Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07

حور کی آواز دروازے کے بجنے پر کھلی وہ اٹھی دروازہ کھولا تو سامنے بیلا کھڑی تھی بیلا نے پریشانی سے اس کے ہاتھ اور چہرے کو دیکھا صاف صاف کوئی بھی دیکھ کے جان سکتا تھا کہ حور کو کیا ہوا ہے۔۔
حور کیا ہوا ہے تمہیں؟؟ وہ اندر آتی پریشانی سے اس کا ہاتھ اور چہرہ دیکھتی ہوئی بولی۔۔
روئی روئی آنکھیں گردن پر انگلیوں کے نشان ہاتھ پہ بندھی پٹی۔۔
حور نے زور سے آنکھیں بند کی وہ ابھی اس کنڈیشن میں نہیں تھی جو اسے اپنی پوری رات بیتی کہانی سناتی۔۔
تم بیٹھو تو سہی ۔۔۔حور نے اسے صوفے پر بٹھایا بیلا آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
حور کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ گی ؟؟بیلا نے غصے سے کہا کچھ نہیں ہوا ہے یار آرام سے بیٹھو رات میں بس ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جسے بچاتے بچاتے مجھے بھی چوٹیں آئی ہیں۔۔
ٹرن ٹرن ۔۔۔حور کا فون بجا ۔۔۔
میں ابھی آئی وہ بیلا کو بولتی اٹھی کمرے میں آئی اور فون اٹھایا۔۔
السلام وعلیکم بابا جانی۔۔۔
وعلیکم اسلام کیسی ہے میری بیٹی۔۔ باپ کی آواز سنتے ہی اس کی آنکھوں میں تیزی سے نمی جمع ہونے لگی دل ایک دم چھوٹا سا ہو گیا ۔۔
میں ٹھیک ہوں بابا آپ کیسے ہیں مما کیسی ہیں ؟؟
ہم سب ٹھیک ہیں آج ہی گاؤں آئے ہیں یہاں بابا اور تمہاری مما تمہارے لئے پریشان ہو رہے تھے کہ حضور کو فون کروں پوچھو ٹھیک ہے تو میں نے بھی فورن فون نکالا اور اپنی بیٹی کو ملایا وہ ہنستے ہوئے بولے۔۔
وہ آنکھوں میں آئی ہلکی نمی کو ہاتھوں سے صاف کرتی ہوئی ہنستے ہوئے بولی میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔
یہ ماں باپ بھی کیسی نعمت ہیں اولاد کی تکلیف کو سات سمندر دور سے بھی محسوس کرلیتے ہیں اس نے سوچا۔۔
اچھا یہ لو اپنی ماں سے بات کرو۔ارتضیٰ نے فون عظمیٰ کو دی
حور میری بچی کیسی ہے؟؟ ماں کی آواز پر اس نے ایک سسکی روکی منہ پہ ہاتھ رکھ کے۔۔
میں ٹھیک ہو مما آپ کیسی ہیں؟؟
میں بھی ٹھیک ہوں میری گڑیا۔۔عظمیٰ محبت لئے بولی ۔۔
مما مجھے ابھی جانا ہے ایک اسائنمنٹ تیار کرنی ہے میں آپ سے بعد میں بات کروں ؟؟
ہاں جاو خیال رکھنا اپنا میرے بچے اللہ حافظ ان کا دل کر رہا تھا حور سے ابھی بہت ساری باتیں کریں
حور نے جلدی سے فون رکھا ۔۔
ارے میری بات کیوں نہیں کروائی ؟؟؟ داؤد کب سے حور سے بات کرنے اس کی آواز سننے کے لئے بیچین ہورہے تھے۔۔
تایا ابو اسے کام تھا ضروری اسلئے وہ چلی گی ۔۔
عظمیٰ اداسی سے بولی۔۔
اچھا وہ تھک تو ہے نا؟؟خیریت سے ہے ؟ داؤد بولے
ہاں اس نے کہا ٹھیک تو ہے ۔۔مگر میرا دل نہیں مان رہا۔۔یہ بات انہوں نے دل میں سوچی ۔۔
حور ماں باپ سے بات کر کے رو دی ۔۔
بال آہستہ چلتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی اور روتی حور کو سینے سے لگایا وہ اس کے گلے لگے روتی رہی اور بیلا اس کے اس طرح رونے سے سب سمجھ گئی۔۔
تمہیں کیا ضرورت تھی ہمدردی کرنے کی ؟؟دیکھ لیا نتیجہ یہی ہوتا ہے یہاں یہ تمہارا پاکستان نہیں ہے جو تمہیں سر پہ بیٹھائیں گے کہ تم نے انکی جان بچائی۔۔بیلا غصے سے حور کو باتیں سنا رہی تھی۔۔
مجھے کیا پتا تھا کسی کے ماتھے پے تو نہیں لکھا ہوتا کہ وہ ایسا ہوگا۔۔حور نے ناراضگی سے گول آنکھوں کو گھماتے ہوئے کہا۔۔
دفع کرو اسے تم اپنا موڈ ٹھیک کرو ہوگیا جو ہونا تھا۔۔ بیلا نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔حور نے گردن ہلاتے ہوۓ ہوۓکہا
________________
ڈیلن ساری رات اذہاد کے سرہانے بیٹھا رہا اس کا بخار کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔وہ اس کے لئے کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا ورنہ اس کا غصہ تو جانتا ہی تھا وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔
کیا کروں میں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔وہ بے بسی سے سوچتا رہا ۔۔
صبح ہونے پر اذہاد کی آنکھ مشکل سے کھلی اس نے اپنے
قسط1 دکھتے سر کو پکڑا جو درد سے پھٹ رہا تھا
ڈیلن ۔۔۔۔آہستہ آواز میں پکارا
ڈیلن جو ساری رات وہی بیٹھا تھا آزہاد کی آواز پے فورا اٹھا اس کے پاس آیا۔۔۔
سینور کیسی طبیعت ہے آپ کی؟؟ وہ پریشان ہوتا بولا ۔
مجھے سر کے درد کی دوا دو اور ایک کپ بلیک کافی بھی ۔۔وہ آہستہ سے اٹھتا ہوا بولا
ڈیلن جن کی طرح فورا کمرے سے بھاگا۔
ڈیلن نے آزہاد کو دوائی دی اور کافی کا کپ پکڑایا ۔۔
سینور سر کا درد تو ٹھیک ہوجائے گا مگر آپ کو بہت تیز بخار ہے آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔۔اس نے فکر سے آزہاد کو دیکھ کے کہا۔۔
مشورے کے لئے شکریہ ڈیلن مگر اب تم جاسکتے ہو۔ اذہاد نے بے رخی سے کہا۔۔
ڈیلن نے دکھ سے اذہاد کو دیکھ کے گردن جھکا لی وہ جاتے جاتے پلٹا اور اذہاد کو دیکھا جو دونوں ہاتھوں سے سر دبا رہا تھا۔
گرینڈ پا کو فون کر لیں وہ آپ کے لئے بے حد فکرمند ہیں میرے پاس ان کی بہت ساری کال آ چکی ہیں آپ کے لیے۔
ٹھیک ہے اپنا فون یہاں رکھ دوں میں بات کر لوں گا وہ بنا آنکھیں کھولے اسے بولا۔
ڈیلن خاموشی سے اس کے قریب آیا اور فون رکھ کر چلا گیا۔۔
اذہاد نے فون اٹھایا اور کال ملائی۔۔
ہیلو۔۔۔ گرینڈپا فون اٹھاتے ہوئے بولے۔
میں آزہاد بول رہا ہوں گرینڈ پا کیسے ہیں آپ؟؟
میں ٹھیک ہوں میرے بچے تم کیسے ہو تمہارا فون کہا ہے میں نے کتنی کال کی تمہیں ۔
ہاں وہ بس۔۔۔فون کی بات وہ گول کرگیا میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہیں ہوں میں تھوڑا بیزی ہوں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں اور آزہاد نے فون کاٹ کے ایک طرف رکھ دیا۔
گرینڈ پا فون ہاتھ میں لیے دیکھنے لگے وہ بچپن سے ایسا ہی تھا خاموش۔ بیزار۔ تنہا ۔وہ تو اس سے شروع سے واقف مگر اب تو دل دکھتا تھا اسے اس طرح دیکھ کے
کافی دیر بعد جاکے آزہاد کا سر درد ٹھیک ہوا وہ بیڈ سے اٹھا اپنے کپڑے نکالے اور واش روم گیا کافی دیر شاور لینے کے بعد وہ واش بیسن کی طرف آیا اپنا چہرہ دیکھنے مگر وہ دیکھ کے حیران رہ گیا کے کہ وہاں اس کا اپنا چہرہ نہیں اسے دو حسین آنکھیں نظر آئی وہ دو قدم پیچھے ہوا اس نے جلدی سے اپنے کپڑے پہنے اور باہر آیا۔۔باہر آیا تو اسے سامنے لگے شیشے میں پھر سے وہ روتی آنکھیں نظر آئیں اب اس سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے بڑا سا گلدستہ اٹھا کے شیشے پر مارا شیشہ ٹوٹ کےہر طرف بکھر گیا کسی کے زور زور سے ہنسنے کی آوازیں چاروں طرف سے اسے سنائی دینے لگی اس نے پورے کمرے کو دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا اس نے زور سے کانوں پہ ہاتھ رکھ کے چلایا ۔۔۔۔
چپ ہو جاؤ بند کرو ہنسنا چلے جاؤ۔
کیوں؟؟؟؟!!!کیوں چلے جاؤ ؟؟؟!!! اذہاد عریض تمہیں سننا پڑے گا تم بچ نہیں سکتے ۔۔۔
آزہاد نے کانوں سے ہاتھ ہٹا کے حیران ہوتے سامنے دیکھا۔۔۔ سامنے کھڑا وجود کوئی اور نہیں اس کا اپنا ضمیر تھا جو ایک خوبصورت شیشے میں کھڑا اس پر ہنس رہا تھا۔
اس نے تمہیں اپنی جان پر کھیل کے بچایا تمہیں موت کے منہ سے نکالا اپنا خون دے کے تمہاری جان بچائی اور تم نے۔۔۔۔۔۔ تم نے کیا کیا اس معصوم پر ظلم کیا اسے ہی تکلیف دی اسے ہی رولا دیا۔۔ضمیر زور سے چلا کے بولا
ہاں تو کیوں آئی وہ میرے قریب میں نے نہیں کہا تھا کہ مجھے بچاو ایک دفع نہیں بار بار کہا تھا مگر نہیں سنی اس نے میری۔۔۔۔آزہاد بھی چلاتے ہوئے بولا۔۔
تو اب کیا کروگے اذہاد عریض اس کے آنسو تمہیں ساری زندگی اب آرام سے جینے تو نہیں دیں گے۔۔۔ظلم تو ہوا اور وہ تم نے کیا ہے معصوم پے۔۔۔۔ظالم ہو تم ظالم۔
ضمیر ہی تو ہوتا ہے جو ہر اچھے اور برے انسان کے اندر ہوتا ہے جب وہ انسان اچھا یا برا کام کرتا ہے۔ تو اس کے اندر کی آواز اسے سنائی دیتی ہے۔ جو لوگ غلط کام کرتے ہیں یہ ضمیر انہیں باربار ملامت کرتا ہے مگر بہت سے لوگ تو اس کی آواز سے بہر ےہو جاتے ہیں اور بار بار وہ غلط کام کرتے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ضمیر کی آواز سے نصیحت پکڑ لیتے ہیں اور وہ کام دوبارہ کبھی نہیں کرتے مگر اذہاد اپنے ضمیر سے بھاگ رہا تھا اس نے پھر ایک بھاری چیز اٹھائی اور شیشے پہ دے ماری شیشہ ٹوٹ تو گیا مگر اس کا ضمیر اب بھی اسے یہ احساس بار بار دلا رہا تھا کہ اس نے اپنے بچانے والے پہ ہی ظلم کیا اسے تکلیف دی ۔۔۔ اسے رولا دیا۔۔۔۔اس نے کمرے کی ہر چیز کو توڑ دی جس جس میں وہ روتی دو آنکھیں دیکھتا وہ سب اس نے توڑ دیا۔۔۔ وہ تیزی سے کمرے سے باہر آیا ڈیلن زور سے آواز دی۔۔ڈیلن فورن حاضر ہوا ۔۔۔
ڈیلن نے اس کی لال ہوتی آنکھوں کو دیکھا
میرے آنے سے پہلے میرا کمرہ صاف ہو۔۔ یہ کہتا ہے وہ بجلی کی طرح باہر گیا اپنی شاندار گاڑی میں بیٹھا اور تیزی سے گاڑی دوڑاتے دور چلا گیا۔۔۔
دروازے کی بیل پہ گرینڈ پا نے اٹھ کے دروازہ کھولا تو سامنے اذہاد کو کھڑے دیکھا۔وہ اسے ایک پل کو دیکھ کے خوش ہوئے مگر دوسرے ہی پل وہ اس کے سر کی اور ہاتھ کی بندھی پٹی اور اس کے ہونٹ کا زخم اور لال ہوتی آنکھوں کو دیکھ کے پریشان ہوگئے۔۔وہ انہیں سامنے سے ہٹاتا اندر آیا اور خود دروازہ بند کیا۔
یہ کیا ہوگیا تمہیں میرے بچے وہ اس کا چہرہ ہاتھ میں لیے رو دیے ۔۔
اذہار انہیں لئے اندر آیا اور صوفے پہ بٹھایا اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔ پلیز گرینڈپاایسے مت روئے میں ٹھیک ہوں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔وہ ان کے اس طرح سے رونے پر جھنجھلا گیا تھا۔
کب تم نے مجھے بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا وہ دکھ سے بولے۔۔
میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا دیکھیں میں ٹھیک ہوں پلیز پریشان ہونا بند کریں۔۔ وہ کوفت سے بولا۔۔
اچھا مجھے اپنا زخم دیکھنے دو۔۔گرینڈ پا آگے بڑھ کے اس کا سر دیکھنے لگے کہ ایک دم وہ پیچھے ہوا۔۔میں کہہ رہا ہوں نا آپ سے کہ میں ٹھیک ہوں۔۔
تمہیں تو تیز بخار بھی ہو رہا ہے۔۔۔گرینڈ پانے بےبسی سے اسے دیکھ کے کہا وہ پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہا تھا۔
گرینڈ پاکچھ نہیں ہوا ہے مجھے اگر آپ ایسے کرتے رہے تو میں جا رہا ہوں وہ اٹھتے ہوئے انہیں دھمکانے لگا۔۔
اچھا نہیں کرتا کچھ چپ رہتا ہوں بس وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے ڈر کے بولے۔۔
وہ واپس بیٹھ گیا۔۔
تم نا تو اپنا خیال خود رکھتے ہو اور نہ کسی کو خود کا خیال رکھنے دیتے ہو تم اس طرح کرکے ایک دن میری جان لے لو گے اذہاد۔۔۔وہ افسردہ سے اسے دیکھتے ہوئے بولے۔۔
ٹھیک ہے میں جارہا ہوں وہ اٹھا ۔۔۔۔ایک بار پھر وہ گرینڈ پا کو شروع ہوتا دیکھ کے وہ بولا۔۔
گرینڈ پا نے پھر سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اچھا سوری نہیں بولتا میں کچھ۔۔
آزہاد انہیں ایک آئی برو اٹھاکے گھورنے لگا اور پھر خاموشی سے گہرا سانس لیتے بیٹھ گیا۔۔
کافی پیو گے ؟؟ انہوں نے اس سے پوچھا ۔۔
ہاں بلیک ۔۔۔اس نے یہاں وہاں دیکھتے کہا۔
ابھی لایا ۔۔۔اور وہ اٹھ کے کچن میں آگئے۔۔
بھلے وہ انہیں گرینڈ پا کہتا تھا مگر اس عمر میں بھی وہ اچھی صحت کے مالک تھے بہت سے کام وہ خود اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔۔
وہ وہی گرینڈ پا کے پاس رک گیا تھا زیادہ تر وہ ان کے پاس ہی رہتا تھا مگر جب تنہائی کی ضرورت ہوتی تھی تو کئی کئی دن اپنے محل نما گھر میں قید ہو جاتا تھا۔۔
گرینڈ پا اس کے کمرے میں آئے۔۔ وہ کافی پی کے تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا رہا بخار ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں پھر بند ہونے لگی تھی اسلئے وہ خاموشی سے کمرے میں آ گیا تھا۔۔
انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا گرینڈ پاکو ایسا لگا جیسے انھوں نے انگارہ چھو لیا ہو۔۔وہ بخار میں تب رہا تھا اور سرکی چوٹ احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے اور خراب ہو گئی تھی وہ فورن نیچے آئے۔۔اور ڈیلان کو فون کیا۔۔
ڈیلن ہمیں اذ ہار کو ہاسپٹل لے کے جانا ہوگا اس کی کنڈیشن بہت خراب ہے ۔۔۔
ڈیلن گرینڈ پا کا فون سنتے ہی بھاگتا ہوا آیا ۔۔
گرینڈ پاہم سینور کو ان کی اجازت کے بنا نہیں لے جاسکتے۔۔
تم اس کے حکم کے انتظار میں ہو کہ وہ تمہیں حکم دے تو تم اس کو ہسپتال لے کے جاؤ ؟؟!میں کہہ رہا ہوں کہ ڈیلن اسے فوراً ہسپتال لے کے جاؤ یہ میرا حکم ہے میرا بچہ موت کے منہ میں ہے اور تمہیں اس کے غصے کی پڑی ہے۔۔گرینڈ پا غصے سے بولے
گرینڈ پا فکر مجھے بھی ہے مگر مجبور ہوں وہ سر جھکا کے بولا۔۔
اٹھاؤ اسے اور ہاسپٹل لے کے چلو جہاں اسے حادثے کے وقت لے کے گئے تھے
ڈیلن آنکھیں کھولے گرینڈ پا کو دیکھنے لگا۔۔گرینڈ پا نہیں ۔۔۔
ڈیلن یہ میرا حکم ہے اسے فورا اٹھاو اور لے کے چلو۔۔اس بار وہ دھاڑتے ہوئے بولے۔۔
ڈیلن دونوں طرف سے مجبور اسے اٹھاتا ہسپتال لے آیا ۔۔
ڈاکٹر حورین ایمرجنسی ہے فوراً چلیں نرس حور سے آگے بولی جو اس وقت اپنے ایک پیشنٹ کو دیکھ رہی تھی۔وہ سر ہلاتی فورا اس کے پیچھے بھاگی۔۔
حور جب ایمرجنسی روم کے دروازے پر پہنچی تو وہاں ڈیلن کو دیکھ کے رک گئی۔وہ ڈیلن کو دیکھ کے پہچان گئی تھی کہ اندر کون ہوگا۔۔
نرس کسی اور ڈاکٹر کو بولین یہ کیس میں ہینڈل نہیں کر سکتی سوری۔۔وہ ڈیلن کو دیکھتے نرس سے بولی اور مڑکے جانے لگی
ڈیلن فورا حور کے پاس آیا۔۔ پلیز ڈاکٹر میری رکویسٹ ہے پلیز وہ آنکھوں میں نمی لیتا حور کی مدد مانگنے لگا۔
حور نے بے بسی سے اسے دیکھا اور پاؤں پٹکتی اندر آ گئی۔۔
گرینڈ پا کوڈیلن ساتھ نہیں لایا تھا اظہار کا کوئی بھروسہ نہیں تھا کہ وہ پھر تماشا کر دیتا۔۔
اس وقت اذہار سخت بخار میں ہونے کے باوجود بھی محسوس کر سکتا تھا حور کے وجود کو اس کی خوشبو کو اس کے اندر آتی قدموں کی آہٹ کو سن سکتا تھا۔۔
وہ بناتی اندر آئی اور اسے دیکھنے لگی۔۔۔دیکھتی گئی ۔۔ڈاکٹر حورین نرس نے اسے آواز دی اس کا سکتا ٹوٹا۔۔۔ہاں۔۔ کیا۔۔کیا ہوا۔۔۔جاؤ جاکے ان کا چیک اپ کرو۔۔۔ اچھا نہیں تم رہنے دو میں کرتی ہوں۔۔۔اسے دیکھ کے کیوں آنکھیں بس دیکھتی ہی جاتی۔۔ہوش کیوں کھونے لگتا۔۔۔ہنہ۔۔۔ ظالم انسان اس کے قریب آتے وہ خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔
آہستہ سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا جو تیز بخار میں تپ رہا تھا نرس فورن ٹریٹمنٹ شروع کرو انہیں بہت تیز بخار ہے وہ فکرمند سی بولی۔۔
آزہاد نے بے ہوشی میں بھی اس کی ہتھیلی کی نرماہٹ کو محسوس کیا اس کی ٹھنڈی ہتھیلی نے اس کے جلتے سر کو یکدم پرسکون کر دیا۔۔
وہ پلٹ کے آزہاد کو دیکھتی بولی۔۔پوری دنیا میں یہی ہوسپیٹل ملا تھا آنے کو ۔۔آہستہ سے بڑ بڑا تی وہ اس کے سر پہ جھکی زخم دیکھنے لگی۔۔اف کیا حال کر لیا ہے زخم کا۔۔ گھمنڈی۔۔ ظالم۔۔ بدتمیز۔۔انسان ان دوسروں کا نہیں خود کا تو خیال کر لیتے۔۔منہ بناتی یہ ساری باتیں وہ اردو میں کر رہی تھی اس کی زبان میں بول کے اسے اپنی گردن نہیں توڑ وانی تھی۔۔
وہ اس پہ جھکی اس کا زخم صاف کر رہی تھی اسے دوائی لگا رہی تھی۔
حور کی اتنے قریب سے آتی خوشبو اذہاد کے نتھنوں میں گھس رہی تھی۔۔ اس کی نرم نرم سی انگلیوں کی نرماہٹ کو اپنے ماتھے پر محسوس کر رہا تھا اس کی بر بڑا ہٹ وہ سن تو سکتا تھا مگر وہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی کوئی اور زبان میں باتیں کر رہی تھی خود سے۔ اتنا وہ سمجھ سکتا تھا کہ وہ اس پر غصہ کر رہی ہے۔۔ کرتی بھی کیوں نہیں اس نے اس کے ساتھ کیا ہی اتنا غلط تھا۔
حور سر کی پٹی کر کے اٹھی تو دیکھا اس کا ہاتھ جس سے حور کو گلے سے پکڑا تھا وہ بہت زخمی تھا
حور نے آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما اور پتہ نہیں کیسے بے اختیار اس کا آنسو پلکوں سے ٹوٹ کے گرتا اذہاد کے ہاتھ پہ گرا اس ہاتھ پے جس ہاتھ سے حور پر ظلم کیا تھا جس ہاتھ سے حور کو تکلیف دی تھی۔۔آزہاد نے اس ہاتھ کا بہت برا حال کیا تھا۔۔حور کو آزہاد کا ہاتھ دیکھ کے تکلیف ہوئی۔۔وہ یہ بات ابھی سمجھ نہیں سکتی تھی کہ یہ تکلیف اسے کیوں ہوئی۔۔؟
حور نے بچوں کی طرح آنسو صاف کرتے غصے سے اذہار کو دیکھا۔۔ جانور ہیں پورے آپ دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں یہ تو سمجھ آتا ہے خود کو بھی تکلیف دیتے ہیں۔۔وہ ہاتھ کا زخم صاف کرتی بولتی جا رہی تھی۔۔ہاں اب ہوش میں آتے ہی پھر میری گردن پکڑ لینا اور اچھا ہی ہے توڑ بھی دینا پتا نہیں کیوں میں بار بار آپ کی مدد کے لئے ہی گھسیٹی جاتی ہوں ۔۔اور اس مدد کا انجام آخر میں مجھے ذلت ہی ملتی ہے
حور کا آنسو اپنے ہاتھ پر گرتے ہی اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اب وہاں آگ نہیں لگی اب وہاں جیسے کسی نے ٹھنڈا مرہم رکھ دیا ہو۔۔وہ اس کے لیے روئی تھی وہ اس کی فکر کر رہی تھی۔۔یہ سوچ کے اذہاد کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔
حور خاموشی سے روم سے باہر آگی ۔۔وہ ٹھیک ہے بخار تھوڑی دیر میں اتر جائے گا حادثے کے بعد صحیح ٹریٹمینٹ نہ ملنے پہ ایسا ہوا ہے وہ ڈیلن سے کہہ کے جانے لگی پیچھے سے ڈیلن بولا۔۔ آپ کو بہت شکریہ ڈاکٹر اگر آپ نہیں یہ کیس لیتی توسینور کبھی ٹھیک نہ ہوتے۔۔۔وہ سر ہلاتی چلی گئی۔۔
اذہاد نے ہلکے سے نیم وا آنکھیں کھولی اور ایک قطرہ خاموشی سے اس کی آنکھ سے پھسل کے اس کے تکیے میں جذب ہوگیا۔ اس نے ہلکی سی گردن گھما کے دیکھا وہاں بیٹھا اس کے اندر کا وجود ہنسا۔۔کیا ہوا ہار گئے اذہاد عریض؟؟ بس اتنی جلدی۔۔۔ کیسے؟؟؟ اذہاد عریض کیسے ؟؟؟ کیسے ہار گئے تم ایک کمزور اور معصوم لڑکی سے۔۔تم نے جتنا ظلم اس معصوم پہ کیا جتنا رولایا اسے جتنی تکلیف دی اس نے تو اتنا بڑھ کے تمہارے لئے کیا۔۔بینا تم سے ڈرے خوف کیے اس نے بار بار تمہاری مدد کی تمہاری جان بچائی۔۔ تم جتنے مرضی اس کے سامنے باہر سے ایک ظالم وحشی طاقتور مغرور انسان بن کے دکھاؤ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ تم اندر سے ایک کھنڈر ہو ایک ایسا ویران قلعہ ہو جہاں تنہائیاں بین کرتی ہیں روتی ہیں جہاں کسی زح روح کا تصور نہیں تم ڈرتے ہو کہیں کوئی تمہارے اندر جھانک نا لے اور تمہارا راز فاش نہ ہو جائے۔۔اذہاد نے آنکھیں بند کیں اور چھت کی طرف گردن کرلی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کے گر رہے تھے۔
اس کا ضمیر اس کے آس پاس زور زور سے اس پہ ہنس رہا تھا وہ تھک گیا تھا خود سے بھاگتے بھاگتے کاش سکون خوشی دولت سے خریدی جاتی ورنہ سب سے زیادہ سکون اور خوشی ازہاد خریدتا۔
جب سے حادثہ ہوا تھا اذہار نے کچھ نہیں کھایا پیا تھا بخار کی وجہ سے اور خون کی کمی کی وجہ سے اب اسے چکر سے آرہے تھے وہ ہوش میں آتے ہی ڈیلن سے گھر چلنے کو کہا۔۔
ایک تو ان کو ہسپتال میں کون سے مسئلے ہیں پتہ نہیں جو یہ ٹک کے نہیں بیٹھتے ابھی بخار اترا نہیں کہ پھر بھاگنا ہے انہیں تم جاؤ ان کے ساتھ جو ہیں انہیں یہاں میرے پاس بھیجو۔۔نرس حور کے پاس آئی تھی اور اسے آزہاد کے گھر جانے کی زد کے بارے میں بتانے لگی۔۔۔ حور کا تو یہ سب سن کے حیرت کے مارے منہ ہی کھل گیا۔۔ عجیب بندہ ہے پتا نہیں گھر والے کیسے برداشت کرتے ہونگے۔۔۔حور اذہاد کے ہوش میں آنے کے بعد اس کے سامنے نہیں گئی تھی۔۔
ڈیلن آپ مریض کو اپنی ذمہ داری پر اب لے کے جا رہے ہیں اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار یہ ادارہ نہیں ہوگا ان کے سر کی اور ہاتھ کی پٹی روز ہوگی ورنہ زخم مزید خراب ہو سکتا ہے یہ پیپر سائن کر دیں۔۔ڈیلن حور کے کیبن میں آزہاد کو لے جانے سے پہلے آخری بار بات کرنے آیا تھا اس نے آہستہ سے گردن جھکاتے سر ہاں میں ہلایا اور باہر آگیا ۔
آزہاد جب سے ہوش میں آیا تھا خاموش تھا کوئی شور نہیں کوئی غصہ نہیں۔۔ڈیلن اسے دیکھ کے حیران تھا کہ اسے کیا ہوا ہے ورنہ وہ تو اس کے ہوش میں آنے پر پورے مائنڈ سے اسے ہینڈل کرنے کے لئے خود کو تیار کر چکا تھا یہ بھی چلو اس کے لئے اچھا ہے وہ جتنا خود کو ریلیکس رکھتا وہ اتنی جلدی ٹھیک ہوتا۔۔وہ ہسپتال سے سیدھا گرینڈ پا کے گھر آیا تھا۔۔گرینڈ پا نےاسکے لئے بہترین سوپ تیار کیا اور اسے ہاتھوں سے پلایا۔۔وہ اب دوائیوں کے زیر اثر اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا۔
پتا نہیں ڈیلن میرا بچہ ایسا کیوں ہے ؟؟بچپن سے ہی وہ ایسا ہی تھا کیا؟؟سب بچے ایسے تو نہیں ہوتے یہ تو زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں پھر میرا اذہاد ایسا کیوں ہیں ڈیلن؟؟؟گرینڈ پا ڈیلن کو دیکھتے پوچھ رہے تھے۔۔
ڈیلن خود اس راز سے انجان تھا جو اذ ہاد برسوں سے اپنے دل میں دفنائے بیٹھا تھا اور جن لوگوں کے دلوں میں دکھ تکلیف اور راز دفن ہوتے ہیں وہ لوگ نہ زندوں میں شامل ہوتے ہیں نا مردوں میں۔
آزاد کی صبح آنکھ کھلی تو اس نے خود کو گرینڈ پا کے گھر میں دیکھا وہ اٹھا کمزوری کی وجہ سے سر اب بھی بھاری بھاری تھا اوپر سے دوائیوں کا کچھ اثر تھا اسے ٹھیک ہونے میں بھی کم سے کم چار سے پانچ دن لگنے تھے جو کہ مکمل آرام اور دوائیاں وقت پر کھانے سے ہی ممکن تھا وہ فریش ہو کے نیچے آیا۔
گرینڈ پا نے اسے نیچے اترتے دیکھا اسے دیکھ کے ایسا لگتا تھا جیسے وہ خود سے ناراض ہے۔۔
وہ خاموشی سے ان کے برابر آ کے بیٹھ گیا ڈیلن بھی وہی بیٹھا آزہاد کو دیکھ رہا تھا۔۔
اب کیسی طبیعت ہے تمہاری میرے بچے؟؟ گرینڈ پا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
آزہاد نے صوفے کی پشت سے سر ٹکایا ہوا تھا اور آنکھیں بند تھی۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں مختصر جواب دے کے وہ پھر چپ ہوگیا۔۔
گرینڈ پا کو وہ ابھی بیمار سا لگا۔۔۔ میں تمہارے لئے اچھا سا ناشتہ لے کر آتا ہوں ٹھیک ہے۔۔۔وہ اٹھتے ہوئے خوشی سے بولے۔۔
نہیں میرا دل نہیں کر رہا کچھ بھی کھانے کو وہ آنکھیں کھولتا ہوا بولا۔۔۔
گرینڈ پا کھڑے اسے دکھ سے دیکھنے لگے کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟؟
میں گھر جا رہا ہوں مجھے اکیلے رہنا ہے۔۔
وہ ماتھے پہ بل لئے ناراض ناراض سا انہیں اس وقت بہت پیارا لگا ۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے برابر واپس آ کے بیٹھے تم اکیلے ہی ہو آزہاد ہمارے ہوتے ہوئے بھی تم نے خود کو تنہا اور اکیلا ہی کیا ہوا ہے میرے بچے آخر کیا پریشانی ہے مجھے بتاؤ؟؟ وہ محبت سے اسے دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔
وہ انہیں کیا بتاتا کہ پہلے ہی وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں مجرم بنا ہوا ہے اس کا ضمیر اسے کسی پل سکون نہیں لینے دے رہا ہے وہ روتی حسین آنکھیں جن میں آزہاد کے لئے نفرت ہے ہر طرف دکھائی دیتی نظر آتی ہے۔۔وہ چاہ کر بھی یہ سب نہیں بھولا پا رہا تھا اوپر سے گرینڈ پا کی فکر وہ ہر جگہ سے بھاگنا چاہتا تھا ۔۔۔بس۔
گرینڈ پا کے برابر سے اٹھتا ہوا بولا۔۔ میں گھر جا رہا ہوں پلیز میری فکر مت کرئیے گا میں ایک دو دن میں واپس آؤں گا یہ کہتا ہواوہ وہاں سے لمبے لمبے ڈاگ بھرتا باہر آیا اپنی گاڑی سٹارٹ کی اور بھگاتا ہوا لے گیا۔۔گرینڈ پانے آنکھوں میں آنسو لیے ڈیلن کو دیکھا اب تم ہی ایک ہو جو اس کے قریب رہ کے اس کا خیال رکھ سکتے ہو۔۔ ڈیلن وہ اب بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔ مجھے نہیں پتا اس کے دل کا حال مگر میں اس کے لئے دعا کروں گا کہ گوڈ میرے بچے کو جلدی ٹھیک کردے اس کے جو دکھ ہے وہ بھلا دے اس کا بھی حق ہے خوشی سے زندگی جینے کا اسے وہ خوشی لوٹا دے آمین اور ڈیلن سر جھکاتا گرینڈ پاکی تمام ہدایت سنتا وہاں سے واپس آ گیا کیونکہ اسے اس وقت اذہاد کے پاس ہونا تھا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *