Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24
بیٹا کیا آپ کے ساتھ اور کوئی نہیں آیا۔۔۔وہ ڈاکٹر کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور معصومیت سے گردن نہ میں ہلائی۔۔۔ کیا کوئی رشتہ دار وغیرہ بھی نہیں ہے جنہیں فون کرکے بتا سکو۔۔۔ اس نے پھر گردن نہ میں ہلائی اور ڈاکٹر اس کی معصوم شکل کو بے حد ترس بھری نگاہوں سے دیکھ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔اب وہ اس معصوم سے بچے کو اس کی ماں کی خطرناک بیماری سے کیسے آگاہ کر سکتا تھا۔۔۔وہ افسوس سے آگے بڑھ گیا اوراذہاد پھر اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔
جنت نے نیم وا آنکھیں کھولیں اور پہلا خیال اسے آزہاد کا آیا وہ جھٹکے سے اٹھی۔۔۔
اذہاد۔۔۔۔۔ نرس جو پاس ہی کھڑی تھی مریض کے اس طرح سے اٹھنے پر غصے سے بولی۔۔۔ ارے آپ ایسے کیسے اٹھ سکتی ہیں پلیز لیٹے رہیں آپ بیمار ہیں۔۔۔جنت کے چہرے پر اذہار کو کھونے کا خوف صاف جھلک رہا تھا۔۔۔میرا بچہ کہاں ہے نرس؟؟؟جنت نے اس کی ساری احتیاطوں کو ایک طرف کرتے ہوئے اپنے بچے کے بارے میں بے تابی سے پوچھا۔۔۔
نرس نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔ کہیں آپ اس بچے کے بارے میں تو نہیں پوچھ رہی جو باہر بیٹھا ہے؟؟؟
کہاں ہے میرا اذہاد۔۔ جنت نے گردن زور سے ہاں میں ہلاتے نرس سےکہا۔۔۔اور نرس فورا باہر جاتی اذہار نام کے بچے کو اندر لائی۔۔۔ اذہار جب دروازے سے اندر داخل ہوا جنت نے اسے دیکھ کر بے اختیار اپنے دونوں بازو اس کے لیے کھول دیے اور وہ روتے ہوئے دوڑ کراس کے سینے سے جا لگا۔۔جنت اپنے سر میں اٹھتے شدید درد کی پرواہ کیے بنا اذہاد کو سینے سے لگائے بےتحاشہ رو رہی تھی ماں تھی نہ آخر ماں اگر مر بھی جائے تو اس کی روح اولاد کے لیے تڑپتی رہتی ہے وہ تو پھر زندہ تھی۔۔۔
مما آپ مجھے کبھی چھوڑ کر تو نہیں جائیں گی نہ؟؟ وہ روتے ہوئے جنت کے سینے سے لگے پوچھ رہا تھا۔۔
نہیں آزہاد میری جان میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔۔ وہ اس کے چہرے کو چومتے روتے ہوئے بولی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی تھی اور ڈاکٹر کو مجبور اس کے خطرناک حد تک پھیلی گئی اس بیماری کو اب مریض سے ہی ڈسکس کرنا تھا۔۔
مجھے بے حد دکھ ہے مسز ذیاد کے ہم آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے آپ کی بیماری ایٹی پرسنٹ تک بڑھ چکی ہے جس کا علاج ممکن نہیں ہے وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے سر کا درد شدت اختیار کرتا جائے گا جس پہ کوئی دوائی اثر نہیں کرے گی۔۔ایم سوری۔۔ڈاکٹر نے یہ کہہ کر آخر میں گردن جھکالی اور جنت کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی ٹوٹ کر گرنے لگی وہ شکریہ کہتی آہستہ سے اٹھی اور اذہاد کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموش بیٹھی تھی اور آزہاد اس کی گود میں سر رکھے سو رہا تھا اسے اپنی پرواہ ہرگز نہیں تھی کہ اس کی بیماری اس کی جان دینے والی ہے وہ یہ بالکل نہیں سوچ رہی تھی اسے پرواہ تھی تو صرف آزہاد کی صرف اپنے بچے کی جو اس کے جانے کے بعد اب اس دنیا کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے والا تھا اسے صرف اپنی جان سے پیارے آزہاد کی فکر تھی وہ اب اکیلا رہے جائے گا اس کے بغیر۔۔ کون اسے اتنا پیار کرے گا کون اس کی اتنی فکر کرے گا وہ تو بہت حساس ہے۔۔جو بھوک لگنے پر بھی کھانا تک نہیں مانگتا تھا تکلیف ہونے پر جو اپنا درد ظاہر نہیں کرتا تھا کوئی کیسے اس کی خاموشی کو سمجھے گا؟؟کون اس سے اتنی محبت کرے گا؟؟ وہ رو رہی تھی اس لیے نہیں کہ اس کے سر میں اس وقت شدید درد ہو رہا ہے بلکہ اس لیے کہ اس کے بعد اس کے اذہاد کا کیا ہوگا اسے کون پیار کرے گا؟؟ساری رات اسی کشمکش میں گزری اور صبح کا اجالا ہر طرف پھیل گیا۔۔۔
رات بھر سوچنے کے بعد ایک حل سامنے آیا تھا وہ یہ کہ آخری وقت میں جنت اسے پاکستان یوسف کے پاس بھیج دے۔۔۔اور اسی خیال سے اس نے پاکستان فون ملایا یوسف کے پاس۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔ فون اٹھانے والی نے جواب دیا۔۔۔
السلام علیکم جی میں جنت بات کر رہی ہوں لندن سے مجھے یوسف انکل سے بات کرنی ہے۔۔
وعلیکم السلام جنت بیٹا میں بوا بات کر رہی ہوں یوسف کی خالہ میں یوسف کے ساتھ ہی رہتی ہوں یوسف کا تو پرسوں رات انتقال ہوگیا بیٹا ہارٹ اٹیک کی وجہ سے خدیجہ نے تمہیں بےشمار فون کئے مگر کوئی جواب ہی نہیں آرہا تھا یوسف کی تو تدفین بھی ہوگی اور ختیجہ اس حالت میں نہیں کہ تم سے بات کریے مجھے یوسف نے تمہارے بارے میں بتایا تھا۔۔۔۔
اور جنت میں بے حد ٹوٹ کے روتے ہوئے خاموشی سے فون بند کر دیا۔۔۔
یا اللہ میری مدد کر میرے مولا۔۔۔۔وہ روتے روتے صرف اپنے رب سے یہی ایک فریاد کر رہی تھی۔۔کیسی آزمائش تھی یہ کیسی گھڑی تھی آخری درجو کھلا تھا وہ بھی بند ہوگیا تھا۔۔وہ روتے ہوئے اپنا سر زمین پر رکھے اپنے رب کی بارگاہ میں فریاد کرنے لگی اس سے مدد کی بھیک مانگنے لگی اپنی اولاد کے لیے۔۔۔
_________________
میں گرتی ہوں وہ اٹھاتا ہے۔۔
میں پھر گرتی ہوں وہ مجھے پھر اٹھاتا ہے۔۔
میں نے پوچھا یا رب ۔۔جب مجھے اٹھانا ہی ہوتا ہے تو گراتا کیوں ہے ؟؟
تو میرے رب نے کہا ۔۔۔گرا تا اس لیے ہوں کے تم کبھی غرور نا کرو اٹھاتا اس لیے ہوں کے تم پہلے سے بہتر چل سکو ۔۔۔۔
تحریر مریم ناول سے
وہاں بہت سارے بچے تھے جو کھیل رہے تھے ہنس رہے تھے یہ کیسی جگہ تھی اسکول تو وہ کہیں سے لگ نہیں رہا تھا اس کی ماں اسے یہ کہاں لے آئی تھی؟؟ وہ معصوم چہرہ لیے حیران پریشان سا کھڑا بچوں کو دیکھ رہا تھا مگر ان سب بچوں میں ایک بچہ ایسا تھا جو آزہاد کو سب سے الگ لگا وہ بچہ اداس گردن کو جھکائے کونے میں بیٹھا تھا وہ آزہاد کو اپنی ہی عمر کا لگا وہ اتنے سارے بچوں کے بیچھ ہو کر بھی ان کے ساتھ کھیل کیوں نہیں رہا تھا کیا وہ اداس تھا؟؟ یہ تجسس اذہار کو کھینچتا ہوا اس بچے کے قریب لے گیا۔۔۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟؟ آزہاد اس کے پاس جا کر اس کے ساتھ بیٹھنے کی اس سے اجازت مانگنے لگا اس بچے نے گردن اٹھا کر حیرانی سے سوال پوچھنے والے کی شکل دیکھی کہ کیا وہ اس سے بات کر رہا ہے؟؟ یہاں کوئی بھی کہیں بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں مانگتا تمہاری مرضی ہے بیٹھ جاؤ۔۔۔اس بچے نے آہستہ سے جواب دیا اور گردن پھر جھکا لی۔۔۔
کیا تم اداس ہو؟؟آزہاد نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے سوال کیا۔۔
بچے نے گردن ہلا کر ہاں میں جواب دیا۔۔۔
کیوں ؟؟سوال پھر کیا۔۔
کیونکہ میں اکیلا ہوں میرے ماما بابا نہیں ہیں میرا کوئی بھی نہیں ہے اس دنیا میں۔۔بچے نے اداسی سے جواب دیا۔۔
مجھے بے حد دکھ ہوا مگر ایسے تو میرے بابا بھی نہیں ہے مما کہتی ہیں بابا اللہ کے پاس چلے گئے ہیں جہاں ایک دن سب کو جانا ہے کوئی پہلے چلا جاتا ہے کوئی بعد میں مجھے دکھ تو ہے مگر میں اس میں کچھ بھی نہیں کر سکتا یہ سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔۔تم اداس مت ہو۔۔۔
تم یہاں کیوں آئے ہو؟؟اب کے سوال مخالف کی طرف سے ہوا۔۔
میری مما یہاں آئی ہے مجھے لے کر۔۔ آزہاد نے جواب دیا۔۔
مگر کیوں؟؟ یہاں تو وہ بچے آتے ہیں جن کا کوئی بھی نہ ہو مگر تمہاری مما تو ہے نہ۔۔۔
اذہار نے اب سارے ہنستے کھیلتے بچوں کو دیکھا۔۔ کیا ان سارے بچوں کا اس دنیا میں کوئی نہیں؟؟ وہ حیران ساانہیں دیکھتا سوال پوچھنے لگا۔۔
نہیں یہاں وہی آتے ہیں جن کا اس دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔ اس نے معصومیت سے جواب دیا۔۔۔
مگر میری مما تو ہے پھر ہم یہاں کیوں آئے ہیں ؟؟وہ سوچنے لگا۔۔ہاں شاید مما کا دنیا میں کوئی نہیں ہے اس لیے وہ یہاں آئی ہیں۔۔ وہ اپنے معصوم ننھے سے ذہن کے حساب سے اندازے لگاتا سوچنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟؟ یتیم خانے کی اونر نے گردن اٹھا کر آنے والی شخصیت کو دیکھا جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہی تھی۔۔۔۔
جی آ جائیں۔۔۔اونر نے اسے اندر آنے کی اجازت دی۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شکستہ چال چلتی اندر آئی اور کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
اونر نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
بے حد کمزور ہڈیوں کا ڈھانچہ جس کی آنکھوں کے نیچے کالے ہلکے صاف نظر آ رہے تھے جو اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ کئی راتوں سے سوئی نہیں۔۔۔ایک وقت تھا جب اس کی بڑی بڑی حسین آنکھیں ہوا کرتی تھیں۔۔آج وہی آنکھیں حالت کی ستم ظریفی کی وجہ سے اپنی خوبصورتی کھو چکی تھی۔۔پہلے جب لوگ اسے دیکھتے تھے تو اس کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرتے تھے آج جب لوگ اسے دیکھتے ہیں تو ان کی نظروں میں اس کے لئے ترس افسوس اور بیچارگی نظر آتی۔۔۔۔وقت جب بدلتا ہے تو کیسے کیسے روپ دکھاتا ہے۔۔۔۔
میرا نام جنت ہے میرے شوہر کی حال ہی میں ڈیتھ ہوئی ہے اب میں اور میرا بیٹا آزہاد ہم دونوں کا اس دنیا میں اور کوئی نہیں کچھ دن پہلے میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی پڑوسیوں کی مہربانی کی وجہ سے مجھے بروقت ہسپتال پہنچایاگیا دو دن کے بےہوشی کے بعد جب ہوش میں آئی تو پتہ چلا کہ مجھے برین ٹیومر ہے اور میرے پاس وقت بہت کم بچا ہے۔۔وہ تھوڑی دیر سانس لینے کے لئے خاموش ہوئی اور چادر کے کونے سے اپنی آنکھوں کے بھیگے گوشوں کو صاف کرنے لگی۔۔۔۔
اونر نے اسے بے حد دکھ سے دیکھا اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کے اسے تسلی دی۔۔۔
اس نے پھر آہستہ سے بولنا شروع کیا۔۔۔ میری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں ہے مجھے مرنے کا ڈر نہیں ہے مجھے ڈر ہے تو صرف اپنی اولاد کا اپنے بیٹے آزہاد کا جس کا میرے علاوہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔۔۔
میں ایک کرسٹن گھرانے سے تعلق رکھتی تھی میری فیملی میں میرے موم ڈیڈ اور میں تھے پھر میں نے اسلام سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور میرے گھر والوں نے مجھ سے سارے رشتے ختم کر لئے میں نے ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرلی اور خوشی خوشی رہنے لگی جس طرح میری فیملی نے مجھ سے ناراض ہو کر سارے رشتے ختم کیے تھے اس طرح میرے شوہر کی فیملی نے بھی ان سے سارے تعلق ختم کر لئے تھے نہ میری فیملی نے کوئی مجھ سے تعلق رکھا نہ ان کی فیملی نے ان سے کوئی تعلق رکھا۔۔میں میرے شوہر اور میرا بیٹا اذہاد ہم تینوں بہت اچھی اور بہترین زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک زندگی نے ایک بھیانک روپ سے ہمیں روشناس کروایا ہم بکھر گئے میرے شوہر کی ڈیتھ ہوگئی میں اور میرا بیٹا اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔۔۔مسلمان ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی نفرت کا نشانہ میں بنتی رہی اور اس کا بھگتان میرے ساتھ میرے بیٹے کو بھی بھوگتنا پڑا۔۔ میں چاہتی ہوں میرے مرنے کے بعد میرے بیٹے کی ذمہ داری آپ لوگ لے لیں اور اسے یہاں لے آئیں۔۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرے ڈیڈ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں مجھے یاد کرتے ہیں مگر میں ان کے پاس جانا نہیں چاہتی ہاں اگر میرے مرنے کے بعد آپ لوگ اس پتے پر یہ خط پہنچا دیں اور وہ یہاں آئیں تو آپ میرے بیٹے کی ذمہ داری انہیں دے دینا۔۔۔ اس نے ایک خط ٹیبل پر اونر کے سامنے رکھا۔۔
اونر ایک رحمدل اور نیک عورت تھی اسے جنت سے ہمدردی محسوس ہوئی۔۔جنت نے بھی دل کی ساری باتیں اس کے آگے رکھ دیں۔۔۔
جنت تم بالکل فکر نہیں کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور آزہاد کی بالکل فکر نہیں کرنا وہ اب ہماری ذمہ داری ہے۔۔اونر کے وہ الفاظ جنت کے لئے اندھیرے میں جگنو کے مانند تھے۔۔۔
اللہ اپنے پیاروں کو ان کی برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا وہ ہر روپ میں ہر برے وقت میں وسیلہ بنا کر بھیجتا ہے اپنے پیاروں کی مدد کے لیے اور وہ اونر بھی اللہ کی طرف سے وسیلے کی صورت بنا کر بھیجی گئی تھی۔۔جنت نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولا کے تو نے مجھے مایوس نہیں لوٹآیا۔۔ایک در بند کیا تو دس در کھول دیے مجھے یقین ہے تو میرے آزہاد کے ساتھ کبھی برا نہیں کرے گا۔۔۔
جنت نے بند آنکھیں کھولیں اور مسکراتی ہوئی اونر کو دیکھتی کھڑی ہوئی اور باہر آگئی جہاں آزہاد کووہ چھوڑ کر آئی تھی۔۔۔
اذہار جو اس بچے کے ساتھ بیٹھا مسکرا کر باتیں کر رہا تھا ماں کو باہر آتا دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔
وہ دیکھو وہ کھڑی ہے میری مما۔۔ آزہاد نے مسکراتے ہوئے اپنے نئے دوست کو بتایا اور اس بچہ نے جنت اور آزہاد کو ایسے دیکھا جیسے وہ اس دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان ہوں۔۔میں چلتا ہوں میری مما مجھے بلا رہی ہیں اوکے بائے وہ اٹھ کر جنت کے پاس آ گیا اور جنت نے l نیچے جھک کر آزہاد کو گلے لگایا اور اس کے سر کو چوما۔۔ آزہاد کھل سا گیا تھا جنت کے اس عمل سے۔۔۔۔
چلیں۔۔۔جنت نے مسکرا کے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ جی۔۔۔مما چلیں۔۔۔ وہ بھی مسکرا کے بولا۔۔۔
جنت نے اس کا ہاتھ تھاما اور آگے بڑھ گئی جب ہی آزہاد نے پلٹ کر اس بچے کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا کر اسے بائے بولا۔۔۔
اس بچے کو اذہار اس وقت دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان لگ رہا تھا جس کے پاس اس کی ماں تھی اس کا واحد سگا قریبی رشتہ جس کا ہاتھ تھامیں وہ چل رہا تھا۔۔۔ اس کی حسرت بھری نظریں دور تک آزہاد کا پیچھا کرتی رہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مما آپ کو پتہ ہے وہ بہت اچھا تھا اس نے نہ ہی میرے بابا کو برا بھلا کہا نہ ہی آپ کو وہ یہاں کے سب لڑکوں سے الگ تھا اس کے مما بابا کوئی بھی نہیں ہے اس دنیا میں وہاں کے کسی بھی بچے کے مما بابا زندہ نہیں تھے وہ سب اکیلے رہتے تھے مگر کتنے خوش تھے پھر یہ پیٹر وغیرہ اتنے بدتمیز کیوں ہیں ؟؟ کیا ان کے مما بابا ان کو یہ نہیں بتاتے کہ کسی کو مارنا ان سے بدتمیزی کرنا بری بات ہے؟؟ وہ نہ جانے کیا کیا باتیں جنت سے کئے جارہا تھا اور جنت اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی خاموشی سے اس کی ساری باتیں سن رہی تھی۔۔۔
اذہار ۔۔۔۔جب ہی جنت نے اسے آہستہ سے پکارا وہ جو کب سے بولے جا رہا تھا ماں کے پکارے جانے پر چپ ہوتا گردن اٹھا کر ماں کو دیکھنے لگا۔۔۔
میرے بچے میری جان۔۔۔ جنت نے اس کا سر سینے سے لگایا۔۔تم کمزورنہیں ہو۔۔کسی سے کم تر بھی نہیں ہو۔۔۔ وہ لوگ تم سے بدتمیزی اس لیے کرتے ہیں کیونکہ تم ان سے بہتر ہوں تم ان سے بہت آگے ہو وہ تم سے ڈرتے ہیں اس بات سےوہ بہت اچھے سے واقع ہے اس لیے وہ تمہیں مارتے ہیں تمہیں کمزور بناتے ہیں تاکہ تم ٹوٹ جاؤ۔۔۔گر جاؤ۔۔ آگے نہ بڑھ سکوں۔۔ مگر ایک بات یاد رکھنا آزہاد میں رہوں یا نہ رہوں تم لاکھوں بچوں سے بہتر ہو۔۔ان سے بہت آگے ہو تم بہت مضبوط ہو تم نے ہارنا نہیں سیکھنا ہے تم نے ہمیشہ جیتنا ہے تم جب گروگے ایک نئے عزم سے کھڑے ہو گے وعدہ کرو یہ لوگ جتنا زور لگائیں تمہیں توڑنے میں مگر تم ہمت نہیں ہارو گے۔۔۔ وعدہ کرو۔۔
جنت بے حد جذباتی ہوتی اس کے دماغ میں ایک ایک بات بیٹھا رہی تھی۔۔۔
میں وعدہ کرتا ہوں مما میں آپ کو اور بابا کو کبھی مایوس نہیں کروں گا آپ کو ایک دن فخر ہوگا مجھ پر۔۔۔وہ ماں کا چہرہ دیکھتا معصومیت سے بولا۔۔
جنت نے بھی حد تڑپ کے اس کے معصوم سے چہرے کو چومنا شروع کر دیا نہ جانے یہ وقت دوبارہ اس کے لمس کو محسوس کرنے کا موقع دے یا نہ دے وہ روتی ہوئی اسے سینے سے لگائے لیٹ گئی اور آزہاد خاموش ماں کی محبتوں کو اس کی آغوش میں چھپ کر محسوس کرنے لگا۔۔ دنیا کی ساری آسائش خوشیاں ساری رنگینیاں ایک طرف اور ماں کی محبتوں بھری آغوش ایک طرف وہ بھی آنکھیں بند کئے اس سے لپٹ کر سو گیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاوو و۔۔۔۔۔۔
آ آ آ آ ۔۔۔۔۔۔
بیلا خاموشی سے جا رہی تھی جب پیچھے سے آتی حور نے اسے ڈرایا۔۔۔۔۔
حور بدتمیز تم نے مجھے ڈرا دیا دیکھو میرا دل کتنی زور زور سے دھڑک رہا ہے۔۔
حوراسے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔۔ اچھا تم جو نئی نئی اٹھ پٹانگ حرکتیں کر کے مجھے ڈراتی رہتی ہو؟؟حور نے ہنسی روک کر آنکھیں دکھاتے ہوئے بیلا سے کہا۔۔۔
چھوڑو یار وہ جب سے تمہارے جلاد سے آخری بار بات ہوئی ہے میں نے تو دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر معافی مانگ لی کہ تم سے دور رہوں گی نہ بابا نہ ورنہ اس جلاد نے بھری جوانی میں مجھے مار ڈالنا ہے ۔۔بیلا نون اسٹاپ بولنا شروع تھی جب ھی حور نے زور کی چونٹی اس کے بازو پر کاٹی۔۔۔۔
آئی ی ی ی ۔۔۔۔۔بیلا نے زور زور سے اپنا بازو مسئلہ۔۔ حور اسے گھور یوں سے نواز رہی تھی۔۔یہ تم کیا بار بار میرے ہادی کو جلاد جلاد بولی جارہی ہو۔۔۔
ہاں تو اور کیا بولوں؟؟ بیلہ نے بھی منہ بنا کر کہا۔۔آزہاد نام نہیں لے سکتیں تم۔۔۔جواب آیا۔۔
جی نہیں مجھے کوئی شوق نہیں اتنے بڑے انسان کا یوں منہ اٹھا کرنام لوں اس پے بھی اس نے مجھ پر کیس کر دینا ہے۔۔۔وہ گردن جھٹکتی بولی۔۔
حور نے اس کی ساری فضول باتوں پہ دو حرف بھیجے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے باہر کی طرف چلنے لگی کہ جب ہی بیلا کی نظر سامنے گاڑی کے پاس کھڑے آزہاد پر پڑی اور اس کی دبنگ پرسنیلٹی دیکھ کر بیلا کی جیسے روح فنا ہوگئی۔۔
وہ زور زور سے حور کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی مگر حور نے بھی اس کا ہاتھ نہ چھوڑنے کی جیسے قسم کھائی تھی۔۔
حور چاہتی تھی کہ آزہاد اور بیلا کے بیچھ جو بھی ناراضگی یا غلط فہمی ہے وہ دور ہو جائے۔۔ وہ گھسیٹتی ہوئی بیلا کو آزہاد کے قریب لارہی تھی کہ جب ہی بیلا کو دیکھ کر آزہاد کی رگیں تن سی گئی اس نے منہ موڑ کر دوسری طرف کر لیا۔۔۔
حور بیلا کو لے کر اذہاد کے قریب آگئی۔۔۔
حور نے آزہاد کے سخت رویے کو دیکھا اور صاف محسوس کیا کہ وہ اس وقت خود پر کتنا کنٹرول کیے کھڑا ہے۔۔۔
ہادی یہ بیلہ ہے۔۔ حور نے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ اذہاد نے بےحد غصے سے اس کی طرف کا دروازہ کھولا جس کا مطلب تھا گاڑی میں بیٹھو۔۔
حور نے بے حد شرمندگی سے بیلہ کی طرف دیکھا۔۔ بیلا مسکرائی اور آنکھیں بند کر کے اسے تسلی دی کہ تم جاؤ میں ٹھیک ہوں۔۔۔
حور نے آزہاد کے اتنے سخت رویے کو عجیب نظروں سے دیکھا۔۔ ایسے تھوڑی نہ ہوتا ہے انسان سے غلطی ہو جاتی ہے معاف بھی تو کیا جاتا ہے ایسے تھوڑی نہ منہ پھیر لیا جائے۔۔ اس طرح وہ کیسے اس کی فیملی میں ایڈجسٹ ہو پائے گا جہاں ہزاروں لوگ ہوں گے جن کے مختلف روئیے ہوں نگے وہ کیسے یہ سب برداشت کر سکے گا کئی سوچیں تھیں جو اسے ہر طرف سے ڈس رہی تھی ایسے تو اس کے لئے سب معاملات کو اکیلے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا کیوں کہ وہ آزہاد اور اپنی فیملی کے مزاج کو اچھی طرح سے جانتی تھی۔۔ وہ خاموشی سے گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی آزہاد نے اس کے بیٹھتے ہی دروازہ زور سے بند کیا اور اپنی سیٹ پر آ کے بیٹھ گیا۔۔۔
حور اور آزہاد کے بیچھ خاموشی ہی رہی نہ حور نے کوئی بات کی نہ ہی آزہاد نے۔۔۔
کیا تھا اگر ازہاد میرے لئے میری خوشی کے لیے میرا دل رکھنے کے لیے بیلا سے بات کر لیتے۔۔کتنی انسلٹ فیل کر رہی تھی میں بیلا کے سامنے۔۔۔وہ یہ بات بار بار سوچ کر خود کو اذیت پہنچانا رہی تھی۔۔۔
اور اذہار زمانے بھر کی سختی بیگانگی مغروریت اور بے حسی لیے ایسے گاڑی چلا رہا تھا جیسے اس کے علاوہ اس گاڑی میں اور کوئی نہ ہو۔۔۔
حور ناراض ناراض سی آزہاد کی طرف سے منہ پھیرے باہر دیکھ رہی تھی۔۔
آزہاد نے ہلکی گردن اس کی طرف موڑ کر خاموش نظروں سے اس کی طرف دیکھا اگر وہ اس کی ساری آپ بیتی کہانی جانتی ہوتی تو کبھی اس طرح سے ناراض نہ ہوتی وہ اسے اچھے سے جانتی تھی کیونکہ اس پوری دنیا میں وہی تو ایک تھی جس نے اذہار سے سچے دل سے محبت کی تھی بنا کسی غرض کے بے لوث چاہا تھا اسے۔۔ اذہار اسے وہی لایا تھا جہاں اونچائی پر کھڑے ہو کر دور دور تک پھیلے سمندر اور اور اس سمندر کے پار اس ڈوبتے سورج کے حسین نظاروں میں کھو کر انسان اپنی ساری تھکن دور کردیتا تھا۔۔
آزہاد دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے اسٹیرنگ کو تھامے اور سیٹ پرپشت ٹکائے کتنے ہی پل حور کو خاموش نظروں سے دیکھتا رہا۔۔۔ جو ہمیشہ کی طرح اپنے سادے سے حلیے میں بیٹھی آزہاد کی طرف سے رخ پھیرے اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔۔۔
وہ اس کی طرف دیکھ نہیں رہی تھی مگر اچھے طریقے سے اس کی نظریں خود پر جمی صاف محسوس کر سکتی تھی۔۔ اس کی نظروں کی تپش اسے پگھلا رہی تھی۔۔وہ کچھ بولتا کیوں نہیں؟؟اس کی خاموشی اسے کوفت میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔
اس کی گہری خاموشی سے تنگ آکر وہ جھٹکے سے اس کی طرف موڑی۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے ہادی؟؟ وہ ہلکی آنکھوں میں نمی لیے اس کی طرف دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔۔
آزہاد نے حیران نظروں سے حور کو دیکھتے ہوے اشارہ خود کی طرف کیا۔۔میں نے کیا کیا حور ؟؟
کیا آپ میرے خاطر بیلا سے بات نہیں کر سکتے تھے وہ آپ سے بات کرنے آئی تھی۔ہادی کیا سوچ رہی ہوگی وہ۔۔کے کتنے بدتمیز کتنے مغرور کتنے سخت دل ہیں آپ۔۔۔
آزہاد اس کی باتیں سنتا ہلکا سا ہنسا۔۔۔
اس کی اس ہنسی میں کیا کچھ نہیں چھپاتا دکھ طنز گزرے وقت کی تکلیف جو اس نے دیکھی تھی۔۔۔
جاری ہے
