Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17

اذہار گاڑی چلاتے بار بار حور کو دیکھ رہا تھا۔۔
مجھے آپ نے بتایا نہیں رات کو کیا ہوا تھا جو آپ نے فون نہیں اٹھایا اپنی یہ حالت بنائی ہوئی ہے؟؟
حور گرینڈپا کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی۔۔ اور اس نے ساری بات حور کو بتائی۔۔
ہادی آپ کو مجھے بتانا چاہیے تھا میں آجاتی ہوسپیٹل ابھی گرینڈ پا کی طبیعت کیسی ہے؟؟
چلیں ہم ان کے پاس ابھی چلتے ہیں۔۔۔حور اس کی ساری بات سنتی فورا بولی۔۔
نہیں حور ابھی وہ ٹھیک ہیں کچھ دن میں گھر آجائیں گے پھر میں تمہیں ان سے ملواؤں گا ابھی نہیں۔۔
ہادی میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں وہ بیمار ہیں۔۔حور اذہاد کی منت کرتی ہوئی بولی۔۔
وہ گھر آئیں گے پھر اور ویسے بھی ابھی وہ سو رہے ہوں گے۔۔۔آزہاد نے اسے پیار سے سمجھایا۔۔۔
آخر حور نے ہار مان لی کے اب اذہاد کے آگے وہ کیا بولے۔۔۔
آپ نے کچھ کھایا ہادی ؟؟ حور نے پلٹ کے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
آزہاد نے ہونٹوں کو نیچے کی طرف جھکاتے ہوئے معصوم شکل بنا کے حور کو دیکھا اور حور کی ہنسی نکل گئی۔۔
میرے ہاتھ کا کھانا کھائیں گے؟؟ حور نے آہستہ سے معائنہ خیز انداز میں پوچھا۔۔
اذہاد کی آنکھیں چمک گئی۔۔۔ نیکی اور پوچھ پوچھ اذہاد نے گاڑی اس کے گھر کی طرف موڑ دی۔۔
آپ سب سے پہلے منہ ہاتھ دھولیں اوکے۔۔۔وہ اسے مشورہ دیتی کچن میں آگئی اور اظہار اس کے واش روم میں میں آیا۔۔
وہ اس کے خوبصورت گلابی صابن کو دیکھتا ہنس دیا..
محبت کے اظہار کے بعد محبت کو محسوس کرنا بہت خوبصورت لگ رہا تھا اس احساس سے بڑھ کر جیسے کچھ بھی نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ حور بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتی تھی جتنی وہ اس سے کرتا تھا اور وہ اس سفر میں اس کے ساتھ ہے۔۔
وہ اس کے صابن سے منہ دھو تا اس کے ٹاول سے منہ صاف کرتا جیسے حور کو محسوس کر رہا تھا جب وہ باہر آیا تو دیکھا حور کچن میں کھڑی سبزیاں کاٹ رہی تھی شاید کچھ بناتے ہوئے وہ سب ویسے ہی چھوڑ کر گئی تھی وہ آستینوں کو اوپر کرتا اس کے برابر آتا کھڑا ہوا وہ اس کے کاندھے سے بھی نیچے جا رہی تھی اس نے گردن اٹھا کہ آزہاد کو دیکھا اور آزہاد نے مسکراتے ہوئے حورکو دیکھا اذہار نے آہستہ سے اس کے ہاتھ سے چھری لے لی اور کٹ بورڈ اپنی طرف گھما لیا۔۔
نہیں آپ رہنے دیں میں کرلوں گی ہادی۔۔ وہ نانا کرتی رہی مگر آزہاد نے اس کی ایک نہیں سنی۔۔۔
وہ اس کے چلتے ماہر ہاتھوں کو حیران ہوکے دیکھ رہی تھی جیسے وہ کوئی شیف ہو وہ بہت تیز ی اور خوبصورت سے سبزیاں کاٹ رہا تھا باریک باریک۔۔۔
حور نے ان سبزیوں کا سوپ بنایا اور دو ڈشز بھی بنائی جس میں آزہاد نے پوری مدد کی اس کی۔۔۔
ہادی آپ کوکنگ کا شوق ہے؟؟ حور نے اس کے سبزیاں کاٹنے کے انداز کو اور کھانے میں اس کی مدد کرنے کو دیکھتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا۔۔
ہاں شوق ہے مگر یہ شوق میں کبھی کبھی موڈ میں جب ہوتا ہوں تو پورا کرتا ہوں۔۔
پھر دونوں نے مل کر ہنستے ہوئے باتیں کرتے ایک دوسرے کو چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے حسین لمحوں میں کھانا کھایا۔۔
حور نے بہت اچھا کھانا بنایا تھا اذہار کو بہت پسند آیا تھا۔۔۔
ہادی میرے ہاتھ کی چائے پیئے گے ؟؟حور نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں کیوں نہیں آزہاد نے فورا کہا اور حور اس کے لئے فورا چائے بنا کے لائ وہ خوشی سے اسے دیکھ رہی تھی آزہاد جس نے ساری زندگی بلیک کافی ہی پی تھی آج اس کی چائے اسے کیسی لگتی ہے؟؟
آزہاد نے چائے کی پیالی میں دیکھا وہ اسے بالکل حور کی طرح لگی گوری چٹی اور میٹھی میٹھی سی۔۔۔
اذہاد نے حور کو ہنستے ہوئے دیکھا اور ایک سیپ لیا حور دلچسپ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
آزہاد نے دونوں آنکھیں بند کرکے کھولیں اور زبان ہونٹوں پر پھیلی۔۔
کیسی لگی ہادی؟؟ حور نے خوش ہوتے تجسوس سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
اذہار نے سب سے پہلے اپنا گلا کھنکارا اور بولا ہممم۔۔۔ ویری نائس۔۔
حور نے اس کے کمنٹس سن کے خوشی سے اپنا کپ اٹھایا۔۔۔
یہ پہلی اور واحد چائے تھی جواب ازہاد نے ساری زندگی پینی تھی صرف حور کے ہاتھ کی بنی چائے۔۔
ورنہ کسی چائے کی مجال جو اس کی بلیک کافی کی جگہ لے ناممکن۔۔۔۔۔
ہادی آپ تو میری ساری ہسٹری کے بارے میں جانتے ہیں میری فیملی میری پسند سب کچھ مجھے آپ کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔۔وہ آنکھیں جھکائے معصومیت سے اسے بول رہی تھی۔۔
اذہاد کے چہرے پر ایک پل کے لئے سایہ لہرایا اور مسکراہٹ غائب ہو گئی پھر اس نے خود کو کمپوز کرکے دوبارہ مسکراتے ہوئے حور کو دیکھا اور بولا۔۔
میں ضرور تمہیں اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤں گا تمہیں نہیں بتاؤں گا تو کسے بتاؤں گا تمہی تو ہو جس نے سالوں سے بند اس کتاب کو کھولا ہے میری زندگی کا ہر صفحہ تمہارا منتظر ہے تم مجھے حرف حرف پڑھو گی سمجھو گی۔۔ وہ معنی خیزی سے اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا اور ہور نہ سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی آزہاد ابھی اور بہت کچھ کہنا چاھتا تھا حور سے کہ اس کا فون بجا ازہار نے فون دیکھا جہاں گرینڈ پا کی کال آرہی تھی۔۔۔
حور مجھے جانا ہوگا آج کے لئے اتنا ہی ہم کل پھر ملیں گے اوکے۔۔ وہ چائے رکھتا جلدی سے اٹھا۔۔
حور اس کی جلد بازی دیکھ کے ارے ارے کر رہی تھی ہادی چاہے تو پیتے جائیں۔۔
اذہاد جاتے جاتے الٹے قدموں سے مڑا اور ایک گھونٹ میں ساری چائے حلق سے نیچے اتاری اور حور طرف آیا حور کھانا اور چائے بہت اچھا تھا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے تھام کے ایک گہری نگاہ اس پر ڈالتا ازہاد واپس دروازے کی طرف بڑھا۔۔
حور اس کے ساتھ چلتی دروازے تک آئی وہ تیز قدموں سے گاڑی تک گیا۔۔۔
ہادی میرے لینڈ لائن نمبر پر فون کرکے پلیز مجھے گرینڈ پا کی طبیعت سے آگاہ کیجئے گا۔۔۔حور نے پیچھے سے اسے ہانک لگائی۔۔۔
آزہاد نے اسے پلٹ کے دیکھا اور سر تک ہاتھ لے جاکر سلیوٹ کیا۔۔یس باس۔۔
حور اس کے اس انداز پر ہنس دی۔۔
آزہاد کا یہ روپ اگر کوئی اور دیکھ لیتا تو شاید وہ یقین نہیں کرتا یا بے ہوش ہو جاتا یا اذہاد کو آزہاد ماننے سے ہی انکار کر دیتا۔۔۔وہ کل رات سے جتنا روئی تھی اس سے زیادہ اب وہ خوش تھی محبت ہے ہی سترنگی ہر روپ ہے اس کا۔۔ جس نے آزہاد جیسے بندے کو ہنسنا سیکھا دیا اسے بدل دیا پتھر جیسا دل موم کر دیا۔۔
آزاد نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے دیکھتا ایک ہاتھ ہونٹوں پر رکھتا اسے فلائنگ کس کی اور حور نے منہ آنکھیں حیرت سے کھولتے آزہاد کو دیکھا زور سے دروازہ اس کے منہ پر بند کیا۔۔بہت ہی بے شرم ہیں وہ لال سرخ ہوتی بولی۔۔
اور اذہاد جانتا تھا اس کا چہرہ اس وقت شرم سے لال سرخ ہو گیا ہوگا۔۔وہ اس کا چہرہ تصور کرتا زور سے ہنسا۔۔۔اذہاد اسے تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتضیٰ حور کو آنے میں ابھی کتنا وقت ہے۔۔داؤد ویسے تو حور سے روز بات کرتے تھے مگر وہ جانتے نہیں تھے کہ وہ کب آئے گی اگر اس سے پوچھتے تو اسے شک بھی ہو سکتا تھا اس لئے انہوں نے ارتضیٰ کو شہر فون کیا تھا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ وہ کب آرہی ہے پاکستان۔۔۔۔
بابا اس کا ایک سال ابھی کمپلیٹ ہونے والا ہے اب ایک سال ہی رہ گیا ہے پھر وہ آجائے گی۔۔
ہممم۔۔۔ داؤد نے کچھ سوچا۔۔ٹھیک ہے ارتضیٰ پھر ہم شادی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں اس کے آتے ہی ہم شادی بالکل لیٹ نہیں کریں گے ٹھیک ہے۔۔۔
جی بابا جیسا آپ کہیں اس کے آنے سے ایک دو مہینے پہلے آپ لوگ باقاعدہ طور پر رشتہ لائیں اور ہم سب مل کر بیٹھ کے بات کرکے ان کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دیں گے۔۔۔
ہاں یہ بالکل ٹھیک کہا تم نے ارتضیٰ۔۔۔ داؤد کو بیٹے کی بات دل پر لگی وہ فورا ان کی بات مان گئے۔۔۔
ارتضیٰ کو حور کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں تھی وہ ان کی بیٹی تھی جس نے باپ کے ہر فیصلے پر سر جھکانا تھا۔۔
اور وہاں داؤد بھی بالکل بےفکر تھے کیونکہ حور نے ان کے پاس اپنا وعدہ محفوظ رکھوایا تھا۔۔حور کے نہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہونا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرن ٹرن۔۔۔فون کی بیل بجی زیاد نے فون اٹھایا۔۔
ہیلو زیاد التمش عریض؟؟
جی میں ہی ہوں کون؟؟
زیاد التمش عریض آپ کے بابا کی طبیعت بہت خراب ہے وہ آپ کو یاد کر رہے ہیں آپ ایک بار ان سے آگے مل لیں۔۔
یہ کہہ کر سامنے والے نے فون کاٹ دیا اور زیادہ فون ہاتھ میں لیے ہیلو ہیلو کرتا رھ گیا اس نے ساری بات جنت کو بتائ وہ بہت پریشان ہو گیا تھا باپ کی خبر سن کے۔۔
آپ فکر نہیں کریں زیاد آپ فورن ٹکٹ کنفرم کروائیں اپنی۔۔جنت نے ایک اچھی بیوی ہونے کا پورا فرض ادا کیا۔۔
مگر جنت میں تمہیں اور اذہاد کو اکیلے چھوڑ کے کیسے جا سکتا ہوں؟؟ زیاد نے فکر مند ہو کر کہا۔۔
آپ بالکل فکر نہیں کریں زیاد اذہاد میرے پاس ہے اور پھر آپ جلدی آ جائیے گا۔۔ جنت نے اس کی ہمت بڑھائی۔۔۔ زیاد کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر فون اٹھاتا اپنی سیٹ کنفرم کروائی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت ایئرپورٹ پر کھڑے تھے زیاد نے آزاد کو گود میں اٹھایا وہ آٹھ سال کا سمجھدار بچہ تھا ذہانت تو اسے ماں باپ دونوں سے وراثت میں ملی تھی۔۔۔
اذہاد اپنی مما کا بہت خیال رکھنا چیمپ مجھے معلوم ہے تم یہ اپنی ذمہ داری کو اچھے سے نبھاؤ گے جنت اگر میرا دل ہے تو تم اس کی دھڑکن ہو اور ایک انسان کے لیے دونوں چیزیں اہم ہے زندہ رہنے کے لیے۔۔
آپ بالکل فکر نہیں کریں بابا میں مما کا پورا خیال رکھوں گا آپ بس جلدی آجائیے گا واپس ہمارے پاس۔۔زیاد اس کی معصومیت پر مسکرا دیا۔۔۔آپ کو پتہ ہے اذہاد آپ کے دادا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ ان کے لیے دعا کرنا وہ جلد ٹھیک ہوجائیں۔۔۔
بابا مجھے نہیں پتہ کہ وہ میرے دادو ہیں یا نہیں کیونکہ میں نے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں تو وہ میرے دادو کیسے ہو گئے؟؟ ہاں وہ آپ کے بابا ضرور ہے جس دن وہ مجھے اور میری مما کو اپنا لیں گے اس دن میں بھی انہیں اپنا دادو مان لونگا۔۔۔
زیاد نے آزہاد کو سینے سے لگایا باتیں تو وہ بہت سمجھداری کی شروع سے ہی کرتا تھا کہ بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دے ماں باپ سے بڑھ کر اولاد کو کون جان سکتا ہے۔۔
زیاد اب جنت کی طرف مڑا۔۔ آزہاد کا اور اپنا بہت خیال رکھنا میں جلد واپس آؤں گا تم دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھنا یہ کہتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔۔
آزہاد اور جنت نے اسے دور جاتے ہاتھ ہلا کے بائے کیا۔۔ آگے جاتے آخری بار اس نے پلٹ کے ایک نظر بھر کے اپنے پیاروں کو دیکھا وہ جا تو رہا تھا مگر اپنا دل دماغ سب کچھ ان کے پاس چھوڑ کے جا رہا تھا کس کو پتہ تھا کہ قسمت آگے کیا چاہتی ہے بچھڑنے والے پھر نہیں ملتے کس کو پتہ ہوتا ہے کے آگے کیا ہونے والا ہے ؟؟؟
زیاد کو نکلے 15 گھنٹے ہوگئے تھے اور زیاد کا کوئی فون وغیرہ ابھی تک نہیں آیا تھا جنت اس کے لیے بے حد پریشان ہو رہی تھی۔۔۔
مما اٹس اوکے بابا فون کر لیں گے آپ ٹینشن نہیں لیں۔۔ اظہاد نے ماں کو پریشان دیکھ کے سمجھایا۔۔ ہاں اذہاد مگر 15 گھنٹے اہمیت رکھتے ہیں اپنی خیر خبر تو دے دیتے زیاد ۔۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔
جنت نے اپنا ذہن بٹانے کے لیے ٹی وی کھول ورنہ وہ ایسی بیٹھے بیٹھے پتا نہیں کیا کیا عجیب غریب سوچیں سوچتی رہتی۔۔ ٹی وی کھلتے ہی سامنے نیوز چل رہی تھی۔۔اور جنت آنکھیں پھاڑے اس چلتی خبر کو دیکھ رہی تھی اور تھوڑی ہی دیر میں اس کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھی۔۔
ایک نام۔۔۔۔۔۔۔ ایک ذکر۔۔۔۔
ایک تم۔۔۔۔۔۔۔ ایک تمہاری فکر۔۔۔
بس یہی تو ہے۔۔۔۔۔
عشق میرا۔۔۔۔۔۔۔ زندگی میری۔۔۔
حور تمہارا فون کیوں نہیں لگ رہا تھا میں صبح سے ٹرائی کر رہا۔۔ہوں ارتضیٰ بولے۔۔۔۔
حورا یکدم گڑ بڑائی۔ ۔۔ جی بابا وہ گر کے ٹوٹ گیا صبح میں دوسرا لے کر آپ کو نمبر سینڈ کر دوں گی۔۔ اچھا بیٹا تم ٹھیک ہو؟؟
جی بابا میں بالکل ٹھیک ہوں آپ بتائیں آپ کیسے ہیں مما کیسی ہیں پاکستان میں سب کیسے ہیں؟؟
وہ رات میں پاکستان بات کر رہی تھی ویڈیو کال پے اب اور کتنے دن رہ گئے ہیں حور تم کب واپس آ رہی ہو؟؟ ہم سب تمہیں بہت مس کر رہے ہیں؟؟ پیچھے سے عظمیٰ دکھائی دیتی بولی۔۔
حور ہنسی بہت جلد مما۔۔ وہ مسکراتی ہوئی بولی۔۔ اچھا اب میں جاؤ آپ سے بعد میں بات ہوگی رات بہت ہوگئی ہے مجھے صبح ہوسپٹل بھی جانا ہے اللہ حافظ۔۔۔۔
اوکے بیٹا اللہ حافظ اپنا بہت خیال رکھنا ماں باپ نے اسے جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا۔۔
کیا ماما بابا دادو مان جائیں گے اذہاد کے لیے؟؟وہ لیپ ٹاپ بند کرکے سوچنے لگی۔ابھی وہ اس سے آگے بھی سوچتی کے دروازے کی بیل ہوئی۔اور دوسری طرف لینڈلائن فون بجا وہ دروازے کو چھوڑ کر فون کی طرف بڑھی۔
ہیلو۔۔۔حور فون اٹھاتی بولی۔۔۔
حور میں نے کچھ بھیجا ہے دروازہ کھولو۔۔ یہ کہہ کر آزہاد نے فون کاٹ دیا۔۔۔
حور فون رکھتی دروازے کی طرف بڑھی۔۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک خوبصورت سی لڑکی کو کھڑے دیکھا۔۔۔ ہیلو میم یہ آپ کے لئے بھیجا ہے سرنے۔۔۔
حور نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک تجسس سے دیکھا اور اس کے ہاتھ سے وہ بیگ تھام لیا۔۔
آپ کون ہیں ویسے؟؟ وہ لڑکی پلٹ کر جانے ہی لگی تھی کہ حور نے پیچھے سے اس سے سوال کیا۔
لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھتی اپنی گاڑی میں بیٹھ کے چلی گئی۔۔
حور اس کی بدتمیزی پر ایک دم جل کے آگ بگولہ ہو گئی اور بڑبڑاتے ہوۓ اندر آئی۔بیگ کھولا تو اس میں سے ایک بے حد قیمتی موبائل نکلا جس میں مائی لو کے نام سے کال آرہی تھی۔اس نے یس کر کے فون کان سے لگایا۔۔
ہائے سویٹ ہارٹ۔۔ آزہاد نے اس کے فون اٹھاتے ہی چڑھتے ہوئے اُس سے کہا۔۔
حور پہلے ہی تپی ہوئی تھی اوپر سے آزہاد نے سویٹ ہارٹ بول کے اسے اور آگ لگا دی۔۔ہادی آپ کے پر بہت تیزی سے نکل رہے ہیں ایسا نہ ہو ان پروں کو میں کاٹ دوں۔۔وہ غصے سے بولی۔۔۔یہ مائی لو کون ہے؟ حور نے چھوٹتے اس سے سوال کیا۔۔
میں ہوں۔۔آج سے یہ تمہارا فون ہے۔۔تو تمہارا لوو کون ہے میں ہوں نا تو میں نے اپنا نمبر تمہارے فون میں اس نام سے صرف کر دیا۔۔بڑی شرارت سے جواب دیا گیا۔۔۔
حور اس کی بات سن کے لال سرخ ہوگئی بہت فضول بولتے ہیں آپ ہادی مائی لو نہیں آپ کا نام جلاد کے نام سے سیو کرنا چاہیے۔۔وہ مصنوعی غصے سے بولی۔۔
حور میں نے تمہارے معملے میں اپنا جلاد والا روپ کاٹ دیا ہے اوکے اب اس کی جگہ لو ایڈ کر دیا ہے سو مجھے اب مائی لو کہہ کر مخاطب کرو اچھا۔۔۔آزہاد نے اسے بچوں کی طرح سمجھایا۔۔۔
ہادی مجھ سے فالتو کی باتیں کرنا بند کریں یہ بتائیں اتنا مہنگا فون بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟؟واپس لے کر جائیں اسے میں خود دوسرا لے لوں گی۔۔ وہ ایک آئی برو اٹھا کے اسے سختی سے بولی۔۔
آزہاد ایکدم سیدھا ہوا حور یہ تمہارے اور میرے بیچ مہنگا سستا کہاں سے آگیا ؟؟ آج سے جو میرا ہے وہ تمہارا ہے اور جو تمہارا ہے وہ میرا ہے فون توڑا میں نے ہے تو میرا فرض بنتا ہے میں ہی فون تمہیں لے کر دوں گا۔اور پھر تم مجھ سے نہیں کہو گی تو کس کو کہوں گی اور میرا حق بنتا ہے کہ میں اپنی حور کو پیار سے جو بھی چیز دوں وہ اسے قبول کرے۔۔آفٹر آل اب میں ہی تو ہوں۔۔اور اگر اب تم نے دوبارہ ہمارے بیچ یہ فرق کیا تو اچھا نہیں ہو گا۔۔وہ ایک ایک لفظ ٹھہر کر بولتا روب سے اسے خود سے منوا رہا تھا۔۔۔
اوہ ہ ہ۔ ۔۔۔تو آپ ابھی سے مجھ پر روب جما رہے ہیں؟؟حور ہنستی ہوئی بولی۔۔
اسے روب نہیں حور اسے محبت کہتے ہیں۔میں تم سے محبت کرتا ہوں اس لئے تمہاری فکر کرتا ہوں مجھے اچھا لگتا ہے کہ تم میری دی چیزوں کو استعمال کرو
حق سے محبت سے اپنا سمجھ کے۔۔
حور اس کی بات سن کے ایک پل کے لئے خاموش ہی ہوگی اور اذہار بھی اس کی خاموشی نوٹ کرتا اس کی سانسوں کو محسوس کرتا رہا۔۔۔۔
ہا۔۔۔ہادی گرینڈ پا کی طبیعت کیسی ہے ؟؟کچھ دیر بعد ہور نے پہل کی۔۔۔
گرینڈ پا بلکل ٹھیک ہیں حور وہ صبح سے ابھی تک دوائیوں کے زیر اثر ہی سو رہے ہیں۔۔
ہہممم۔۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہادی یہ ان کے لیے ٹھیک ہے وہ جتنا آرام کریں گے ان کے لئے اتنا اچھا ہے۔۔ خور نے اسے تسلی دی۔۔
اچھا ہادی اوکے بائے میں فون رکھ رہی ہوں صبح مجھے جلدی اٹھنا ہے اوکے۔۔ اللہ حافظ۔۔
حور نہیں ابھی بات کرو۔۔۔حور۔۔۔حور۔۔۔ اور سامنے سے حور فون کاٹ چکی تھی۔۔ اذہار نے کان سے فون ہٹا کے غصے سے فون کو دیکھا جیسے حور فون میں اسے نظر آرہی ہو۔لڑکی چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں یہ کہتا وہ گرینڈ پا کے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔
حور اس کے غصے کو جانتی تھی وہ ہنستی ہوئی آنکھیں موند کے لیٹ گئی آنکھیں بند کرتے ہی پلکوں کے پیچھے اذہار کی تصویر اس کی حرکتیں گھومنے لگی۔حور کے لبوں نے ایک حسین مسکراہٹ کو چھو لیا۔۔۔
جسے یاد کرنے سے۔۔
لبوں کو ہنسی چھو جائے۔۔
ایک ایسا خوبصورت خیال ہو تم ۔۔۔۔
اور کب وہ اذہاد کو سوچتی ہوئی سو گئی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔
اذہاد کچھ دیر ہی گرینڈ پا کے پاس بیٹھا تھا جب ان کی آنکھ کھلی۔۔۔
اذہاد۔۔۔ انہوں نے اسے پکارا۔۔۔
جی گرینڈ پا۔۔وہ ان کے قریب آتا بولا۔۔۔
اذہاد تم گھر نہیں گئے تھے؟؟ انہوں نے پوچھا۔۔
جی گھر سے ہی تو آیا ہوں۔۔ اس نے معنی خیزی سے گرینڈ پا کو جواب دیا۔۔
اچھا تو پھر کپڑے کیوں چینج نہیں کیے؟؟ انہوں نے بھی اسے نہ بخشنے کی قسم کھائی تھی۔۔
وہ کیا ہے نہ گرینڈ پا وہ چھوٹا سا پیارا سا گھر ابھی ابھی میرا ہوا ہے ابھی تھوڑا ٹائم لگے گا مجھے وہاں سیٹ ہونے میں وہاں میرے کپڑے اور میرا سامان سیٹ ہونے میں۔۔ وہ سر کھجاتا ہوا بولا اور گرینڈ پا آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھنے لگے ساری بات ان کے سر سے جیسے گزر گئی تھی جو آزہاد نے ان سے کہی تھی۔۔
آزہاد یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟؟وہ اپنے بیمار دماغ پر زور دیتے ہوئے اس سے بولے ۔۔
گرینڈ پا آپ پلیز آرام کرلیں ذہن پر زور نہ دیں۔۔ وہ جلدی سے انہیں سمجھ آتا ہوا بولا۔۔۔ورنہ ان کے سوال جو شروع ہوتے تو ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتے۔۔
ٹھیک ہوں میں آپ جاؤ تم گھر جاؤ اور جا کر آرام کرو لگتا ہے ایک رات جاگ کر ہی تمہارا دماغ گھوم گیا ہے۔۔۔
وہ ان کی بات پر ہنسا اوکے آپ آرام کریں میں بھی گھر جا رہا ہوں۔۔وہ اٹھا ان کے سر پر پیار کرتا باہر نکل گیا اب پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی وہ ٹھیک تھے اور ان کا خیال کرنے کے لئے یہاں ایک بہت اچھا اسٹاف موجود تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں کی چیخ و پکار سن کر اذہار بھاگتا ہوا آیا ماں کے پاس اور روتی چیختی ماں سے لپٹ گیا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ روتی بلکتی ماں کو کیسے سنبھالے۔۔جب ہی آزہاد نے نیوز چینل پر چلتی خبروں کی آواز سنی جہاں بتایا جارہا تھا امریکہ سے مصر کی جانے والی فلائٹ کا جہاز خرابی کی وجہ سے کریش ہو گیا ہے اور وہ حادثہ اتنا شدید تھا کہ کسی کی جان بچ جانے کی امید بالکل نہیں تھی آزہاد کو الفاظ اپنے کانوں میں موت کا پیغام لگے۔۔۔
جنت کی تو جیسے دنیا ہی اجڑ گئی تھی ایک یہی محبوب شوہر تھا جو اس کے سکھ دکھ کا ساتھی تھا جب دنیا نے ٹھکرا دیا تھا تو اسی نے تو ہاتھ تھاما تھا وہ سارا دن روتی چیختی اسے پکڑتی رہتی تھی پاگلوں کی طرح اور آزہاد خاموش کونے میں بیٹھا ماں کو گم سم دیکھتا رہتا تھا کیونکہ وہ اس حالت میں نہیں تھی کہ اسے سمجھایا جائے۔۔۔
بیٹے نے اپنی جان گواہ کر باپ کی انا کا پرچم بلند رکھا جو باپ بارہ سال سے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہا تھا اب انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مر کر بھی جینا تھا اکلوتا بیٹا ہمیشہ کے لئے اب ان سے ناراض ہو کر چلا گیا تھا۔بنا ملے بنا اپنا چہرہ دکھاے۔۔۔التمش بیٹے کی موت کی خبر سن کر ٹوٹ گئے تھے۔۔
آزہاد تو جیسے باپ کے جانے کے بعد خاموشی ہو گیا تھا۔۔وہ باپ جو دنیا میں واحد اس کا دوست تھا جو ہر اچھی بری بات اسے پیار سے سمجھا تھا جو اس آٹھ سال کے بچے کا آئیڈیل تھا۔۔ اذہاد باپ کی موت کی رات بس رویا تھا اپنی ماں سے لپٹ کے بےتحاشا پھوٹ پھوٹ کے اور پھر ہمیشہ کے لئے جیسے وہ خاموش ھوگیا تھا اس کی آنکھیں خشک ہو گئی تھی اب اسے مضبوط بن کر اپنی ماں کو سنبھالنا تھا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *