Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52
مگر آپ تو 4 گھنٹے کا بول کر گئے تھے نا پھر 2 گھنٹے میں واپس کیسے آگئے۔۔میں تبھی ڈر گئی تھی۔۔اس کی بات سن کر اب اذہاد کو ساری بات سمجھ آئی۔۔۔
تبھی اذہاد نے زور سے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے۔۔2گھنٹوں میں اس کی دوری سے حور کا دماغ کافی تیزی سے کام کرنے لگا تھا۔۔
میں رہ ہی نہیں سکا تم سے دور حور۔۔وہ محبت سے چور لہجے میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔
تبھی میں نے کہا تھا مجھے بھی ساتھ لے چلیں۔۔حور نے منہ بنا کر کہا اذہاد اپنی ڈیمپل والی مسکراہٹ سے مسکرایا۔۔
تو پھر چلو۔۔اذہاد نے مسکرا کر اس کا چہرہ تھام کر کہا۔۔۔
حور آنکھوں کو بڑی کرتی خوش ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔سچی چلیں۔۔وہ جیسی آگے بڑھنے لگی تبھی اس کے ہاتھ میں تھما اذہاد نے اپنا ہاتھ کھینچ کر اسے آگے بڑھنے سے روکا۔۔۔
وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔۔
حور تیار تو ہو جاؤ۔۔تمہارا ڈریس تھوڑی دیر میں ہیلی لے آئے گی اوکے۔۔یہ کہتا وہ آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا کر پیار کرتا چلا گیا۔۔
ہیلی تھوڑی ہی دیر میں ایک بہت حسین مہرون کلر کی فراک لے کر حور کے سامنے کھڑی تھی۔۔
جس کے بند گلے سے لے کر فل آستینوں تک حسین کام ہوا تھا۔۔حور کو وہ بہت پسند آئی تھی۔۔
ہیلی فراک رکھ کر اسے تیار کرنے کے لئے کھڑی تھی۔۔
میں خود تیار ہو جاؤ گی آپ یہ رکھ کر چلی جائیں۔۔۔ہیلی حور کے حکم سے وہاں سے چلی گئی۔۔
حور نے آگے بڑھ کر فراک اٹھائی اور تیار ہونے چلی گئی۔۔۔
حور کے لمبے سلکی بال جن کو اس نے آگے سے اٹھا کر پن کیا تھا اور پورے بال کھلے چھوڑ دیے تھے۔۔
زیادہ میک اپ کی اسے شروع سے ضرورت نہیں رہی تھی۔۔وہ ایک لپ گلو میں بھی حسین لگتی تھی۔۔لباس سے ملتا جھلتا ڈارک شیڈ اس نے ہونٹوں پے لگایا تھا۔۔آنکھوں کے اوپر ہلکا بلیک آئی شیڈ لگا کر آنکھوں کو اسموکی ٹچ دیا تھا۔۔جس سے وہ آج ایک الگ ہی حور لگ رہی تھی۔۔۔کانوں میں چھوٹے ہیرے جگمگا رہے تھے۔۔۔
وہ پوری تیار تھی مگر ایک چیز میں اٹک گئی تھی۔۔۔اور وہ تھی اس کے پیچھے کی فراک کی زپ جو بیچ میں اٹک گئی تھی۔۔۔
اسے اب غصہ آرہا تھا۔۔جو اوپر ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔کیا مصیبت آگئی اب تمھیں۔۔۔وہ شیشے میں دیکھتی پلٹ کر اسے اوپر کرنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔جب دروازہ بجا۔۔
حور تم تیار ہو؟؟ اذہاد کی ایک دم آواز آئی۔۔
حور نے گھبرا کر دروازے کو دیکھا۔۔کیا بولوں؟؟ وہ سوچنے لگی۔۔
حور۔۔اذہاد نے دروازہ بجا کر پھر کہا۔۔۔
ہاں بس آئی۔۔اب کی بار حور نے اس کی بات کا جواب دیا۔۔اور کچھ سوچ کر اپنے لمبے بالوں کو پیچھے کمر پر ڈال کر اس مصیبت کو چھپا دیا اور ہلکے سے دروازہ کھول کر باہر آئی۔۔۔
اذہاد کی نظروں نے اسے نیچے سے اوپر تک تعریفی نظروں سے دیکھا۔۔وہ بلاشبہ حسین لگ رہی تھی۔۔اذہاد تو اسے دیکھے ہی گیا۔۔
حور اسے دیکھ کر زبردستی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتی ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنساے انہیں مسل رہی تھی۔۔۔وہ ایسے جا بھی نہیں سکتی تھی اور اسے بتا سکتی بھی نہیں تھی شرم جو آڑے آرہی تھی۔۔
اذہاد مسکراتا ہوا آگے بڑھا بے اختیار اس کے دونوں ہاتھ حور کی کمر تک گئے تھے۔۔۔
حور کی سانسیں تو روک ہی گئی تھی۔۔
اذہاد نے ایک ہاتھ سے اس کے پیچھے کے سارے بال سمیٹتے آگے کیے اور دوسرے ہاتھ سے اس کی زپ ہلکے سے اوپر کی۔۔
حور کی تو ہمت ہی نا ہو سکی کے اس کی طرف دیکھتی جو اس کے بیحد نزدیک کھڑا تھا۔۔۔
اذہاد کا دل ہور کے معصوم سے چہرے کے نزدیک ہونے پر اسے شرارت پر اکسانے لگا۔۔مگر اسے رحم آگیا وہ کافی لیٹ بھی ہو گئے تھے اور اتنی سی نزدیکی پے ہی حور شرم سے سرخ ہوتی گرنے جیسی ہو گئی تھی۔۔۔
اذہاد نے اپنا پہنا کوٹ اتار کر اس کے کندھوں پر ڈالا چلیں۔اس کے کان کے قریب جا کر کہتا وہ پیچھے ہوا ایک ہاتھ سے اسے تھام کر محبت سے پناہوں میں لیتا آگے بڑھا۔۔
وہ کیسے نہیں سمجھتا۔۔وہ کیسے نہیں جانتا۔۔۔
وہ تو اس کی دھڑکنوں سے بھی زیادہ اس کے قریب تھا۔۔وہ خود منہ سے کچھ نا بھی کہتی مگر اس کا دھڑکتا دل اذہاد سے صاف باتیں کرتا تھا۔۔جس کی روح اس کی روح سے جڑی تھی۔۔۔پھر کیسے نا جانتا وہ حورے چہرے کی پریشانی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیران تھی۔۔سامنے ایک بڑے سے ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر جس میں انہیں بیٹھنا تھا۔۔۔
مجھے نہیں بیٹھنا۔۔وہ ڈر کر اس کی شرٹ کو ایک مٹھی میں دبوجتی اس کے کمر کے پیچھے چھپی تھی۔۔۔
وہ واپس گاڑی کی طرف بھاگ جاتی اگر اذہاد نے اس کا ہاتھ مظبوطی سے اپنے ہاتھ میں پکڑا نا ہوتا۔۔
حور میں ہونا اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے۔۔وہ ہلکا سا مسکراتا اس کی طرف پلٹ کر اسے سینے سے لگا کر بولا۔۔
ہادی نہیں۔۔وہ اس کے سینے سے لگی ڈر کر منمناتی ہوئی بولی تھی۔۔
حور کچھ نہیں ہوگا بہت مزہ آئے گا ٹرسٹ می۔۔وہ مسکراتے ہوے اس کی پیٹھ سہلاتا پیار سے اسے سمجھاتا ہوا آگے بڑھا۔۔
حور رونی صورت بناے اسے دیکھنے لگی جب وہ اس کی سیفٹی کے لئے اسے کوور کر رہا تھا۔۔اذہاد نے اس کا چہرہ دیکھا اسے ٹوٹ کر اس وقت حور پر پیار آیا جس کا اظہار اس نے بے اختیار آگے بڑھ کر کر بھی دیا۔۔۔حور ڈر بھول کر سیدھی ہو گئی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ زمین سے کئی اوپر اونچائی پر سفر کرنے لگے۔۔حور ڈر کر اذہاد کا ہاتھ بازوں سے تھامتی اس سے جڑ کر پھر بیٹھ گئی۔۔
اذہاد اس کی ہر ادا پر صرف ہنسے ہی جا رہا تھا۔۔۔
اونچائی سے دیکھتے ہوے منظر بہت حسین تھے۔۔ڈر تو تھا مگر نظارہ پر کیف تھا۔۔وہ اس کا ہاتھ مظبوطی سے تھام کر ہر طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
اونچی اونچی بلڈنگوں کے اوپر سے ہو کر گزرتا ان کا ہیلی کاپٹر اپنے خاص مقام پر آکر روک گیا۔۔
حور اذہاد کا ہاتھ تھام کر نیچے آئی۔۔
جہاں پہلے سے ایک اور کار ان کے لئے کھڑی تھی۔۔
اذہاد حور کو سیٹ پر بیٹھا کر اپنی سیٹ پر آکر بیٹھتا گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھنے لگا۔۔۔
سیدھے صاف روڈ کے دونوں طرف نظر آتے لمبے درختوں سے حور کو خوف آیا جو اندھیرے میں گھنے
جنگل کے کا گماں کر رہے تھے۔۔
ہادی ہم کہاں جا رہے ہیں؟؟ تنگ آکر اس نے پھر پوچھا۔۔آپ کا ارادہ جنگلوں میں لے جانے کا تو نہیں کہیں۔۔۔حور کے سوال پر اذہاد بے اختیار ہنسا۔۔۔
بلکل چپ رہو حور۔۔جیسے تم نے مجھے یاد ہے کیسے پورا شہر گھومایا تھا۔۔ویسے ہی میں تمھیں اب جنگل پہاڑ سمندر گھمانے والا ہوں۔۔وہ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر لبوں کی ہنسی دباتا ہوا بولا تھا۔۔۔
وہ غصے سے اس کے الٹے سیدھے جواب سن کر باہر دیکھنے لگی۔۔
اذہاد نے آہستہ سے گاڑی روکی۔۔۔
حور کی نگاہیں تو سامنے کے دلکش منظر سے ہٹنے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔
وہ حسین سنسان جگہ تھی جہاں سامنے سے ایک
اونچے پہاڑ سے گرتا آبشار جس سے تھوڑی دور فاصلے پر ایک حسین شیشوں کا بنا خوبصورت گھر جگمگا رہا تھا۔۔
آبشار کے گرنے سے پانی کے ہلکے چھینٹے اس پر بھی آرہے تھے۔۔۔
ہادی۔۔وہ سامنے کے بے انتہا خوبصورت منظر کو دیکھ کر اذہاد سے کچھ کہنا ہی چاہتی جب اذہاد نے پیچھے سے آکر اسے کمر سے تھام کے آگے ایک فائل کی۔۔۔
یہ تمہاری منہ دکھائی کا گفٹ ہے حور۔۔وہ اس کے کاندھے پر ٹھوڑی ٹیکاے اس کے گردن کے اندر اپنا چہرہ چھپاتا آہستہ سے بولا تھا۔۔۔
حور نے فائل آہستہ سے اس کے ہاتھ سے تھام کر دیکھی تھی۔۔اذہاد نے وہ گھر اس کے نام کیا تھا جس خواب اس نے دیکھے تھے۔۔۔
نا زیادہ چھوٹا نا زیادہ بڑا شیشوں سے سجایا گیا وہ حسین خوبصورت گھر حور کو اپنے خوابوں کی حقیقت لگا۔۔۔جو اس اندھیری سنسان جگہ پر جگمگا رہا تھا۔۔۔
وہ پلٹ کر خوشی سے اس کے سینے سے لگی تھی۔۔
تمہیں پسند آیا حور؟؟ اذہاد نے محبت سے اس کے بالوں کو سمیٹتے ہوے کہا۔۔
ہادی یہ بہت خوبصورت ہے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ مجھے ایسا گھر چاہیے تھا۔۔۔وہ خوشی سے آنکھوں میں جگنو اور کئی خواب لئے اس کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
مجھے تمہارے دل سے پتہ چل گیا تھا بہت پہلے۔۔وہ اس کے چہرے سے اپنا چہرہ مس کرتا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔۔
تبھی اذہاد اسے ایک جھٹکے سے اٹھاتا آگے بڑھا۔۔۔
جتنا وہ گھر باہر سے دکھنے میں حسین اور خوبصورت تھا اتنا ہی وہ اندر سے بھی شاندار تھا۔۔
نا زیادہ مہنگی اور بڑی بڑی چیزوں سے سجا۔۔
روشنی ۔ پھولوں اور مختصر سامان سے سجا وہ گھر حور کو بہت پسند آیا۔۔
حور نے مسکرا کر ایک نظر گھر کو دیکھ کر پھر اذہاد کو دیکھا۔۔اس نے آئی برو اٹھا کر حور سے اشارے سے پوچھا۔۔۔کیسا لگا؟؟
حور اسے دیکھ کر صرف مسکرائی۔۔اس کی خوشی کا اندازہ اسے اچھے سے ہو رہا تھا اسے وہ بہت پسند آیا تھا۔۔۔یہ تاثر اسے اپنے محل کو دیکھ کر نہیں ملا تھا۔۔اذہاد اچھے سے اسے سمجھتا تھا۔۔اس کے دل کو اس کی سوچ کو اس کی ہر ایک بات سے وہ بخوبی واقف تھا۔۔۔
اذہاد کچن میں آیا اسے آہستہ سے نیچے اتارا اور اسکے سامنے آتا ایک ہاتھ کمر کے پیچھے باندھتا اور ایک سینے پر رکھ کر ہلکا سا جھکتا مسکرا کر بولا۔۔
اے حسین خوبصورت دوشہزہ میرے دل کی ملکہ حور میری زندگی میرے دل کی دھڑکنوں پر راج کرنے والی کیا کھانا پسند کریں گی آپ اپنے اس غریب شیف کے ہاتھوں سے بنا ہوا۔۔
حور اس کے اس انداز پر ہنسی۔۔ہادی آپ ہٹیں میں بناتی ہوں۔۔وہ اس کا کوٹ اتارتی ہوئی آگے بڑھی۔۔
اذہاد نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اپنی کمر کے پیچھے کیا اور اس کے گال پر زور سے اپنے لب رکھ دیے۔۔
میں کیا پاگل ہوں جو اپنی حور سے کھانا بنوانگا جب وہ میرے لئے اتنی محنت سے تیار ہوئی اتنی حسین لگ رہی ہو گی۔۔۔وہ اب اس کی کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا۔۔
حور کے دل کی دھڑکنیں تیز رفتار سے دھک دھک کرنے لگی۔۔اس کی نظریں جھک گئی تھی۔۔۔
اذہاد نے اس کا جھکا سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر اوپر کیا۔۔کھانا تو بلکل ریڈی ہے میرے سرکار کہیں تو آپ کی خدمت میں پیش کروں؟؟؟اذہاد اس کے ماتھے سے سر ٹیکاتا ہوا بولا تھا۔۔
حور ہلکا سا ہنسی۔۔تو اتنے ڈرامے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔وہ جھکی نظروں سے بولی تھی۔۔۔
ڈرامے اس لئے کے آپ میرے قریب رہیں۔۔اذہاد کے جواب پر حور فورن پیچھے ہوئی تھی۔۔اس کی تیزی سے دور ہٹنے اور شرماتا روپ دیکھ کر اذہاد مسکرایا تھا۔۔۔
اذہاد اور حور نے مزے سے پہلے کھانا کھایا۔۔
پھر دونوں ٹیرس پر کھڑے سامنے گرتے آبشار کے منظر کو دیکھ کر کافی کے مزے لیتے باتیں کرنے لگے۔۔
حور گھر پر بات کی۔۔اذہاد نے پوچھا۔۔
ہاں آپ تھے نہیں تو میں نے بات کر لی۔۔وہ مسکرا کر اسے دیکھتی بولی۔۔
یہ ڈریس آپ پر بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔۔ویسے تو آپ جو پہنے سب ہی بہت جچتا ہے۔۔وہ محبت سے اس کا چہرہ تھام کر اس کی ناک کو چومتا ہوا بولا۔۔
حور ہلکا سا ہنسی۔۔آپ بھی ویسے کچھ کم نہیں ہیں۔۔حور نے منہ بنا کر کہا اور دونوں ہنسنے لگے۔۔
ہادی سارا گھر دکھایا مگر ہمارا روم کہاں ہے؟؟ کافی دیر کی بیچینی اور تجسوس کے ہاتھوں مجبور ہوتی حور نے آخر اذہاد سے سوال کیا۔۔جس کا جان بوجھ کر اذہاد اسے خود تنگ کر رہا تھا نا بتا کہ تاکے وہ خود اس سے کہے۔۔۔
اوہ وہ تو میں بھول گیا بنانا حور آپ ہم کہاں رہے گے؟؟۔۔وہ سر پر ہاتھ مارے معصومیت سے بولا۔۔
حور اس کی شرارت سمجھتی آگے بڑھ کر اذہاد کے کان زور سے کھینچے۔۔
آآ آ ۔۔حور مجھے درد ہو رہا ہے۔۔وہ آنکھیں بند کرتا زور سے بولا۔۔جس کی وجہ سے حور نے فورن ہاتھ ہٹا لیا۔۔
حور نے ناراض نظروں سے اذہاد کو دیکھا وہ مسکرا کر اس کے چہرے کو تھام کر ماتھے کو چومتا ہوا اسے بازوں میں اٹھایا اور آگے بڑھا۔۔
وہ اسے دروازے کے پاس لاتا آنکھوں پر اس کے ایک ہاتھ رکھتا اور ایک ہاتھ سے دروازہ کھوتا اسے آہستہ سے اندر لایا اور تبھی اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا دیا۔۔
حور نے آہستہ سے بند آنکھوں کو کھولا۔۔وہ حیران رہ گئی۔سامنے کی دیوار کو اذہاد نے اپنی اور حور کی بے شمار تصویروں سے سجایا ہوا تھا۔۔اذہاد نے اس کی چھپ کر بہت سی تصویریں کھینچی تھی۔جس کا اسے آج پتہ لگا تھا۔۔
اور بہت سی ایسی تصویر یں بھی تھی جس میں حور اور اذہاد ایک ساتھ تھے۔۔
وہ حیران ہوتی ایک کے بعد ایک تصویر دیکھ رہی تھی کہ تبھی اسے اپنی گردن پر اذہاد کی گرم سانسوں کی تپش کے ساتھ اس کا محبت بھرا لمس بھی محسوس ہوا۔حور نے زور سے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا۔۔
اذہاد نے اسے مسکرا کر دیکھا جس نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کیا ہوا تھا۔۔۔تبھی وہ آگے بڑھ کر محبت سے اس کے چہرے کو تھام کر اس کے ایک ایک حسین نقوش کو چومنے لگا۔۔
دونوں کی دھڑکن ایک ساتھ زور زور سے دھڑک رہی تھی۔۔
اس کی اس قدر نزدیکی حور کی سانسیں روک رہی تھی۔۔
اذہاد نے حور کی گردن کے حسین تل پر اپنی محبت کی مہر سبط کی۔۔آج اس کے دل کو سکون ملا تھا کس طرح اس نے ایک ظالم کی طرح حور کی نازک سی گردن کو گرفت میں لے کر اسے تکلیف دی تھی آج وہ اپنی والہانہ محبت سے اس کی گردن کو چوم کر اپنی محبت کی نیشانی اس کی گردن پر رقم کر رہا تھا۔۔
وہ آہستہ آہستہ اس پر جھکتا اپنی شدت و محبت کا اظہار اپنے ہر عمل کے زریعے اس کے دل تک پوھنچانے لگا۔۔
وہ بھی اس کی تمام محبتوں کو خود میں سمیٹتی اس کی بڑھتی شدتوں دیوانگی پر پگھلتی جا رہی تھی۔۔۔
چاند اپنی پوری آب و تاب سے روشنی بکھیرتا ان کی حسین محبت کے مکمل ہونے پر مسکرا رہا تھا۔۔۔دو محبت کرنے والے دل ہمیشہ کے لئے ایک ہو گئے تھے۔۔۔
___________________
گلاب کی آتی تیز مہك سے حور نے مشکل سے اپنی نیم وا آنکھوں کو کھول کر دیکھنا چاہا۔۔آنکھوں کے سامنے ہی اسے بڑے بڑے سرخ گلاب کے پھول رکھے نظر آے۔جن کی آتی تیز خوشبو سے حور گہری نیند سے جاگنے پر مجبور ہوگئی۔۔
اتنے خوبصورت پھولوں کو دیکھ کر کون ان سے گافل ہوسکتا تھا۔۔تبھی حور اپنی پوری آنکھوں کو کھول کر انہیں دیکھتی مسکرا کر ان پر ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔
اذہاد کا خیال آتے ہی اچانک سے اسے رات کے تمام منظر یاد آنے لگے۔۔جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتی وہ اذہاد کو یہاں وہاں دیکھنے لگی جو اسے کہیں نظر نہیں آیا۔۔
نظر جب خود پر گئی تو شرم سے وہ آنکھوں کو زور سے بند کر کے پھر تکیے پر گر گئی۔اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے۔۔۔وہ اذہاد کی رات والی شرٹ پہنے ہوئی تھی۔۔
یا اللہ مجھے بتائیں میں کیسے جاؤ اب ہادی کے سامنے۔۔میں تو اب ان کے سامنے نظر اٹھا کر بات کرنے کے قابل بھی نہیں رہی۔۔۔انہیں تو اور موقع مل جاۓ گا مجھے تنگ کرنے کا۔۔۔کیا کروں؟؟ باہر نا گئی تو وہ خود ٹپک جایئں گے۔۔اٹھ کر بیٹھتی رونی صورت بناتی ناخن دانتوں سے کترتی الٹا سیدھا سوچ رہی تھی۔۔۔
کوئی بات نہیں حور بھول گئی مما نے کہا تھا اب وہ شوہر ہےاور شوہر کے کچھ حقوق ہوتے ہیں۔۔ہممم۔۔۔۔
اذہاد اب صرف ایک محبوب اور دوست نہیں وہ اب شوہر بھی ہے۔۔چلو دیکھتے ہیں شوہر بن کر وہ کیا گل کہلاتے ہیں۔۔۔گہری سانس لیتی وہ اٹھی تھی لمبے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بناتی آگے بڑھی تو دیکھا سامنے حسین پنک کلر کی فراک رکھی تھی جسے اذہاد نے اس کے لئے رکھا تھا شاید وہ چاہتا تھا کے حور یہ پہن کر نیچے آے۔۔حور نے آئی برو چڑھا کر سینے پر ہاتھ باندھ کر اس حسین فراک کا جائزہ لیا۔۔
جس کا گلہ کافی پھیلا ہوا تھا شاید اس کے کاندھے سے نیچے تک جاتے۔۔سامنے نیٹ پر موتیوں سے شاندار کام کیا گیا تھا۔۔اس کے پورے آستین نیٹ کے بنے تھے۔۔اوپر سے فٹ اور نیچے سے کافی پھیلی ہوئی حسین فراک تھی وہ۔۔۔
میں اب کیا سارا دن یہ پہن کر گھومتی رہوں گی۔۔منہ بنا کر سوچتی وہ آگے بڑھی تو دیکھا سامنے ہی اذہاد کی بلیک ٹی شرٹ لٹکی تھی جو شاید اس نے صبح کچھ دیر کے لئے پہنی ہو گی۔۔میرے بیچارے میاں کو ایک تو صبح جلدی اٹھنے کا خبط ہے۔۔۔اس کی ٹی شرٹ اٹھاتی ڈھونڈ ڈھان کر اپنے رکھے کپڑوں سے ایک جینز نکالتی وہ باتھروم میں گھس گئی۔۔۔
وہ چاہتی تو اذہاد کی كبرڈ سے اس کی نیو ٹی شرٹ بھی نکال کر پہن سکتی تھی۔۔مگر اس شرٹ سے آتی اذہاد کی اپنی خوشبو سے اسے محبت تھی۔۔
لمبے گیلے بالوں کو ایسے ہی نم چھوڑے گلاب کے پھول ہاتھ میں لئے دروازہ کھولتی ایک گہرا سانس لیتی آگے بڑھی۔۔۔
جاسوسوں کی طرح ادھر اودھر دیکھتی وہ آہستہ قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی۔۔ہادی نے اگر کچھ بھی کہا تو میں بھول جاؤ گی وہ بیچارے شوہر ہیں۔۔ویسے احتیاط سے جانا فضول ہے انہیں ویسے بھی میرے وجود کا احساس ہو گیا ہو گا اپنے قریب۔۔وہ یہ سوچتی ایک ہاتھ سر پر مار کر سیدھی ہوتی آہستہ قدموں سے آگے بڑھنے لگی۔۔
اذہاد جو کچن میں اس کی طرف رخ موڑے اپنی حور کے لئے کوئی نئی ڈش ايجاد کر رہا تھا۔۔اس کے وجود کی خوشبو کے احساس سے مسکراتا ہوا بے اختیار گھوم کر اس کی طرف پلٹا۔۔
مگر یہ کیا جو اس نے سوچا تھا حور نے اس کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا۔۔وہ مسنوعی ناراضگی سے اسے دیکھ رہا تھا جو سامنے رکھی کرسی پر خاموشی سے آکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
حور نے ذرا سی نظریں اٹھا کر سامنے دیکھنے کی کوشش کی جہاں وہ بلیک بنیيان اور جینز پہنے بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
حور نے خشک گلہ تر کیا۔۔اور گود میں رکھے ہاتھ اب نیچے سے کرسی کو مظبوطی سے تھام چکے تھے۔۔وہ اس کے بولنے کے انتظار میں تھی۔۔۔
وہ تو کیا کیا نہیں سوچ کے بیٹھا تھا اس کے جاگنے کے بعد۔۔مگر یہاں تو وہ اس سے دور کونے میں ایسے بیٹھی تھی جیسے جانتی ہی نا ہو۔۔
وہ بیچارگی سے اسے صرف خود سے دور بیٹھا دیکھ کر اپنے خوابوں کے پانی پھیرنے پر افسوس سے دیکھ رہا تھا۔۔
ہاتھ میں پکڑا کپڑا زور سے سامنے سلپ پر پھینکا۔۔اور لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھے حور کی طرف غصے سے دیکھتا ماتھے پر بل ڈالے۔۔۔حور میںنے شاید آپ کے لئے اوپر کپڑے نکال کر رکھے تھے۔۔ ڈھیلی ٹی شرٹ جو اس کے گوٹھنوں سے بھی نیچے جا رہی تھی کھلے آستینوں سے نظر آتے سفید پتلے مہندی سے سجے بازو کو دیکھتا بولا۔۔
میرا دل نہیں کر رہا تھا۔۔وہ گردن نیچے کی طرف جھکاتی ہونٹ دانتوں سے کاٹتی بولی۔۔
حور میری طرف دیکھو۔۔۔اذہاد نے سخت آواز میں حکم دیا۔۔
حور نے منہ بنا کر مشکل سے گردن اٹھا کر اسکی طرف دیکھا جہاں وہ اسے ہی ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔
آج کی صبح میرے لئے حسین صبح تھی حور مکمل ہونے کا احساس اپنی محبت کو پالینے کی خوشی۔۔ میںنے کیا کیا نہیں سوچا تھا کہ تم مسکراتی ہوئی میرے قریب آؤ گی۔۔آہ۔۔مگر افسوس۔۔وہ روکا۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا میری حور میری محبت پا کر بدل جاۓ گی ایسے اجنبی بن جائے گی۔۔وہ دکھ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
نہیں ہادی ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔وہ اب اس کی باتیں سن کر گھبراتی ہوئی بولی تھی۔۔یہ تو الٹا ہی ہوگیا تھا۔۔۔
پھر کیسی بات ہے؟؟وہ دکھ سے گردن دائیں بائیں ہلاتا اسے دیکھ رہا تھا۔۔
حور کی تو اب جیسے جان نکلنے لگی تھی۔۔وہ رونے دھونے کا فل موڈ بنا چکی تھی۔۔۔اذہاد کو خواب میں بھی دکھ دینے کا وہ سوچ نہیں سکتی تھی۔۔اس کی ذرا سے تکلیف حور کو خود پر پہاڑ جیسی لگتی تھی۔۔وہ بے اختیار اٹھ کر اس کی طرف بڑھنے لگی تھی جب اذہاد نے ہاتھ سے اسے وہی روک دیا۔۔۔حور کے آنسو اب بس آنکھوں میں بھرنے ہی ہی لگے تھے۔۔۔
تم تو ایسے منہ لٹکا کے بیٹھی تھی حور جیسے خدا نا خاستہ میں نے تمہارے ساتھ کچھ غلط کر دیا ہو۔۔۔۔ان کپڑوں میں تمھیں دیکھ کر تو ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی بچی سے شادی کر لی ہو میںنے۔۔۔ویسے کافی خوبصورت لگ رہی ہو یار۔۔۔وہ اب دانتوں کی نومائیش کرتا بول رہا تھا۔۔
یہ سب اس کی شرارت تھی۔۔حور اب اس بنی ساری کھچڑی سمجھتی ہوئی اس کے پیچھے بھاگی۔۔
اذہاد آگے آگے حور پیچھے پیچھے۔۔۔
روکو میں بتاتی ہوں ہادی۔۔وہ دانتوں کو پیستی ہوئی اسے دیکھ کر بولی تھی۔۔
یار اب جہاں مجھے اتنا تنگ کیا ہے وہاں اتنا سا تنگ کرنا تو بنتا تھا نا۔۔۔ور ویسے بھی یہ سزا بھی ہے تمہاری۔۔وہ اس سے دور کھڑا بول رہا تھا۔۔
حور کے ہاتھ میں لکڑی کا بڑا چمچ تھا۔۔یہاں آئیں ہادی میں پیار سے بول رہی ہوں۔۔
آنا تو میں بھی چاہتا ہوں تمہارے پاس مگر اسے رکھو نا۔۔وہ معصومیت سے بولا تھا۔۔
حور ایک بار پھر اس کے پیچھے بھاگنے لگی تھی اور اذہاد پھر آگے اس کے قہقہ پورے گھر میں گونج رہے تھے۔۔
تبھی وہ آگے بھاگتے ہوے اچانک روک کر اس کی طرف موڑا تھا حور جو تیز اس کی طرف بھاگتی آرہی تھی اچانک بریک نا لگا سکی اور زور سے اس سے ٹکرائی تھی۔۔اذہاد ہنستے ہوے اس کے نازک وجود کو اپنی پناہوں میں بھر چکا تھا۔۔اس کی ہنسی میں اب حور کی ہنسی بھی شامل تھی۔۔۔
دونوں مزے سے اپنے کمرے کی بالكونی میں بیٹھ کر اب ناشتہ کر رہے تھے۔۔اذہاد نے اس کے لئے بہت محبت اور محنت سے صبح اٹھ کر بہت کچھ بنایا تھا۔۔
ہادی کہاں سے سیکھی اتنی اچھی کوکنگ۔۔وہ اب اس سے جڑ کر بیٹھی اس کا كسرتی بازو کو باہوں میں لیتی اس کے کاندھے پر سر رکھے بول رہی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے والی جو بھی جھجھک تھی اس کا اب ناموں نشان تک نہیں تھا۔۔
وہ اس کا محبوب بھی تھا شوہر اور سب سے بڑھ کر ایک دوست بھی۔۔وہ ہر روپ میں اس کے سب سے قریب ہی تھا۔۔
بس یار کچا پکا بنا کر سیکھ گیا۔۔وہ کیک کا ٹکڑا اس کے ہونٹوں کے قریب لاتا بولا۔۔
حور نے اس کا ہاتھ تھام کر کیک کا تھوڑا پیس کھایا اور بچا ہوا اذہاد کے منہ کی طرف کیا جسے اس نے پورا کھا لیا۔۔اذہاد نے اسے سب اپنے ہاتھ سے ہی کھلایا تھا۔۔
ہادی میرے سرتاج اتنا اچھا ناشتہ میرے لئے بنانے پر دل کرتا ہے آپ کے ہاتھ چوم لو۔۔وہ اس کی طرف دیکھتی ادا سے بولی تھی۔۔
جاری ہے
