Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28
آزہاد نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرایا پھر کھڑا ہوا۔۔ وہ جو آتے ہوئے پھول اور کھانا وہی زمین پر رکھ آیا تھا حور کی ایسی گڑی حالت کو دیکھ کر۔۔ وہ نیچے جھکا اور زمین سے پھول اور کھانا اٹھاتے ہوئے حور کی نظروں کے سامنے نیچے زمین پر بیٹھتا ہوا بولا۔۔
حور میں نے پورا ہفتہ تم سے نہ ملنے کے غم میں ٹھیک سے کچھ کھایا پیا نہیں اور آج جب تم سے ملنے کی خوشی تھی تو اس خوشی میں میری حلق سے کچھ اترا نہیں اور اس وقت مجھے بےحد بھوک لگی ہے۔۔وہ پھولوں کا حسین بکے اس کے آگے کرتے ہوئے معصوم سے بچے کی طرح آنکھیں جھپکتے اور منہ لٹکاتے ہوئے بولا۔۔۔
حور اس کی معصوم سی شکل کو دیکھ کر مسکرا اٹھی اور کھڑی ہوئی اس کے ہاتھ سے پھول لیے اور بولی۔۔ آپ کو تو ٹھیک سے بال بنانے بھی نہیں آتے۔۔ وہ چہرے پے آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولی۔۔ سیکھ لیں بال بنانا بھی میں نے شادی کے بعد آپ سے ہی بال بنوانے ہیں۔۔ وہ اس کے ساتھ کچن کی طرف جاتی ہوئی بول رہی تھی اور وہ ہنس رہا تھا۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس نے رو دھو کر کیسے اس کی جان بھی اپنے ساتھ عذاب میں ڈالی تھی اور اب وہ ہنس رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اور آزہاد ساری رات سو نہیں سکے تھے اور ایسی ہی کچھ مختلف حالت پاکستان میں دادو اور شاہ زیب کی بھی نہیں تھی۔۔۔
اللہ اللہ کر کے حور کی مشکل رات کٹی یہاں صبح تھی تو وہاں رات کے سائے پھیل رہے تھے۔۔۔۔
داؤد اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھے آگے پیچھے جھول رہے تھے۔۔شاہ زیب نے آہستہ سے ان کے دروازے پر دستک دی۔۔ انہوں نے ہاتھ آنکھوں سے ہٹا کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں شاہزیب کھڑا تھا۔۔ کیا میں اندر آ جاؤں دادو؟؟ اس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اندر آنے کی اجازت مانگی۔۔ انہوں نے گردن ہاں میں ہلا کر جواب دینے پر اکتفا کیا آنکھیں تو انکی اسے دیکھ کر ہی جھک گئی تھی۔۔ دادو کیا بات ہے آپ اتنے اداس کیوں ہیں؟؟ بات ایسی بھی کوئی اتنی بڑی نہیں ہے۔۔ شاہزیب نے ان کے اداس چہرے کو بہت دکھ سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
حور کی حالت دیکھ کر وہ جان تو گیا تھا۔۔ اس لئے اپنی محبت کو تابوت میں ڈال کر خود میں ہمت کرکے وہ ان سے اور حور سے آخری بات کرنے آیا تھا تاکہ جو سچ بات تھی اس کا کنفرم ہو ہوجانے پر تابوت پر آخری کیل حور کے ہاتھ سے ٹھوک کر اس محبت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفنا دیا جائے ایسی محبت کو پالنے کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔
لیپ ٹاپ دیکھو شاہ زیب۔۔۔ انہوں نے آہستہ سے اسے کہتے ہوے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
شاہ زیب حیران ہوتے پہلے انھیں اور پھر کرسی پر بیٹھتے لیپ ٹاپ کو کھول کر دیکھا جہاں حور کی وقفے وقفے سے کئی مس کال آچکی تھی۔۔۔
شاہ زیب اب حیرت سے لیپ ٹاپ کی سکرین دیکھ رہا تھا۔۔۔ دادو آپ نے ایک بھی کال اس کی اٹینڈ نہیں کی یہ غلط بات ہے پلیز آپ بات کریں اس سے یا پھر میں بات کرتا ہوں۔۔۔
داؤد خاموشی ہی رہے۔۔ تو شاہزیب نے آخر کار تھک کر حور کو خود ہی کال ملائی۔۔۔
لیپ ٹاپ پر آتی دادو کی طرف سے کال نے حور کے اندر جیسے بجلی سی بھر دی تھی۔۔ اس نے فورا سے لپک کر انکی آتی کال اٹینڈ کی مگر یہ کیا۔۔۔ سامنے شاہزیب بیٹھا تھا۔۔۔
السلام علیکم کیسی ہو حور؟؟ اس نے اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔دل تو کر رہا تھا اس دشمن جاں کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔ اور حور وہ تو اسے سامنے دیکھ کر سلام کرنا ہی بھول گئی۔۔
وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں۔۔ وہ یہ بول کر خاموش ہوگئی اور گردن جھکا کر بیٹھ گئی۔۔۔
اس سے پوچھو شاہزیب وہ چاہتی کیا ہے ؟؟پیچھے سے داؤد کی آواز ابھری تھی۔۔
حور نے گردن اٹھا کر دیکھا مگر وہ نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔دادو مجھے آپ سے بات کرنی ہے پلیز سامنے آئیں۔۔۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھرتی بولی۔۔
شاہ زیب اس سے بولو مجھے اس سے کوئی بات نہیں کرنی جو پوچھا ہے اس کا جواب دے وہ بس۔۔ انہوں نے غصے سے کہا سامنے اس لیے نہیں آنا چاہتے تھے کیونکہ وہ اگر اسے دیکھ لیتے تو کمزور پڑ جاتے مجھے آپ سے بات کرنی ہے آپ سامنے آئیں دادو۔۔وہ اب زور سے روتے ہوئے بولی تو داؤد نے جھٹکے سے اسکرین اپنی طرف گھمائی اور گھورنے لگے۔۔
دادو پلیز آپ تو ایسا مت کریں اس کی نم آنکھیں دیکھ کر انہوں نے نظریں پھیر لیں۔۔۔
دادو میں یہ شادی نہیں کر سکتی پلیز۔۔ اس کے الفاظوں پر داؤد نے جھٹکے سے گردن گھما کر حور کو دیکھا آنکھیں صدمے سے پھیل رہی تھی۔۔ شاہزیب خاموش گردن جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔
میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس کے علاوہ کسی سے نہیں۔۔ صاف صاف جو بات تھی اس بات پر آتے اس نے سب کچھ بول دیا۔۔۔۔
پلیز دادو آپ آ جائیں یہاں۔۔ وہ ان کے سامنے گردن جھکائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اور اسے اس طرح سے روتے دیکھ کر داؤد نے لیپ ٹاپ بند کر دیا ایک خاموش آنسو تو شاہ زیب کی آنکھ سے بھی گرا تھا کیل ٹھوکی جاچکی تھی جس کی تکلیف بہت زیادہ تھی۔۔
حور نے تو ان کے پیروں سے زمین کھینچ لی تھی وہ کتنے دھڑلے سے ان کے منہ پر اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی۔۔ لال ہوتی آنکھوں کو انہوں نے زور سے بند کیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میں بہت خوش ہوں عظمیٰ۔۔۔سچ بابا کی برسوں کی دلی مراد پوری ہونے جارہی ہے اور دیکھو سب کچھ کتنے خیر اسلوبی سے ہوگیا ساری تیاریاں کتنی آسانی سے مکمل ہوگئی ہیں بس اب حور کے آنے کا انتظار ہے۔۔ وہ بے حد خوش تھے اور اس خوشی کا اظہار وہ لفظوں میں اپنی شریک حیات سے شیئر کر رہے تھے مگر وہ بالکل خاموش اداسی سے انہیں سن رہی تھیں۔۔۔ کیونکہ جس بات کا انہیں ڈر تھا جس کے لیے وہ ارتضیٰ کو خبردار کر رہی تھی وہ سچ ثابت ہوا تھا ان کی آنکھوں سے اپنی بیٹی کا وہ گرتا آنسو چھپا نہ رہ سکا تھا اس کے چہرے کی وہ حالت کوئی جان سکا ہو یا نہیں مگر وہ ماں تھیں اور وہ جان گئی تھیں۔۔۔۔
عظمیٰ میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ حور کو لینے لندن ہم دونوں خود چلیں۔۔۔ اب میری بچی کی شادی ہو جائے گی وہ پرائی ہو جائے گی تو کیوں نہ شادی سے پہلے ہم اسے بہت ساری خوشیاں دیں تاکہ یہ اچھی یادیں ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں۔۔ کچھ دن لندن میں اس کے ساتھ رہ کر ہم گھوم پھر بھی لیں گے۔۔۔وہ جوش سے ساری پلاننگ ترتیب دے کر عظمیٰ سے بول رہے تھے اور وہ بس خاموش نظریں جھکاے انہیں سن رہی تھیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزہاد بیٹا۔۔۔۔۔۔
وہ جو گھنٹوں سے ایک ہی زاویے میں بیٹھا نہ جانے کن خیالوں میں گم تھا خاموش نظروں سے پلٹ کر گرینڈ پا کو دیکھا۔۔جو اسے پریشان نظروں سے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں تم بہت پریشان نظر آرہے ہو مجھے بتاؤ میرے بچے۔۔۔ آزہاد نے ایک گہرا سانس لیا۔۔۔
پتا نہیں گرینڈ پا مجھے خود کچھ سمجھ نہیں آرہا زندگی میرے ساتھ آخر کونسا کھیل کھیل رہی ہے جس چیز سے مجھے بے حد محبت ہوتی ہے وہی چیز مجھ سے زندگی چھیننے کے در پے ہو جاتی ہے ایسا کیوں ہے ؟؟؟اذہاد نے گرینڈ پا کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔ گرینڈ پا کو اس کی باتیں ایک پہیلی لگیں۔۔۔
حور کے گھر والوں نے اس کی بات کہی اور فکس کردی ہے۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔ ایک شخص سے محبت انسان کو کتنا مجبور کر دیتی ہے مجھے احساس ہوا کہ محبت کرنے کے بعد انسان کتنا بے بس کتنا لاچار ہوجاتا ہے اور پھر اسے ہمیشہ اس بات کا خوف ہی رہتا ہے کہ کہیں دوسرا آپ سے دور نہ ہو جائے۔۔۔ گرینڈ پا اس کی اداس آنکھیں اس کی بے چینی دیکھ کر تڑپ گئے۔۔۔
میرے بچے بالکل فکر نہیں کرو وہ اوپر والا ہے نہ وہ سب ٹھیک کردے گا۔۔۔وہ تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں کرے گا مجھے یقین ہے۔۔۔
وہ اچھے سے جانتے تھے دونوں کی محبت کی انتہاء کو انہیں الگ کرنا موت کا سماں تھا۔۔۔
تم کہو تو میں اس کے گھر والوں سے بات کروں ۔۔۔ آزہاد نے گردن نفی میں ہلائی اور خاموشی سے اٹھ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔ اورگرینڈ پا ہاتھ مسلتے ہوئے نم آنکھوں سے اسے دور جاتا ہوا دیکھنے لگے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اس کے بعد سے حور سے کوئی رابطہ نہیں کیا حور نے انہیں بے تحاشا کالیں کی تھی مگر سامنے سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے اذہار کو دیکھ رہی تھی اس کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نظر نہیں آرہی تھی بس فرق یہ تھا وہ خود کو مضبوط ظاہر کر رہا تھا اگر وہ بھی کمزور پڑ جاتا تو حور ٹوٹ جاتی اسے دیکھ کر اور حور کے ہی لئے وہ خود پر مکمل گرفت کرکے بیٹھا تھا۔۔۔۔
حور پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے میں تمہارے ساتھ ہوں کوئی بات نہیں اگر دادو نے تمہاری بات کا کوئی جواب نہیں دیا تو اس کا ایک اور حل بھی ہے تم کہو تو میں پاکستان چلا جاتا ہوں ان سے بات کرنے کے لئے۔۔۔ آزہاد نے ایک اور حل پیش کیا۔۔۔
حور خاموش نظروں سے بس اسے تک رہی تھی۔۔
میں ہار نہیں مانو گا حور میں اپنی آخری سانس تک انہیں منا کر دم لوں نگا تم بس ہمت مت ہار نہ میرے ساتھ رہنا۔۔۔وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر ایک بے حد آس سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
کیا کچھ نہیں تھا اس کی آنکھوں میں حور کو کھونے کا خوف صاف جھلک رہا تھا۔۔۔
حور نے گردن ہلا کر اس کے ہاتھوں پر اپنا دوسرا ہاتھ بھی رکھ دیا۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں ہمیشہ ہادی۔۔۔۔
__________________
بریک فاسٹ سامنے پڑھا تھا مگر اس کا بالکل دل نہیں کر رہا تھا کچھ بھی کھانے کو اس نے بے دلی سے ایک نوالہ منہ میں ڈالا اور مر مر کے اسے چھپانے کی کوشش کرنے لگی کہ جب ہی دروازے کی بیل ہوئی ماتھے پر ڈالے اٹھی۔۔۔
یہ صبح صبح کون آگیا۔۔ دروازے پر جا کر دروازہ کھولا تو آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوگی جس کا چہرہ سامنے نظر آرہا تھا اس کا تو وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ وہ آئے گا وہ آنکھیں پھاڑے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔اس نے مسکرا کر سلام کیا اور حور نے بمشکل خود کو حیرتوں کے سمندر سے باہر نکالا اور سلام کا جواب دیا۔۔
وعلیکم السلام آپ یہاں؟؟ مگر یہ کیا وہ اکیلا نہیں تھا یہ کون آیا تھا اس کے ساتھ؟؟ اس کی سائیڈ سے ہوکر اس نے پیچھے دیکھا وہ منہ کھولے کھڑی دیکھ رہی تھی کہ وہ پورا سامنے سے ہٹتا ایک سائیڈ پر ہو گیا اور حور آنکھوں میں آنسو بھرتی دوڑتی ہوئی ان کی طرف لپکی۔۔۔۔
دادو۔۔۔وہ ان کے سینے سے لگی رو رہی تھی وہ جو بےحد غصے میں اس کے پاس اس سے بات کرنے ناراض ہو کر لندن آئے تھے اسے سینے سے لگا دیکھ کر پگھل سے گئے جو بھی تھا تھی تو وہ ان کی لاڈلی پوتی نازوں پلی ان کا خون جن میں ان کی جان بستی تھی دونوں ہاتھ اٹھے اور بے اختیار اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا خود پر مکمل ضبط کیے وہ اسے سینے سے لگائے کھڑے تھے۔۔
شاہزیب یہ دیکھ کر مسکرا دیا۔۔
وہ ان سے الگ ہوئی اور ہاتھوں سے آنکھوں کے بھیگے گوشوں کو صاف کئے انہیں اندر آنے کا کہنے لگی۔۔
اندرآئیں نہ۔۔۔ وہ ہاتھ پکڑ کر انہیں کھینچتے ہوئے اندر لے آئی۔۔ شاہ زیب کو دیکھ کر اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا اس نے ناپسندیدگی سے شاہزیب کی طرف دیکھا اور جو محبت کرتے ہیں وہ اچھے سے جان لیتے ہیں محبوب کی نگاہوں کو۔۔ شاہ زیب کی مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی اس کی یکطرفہ محبت اور بڑوں کے جذباتی قدم اٹھانے کی وجہ سے اس کی چھوٹی سی دوستی بھی آج ہاتھ سے گی۔۔
دل پر ایک دم بوجھ جیسے بڑھ گیا۔۔ وہ آیا تھا کہ حور کی ساری بات سن کر اس کا پورا ساتھ دے گا مگر شاید اس کی موجودگی اس کے محبوب کے لیے آزمائش تھی اور وہ اس آزمائش سے محبوب کو آزاد کرتے ہوئے وہاں سے جانے کے لیے پر تولنے لگا۔۔
دادو میں ایک ہوٹل میں اپنے رہنے کا بندوبست کرتا ہوں آپ حور سے آرام سے بات کرلیں۔ اللہ حافظ۔۔
ارے مگر۔۔۔ دادو ابھی کچھ بولتے کے وہ موڑا اور لمبے لمبے ڈاگ بھرتا باہر چلا گیا۔۔۔
اس کا گریز داؤد اچھے سے سمجھ ہی گئے تھے۔۔ حور ان کے لیے ناشتے کا انتظام کر رہی تھی۔۔ وہ خاموشی سے اس کے اپارٹمنٹ کو دیکھ رہے تھے۔۔ چلیں دادو پہلے آپ کچھ کھا پی لیں پھر آرام کرلے۔۔ وہ مسکراتے ہوئے ان کے پیچھے آتی آہستہ سے انہیں بولی۔۔
انہوں نے گردن ترچھی کرکے حور کو دیکھا۔۔ میں یہاں کھانے پینے اور آرام کرنے نہیں آیا حور۔۔انہوں نے اپنے لہجے کو تھوڑا سخت رکھتے ہوئے کہا اور حور کی مسکراہٹ پل میں مدھم سی پڑ گئی تو وہ یہاں صاف صاف بات کرنے آئے تھے ایسا ہے تو پھر ایسا ہی صحیح۔۔۔
مجھے تم سے یہ امید ہرگز نہیں تھی حور۔۔تم نے مان بھروسہ امید سب توڑ دیں۔۔۔۔
کیسی امید؟؟ کیسا مان ؟؟ کیسا بھروسہ؟؟ دادو خدانخواستہ محبت کرنا کوئی اتنا بڑا جرم نہیں ہے۔۔ میں نے کوئی مان کوئی بھروسہ نہیں توڑا اور امید!! کیا آپ نے اس امید کا ذکر ایک بار بھی مجھ سے کیا تھا۔۔۔ مجھے تو بے خبری میں لوٹ لیا دادو۔۔۔آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔۔
داؤد بےحد صدمے اور حیران نظروں سے حور کو دیکھ اور سن رہے تھے۔۔ کیا یہ ان کی حور تھی؟؟ نہیں وہ انہیں محبت میں بہکی کوئی دیوانی لگی بے خوف سی جو محبت کا اعتراف نظریں چرا کر نہیں نظریں ملاکر کرتی ہے۔۔۔ محبت جب سر چڑھ کر بولتی ہے تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے اور شاید انسان تب اتنا نڈر اتنا بے خوف ہو جاتا ہے کہ اپنی محبت کے سوا اسے کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں ہوتی۔۔داؤد کے بولنے کی دیر تھی کہ وہ تو جیسے بھر کے بیٹھی تھی وہ جو شروع ہوئی تو پھر چپ نہ ہوئی دل میں جو کچھ بھر کے بیٹھی تھی وہ سب اپنے دادو سے بولنے لگی۔۔۔
ہادی نے بہت تکلیفیں دیکھی ہیں وہ بالکل ٹوٹ چکا ہے اور میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی ٹوٹے ہوئے لوگ جب کسی سے جھگڑتے ہیں تو آخری سانس تک ساتھ نبھاتیں ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں محرومیوں اور تنہائیوں کے ساتھ جینا کتنا دشوار ہوتا ہے اور میں اسے مزید ان محرومیوں اور تنہائیوں کا شکار بننے نہیں دوں گی میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔۔ وہ تیز تیز چلتی سانسوں کے ساتھ بہادری سے دل کا ایک ایک لفظ صاف صاف ان کے گوش گزار کر رہی تھی کیونکہ صاف صاف بتا دینے سے فیصلے ہوا کرتے ہیں اور نہ بتانے سے فاصلے بڑھا کرتے ہیں۔۔۔۔
اپنے باپ اور دادا کی عزتوں کو گرہن لگا کر محبت نبھا پاؤگی؟؟؟ تیز دھار چھری تھی جس سے وہ اسے کاٹ رہے تھے۔۔ہمارے خاندان کی عزت یوں اب محبتوں کے پرچم لہرائے گی غیروں کے ساتھ مل کر؟؟ ہماری عزت کی دھجیاں اڑائے گی۔۔۔
وہ منہ کھولے کان سے نکلتے دھوئیں سے انہیں سن رہی تھی۔۔۔یہ کیسی وہ باتیں کر رہے تھے۔۔۔
ہماری روایات کو کوچل کر تم اپنی محبت کی کونمپل اس میں اگانا چاہتی ہو؟؟ تو پھر شوق سے حور اپنی اس خواہش کو پورا کر لو۔۔ تمہیں پھر باپ اور دادا سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے میرے خیال سے۔۔۔پھر جو دل میں آئے کرو۔۔وہ چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بول رہے تھے۔۔۔
اور حور اس کی تو ساری حس سارے لفظ جیسے دم توڑ گئے تھے یہ کیا اس کے جان سے پیارے دادو اسے کیا بول رہے تھے وہ تو یہ سمجھ رہی تھی کہ اس مشکل وقت میں ایک وہی تو ہونگے جو اسے سمجھیں گے اس کا ساتھ دیں گے مگر ان کی باتیں سن کر جیسے اس کی ساری امیدیں دم توڑ رہی تھی۔۔
بھول گئی حور وہ وعدہ جو تم نے مجھے لندن آنے سے پہلے دیا تھا۔۔انہوں نے تمسخرانہ مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اور وہ سن ہوتے دماغ کے ساتھ دیوار کا سہارا لیے کھڑی تھی ورنہ گر جاتی۔۔۔
وہ وعدہ یہی تھا حور کے تم لندن آنے کے بعد خوشی خوشی میری مرضی سے پسند کیے لڑکے سے شادی کی رضامندی دے دوں گی۔۔ کیا تم اپنا وہ وعدہ توڑ کر کسی اور سے کیا وعدہ نبھا پاؤگی؟؟
اس نے بے ساختہ اپنی آنکھوں کو زور سے بند کیا آنکھوں سے آنسو جھر نوں کی طرح بہہ رہے تھے اس کے لیے یہ لمحہ بے حد اذیت ناک تھا۔۔۔۔
محبت کا ایک “”قید خانہ ”ہے “دنیا “۔۔۔
اس کا قصور ہے “دنیا دار ہونا “۔۔
رشتوں کی “پاسداری” ان کا “مان ” اونچا رکھنا۔۔
اس “قید خانے” پر ایک تالا لگا کر جسے “قید” کیا جاتا ہے وہ ہے “روایات”۔۔۔۔
جہاں “سرکشی”کی اجازت نہیں کوئی “بغاوت” کا حکم نہیں۔۔۔۔
جہاں “قیدیوں” کو اپنی مرضی کے فیصلے سنا کر ان کے لیے “موت” کے پروانے آزاد کیے جاتے ہیں۔۔۔
وہ” گمنام “کہلائے جاتے ہیں اور شاید اسی گمنامی میں وہ ایک دن خاموش موت مر جاتے ہیں پھر ان قیدیوں کی نہ تو کوئی “قبر”ہوتی ہے نہ کوئی “نام” بچتا ہے۔۔
عشق جب تم کو راز آئے گا۔۔
زخم کھاؤ گے مسکراؤ گے۔۔
وہ تمہیں توڑ توڑ ڈالے گا۔۔
تم بہت ٹوٹ ٹوٹ جاؤ گے۔۔
یاد آئیں گی گمشدہ نیندیں۔۔۔
خواب رکھ رکھ کر بھول جاؤگے۔۔۔
آنکھوں سے بہتے آنسو اور لبوں پر درد بھری مسکراہٹ سجی تھی۔۔۔
کبھی آپ نے ایسا محسوس کیا ہے دادو کے کسی شخص کی غیر موجودگی میں آپ کی زندگی خالی خولی ایک ماچس کا ڈبہ بن جائے جو صرف ایک بے کار اور فضول ڈبے کے علاوہ کچھ نہیں رہتی۔۔
میں اپنا وعدہ نبھانے کے لیے تیار ہوں آپ بھی ایک وعدہ کریں کے خوشی خوشی مجھے رخصت کریں گے۔۔ کسی کے ساتھ نہیں بلکہ دفنانے کے لئے۔۔
داؤد ایکدم تڑپ سے گئے تھے اس کی بات پر۔۔
حور بیٹا۔۔آواز جیسے سینے سے بے حد تکلیف سے نکلی تھی۔۔۔
وہ ویسے ہی آہستہ سے زمین پر دیوار کے ساتھ گھسیٹتی نیچے بیٹھی۔۔اس کے اندر جیسے سب کچھ مر گیا تھا آنکھ سے آنسو بہنا بند ہوگئے تھے اس کی حالت دیکھ کر داؤد کو ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہو۔۔۔ وہ تو ان کی جان تھی وہ کیسے ایسے اس کی بکھری ہوئی حالت برداشت کر سکتے تھے۔۔۔
دل دھڑکتے دھڑکتے کیسے بند ہوتا ہے؟؟ کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے؟؟ وہ ہنسی دردبھری ہنسی؟؟
آپ کے ساتھ کیوں ہو گا ایسا؟؟ آپ تو خود اپنی روایتوں کے رکھوالے ہیں۔۔ انہی روایتوں پر چل کر آپ نے آنے والوں کے لئے موت کی راہیں کھولی ہیں آپ کیسے جانیں گے۔۔ مگر اب ہوگا ایسا۔۔میرے ساتھ۔۔ یہ دل کیسے دھڑکتے دھڑکتے بند ہوگا۔۔ آپ دیکھیں گے۔۔ فکر نہیں کریں۔۔ خدانخواستہ کہیں آپ یہ تو نہیں سوچ رہے میں خودکشی کی بات کر رہی ہوں۔۔ وہ زور سے ہنسی اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر تالی بھی ماری۔۔۔
حور میرے بچے بس کردو۔۔۔وہ کانپتی آواز میں بولے وہ آگے بڑھتےاسے چپ کروانا چاہتے تھے۔۔۔
مگر اس نے انہیں قریب آنے سے روک دیا۔۔
ہونہہ۔۔۔وہ گردن دائیں بائیں ہلاتی بولی۔۔جب آپ کا جان سے پیارا آپ سے دور ہو جائے جب آپ رشتوں سے مجبور ہوکر کھینچ کے اسے خود سے دور کردیں۔جب آپ کی سچی محبت آپ کو بےوفا سمجھنے لگے تب انسان کا مرجانا ہی بہتر ہے اور اس دل کا رک جانا بھی۔۔۔۔۔۔
اگر کوئی ایسا پیارا ہو جو زندگی میں آپ کی بہار لائے جو محبت کے رنگوں سے آپ کو روشناس کروائے جس کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنے کو دل چاہے۔
اور وہی ہم سے بچھڑ جائے جسے ہم سے دور کردیا جائے تو اس کے فراق کی دیوانگی ہمیں کیا کچھ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔۔۔کبھی سوچا ہے؟؟میرا دل کر رہا ہے دادو میں چیخ چیخ کر روں۔۔۔۔
اس کی اس طرح سے حالت دیکھ کر داؤد کی آنکھوں آنسو بہنے لگے۔۔۔انہوں نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا اور وہ ان کے سینے سے لگی روتی چلی گئی۔۔
میں اذہاد کے بغیر مر جاؤں گی دادو۔۔۔۔ مر جاؤں گی۔۔
زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ہمیں آخر کار یہ فیصلہ کرنا ہی ہوتا ہے کہ ورق پلٹ دیے جائیں یا پوری کتاب بن کر دی جائے اور وہ وقت آ چکا تھا۔۔
جاری ہے
