Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12

ٹھیک ہوں وہ آگے سے ہٹتی اسے اندر آنے کی اجازت دے گی آزاد قدم اٹھاتا اندر آیا مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے جا ہی نہیں رہی تھی حور نے اندر آنے کے بعد اس کے ہاتھ سے پھول لیے آزہاد نے ہاتھ میں کاغذ کے بڑے بڑے بیگ بھی پکڑے ہوئے تھے۔۔ اس کی اتنی مہربانی پر حور کے دل و دماغ میں اچھے برے بہت سے سوال سر اٹھا رہے تھے۔۔وہ حور سے بنا کوئی بات کی کچن میں گیا حور اسے دھڑلے سے کچن میں جاتا دیکھتی رہی۔۔۔
حور آپ رات میں ڈری تو نہیں؟؟ اب پاؤں میں درد تو نہیں ؟!وہ آہستہ آہستہ چلتی اس کے پیچھے کچن میں آئی….وہ پلیٹوں میں کھانے پینے کی چیزیں نکالتا حور سے سوال بھی کر رہا تھا۔
آپ یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟ہٹے میں کر۔۔
آپ رہنے دے میں اتنا تو کر سکتا ہوں ویسے بھی ابھی آپ کا پاؤں ٹھیک نہیں ہے آپ کو زیادہ چلنے پھرنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں ہلکی سی موچ ہی تھی بس۔
وہ بھی چائے بناتی بولی۔۔ آزہاد خاموشی سے اسے چائے چڑھاتے دیکھتا مسکرایا۔
اذ ہاد نے ٹیبل سیٹ کی حور بھی چائے نکالتی ایک کرسی گھسیٹتی بیٹھ گئی حور کا دل بھی معمول سے زیادہ دھڑک رہا تھا وجہ اذہاد کی موجودگی تھی
مگر بہت سے ایسے سوال بھی تھے جو اسے خبردار کر رہے تھے۔۔
آپ کو پتہ ہے میں صبح اٹھا اور سوچا کیوں نہ بریک فاسٹ آپ کے ساتھ مل کر کیا جائے تو بس پھر میں اپنی سوچ کو حقیقت میں بدلنے کے لئے آپ کے گھر آ گیا۔۔وہ اس کی پلیٹ بناتا بولا ساری چیزیں کافی مہنگی جگہ سے خریدی ہوئی لگ رہی تھی اور کافی مزے دار بھی۔
مگر کیوں ؟؟اتنا کیوں؟؟ وہ اس کے لئے کر رہا ہے کہیں وہ مجھ سے کوئی۔۔۔۔۔؟؟
توبہ توبہ نہیں آزہاد ایسا نہیں لگتا وہ پلیٹ کو تو کبھی اسے دیکھتی سوچ رہی تھی۔
وہ پتہ نہیں کس جہاں کی باتیں کئے جارہا تھا اس سے اور وہ اسے دیکھتی اپنی سوچوں سے تانے بانے بن رہی تھی۔۔
کیا ہوا حور آپ کھا کیوں نہیں رہی؟؟ وہ ہاتھ روکتا اسے دیکھ کے بولا۔
حور سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔اذہاد پہلے تو اسکی خاموشی سے آنکھوں کو دیکھتا رہا پھر ایک دم سے الرٹ ہوا۔۔۔۔ آزہاد بہت سی باتیں اس کی آنکھوں سے ہی پڑھ لیتا تھا۔۔
اذہاد عریض آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟؟ اتنی مہربانی کی وجہ؟؟ میری مدد کی آپ نے اس کے لئے میں آپ کی شکر گزار ہوں مگر یہ معاملہ یہیں ختم ہو جانا چاہیے تھا۔۔یہ سب وہ بے حد سنجیدگی سے آنکھوں میں سخت تاثر لئے اسے دیکھتی بول رہی تھی۔۔۔
حور کی سرد باتوں سے زیادہ اس کی آنکھوں میں خود کے لئے ایک عجیب سا تاثر دیکھ کے اظہاد کے جسم میں بجلی سی دوڑ ی۔۔کچھ دیر پہلے لبوں کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوگئی تھی۔۔
آپ کہنا کیا چاہتی ہیں حور ؟؟اب وہ بھی اسے سنجیدگی سے دیکھتا سب کچھ چھوڑ کے کھڑا ہوا۔۔
آپ یہاں میرے سامنے بیٹھے ہیں اس لئے کہ آپ میرے محسن ہیں ورنہ میرے گھر میں کسی انجان انسان کو اندر آنے کی اجازت نہیں میں نے آپ کی جان اور آپ نے میری عزت بچائی بات ختم۔۔۔اس سب کا کیا مطلب سمجھو میں ؟؟میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں ؟
اور اب اظہاد کی برداشت جواب دے گی۔۔وہ زور سے کرسی کو لات مارتا تیزی سے ہور کی طرف آیا۔حور کی بولتی بند ہوگئی اس کا بدلتا روپ دیکھ کے اسے چند منٹ لگے تھے اپنے پرانی ٹون میں آتے ہوئے۔۔
ضبط کرتا جن سے آنکھیں لال ہو گئی تھی جبڑے سختی سے ایک کے اوپر ایک جمائے ہوئے ایک ہاتھ ٹیبل پر اور ایک ہاتھ سے اس کے کندھے کی طرف سے کرسی کو پکڑتا وہ حور کی طرف جھکا۔۔غصے سے اس کی سانسیں تیز چل رہی تھی۔۔غصے کو قابو کرتا اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔
کیا کہا تم ایسی لڑکی نہیں ہوں ۔۔۔۔تو کیا تمھیں میں ایسا نظر آتا ہوں ؟؟؟سخت آواز میں دھاڑا ۔۔۔
ہور اس کی دھاڑ پر اپنی جگہ سے اچھلی۔۔
تم نے اتنی جلدی میرے بارے میں اتنا غلط سوچ لیا وہ غصے میں آپ سے تم مخاطب کرتا ہوا بولا ۔۔میں تو سمجھتا تھا کہ تم میری آنکھوں سے میرے دل کا حال آرام سے جان لوگی مگر میں غلط تھا تم نے تو مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا حورین ارتضی۔
وہ ضبط کی انتہا بے جاتا بولا حور آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
کسی کے ساتھ ایسا کرنا تو دور میں نے کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تمہارے علاوہ۔۔میں نے تمہیں اپنی سر کا تاج بنایا میری محبت تو تم سے ایسی تھی جیسے آسمان اور زمین کے بیچ بارش کے پاکیزہ صاف اور شفاف قطرے تم سے محبت نہ ہو اس کے لئے بھی میں نے خود کو بہت روکا مگر یہ میرے اختیار میں نہیں تھا اذہاد کا ایک آنسو آنکھ سے ٹپکتا حورکی گود میں جا گرا۔۔اور اس وقت حور شرمندگی سے زمین میں گڑھ گی۔۔۔۔وہ ایکدم سیدھا ہوا میں یوں ہی نہیں آیا تھا تمہارے پاس کل رات میرے دل نے مجھ سے کہا تھا آزہاد ہور مشکل میں ہے اسے تمہاری مدد کی ضرورت ہے تم پر مصیبت آنے سے بھی پہلے میرے دل نے مجھے خبر کر دی تھی تھی میں یوں ہی تو نہیں تم سے بے پناہ محبت کرتا ۔۔
میں نے سوچا میں کچھ اچھا وقت آج تمہارے ساتھ گزاروں گا تم کل کے حادثے کو لے کے ڈری ہوئی ہوگی میں تمہیں وہ سب بھلانے میں مدد کروں گا تمہیں تھوڑی سی خوشی تھوڑی سی ہنسی دوں گا اور پھر تم سے اپنے دل کی بات کروں گا کہ میں تم سے کتنی محبت کرنے لگا ہوں۔۔
ہور بے بسی سے گردن جھکائے روتے ہوئے اسے سن رہی تھی
مگر تم نے مجھے اتنا گرا ہوا اتنا کم ظرف سمجھا ۔۔۔حور ارتضیٰ میں اب تمہیں اپنی شکل کبھی نہیں دکھاؤں گا۔۔بہت شکریہ اس کا وہ چائے کی بھری پیالیوں کی طرف اشارہ کرتا بولا اور لمبے لمبے ڈاگ بھرتا غصے سے چلا گیا۔۔۔
حور نے پلٹ کے بنا آواز کے اسے پکارا۔۔مگر وہ تو جا چکا تھا۔۔وہ اسے جاتا دیکھ کے رو دی۔۔۔حور یہ کیا کر دیا تم نے؟؟ حور تم اتنی جذباتی کیوں ہوگئی تم نے ذرا نہیں سوچا اگر وہ ایسا ہوتا تو کل سے اچھا موقع اس کے پاس نہیں تھا تم سے فائدہ اٹھانے کا۔۔ارے یہ میں کیا سوچ رہی ہوں وہ ایسا ہے ہی نہیں تو پھر ۔۔۔وہ زور سے آنکھیں میچے رودی۔۔اس نے میرا تھینکس بھی ایکسیپٹ نہیں کیا وہ چائے کی پیالیوں کو اور ناشتے سے بھری ٹیبل کو دیکھتی افسوس کر رہی تھی وہ بھوکے پیٹ چلا گیا تھا تو حور کیسے کھا لیتی وہ بھی آہستہ سے اٹھی اور کمرے میں آگئی ۔۔
_______________
حورین آج دن کیسا گزرا۔۔۔
وہ اداس سی گھٹنوں پہ تھوڑی رکھے آزہاد کو سوچ رہی تھی جب ہی رات کا کھانا بناتی بیلا نے پوچھا وہ آج رات بھی اس کے گھر روکی تھی حور کے پاؤں کی وجہ سے۔۔
بس سہی گزرا۔۔ اس نے یونہی بے خیالی میں جواب دیا۔۔
سب ٹھیک ہے نہ حورین ؟؟ بیلا دھپ سے اس کے پاس بیٹھی ہوئی بولی۔۔۔
حور سیدھی ہوئی ورنہ اس نے پھر سے شروع ہو جانا تھا مجھے بھوک لگی ہے بیلا کھانا بننے میں اور کتنا ٹائم ہے ایک تو تم مجھے کوئی کام کرنے نہیں دے رہی میں ٹھیک ہوں چل پھر سکتی ہوں روکو میں دیکھتی ہوں کیا کر رہی ہوں۔۔۔وہ اٹھنے لگی تو بیلا نے فورا اسے بٹھا دیا۔۔۔
چپ کر کے بیٹھ جاؤ سمجھی کل سے ویسے بھی سب کام تمہیں ہی کرنے ہیں آج آرام کر لو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور نے گھر پر کسی کو نہیں بتایا تھا جو حادثہ اس کے ساتھ ہوا تھا وہ انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ویسے بھی اللہ کے کرم سے اب وہ بالکل ٹھیک تھی۔اسے نیند نہیں آ رہی تھی وہ فون ہاتھ میں لے کر یوں ہی بیٹھی دیکھ رہی تھی کہ جب ہی اس کی نظر آزہاد نام سے موبائیل میں سیو نمبر پر پڑی۔وہ حیران ہوتی نمبر دیکھ رہی تھی اس نے تو ان سے نمبر نہیں مانگا تھا پھر یہ نمبر کہاں سے آیا ؟؟ اس نے ایک نظر سوتی ہوئی بیلا کو دیکھا اور آہستہ سے اٹھتی ہوئی باہر لاؤنچ میں آگئی۔
میں نے انہیں ٹھیک سے تھینکس بھی نہیں کہا اور وہ شاید مجھ سے بہت غصہ بھی ہیں کیوں نہ میں انہیں فون کرکے تھینکس بول دوں۔۔؟؟؟وہ تھوڑی دیر سوچتی رہی کہ کرےتوکیاکرے دل پاگل ہوا جارہا تھا کہ کرو کرو اور دماغ کہتا تھا نہیں نہیں وہ اس کے لئے جو محسوس کر رہی تھی ابھی وہ اس سے انجان تھی وہ صرف اسے اپنا محسن سمجھ رہی تھی باقی دوسری سوچوں کو وہ صاف اگنور کر رہی تھی۔اس نے اذہاد کے کیے گئے محبت کے عتراف کو بھی آرام سے رد کر دیا تھا۔دل تو اس کی ہر بات پہ دھڑکا تھا مگر دماغ نے صاف اسے جھٹلا دیا تھا وہ ابھی محبت وغیرہ کے ان جھمیلوں سے دور رہنا چاہتی تھی۔مگر کب تک ؟؟آہستہ سے دل کی بات پر لبیک کہتی نمبر ملایا۔۔
اذہاد جو اس وقت بزنس ڈنر پر سب کے ساتھ بیٹھ کے بات کر رہا تھا موبائل کی وائبریشن پر ایک نظر بس موبائل کو دیکھا وہاں ہرٹ بیٹ کے نام سے کال آرہی تھی۔اس نے جھپٹنے کے انداز میں موبائل اٹھایا اور سب سے ایکسکیوز کرتا شیشے کی سلائیڈ ہٹاتا باہر بالکونی میں آ گیا۔۔ازہاد کے ساتھ جو اس وقت بیٹھے تھے سب اسے حیران ہو کر دیکھنے لگے۔وہ ایسے بزنس میٹنگ کے دوران کبھی اٹھ کر نہیں جاتا تھا۔۔
حوریہ کیا کر رہی ہو پاگل ہوگئی ہو کیا بند کرو فون۔۔دماغ نے دل کو پیچھے کرکے آگے بڑھ کے غصہ دکھایا۔اور اس نے ڈر کے فورا موبائل بند کر دیا۔۔
اذہاد جو ابھی فون اٹھا کے کان سے لگانے ہی جارہا تھا سامنے بجتی ٹو ٹو سے حیران ہوتا موبائل کو دیکھنے لگا۔حور اس وقت کیوں فون کر رہی ہے ؟؟ وہ اس وقت کہیں مصیبت میں تو نہیں؟؟نہیں اگر ایسا ہوتا تو میرا دل سب سے پہلے مجھے خبر کرتا ۔۔۔یہ سوچتا اس نے خود سے ہور کا نمبر ملایا۔۔
اذہاد کی کال آتا دیکھ کے حور اچھلی اس نے جلدی سے نمبر کاٹا۔۔
اذہاد نے فون کان سے ہٹا کے موبائل دیکھا اور مسکرایا۔۔۔اچھا تو میڈم بات بھی کرنا چاہتی ہیں اور ڈر بھی رہی ہیں وہ شیشے کی بنی دیوار پر ہاتھ ٹکاتا جھکا۔وہ اس وقت کافی اونچائی پر کھڑا تھا جہاں سے نظر آتا خوبصورت لندن دور دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔۔
بچو گی تو تم بھی نہیں حور چاہے جتنا بھاگ لو بھاگ بھاگ کے تھک جاؤ گی مگر بچ نہیں سکو گی یہ اذہاد عریض کی محبت ہے کوئی عام انسان کی نہیں جس سے تم منہ پھیر کے چلی جاؤ۔میں تمہارے سارے راستے اپنی طرف موڑ دوں گا پھر تمہیں آنا میرے پاس ہی پڑے گا میں ہی تو تمہاری منزل ہوں اور پتہ ہے جب تم بھاگ بھاگ کے تھک جاؤ گی تو میں تمہیں سمیٹ لوں گا۔حور میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔اذہاد سائے کی طرح تمہارے ساتھ رہے گا
ہر خوشی اور غم میں تم مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی حور میں تمہارے وجود کا حصہ بن جاؤں گا۔جسے تم چاہ کر بھی کبھی الگ نہیں کر سکو گی۔ میں تم میں اس طرح سے دھڑکوں گا❤ حور ارتضیٰ کے اگر ساتھ ہوں تو زندگی اور جدا کر دوں تو موت۔۔۔تم میرے بغیر جینے کا تصور تک نہیں کروگی۔۔وہ آسمان کو دیکھتا اس میں حور کی معصوم تصویر کو تصورکرتا مسکرا دیا۔۔۔
اس کی دوبارہ کال نا آتے دیکھ کے حور نے شکر کیا اور بیڈ پر آکر آہستہ سے لیٹ گئی۔جیسے ہی آنکھیں بند کی آزہاد کی حسین شکل بند آنکھوں میں سما گئی۔اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی۔اور اٹھ کے بیٹھ گئی۔اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔
اب یہ سب تو ہونا ہی تھا وہاں بھاگ رہی تھی مگر کب تک۔۔۔
بیلا صبح اٹھ کر جلدی ہاسپٹل چلی گئی تھی حور تیار ہوتی باہر آئ گاڑی میں بیٹھی کچھ دیر سوچتی رہی اس کے بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور ایک فلاور شاپ پر روکی جہاں سے اس نے مختلف رنگ کے کچھ پھولوں کا گلدستہ بنوایا۔اور آزہاد کے گھر کی طرف جانے والے راستے پر چل دی۔بڑے سے حسین دروازے کو دور سے دیکھتی وہ کھڑی سوچ رہی تھی کہ ان پھولوں کو اس تک کیسے پہنچائے؟؟
تب ہی وہاں کھڑا ایک گارڈ اسے دیکھ کے دور سے چلتا اس کے پاس آیا۔۔۔یس میم ؟؟؟وہ اسے پہچان گیا تھا وہ پہلے بھی اسے ڈیلن کے ساتھ آتا دیکھ چکا تھا۔۔
یہ پھول آپ مسٹر آزہاد کو دے دیں گے؟؟ اس نے پھول آگے کرتے پوچھا۔۔
یس میم ۔۔۔گارڈ نے پھول اس کے ہاتھ سے لیے اور اندر کی طرف چل دیا۔۔۔
حور اسے اندر کی طرف بڑھتے دیکھ گاڑی میں بیٹھی اور واپسی کے لیے چل دی کیوں کہ وہ جانتی تھی پھول اس تک پہنچتے ہی وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آئے گا۔۔۔
آزاد اس وقت اپنے گھر کے جم میں ایکسرسایز کر رہا تھا کہ جب ہی پوش آپ کرتے اچانک سے بڑے سے شیشے سے نظر آتے آسمان کو دیکھا اسے لگا جیسے بادصبا مسکرائی ہو اور اسے کوئی خاص پیغام دیتی ہو وہ ایک انوکھا احساس لیے زمین سے اٹھا اور شیشے کے باہر دیکھنے لگا۔۔
سر۔۔۔ آزہاد نے پلٹ کے گارڈ کو دیکھا اس کے ہاتھ میں پھول تھے وہ ان پھولوں کو کیسے بھول سکتا تھا وہ گارڈ کے قریب آنے سے پہلے بھاگتا ہوا خود اس کی طرف آیا گارڈ حیران ہوتا اپنے مالک کی مسکراہٹ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
یہ کون دے کے گیا ہے؟؟ اس نے بے حد خوشی اور دھڑکتے دل سے گارڈ سے پوچھا۔۔
سر جو ڈیلن سر کے ساتھ ڈاکٹر آئی تھیں۔۔۔۔بس اتنا ہی اذہاد نے سنا اور بھاگتا ہوا دروازے سے باہر گیا۔۔
وہ آدھے راستے تک اسے دیکھنے کے لئے دوڑا جس سے اس کا سانس تیز پھول گیا وہ اس سے بہت دور جا چکی تھی آزہاد کی نظروں نے دور تک اسے دیکھنے کی ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ جا چکی تھی وہ تیز تیز سانس لیتا پھولوں کو دیکھ کے مسکرا یا پھولوں پر ایک بڑا سا کارڈ لگا تھا جس پر سوری لکھا تھا اور ایک سیڈ ایموجی بنا تھا اس نے مسکراتے ہوئے ان پھولوں کو چومہ اور سینے سے لگایا۔یہ اس کی حور خود اسے دینے آئی تھی۔وہ خوشی سے واپس آتا ان پھولوں کو سونگھتا تو کبھی چومتا مسکراتا ہوا کمرے میں آیا اور ان پھولوں کو کمرے میں رکھے سب سے خوبصورت واز میں سجا دیا۔
ہممم۔۔۔ تو مس حورین ارتضیٰ کو احساس ہو گیا ہے اپنی غلطی کا یہ تو ہونا ہی تھا وہ پھولوں کو دیکھتا مسکراتے ہوئے سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت ختیجہ کے ساتھ اس کے گھر آ گئی تھی یوسف نے جنت کو ختیجہ کی طرح اپنی بیٹی ہی سمجھا ہی نہیں مانا بھی تھا۔۔
زیاد کیا تمہارے والد جنت اور تمہارے اس رشتے کو قبول کریں گے ؟؟
زیاد جنت سے ملنے خدیجہ کے گھر آیا تھا جب یوسف نے جنت کے سامنے ہی زیاد سے سوال کیا۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی بھی ایسی ویسی بات ہو جو جنت سے چھپی رہے اسی لئے انہوں نے یہ موضوع اس کے سامنے چھڑا۔۔۔
زیاد نے ان کے سوال پر گردن جھکادی۔۔۔
جنت نے اسے اس طرح گردن جھکائے دیکھا تو حیران رہ گئی اس کا مطلب جس چیز کا ڈر تھا اسے وہی ہوا ۔۔ظاہر ہے ایک بادشاہ کا بیٹا اتنا رئیس وہ کیوں ایک عام سی لڑکی سے اپنے شہزادے بیٹے کی شادی اس سے کرنے لگے۔۔۔
یوسف نے ایک گہرا سانس لیتے ہنکارہ بھرا۔۔کیا تم اب بھی جنت کو اپنانا چاہتے ہو اپنے باپ کے خلاف جا کے ؟؟
میں جنت سے محبت کرتا ہوں انکل مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس بات سے کہ وہ جنت کو اپناتے ہیں یا نہیں میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ میں جنت سے محبت کرتا ہوں اور اسی سے ہی شادی کروں گا۔۔۔
ہممم۔۔۔ تو اس کا مطلب تم اپنی فیملی ریاست اور دولت کو جنت کی خاطر ٹھکرا رہے ہو؟؟
جی۔۔ اس نے بنا سوچے بڑے آرام سے فوراً جواب دیا۔
یوسف نے زیاد کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تھی۔۔
ٹھیک ہے زیاد پھر کیوں نہ اس جمعہ کو میں تمہارا اور جنت کا نکاح کر دوں ؟؟؟
یوسف نے بہت آرام سے زیاد کی سب سے بڑی خوشی کی نوید اپنے منہ سے سنائی تھی وہ جنت کو دیکھ کے مسکرا دیا۔۔۔
اور جنت جو ساری باتیں میں کھولے سنتی کبھی ذیاد
کو دیکھتی تو کبھی یوسف کو۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین کی آج ایکسٹرا کلاس تھی جس کی وجہ سے وہ تھوڑی لیٹ ہوگئی تھی جب وہ کلاس سے باہر آئی تو دیکھا کہ باہر طوفانی قسم کی بارش ہو رہی ہے۔۔
وہ ہاتھ میں کتابیں لئے کاندھے پر بیگ ڈالے تیز برستی بارش کو دیکھ رہی تھی۔یونیورسٹی بھی آہستہ آہستہ خالی ہورہی تھی ۔وہ آگے پیچھے دیکھتی سوچنے لگی کہ کس سے مدد مانگی جائے اس کے پاس نہ تو چھتری تھی نہ رین کوٹ اوپر سے اس کے پاس کتابیں بھی تھی جو گاڑی تک جاتے جاتے بھیگ جاتی۔بیلا سی بھی مدد نہیں مانگ سکتی تھی کیونکہ آج اس کی جلدی چھٹی ہونی تھی ۔۔۔
کیا کروں اس بارش کے رکنے کا انتظار بھی نہیں کر سکتی وہ آسمان سے گرتی تیز بوندوں کو دیکھتی سوچ رہی تھی۔۔
کہ جب ہی کسی نے اس کے سر پر چھتری کا سایہ کیا
اس نے حیران ہو کے چھتری کو اور پھر ہاتھ میں چھتری پکڑے اس شخص کو دیکھا وہ اسے اس وقت یہاں دیکھ کے حیران رہ گئی۔وہ حور کے سر پر چھتری کا سایہ کیے اس سے فاصلے پر کھڑا سامنے سیدھا دیکھ رہا تھا وہ اس وقت پورا بھیگا ہوا تھا حور نے اسے غور سے دیکھا اتنی ٹھنڈ میں بھی اور اس قدر تیز بارش میں وہ صرف ایک سفید شرٹ پہنے ہوئے تھا نیچے بلیک ڈریس پینٹ جو اوپر سے نیچے تک آتی ٹائیٹ تھی اور ٹخنوں سے تھوڑی اوپر تھی پاؤں میں پہنے بے حد قیمتی کٹ شوز جس میں سے اس کے گورے صاف پاؤں اوپر سے جھلک رہے تھے شرٹ بھیگ کہ جسم سے چپک گئی تھی۔۔اور اس کا مضبوط کسرتی جسم اس بھیگی شرٹ سے صاف جھلک رہا تھا سامنے شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے۔اس کے کان کے نیچے گردن پر بنا اینجل ونگ تا ٹیٹو جس کے نیچے blessed لکھا صاف نظر آرہا تھا آستینوں کو کوہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا جس سے اس کے مضبوط کسرتی بازو نظر آ رہے تھے الٹے ہاتھ کی کونی سے شروع ہوتا ٹیٹو ہاتھ کے پنجے کے اوپر جو ایک دھاڑ تی شیر کی صورت میں ختم ہوتا تھا۔جس کے سر پر بادشاہ کا تاج تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے کے اوپر خوبصورت ساکنگ لکھا ہوا تھا وہ اس وقت حد سے زیادہ ہینڈسم دکھائی دے رہا تھا گیلے بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتا وہ ساری دنیا کو اگنور کرتا سامنے دیکھ رہا تھا یونیورسٹی سے نکلتا ہر بندہ چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا اسے رشک سے دیکھے بنا نہیں گزر رہا تھا لڑکیاں تو اسے بار بار پلٹ کے دیکھ رہی تھیں لمبا چوڑا ساڑھے چھ فٹ کا وہ شاندار شخصیت کا مالک اس وقت حور کو بارش کی بوندوں سے بچائے خود کی بھیگنے کی پرواہ کیے بنا وہ اس کے ساتھ مضبوط قدم سے قدم ملاتا چل رہا تھا اس وقت حور کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا کیونکہ اس لمحہ وہ اس کے ساتھ تھا۔۔اس نے ایک بار بھی حور سے نہ تو بات کی نہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھا حور اداس سی گرتی اٹھتی نظروں سے دیکھتی اس کے ساتھ چل رہی تھی اس کا ہر ایک اٹھتا مضبوط قدم ہور کی دھڑکنوں کو تیز کر رہا تھا وہ اس کے کاندھے سے بھی نیچے آ رہی تھی۔۔ سیدھے سادھے حلیے میں حور اس کے ساتھ چلتی گڑیا معلوم ہو رہی تھی وہ دونوں حور کی گاڑی تک پہنچے حورنے چابی نکالی اور ایک نظر پلٹ کے اذہار کو دیکھا۔۔آزہاد گردن موڑے
چھتری حور کے سر پر تانے بارش میں بھیگتا کھڑا تھا حور نے کچھ پل امید بھری نظروں سے اسے دیکھا مگروہاں صاف اگنور کا بورڈ لگا ہوا تھا وہ آہستہ سے نظریں جھکاتی منہ لٹکائے گاڑی میں بیٹھی اور اس کے بیٹھنے کی دیر تھی کےآزہاد نے فورا آگے بڑھ کے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور اپنی گاڑی کی طرف قدم بڑھایا۔۔۔۔۔
واہ کیا ناراضگی تھی اس قدر ناراضگی میں بھی اسکی فکر اس کا خیال تھا۔۔۔
وہ اس وقت آفس میں بیٹھا تھا جب گرتی بوندو نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا اسے پہلا خیال ہی حور . کا آیا۔۔آج تو اسکی کلاس تھی وہ کیسے اکیلے اتنی بارش میں گھر آے گی۔۔اور یہی سوچتا اذہاد گاڑی بھاگتا اسکی یونیورسٹی پوھنچا۔۔حور جب تک گاڑی سٹارٹ کرتی اگے نہیں بڑھی اذہاد وہی گاڑی میں بیٹھا اسکے اگے نکلنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔
حور اگے اذہاد اسکے پیچھے گاڑی چلاتے دونوں حور کے گھر پوھنچے۔۔
حور کے گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی اذہاد تیزی سے اپنی گاڑی سے اترا اور چھتری اگے کیے اس کی گاڑی کا دروازہ کھولتا اس کے باہر آ نے کا انتظار کرنے لگا۔۔
حور گاڑی میں بیٹھی معصومیت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
پلیز ایسا مت کریں میںنے سوری کیا تو ہے۔مان جایئں۔۔دل میں بولتی وہ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اذہاد جان بوجھ کے اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔۔اسے ڈر تھا کے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہی وہ پگھل جاے گا مگر ابھی وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ناراضگی ظاہر کر کے اسے دیکھنا تھا حور اسکے لئے کیا محسوس کرتی ہے کیا جذبات رکھتی ہے اس کے دور جانے سے کیا وہ اپنے دل میں چھپی محبت کو ڈھونڈ پاتی ہے۔۔ انسان اس چیز کی کبھی قدر نہیں کرتا جو اسے آسانی سے مل جاے۔۔بلکل ایسے ہی اب ہور کو احساس ہو رہا تھا کے اس نے کیا کھو دیا ہے۔۔مگر وہ اب بھی اس احساس کو محبت کا نام نہیں دے پا رہی تھی وہ آہستہ سے اترتی دروازے تک آئی جھک کے دروازہ کھولتی جیسے ہی اس نے گھر میں قدم رکھا آزہاد پلٹا اور لمبے ڈاگ بھرتا اپنی گاڑی کی طرف گیا۔۔۔
ہور حیران نظروں سے دروازہ پکڑے اسے دیکھ رہی تھی اس نے چھتری گاڑی کے اندر پھینکی گاڑی میں بیٹھا اور تیز رفتار سے گاڑی بھگا لے گیا۔حور نے آنکھوں میں آنسو لیے دروازہ بند کیا۔۔۔
آزہاد نے بھلے ہی اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھا مگر وہ اس کی دھڑکنوں سے بخوبی واقف تھا۔۔اسی لئے وہ خود کو قابو کرتا فورا وہاں سے چلا آیا تھا وہ حور کے سامنے ابھی کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *