Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02)

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02)

حور نے آہستہ سے پاؤں اس کے آگے کردیا۔۔ گڈ گرل اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
حور پریشان نظروں سے دیکھ رہی تھی وہ چاہ کیا رہا تھا ؟؟کیوں اتنا مہربان ہو رہا تھا ؟؟کہاں تو وہ اسے خود کو ہاتھ لگانے پر مارنے مورنے پر اتر آیا تھا اور اب کہاں وہ اس کے پاؤں پر اپنے ہاتھوں سے مرہم لگا رہا تھا اس کی فکر کر رہا تھا اس کے لیے چار ہٹے کٹے بدمعاشوں سے لڑ بھڑ گیا تھا۔۔وہ اسے دیکھتی فکرمندی سے سوچ رہی تھی۔۔سرپرائز تو وہ لوگوں کو دیتی تھی آج خود کو جب آزہاد کی طرف سے سرپرائز مل رہے تھےتو اس کے دماغ کی گھنٹیاں بج بج کے دماغ ہلا گئی تھی
ازہاد بہت محبت سے آرام سے اس کے پاؤں پر آہستہ آہستہ مرہم لگا رہا تھا۔۔اور پھر گرم پٹی اس کے پاؤں پر اچھے سے لپیٹ دی۔۔ حور آپ کو درد تو نہیں ہو رہا؟؟ اس نے نظریں اٹھاتے اس کے چہرے کو دیکھا
حور اپنی سوچ سے باہر آئی۔۔ نہیں میں ٹھیک ہوں ازہاد اس کے ہوائیاں اڑتے چہرے کو دیکھ کر مسکرایا۔۔
حور آپ نے کھانا کھایا ؟؟اس نے پھر حور سے سوال کیا
جی ۔۔اس نےسر ہاں میں ہلاتے حیران ہوتے آزہاد کے منہ سے خود کیلئے حور کا لفظ سنا۔۔اس نام سے اسے گھر میں بلایا جاتا تھا پیار سے ۔۔آزہاد کیسے جانتے ہیں؟؟
وہ پٹی کرکے اٹھا اس کے کچن میں گیا اس کے لیے ایک جگ میں پانی بھر کے لایا اور گلاس میں پانی نکالتا اسے پکڑ آیا اور اس کے ہاتھ میں دو پین کلر دی
شاباش اسے کھائیں۔۔ حور نے اسے دیکھتے پانی کے ساتھ وہ پین کلر کھائی۔۔
حور آپ نے آج کھانے میں کیا بنایا ہے وہ بولتا ہوا پھر کچن میں گیا اور اس کے برتنوں کے ڈہکن ہٹا کے دیکھنے لگا ۔۔اوہ واؤ پاستہ وہ وہی کچن سے آواز لگاتا ہوا بولا۔حور اس کی آواز سن رہی تھی۔وہ بھر کے اپنے لیے ایک پلیٹ پاستا نکالتا اس کے کمرے میں آیا اور ایک کرسی کھینچتا اس کے سامنے بیٹھ گیا اس نے ایک چمچ بھر کے پا ستے کا منہ میں ڈالا۔۔ہممم۔۔۔ یمی۔۔وہ مزے سے کھاتا ہوا بولا یہ آپ نے بنایا ہے حور ؟؟
حور نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اسے حیران ہو کے جی بھر کے دیکھ رہی تھی۔۔آنکھیں پھاڑے منہ کھولے
اسے اس کو حیران ہو کے دیکھنے سے فرصت ملتی تو وہ جواب دیتی۔۔
بہت اچھا بنایا ہے مجھے بہت بھوک لگی تھی سوری میں نے آپ سے بیناپوچھا ہی۔۔۔۔ وہ پلیٹ کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔
اٹس اوکے حور نے بس اتنا ہی کہا۔۔۔
اس کے بعد نہ حور نے کچھ کہا نا ہی اذ ہاد نے وہ کچن میں پلیٹ رکھتا حور کے پاس آیا۔۔
حوراب آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ بدمعاش گنڈے اب آپ کو کبھی تنگ نہیں کریں گے اگر زندہ بچے تو۔۔آخر کا جملہ اس نے آہستہ سے کہا۔۔بالکل مت ڈریئےگا۔۔میں ہوں نہ۔۔۔
حور اپنی آنکھوں کو بڑی کرتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
میں دروازہ لوک کرکے جا رہا ہوں آپ بے فکر ہو کے آرام کریں ٹھیک ہے اللہ حافظ وہ یہ بولتا فورا سے اس کے کمرے سے نکلا ۔۔وہ جاتے جاتے ایک کام کرنا نہیں بولا تھا حور کے موبائل میں خود کا نمبر سیو کرنا وہ باہر اس کے دروازے کے آگے کھڑا کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر فون نکالا
_______________
حور۔۔۔۔۔۔ بیلا دروازے سے چیختی ہوئی اندر آئی تھی حور جو آنکھیں بند کئے انگلیوں سے کنپٹیوں کو مسل رہی تھی چلا نے کی آواز پر اچھل پڑی۔۔۔
بیلا ۔۔۔وہ گردن دروازے کی طرف مو ڑتی حیران ہو کے دیکھ رہی تھی۔۔
تم نے مجھے بتانا بھی گوارہ نہیں کیا ایک فون ھی کر دیتی۔
حور اسے سوالیہ نظروں سے بس دیکھ رہی تھی وہ کیا بول رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
وہ تو اچھا ہوا میں وہی ریسیپشن پر کھڑی تھی جب تمہارا فون آیا کہ تم گر گئی ہو اور ایک دو دن تک ہاسپٹل نہیں آ سکتی۔۔بیلا آتے ہی جو شروع ہوئی تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی حور اسے منہ کھولے دیکھ رہی تھی کہ اس نے تو کوئی فون نہیں کیا پھر ایک خیال اسے آیا وہ سیدھا ہوئی اس کا مطلب اذہاد نے۔۔۔۔۔کافی اچھی پلاننگ کی تھی آزہادنے اس نے ہی ہوسپٹل فون کرکے بیلا کے کان تک یہ بات پہنچا ئی کے ہور گر گئی ہےاور بیلا کو کچھ پتہ بھی نہیں چلا اور اس کے پاس وہ آ بھی گئی کہ پاؤں کی موچ کی وجہ سے وہ کیسے آٹھ سکتی تھی اس وقت اسے کسی ایک ایسے انسان کی ضرورت تھی جو اٹھنے بیٹھنے میں اس کی مدد کر سکتا۔۔۔
حور اب آرام سے ریلیکس ہوتی اس کی باتیں سر ہلاتی سن رہی تھی۔۔
بیلا جب بول بول کے تھک گئی تو اسے یاد آیا کہ آخر حورگری کیسے؟؟ اوشٹ میں تو یہ پوچھنا ہی بھول گئی حور آخر تم گری کیسے؟؟
حور ہلکے سے ہنس دی واشروم میں پاؤں سلیپ ہوگیا ۔۔
حور تم بھی نہ ذرا خیال نہیں کرتی اپنا۔۔تم مجھے شروع سے اپنا دوست نہیں مانتی مگر میں تمہیں دل سے سب کچھ مانتی ہوں اور کم سے کم اس وقت میں اگر تمہارے قریب نہ ہوں تو پھٹکار ہے مجھ پر
حور اسکی اموشنل باتیں سنتی ہنس دی ایم سوری یار اب ایسا نہیں ہوگا۔۔۔
ہاں ہاں رہنے دو بس جھوٹی باتیں کھانا کھایا بیلا فکر کرتی ناراض ناراضگی سی بولی۔۔
ہاں اور تم نے۔۔حور نے پیار سے ناراض دوست کو دیکھا۔۔
ہاں کھا لیا تھا ہاسپٹل میں دیکھاو زیادہ تو نہیں لگی وہ اس کا پاؤں پکڑتی دیکھ رہی تھی۔۔
نہیں زیادہ نہیں نہیں لگی بس تھوڑا آرام کروں گی ٹھیک ہو جائے گا۔۔
اچھا بتاؤ موچھ پر لگانے والی ٹیوب کہاں ہے میں لگا دیتی ہوں پتا نہیں خود نے کیسی پٹی کی ہوگی ۔۔وہ کھڑی ہوتی بولی۔۔
نہیں نہیں نہیں میں نے ٹیوب لگا لی ہے میں ٹھیک ہوں تم آجاؤ پلیز وہ پاؤں کو پکڑتی دونوں ہاتھوں سے بولی۔۔
ہائے ہائے ہور تم نے تو ایسے پاؤں کو پکڑ لیا ہے جیسے میں تمہارا پاؤں کاٹ رہی ہوں۔۔۔
اور شرمندگی سے ہاتھ بٹاتی مسکرائی اذ ہاد کی انگلیوں کا لمس وہ اب بھی اپنے پاؤں پر محسوس کر سکتی تھی اس کا دل زور سے دھڑکا اس کے خیال کے آتے ہی۔
اس نے اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لئے پانی کا گلاس منہ سے لگاتی گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔۔
حور کہیں کسی شہزادے نے آکے تو تمہاری مرہم پٹی نہیں کی؟؟ حور کو پانی پیتے زور سے کھانسی ہوئی پانی اسکے حلق میں اٹک گیا وہ زور زور سے کھانسنے لگی۔۔
بیلا بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس کی پیٹھ سہلانے لگی۔۔حور کیا ہو گیا آرام سے میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔ حور نے غصے سے اسے دیکھا بیلا دانت نکالتی ہنس دی۔۔
ہائے ہماری قسمت میں کہاں کوئی شہزادہ ہے ہور ہمیں کوئی سڑک چھاپ لڑکا بھی نہ پوچھے۔۔بیلا ٹھنڈی اہ لیتی بولی۔۔
حور جو اس کی باتوں کو اگنور کرتی تکیہ صحیح کرتی لیٹ رہی تھی بیلا نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔ہاں آپ جیسی حسین دوشیزہ جھونپڑی میں بھی رہے تو شہزادہ اپنی پوری ریاست کو لات مار کے آپ کے غریب خانے میں بھی آپ کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ اور وہی حور کی برداشت جواب دے گی اس نے گھوم کے تکیہ اٹھایا اور زور سے اسے مارا۔۔مگر وہ اس کی کی جانے والی کاروائی پہلے ہی بھاپ چکی تھی اور روم سے بھاگ گئی تھی۔۔اس لئے تکیہ ا سے بنا لگے ہی زمین پر گر گیا۔۔
حور پہلے ہی آزاد کو لے کے پریشان تھی اوپر سے بیلا کی باتیں۔
بیلا سر اندر کرتی ہور کو دیکھنے لگی ہور غصے سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔وہ کان پکڑتی اندر آئی
بیلا اب ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا وہ انگلی اٹھاتی اسے وار ن کرتی ہوئی بولی۔۔
وہ خاموشی سے اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی اٹھو کبرڈ سے میرے کپڑے نکالو اور فریش ہو جاؤ۔۔وہ مسکراتی ہوئی بیلا سے بولی اور دونوں ہنس دی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزہاد پولیس اسٹیشن میں بیٹھا تھا۔۔
آفیسر میں وہی سے گزر رہا تھا تو دیکھا یہ چار وہاں زخمی حالت میں پڑے تھےمیں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔
مسٹر آزہاد عریض آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہمیں اطلاع کی ہم ان چاروں کی ڈیڈ بوڈی پوسٹمارٹم کے لیے ہاسپٹل بھیج رہے ہیں۔۔۔مگر ان کی ڈیڈ باڈی کو دیکھ کے ایسا لگتا ہے جیسے ان کو کسی گینگسٹر گروپ نے مل کے مارا ہے یہاں اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے ۔۔گینگسٹر گروپ میں اکثر آپس میں جھگڑے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ایک دوسرے کی جان لے لیتے ہیں۔۔۔
تھینک یو آفیسر آزہاد اٹھا ہاتھ ملاتا مغرور انداز میں شان سے چلتا پولیس اسٹیشن سے باہر آگیا ایسا ہو سکتا تھا کہ اس کے دماغ کے آگے کسی اور کا دماغ چلے۔ اس نے سارا معاملہ بہت آرام سے ہینڈل کر لیا تھا کوئی گواہ کوئی ثبوت نہیں تھا جو اس کے خلاف جاتا اور ویسے بھی وہ کوئی عام انسان تو تھا نہیں
وہ لندن کا سب سے بڑا اور کامیاب بزنس مین تھا اس کا نام ہی کافی تھا لوگوں کو جاننے کے لیے کہ وہ کیا ہے مگر کسی نے اسے دیکھا نہیں تھا اس کے بہت انٹرویو چھپے تھے بڑے بڑے میگزینس میں مگر میڈیا کو اس کی تصویر لینے کی اجازت نہیں تھی ورنہ وہ اچھے سے بتاتا کہ وہ کیا ہے دنیا اسے اس کے نام سے اس کے کام سے اسے جانتی تھی مگر دیکھا کسی نے بھی نہیں تھا ۔۔مگر ہاں جو اس کے ساتھ کام کرتے تھے جن کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا وہ اسے جانتے تھے۔۔مگر انہیں بھی اس کی تصویر لینے کی اجازت نہیں تھی وہ آرام سے گھر آیا چینج کیا اور لیٹ گیا حور کی طرف سے آب بے فکر تھا کیونکہ اس کے پاس بیلا تھی اس کا خیال رکھنے کے لیے۔۔ حور کے بارے میں سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔
بیلا کی کھٹر پٹر سے ہور کی آنکھ کھلی۔۔اوہ سوری حور میری وجہ سے تم ڈسٹرب ہو گی میں ہوسپٹل کے لئے بس نکلنے والی ہوں اس کی تیاری کر رہی تھی۔
حور نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور اٹھتی ہوئی بولی تم نے بریک فاسٹ کیا؟؟
ہاں میں نے کر لیا ہے تمہارے لئے بھی ریڈی کرکے رکھا ہوا ہے لے کر آؤ؟؟تم سب سے پہلے فریش ہو جاؤ چلو میں تمہیں لے کے چلتی ہوں وہ آگے بڑھتی ہوئی اس کو اٹھانے آئی۔۔
ارے پیچھے ہٹو تم مجھے ایسے ٹریٹ کر رہی ہو جیسے میں کوئی بچی ہوں میرے پاؤں میں ہلکی سی موج آئی ہے ٹانگ نہیں ٹوٹی جو تم اتنی فکر کر رہی ہو تم آرام سے تیار ہو کے ہوسپٹل جاؤ میں اپنا خیال رکھ لوں گی وہ آرام سے خود ہی اٹھتی ہوئی بولی۔۔
آر یو شور بیلا نے پوچھا۔۔
یس اب تم جاؤ لیٹ ہو رہی ہوں حور مسکراتی ہوئی بولی.. بیلا اس کے قریب آئی گلے لگی ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا وقت پر دوائی لینا اوکے بائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔زیاد نے فون کیا تھا مصر اپنے باپ کو۔۔
بولو زیاد التمش وہ روب سے بولے۔۔
بابا میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں وہ یہیں رہتی ہے اور میرے ساتھ پڑھتی ہے اس کا نام جنت ہے میں اسے اپنے ساتھ مصر لانا چاہتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ التمش عریض ساری باتیں خاموشی سے سنتا رہا۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا زیاد التمش عریض تم عام انسان نہیں تم اس ریاست کے بادشاہ بنو گے آگے جاکے تم ایک عام سی لڑکی سے کیسے شادی کر سکتے ہو ؟؟ تمہاری شادی تمہاری حیثیت کی لڑکی سے ہوگی سب کچھ چھوڑ کے فورا مصر واپس آؤ وہ بے حد روب سے بولے۔۔۔
تو آپ جنت کو ایکسیپٹ نہیں کریں گے ؟؟؟اس نے پھر سوال کیا۔۔
ذیاد التمش عریض تم بھول رہے ہو کہ اپنے باپ سے بات کر رہے ہو اور تم اچھے سے جانتے ہو جو میں کہہ دیتا ہوں وہ آخری فیصلہ ہی ہوتا ہے۔۔
ٹھیک ہے بابا پھر آپ بھول جائیں کہ آپ کا کوئی بیٹا ہے۔۔۔اس نے آنکھوں میں آنسو لیے فون رکھ دیا
التمش عریض نے غصے میں اٹھا کے فون پھینک دیا۔۔
زیادنے باپ کا آخری فیصلہ سننے کے بعد ایک ارادہ کیا جنت کو وہاں سے نکال کے اپنے ساتھ لے جانے کا کیوں کہ اگر وہ وہاں رہتی تو شاید گھٹ گھٹ کے مر جاتی۔۔
خدیجہ جنت سے ملنے اس کے گھر آئی تھی وہ اس کی حالت دیکھ کے بے حد دکھی ہوئی تھی یہ وہ جنت لگتی ہی نہیں تھی ختیجہ جس کو یونیورسٹی میں دیکھتی تھی خوبصورت حسین یہ تو بے حد کمزور اور مرجھائی ہوئی سی جنت تھی۔۔
جنت یہ کیا حال بنا لیا ہے تم نے ؟؟
آزمائش آسان نہیں ہوتی خدیجہ۔۔
تم فکر نہیں کرو جنت میں لے جاؤں گی تمہیں یہاں سے اپنے ساتھ میں بابا سے بات کرتی ہو جا کے تم چلو گی نہ میرے ساتھ؟؟خدیجہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی جنت نے گردن ہاں میں ہلائی۔۔کیونکہ اس کے ماں باپ اسے جنت کے روپ میں قبول کرنے کو تیار نہیں تھے اس کی اب اس گھر میں کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیاد میں نے بابا سے بات کی ہے وہ میرے ساتھ میرے گھر رہے گی اب میں اسے لے آؤں گی اس کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔۔خدیجہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی۔۔
ختیجہ کیا میں آپ کے بابا سے مل سکتا ہوں ؟؟
ہاں کیوں نہیں زیاد۔
وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی ٹائم میں ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔۔
__________________
حور۔۔۔۔۔۔ بیلا دروازے سے چیختی ہوئی اندر آئی تھی حور جو آنکھیں بند کئے انگلیوں سے کنپٹیوں کو مسل رہی تھی چلا نے کی آواز پر اچھل پڑی۔۔۔
بیلا ۔۔۔وہ گردن دروازے کی طرف مو ڑتی حیران ہو کے دیکھ رہی تھی۔۔
تم نے مجھے بتانا بھی گوارہ نہیں کیا ایک فون ھی کر دیتی۔
حور اسے سوالیہ نظروں سے بس دیکھ رہی تھی وہ کیا بول رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
وہ تو اچھا ہوا میں وہی ریسیپشن پر کھڑی تھی جب تمہارا فون آیا کہ تم گر گئی ہو اور ایک دو دن تک ہاسپٹل نہیں آ سکتی۔۔بیلا آتے ہی جو شروع ہوئی تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی حور اسے منہ کھولے دیکھ رہی تھی کہ اس نے تو کوئی فون نہیں کیا پھر ایک خیال اسے آیا وہ سیدھا ہوئی اس کا مطلب اذہاد نے۔۔۔۔۔کافی اچھی پلاننگ کی تھی آزہادنے اس نے ہی ہوسپٹل فون کرکے بیلا کے کان تک یہ بات پہنچا ئی کے ہور گر گئی ہےاور بیلا کو کچھ پتہ بھی نہیں چلا اور اس کے پاس وہ آ بھی گئی کہ پاؤں کی موچ کی وجہ سے وہ کیسے آٹھ سکتی تھی اس وقت اسے کسی ایک ایسے انسان کی ضرورت تھی جو اٹھنے بیٹھنے میں اس کی مدد کر سکتا۔۔۔۔
حور اب آرام سے ریلیکس ہوتی اس کی باتیں سر ہلاتی سن رہی تھی۔۔
بیلا جب بول بول کے تھک گئی تو اسے یاد آیا کہ آخر حورگری کیسے؟؟ اوشٹ میں تو یہ پوچھنا ہی بھول گئی حور آخر تم گری کیسے؟؟
حور ہلکے سے ہنس دی واشروم میں پاؤں سلیپ ہوگیا ۔۔
حور تم بھی نہ ذرا خیال نہیں کرتی اپنا۔۔تم مجھے شروع سے اپنا دوست نہیں مانتی مگر میں تمہیں دل سے سب کچھ مانتی ہوں اور کم سے کم اس وقت میں اگر تمہارے قریب نہ ہوں تو پھٹکار ہے مجھ پر
حور اسکی اموشنل باتیں سنتی ہنس دی ایم سوری یار اب ایسا نہیں ہوگا۔۔۔
ہاں ہاں رہنے دو بس جھوٹی باتیں کھانا کھایا بیلا فکر کرتی ناراض ناراضگی سی بولی۔۔
ہاں اور تم نے۔۔حور نے پیار سے ناراض دوست کو دیکھا۔۔
ہاں کھا لیا تھا ہاسپٹل میں دیکھاو زیادہ تو نہیں لگی وہ اس کا پاؤں پکڑتی دیکھ رہی تھی۔۔
نہیں زیادہ نہیں نہیں لگی بس تھوڑا آرام کروں گی ٹھیک ہو جائے گا۔۔
اچھا بتاؤ موچھ پر لگانے والی ٹیوب کہاں ہے میں لگا دیتی ہوں پتا نہیں خود نے کیسی پٹی کی ہوگی ۔۔وہ کھڑی ہوتی بولی۔۔
نہیں نہیں نہیں میں نے ٹیوب لگا لی ہے میں ٹھیک ہوں تم آجاؤ پلیز وہ پاؤں کو پکڑتی دونوں ہاتھوں سے بولی۔۔
ہائے ہائے ہور تم نے تو ایسے پاؤں کو پکڑ لیا ہے جیسے میں تمہارا پاؤں کاٹ رہی ہوں۔۔۔
اور شرمندگی سے ہاتھ بٹاتی مسکرائی اذ ہاد کی انگلیوں کا لمس وہ اب بھی اپنے پاؤں پر محسوس کر سکتی تھی اس کا دل زور سے دھڑکا اس کے خیال کے آتے ہی۔
اس نے اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لئے پانی کا گلاس منہ سے لگاتی گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔۔
حور کہیں کسی شہزادے نے آکے تو تمہاری مرہم پٹی نہیں کی؟؟ حور کو پانی پیتے زور سے کھانسی ہوئی پانی اسکے حلق میں اٹک گیا وہ زور زور سے کھانسنے لگی۔۔
بیلا بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس کی پیٹھ سہلانے لگی۔۔حور کیا ہو گیا آرام سے میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔ حور نے غصے سے اسے دیکھا بیلا دانت نکالتی ہنس دی۔۔
ہائے ہماری قسمت میں کہاں کوئی شہزادہ ہے ہور ہمیں کوئی سڑک چھاپ لڑکا بھی نہ پوچھے۔۔بیلا ٹھنڈی اہ لیتی بولی۔۔
حور جو اس کی باتوں کو اگنور کرتی تکیہ صحیح کرتی لیٹ رہی تھی بیلا نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔ہاں آپ جیسی حسین دوشیزہ جھونپڑی میں بھی رہے تو شہزادہ اپنی پوری ریاست کو لات مار کے آپ کے غریب خانے میں بھی آپ کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ اور وہی حور کی برداشت جواب دے گی اس نے گھوم کے تکیہ اٹھایا اور زور سے اسے مارا۔۔مگر وہ اس کی کی جانے والی کاروائی پہلے ہی بھاپ چکی تھی اور روم سے بھاگ گئی تھی۔۔اس لئے تکیہ ا سے بنا لگے ہی زمین پر گر گیا۔۔
حور پہلے ہی آزاد کو لے کے پریشان تھی اوپر سے بیلا کی باتیں۔۔
بیلا سر اندر کرتی ہور کو دیکھنے لگی ہور غصے سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔وہ کان پکڑتی اندر آئی
بیلا اب ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا وہ انگلی اٹھاتی اسے وار ن کرتی ہوئی بولی۔۔
وہ خاموشی سے اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی اٹھو کبرڈ سے میرے کپڑے نکالو اور فریش ہو جاؤ۔۔وہ مسکراتی ہوئی بیلا سے بولی اور دونوں ہنس دی ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *