Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11
آزہاد پولیس اسٹیشن میں بیٹھا تھا۔۔
آفیسر میں وہی سے گزر رہا تھا تو دیکھا یہ چار وہاں زخمی حالت میں پڑے تھےمیں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔
مسٹر آزہاد عریض آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہمیں اطلاع کی ہم ان چاروں کی ڈیڈ بوڈی پوسٹمارٹم کے لیے ہاسپٹل بھیج رہے ہیں۔۔۔مگر ان کی ڈیڈ باڈی کو دیکھ کے ایسا لگتا ہے جیسے ان کو کسی گینگسٹر گروپ نے مل کے مارا ہے یہاں اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے ۔۔گینگسٹر گروپ میں اکثر آپس میں جھگڑے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ایک دوسرے کی جان لے لیتے ہیں۔۔۔
تھینک یو آفیسر آزہاد اٹھا ہاتھ ملاتا مغرور انداز میں شان سے چلتا پولیس اسٹیشن سے باہر آگیا ایسا ہو سکتا تھا کہ اس کے دماغ کے آگے کسی اور کا دماغ چلے۔ اس نے سارا معاملہ بہت آرام سے ہینڈل کر لیا تھا کوئی گواہ کوئی ثبوت نہیں تھا جو اس کے خلاف جاتا اور ویسے بھی وہ کوئی عام انسان تو تھا نہیں
وہ لندن کا سب سے بڑا اور کامیاب بزنس مین تھا اس کا نام ہی کافی تھا لوگوں کو جاننے کے لیے کہ وہ کیا ہے مگر کسی نے اسے دیکھا نہیں تھا اس کے بہت انٹرویو چھپے تھے بڑے بڑے میگزینس میں مگر میڈیا کو اس کی تصویر لینے کی اجازت نہیں تھی ورنہ وہ اچھے سے بتاتا کہ وہ کیا ہے دنیا اسے اس کے نام سے اس کے کام سے اسے جانتی تھی مگر دیکھا کسی نے بھی نہیں تھا ۔۔مگر ہاں جو اس کے ساتھ کام کرتے تھے جن کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا وہ اسے جانتے تھے۔۔مگر انہیں بھی اس کی تصویر لینے کی اجازت نہیں تھی وہ آرام سے گھر آیا چینج کیا اور لیٹ گیا حور کی طرف سے آب بے فکر تھا کیونکہ اس کے پاس بیلا تھی اس کا خیال رکھنے کے لیے۔۔ حور کے بارے میں سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔
بیلا کی کھٹر پٹر سے ہور کی آنکھ کھلی۔۔اوہ سوری حور میری وجہ سے تم ڈسٹرب ہو گی میں ہوسپٹل کے لئے بس نکلنے والی ہوں اس کی تیاری کر رہی تھی۔
حور نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور اٹھتی ہوئی بولی تم نے بریک فاسٹ کیا؟؟
ہاں میں نے کر لیا ہے تمہارے لئے بھی ریڈی کرکے رکھا ہوا ہے لے کر آؤ؟؟تم سب سے پہلے فریش ہو جاؤ چلو میں تمہیں لے کے چلتی ہوں وہ آگے بڑھتی ہوئی اس کو اٹھانے آئی۔۔
ارے پیچھے ہٹو تم مجھے ایسے ٹریٹ کر رہی ہو جیسے میں کوئی بچی ہوں میرے پاؤں میں ہلکی سی موج آئی ہے ٹانگ نہیں ٹوٹی جو تم اتنی فکر کر رہی ہو تم آرام سے تیار ہو کے ہوسپٹل جاؤ میں اپنا خیال رکھ لوں گی وہ آرام سے خود ہی اٹھتی ہوئی بولی۔۔
آر یو شور بیلا نے پوچھا۔۔
یس اب تم جاؤ لیٹ ہو رہی ہوں حور مسکراتی ہوئی بولی.. بیلا اس کے قریب آئی گلے لگی ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا وقت پر دوائی لینا اوکے بائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔زیاد نے فون کیا تھا مصر اپنے باپ کو۔۔
بولو زیاد التمش وہ روب سے بولے۔۔
بابا میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں وہ یہیں رہتی ہے اور میرے ساتھ پڑھتی ہے اس کا نام جنت ہے میں اسے اپنے ساتھ مصر لانا چاہتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ التمش عریض ساری باتیں خاموشی سے سنتا رہا۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا زیاد التمش عریض تم عام انسان نہیں تم اس ریاست کے بادشاہ بنو گے آگے جاکے تم ایک عام سی لڑکی سے کیسے شادی کر سکتے ہو ؟؟ تمہاری شادی تمہاری حیثیت کی لڑکی سے ہوگی سب کچھ چھوڑ کے فورا مصر واپس آؤ وہ بے حد روب سے بولے۔۔۔
تو آپ جنت کو ایکسیپٹ نہیں کریں گے ؟؟؟اس نے پھر سوال کیا۔۔
ذیاد التمش عریض تم بھول رہے ہو کہ اپنے باپ سے بات کر رہے ہو اور تم اچھے سے جانتے ہو جو میں کہہ دیتا ہوں وہ آخری فیصلہ ہی ہوتا ہے۔۔
ٹھیک ہے بابا پھر آپ بھول جائیں کہ آپ کا کوئی بیٹا ہے۔۔۔اس نے آنکھوں میں آنسو لیے فون رکھ دیا
التمش عریض نے غصے میں اٹھا کے فون پھینک دیا۔۔
زیادنے باپ کا آخری فیصلہ سننے کے بعد ایک ارادہ کیا جنت کو وہاں سے نکال کے اپنے ساتھ لے جانے کا کیوں کہ اگر وہ وہاں رہتی تو شاید گھٹ گھٹ کے مر جاتی۔۔
خدیجہ جنت سے ملنے اس کے گھر آئی تھی وہ اس کی حالت دیکھ کے بے حد دکھی ہوئی تھی یہ وہ جنت لگتی ہی نہیں تھی ختیجہ جس کو یونیورسٹی میں دیکھتی تھی خوبصورت حسین یہ تو بے حد کمزور اور مرجھائی ہوئی سی جنت تھی۔۔
جنت یہ کیا حال بنا لیا ہے تم نے ؟؟
آزمائش آسان نہیں ہوتی خدیجہ۔۔
تم فکر نہیں کرو جنت میں لے جاؤں گی تمہیں یہاں سے اپنے ساتھ میں بابا سے بات کرتی ہو جا کے تم چلو گی نہ میرے ساتھ؟؟خدیجہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی جنت نے گردن ہاں میں ہلائی۔۔کیونکہ اس کے ماں باپ اسے جنت کے روپ میں قبول کرنے کو تیار نہیں تھے اس کی اب اس گھر میں کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیاد میں نے بابا سے بات کی ہے وہ میرے ساتھ میرے گھر رہے گی اب میں اسے لے آؤں گی اس کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔۔خدیجہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی۔۔
ختیجہ کیا میں آپ کے بابا سے مل سکتا ہوں ؟؟
ہاں کیوں نہیں زیاد۔۔
وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی ٹائم میں ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔۔۔
___________________
زیاد یوسف کے سامنے بیٹھا تھا زیاد نے یوسف کو ساری بات بتائی تھی ۔۔۔یوسف کو ضیاد ہرطرح سے قابل لگا تھا جنت کے لئے انہیں ایک بہتر حل یہی لگا کہ جنت کے وہاں سے آنے کے بعد زیاد اور جنت کا نکاح کردیاجائے جنت کو ایسے وقت میں ایک محرم کی سخت ضرورت تھی اور زیادجیسا محبت کرنے والا خیال کرنے والا انسان دوسرا جنت کو اور کہیں نہیں مل سکتا تھا۔۔ وہ زیاد کو مسکراتے دیکھتے ہوئے بولے سب ٹھیک ہو جائے گا میرے بچے۔۔۔
زیاد نے بھی انہیں بےحد امید سے دیکھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت کا آج آخری دن تھا اس گھر میں ایڈم بے حد غصے میں اس کی شکل تک نہیں دیکھ رہا تھا انہوں نے اسے جانے سے روکا بھی نہیں تھا ہر ممکن کوشش تو کر لی تھی اپنی جان سے پیاری بیٹی کو سیدھا کرنے کی وہ مرنے کو تیار تھی مگر اسلام کو چھوڑ نہیں سکتی تھی آخری حل یہی تھا کہ وہ اب جو کرنا چاہے کرے قانون کے حساب سے وہ اس پر زور زبردستی نہیں کر سکتے تھے۔۔ ماریا کا رو رو کے برا حال تھا وہ آہستہ سے چلتی ہوئی ایڈم کے ٹانگوں کے پاس زمین پر بیٹھی اور اس کے گھٹنوں پر سر رکھ دیا ایک آنسو اسکی آنکھ سے گرا جو جیسا بھی تھا تھے تو ماں باپ ہی اس کے۔۔۔ڈیڈ مجھے پلیز معاف کر دیجیے گا مگر اب میں اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی میں زیاد سے بھی بہت محبت کرتی ہوں اس کے بنا جی نہیں سکتی مجھے اجازت دیں کہ میں یہاں سے چلی جاؤں۔۔
ایڈم کی آنکھ سے بھی ایک آنسو ٹپکا جس انسان کے لئے تم ہمیں چھوڑ کے جا رہی ہوں ایک دن اسی کے لئے تو تڑپو گی لیزہ اور پھر تم پچھتاؤ گی اپنے پاس
مذہب پے۔۔۔۔
جنت نے جھٹکے سے سر اس کی گود سے اٹھایا اور ایڈم کو دیکھا نہیں ڈیڈ ایسا نہیں ہو ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو آپ کی بیٹی آپ کے پاس واپس نہیں آئے گی وہ مر جانا پسند کرے گی اور وہ کبھی اپنے مذہب پر پچھتائے گی نہیں آہستہ سے وہ اٹھی اور بولتی ہوئی کمرے میں چلی گئی ایڈم آنکھوں پر ہاتھ رکھے رو دیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کچن میں آئی۔۔
ٹنگ ٹونگ۔۔۔دروازے کی بیل ہوئی وہ آہستہ قدم اٹھاتی دروازے تک آئی اور دروازہ کھولا۔۔۔
ہائے ۔۔۔۔۔حور نے حیران ہوتے اسے دیکھا۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے پھولوں والا ہاتھ آگے کیا اب حیران ہونا فضول تھا اس نے جو کل اس کی مدد کی تھی اس کی عزت کی حفاظت کی تھی اس کے لئے اتنا کچھ کیا وہ اس سب سے بڑھ کے تھا۔۔
حور نے آہستہ آواز میں سلام کیا۔۔
وعلیکم سلام کیسی ہیں حور آپ ؟؟ آزہاد کا دل اسے دیکھ کر سو کی اسپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔۔
جاری ہے
