسے صبح بخیر بولا۔۔
دونوں باپ بیٹی کی اس عربی زبان سے وہ تنگ آگئی تھی۔۔۔
میرے بیچارے شوہر کو اٹھا دیا۔۔وہ دکھ سے اذہاد کے سوے۔سوے سے چہرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتی بولی۔۔اذہاد نے اس کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا کر چوما۔۔۔
وہ جانتی تھی اذہاد اس کی فکر میں ہمیشہ کی طرح ساری رات سویا نہیں ہوگا۔۔اس کی ایک کروٹ پر وہ اٹھ کر اسے جب تک دیکھ کر تسلی نہیں کر لیتا تھا سوتا نہیں تھا اور پھر دوبارہ آنکھ لگنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔وہ صبح صبح جا کے تھوڑا بہت سو لیتا تھا۔۔اس کی نیند کی فکر پر حور فورن اٹھ کر جنّت کے کمرے میں جاتی تھی جہاں وہ صبح اٹھ کر جب تک اپنے باپ کی شکل نا دیکھ لیتی اسے سکون نہیں ملتا تھا۔۔وہ کتنی ہی دیر اسے بہلاتی رہتی مگر جنّت کو کسی پل سکون نہیں ملتا تھا اذہاد کو دیکھے بینا۔۔۔تبھی وہ حور سے بچ کر سیدھا باپ کے کمرے میں بھاگتی تھی اور اسے اٹھا کر ہی دم لیتی تھی۔۔
ابھی بھی باپ کو اٹھا کر اس کی شکل دیکھ کر اسے سکون مل گیا تھا۔۔تبھی یہاں سے وہاں بھاگتی پھر رہی تھی۔۔
ہادی آپ تھوڑا سو جایئں۔۔وہ محبت سے اسے دیکھتی بولی۔۔
اذہاد اس کے ماتھے کو چومتا ہوا مسکرا کر اسے سینے سے لگا گیا۔۔اس کی محبت دن با دن بڑھتی جا رہی تھی جیسے وہ اس کی محبت میں مزید حسین ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
حور پاکستان چلیں؟؟ آہستہ سے اس کے چہرے پر جھکتا ہوا بولا۔۔۔
حور حیران ہوئی۔۔ابھی تو وہ اذہاد کے دادا کے پاس رہ کر خوب گھوم پھر کر آے تھے۔۔اب اچانک پاکستان۔۔
کیا بات ہے بڑی جلدی مجھے آزاد کرنے کا سوچ لیا۔۔حور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرائی۔۔
ہاں اعتبار ہو گیا اب مجھے کہ تم اب میری قید سے کبھی نہیں بھاگ سکتی۔۔
حور ہنسی۔۔آپ کی اس قید پر میری ہزاروں آزادیاں قربان۔۔
حور کی بات پر اذہاد زور سے ہنسا۔۔۔اور بھی ہنستی ہوئی اس کی گردن میں منہ چھپا گئی۔۔۔
وہ پانچ سال بعد پاکستان جانے والی تھی۔۔ایسا نہیں تھا کے اذہاد اسے لے جانا نہیں چاہتا تھا بلکے اس کی دنیا اس کی زندگی اب اذہاد تھا اسے اب جگاوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ماں باپ سے روز ہی بات ہوتی تھی اذہاد کی محبت میں وہ سب بھول گئی تھی۔۔۔
اذہاد چاہتا تھا اس بار حور کے مشکل وقت میں سب اپنے اس کے پاس ہوں جنّت کے ٹائم وہ اکیلی تھی صرف اذہاد اس کے قریب تھا۔۔اتنا کچھ وہ جانتا بھی نہیں تھا۔۔مگر اس بار سب اس کے پاس ہونگے اس کا بہتر خیال رکھا جائے گا۔۔اس کی فکر اور خوشی کے لئے وہ پاکستان جا رہا تھا۔۔۔
دونوں کی وقت کے ساتھ بڑھتی ایک دوسرے کے لئے محبت امر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔💞❤ختم شد 💞❤۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *