Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13

حور سب سے پہلے کیچن میں آئی چائے بنانے اس کا سربے حد درد کر رہا تھا اب جب تک وہ چائے نہیں پی لیتی یہ درد نے اس کی جان نہیں چھوڑنی تھی۔وہ چائے پیتی فریش ہو کے کچھ کھانے کو کچن میں آئی تو دیکھا وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔۔
او شیٹ۔۔۔ مجھے تو کھانا بنانا یاد ہی نہیں رہا وہ اکثر ایسا کرتی کہ ایک دن کھانا بنا لیتی جسے دو دن چلاتی۔وہ منہ بناتی بولی تھک کے ویسی حالت خراب تھی اوپر سے اب کھانا بنانا۔۔۔وہ بھی سوچ ہی رہی تھی کھانا بنانے کا کہ باہر سے دروازے کی بیل بجی۔۔
اب کون آ گیا؟؟وہ دروازے تک آئی اور دروازہ کھول کے دیکھا تو وہاں ڈیلیوری بوائے کھڑا تھا۔۔
جی؟؟ حور نے پوچھا۔۔
میم آپ کے لیے یہ کھانا آرڈر کیا گیا ہے یہ لیں۔۔۔وہ کاغذ کا بڑا بیگ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔
مگر میں نے تو کوئی کھانا آرڈر نہیں کیا۔۔ وہ ماتھے پہ بل لئے بولی۔۔
کہ اتنے میں حور کا فون بجا وہ اس کے منہ پر دروازہ بند کرتی فون تک آئی تو دیکھا وہاں اذہاد کالنگ لکھا آرہا تھا اس نے فون کا بٹن یس کیا اور کان سے لگایا۔
مس حورین وہ کھانا میں نے آرڈر کیا ہے آپ کے لیے تو اسے فورا لو اور کھانا کھاؤ۔۔روب سے حکم جڑتا بھاری اور گھمبیر آواز میں بولتا اس نے اتنا ہی کہا اور فون کاٹ دیا۔۔
حور منہ اور آنکھیں کھولے فون کان سے ہٹاتی دیکھ رہی تھی۔۔ان کی اتنی ہمت مجھے حکم دیں گے چھوٹی سی ناک غصے سے لال ہو گئی ابھی بتاتی ہوں وہ یہ کہتی آگے بڑھی اور دروازہ کھولا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔۔ہیں یہ کہا گیا؟؟ وہ یہ بولتی مڑکے جانے لگی تو نظر نیچے پڑی وہاں پر وہی بیگ رکھا تھا۔۔اب کیا کرتی اٹھا کے پھینک تو سکتی نہیں تھی اس لیے وہ کھانا اٹھا کے اندر آ گئی اور ڈبوں کو کھولنے لگی جس میں ساری اس کی پسند کی چیزیں تھیں۔۔
ہاں بھئی مانتی ہوں آپ اذہار عریض ہیں بہت پاور ہے جانتی ہوں جب میری ہسٹری میرا نام سب کچھ نکلوا سکتے ہیں تم میری پسند معلوم کرنا کون سا مشکل ہے ۔۔وہ غصہ تھوکتی مزے سے اپنی پسند کے کھانے سے انصاف کر رہی تھی۔۔
اذہاد جانتا تھا وہ تھک کے اب گھر جائے گی پھر کھانے کی تیاری کرے گی اسی لیے اس نے اس کے لیے کھانا واپسی میں اسے چھوڑ تے گاڑی میں ہی آرڈر کر دیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت اور ضیاد کا نکاح بہت سادگی سے ہوا تھا یوسف تو چاہتے تھے کہ وہ اسے پوری رسموں کے ساتھ رخصت کریں مگر جنت نے انہیں منع کردیا تھا وہ اسلامی طریقے کے لحاظ سے سادگی سے رخصت ہونا چاہتی تھی یوسف کی سفارش پہ زیاد کو ایک بہت اچھی کمپنی میں جاب مل گئی تھی وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس بنا پر اسے کوئی جوب دینے کے لیے راضی نہیں تھا وہ ایک قابل اور محنتی لڑکا تھا یوسف نے جنت کو شادی کے تحفے پر ایک خوبصورت اپارٹمنٹ کیا تھا جہاں وہ رخصت ہو کر زیاد کے ساتھ اسی اپارٹمنٹ میں آئی تھی۔۔
زیاد تم نے اچھا نہیں کیا تم نے اپنے ماں باپ کو پوری دنیا کے سامنے شرمندہ کر دیا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔زیاد نے اپنے باپ کو شادی کا بتانے کے لیے فون کیا تھا جس پر انہوں نے اسے بہت سنائی تھی اور پھر فون کاٹ دیا تھا۔۔ ان کا غصہ بھی جائز تھا ہر ماں باپ اپنی اولاد سے اس دن کو لے کر بہت سی امیدیں ہوتی ہیں۔۔مگر اسے یقین تھا وہ انہیں منا لے گا ایک دن۔۔وہ نیچے گردن کیے بے بسی سے مسکرا دیا جنت نے محبت سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔اس نے پلٹ کے اپنی محبت اور اپنی شریک حیات کو دیکھا۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا زیاد۔۔جنت نے اسے حوصلہ دیا
تم ساتھ دو گی نہ میرا سب ٹھیک ہونے میں؟؟ اس نے محبت سے جنت کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے پوچھا۔۔
جنت نے ہاں میں گردن ہلائی اور زیاد نے اس کے سر کو چومتے ہوئے اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور اور بیلا باتیں کرتی ہوئی ہوسپیٹل کی طرف جا رہی تھی جب ہی کسی نے بیلا کو پیچھے سے آواز دی
بیلہ نے مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گئی۔
میکس؟؟؟وہ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
ہاں بیلہ تمہارا میکس کیسی ہو ؟؟؟
پلیز جاؤ یہاں سے مجھے کسی قسم کا کوئی تماشا نہیں چاہیے یہاں مجھے تمہاری شکل بھی نہیں دیکھی تمہارے اور میرے درمیان اب کچھ نہیں رہا۔۔وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔۔
پلیز بیلا ایسا مت کہو مجھے تمہارے جانے کے بعد احساس ہوا کہ میں نے تمہارا دل توڑ کر کتنی بڑی غلطی کی مجھے معاف کردو۔۔وہ مکاری سے اس کے قریب آتا ہوا بولا۔۔
کیوں تمہاری وہ ہاٹ گرل فرینڈ نے تمہیں چھوڑ دیا اسی لیے تمہیں دو سال بعد یاد آگیا کہ تم نے مجھے چھوڑ کر غلطی کی؟؟
نہیں بیلا پلیز میری بات۔۔۔۔۔
چلے جاؤ میکس ورنہ میں بھول جاؤں گی سب لحاظ۔۔ تم ایک نمبر کے گھٹیا انسان ہو دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔
حور جو بیلہ کے پیچھے کھڑی تھی دونوں کو منہ کھولے سن رہی تھی۔۔یہ ہو کیا رہا ہے ؟؟اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ دونوں کبھی ریلیشنشپ میں رہے تھے مگر اب نہیں۔۔
میکس کی نظر اچانک حور پر پڑی حور کی خوبصورتی دیکھ کے اس کی آنکھوں میں چمک تری واہ کیا لڑکی ہے کمال۔۔۔ وہ فورن حور کی طرف پلٹا۔
حور ایک دم پیچھے ہٹی اور آنکھیں نکال کے اسے غصے سے دیکھنے لگی۔۔
آپ لگتا ہے بیلا کی دوست ہیں پلیز آپ سمجھائیں نا بیلا کو۔۔وہ آنکھوں میں گندگی لیے حوں کو دیکھتا ہوا بولا۔۔
حور نے آنکھوں سے اس پر لعنت بھیجی اور اندر چلی گئیں۔۔
اب تم دفع ہوتے ہو میکس یا میں گارڈ کو بلاؤ۔۔وہ غصے سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
میکس جو دور جاتا حور کو دیکھ کے پلٹا اور بیلا اسے بولا۔تو تم واپس نہیں آؤں گی بیلا ؟؟؟
تو تم ایسے نہیں سمجھو گے۔۔ گارڈ۔۔۔گارڈ ۔۔۔۔۔
جا رہا ہوں بیلا مگر ایک بات یاد رکھنا تم بہت پچھتاؤ گی۔۔۔وہ اسے دھمکا رہا تھا۔۔
بیلا نے گھور کے اسے دیکھا اور ہاتھ سے اشارہ کیا نکل جانے کا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور میں میکس کی طرف سے میں تم سے معافی مانگتی ہوں وہ دونوں لنچ ٹائم میں بیٹھی تھی جب بیلا شرمندگی سے اس کی طرف دیکھتی بولی۔۔
حور نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا پاگل لڑکی تم کیوں معافی مانگ رہی ہو۔غلطی اس نے کی ہے تم نے تھوڑی ۔۔وہ اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔۔
مگر حوریہ میری وجہ سے ہوا وہ گردن جھکائے بولی۔۔
حور نے اس کا چہرہ تھام کے اوپر کیا نہیں میری پیاری بیلا تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا وہ ایک برا انسان ہے اسی لیے آج اپنی برائی کی وجہ سے وہ ایک پیاری لڑکی کی محبت سے محروم ہے۔ بیلا نے آنکھوں میں آنسو لیے حور کو دیکھا۔۔
حور نے اسے گلے لگایا۔ مجھے شروع سے ساری بات بتاؤں کیا ہوا تھا تم دونوں کے بیچ ؟؟؟
میکس میرے ڈیڈ کے دوست کا بیٹا تھا اکثر وہ ہمارے گھر آتے تھے جب میکس نے مجھے دیکھا اور محبت کا جال پھینکا میں بیوقوف اس کی باتوں میں آگئی اور اس کے ساتھ محبت کے خواب دیکھنے لگی مگر مجھے کیا پتا تھا کہ اسے میری کمائی اور میرے جسم کی ہوس میں نے اپنی کمائی اس پر لوٹائی لیکن جسم کو کبھی ہاتھ لگانے نہیں دیا کیوں کہ میں اس کے ساتھ شادی کے خواب دیکھ رہی تھی مگر وہ کمینہ تو دل ہی دل میں میری کمائی اور جسم پر ہاتھ صاف کرکے بھاگنا چاہتا تھا اس نے کئی دفعہ مجھے اپنے ساتھ رہنے کے لیے فورس بھی کیا مگر میں شادی کے بغیر ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔بیلا اسے روتے ہوئے سب بتا رہی تھی پھر ایک دن اس نے صاف مجھے کہہ دیا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرے گا میرے ساتھ ایسے ہی رہنا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ اپنی ایک نئی گرل فرینڈ کے پاس چلے جائے گا جو اس کے ساتھ رہے گی بھی اور اسے کما کے بھی کھلائے گی.. حور حیران ہوتی اسے سن رہی تھی۔۔
حور میں نے اسے سچے دل سے پیار کیا اور اس نے۔۔۔۔بیلا پھوٹ پھوٹ کے رو دی حور نے آگے بڑھ کےاسے گلے لگایا۔۔۔ بیلہ نے آنسو پہنچے اور سیدھی ہوئی۔۔
تم فکر نہیں کرو ہور وہ اب کبھی نہیں آئے گا اور اگر آیا بھی تو میں پولیس کو کمپلین کر دوں گی ۔۔وہ حور سے بولی۔۔
مجھے اس سے کوئی ڈر نہیں ہے بیلابس تم اپنا خیال رکھنا مجھے وہ انسان خطرناک لگتا ہے۔کہیں وہ تمہیں کوئی نقصان۔۔۔۔۔۔۔
نہیں حور وہ ایسا نہیں کرے گا۔۔تمہیں پتا ہے حوریہ محبت وغیرہ کچھ نہیں ہوتی انسان کو صرف بھوک ہوتی ہے جب وہ بھوک ختم ہو جاتی ہے تو وہ اپنے اصل روپ میں آجاتا ہے سچی محبت اب نہیں ملتی حور سب دکھاوا ہے۔۔۔
نہیں بیلا سچی محبت آج بھی ہوتی ہیں مگر بہت کم نصیب والوں کو ملتی ہے۔۔
پتہ نہیں حور مگر لندن میں سچی محبت کا ملنا ناممکن ہے۔حور مسکرا ئی۔۔حور پتہ ہے سچی محبت وہ ہوتی ہے جو روح سے روح کو ہو بنا کسی غرض کے بس محبت کیے جانا۔۔تکلیف اسے ہو تو تڑپو آپ۔چوٹ اسے لگے تو درد آپ کو ہو۔جس کے دور جانے کا تصور ہی آپ کی سانسیں کھینچ لے۔جس کے لیے آپ ساری دنیا سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اسپے مصیبت آنے سے پہلے آپ کا دل آپ کو خبر کر دے۔جو دل بن کر آپ کے سینے میں دھڑکے جسے آپ بند آنکھوں سے بھی محسوس کر لو ایسی ہوتی ہے سچی محبت۔
اور حور کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا بیلہ کی باتوں سے۔اس کے خیالوں میں ہر طرف آزہاد گھوم رہا تھا ایسی محبت تو وہ حور سے کرتا تھا۔بے لوث،بے غرض،اپنی طرف کھینچنے والی روح سے روح والی محبت۔۔۔۔
میری دعا ہے حور تمہیں ایسی محبت ہو کسی سے اور جس سے ہو وہ تم سے اس سے بھی زیادہ دیوانگی کی حد تک محبت کرے۔۔۔
حور بنا پلکیں جھپکائے بیلا کو دیکھ رہی تھی اس دعا پر اس کی زبان تالو سے چپک گئی تھی وہ خاموش بس بیلہ کو دیکھ رہی تھی کہیں کونے میں چپکے سے ایک آواز آئی آمین اور وہ فورا اٹھ کے آگے چل دی بیلہ ہم لیٹ ہو رہے ہیں وہ کہتی سیدھی نکل گئی۔۔۔وہ اب خود سے بھاگنے کے ساتھ ساتھ ڈر بھی رہی تھی کب تک مگر کب تک ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت اور زیاد ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے۔
زندگی بہت حسین گزر رہی تھی ہنستی گنگناتی ہوئی اور ان کی زندگی میں بہت جلد ایک مہمان بھی آنے والا تھا ان کی محبت کی نشانی وہ بہت جلد ماں باپ بننے والے تھے زندگی نے جیسے ہر طرف سے ان پر خوشیوں کی بارش کی ہوئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔۔حور ہاسپٹل سے نکلتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی جب پیچھے سے دی جانیوالی آواز پر وہ ڈر کے پلٹی۔۔میکس اسے ڈرتے دیکھ مسکرایا۔۔ارے آپ تو ڈر گی ڈرے نہیں۔۔
کیوں آئے ہو دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔حور ڈر پہ قابو کرتی بولی۔۔
دیکھیں مس آپ کو بیلہ نے جو کچھ بھی بتایا ہے میرے بارے میں وہ سب غلط ہے۔میں ویسا نہیں ہوں بلکہ اس نے مجھ جیسے اچھے انسان کی قدر نہیں کی۔۔ وہ چالاکی اور مکاری سے حور کو جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا بولا۔۔
مگر وہ تو حورین تھی اس جیسوں کو بہت اچھے سے جانتی تھی۔۔تم جاتے ہو یا میں شور کروں۔۔ وہ پھنکارتی ہوئی بولی۔۔
آپ پلیز میری بات۔۔وہ آگے بڑھتا اس کے کاندھوں کو پکڑنے کی کوشش کرنے ہی والا تھا کہ جب ہی ایک زور دار گھونسا اس کے منہ پر آ کے لگا جس سے وہ زمین پر جا گرا۔۔
حور نے ایک دم ڈرکے پیچھے دیکھا تو حیران رہ گئی
سینوریتا آپ ٹھیک ہیں اور یہ کون ہے؟؟ڈیلن حور کے سامنے آتا بولا۔۔
میں نہیں جانتی اسے حور نے ساری بات ڈیلن کو بتائی۔ڈیلن نے آگے بڑھ کے اسے ایک اور گھونسا مارنا چاہا جب ہی حور زور سے بولی۔۔پلیز ڈیلن جانے دو اسے تماشہ مت کرو۔۔
میکس دونوں کو دیکھتا کھڑا ہوتا سوچ رہا تھا کہ شاید وہ حورین کا بوائے فرینڈ ہے۔۔
انسانوں کی زبان میں سمجھا رہا ہوں کہ دفع ہو جاؤ اور دوبارہ نظر نہیں آنا شکر کرو اس وقت میں ہوں اس لیے زندہ ہو۔ ورنہ ابھی تمہیں پڑنے والا گھونسا تمہیں دوبارہ کھڑے ہونے کا موقع نہیں دیتا۔۔ ڈیلن میکس کو بولتا حور کی طرف پلٹا اور حور سے اس کی گاڑی کی چابی مانگی۔حور منع کرتی رہی مگر ڈیلن نے اس کی نہیں سنی اور حور نے خاموشی سے اسے گاڑی کی چابی دے دی۔ڈیلن نے حور کے لیے پیچھے کا دروازہ کھولا اور خود ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتا اندر بیٹھنے کے بعد گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی۔۔میکس کھڑا دونوں کو جاتا ہوا دیکھنے لگا۔۔۔
حور نے ڈیلن سے سارے راستے کوئی بات نہیں کی۔۔
ڈیلن نے خاموشی سے گاڑی کی چابی اسے واپس کی اور جانے لگا۔
ڈیلن۔۔۔ حور نے پیچھے سے آواز دی۔۔
یس سینوریتا۔۔ ڈیلن اس کی آواز پہ پلٹا۔۔
ڈیلن آج جو کچھ بھی ہوا آپ اذہار کو کچھ نہیں بتائیں گے۔۔
میں معذرت کرتا ہوں مگر میں سینور سے کچھ نہیں چھپاتا۔۔
پلیز ڈیلن۔۔میں آپ سے ریکویسٹ کرتی ہوں۔۔۔
ڈیلن نے یوں ہی گردن جھکائے بےبسی سے ہاتھوں کو آپس میں رگڑ ا۔۔۔
پلیز۔۔۔۔
ٹھیک ہے سینوریتا یہ پہلی اور آخری بار ہے جو میں آپ کی بات مان کے سینور سے اتنی بڑی بات چھپاوں گا مجھ سے اگلی بار آپ ایسی امید نہیں رکھی گئی وہ جانے کے لیے موڑا۔۔۔
ڈیلن آپ وہاں کیا کر رہے تھے؟؟ حور نے شک سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
میں گرینڈ پا کی کچھ دوائیاں لینے آیا تھا تب ہی وہاں اسے آپ سے بات کرتے دیکھا تو قریب آگیا مگر آپ کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ آپ اس سے ڈر رہی ہیں۔۔
حور نے گردن جھکائی اور ڈیلن وہاں سے چلتا ایک ٹیکسی روکتا اس میں بیٹھتا آگے نکل گیا اور حور اندر آ گئی۔
_______________
جنت نے ایک خوبصورت سے بچے کو جنم دیا تھا زیاد اسے گود میں لے لیتا بہت خوش تھا اسے محبت سے چومہ۔۔یوسف ختیجہ سب اس وقت اس کے ساتھ ہاسپیٹل میں تھے۔۔بچے نے ماں اور باپ دونوں کی خوبصورتی چرائی تھی وہ بہت خوبصورت تھا زیادنے باپ بننے کی خوشی میں اپنے باپ کو فون کیا۔۔ بابا میں باپ بن گیا ہوں اور آپ دادا۔۔
التمش عریض نے جب اپنے دادا بننے کی خبر سنی تو بہت خوش ہوئے۔زیاد فورا میرے پوتے کو لے کر میرے پاس آؤ میں اپنے خون کو گلے لگانا چاہتا ہوں۔خوشی سے بیٹے کو بولا۔۔
ہاں بابا میں بہت جلد آپ کے پاس آ جاؤں گا آپ نے مجھے معاف کر دیا نا؟؟ زیاد نے خوشی سے باپ کو بولا۔۔
ہاں میری جان اولاد سے بھی کوئی ناراض ہو سکتا ہے؟؟۔۔
ٹھیک ہے بابا جنت کے ٹھیک ہوتے ہی میں فورن آپ کے پاس آ رہا ہوں۔۔ وہ آنسو پوچھتے خوشی سے باپ کو بولا۔۔
نہیں زیاد میں نے تم سے اپنے پوتے کو لانے کا کہا ہے بس۔۔وہ اسی کی خوشی کو بجھاتے ہوئے بولے۔۔
زیاد کے ہنستے لب سوکڑ گئے۔۔ بابا اور جنت؟؟کیا میں جنت کو یہیں چھوڑ کے آپ کے پاس آ جاؤں ؟؟کیا میں اسے دھوکہ دے کے اس کا بچہ اس سے چھین کے آپ کے پاس آ جاؤں ؟؟وہ بے یقینی سے باپ سے پوچھ رہا تھا ۔۔
ہاں زیاد۔۔التمش عریض نے سفاکی سے اس کی ساری باتوں کا ایک جواب دیا۔۔۔
ایسا نہیں ہوسکتا بابا وہ میری بیوی ہے میرے بچے کی ماں ہے میں اسے اکیلا چھوڑ کے نہیں آسکتا۔۔ اس نے بے حد دکھ سے اپنے باپ کو جواب دیا۔۔
تو ٹھیک ہے پھر رہو اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔فون بند ہوگیا۔۔
زیاد نے بند فون کو دیکھا رشتہ ٹوٹ جانے کی شدید تکلیف کا احساس ہوا۔۔مگر پھر یوسف کی گود میں بچے کو دیکھ کے مسکراتے ہوئے ان کے پاس آگیا۔۔
اس کی خوشی اس کی دنیا تو اب یہی دو تھے جنت اور اذہاد اسے اور کیا چاہیے تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کی آج کلاس تھی اسے جلدی نکلنا تھا کیونکہ اسکی آج کی کلاس کسی اور یونیورسٹی تھی جہاں لندن کے تمام میڈیکل کے سٹوڈنٹ جمع ہونے والے تھے۔۔
بیلا میں جارہی ہوں پلیز میری گاڑی میرے اپارٹمنٹ پہنچا دینا میں کوئی ٹیکسی لے کے گھر چلی جاؤں گی۔اوکے بائے۔۔۔وہ بہت جلدی میں تھی ۔۔۔
ارے حور لنچ ٹائم ہے کچھ کھا تو لوبھوکی جاؤ گی کیا ؟؟بیلا بھاگتی ہوئی حور کا ہاتھ پکڑتی بولی۔۔
یار میں لیٹ ہو جاؤں گی میں وہاں سے لے کر کچھ کھا لوں گی اوکے بائے۔۔۔وہ یہ بولتی بھاگتی ہوئی چلی گئی۔۔۔
بیلا جانتی تھی حور بھوک کی کتنی کچی ہے۔اور اب وہ بنا لنچ کیے ہی چلے گی ہے۔اب کیا ہوگا ؟؟پتہ نہیں کچھ لیکے کھاتی بھی ہے یا نہیں؟؟وہ اس کی فکر کرتی ہوئی سوچ رہی تھی۔۔۔
حور نے پوائنٹ سے بس پکڑی جو تھوڑی دور لے جا کے بالکل یونیورسٹی کے سامنے اتارنے والی تھی۔وہ جیسے ہی یونیورسٹی پر اتری اسے ایسا لگا جیسے دنیا کے اسٹوڈنٹ وہاں اکٹھے کر دیے ہوں وہاں لاکھوں اسٹوڈنٹ جمع تھے جو ایک خاص چیز کیلئے اکھٹا کیے گئے تھے جگہ جگہ ٹولیوں کی صورت اسٹوڈنٹ جمع تھے اپنی دنیا میں مگن کوئی کسی کو نہیں پوچھ رہا تھا ہوں سب کے بیج سے راستہ بناتی ہوئی اپنی جگہ پر آگئی۔۔۔
وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا اور شام ہوگئی سورج اپنی آخری روشنی بکھیرتا کچھ ہی دیر میں چھپ جانے والا تھا۔ہور بھاگتی ہوئی اسٹوڈنٹس کو ہٹاتی پوائنٹ کی طرح بھاگ رہی تھی وہ رات ہونے سے پہلے گھر پہنچنا چاہ رہی تھی۔اوپر سے پیٹ میں دوڑتے چوہے وہ بھوک سے نڈھال ہوئے جا رہی تھی کینٹین کی طرف جاتی تورات یہی ہوجاتی کیونکہ وہاں سٹوڈنٹ کی ایک لمبی لائن لگی تھی۔۔ کاش بیلہ کی بات مان لیتی تھوڑی پیٹ پوجا کر لیتی تو یہ حال نہ ہو رہا ہوتا۔۔وہ منہ لٹکاتی بیگ کندھے پر ڈالے
ایک ہاتھ سے کتابوں کو پکڑ کے سینے سے لگائے اور دوسرے ہاتھ سے پیٹ کو پکڑے سوچ رہی تھی۔۔
خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا چھارہا تھا۔.بہت سے اسٹوڈنٹ یونیورسٹی سے باہر نکل رہے تھے کوئی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا تو کوئی اس کی طرح اپنی بس کا انتظار کر رہا تھا۔۔
آزہاد جو وہی سامنے بنے بڑے سے ہوٹل میں میٹنگ اٹینڈ کر رہا تھا اس نے پلٹ کے بڑے سے شیشے سے نظر آتا باہر کا منظر جس میں اسٹوڈنٹ ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل رہے تھے دیکھا۔۔اس کا مطلب حور کی کلاس ختم ہو گئی۔وہ یہ سوچتا ہوا اٹھا۔جینٹلمین ہم میٹنگ یہیں ختم کرتے ہیں آپ لوگ ڈنر انجوائے کرکے جائیں گے۔۔۔وہ یہ کہتا کوٹ کے بٹن لگاتا باہر جاتا اشارے سے جور ج کو پیچھے آنے کا کہا۔۔
جارج میری غیر موجودگی میں ان کا خیال رکھنا۔۔
یس سر۔۔جارج نے تابعداری سے گردن جھکا کے کہا اور اذہاد لمبے ڈاگ بھرتا آگے چل دیا..ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ حور اتنی دور آئے اور وہ اس کے آس پاس نہ ہو۔وہ پہلے سے جانتا تھا کے آج اس کی کلاس اس یونیورسٹی میں ہے اس لیے اس نے اپنی ایک اہم میٹنگ اس کے یونیورسٹی کے سامنے ہوٹل میں ارینج کی تھی۔۔اذہاد بھاگتا ہوا روڈ کراس کرتا اس کی طرف آیا۔ اس کی موجودگی کے احساس سے ہی اس کا دل زور زور سے دھڑکے جا رہا تھا۔وہ مسکراتا ہوا اسے دیکھتا قریب آیا وہ اس وقت اسے حسین تر لگ رہی تھی خود سے لاپرواہ وہ نڈھال سی بس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں بالوں کو باندھے گلابی چہرہ لیے کھڑی تھی۔۔حور جو بیزار سی بس کا ویٹ کر رہی تھی اسے ایک دم احساس ہوا کسی اپنے کے بہت قریب ہونے کا فورن گردن گھماتی پلٹ کے دیکھا تو اذہاد وہاں کھڑا تھا۔۔حور کا دل اسے دیکھ کے ایک دم زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔
آپ؟؟ حور نے اسے دیکھتے بے یقینی سے کہا۔۔وہ بے حد کمال کا لگ رہا تھا براؤن کلر کے تھری پیس میں اس کی شاندار پرسنیلٹی وہاں کھڑے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ہر کوئی اسے پلٹ پلٹ کے دیکھ رہا تھا۔۔مگر اس کی نظریں تو صرف حور کا طواف کر رہی تھی اور دھڑکنیں حور کے نام کی مالا چپ رہی تھی۔۔اذہاد اسے محبت سے دیکھتا ایک قدم آگے بڑھا اور آہستہ سے کتابیں اس کے ہاتھ سے لے لی۔۔اور بنا کچھ بولے اس کا سیدھا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑتا پلٹ کے چلنے لگا۔حور حیران اسے دیکھ رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی وہ اسے کہاں لے جارہا ہے مگر قدم اس کے قدموں کے ساتھ خود بخود چل رہے تھے وہ اسے ایک ٹک دیکھتی اس کے ساتھ چل رہی تھی۔۔اذہاد حور کا ہاتھ پکڑتا اسی ہوٹل میں واپس آیا اور سیدھا چلتا سامنے بنا ایک بڑا سا شیشے کا روم کا دروازہ کھولتا اندر آیا اس جگہ کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا وہاں ایک بڑے سے ٹیبل پر اس کی کتابیں رکھتا اس کے لئے ایک کرسی کھینچتا اسے اس پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔حور یہاں وہاں دیکھتی اسکی کھینچی گئی کرسی پر بیٹھ گئی اور اسے پھر سے دیکھنے لگی۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی ریموٹ سے چلنے والی گڑیا ہو جس کو کنٹرول اذہاد کرتا ہو۔۔وہاں حور اور اذہاد کے علاوہ کوئی نہیں تھا اور اب جب تک وہاں اذہار تھا وہاں کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔
آزہاد نے ہوٹل کی مینیجر کو اشارے سے اندر بلایا۔وہ آزہاد کے اشارے پے بھاگتی ہوئی اندر آئی۔۔
یس سر۔۔ آزہاد نے مینیو کارڈ اٹھایا کچھ چیزیں اسے نوٹ کروائیں۔اور ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کو کہا۔۔۔۔
آزہاد نے حور کی آنکھوں کو دیکھ کے پڑھ لیا تھا کہ اس نے دوپہر سے کچھ نہیں کھایا ہے جس سے وہ پیٹ پکڑے کھڑی ہے اور چہرے سے نڈھال لگ رہی ہے۔
وہ کوٹ کے بٹن کھولتا شان سے اس کی کرسی سے دور ایک کرسی کھینچ کے بیٹھا ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھتا کرسی کے سرے پر ہاتھ ٹکاتا سیدھے ہاتھ کی پہلی انگلی لب پر رکھتا حور کو دیکھنے لگا۔
وہ چھوٹی سی نازک لڑکی ساڑھے چھ فٹ کے مضبوط جسامت اور اتنے بڑے بزنس مین کی جان اپنی مٹھی میں لیے بیٹھی تھی۔۔
حور نے نظریں اب نیچے جھکائی ہوئی تھی۔آزہاد کی نظروں کی تپش سے اس کے گال گلابی ہو رہے تھے۔
آزہاد اس کی حالت دیکھتا مسکرایا۔
آخرکار حور اس کی خاموشی اور نظروں کی تپش سے تنگ آتی بول اٹھی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *