Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02
ارتضیٰ نے دیکھا وہ بہت خوبصورت بچی تھی اور بہت پیاری گلابی سی ان کی آنکھ سے ایک آنسو کا قطرہ نکلا اور انہوں نے بے اختیار اس جگر کے ٹکڑے کو چوما ۔۔
پورے ہاسپٹل میں مٹھائیاں بانٹی گئیں اور کھلائی گئی۔۔پھر سب عظمیٰ سے ملے وہ بھی بہت خوش تھیں۔۔
مگر ارتضیٰ رات عظمیٰ کی طبیعت خراب ہونے پر گھبرا گئے تھے گاؤں میں کوئی خاص ہوسپیٹل نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں شہر آتے وقت لگا تھا اس دوران ان کی بیوی یا بچی کو خدانخواستہ کچھ بھی هو سکتا تھا ۔۔۔
اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں سوچ رہے تھے اور یہی سوچ سے انہوں نے ایک فیصلہ کیا تھا ۔۔
پورے گاؤں میں مٹھائی بانٹی گئی جشن کا سما تھا اس موقع پر سب بہت خوش تھے بچی کا نام عظمیٰ اور ارتضیٰ نے مل کے رکھا۔۔حورین ۔یعنی حوروں جیسی وہ تھی ہی اتنی پیاری نازک خوبصورت سی نیلی آنکھیں عظمیٰ کی آنکھوں کا رنگ ہرا تھا ایک طرح سے آنکھوں کے رنگ کا مختلف ہونا حورین نے ماں سے چرایا تھا
______________
داؤد اپنے کمرے میں بیٹھے حور سے باتیں کر رہے تھے وہ دو ماہ کی بچی داؤد کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی کبھی اپنے ننھے ہاتھوں کو اٹھا کر ان کا چہرہ تھامتی اور داؤد اس کے ننھے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگا کر چوم لیتے ۔۔
سعدیہ دادا پوتی کی محبت دیکھتی مسکرا رہی تھیں کہ جب ہی ارتضیٰ اور عظمیٰ ان کے کمرے میں آے۔۔
داؤد نے دیکھا۔۔ارے بچوں آؤ آؤ بیٹھو۔۔
بھئی آج تو حور نے مجھ سے خوب ساری باتیں کی۔۔داؤد خوشی سے مسکراتے ہوئے ارتضیٰ اور عظمیٰ کو بتا رہے تھے۔۔
ارتضیٰ اور عظمیٰ خاموش بیٹھے تھے ۔۔۔
داود نے سر اٹھا کے ان دونوں کو دیکھا۔۔کیا بات ہے تم دونوں اس طرح سے خاموش کیوں بیٹھے ہو ؟؟؟
بابا مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔
داؤد نے سعدیہ کو دیکھا اور پھر ارتضیٰ اور عظمیٰ کو۔۔ کیا بات ہے بیٹا بولو؟
ارتضیٰ نے کرسی باپ کے نزدیک کی اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔بابا ۔۔میں جو بھی کہوں گا مجھے غلط مت سمجھیے گا ۔۔
داؤد نے حیران هو کے ارتضیٰ کو دیکھا ۔۔
بابا میں اب ایک بیٹی کا باپ بن چکا ہوں اور میں اپنی بیٹی کے مستقبل کو لے کے تھوڑا پریشان ہوں۔۔
میں نہیں چاہتا کہ کل کے دن میری بیٹی کو کچھ اور میں صحیح جگہ پوچھتے ہوئے بہت دیر کر دوں ۔۔وہ رکھے ۔
بابا میں چاہتا ہوں عظمیٰ اور حور کولیکے شہر شفٹ ہو جاؤں۔۔
داؤد نے اپنا ہاتھ ارتضیٰ کے ہاتھ سے کھینچا ۔۔
تم ایسا نہیں کر سکتے ارتضیٰ ؟؟ ہمیں چھوڑ کے اکیلا کر کے چلے جاؤ گے؟؟اتنا بڑا گھر زمیننے اپنا گاؤں جہاں تم پیدا ہوئے پلے بڑھے جوان ہوئے سب چھوڑ دو گے چلے جاؤ گے ؟؟مجھے میری حور سے دور کر دو گے ؟؟
آپ کی ہر بات سر آنکھوں پر بابا۔۔ میں جانتا حور میں آپ کی جان بسکتی ہے۔۔ مگر بابا ۔۔ہمیں اس کے ہی بھلائی کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔۔ بابا یہاں کی زندگی تھوڑی مشکل ہے۔۔میں حور کو بہت آگے اور کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔جو یہاں رہتے ہوئے ناممکن ہے۔۔میں نے بہت سے خواب دیکھے ہیں حور کو لے کے۔۔ہر ماں باپ دیکھتے ہیں اور اولادکے بہتر مستقبل کے لیے ایسے قدم اٹھانے پڑتے ہیں ماں باپ کو۔۔
ارتضیٰ نے بات کے گھٹنے پر ہاتھ رکھا ۔۔بابا اماں میں آپ دونوں کی خوشی سےدی گی رضامندی سے یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔۔
ابھی تو ان کی گود میں یہ ننھی پری آئی تھی ان کی گود میں مسکراتی تھی ان کی باتوں کو غور سے سنتی تھی ۔۔اب جب وہ اس کے عادی ہو گئے تھے تو اس ننھی پری کو ان کے وجود سے دور کیا جارہا تھا ۔۔وہ کیسے رہیں گے اس کے بغیر؟؟؟ حورکو ان سے دور کیاجارہا ۔۔یہی ایک بات داؤد کے ذہن میں بار بار گھومی جا رہی تھی۔۔
ارتضیٰ کیا کوئی اور حل نہیں جس سے حور ہم سے دور نا هو ؟؟انہوں نے بے حد آس بھری نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا؟؟
بابا ہاں ایک حل ہے ۔۔۔ آپ اور اماں میرے ساتھ چلیں ہم سب بہت خوش رہیں گے۔۔حور بھی دیکھیں خوش ہے ۔۔
ارتضیٰ نے مسکراتی حورین کی طرف دیکھتے کہا۔۔
نہیں ارتضیٰ میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتا بھلے ہم سردار نہیں رہے لیکن اس گاؤں کے لوگوں کو اب بھی ہماری ضرورت ہے بہت سے لوگوں کی امیدیں جڑی ہیں ہم سے یہ مٹی ہی ہماری پہچان ہے۔۔ایک عمر گزاری ہے ہم نے یہاں ۔۔تم کہتے ہو ایک جھٹکے میں ہم یہ سب چھوڑ دیں اور تمہارے ساتھ چلیں نہیں ارتضیٰ اس جگہ اس زمین سے ہماری سانسیں جڑی ہیں ہم اگر یہاں سے چلے بھی گئے تو کبھی سکون سے نہیں جی سکیں گے ۔۔۔۔ داؤد ابراہیم نے انہیں دکھ سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
مگر بابا بھائی ہیں وہ سب سنبھال۔۔۔ارتضیٰ کہنے والے تھے کہ داؤد نے ٹوک دیا ۔۔۔مدثر کی اہمیت اور مقام اپنی جگہ مگر اب بھی ہمارے حکم کے بنا یہاں کوئی فیصلہ کرنے کا اکیلے حق نہیں رکھتا ۔
ارتضیٰ خاموش ہوئےاور بولے ۔۔۔ تو پھر بابا آپ مجھے اجازت دیں مجھے حق دیں کہ میں اپنی حور کے بہتر مستقبل کے لیے فیصلہ لے سکوں اور یہاں سے جا سکوں۔۔
داؤد نے ٹھنڈی سانس لی اور کچھ سوچ کے کہا ۔۔ٹھیک ہے ارتضیٰ میں نے تمہیں اجازت دی مگر ایک وعدہ کرو تم حور کو مجھ سے دور نہیں کرو گے اسے مجھ سے ملوانے آتے رہو گے۔
ارتضیٰ نے مضبوط ہاتھوں سے ان کا ہاتھ تھام کے ان سے وعدہ کیا۔۔آپ جب کہیں گے حور سے ملنےتو حور آپ کے پاس ہوگی۔۔۔
________________
اور اس طرح ارتضیٰ اپنی فیملی کے ساتھ شہر شفٹ ہوگئے ۔اپنی محنت اور قابلیت سے انہوں نے حور انسٹرکشن کمپنی کھولی جو دن رات کی محنت سے کامیابی کی بلندی تک پہنچ گئی ۔
شہر کی سب سے اچھی جگہ پر ایک خوبصورت گھر تھا جس کا نام ارتضیٰ ابراہیم والا لکھا تھا جس میں آنے والے نئے مکینوں کی بہت سی یادیں جوڑنے والی تھیں ۔
__________________
دادووووووو۔ ۔۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی آئی اور داؤد نے اسے اپنی گود میں جھوک کے اٹھا تے ہوئے ہلکا سا اچھالا۔۔۔
دادو آئی مس یو وہ اپنے چھوٹے چھوٹے نرم اور پیارے ہاتھ ان کے گال پے رکھتے ہوئے بولی۔۔
داؤد نے بے اختیار اس کے گلابی رخسار کو چوما مس یو ٹو میری جان ۔۔ داؤد اور سعدیہ حور سے ملنے اس کے گھر آ ے تھے جب ہی وہ اسکول سے آئ تھی اور داؤد کو گھر کے لان میں دیکھتی دوڑ کے ان کے گلے لگی تھی۔اس کی کھٹی میٹھی باتوں اور اچھل کود سے پورے گھر میں رونک تھی ۔۔۔۔وہ سب کی جان تھی۔۔ ہستی مسکراتی چڑیا یہاں سے وہاں اڑتی پھرتی ۔
دادو آپ کب آے؟؟۔۔وہ بے پناہ معصومیت لیے خوشی سے بولی۔۔
ہم بس آبھی تو آے ہیں اپنی جان سے ملنے ۔
سچی آپ مجھ سے ملنے آے ہیں؟ ؟ اور کون کون آیا ہے آپ کے ساتھ دادی بھی آئ ہیں کہاں ہیں وہ ؟؟ داؤد کی گود میں چڑہی وہ ادھر اودھر نظریں دوڑا رہی تھی ۔
آپ کی دادی بھی آئی ہیں اور وہ اندر ہیں۔ ۔داؤد اسے لیے وہی رکھی بہت سی کرسییوں میں سے ایک کرسی پے بیٹھ گئے۔۔
اچھااااا۔ ۔۔ اچھا کو کھینچا وہ اسکول کے کپڑوں میں داؤد کو پیاری سی کانچ کی گڑیا لگی انہوں نے اسے زور سے گلے لگایا وہ بھی ان کے سینے سے لگی خوش هو رہی تھی ۔۔
دادو آپ کو پتا ہے میری ٹیچر مجھے کیا کہتی ہے؟؟
وہ انھیں ہاتھ کے اشاروں سے بتانے لگی ۔۔
کیا کہتی ہے آپ کی ٹیچر ؟؟داؤد نے حیران ہوتے آنکھوں کو بڑی کرتے پوچھا ۔۔
وہ مجھے کہتی ہیں حور آپ پوری ڈول جیسی هو ۔۔اس نے منہ بناتے کہا۔
اچھا پھر ؟؟ داؤد نے دلچسپی سے سے پوچھا جب کے وہ اس کے منہ کےاوتار چڑھاو کو دیکھ کے دل میں ہنسے جا رہے تھے وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔
میں نے ٹیچر کو کہا نووو۔ ۔ میں ڈول کے جیسی نہیں ہوں اس نے آئےبروس کو ملا کے ہونٹوں کی چونچ نکال کے غصے سے کہا ۔۔
داؤد اُس کی اِس ادا پے نثار ہی هو گئے ۔۔
میری آئیز اور ہیر میری مما جیسے ہیں میری نوزاور لیپس میرے بابا جیسے ہیں اور میرے ہاتھ پاؤں کان اور میرا غصہ میرے دادو جیسا ہے۔مجھے ڈول سے مت ملاؤ۔۔
داؤد زور سے ہنسے اور اسے گود میں لے کر چومنے لگے۔
چڑیامائے پرنسزآپ اسکول سے آکے یہی بیٹھ گئی دادو کیا سوچیں گے حور نے چینج بھی نہیں کیا ویری بیڈ ۔
ارتضیٰ لاؤن میں آکے دادا پوتی کو بیٹھا دیکھ کے حور سے بولے ۔۔
حور نےناراض نظروں سے باپ کو دیکھا ۔۔آپ تو چاہتے ہی نہیں ہے میں دادو سے تھوڑی دیر بیٹھ کے بات کر لوں اور دادو ایسا بول ہی نہیں سکتے مجھے کیوں دادو؟؟؟اس نے پلٹ کے داؤد کو دیکھا
بالکل یہ میری شہزادی اور شہزادیاں تو ہر روپ میں خوبصورت لگتی ہیں ۔۔۔وہ کیسے اپنی جان کو ناراض کر سکتے تھے ۔۔
ان کے جواب پے وہ خوشی سے اچھل کے ان کے گلے لگی۔
ارتضیٰ دادا پوتی سے ہار مانتے وہی کرسی پہ بیٹھ گئے ۔
حور میری جان جاؤ آپ جلدی سے چینج کرکے فریش ہو کے آؤ پھر ہم خوب مستی کریں گے اور باتیں کریں گے ٹھیک ہے داؤد نے کہا۔۔
او کے دادو میں یوگئی اور یو آئی وہ بھاگتے ہوئے اندر جارہی تھی اس کی پشت پر لمبے بالوں کی چٹیاں بھاگنے سے ادھر ادھر اچھل رہی تھی۔
دیکھا بابا آپ نے کتنی تیز ہوگئی ہے کوئی اسے دیکھ کے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پانچ سال کی ہے ۔ارتضیٰ ہنستے ہوئے داؤد سے بولے ۔
وہ بھی ہنسنے لگے اور پھر ارتضیٰ کو دیکھا ۔
ارتضیٰ۔۔
جی بابا بولیں۔
اگر میں تم سے تمہاری زندگی کی سب سے قیمتی چیز تمہاری سب سے پیاری جان سے زیادہ عزیز چیز مانگو تو کیا تم مجھے دو گے ؟؟
داؤد نے امید بھری نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔
بابا میری ہر چیز آپ کی ہی ہیں ۔
نہیں وعدہ کرو تم دو گے وہ ہاتھ آگے کرتے بولے ؟
ارتضیٰ نے ان کا ہاتھ چومہ اور آنکھوں سے لگایا بابا آپ حکم کریں میری ہر چیز پر حق ہے آپ کا آپ مانگیں نہیں آپ حکم کریں میرا سب کچھ آپ کا ہی ہے۔۔۔ انہوں نے باپ کا مان رکھا۔
وہ بہت خوش ہوئے مجھے حور دے دو ارتضیٰ ۔۔۔میرا گھر اور دل اسکے بینا اداس ہے ۔۔مجھے حور دے دو ارتضیٰ میں شاہزیب ابراہیم کے لیے تم سے حور کا ہاتھ مانگتا ہوں۔۔میں چاہتا ہوں میری حور میرے شاہ زیب کی دلہن بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میرے پاس میرے گھر آجائے ۔۔
ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے باپ کو دیکھا ہو۔۔بابا میرے لئے اس سے بڑھ کے اور خوشی کی بات کیا ہوگی کہ میری بیٹی شاہ زیب کی دلہن بن کے ایک گھر سے دوسرے گھر جائے گی۔جہاں اس کو جان سے زیادہ پیار کرنے والے دادا دادی ساس سسر اور شوہر ملے گا شاہ زیب بہت پیارا بچہ ہے سمجھدار۔ قابل۔ محنتی زہین ۔ مجھے حور کے لئے اس سے بہتر اور کوئی نہیں مل سکتا آپ فکر نہیں کریں حور آپ کی امانت ہے۔
داؤد خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے انہیں اپنے بیٹے پر آج فخر ہوں ۔
مگر بابا آپ ایک اور وعدہ یہ بھی کریں کہ میرے اور آپ کے بیچ یہ بات رہے گی میں نہیں چاہتا کہ حور کی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہم بچوں کے سامنے ایسی ویسی کوئی بات کریں کچی عمروں میں ان کے ذہن پہ ایسی کوئی بات ڈالنا ان کا فیچر تباہ کرنے جیسا ہے بچہ آرام سے اپنی تعلیم مکمل کرلیں اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں پھر ھی ہم ان کے سامنے یہ بات کریں گے ۔۔۔ حور کی تعلیم مکمل ہوتے ھی خوشی سے آپ اپنی امانت لے جائیے گا ۔۔
داؤد نے آگے بڑھ کے ارتضیٰ کا ماتھا چومہ خوش رہو۔ تم نے آج میرا مان رکھا مجھے فخر ہے تم پہ میرے بیٹے ہو تم ۔۔
ارتضیٰ مسکرائے چلیں بابا اندر ورنہ آپ کی وہ چھوٹی پٹاخا ناراض ہو جائے گی۔۔
ہاں بھئی چلو میری گڑیا کے پاس مجھے جانا ہے اور دونوں ہنستے اندر آ گے۔
داؤد کرسی پہ جھولتے آنکھیں بند کیے 15 سال پیچھے چلے گئے تھے کہ جب ہی سعدیہ کمرے میں آئیں۔۔
کیا بات ہے ؟؟ایسے کیوں بیٹھے ہیں کیا حو رکی زیادہ یاد آ رہی ہے اس سے بات نہیں کی آپ نے ؟؟؟وہ سامنے رکھی میز پہ چائے کے کپ رکھتے ہوئے بولی۔۔
داؤد ہنستے ہوئے سیدھے ہوئے۔۔ نہیں بیگم بس یوں ہی آج پرانی یادیں یاد آگئی تو انہی باتوں کو یاد کرتے ہوئے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اتنا سارا وقت گزر گیا۔۔میری چھوٹی سی شہزادی میری جان اتنی بڑی ہوگی ۔
آپ بھی نا یہ لیں چائے پین۔۔ سعدیہ نے ان کے ہاتھ میں چائے پکڑائی ہی تھی کے۔
بڑے سے گیٹ کے اندر آتی گاڑی نے زور زور سے ہارن بجانا شروع کر دیا ۔
داؤد کر سی سے اٹھ کے کھڑکی پہ آئے اور نیچے دیکھا ۔۔
وہ ارتضیٰ کی گاڑی تھی جس میں سے سب سے پہلے اترتے داؤد نے حور کو دیکھا اور ان سے اپنی خوشی چھپائی نہیں گئی
سعدیہ ۔۔۔وہ چیخے میری بچی میری پیاری حور آئی ہے ۔۔۔چلو نیچے چلو جلدی سب کو بولو حور آئی ہے ۔۔انہیں اپنے بیٹے اور بہو سے زیادہ پوتی کے آنے کی خوشی تھی۔۔
سچی۔۔ سعدیہ بھی خوشی سے کھڑی ہوئی اور دونوں میاں بیوی نیچے اتر کے آئے۔۔
حور گھر میں اندر آتے ہی دادو دادو چلانے لگی۔۔۔ ایک دم پوری حویلی اس کی آوازوں سے گونج رہی تھی ۔۔
اس کی آواز سے سب بھاگ کر آے۔
داؤد نے نیچے اترتے ساتھ ہی بازو پھیلا ے اور حور انہیں دیکھتے ہی دوڑ کے ان کے سینے سے لگ گئی ۔۔وہ کتنی دیر اسے سینے سے لگائے رکھے ۔۔ دادا پوتی کی محبت دیکھ کے سب ہنسے ۔
پھر وہ ان سے الگ ہوتے بولی دادو آپ کیسے ہیں ؟؟
وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولے ۔۔دادو کی جان میں آپ کو دیکھ کے اب بالکل ٹھیک ہوں ۔۔
پھر وہ دادی کی طرف آئی اور ان کے گلے لگیں ۔۔دادو آپ کیسی ہیں؟؟ وہ ان کے سر پر پیار کرتی بولی ؟
سعدیہ نے بھی اس کے ہاتھوں کو چومہ اور اس کے سر پر پیار کیا میں بالکل ٹھیک ہوں میری بچی ۔۔تم سناؤ کیسی ہو ؟
میں ۔۔اس نے میں کو لمبا کھینچا۔۔دیکھ لیں میں آپ کے سامنے ہو ۔۔
پھر وہ ہنستی مسکراتی سب سے باری باری ملی ۔۔
وہ پانچ سال بعد حویلی آئی تھیں اپنی تعلیم مکمل کرکے ۔۔
آپ کو پتہ ہے دادو میں ڈاکٹر بن گئی۔۔میری ہاؤس جاب کمپلیٹ ہوگئی ۔
داؤد اتنی بڑی خوشی سن کے نثار ہو گئے ۔۔
تو بس پھر اسی خوشی میں آج پورے گاؤں میں جشن هو گا پوری حویلی میں خوشیاں منائی جاے گی ۔۔۔داؤد بولے
نہیں دادو یہ جشن وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہاں آپ اس کے بدلے غریب لوگوں کو۔ کھانا کھیلا دیں مجھے بہت خوشی ہو گی اورہاں آج آپ سب فیملی ممبرز کو اکھٹا کر لیں ہم مل کر کھانا کھاہیں نگے ۔۔مجھے بس آپ ک ساتھ کچھ دن گزرنے ہیں بہت سری باتیں کرنی ہے بس۔۔
داؤد نے اس کی بات پے اسے تعجب سے دیکھا کیوں اب کچھ دن کیوں اب آپ میرے پاس رہے گی میرے ساتھ اور میں آپ کو۔ کہیں نہیں جانے دوں گا وہ اس کےدونوں ہاتھوں کو مظبوطی سے پکڑ تے ہوے بولے ۔
وہ ہنسی۔۔ میں اتنا پڑھ کے لکھ کے محنت سے راتوں کو جاگ کے ڈاکٹر بنی اسی لیے کے آپ کے ساتھ گھر پے رہوں ۔
مجھے کچھ نہیں پتا ۔۔داؤد بچوں کی طرح گردن نا میں ہلا تے بولے ۔
اچھا ہم اس ٹوپک پے بعد میں بات کریں گے ۔۔ حور نے انہیں آبھی اس ٹوپک سے ہٹایا کیوں کے اسی میں حور کے لیے بہتری تھی۔
سب اپنی باتوں میں لگے تھے اور دادا پوتی سب سے الگ اپنی دنیا میں گم تھے۔
دیکھو ذرا حور اتنے ٹائم بعد ہم سب سے ملنے آئ ہے مگر اسے ہم نظر ہی نہیں آرہے یہ دادا پوتی کا دل بھرتا ہی نہیں ایک دوسرے سے ارے ہم بھی ہیں یہاں ہمیں بھی پوچھ لو ۔۔ سعدیہ نے حور سے کہا جو ایک الگ سوفے بے بیٹھے ہلکی ہلکی باتیں کر رہے تھے جس کی آواز کسی تک نہیں پوہنچ رہی تھی ۔
جی جی ۔۔دادی امی میں آپ سب کے پاس ہی آرہی ہوں بس آپ کو تو پتا ہے نا اپنے دادو کی بات ہی الگ ہے وہ داؤد کے پاس سے اٹھ کے دادی کے گلے لگتے بولی دادو بھی ہنسے اور سعدیہ بیگم سے آنکھوں کے اشارے سے بولے دیکھا یہ ہے میری پوتی ۔۔
تو بیٹا جی یہ بتائیں آپ کی تعلیم کا سفر کیسا رہا ؟؟ مدثر نے پوچھا انھیں اپنی یہ پیاری سے بھتیجی بہت پسند تھی وہ دل میں اسے اپنے بڑے بیٹے شاہزیب کے لیے مانگنا چاہتے تھے۔۔
بڑے بابا بہت ہی اچھا گیا ۔۔۔ حور نے آبھی بات شروع ہی کی تھی کے۔۔
میں بتاتی۔ ہوں کیا۔ خاک اچھا گیا حالت دیکھی ہے بھائی آپ نے اس کی ؟؟کتنی کمزور ہوگی ہے جیسے وہاں کچھ کھانے کو نہیں ملتا تھا اسے اور آنکھیں دیکھی ہیں کتنی حسین تھی میری بچی کی اور آئی ہے تو یہ آنکھوں کے نیچے ہلکے بالوں کا بھی برا حال کیا ہوا۔ ہے اس نے ۔
عظمیٰ اور یاسمین دونوں ریفریش منٹ ٹیبل لے کر آ رہی تھی۔ جب ہی عظمیٰ۔ نے مدثر کو کہتے سنا تھا اور اپنے دل کی بھاڑاس ایک بار پھر نکالی حور جب سے آئی تھی وہ اس کی صحت۔ کو۔ لے کے ہی روے جا رہی تھیں ۔۔
حور نے ایک بار پھر اپنی ماں کو شروع ہوتا دیکھ کے سر پے ہاتھ مارا۔
وہی سب بیٹھنے لوگ ہنس دیئے ۔
السلام عليكم ۔۔ بہار سے اندر آتے اس نے سب بڑوں کودیکھ کے سلام کیا تھا۔۔
سب نے پلٹ کے اندر آتے اس شخص کو دیکھا ۔
شاہزیب ۔۔۔ ارتضیٰ یہ کہیتے خوشی سے اٹھے وہ بھی انھیں کی طرف بڑھا۔ ارتضیٰ نے اسے سینے سے لگایا ۔ کیسے ہو شاہزیب ؟؟
بلکل ٹھیک چاچو آپ سنائیں کیسے ہیں ۔۔؟؟ شاہزیب اپنے چاچوکو بچپن سے بہت پسند کرتا تھا وہ انہیں آئیڈیلااز کرتا تھا آج انھیں دیکھ کے بہت خوش ہوا ۔۔
ارتضیٰ بھی اسے بہت پسند کرتے تھے وہ پسند کیے جانے کے ہی قابل تھا ۔
لمبا چوڑا چھ فوٹھ قد ۔۔ کالی آنکھیں جن میں ذہانت دکھائی دیتی کالے گھنے بال گورا رنگ 26 سال کا وہ بھرپور نوجوان تھا بچپن سے ہی وہ سمجھدار فرمابردار اور ذہین تھا ۔۔ 3 سال پہلے ہی وہ بہار سے اپنی تعلیم مکمل کر کے ڈگری لے کے آیا تھا اور اب باپ دادا کے ساتھ گاؤں کی بہتری اور ترقی کے لیے ان کی مدد کرتا تھا حال ہی میں وہ یہاں ایک اسکول بنوا رہا تھا جس میں بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی اور پھر وہ مستقبل کا سردار بھی تو تھا گدی کا وارث ۔
السلام عليكم ۔۔بیحد خوبصورت آواز میں سلام سن کے وہ پلٹا تھا۔اور اسے دیکھتے ہی اس کی اپنی دنیا ہی جیسے پلٹی کھا گی هو ۔۔
اسے دیکھ کے ایسا لگا جیسے دن میں چاند نظر آگیا هو ۔۔ وہ بیحد خوبصورت تھی اسے دیکھ کے پریوں سا گمان ہوتا ۔نازک کانچ کے جیسا سراپا ۔لمبے کمر سے بھی نیچے آتے دو شیڈ کے قدرتی ہلکے اور گھرے گولڈن رنگ کے سلکی سیدھے بال جنہیں آگے ایک سائیڈ سے ہلکے سے بال پیچھے کر کے پن اپ کیا ہوا تھا اور باقی کے پیچھے کھولے ہوے تھے ۔۔نیلی بڑی بڑی لمبی خوبصورت آنکھیں جن پے گھنی لمبی موڑی ہوئی پلکیں پہرا دیتی تھیں ۔پتلی کھڑی خوبصورت ناک جن میں باریک سا ایک ہیرا سجا تھا۔گلابی پهول جیسے ہونٹ جن پے کبھی بھی کی سی بھی قسم کی کوئی پروڈکٹ استعمال نہیں کی گئی تھی۔نازک لمبی صوراحی دار گردن جس پے بنانے والے نے کالا تل لگا دیا تھا کے اسے کبھی کسی کی نظر نا لگے ۔۔ گورا رنگ کے ہاتھ لگانے پے میلی ہوجاے۔۔ خوبصورت ہاتھ جن کی انگلیاں پتلی پتلی اور گلابی سی تھیں اس نے کالے رنگ کی چھوٹی قمیض اور گھیر دار شلوار پہنی تھی اور اس پے رنگ برنگی کڑھائی والابڑا سا دوپٹہ لیا تھا ۔۔ ۔۔وہ چھوٹی سی خوبصورت اسکول گرل لگتی تھی کوئی اسے دیکھ کے نہیں مان سکتا تھا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہے۔۔
وہ اسے دیکھ کے پلکیں جھپکنا بھول گیا۔۔
شاہزیب بیٹھو بیٹا کھڑے ہی رہو گے کیا ؟؟ مدثر نے بیٹے کو یوں ہی کھڑے دیکھتے ہوے بولا اس کی اس حرکت کو کسی نے بھی نوٹ نہیں کیا کیوں کہ وہ ایسا تھا ہی نہیں آج تک اس نے کسی کو بھی نظریں اٹھا کے نہیں دیکھا تھا کجا کے یوں ایک ساتھ دیکھے جانا ۔۔
اس نے فورن نظریں جھکائی اور خود سے شرمندہ سا ہوتا اس کے سلام کا جواب دیا اور بیٹھ گیا۔
جب کے وہ تو اسے سلام کر کے اپنے دادا کو اپنے پتا نہیں کون کون سے قصے کہانیاں سنانا شروع ہوگی تھی بنا اس کے سلام کا جواب سنے۔۔
السلام عليكم ۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں حور کے ماموں مامی اپنے بچوں جو کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ان کے ساتھ اپنے تایا کے گھر آے۔
داؤد کا پورا خاندان یہی تھا ۔۔ بھائی اور بھابھی تھے نہیں ان کے بچے ہی تھے بیٹیوں کو بہو بنا لیا تھا اور جو بیٹا تھا باپ کی زمینیں جائیداد اتنی تھی کے اس کی آنے والی پوشتیں بھی بیٹھ کے آرام سے کھا سکتی تھیں
ماموں ۔۔حور ماموں کے گلے لگی کیسے ہیں آپ ؟ مامی آپ کیسی ہیں ؟؟
عنان نے اسے گلے سے لگایا میں ٹھیک ہوں میرا بچا آپ کیسی هو؟ عنان نےپیار کرتے پوچھا ۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں پھر وہ مامی سے ملی پھر عنایا سے جو حور کی ہم عمر تھی دونوں کی بہت اچھی دوستی رہی تھی بچپن میں پھر وہ اپنے اسٹڈی میں بزی هو گی اور عنایا اپنی اسٹڈی میں وہ اب ملی تھیں مصروف زندگی نے رشتوں کو بھلایا نہیں تھا وہ خوش ہوتیں ایک دوسرے کے گلے لگیں۔
پھر وہ عنایا سے چھوٹی فریحہ سے ملی جو اس وقت دسویں کی سٹوڈنٹ تھی ۔
حور نے پھر افنان کو دیکھا اور سلام کیا جو اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔۔ظاہر ہے وہ تھی ہی اتنی حسین کے کوئی اسے دیکھے بناکیسے رہ سکتا تھا۔۔ افنان شاہزیب ہم عمر ہی تھے۔ افنان نے سلام کا جواب دیا اور اگے بڑھ گیا وہ کھڑا رہتا تو اسے اپنی نظریں حور پے سے ہٹانا مشکل ہوتا۔۔
ہاۓ۔۔۔۔ حور تم کتنی بڑ ی اور خوبصورت هو گی هو ویسے بھی تم بچپن ہی سے خوبصورت تھی اب تو یقین ہی نہیں هو رہا تمھیں دیکھ کے اللہ تمھے نظرے بد سے بچاے ۔۔۔ عنایا اسے دیکھتے بولی۔
جاری ہے
