Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53
لو چوم لو۔۔۔اذہاد ہلکا سا ہنستا ہوا بولا اور ہاتھ آگے بڑھا دیا جسے حور نے فورن تھام کر ہونٹوں سے لگا کر چومتے ہوے انہیں آنکھوں سے بھی لگایا۔۔۔
اذہاد اس کی معصوم سی اداوں پر فدا ہی ہوگیا تھا وہ اتنی كیوٹ لگ رہی تھی اسے اپنی ڈھیلی ٹی شرٹ میں۔۔تبھی وہ اس کے لمبے اڑتے بالوں کو ایک ہاتھ سے سمیٹ کر اس کا منہ پکڑ کر چٹ چٹ بوسے لینے لگا۔۔
حور اس کے اتنی محبت اظہار سے تنگ آتی اس کے ہاتھ سے اپنا منہ چھوڑا کر منہ بنا کر اس کے سینے سے لگ گئی۔۔
حور ایک چیز دکھاؤ؟؟ اذہاد نے آہستہ سے اس سے کہا۔۔
حور نے نظروں کو اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرائی۔۔
تبھی وہ جھٹ سے کھڑا ہوتا اسے بھی گود میں اٹھاۓ باہر آیا۔۔
وہ جب سے یہاں آئی تھی اذہاد کوئی نا کوئی اسے سرپرائز دے کر حیران ہی کر رہا تھا۔۔
جب وہ اسے باہر لایا تو آہستہ سے اسے نیچے اتار کر اسے مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔
ہادی مجھے کچھ دکھانے والے تھے آپ۔۔۔حور نے بیچینی سے اس سے سوال کیا۔۔۔
تبھی اذہاد نے اسے کندھوں سے تھام۔کر اس کا رخ موڑا۔۔۔جسے دیکھ کر حور تو ایک پل کے لئے حیران ہی رہ گئی۔۔۔اور پھر موڑ کر اذہاد سے اس بات کی تصدیق کرنی چاہی کے جو وہ دیکھ رہی ہے کیا سچ میں حقیقت ہے ؟؟؟
اذہاد نے مسکرا کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیئے۔۔حور نے پلٹ کر پھر دیکھا اور چیخ مارتی ہوئی اذہاد کے زور سے سینے سے لگی۔۔پھر بھگ کر اس کے پاس آئی۔۔۔
ہادی یہ سچ مچ میری اسکوٹی ہے۔۔وہ اسے چھو کر دیکھتی خوش ہوتی اس سے پوچھ رہی تھی۔۔
ہاں میری جان وہ پیار سے اس کے گال کو ہلکا سا کھینچتا اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔۔
وہی جو بابا نے مجھے گفٹ کی تھی۔۔اسے یقین نہیں نہیں آرہا تھا۔۔
ہاں۔۔وہ بھی مزے سے اس کے پیچھے بیٹھ کر اسے کمر سے تھامتا ہوا بولا۔۔
آپ عنایا سے اسے میرے لئے مانگ کر لے آے۔۔۔پھر سوال ہوا۔۔
یہ میری حور کی اسکوٹی تھی۔۔میں اسے کسی سے مانگتا کیوں؟؟ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔
آئی لو یو۔۔ وہ بے اختیار اس کے گلے میں باہیں ڈال کر اس کے ڈمپل پر اپنے لب رکھتی محبت سے اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
آئی لو یو ٹو حور۔۔کیا تمہارا رومانس کرنے کا موڈ ہے؟؟آئی برو اٹھا کر پیار سے پوچھا۔۔
بلکل نہیں۔۔مسکرا کر اس نے جواب دیا۔۔
تو یار پھر چلاؤ نا اسے مجھے تمہارے ساتھ اس پر بیٹھ کر لندن گھومنا ہے۔۔وہ ہنستا ہوا بولا۔۔
تبھی حور نے اسکوٹی چلائی۔۔
حور چلو اب میری باری مجھے بھی سیکھاو یہ۔۔وہ حور سے بولا۔۔
حور فورن اتر کر اس کے پیچھے بیٹھی اور اسے سمجھانے لگی۔۔اذہاد تھوڑا سا اسکوٹی کو چلاتا اور پھر روک دیتااور لمبے لمبے پاؤں کی مدد سے اسکوٹی کو ایسے ہی چلانے لگتا۔۔حور زور زور سے ہنس رہی تھی اس کے ایسا چلانے پر۔۔
___________________
رات کی سیاہی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی بھر پور اور حسین دن ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ دونوں اب اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑے کافی کے مزے لیتے ہوے آپس میں گپ شپ بھی کر رہے تھے۔۔
حور نے اذہاد کی پسند کا ڈریس پہنا تھا جو کے بلیک کلر کی حسین لمبی سی فراک جیسا تھا۔۔لمبے بال آگے کی طرف گرے ہوے تھے۔۔۔اذہاد نے حور کے لئے ہر ایک چیز اپنی پسند سے لی تھی۔۔اذہاد بھی فل بلیک ٹو پیس میں کچھ کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
ہادی مجھے اپنا فون دیں مجھے پاکستان سب سے بات کرنی ہے۔۔حور نے اپنے اڑتے بالوں کو سمیٹتے ہوے اذہاد سے کہا۔۔
وہ جو اس کے ہاتھ کو غور سے اپنے ہاتھ میں لئے دیکھ رہا تھا حور کی بات سن کر اسے دیکھنے لگا۔۔
اگر میں نا دوں حور تو؟؟ وہ اب اس کے چہرے کے بے حد قریب آتا اپنی ناک سے اس کے گال کو سہلاتا ہوا بولا۔۔۔
کیا مطلب ہادی میں سمجھی نہیں؟؟ وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔لبوں کی مسکراہٹ اب پھیکی پڑ چکی تھی۔۔
وہ ہلکا سا جهكتا اس کی نیلی کانچ سی بڑی بڑی آنکھوں میں غور سے دیکھنے لگا۔۔
مطلب یہ حور کے پاکستان میں کیے جانے والے آیگریمنٹ کے حساب سے تمہاری حدود ختم اور میری حدود شروع۔۔وہ سائیڈ سمائل پاس کرتا اس کے حسین چہرے پر اپنی انگلیوں کا لمس بکھیرتا بولا۔۔۔
آیگریمنٹ کی بات کہاں سے بیچ میں آگئی؟؟ اس کی آنکھوں کے دیکھے جانے والے انداز سے حور کو ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اب اذہاد کے تینو روپ محبوب دوست اور شوہر ایک ہو گئے ہوں۔۔۔
اب اذہاد کی باری تھی پتا پھینکنے کی۔۔۔
حور میں بھولا نہیں تھا۔خاص کر جب کوئی بات لین دین سے جڑی ہو۔۔اپنی باری کا مجھے بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔۔اس کی ڈیمپل والی سمائل حور کو اب خبردار کروا رہی تھی۔اسے اب ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس ڈیل کے ذریعے اس کے جال میں پھنسی ہو۔۔
حور تھوڑا سا اس سے پیچھے ہونے لگی جب اذہاد نے اس کے دونوں طرف مظبوطی سے ہاتھ جما کر اس کی فرار کی راہیں بند کر دی۔۔۔حور نے حیران ہوتے ہوے اذہاد کو دیکھا۔۔
حور تم یہاں ایک طرح سے سمجھ لو میری قید میں ہو۔۔نا تم کسی سے بات کرو گی نا ہی یہاں سے کہیں جا سکو گی۔۔وہ اس کے چہرے پر جھکتا ہوا بولا تھا جو منہ کھولے اب صدمہ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
حور تم جانتی ہو تمھیں میری ساری حقیقت معلوم ہے میرا کل میرا آج تم سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں۔۔میں نے آپنوں کو کھویا ایک عرصہ اس تنہائی اور اکیلے پن سے لڑا ہوں۔۔۔تمہارے سوا میرے پاس کچھ بھی نہیں۔۔بابا کے پاس مما ہیں دادو ہیں سب ہیں۔۔میرے پاس تمہارے علاوہ کوئی نہیں۔۔یاد ہے جب مجھ سے دور ہو کر مجھے اکیلا چھوڑ کر تم جانے کا کہہ رہیں تھیں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی جسم سے روح کھینچ رہا ہو۔۔اور پھر۔۔۔وہ تھوڑا سا روکا۔۔۔اور لمبے سانس لینے لگا۔۔
حور تو پلکوں کو بینا جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔جیسے کسی دیوانے کی داستان سنتی اس کا ہر درد خود محسوس کر رہی ہو۔۔۔وہ اسے جنونی سا سر پھرا محبوب لگا۔۔۔
حور ہوش میں آنے کے بعد تم نے سب سے پہلے میرے اس نشان کو دیکھ کر تکلیف کیوں محسوس کی تھی جب کے زخم تو بھر چکا تھا۔۔وہ اپنی آنکھ کے اوپر لگے چوٹ کے نشان پر انگلی رکھتا اس سے بولا۔۔
حور کی نم آنکھیں اس کے نشان کی طرف گئی بے اختیار وہ آگے بڑھی اور اس کے نشان کو محبت سے چوم لیا۔۔۔
میرے درد کا اندازہ لگاو حور جب تمہارے جسم کا تیزی سے بہتا خون میرے وجود پر بکھر رہا تھا تمہارا بےجاں وجود دیکھ کر میں نے بار بار موت جیسی تکلیف سہی ہے۔۔ساتھ مہینے میں نے تمہارے دھڑکتے اس دل سے خود کو جینے کا قسمت کے اس ظلم سے خود کو لڑنے کا حوصلہ دیا ہے۔۔ساتھ مہینے میں نے تمہاری آواز نہیں سنی حور۔۔تمہاری ان آنکھوں میں اپنے لئے محبت بھرا عکس نہیں دیکھ سکا میں۔۔وہ شدت جذبات سے آج اس سے اپنے دل کا حال بیان کر رہا تھا۔۔
میں پل پل جیتے ہوے مرا ہوں۔۔اب مجھے جینا ہے تمہارے ساتھ مجھے یقین کرنا ہے کے حور صرف میری ہے۔۔مجھے ہر پل ہر لمحہ ہر گھڑی ہر سیکنڈ صرف تمہارے ساتھ تمہارے قریب رہنا ہے۔۔
وہ اس کے چہرے سے ماتھا ٹیکاتا آنکھیں بند کر گیا حور بھی آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کرتی اس کی دھڑکنوں کو سننے لگی۔۔
میں چاہتا ہوں تم صرف مجھ سے بات کرو مجھے سنو مجھے دیکھو مجھے سوچو صرف مجھ سے محبت کرو۔۔صرف میں تمہارے قریب رہوں تمہاری سانسوں سے بھی قریب تمہارا دل بن کر دھڑکوں تم چاہ کر بھی مجھے خود سے الگ نا کر سکو میں اتنا تم میں بس جاؤ۔۔۔وہ اب مسکراتے ہوے اسے دیکھ رہا تھا جہاں حور بھی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔
اس لئے میں جب تک نہیں چاہتا تم نا تو کسی سے کوئی بات کرو گی نا ہم یہاں سے کہیں جایئں گے۔۔بس تم اور میں۔۔مما بابا سے ساری زندگی بات کرتی رہنا یہ لمحے ابھی تمہارے صرف میرے ہوے۔۔وہ اس کے گالوں کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔جب کے اسکی ایک ہاتھ کی انگلیاں حور کے چہرے سے ہوتی اس کی گردن اور پھر کمر پر سرائیت کر رہی تھی۔۔۔
تبھی یہاں ایسی جگہ آپ مجھے لے کر آے ہیں جہاں دور دور تک کوئی نا ہو۔۔اچھا ویسے ایک آئیڈیا تو ہوگا نا آپ کی قید کی لمیٹ کتنی ہوگی۔۔حور نے مسکرا کر پوچھا۔۔
اذہاد اسے دیکھ کر ایسے مسکرایا جس میں حور کا جواب صاف تھا۔۔حور نے اپنا ہاتھ موڑ کر اپنی کمر پر اذہاد کے چلتے ہاتھ کو پکڑا۔۔
ہادی۔۔وہ انگلی اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتی اب اسے وارن کر رہی تھی جہاں اس کا ارادہ اسے شاید ساری زندگی آزاد کرنے کا نہیں تھا ۔۔۔
اذہاد زور سے ہنستا ہوا اپنا پورا وزن اس کے نازک وجود پر ڈالتا گرا۔۔۔
حور نے زور سے چیخ ماری۔۔اگر وہ ریلینگ کو مظبوطی سے پکڑی نا ہوتی تو شاید گر جاتی۔۔
مگر اذہاد نے اسے اپنے مضبوط بازوں سے تھاما ہوا تھا وہ اسے کیسے گرنے دیتا۔۔۔
جن لگ رہے ہیں اس وقت آپ۔۔حور نے چڑ کر کھا۔۔
تبھی اذہاد نے اس کا چہرہ محبت سے تھام کر اس کی سانسوں کی ڈور اپنی سانسوں سے جوڑ لی۔۔۔۔
__________________________
زندگی کے سب سے حسین اور خوبصورت دن دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سنگ گزارے۔۔
کوئی گلہ کوئی شکوہ جیسے اب زندگی سے رہا ہی نا ہو۔۔۔
باپ اور دادا کی محبت اور ان سے لاڈ اٹھوانا کیا کم تھا جو اسے سونے پے سوہاگا شوہر بھی دونوں سے بڑھ کر ملا تھا جس نے نا صرف اس سے انتہا سے زیادہ محبت کی بلکے اس کے ناز نخرے تک اپنی پلکوں سے اٹھاے۔۔۔وہ اس کی محبت پا کر مزید حسین ہوگئی تھی۔۔
اذہاد نے حور کو تنگ کرنے کے لئے مما بابا سے بات نا کروانے کا کہا تھا ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس کے چہرے پر اداسی دیکھتا وہ روز نہیں مگر 2 سے 3 دن میں اس کی بات ضرور کرواتا تھا۔۔۔
ہر پل کا ساتھ اس کی محبت کی وہ اتنی عادی ہو چکی تھی کہ وہ ذرا سا نظروں سے دور ہوتا تو حور جیسے گھبرا کر اسے ہر طرف ڈھونڈنے لگتی۔۔۔
جو کہا تھا اس نے وہ کر بھی دکھایا تھا۔۔وہ اس کی سانسوں میں۔۔اس کے سینے میں دل بن کر دھڑکتا تھا۔۔اسے دیکھے بینا حور کی سانسیں تک نہیں چلتی تھیں۔۔۔
دن سے مہینے کیسے گزرے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔
اذہاد حور کو لے کر پوری دنیا گھوما۔۔دنیا کبھی اتنی حسین نا لگی تھی جتنی اب لگتی تھی۔۔جسے کل تک اپنی زندگی اپنی جان سے نفرت تھی آج اس جان جس میں بستی تھی وہ اس ہر چیز سے عزیز تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔





۔۔۔۔۔
اذہاد حور کی گود میں سر رکھے آنکھیں بند کر کے لیٹا تھا۔۔حور اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی محبت سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔کہ جب اذہاد کا فون بجا۔۔
اذہاد نے اپنا فون اٹھا کر جب نمبر دیکھا تو اس کے چہرے پر ایک سایہ لہرایا۔اس نے نمبر کاٹ دیا۔تھوڑی دیر بعد فون پھر بجنے لگا۔۔تبھی وہ جھٹکے سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور تھوڑی دور جا کر بات کرنے لگا۔۔۔
وہ کچھ دنوں سے دیکھ رہی تھی۔۔ازہاد کسی کے فون آنے پر حد سے زیادہ سنجیدہ ہو جاتا تھا۔۔حور کی موجودگی میں یا تو وہ فون کاٹ کر موبائل بند کر دیتا یا وہاں سے اٹھ کر دور جا کر بات کرتا تھا۔۔۔
ایسی کوئی بات نہیں تھی جو اذہاد اور حور کے بیچ چھپی تھی۔۔
مگر کچھ دنوں سے کسی کے آتے فون حور کو عجیب لگ رہے تھے۔۔مگر وہ خاموشی سے سب نوٹ کر رہی تھی آج نہیں تو کل اذہاد نے اسے ہی بتانا تھا جانا کہاں تھا۔۔
وہ تھوڑی ہی دیر میں بات کر کے اس کے قریب آکر خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔
کیا بات ہے کوئی نیو گرل فرینڈ بنا لی جو مجھ سے چھپ چھپ کر بات کی جا رہی ہے۔۔وہ ہنستی ہوئی اس کے گرد اپنے نازک ہاتھوں حصار باندهتی ہوئی پیار سے بولی۔۔۔
اذہاد اس کا چہرہ دیکھ کر مسکراتا خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔
ہادی کیا بات ہے؟؟ اس کے کاندھے پر ٹھوڑی رکھے محبت سے دیکھتی بولی۔۔
کچھ بھی نہیں جان۔۔وہ مسکرا کر اس کی فکر دور کرتا اسے سینے سے لگا گیا اور خود سوچ کی گہرائیوں میں ڈوب گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ اب فون پہلے سے بھی زیادہ آنے لگے تھے۔۔
حور ظاہر تو نہیں کرتی تھی مگر اندر ہی اندر ایک آگ تھی جو اسے جلاتی تھی۔۔
ایسا کیا تھا جو اذہاد اسے بتا بھی نہیں تھا اور خود بھی خاموش خاموش رہتا تھا اس کی حور سے محبت اپنی جگہ تھی مگر اس کی خاموشی حور اچھے سے سمجھتی تھی۔۔۔وہ اندر ہی رہ کر کیوں گھٹ رہا تھا۔۔۔
کبھی تو دل کرتا تھا اس کا فون توڑ کر چور چورا کر دے۔۔یا اٹھا کر تو دیکھے آخر یہ ہے کون جو عذاب بن کر اس کی حسن زندگی میں گھس گیا ہے۔۔۔مگر اذہاد کے لئے وہ خاموش ہو جاتی تھی وہ اسے تکلیف نہیں دے سکتی تھی۔۔۔اور اندر ہی اندر جلتی رہتی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون مسلسل بج رہا تھا بج رہا تھا۔۔شاید سائیلنٹ پر تھا۔۔حور کی آنکھ آج صبح ہی کھل گئی تھی۔۔اذہاد کے سوئے معصوم سے چہرے کو ایک ٹک محبت سے دیکھتی اس کے چہرے کے حسین نقش پر اپنی نرم انگلیوں کا لمس چھوڑ رہی تھی۔۔تبھی اس کی توجہ فون پر گئی تھی۔۔اٹھ کر بیٹھتی اس کا بجتا فون ہاتھ میں لے کر ایک نظر اذہاد کو دیکھا جہاں وہ گہری نیند میں تھا۔۔۔
تبھی وہ اٹھ کر کمرے سے باہر گئی تھی۔
لمبے بالوں کو ایک ہاتھ سے کان سے ہٹاتی وہ فون کان کے پاس لے جاتی بولی۔۔۔ہیلو۔۔۔
سامنے سے کوئی آواز نا آئی۔۔۔اس نے ایک بار پھر کہا۔۔ ہیلو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔



۔۔۔۔۔۔
اذہاد نے نیند میں حور کو ہاتھ سے بیڈ پر ڈھونڈنا چاہا مگر اس کے ہاتھ حور کو ڈھونڈ نہیں سکے ۔۔تبھی اذہاد نے آنکھوں کو کھول کر دیکھا وہ بیڈ پے تو کیا پورے کمرگیب ے میں اسے کہیں نظر نا آئی۔۔وہ بہت حیران ہوا حور کو صبح جلدی اٹھنے کی عادت نہیں تھی۔۔وہ کہن گئی۔۔تبھی اس کی نظر برابر میں رکھی چھوٹی سی ٹیبل پر گئی جہاں حور کے ساتھ اس کا موبائل بھی غائب تھا۔۔۔
اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔وہ بجلی کی طرح بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھا تھا جہاں اس کی سوچ کے مطابق ایک قیامت تھی جو اس پر ٹوٹنے والی تھی۔۔۔
____________________
جس چیز کا ڈر تھا اذہاد کو وہی ہوا۔۔
وہ سکتے کے عالَم میں کھڑا سامنے خوف سے دیکھ رہا تھا۔جہاں حور اس کی طرف رخ موڑے کھڑی تھی اور اس کے ہاتھ میں اذہاد کا موبائل تھا۔۔۔
حور۔۔تیز چلتی سانسوں کے درمیان اس نے آہستہ سے اسے پکارا۔۔
تبھی حور نے آہستہ سے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور پھر پورا رخ اس کی طرف گھما لیا۔۔۔
رونے کی وجہ سے آنکھیں گال اور چھوٹی سی ناک سرخ ہو چکے تھے۔۔وہ پتھرائی آنکھوں سے اذہاد کو دیکھ رہی تھی۔۔اذہاد کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔وہ اس کا یہ روپ پہلے بھی اپنے بابا کے لئے دیکھ چکا تھا۔۔اسے اس حال میں سمبھالنا اذہاد کے بس میں نہیں تھا وہ بےبسی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
اذہاد نے دیکھا غصے سے اس نے ہاتھ میں پکڑا اس کا موبائل اتنی زور سے دبایا ہوا تھا کہ اس کی ہتیلی گلابی ہو چکی تھی۔۔۔
مجھ سے کیوں چھپایا ہادی؟؟ دانتوں کو آپس میں ملاے وہ آہستہ سے بولی۔۔
تبھی اذہاد آہستہ سے اس کی جانب بڑھا۔۔حور ایک بار میری بات سن لو۔۔وہ نم آنکھوں سے محبت سے اس بولا۔۔
وہ اس وقت اذہاد کو اپنے حواسوں سے بیگانی لگی۔۔
وہ دو قدم اذہاد سے خود پیچھے ہوئی۔۔نہیں میں ایک بھی نہیں سنی گی آپ کی۔۔ہادی بلکے آپ اب میری سنیں۔۔میں جنّت مما نہیں ہوں۔۔وہ پوری طاقت سے چلاتی ہوئی بولی تھی کے گلے کی رگ ابھر آئی تھی۔۔تیز تیز غصے سے سانس پھول رہی تھی آنسو بہہ رہے تھے۔۔
اذہاد تیزی سے اس کے قریب آتا زور سے اسے خود سے لگایا تھا۔۔۔حور مجھے تکلیف ہو رہی ہے تمہارے اس طرح رونے سے۔۔وہ دکھ اور بےبسی سے اسے خود سے زور سے اپنے سینے سے لگاے بولا تھا۔۔۔
حور نے اذہاد کی مضبوط گرفت سے خود کو چھوڑایا اور ہاتھ میں پکڑا موبائل زور سے دیوار پر دے مارا۔۔موبائل ٹوٹ کر کئی حصوں میں بٹ گیا۔۔۔
انہیں سکون نہیں ملا اپنے بیٹے کی جان لے کر۔جو اب میرے ہادی کو بھی مجھ سے چھیننے آگئے ہیں۔۔مجھ میں نا تو جنّت مما جتنا حوصلہ ہے نا ہی میں تمہاری طرح مظبوط ہوں اذہاد عریض۔۔۔ کہہ دو ان سے کے میں اپنوں کی محبت کے معملے میں بہت کمزور ہوں میں نہیں برداشت کر سکوں گی۔۔وہ بے تحاشہ رو رہی تھی۔۔
کوئی نہیں چھیننے آیا مجھے تم سے حور۔۔وہ ایک بار پھر آگے بڑھ کر اس سینے سے لگا کر مظبوط بازوں کا حصار اس کے وجود کے گرد باندھ گیا۔۔
میں تمھیں کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔بول دو ان سے۔۔۔تم کہیں نہیں جاؤ گے۔۔یہ کیوں آگئے ہیں میری جنّت میں تباہی مچانے۔۔میں اپنے ہادی کو نہیں بانٹ سکتی بول دو ان کو۔۔وہ اب بچوں کی طرح اسے پکڑ کر زور زور سے رو رہی تھی۔۔۔اذہاد اس کے چہرے کو والہانا چوم رہا تھا اسکی آنکھ سے بھی آنسو لڑیوں کی صورت ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔۔
میں اپنی حور کے پاس ہوں۔۔بھلا میں کہاں جاؤ گا حور تم سے دور ہو کے۔۔وہ زور سے آنکھیں بند کر کے اسے خود سے لگا کر پیار سے بولا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔


۔۔۔۔۔
ایک بار پھر آزمائش کے بادل اسے گھیر چکے تھے۔۔
مگر اس بار ایک طرف اس کی محبت اس کا سب کچھ تھی اور دوسری طرف کمزور اور ضعیف سا وہ رشتہ تھا جو برسوں سے رو رو کر اس سے معافی کی بھیک مانگ رہا تھا۔۔
پہلے اسے صرف اپنا درد اپنے ساتھ کیا ظلم نظر آتا تھا۔۔مگر آج جب اس کے پاس حور تھی اس کی محبت تو اسے سہی معنوں میں احساس ہوا کے اکیلے پن کا درد کیا ہوتا ہے جب کوئی اپنا پاس ہو کر بھی بچھڑ جائے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔زیاد کی موت میں التمش عریض کا تو کوئی ہاتھ نہیں تھا وہ تو ان کا خود اکلوتا اکیلا وارث تھا۔۔زندگی اور موت کا حساب کتاب تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔۔ہاں التمش عریض کا اتنا کسور ضرور تھا کہ اپنے غرور اور انا کے ہاتھوں انہوں نے اپنی خوشیوں بھری جنّت خود کھوئی جس کی سزا وہ آج تک رو رو کر اس سے معافیاں مانگ مانگ کر بھی بھگت رہے ہیں۔۔
التمش عریض کو اذہاد سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔۔نا اپنی ریاست اور دولت کا رکھوالا۔۔نا ہی ان کے محل کو اس کے وجود کے بسیرے کی چاہ تھی ۔۔وہ بس اس سے معافی کے اور اسے ایک نظر دیکھنے کے طلبگار تھے۔۔۔
وہ جانتا تھا حور اس بات کو کبھی نہیں مانے گی کہ اذہاد ایک بار ہی کیوں نا ہو وہاں ان کے پاس جائے۔۔اسی لئے وہ اس بات کو اس سے چھپا رہا تھا۔۔
التمش عریض کے ہر بار فون کرنے پر رونا اور اس سے معافی مانگنا اب اذہاد کا سکون بھی چھیننے لگا تھا۔۔وہ خود ایک بار ان سے مل کر انہیں اس سزا سے آزاد کرنا چاہتا تھا جو وہ بینا کسور کے کاٹ رہے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور تک اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔
حور کو کافی مشکل سے سمبھالنے اور اسے یقین دلانے کے بعد وہ اب تھوڑی نارمل ہوئی تھی۔۔
اس محبت میں جنوں اورپاگل پن صرف یکطرفہ نہیں تھا بلکے دونوں کے برابر حصے تھے۔۔۔
جس طرح اذہاد حور کے معملے میں بہت زیادہ حساس جذباتی اور جنونی تھا۔۔وہی حور بھی اس کی محبت میں مکمل دیوانی تھی۔۔وہ کسی بھی قیمت پر اسے خود سے دور نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
آہستہ سے کسی نے اسے پیچھے سے آکر تھاما تھا۔۔۔اذہاد جو گہری سوچ میں ڈوبا تھا وہ دیکھے بینا میلوں دور سے بھی اس کے وجود کے احساس کو پہچان جاتا تھا۔۔۔
ہادی اکیلے کیوں کھڑے ہیں؟؟ کیا سوچ رہے ہیں؟ وہ اس کی پیٹھ پر ٹھوڑی رکھے معصومیت سے سوال کرنے لگی۔۔
اذہاد ہلکا سا مسکرایا اور اپنے سینے پر رکھے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتا چوم لیا۔۔
نیند نہیں آرہی تھی بس۔۔اس کی طرف گھوم کر اس کے حسین چہرے کو خود سے قریب کرتا محبت سے دیکھ کر بولا۔۔
آپ مجھے چھوڑ کر تو نہیں جایئں گے نا؟؟ خوف زدہ بچے کی طرح سوال کرتی بولی۔۔
کیا تمھیں اس بات کا یقین ہے حور کے اذہاد تمھیں چھوڑ کر جی سکتا ہے؟؟ اس کے چہرے کو محبت سے تھام کر اس کے گال پر انگوٹھا سہلاتا بولا۔۔۔
نہیں بلکل بھی نہیں۔۔وہ مسکرائی اس کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔۔۔
آپ انہیں منع کر دیں کہ وہ آپ کو بھول جایئں وہ آپ کو اب کبھی فون نا کریں۔۔وہ اس سے ایسے بات کر رہی تھی جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ کسی بڑے سے اپنی بات منواتا ہو۔۔۔اذہاد اسے غور سے دیکھے ہی گیا پھر اسے اپنے سینے سے لگاتا آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس لیا۔۔
حور وہ صرف ایک بار مجھ سے ملنا چاہتے ہیں مجھے دیکھنا چاہتے ہیں مجھ سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔۔وہ آہستہ سے اسے سمجھانے لگا۔۔
نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔اگر انہوں نے جنّت مما کی طرح مجھے بھی اپنانے سے انکار کر دیا تو؟؟ آپ ان سے مت ملیں بس۔۔وہ اس کے گرد زور سے ہاتھ باندهتی گردن ادھر ادھر کرتی بولی۔۔
اذہاد پھر کچھ نہیں بولا وہ خاموش ہو گیا۔۔اس وقت وہ کوئی بھی بات ماننے کی حالت میں نہیں تھی۔۔آہستہ آہستہ اسے قائل کرنا ہو گا.
جاری ہے
