Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23

حور نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کے چہرہ چھپاتے خود کو اذہار سے چھپایا۔۔۔
اذہاد اس کے انداز پر ہنسا۔۔۔ نہیں حور اب آپ پھنس چکی ہیں اب کوئی فائدہ نہیں خود کو چھپانے کا شرط تو پوری کرنی ہوگی۔۔وہ اٹل لہجے میں بولا۔۔
حور نے انگلیاں ہٹا کر آزہاد کو دیکھا اور اذہار مسکراتا ہوا کچن میں چلا گیا اور جب آیا تو اس کے ہاتھ میں تین بلیک کافی کے کپ تھے۔۔۔
آزہاد کی سب سے بڑی کمزوری جس کے بنا اس کا دن نہیں کرتا تھا۔۔بلیک کافی۔۔۔
اوہ ہو گرینڈ پا میں تو بہت لیٹ ہو گئی اب مجھے چلنا چاہیے۔۔ وہ ایک دم کھڑی ہوتی جلدی میں دکھائی دیتی بولی ورنہ اذہاد کی کالی کافی پینا اس کے دل گردے کی بات نہیں تھی۔۔
حور آرام سے بیٹھ جائیں آپ کی واپسی کا ڈرائیور میں ہوں۔۔ آزہاد آرام سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھتا بیٹھتا ہوا بولا اور کپ کی طرف اشارہ کیا کہ ابھی کہاں؟؟ یہ تو آپ نے پی ہی نہیں۔۔۔
حور نے بیچارگی والی شکل سے اذہار کو دیکھا۔۔ ہادی نہیں پلیز۔۔۔
حور اوہ یس پلیز۔۔ اذہاد نے بھی اسے دیکھتے ہوئے اسی کے انداز میں اسے جواب دیا۔۔۔
انکی طوطا مینا والی جوڑی کو دیکھ کر گرینڈ پا مسکرا ہی رہے تھے۔۔۔آزہاد اب اسے اپنی پسندیدہ بلیک کافی پلائے بغیر بخشنے والا نہیں تھا۔۔۔
حور نے منہ بنا کر غصے سے اذہار کو دیکھا۔۔ یہ پہلی اور آخری بار ہے ہادی وہ انگلی اٹھاتی وارن کرتی ہوئی بولی۔۔
اذہاد مسکرایا اور پلکیں جھپکتا ہوا بولا۔۔ ٹھیک ہے۔۔ اور حور نے آگے بڑھ کے آہستہ سے اپنا کپ اٹھا لیا۔۔اس کے ساتھ ہی گرینڈ پا اور اذہاد نے بھی اپنا اپنا کپ اٹھا لیا۔۔
حور بیٹا آپ کے گھر میں کون کون ہے؟؟گرینڈ پانے حور سے سوال پوچھا۔۔
سب ہیں مما بابا میں اکلوتی ہوں۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔ دادو ہیں ان کی پوری فیملی گاؤں میں ہوتی ہے۔۔ گرینڈ پا مسکراتے ہوئے اس کی بات پر گردن ہلا رہے تھے۔۔۔ تو پھر کب ملوآرہی ہو ہمیں اپنی فیملی سے ؟؟
وہ کپ ہاتھ میں لیے ایسے ہی بیٹھی تھی جب گرینڈ پا کے سوال پر گردن اٹھاتی مسکراتی ہوئی بولی۔۔ بہت جلد ویسے ابھی اس بارے میں گھر والوں سے میں نے کوئی بات نہیں کی ہے۔۔۔
ہممم۔۔۔۔وہ گردن ہلاتے کپ کی طرف جھک گئے اور حور نے خاموش نظروں سے ازہاد کو دیکھا جو اسے ہی کب سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اپنے اور حور کے رشتے کو لے کر وہ بھی دن رات یہی سوچتا رہتا تھا کہ حور کب اپنے گھر والوں سے بات کرے گی تب ہی تو بات آگے چلے گی۔۔وہ اس بارے میں حور سے بات کریگا کہ بس بہت ہوگیا وہ گھر والوں سے اب بات کر لے۔۔اپنی تعلیم وہ شادی کے بعد پوری کرتی رہے ویسے بھی اب اسے آزہاد کے ساتھ شادی کے بعد یہاں لندن ہی میں تو رہنا ہے۔۔اسے اس کی تعلیم سے کوئی مسئلہ نہیں نہ اس کی جوب سے بس وہ اور حور ایک ہو جائیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کے دل میں حور کو کھونے کا جو ڈر ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے اس کی حور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کے پاس آجائے اس کی ہو جائے اسے اور کیا چاہیے پھر وہ اس کی ہر بات مانے گا چاہے وہ تعلیم جاری رکھنے کی ہو یا جاب کرنے کی وہ اسے کسی چیز کے لیے نہیں روکے گا بس حور اور اس کی شادی ہو جائے۔۔۔
حور نے اسے خود کو دیکھتے ہوئے اشارے سے پوچھا۔۔ کیا ہوا؟؟ آزہاد مسکرایا اور گردن نفی میں ہلاتا بولا۔۔۔کچھ نہیں تم کافی پیو۔۔۔
اور حور نے زور سے آنکھیں میچ لی۔۔ اف ہادی یہ کالی کڑوی کسیلی کافی کو میرے حلق سے نیچے اتار کر چھوڑیں گے۔۔وہ منہ بناتی آنکھیں بند کئے اس کالی کافی کو دو گھونٹ میں ختم کرتی کپ نیچے رکھ کر اذہاد کو ایسے دیکھنے لگی جیسے اس نے کوئی زہر کا پیالہ پی لیا ہو۔۔۔اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسی بدمزہ کالی کافی نہیں پی تھی آج ہادی کے لئے اسے یہ بھی کرنا پڑا۔۔ اذہار اس کے گندے گندے بنتےمنہ کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ چھپاتا اٹھا اور جلدی سے اس کے لیے مزیدار سی پیسٹری پلیٹ میں نکال کر لایا تاکہ اس کے منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو سکے۔۔ حور نے پیسٹری کی پلیٹ سامنے دیکھ کر تشکرانہ انداز سے ہنس کر اذہاد دیکھا۔۔۔کہ بہت شکریہ آپ کا پہلے زہر دے کر اب دوا بھی دے رہے ہیں۔۔ وہ زبان سے زیادہ آنکھوں کی بولی بہت اچھے سے سمجھتے تھے ایک دوسرے کی۔۔ حور نے پیسٹری کا ایک بائٹ ہی لیا تھا اور اس کے منہ کاذائقہ اچھا ہو گیا تھا۔۔
حور کو کافی پلانے کا مقصد صرف یہ جاننا تھا کہ حور اس کی خوشی کیلئے بدمزہ کالی کافی پیتی ہے یا نہیں۔۔۔مگر حور نے اذہاد کی خوشی کے لئے کافی پینے سے تھوڑا نہ نو تو کی تھی مگر آخر میں پھر وہ اس کی بات مان بھی گئی تھی۔۔اور آزہاد کے لیے اتنا بہت تھا۔۔۔
حور نے گرینڈ پا سے بات کرتے ہوئے ایک نظر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا اور پھر آزہاد کو۔۔۔ اذہاد اس کی آنکھوں کی زبان سمجھتا اٹھا اور اندر سے اس کی چادر لے کر آیا۔۔ حور اسے آتا دیکھ کر کھڑی ہوئی اذہاد اس کے قریب آتا چادر کھول کر اس کے جسم پر پوری طرح سے اڑائی حور اور آزہاد کی نظریں ملیں۔۔جہاں دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت کے ہزاروں دیپ جل رہے تھے۔۔
حور نے آہستہ سے نظریں جھکاتے گرینڈ پا کی طرف دیکھا۔۔۔آپ کو اپنا بہت خیال رکھنا ہے پھر دیکھنا آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے اور آپ کو پھر یہ دوائیاں اور پرہیزی کھانا بھی کھانا نہیں پڑے گا اور یہ میں آپ کو ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے نہیں ایک بیٹی کی حیثیت سے بول رہی ہوں۔۔گرینڈ پا اس کی بات سن کر مسکرائے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
میں پھر آؤں گی آپ سے ملنے ابھی اجازت چاہتی ہوں اللہ حافظ۔۔۔ وہ یہ کہتی آزہاد کی طرف پلٹی جو اس کا ہی انتظار کر رہا تھا اس نے حور کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں آہستہ سے محفوظ کیا اور چھتری پکڑے وہ دونوں ایک ساتھ قدم اٹھاتے آگے کی طرف بڑھئے۔۔۔
جب دونوں باہر آئے تو ہر طرف تیز بارش ہو رہی تھی رات کا پہر اور تیز بارش اور ایک دوسرے کا ساتھ یہ موسم یہ وقت دونوں کے دلوں کو ایک ساتھ دھڑکا رہا تھا۔۔۔۔آزہاد کا قد لمبا ہونے کی وجہ سے اس نے چھتری بالکل اپنے سر کے ساتھ لگائی ہوئی تھی تاکہ حور بھیگ نا جائے حور کا ہاتھ ازہاد کے ہاتھ میں تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ ہوتی بارش بہت اچھی لگ رہی تھی ایک عجیب سا سرور تھا جو دونوں کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔
آزہاد نے حور کی دی ہوئی جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ دونوں قدم بڑھاتے فٹ پاتھ پر چل رہے تھے اذہار سامنے کی طرف اور حور اسے دیکھ کر چل رہی تھی۔۔
ہادی ایسے کیا میرے بوڈی گارڈ کی طرح اکڑ کر چل رہے ہو؟؟اتنا پیارا موسم ہو رہا ہے بندہ تھوڑا ہنس لیتا ہے۔۔وہ اس کی نقل اتارتی چھتری سے ہاتھ باہر نکالتی بارش کے قطروں کو اپنی ہتھیلی میں جمع کرنے لگی۔۔حور نہیں کرو بیمار ہو جاؤ گی۔۔ وہ اس کے ہاتھ بھیگانے پر اسے تنقید کرتا ہوا بولا۔۔
اور حور نے منہ بنا کر وہی ہتھیلی کا جمع کیا پانی اس کے منہ کی طرف اچھال دیا۔۔اور تب ہی اذہاد منہ پیچھے کرتا ہنس دیا۔۔۔
وہ اپنی گاڑی ساتھ نہیں لایا تھا وہ حور کے ساتھ مکمل کچھ وقت توجہ کے ساتھ اس کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا۔۔۔
وہ دونوں ایسے ہی قدم سے قدم ملاکر چلتے رہے۔۔۔
حور۔۔۔آزہاد کی آواز آئی۔۔
حورنے برستی بارش سے نظریں ہٹا کر آزہاد کی طرف دیکھا۔۔۔
یار اپنے گھر بات کرو نہ ہمارے رشتے کی یا تم بولو تو میں بات کرو بابا سے؟؟
پاگل ہوگئے ہو ہادی تم بات کرو گے میرے بابا سے؟؟حور نے حیران ہو کے اذہار کو دیکھا۔۔
ہاں تو اور کون کرے گا ؟؟آزہاد نے بھی حیران ہوکے جواب دیا۔۔
ہاری دیکھو میں نے یہ سوچا ہے کہ میرے پیپرز ہونے والے ہیں ابھی اس کے بعد میں پاکستان جاؤں اور وہاں جاکر دادو بابا سے آرام سے ہمارے رشتے کی بات کرو یہاں بیٹھ کر بات کرنے سے معاملہ بگڑ جائے گا۔۔۔حور نے اپنی آگے کی پلاننگ اذہاد کو بتائی۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذہاد کا صدمہ سے برا حال ہوگیا یہ سن کر کے حور اسے چھوڑ کر اکیلی پاکستان چلی جائے گی اور وہ بھی پیپرز کے بعد۔۔۔میں تمہیں اکیلے پاکستان نہیں جانے دوں گا حور۔۔ وہ ایک دم بھپرتا ہوا بولا۔۔ اچھا تو کیا میں اپنا دولہا رخصت کرکے پاکستان لے جاؤ اور پھر بابا اور دادو کے سامنے کھڑا کروں کہ یہ دیکھیں یہ ہے میرا دولہا اب آپ لوگ ہماری رشتے کی بات کرلیں آگے۔۔۔اب حور بھی دوبدو جواب دیتی بولی۔۔مما بابا کیا سوچیں گے؟؟ مجھے جا کر بات تو کرنے دو میں پھر بلاؤں گی نہ۔۔۔
نہیں حورین ارتضیٰ یہ بھول ہے آپ کی کہ اب آپ اکیلی میرے بغیر کہیں جائیں گی۔۔ جہاں جائیں گی میرے ساتھ جائیں گی۔۔ مجھے نہیں پتہ مما بابا دادو میرے بارے میں کیا سوچیں گے ورنہ میں تمہارا پاکستان جانا ہی بند کردوں گا دیکھتا ہوں تم لندن سے ایک قدم بھی باہر کیسے نکالتی ہو۔۔آزہاد اپنی پرانی ضدی جلاد گھمنڈی ٹون میں واپس آتا بولا۔۔
یہ تو آزہاد کی اب فضول سی ضد ہے جسے وہ پکڑ کے بیٹھ گیا ہے۔۔ایسے تو بننے والا کام بھی بگڑ جائے گا۔۔حور وہی اس کے ارادے سنتی فٹ پاتھ پر لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھے آزہاد کو گھوری سے نواز رہی تھی۔۔۔۔
ہادی کیا مطلب ہے آپ کا آپ مجھے یہاں قید کرنا چاہتے ہیں؟؟ وہ آنکھیں دکھاتی بولی۔۔
ہاں یہی سمجھ لو اگر میری بات نہیں مانوں گی تو میں تمہیں قید کر لوں گا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے پاس پھر ساری زندگی مما بابا دادو تمھیں ڈھونڈتے رہیں گے۔۔آزہاد مسکراتے ہوئے اب حور کو چھیڑ رہا تھا۔۔
ٹھیک ہے پھر مجھے آپ سے شادی ہی نہیں کرنی۔۔ڈیل کینسل۔۔ حور کراس کا نشان بناتی ہاتھ جھاڑتی ہوئی بولی۔۔۔
اذہار زور سے ہنسا اور گردن نفی میں زور زور سے ہلانے لگا۔۔۔۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
میں نکاح کے وقت مولوی صاحب سے کہہ دوں گی کہ مجھے دولہا قبول نہیں ہے۔۔وہ سینے پر ہاتھ باندھتی منہ بناتی بولی۔۔
اور میں نے پھر سب سے پہلے اس مولوی کو گولی مار دینی اور پھر تمہیں۔۔میں بندوق ہاتھ میں لے کر بیٹھوں گا نکاح کرنے تاکہ تم انکار ہی نہ کر سکو۔۔میری نہ ہوئی تو کسی اور کی بھی نہیں۔۔وہ بھی آنکھیں دکھاتا اپنی ایک ایک بات پر زور دیتا بولا
اور ویسے بھی میں یہ کیوں سوچ رہا ہوں کہ تم کسی اور کی بھی۔۔ حور آسمانوں پر بھی میری تھی۔حور زمین پر بھی میرے لیے اتاری گئی ہے۔ اور موت کے بعد جنت میں بھی حور میری ہی ہے۔۔ سنا آپ نے۔۔حور کے کان کو ہلکا سا انگلی سے بجاتا وہ بے حد سنجیدگی سے اپنے ضدی لہجے اور بھاری آواز میں بولتا حور کو بہت کچھ جتا گیا تھا۔۔۔اس کے انداز اور اس کے بولے گئے الفاظوں سے حور کہ دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔۔اتنی محبت کب سے کرنے لگے ہادی؟؟ وہ بھی سنجیدگی سے اسے دیکھتی بولی۔۔۔
آزہاد کچھ نہیں بولا کیونکہ اس کی حسین خوبصورت گہری آنکھیں حور سے بنا کہے بہت کچھ کہہ رہی تھی۔۔ان آنکھوں میں حور زیادہ دیر دیکھ نہ سکی اور آہستہ سے نظریں گھما لی۔۔۔
اچھا جنت میں پھر ان ستر حوروں کا کیا کرو گے جو تمہارے انتظار میں بیٹھی ہیں ؟؟؟حورنے پھر اسے دیکھتے ہوئے چھیڑا۔۔۔
جنت قبول ہے حوروں کو چھوڑ کر میں اپنی حور دنیا سے لے کر جاؤں گا۔۔۔آزہاد نے اس کا جواب ایک مصرعے سے دیا۔۔۔
اور حور زور سے ہنسی جس کے ہنسی میں اذہاد کی ہنسی بھی شامل تھی۔۔۔
حور ایک دم چھتری سے باہر نکلی اور بارش کی بوندوں میں بھیگنے لگی شال کو اچھے سے جسم پر لپیٹ کر خود کو چھپا رکھا تھا اس لئے وہ بے فکر ہوکر بارش میں بھیگنے لگی اور اذہاد حیران ہوتا ارے ارے کرنے لگا کے جب ہی حور نے اس کے ہاتھ سے چھتری لے لی اور اسے بھی بارش میں گیلا کردیا۔۔ اذہاد کو بارش کچھ خاص پسند نہیں تھی اسے تو دنیا کی ہر چیز سے بیزارگی تھی یہ تو حور کی مہربانی تھی جو اسے اتنا بھی بدل دیا تھا ورنہ کسی کی مجال نہیں تھی اذہاد عریض کی کہی آخری بات کے آگے بھی کوئی بات کرے۔آزہاد کو اس وقت کوئی اور دیکھتا تو بالکل یقین نہیں کرتا کہ وہ آزہاد عریض ہے۔۔۔ یہ تو حور تھی اس کی حور جو اس سے لڑتی تھی ناراض ہوتی تھی ضد کرتی تھی جہاں تک کہ وہ مار بھی دیتی تھی۔۔ مگر وہ ہنستا تھا اس کی ہر ادا پے جسے ناز تھا غرور تھا اپنی محبت پے۔۔۔ہاں وہ بدلہ تھا تو صرف اپنی حور کے لیے۔۔
حور دونوں ہاتھوں کو کھولے بارش میں بھیگتی اسے ہنس کر دیکھ رہی تھی۔۔اور آزہاد سیدھا کھڑا اسے دیکھتے ہنس کر چھتری بند کر رہا تھا۔۔۔
_________________
کچھ دیر یوں ہی بھیگنے کے بعد آزہاد نے ایک ٹیکسی روکی اور دونوں پیچھے بیٹھ گئے اب صحیح معنوں میں حور کو سردی لگنے لگی اور اس کے دانت سردی سے بجنے لگے تبھی آزہاد کی غصے بھری نظر اس کی طرف اٹھی۔۔ منع کیا تھا کہ مت بھیگو حور تم میری بات سنتی کب ہو؟؟تم نے وہی کرنا ہوتا ہے جو میں نے منع کیا ہے اب بیمار ہو جاؤ گی۔۔آزہاد کی صلواتیں شروع ہوچکی تھیں اور حور نے اسے چپ کروانے کیلئے کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالا اور ہتھیلی میں پانی بھر کے اس کے چہرے پر پھینکا جس نے آزہاد کی چلتی زبان کو ایک دم بریک لگایا۔۔۔حور مسکرائی اور آزہاد نے سر پکڑ لیا۔۔۔ اب تم پے میری ڈانٹ میرا غصہ بھی اثر نہیں کرتا میں کیا کروں حور تمہارا؟؟؟
ہادی ارے انجوائے کر لیں یہ وقت پھر نہیں آنے والا کل کے دن یہ وقت یاد کرکے آپ ترسو گے اور کہو گے اور کہو گے حور پھر ایک بار آجاؤ میں تمہارے ساتھ لندن کے فٹ پاتھ پے رات کی اس حسین بارش میں بھیگنا چاہتا ہوں۔۔وہ ہنستی مسکراتی اسے دیکھ کر بولی۔۔۔
آزہاد کا دل حور کی بات پر بہت زور سے دھڑکا۔۔ اللہ نہ کرے حور میں کیوں ترسوں گا تم ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو؟؟ تم ایسی ہزاروں بارشیں کیا ؟؟؟بلکہ ہم دونوں زندگی کے سارے موسم ایک ساتھ انجوائے کریں گے۔۔یہ وقت پھر کیوں نہیں آئے گا؟؟ بلکہ ہر بار آئے گا بار بار آئے گا تم میرے ساتھ ہوگی ہمیشہ اور ہم ہر گزرا یہ وقت ساتھ یاد کریں گے اور تم کہاں جا رہی ہو جو میں کہوں کے ایک بار آجاؤ؟؟ازہاد کا چہرہ خوف سے مرجھا گیا تھا وہ ایک بچے کی طرح ڈرتے ہوئے یہ سب کہہ رہا تھا۔۔۔جیسے کوئی اسے حسین خوبصورت رنگ برنگی تتلیاں دیکھا کر اب اس سے وہ سب چھین رہے ہوں۔۔۔حور کی کہیں گئی مذاق میں بات آزہاد کے دل کو چیر گئی تھی۔۔حور کو اپنی غلطی کا احساس بہت جلد ہوا۔۔
ایم سوری ہادی میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔۔حور اس کے اداس چہرے کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
حور مذاق میں بھی کبھی ایسی بات منہ سے مت نکالنا آئندہ ورنہ میں تمہیں تو کچھ نہیں کہوں گا خود کو بہت نقصان پہنچا لوں گا۔۔یہ آخری وارننگ ہے تمہارے لیے۔۔۔ وہ اس کے مذاق میں بھی دور جانے پر پاگل سا ہو گیا تھا آنکھیں لال سرخ ہو گئی تھی۔سانس تیز تیز چلنے لگی تھی۔۔حور ایکدم سہم گئی تھی اسے دیکھ کے وہ کبھی کبھی اس کے اتنے شدید عمل سے گھبرا جاتی تھی۔۔۔
اذہاد اب تیز تیز سانس لیتا باہر کی طرف دیکھ رہا تھا اور حور خاموش اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔
حور کے گھر پہنچنے سے پہلے تک آزہاد خود کو کافی حد تک سمبھال چکا تھا وہ اپنی طرف کا دروازہ کھوتا باہر آیا اورحور کی طرف کا دروازہ کھولا۔۔۔
بارش اب ہلکی ہوچکی تھی آزہاد کے مزاج کی طرح حور خاموش نظروں سے اسے دیکھتی اس کے موڈ کا اندازہ لگا رہی تھی کے اگر اب الٹا سیدھا کچھ بول دیا تو ہادی نے غصے میں واقع خود کو نقصان پہنچا لینا ہے جو یہ حور کبھی برداشت نہیں کر پائے گی۔۔
وہ ڈرائیور کی طرف جھکا آپ کچھ دیر یہی ویٹ کریں مجھے واپس وہی جانا ہے جہاں سے ہم آئے ہیں۔۔ڈرائیور نے آزہاد کی بات سن کر گردن ہاں میں ہلائی اور آزہاد حور کی طرف پلٹا اور مسکرایا۔۔۔
اور اس پل حور کی جان میں جان آئی جب اس نے اذہاد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھی وہ اس کے گال میں پڑھتے گڑھے کو دیکھنے لگی۔۔کاش وہ اسے چھو سکتی۔۔جو آزہاد کے چہرے پر بہت سوٹ کرتا تھا۔۔۔
میں کل تمہیں ہاسپیٹل سے ہی پک کرلوں گا ٹھیک ہے۔۔ وہ پھر اپنی نارمل ٹون میں آتا بولا۔۔
کیوں پھر سے پک ؟!وہ پھر آنکھیں نکالتی بولی۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے میں خود آ جاؤں گی۔۔۔
اورآزہاد نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر ہلکا سا دبایا۔۔حور کی سی نکل گئی۔۔وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھوڑآتی اسے آنکھیں پھاڑ کے دیکھنے کے ساتھ اپنا ہاتھ دبا رہی تھی۔۔
کیوں مزہ آیا یہ تو ہلکا سا تھا مجھے تم اس سے بھی زیادہ تکلیف دیتی ہو مس حورین۔۔ آزہاد نے حساب برابر کیا۔۔میں کل ٹائم پر آجاؤں گا لینے اور اگر ذرا بھی لیٹ ہوئی نہ حور تو سزا ملے گی۔۔ وہ دھمکاتے ہوئے اپنے پہلے والے آزہاد کی طرح بولا۔۔۔
ہنننہ۔۔۔۔وہ منہ بناتی گھر کی طرف پلٹ ہی تھی کہ جب یہ اذہاد نے اس کی نظروں کے سامنے اس کا اپنا وہ لاکٹ کیا جو اس کے بابا نے اسے دیا تھا۔جسے آزہاد نے اس سے مانگا تھا دو دن کیلئے۔۔۔ مگر وہ پہلے سے بدل گیا تھا وہاں حور کا نام اکیلے نہیں تھا وہاں آزہاد کا نام بھی جوڑا جا چکا تھااس کے نام کے ساتھ۔۔۔ حور نے پلٹ کے آزہاد کو دیکھا۔۔آزہاد اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔۔ کیسالگا؟ ؟؟اذہار نے حور کو دیکھ کے دلچسپی سے پوچھا۔۔۔
حور نے گہرا سانس لیا۔۔۔اچھا ہے بہت اچھا ہے۔۔مگر اب میں اسے پہنوں گی کیسے??حور نے آنکھوں کے اشارے سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
جیسے پہلے پہنتی تھی ویسے ہی پہنوں گی اب میرے آنے کے بعد یہ گلے کے لاکٹ والی حور اکیلی مجھے اچھی نہیں لگتی تھی اسی لیے میں نے ہم دونوں کی طرح اس کے ساتھ بھی اذہاد کے نام کو جوڑ دیا۔۔جب ہم ایک ساتھ ہیں تو یہ کیوں اکیلی ہے؟؟ آزہاد نے محبت کے جگنو آنکھوں میں لئے حور کو دیکھا۔۔۔
اچھا اور میرے بابا یہ دیکھ کر کیا بولیں گے۔۔حور نے آنکھیں گھما کر سوال کیا۔۔
بول دینا یہ میرے فیوچر ہزبینڈ نے دیا ہے۔۔ وہ بڑے آرام سے اس کا حل بتا رہا تھا۔۔۔
اور حور اس کی بات سنتی ہنستی ہوئی اس کے کندھے پر ایک مکہ مارتی آگے بڑھنے لگی کہ جب ھی آزہاد نے اسے پیچھے سے آواز دی۔۔۔حوریہ لاکٹ تولے جاؤ۔۔۔
اپنے پاس ہی رکھ لو فیوچر ہزبینڈ جس دن تمہارا نام میرے نام کے ساتھ واقعی جڑ جائے گا۔۔جس دن فرشتے آسمان سے اتر کر تمہارے اور میرے درمیان بولے گئے ہر ایک قبول ہے پر آمین کہیں گے جس دن میری قسمت تمہاری قسمت کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ جائے گی جس دن میں تمہارے اور تم میرے نصیب میں ہمیشہ کے لئے لکھ دیے جاؤ گے اس دن تم حق سے یہ خود میرے گلے میں مجھے پہنا دینا۔۔۔وہ بنا اس کی طرف پلٹتی اس کی آنکھوں میں حسین خواب جگاتی آگے بڑھ گئی۔۔اور اذہاد اسے دور جاتا دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔
وہ لمحہ کتنا حسین ہوگا جب حور سے پوچھا جائے گا کہ اسے آزہاد قبول ہے اورحور کہیے گی کہ اسے اذہاد اسے قبول ہے۔۔اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ازہادکی ہوجائےگی۔۔۔ آزہاد بے حد خوش ہوتا گاڑی کی طرف موڑااور آگے بڑھ گیا۔۔۔کہیں وہ اس خوشی میں مر ہی نہ جائے۔۔ جس دن حور اس کی زندگی میں آئے گی جب وہ ایک ہوجائیں گے۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے سر سیٹ کی پشت پر لگا دیا اور آنکھیں بند کر دی۔۔
اس نے مضبوطی سے لاکٹ کو اپنے ہاتھوں میں تھام رکھا تھا اب اس کی دعا یہی تھی کہ جلد اللہ وہ وقت لائے جب وہ حور کی امانت حق سے اسے لوٹا سکے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت اذہار کی وجہ سے بہت پریشان تھی وہ اب ضد پر اڑا ہوا تھا نہ اسکول جانے کے لیے۔۔جنت نے کوشش کی کہ وہ اسے دوسرے اسکول لگوا دیتی ہے مگر اس کی اب بھی وہی ضد تھی جب کسی نے اس کے مرے ہوئے باپ کو نہیں بخشا تو وہ تو پھر اس کی زندہ ماں تھی جب اسے کوئی برا بھلا کہتا تو اذہار سے برداشت نہیں ہوتا تھا اسی لئے اب اس نے بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلنے کی قسم کھائی اور جنت کو بھی سختی سے منع کردیا کہ وہ بھی کہیں نہیں جائے گی۔۔۔اس کی ضد کو لے کر جنت بے حد فکر مند اور پریشان رہنے لگی وہ ضدی تھا نہیں مگر حالات نے اسے ضدی بنا دیا تھا جنت نے اسے بہت سمجھایا مگر کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔جنت کے سر میں پہلے تو ہلکا ہلکا درد رہتا تھا اب یہ در درد مستقل اس کا سر درد بن گیا تھا۔۔زیاد کی موت کا صدمہ اور اذہار کی آب فکر جنت کے سر درد کی وجہ تھا۔۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ درد اب اس کی برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا اور ایک دن وہ چکراکر زمین پر گری۔۔زمین پر ماں کو گرا دیکھ کر آزہاد کی جان چلی گئی ایک ماں ہی تو تھی اس کی کل کائنات اگر اسے کچھ ہوگیا تو یہ دنیا تو اسے زندہ درگور کر دے گی وہ چلاتا ہوا بھاگتا ہوا جنت کی طرف آیا۔۔اور اسے اٹھانے کی ناکام کوشش کرنے لگا وہ کمسن معصوم سا بچہ تھا اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ جنت کو اٹھا کر ہسپتال لے جاتا وہ روتا ہوا برابر کے اپارٹمنٹ کی طرف بھاگا وہ زور زور سے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے لگا پلیز دروازہ کھولیں میری مما نیچے گر کر بے ہوش ہو گئیں ہیں انہیں پلیز اٹھائیں۔۔ اس کے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے پر آخرکار مالک نے دروازہ کھولا اور وہ غصے سے بولی۔۔۔کیا مصیبت آ گئی ہے کیوں ہمیں تنگ کر رہے ہو۔۔۔اسے آزہاد کی معصوم روتی ہوئی شکل دیکھ کر بھی ترس نہیں آرہا تھا۔۔۔
پلیز میری مدد کریں میری مما کو کچھ ہوگیا ہے وہ نیچے گر کر بے ہوش ہو گئیں ہیں۔۔ وہ روتے ہوئے اس عورت سے مدد کی اپیل کرنے لگا۔۔۔
کتنا بے بس کتنا مجبور وہ اس وقت خود کو محسوس کر رہا تھا آخر کار اللہ نے اس عورت کے دل میں رحم ڈال ہی دیا اور اس نے فورا ہوسپٹل فون کیا۔۔ تھوڑی ہی دیر میں زیاد کہ اپارٹمنٹ کے باہر ایک ایمبولینس موجود تھی جس میں جنت کو ڈال کر ہوسپٹل لے جایا جارہا تھا سارا دن اور ساری رات بھوکے پیاسے ایک ہی بیچ پر بیٹھ کر آزہاد نے اس مشکل وقت کو کاٹاتھا۔۔باپ کو پہلے ہی کھو چکا تھا اب وہ ماں کو کھونا نہیں چاہتا تھا ورنہ یہ دنیا تو اسے زندہ زمین میں درگور کر دے گی وہ اکیلے کیسے جیے گا۔۔وہ اپنے اللہ سے رو رو کر بس ایک ہی دعا کر رہا تھا کہ اس کی ماں کو ٹھیک کردے انہیں کچھ نہ ہو اور اللہ اللہ کر کے وقت کٹا اور ڈاکٹر چلتا ہوا اذہاد کے پاس آیا۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *