Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29
وہ ہوٹل کے روم میں سر کو پکڑے بیٹھے تھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔۔۔
دادو۔۔۔پریشان مت ہوئیں آپ چاچو سے بات کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ شاہزیب نے انہیں دل گرفتگی سے دیکھا جو حور کے پاس سے آ کے بس خاموش سے سر کو جھکائے بیٹھے تھے۔۔ وہ اب بھی کچھ نہیں بولے تھے۔۔۔
دادو میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں مجھے کچھ تو بتائیں کچھ تو بولیں .. ایسے خاموش رہنے سے کچھ حل نہیں ہوگا۔۔۔
میں کیا کروں شاہزیب میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ایک طرف اس کے آنسو ہیں ایک طرف تمہاری خاموش محبت ہے میری تم دونوں میں جان بستی ہے میں کسی ایک کا چہرہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کر سکتا۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولے۔۔ نہیں دادو حور میری تھی ہی نہیں۔۔ شاید وہ تو اسی کے نصیب میں لکھی تھی شروع سے جس کے لیے وہ سات سمندر دور سب سے لڑ کر انہیں منع کر آئی تھی میں اپنے دل کو سمجھا لوں گا اور وہ سنبھل بھی جائے گا۔۔مگر حور۔۔۔ اس نے گردن نفی میں ہلائی۔۔۔حور اندر ہی اندر سے آہستہ آہستہ گھلتی ختم ہو جائے گی۔۔ میری محبت یک طرفہ ہے مگر اس کی محبت ایک مضبوط تناور درخت بن چکی ہے جسے ہم زبردستی اکھاڑ کر اپنے آنگن میں نہیں لگا سکتے یہ ناممکن سی بات ہے دادو۔۔ وہ بے بسی سے انہیں قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ حور کی محبت عام نہیں ہے بلکہ بہت خاص ہے ہماری حور بہت سمجھدار ہے ضرور اس نے جس سے محبت کی ہے وہ سب سے الگ ہوگا بہت اہم۔۔۔ وہ جھوٹی سچی باتوں میں اتنی آسانی سے آکر کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔۔ محبت نہیں کر سکتی ۔۔۔وہ تو دوستوں میں بھی سامنے والے کی خاص خوبیوں کی شرط رکھتی ہے پھر تو یہ محبت ہے اسکی۔۔ آپ پلیز جو بھی فیصلہ کریں سوچ سمجھ کر کریں دادو۔۔کیوں کہ میں اب زبردستی حور کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا۔۔میں اسے اس کی محبت سے الگ کرکے بن موت نہیں مار سکتا۔۔ کیوں دادو کیوں ؟؟ہم مرد کیوں کہتے ہیں کہ تم ایک لڑکی ہو نہ جانے کتنے خواب کتنی خوشیاں کتنے رنگ اس جملے کے نیچے روند دیے جاتے ہیں۔۔کیوں ہماری روایات ہماری عزت کا بوجھ ان کے کاندھوں پر لادا جاتا ہے ؟؟؟ کیوں بیٹیوں کو اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے چاہے وہ کردار کی ہوئی اعتبار کی یا اپنی خوشیوں کی۔۔۔کیا ان کی اپنی زندگی پر کوئی حق نہیں ہوتا کیا انہیں کھل کر سانس لینے کی کوئی جازت نہیں؟؟ دادو بیٹی ہونا جرم نہیں۔۔کیوں ہم انہیں اپنی روایتوں کی سزا سنائیں۔۔۔ ان کے پاؤں میں اپنی عزتوں کی بیڑیاں پہنائیں۔۔۔
بلکہ انہیں آزادی دیجئے ان پر بھروسہ کیجیئے انہیں خود سے دور جانے دیجئے ان سے یہ مت کہیں خدارا میرے پاس رہو۔۔ آپ بھیکاری نہیں ہیں۔۔ محبت میں قید مت کیجئے۔۔ بلکہ زندگی کے میلے میں خود سے بچھڑ جانے دیجئے جو آپ کا ہے وہ شام کو ہی سہی لوٹ کے آپ ہی کے پاس آئے گا۔۔لیکن لوٹنے کا فیصلہ خود اسے اس کی آزادی سے کرنے دیجئے۔۔ پس فیصلے کے چوراہے پر کھڑے راہی کو آواز دے کر مت روکئے وہ نیم دلی سے لوٹ آیا بھی تو آپ کا نہیں ہوگا۔۔ اسے جانے دیں تاکہ وہ پورے دل سے آپ کا ہونے کا یقین کرکے واپس لوٹ آئے۔۔۔ شاہزیب بولتے بولتے اب تھک گیا تھا وہ اٹھ کر کھڑا ہوا جگ سے گلاس میں پانی بھرتا گٹ گٹ ایک سانس میں سارا پانی پی گیا وہ اس سے زیادہ حور کے حق میں دادو کو اور نہیں سمجھا سکتا تھا۔۔۔
داؤد کے دل میں چھوپے اس ڈر کو شہازیب بھانپ چکا تھا وہ حور سے بے حد محبت کرتے تھے اسے قریب رکھنے روز دیکھنے کی اس خواہش نے ان کا ذہن ماؤف کردیا تھا وہ خوشی اور زبردستی کا فرق بھول گئے تھے۔۔مگر شاہزیب کی کہی ساری باتوں نے جیسے ان کی آنکھیں کھول دی تھی۔۔ وہ یہ کیا کرنے جارہے تھے۔۔اپنی بچی کی محبت میں اتنے اندھے ہوگئے تھے کہ اس کی خوشیاں کھانے جا رہے تھے۔۔ محبت تو ایسی ہونی چاہیے کہ اڑتی چڑیا کمرے میں آئے اور آپ پنکھا بند کرکے کھڑکی اور دروازے کھول دیں اگر اسے رہنا ہوگا تو وہ وہاں بسیرا کر لے گی اور اگر جانا ہوگا تو پُھر سے اڑ جائے گی۔۔ آپ اسے زبردستی قید کرکے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں بس۔۔
انہوں نے باہر نکلتی سسکی کا اندر گلا گھونٹا اور بے چینی سے ہاتھ مسلنے لگے۔۔۔
دادو کیا حور نے اس کا ذکر کیا؟؟کیا نام ہے آخر؟؟ کیا کرتا ہے ؟؟وہ بنا ان کی طرف پلٹے بولا۔۔
کوئی آزہاد عریض نام لے رہی تھی۔۔ دادو نے خود کو مکمل سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔۔ اور شاہ زیب جھٹکے سے مڑ ا۔۔۔ کیا؟؟ اذہاد عریض ؟؟ وہ ان کے قریب آتا حیرانگی سے بولا۔۔
ہاں کیوں کیا ہوا؟؟کیا تم جانتے ہو اسے؟؟ وہ اب اس کے حیران چہرے کو دیکھتے پریشانی سے بولے۔۔
نہیں دادو میں اسے نہیں جانتا نہ کبھی دیکھا ہے مگر جو آپ نام بتا رہے ہیں وہ نام اپنے نام میں خود ایک بہت بڑی پہچان رکھتا ہے۔۔ اذہاد عریض جسے دنیا کے بزنس کا جادوگر مانا جاتا ہے۔۔جس نے بہت کم وقت میں اپنی ذہانت سے ایک الگ پہچان بنائی ہے اسے کسی نے دیکھا نہیں مگر اس کا نام یہاں کے لوگوں کی زبان سے آرام سے سن سکتے ہیں اگر یہ سچ میں وہی اذہاد عریض ہے تو دادو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اپنی حور کی پسند بے مثال ہے۔۔ آپ کو اس کی پسند پسند ہی نہیں آئے گی بلکہ اس کی پسند پر ناز بھی ہوگا۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے اٹھا میں معلوم کر کے آتا ہوں آپ بالکل پریشان نہیں ہوئے گا ٹھیک ہے میں جلد واپس آ جاؤں گا۔۔وہ پلٹ کر جانے لگا کہ جب ہی پیچھے سے داؤد نے اسے آواز دی۔۔ وہ روکا اور پلٹ کر انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔ وہ اٹھے اور اس کے قریب آ کر زور سے اس سینے سے لگا لیا۔۔۔
میری دعا ہے شاہزیب تمہیں بھی کوئی بے حد چاہنے والا ملے گا جو تمہیں سمیٹ لے گا تمہارا ٹوٹا دل اس کی محبت سے جڑ جائے گا وہ اس سے الگ ہوتے آنکھوں میں نمی لیے بولے۔۔ وہ مسکرایا ان کا ہاتھ تھامتے ہونٹوں سے لگایا “اٰمین”اور پلٹ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد نے حور کو ہزاروں کالیں کی مگر حور نے اس کی کوئی کال کا جواب نہیں دیا تھا۔۔
اللہ جانے ایسا بھی کیا ہوگیا ہے جوحور کو میرا فون اٹھانے کی بھی فرصت نہیں۔۔وہ غصے سے فون کو ٹیبل پر پھینکتا ہوا بولا۔۔۔حور خیریت سے بھی تھی کیونکہ اس کی گواہی اس کا دل دے رہا تھا۔۔ پھر فون نہ اٹھانے کی وجہ؟؟ ابھی وہ غصے میں بھر کے بیٹھا تھا کہ دروازہ بجا۔۔ اذہار نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
سینور آپ سے کوئی ملنے آیا ہے وہ آپ کا انتظار گیسٹ روم میں کر رہے ہیں۔۔ پیغام دے کر وہ چلا گیا اور آزہاد سوچتا ہوا اٹھا۔۔ کہ نہ جانے کون ہے؟؟ آگے بڑھا۔۔
وہ ایک ایک چیز اس کی شان و شوکت کو گھر کے مین دروازے سے ہی اندر آتے نوٹ کر رہے تھے۔۔ وہ ہر لحاظ سے ان کی ٹکر پر تھا۔۔عزت دولت شان رتبہ سب کچھ تھا اس کے پاس۔۔ وہ ان کے برابری کے رشتہ داری کے قابل تھا۔۔ وہ کھڑے کمر پر دونوں ہاتھ باندھے سامنے لگے بڑے سے شیشے کے باہر مختلف قسم کے پھولوں کو دیکھ رہے تھے جن کی اقسام دنیا بھر سے جمع کی گئی تھی مگر سوچ کی ڈور کہیں اور ہی جھڑی تھی۔۔
وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا گیسٹ روم کی طرف آیا تو دیکھا وہ جو کوئی بھی تھے بیٹھے نہیں تھے اور ان کا چہرہ گھوما ہوا تھا۔۔وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اپنی ذہین نظروں سے انہیں پرکھتا ان سے فاصلے پر آکر کھڑا ہوگیا خاموش۔۔
داؤد کو کسی کی نظریں خود پر محسوس ہوئیں اور تب ہی وہ پلٹے۔۔ ان کے پلٹنے پر آزہاد کے ماتھے کے بل غائب ہوئے اور نظریں حد سے زیادہ سنجیدہ ہوگئیں۔۔
داؤد تو اسے دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے وہ شہزادوں سی آن بان والا مغرور شہزادہ ان کی حور کی محبت تھا وہ واقعی محبت کے قابل تھا ذہانت کے ساتھ ساتھ اللہ نے حسن یوسف جیسی خوبصورتی سے بھی نوازا تھا دونوں کی جوڑی چاند سورج کی جوڑی کی مثال تھی۔۔۔۔
السلام علیکم۔۔دادو ابھی نہ جانے اور کتنے خیالوں کے سفر کرتے اسے دیکھ کر جب اس کی بھاری اور آہستہ آواز میں کیے گئے سلام نے انہیں خیالوں سے باہر لا پھینکا۔۔۔
داؤد نے گلا کھنکارا اور سلام کا جواب دیا۔۔ وعلیکم السلام۔۔ انہوں نے بھی بھاری آواز میں جواب دیا۔۔
آزہاد نے انہیں دیکھتے ہاتھ کے اشارے سے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔۔۔
وہ گردن ہلاتے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے اور ان کے بیٹھتے ہی اذہار بھی بیٹھ گیا۔۔ آگے کو ہوتا گھٹنوں پر ہاتھوں کی کوہنیاں رکھے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملائے وہ ایک ٹک سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔
داؤد نے اس کی حالت پر غور کیا شاید وہ ٹھیک سے سویا نہیں ہے۔۔ لال آنکھیں۔۔بکھرا ہلیہ ۔۔۔چہرے کی تھکن واضح تھی۔۔یعنی دونوں ایک دوسرے سے دور تھے مگر حالت ایک جیسی ہی تھی۔۔ حور کی حالت بھی ان کی نظروں کے سامنے گھوم گئی۔۔۔۔
مجھے جانتے ہو؟؟داؤد نے خاموش دریا میں کنکر پھینکا۔۔۔
آپ کے تعارف کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔مجھے اچھے سے احساس ہوگیا ہے آپ کے پاس سے آتی خوشبو مجھے میرے عزیز کی یاد دلاتی ہے۔۔۔ اس نے احترام سے انہیں جواب دیا۔۔۔
اس کے جواب کو سن کر وہ لاجواب ہوگئے۔۔۔
حور کی یاد کی ہوک ایک ٹیس بن کر اس کے دل میں اٹھی۔۔ اس نے ہاتھوں کی انگلیوں کو سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کر لیا وہ اسے دیکھنے اس سے ملنے اس کی آواز سننے کے لیے اس وقت بےحد مجبور اور لاچار تھا۔۔
داود نے اس کی کیفیت پر اسے چونک کر دیکھا وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو اتنی زور سے ایک دوسرے میں پیوست کر رہا تھا کہ اس کے ہاتھوں کی نسیں ابھر کے آ گئی تھی اور چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا۔۔
تمہارے والدین کہاں ہیں ؟؟
ان کا میرے بچپن میں انتقال ہوچکا ہے مجھے میرے گرینڈ پا نے پالا ہے۔۔ یاد رہے وہ ایک کرسٹن ہیں۔۔ اور اس نے مختصر سی کہانی اپنے بارے میں داؤد کو بتا دی۔۔ وہ جھوٹ کی بنیاد پر رشتے جوڑنے کے حق میں نہیں تھا۔۔
داؤد نے اس کی ساری بات توجہ سے سنی۔۔
تم جانتے ہو اذہاد ہم اپنی بچیوں کی شادی خاندان سے باہر نہیں کرتے۔۔۔
ان کی بات سن کر آزہاد کا ایک پاؤں مسلسل آہستہ آہستہ حرکت میں آنے لگا۔۔ جس کا مطلب تھا کہ اب آزہاد تمہاری برداشت کی آزمائش شروع۔۔۔
اور حور کا رشتہ تو بچپن سے تے تھا اس کے کزن کے ساتھ۔۔۔۔وہ مزید اپنی بات آگے اور جاری رکھتے۔۔
کیا یہ بات حور جانتی تھی؟؟ آزہاد نے ان کی بات بیچ سے کاٹتے ہوئے کہا اور داؤد کی تو جیسے ساری باتیں خاموشی سے دم توڑ گئی۔۔
بولیں جواب دیں۔۔وہ اب سامنے سے نظریں ہٹاتا ان کی طرف دیکھتا بولا۔۔ ایک جنون تھا اس کی آنکھوں میں ایک ٹھاٹے مارتا بھپرا ہوا سمندر تھا جو یہاں سے وہاں اپنا سرپٹخ رہا تھا ایک دیوانگی تھی جو اس کی آنکھوں میں نظر آرہی تھی۔۔۔ اس نے تو ایک ہی جملے میں ان کے سارے ظلم و ستم کا حساب مانگ لیا تھا۔۔۔۔وہ خاموش ہو گئے۔۔
کیا حور لندن آنے سے پہلے آپ کی رسم و روایتوں کو جانتی تھی؟؟ داؤد کی گہری خاموشی اور جھکی نظر آزہاد کے سارے سوالوں کا جواب دے رہی تھی۔۔ اگر میری حور یہ جانتی ہوتی نہ کہ اس کی شادی بچپن سے پکی ہے تو وہ اس محبت کو کبھی پروان نہ چڑھآتی۔۔وہ میرے قدموں کو روک دیتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میں جانتا ہوں وہ معصوم ہے وہ انجان ہے۔۔۔ ان سب کھیل تماشوں سے۔۔ اس نے آخر میں سخت الفاظوں کا چناؤ کیا تھا۔۔
اپنی ذات پر کیا ہر ستم برداشت مگر حور پر اٹھائی گئی ایک سخت آواز بھی برداشت نہیں۔۔۔
اگر میں کہوں کے پیچھے ہٹ جاؤ۔۔ تمہیں تمہاری محبت کا واسطہ دوں تو!!!!۔۔۔ داؤد نے آخری پتہ پھینکا۔۔
اور ان کی بات سن کر اذہاد زور سے ہنسا ایسے جیسے وہ اس ہنسی میں اپنی برداشت کا گلا گھونٹ رہا ہو۔۔ اپنے اندر کا سارا درد وہ ہنسی کی صورت باہر نکالنا چاہ رہا ہو۔۔
وہ بے حد حیران ہوتے اسے دیکھنے لگے۔۔
کیا کہا آپ نے میں پیچھے ہٹ جاؤں؟؟میرے پیچھے ہٹ جانے سے آپ کو آپ کی پوتی زندہ مل جائے گی؟؟ وہ الفاظ نہیں ایک خنجر تھے۔۔ جو داؤد کے سینے میں آزہاد نے گھونپا تھا۔۔ داؤد آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
جواب دیں۔۔ میرے پیچھے ہٹ جانے سے کیا وہ آپ کی پہلی والی پوتی رہے گی؟؟ اس نے گردن نہ میں ہلائی۔۔نہیں وہ مر جائے گی۔۔
داؤد نے صوفے کی سائیڈ کو زور سے پکڑا۔۔۔
مگر اس سب سے پہلے ہی میں خود اسے جان سے مار دوں گا اور خود بھی مر جاؤں گا۔۔۔مگر پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔نا اس کا ساتھ چھوڑوں گا۔۔نہ اسے اکیلا کروں گا۔۔ وہ لال آنکھوں کو باھر نکالتا بولا۔۔ وہ اس وقت ایک وحشی اور جنونی سا لگ رہا تھا۔۔ وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا۔۔
ڈیلن ڈیلن۔۔ وہ چیخ کے ڈیلن کو آوازیں دینے لگا۔۔وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا۔۔
یہ حور کے گرینڈ پا ہیں پلیز انہیں کھلائے پلائے بغیر مت بھیجنا یہ میری حور کے توسسے سے میرے لئے قابل احترام اور خاص ہیں۔۔ یہ بول کر اس نے ہاتھ کے اشارے سے ڈیلن کو جانے کا کہا۔۔۔
اللہ حافظ۔۔۔دادو مجھے اس وقت جانا ہوگا ورنہ میرے دماغ کا جنون اب دیکھ کر برداشت نہیں کر سکیں گے۔۔وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا تیز تیز قدم اٹھاتا گیسٹ روم سے باہر آگیا اور اس کے جانے کے بعد ہی داؤد بھی اٹھے اور صدمے سے چور ذہن کے ساتھ آگے بڑھنے لگے۔۔ ڈیلن نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر وہ خاموشی سے آگے بڑھتے چلے گئے۔۔۔۔۔۔
تیری یادیں کانچ کے ٹکڑے۔۔۔
میرا عشق ننگے پاؤں۔۔۔
وہ تیزی سے اپنے کمرے میں آیا تھا۔۔حور کے دادو کے الفاظ باربار اس کے کانوں میں گونجتے اسے اذیتوں کی انتہا پر پہنچا رہے تھے۔۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اپنے سینے سے دل کو نکال کر دیوار پر دے مارے ایک ننھا سا لوتھڑا ہی تو تھا مگر کیا آفت مچا رکھا تھا اس کی تڑپ اس کی تکلیف آزہاد برداشت نہیں کر پا رہا تھا ہر طرف جیسے سناٹا تھا کوئی اپنا نہیں نظر آ رہا تھا کوئی ساتھی کوئی ہمدم کوئی ایسا دوست نہیں تھا جو اسے آواز دیتا وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں سے بالوں کو نوچتے ہوئے خود کو صبر کی تلقین کر رہا تھا مگر درد سے دل پھٹا جا رہا تھا۔۔ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔ الفاظ دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔۔ وہ چیخنے لگا۔۔ پاگلوں کی طرح۔۔۔ اور پھر آخر کار اسکے صبر کا پیمانہ بھر کے جھلکنے لگا۔۔ وہ تیزی سے اٹھا اور سامنے بنی خوبصورت شیشے کی بڑی اور مضبوط دیوار پر زوردار گھونسا مارا۔۔ پل میں وہ دیوار چورا چورا ہوگی اور آزہاد کے ہاتھ سے خون بھل بھل بہنے لگا۔۔ جیسے اس کا سارا خون تیزی سے اپنے ساتھ اسکا جنون بھی بہا لے گیا۔۔ وہ وہیں زمین پر لیٹ کر آنکھیں بند کر گیا۔۔۔ خون تیزی سے بہے جا رہا تھا مگر اب وہ پرسکون ہو گیا تھا۔۔۔۔
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارا تو میں تمہارا۔۔۔
یا اس پر مبنی کوئی تاثر کوئی اشارہ تو میں تمہارا۔۔
غرور پرور انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے۔۔
مگر قسم سے جو تم نے ایک نام بھی پکارا تو میں تمہارا۔۔۔
تم اپنی شرطوں پر کھیل کھیلو میں جیسے چاہوں بازی لگاؤں۔۔۔
اگر میں جیتا تو تم میرے ہو اگر میں ہارا تو میں تمہارا۔۔۔
تمہارا عاشق تمہارا مخلص تمہارا ساتھی تمہارا اپنا۔۔۔
رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا تو میں تمہارا۔۔۔
تمہارے ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پر چھوڑتا ہوں۔۔۔۔
اگر مقدر کا کوئی ٹوٹاکبھی ستارا تو میں تمہارا۔۔۔
یہ کس پر تعویز کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے۔۔۔
تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ تو میں تمہارا۔۔
________________
حور بھوکی پیاسی ساری رات روتی رہی۔۔اذہاد کی محبت سے یوں دامن چھڑا لینا آسان نہیں تھا۔۔ یہ غم اسے سکون نہیں لینے دے رہا تھا۔۔ اور وہ روتے روتے کب بے ہوش ہوگئی اسے خبر نہیں تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتضیٰ میرا دل بہت ہو رہا ہے۔۔مجھے لگتا ہے میری حور پریشان ہے۔۔۔ عظمیٰ بے چینی سے بولیں۔۔۔
ارتضیٰ ان کے اس طرح سے بولنے پر مسکرائے۔۔ارے بیگم کیا ہو گیا ہے اور ہماری حور کیوں پریشان ہونے لگی مجھے تو لگ رہا ہے وہ یہاں آنے کے لیے ہم سب سے ملنے کے لیے سب سے زیادہ بے چین ہو گی اور جلدی جلدی تیاریاں کر رہی ہوگی پاکستان آنے کی۔۔ پھر میرا دل کیوں ہول رہا ہے ارتضیٰ۔۔ اب وہ بے چینی سے ان کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولیں۔۔۔
آپ بالکل فکر نہیں کریں یہ بے چینی بھی آپ کی جلد ختم ہوجائےگی صبر کریں بس تھوڑا سا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داود آزہاد کے پاس سے ہو کر ہوٹل میں شاہزیب کے پاس ہی آ کر رکے تھے انہوں نے ساری بات شاہزیب کو بتائی تھی۔۔
دادو اب ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے آپ چلیں حور کے پاس وہاں جاکر ہم اس سے بات کرتے ہیں اور پھر چاچو کو بھی فون کرکے یہاں بلوا لیتے ہیں اور پھر سارا معاملہ آرام سے یہی حل کرلیں گے۔۔ وہ ساری پلاننگ ترتیب دیتا ہوا بولا۔۔ شاہ زیب کی بات داؤد کو بھی سمجھ میں آئی۔۔۔
چلو ٹھیک ہے۔۔۔
اور پھر وہ ہوٹل سے نکل کر سیدھا حور کے پاس آئے تھے۔۔ دروازے کی بیل بجائی مگر یہ کیا حور دروازہ نہیں کھول رہی تھی وہ کچھ دیر تو یوں ہی کھڑے انتظار کرتے رہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی جا رہی تھی کہ کہیں حور کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔۔۔
شاہزیب دروازہ توڑو ۔۔۔۔ داؤد نے روتے ہوئے کہا۔۔
دادو آپ پریشان مت ہوئیں دعا کریں حور صحیح سلامت ہو۔۔ وہ جانتا تھا یہاں کا قانون کتنا سخت ہے کسی کا دروازہ توڑنے پر اسے جیل بھی ہوسکتی تھی۔۔ مگر اس کی پرواہ کیے بنا اس نے دروازہ توڑ ڈالا اور قسمت سے دروازہ دو دھکو میں کھل گیا تھا۔۔ اور اسے کسی نے دیکھا بھی نہیں تھا۔۔
وہ اور داؤد بھاگتے ہوئے اندر آئے تو دیکھا جہاں داؤد اسے کل چھوڑ کر گئے تھے وہ اسی حالت میں انہیں ملی وہ اسے دیکھ کر سکتے میں آگئے تھے۔۔
شاہ زیب میری بچی۔۔داؤد چیختے ہوئے حور کی طرف بڑھے۔۔۔
دادو پلیز ہمت کریں حور کو کچھ نہیں ہوا ہوگا آپ پلیز اسے سنبھالیں۔۔شاہ زیب خود اپنا سر پکڑے کھڑا تھا۔۔۔
داؤد نے حور کو سینے سے لگایا وہ بے ہوش تھی۔۔شاہزیب اسے بہت تیز بخار ہے پلیز کچھ کرو میری بچی واقعی مر جائے گی۔۔۔ وہ بے تحاشا روتے ہوئے شازیب کو دیکھ کر بولے اور حور کوسینےمیں بھیچا ہوا تھا۔۔
شاہ زیب بھاگتا ہوا باہر آیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔۔
داؤد نے حور کو اٹھا کر بیڈ پر ڈالا اور اس کا ہاتھ تھام کر رونے لگے۔۔۔ حور میرے بچے اپنے دادا کو اتنی بڑی سزا مت دو واپس آ جاؤ۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں شاہ زیب ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ حور کے اپارٹمنٹ میں موجود تھا۔۔
لیڈی ڈاکٹر نے حور کا چیک اپ کیا۔۔کیا انہیں کسی بات کا اسٹریس ہے؟؟ وہ داؤد اور شازیب کو دیکھتی تھوڑا سخت لہجے میں بولی۔۔
داؤد اور شاہ زیب خاموش رہے۔۔
دیکھیں یہ میں اس لیے پوچھ رہی ہوں کیونکہ ان کی حالت صاف صاف بتا رہی ہے جیسے یہ بہت زیادہ روئی ہیں۔۔ کھانا پینا بھی بند تھا۔۔جس کی وجہ سے انہیں اتنا تیز بخار اور کمزوری کی وجہ سے بے ہوشی طاری ہوئی۔۔۔انہوں نے کسی چیز کا بہت گہرا صدمہ لیا ہے۔۔۔پلیز اگر ایسا کوئی مسئلہ ہے ان کے ساتھ تو اسے جلد سے جلد حل کریں ورنہ ان کی جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔۔ ڈاکٹر نے جو کچھ بھی تھا صاف صاف لفظوں میں بتا دیا تھا اور اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔
بروقت اچھی ٹریٹمنٹ کی وجہ سے حور تھوڑی دیر میں ہوش میں آ گئی تھی مگر خاموش آنکھیں بند کئے لیٹی رہی تھی۔۔ داؤد اس کے سر کے قریب بیٹھے اس کا سر سہلا رہے تھے وہ خاموش تھی بالکل ایک لفظ نہیں بولی تھی۔۔
محبت کبھی بھی ختم نہیں ہوتی بس خاموش ہو جاتی ہے اور جتنی خاموش ہوتی جاتی ہے اتنی ہی زور آور بھی ہوتی جاتی ہے اندر ہی اندر شدومد سے بولتی ہے۔۔چنگھاڑتی ہے۔۔ لہو روتی ہے۔۔ اپنے آپ میں جیتی امر ہوتی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وجود فنا ہوتا جاتا ہے۔۔ پھر نہ تو صلے کی تمنا رہتی ہے۔۔ نہ حاصل کی۔۔۔۔
شاہ زیب اس کے لیے سوپ لایا تھا۔۔
اٹھو بیٹا چلو شاباش تھوڑا سا سوپ پی لو۔۔ داؤد اسے بہلاتے ہوئے بولے۔۔
وہ کچھ دیر تو بلکل پتھر بنی کانوں کو لپیٹے ایسے ہی لیٹی رہی جیسے اکیلی ہوں مگر پھر دادو کی بے تحاشا منتیں اسے شرمندہ کرنے لگی اور وہ آہستہ سے اٹھ کر بیٹھتی ان کے ہاتھ سے سوپ پینے لگی۔۔
ایک دن میں اس کی یہ حالت ہو گئی تھی اذہار کے بغیر جب اسے ہمیشہ کے لئے اس سے دور کردیا جاتا تو کیا ہوتا ؟؟داؤد خاموش نظروں سے اسے دیکھتے سوچ رہے تھے۔۔۔
سوپ پینے کے بعد وہ اب دوائی وغیرہ کھا کر آرام کر رہی تھی۔۔ شاہ زیب اور داؤد حور کے اپارٹمنٹ میں ہی تھے اس کے ساتھ۔۔
رات کے سائے آہستہ آہستہ پھیل رہے تھے۔۔
دوائی کھا کر پانچ سے چھ گھنٹے کی نیند لینے کے بعد اس کی آنکھ کھلی اور آنکھوں کے سامنے اذہار کا چہرہ گھوم گیا۔۔وہ خاموش ٹھری نظروں سے آنسو بہانے لگی۔۔ درد جب حد سے بڑھنے لگا تو تکیے میں منہ دے کر وہ اپنی چیخوں کا گلا گھوٹنے لگی۔۔
داؤد خاموشی سے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آئے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔ حور رونا بند کرو بچے دو شام کا وقت ہو رہا ہے ایسے وقت میں روتے نہیں ہیں دعا کرتے ہیں اٹھو شاباش۔۔ وہ اسے اٹھانے لگے اور اس کا منہ ہاتھ منہ دھلا کر باہر صوفے پر اسے بٹھایا ہی تھا کہ دروازے کی بیل ہوئی۔۔۔
شاہ زیب اٹھا دروازہ کھولنے۔۔۔ وہ دروازہ کھولے ساکت نظروں سے دیکھتا کھڑا تھا۔۔ چاچو آپ؟؟
اور ارتضیٰ جن کے ساتھ عظمیٰ بھی آئیں تھی شاہزیب کو حور کے اپارٹمنٹ میں دیکھ کر حیران جامد وجود کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔۔
شازیب۔۔۔!!! ارتضیٰ کی آواز بے حد آہستہ سے نکلی۔۔ اور اتنے میں پیچھے سے داؤد بولے۔۔ شاہ زیب بیٹا کون ہے دروازے پر؟؟ اور ارتضیٰ کو دوسرا جھٹکا جب لگا جب اس نے اپنے بابا کی بھی آواز سنی۔۔ وہ جھٹکے سے آگے بڑھے ایک ہاتھ سے شاہزیب کو پیچھے کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔
اور داؤد جوحور کو سینے سے لگائے اسے چپ کروا رہے تھے سامنے سے اپنے بیٹے کو آتا دیکھ کر دنگ رہ گئے۔۔
ارتضیٰ۔۔۔۔
جاری ہے
