Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38

مما میںنے کون سا ہمیشہ رہنا ہے۔۔آپ دیکھنا حور کے ٹھیک ہوتے ہی میں نے آپ کے پورے گھر پر قبضہ جما لینا ہے۔۔وہ انہیں ہنسانے کی کوشش کرتے ہوے خود سے لگاتے آہستہ قدم اٹھاتا ہسپتال کی طرف چلنے لگا۔۔
اللہ‎ میری حور کو جلد ٹھیک کر دے۔۔۔دل سے ایک درد بھری دعا نکلی تھی انکے۔۔
امین۔۔۔اذہاد کے تڑپتے دل نے انکی دعا پر امین کہا۔۔
وہ دونوں ماں بیٹے ڈھیر ساری باتیں کرتے ہوے حور کے پاس چلے آے تھے۔۔
جہاں وہ مطمئن۔۔ڈھیر ساری معصومیت چہرے پر سجاے مدہوش سو رہی تھی۔۔
عظمیٰ نے آتے ہی سب سے پہلے آگے بڑھ کے اس کے ماتھے کو چوما۔۔۔اور پھر مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔۔حور کیا دیکھو گی نہیں میرے ساتھ کون آیا ہے؟؟وہ اسکی بند پلکوں سے مخاطب ہوئی۔۔
کاش وہ اس وقت بند پلکوں کو کھول کے مسکرا کے دیکھتی اور کہتی ہادی تم تو واقعی میرے شیر نکلے تم نے کر دکھایا۔۔اور کھلکھلا کے ہنس دیتی۔۔اپنی اس خواہش کے قبول ہونے کی اس نے دل سے چاہ کی۔۔وہ بس نظر بھر کے اسے دیکھے گیا۔۔اس کے حسین چہرے سے نظر ہٹتی ہی نا تھی۔۔
عظمیٰ اس سے نا جانے کون کون سی باتیں کر رہیں تھیں مگر وہ تو نا کچھ سن رہا تھا نا بول رہا تھا بس اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اچانک سے درمیانی عمر کی نرس دروازہ کھول کر اندر آئی۔۔اور ٹیرهے میڑهے منہ بنا کر اذہاد کو دیکھنے لگی۔۔
اذہاد سٹپٹا کر فورا ہوش میں آیا۔۔مما میں اب چلتا ہوں مجھے آفس سے لیٹ ہو رہا ہے۔۔وہ آگے بڑھتے ہوے بولا۔۔
عظمیٰ کھڑی ہوئی۔۔ہادی بیٹا اتنی جلدی میں ارتضیٰ سے کہہ دوں گی تم حور کے پاس تو بیٹھو۔۔وہ حیران اسے دیکھتی بولیں۔۔
نہیں میں حور سے آرام سے مل لوں گا۔۔پلیز آپ کسی سے کچھ مت کہیے گا۔۔ٹھیک ہے میں اب چلتا ہوں۔۔وہ ان کے ماتھے پر لب رکھتا انہیں سینے سے لگاتا جلدی سے باہر چلا گیا۔۔
وہ اس کی اتنی جلد بازی پر حیران ہی رہ گئیں۔۔
یہ کون ہے؟؟نرس نے مشکوک نظروں سے باہر جاتے اذہاد کو دیکھتے ہوے عظمیٰ سے پوچھا۔۔
میرا پیارا بیٹا ہے۔۔اور میری بیٹی کا شوہر بھی۔۔وہ حور کے سر پر پیار کرتی ہوئی اس کے قریب بیٹھی ہوئی بولی۔۔
مجھے تو یہ کہیں سے بھی اس مریضہ کا شوہر نہیں لگتا۔۔وہ آگے بڑھتی ہوئی حور کو چینج کروانے کی نیت سے اٹھاتی ہوئی بولی۔۔
عظمیٰ اس نرس کی مدد کرنے کے لئے آگے بڑھتی حور کو خود اٹھایا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔کیا مطلب میں سمجھی نہیں۔۔انہوں نہ تھوڑا سختی سے پوچھا۔۔
برا مت مانیئے گا۔۔ارے بھئی ہم نے تو ایسا شوہر کہیں نہیں دیکھا۔۔یہ جب بھی ان سے ملنے آتے ہیں۔۔وہ حور کی طرف اشارہ کرتی کہہ رہی تھی۔۔تو میرا اتفاق سے کبھی ان مریضہ کو اٹھانا ہوتا ہے یا چینج کروانا ہوتا ہے۔۔ ان سے مدد کے لئے کہو تو یہ ایسے بھاگتے ہیں کے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔وہ منہ بنا کر کہہ رہی تھی اور عظمیٰ کے لبوں پر دھیمی سے مسکان آئی۔۔
ارے کتنے شوہر ایسے دیکھے ہیں ہم نے کے جو اپنی بیویوں کا خود خیال رکھتے ہیں۔۔ان سے دن میں ملنے آتے ہیں۔۔مگر یہ تو رات کے اندھیروں میں چھپ کر ملنے آتے اور وہ بھی ایسے جیسے اس کو اگر ہاتھ لگالیں گے تو جل جائیں گے۔۔ہننہ۔۔۔۔اتنی حسین جوڑی ہے محبت کی شادی لگتی ہے۔۔لڑکا محبت بھی بہت کرتا ہے۔۔میں نے اسے روتے ہوے کئی بار خود دیکھا بھی ہے۔۔مگر اس کا بھاگنا سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔وہ راز داری سے عظمیٰ کو دیکھتی کہہ بھی رہی تھی۔۔اور منہ بھی عجیب عجیب بنا رہی تھی۔۔
بیشک وہ شوہر ہے میری بیٹی کا مگر آبھی رخصتی ہونی باقی ہے۔۔عظمیٰ نے اسے یہ جواب دے کر اس کی بہت بڑی پریشانی کو جیسے حل کیا۔۔
وہ حور کے کپڑے تبدیل کر چکے تھے۔۔
نرس منہ کھولے عظمیٰ کو دیکھ رہی تھی۔۔تبھی۔۔تبھی تو وہ ایسے بھاگتا تھا۔۔وہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارتی بولی۔۔
بس ٹھیک ہے زیادہ میرے بچوں کی جاسوسی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ میں انتظامیہ سے تمہاری شکایت کر دوں گی سمجھی۔۔۔ عظمیٰ روب سے بولیں۔۔
ارے بیبی میں تو بس یوں ہی مجھے کیا پڑی ہے کسی کی جاسوسی کروں۔۔وہ کھسیانی بلی کی طرح ہنستی ہوئی بولی۔اور جلدی جلدی کام کر کے بھاگی۔۔۔
اس کے جانے کے بعد عظمیٰ اٹھی اور اس کے بال بناتی ہوئی اس سے باتیں کرنے لگیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد وقت تیزی سے گزارنے لگا۔۔گھنٹے دن میں دن مہینوں میں بدل گئے۔۔۔
6 مہینے ہو چکے تھے ساتھواں شروع ہونے والا تھا سب کچھ ویسے ہی چل رہا تھا کچھ بھی نہیں بدلہ تھا حور ہی حالت اب بھی وہی تھی اذہاد مگر امید نہیں ہارا تھا اسے پوری امید تھی کے اس کی حور لوٹ آئے گی۔۔۔مما اس کا بہت خیال رکھتی تھیں۔۔روز اس کے لئے آفس میں خاص الگ سے کھانا آتا تھا۔۔فون کر کے اس کی خیریت معلوم کرتی رہتی تھیں۔۔۔وہ چاہ کر بھی اس کے معاملے میں ایک ماں کے جذبات نہیں چھپا سکتیں تھیں۔۔ایک جوان اولاد تو جیتے جی موت کی نیند سوئی ہوئی تھی دوسری جیتی جاگتی اولاد سے وہ کیسے منہ موڑ سکتی تھیں۔۔
اذہاد کو ہمیشہ ڈر ہی لگا رہتا تھا کہیں مما کی وجہ سے اس کا بھانڈا نا پھوٹ جائے ارتضیٰ کے سامنے۔۔۔وہ کئی بار انہیں منع بھی کرتا تھا کے وہ اس کا اتنا ذکر اتنی محبت نا جتائیں مگر وہ ایک کان سے اس کی سنتی اور دوسرے سے نکال دیتی۔۔ایک اکلوتا داماد تھا جو لاکھوں کروڑو میں ہی نہیں پوری دنیا میں ایسا دوسرا نہیں ہوگا جس نے بیٹا بن کے ان کا خیال کیا ہو۔۔۔
آج بھی وہ ارتضیٰ سے ضد کر رہی تھیں کے وہ ہادی کو فون کر کے ڈنر پر آنے کا کہیں۔۔
وہ ان کے ضد کرنے کے انداز پر مسکرا دیے وہ جانتے تھے کے عظمیٰ حور کی کمی کی وجہ سے خود کو ادھورا سمجھتی ہیں اسی لئے وہ ایک ماں کی حیثیت سے اذہاد کو دیکھ اپنی ممتا کو سکون دیتی ہیں جس میں کوئی برائی نہیں تھی۔۔۔
اذہاد اب کافی مانوس ہو چکا تھا اس ملک سے یہاں کے لوگوں سے اس شہر کے راستوں ان کی زبان سے۔۔وہ کافی الفاظ اب اردو کے سیکھ بھی گیا تھا مگر لوگ ہنسے نا اس لئے وہ بولتا نہیں تھا۔۔اس کا پروجیکٹ بھی کافی تیزی سے مکمل بھی ہو رہا تھا۔۔
اذہاد اس وقت سائیٹ پر تھا جب اس کا فون بجا۔۔
السلام عليكم سر کیسے ہیں آپ؟؟ اس نے خوشی سے فون اٹھاتے آگے سے کہا اس دوران وہ ارتضیٰ کے بھی بہت قریب ہو گیا تھا مگر اندر کہیں ایک ڈر ایک خوف تھا کے حقیقت معلوم ہوتے ہی ارتضیٰ اسے ویسے نا رہیں گے جیسے وہ اب تھے۔۔
وعلیکم السلام ہادی بیٹا میں ٹھیک ٹھاک ہوں آپ سنائیں؟؟ انہوں نے عظمیٰ کو دیکھتے ہوے مسکرا کر کہا۔۔
میں بلکل ٹھیک سر۔۔۔
آپ کو ہماری مسز بہت یاد کر رہیں تھیں۔۔اگر آپ آجاتے ہم بڈھابڈھی سے ملنے تو ہمیں بہت خوشی ہوتی۔۔ایک اولاد تو ہماری ناراض ہو کر ام سے منہ لپیٹ کر ایسے سوئی ہے کے اٹھتی ہی نہیں آپ کو دیکھ کر کچھ آس کچھ امید مل جاتی ہے۔۔۔وہ اتنے گہرے الفاظوں میں اسے اپنا درد بیان کر گئے تھے۔۔اذہاد کو بے حد تکلیف ہوئی ان کے الفاظوں سے۔۔
یہ لو بات کرو۔۔وہ خود کو سمبھالنے کے لئے عظمیٰ کو موبائل پکڑاتے وہاں سے اٹھ گئے۔۔
عظمیٰ نے دکھ سے انہیں جاتا ہوا دیکھا اور پھر آہستہ سے فون کان سے لگاتی بولیں۔۔
ہادی۔۔۔
السلام عليكم مما کیسی ہیں آپ؟؟
میں ٹھیک ہوں اور تمہارا انتظار کر رہی ہوں فورا گھر پوھنچو۔۔۔انہوں نے مان بھررے انداز میں اس سے کہا۔۔
اذہاد کو انہیں منع کرنا نا آیا۔۔ٹھیک ہے مما میں تھوڑی دیر میں آیا۔۔۔
_________________
وہ فون رکھ کر فورا گھر آیا تھا۔۔تیار ہوا۔۔راستے سے ارتضیٰ کے لئے پھول اور عظمیٰ کے لئے گفٹ خریدا۔۔ جو ایک بہت خوبصورت اور نازک سی ڈائمنڈ رنگ تھی۔۔
السلام عليكم سر۔۔وہ کچھ ہی گھنٹوں بعد ان کے سامنے تھا۔۔ارتضیٰ مسکراتے ہوے اس کے لئے اپنے بازو وا کیے۔۔اذہاد نے ایک لمحہ کا ضیا کیے بینا ان کے گلے لگ گیا۔۔انہوں نے خوش ہو کر اسکی پیٹ تھپ تھپائی۔۔۔اسے بہت سکون ملتا تھا ان کے سینے سے لگ کے۔۔۔
آگیا ہادی۔۔۔عظمیٰ کی خوشی سے بھرپور آواز آئی تو اذہاد مسکراتے ہوے ارتضیٰ سے الگ ہو کر ان کے سامنے آیا۔۔۔۔
وہ بیچین تھیں اس کو سینے سے لگانے کے لئے مگر ارتضیٰ کے خیال سے صرف اس کے سر پر ہاتھ پھیر سکیں۔۔چلو اسے دیکھ کر سامنے انہیں سکون تو ملا۔۔
یہ آپ کے لئے ہے۔۔وہ ایک چھوٹا سا گفٹ عظمیٰ کی طرف بڑھاتا بولا۔۔اور پلٹ کر ارتضیٰ کے آگے پھول پیش کیے جو انہوں سے مسکراتے ہوے اس کے ہاتھ سے تھام لئے۔۔
عظمیٰ تو بہت خوش ہوئی تھیں انکے بیٹے نے انکے لئے اپنی پسند سے کچھ خرید کر انہیں تحفہ دیا تھا۔۔
چلو اندر آؤ۔۔وہ اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی اسے اندر لے آئیں۔۔
کیا کچھ نہیں تھا جو انہوں نے اذہاد کے لئے نہیں بنایا تھا اپنے ہاتھوں سے۔۔۔انکا بس نہیں چلتا وہ اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کہلاتیں جیسے حور کو کہلاتی تھیں۔۔
یہ تو تم نے کھایا ہی نہیں۔۔
ارے یہ بھی کھاؤ نا۔۔
یہ بھی تو کھاؤ شرماؤ مت۔۔۔
وہ ہر چیز اٹھا اٹھا کے خود اس کی پلیٹ میں ڈالتی۔۔نہیں۔۔۔پلیز۔۔۔۔ نہیں۔۔۔میں اتنا نہیں کھاؤ گا۔۔یہ بہت ہے۔۔وہ انہیں روک رہا تھا مگر وہ تو اس کی پلیٹ بھرتی جا رہیں تھیں۔۔
ارتضیٰ ان دونوں کو دیکھ کر زور سے قہقہا لگا کر ہنسے۔۔اذہاد نے سٹپٹا کر ارتضیٰ کو دیکھ کر گردن جھکا دی۔۔۔
ارے برخو دار آپ تو بہت لکی ہیں جو ہماری بیگم آپ کو زبردستی کھلا رہیں ہیں اتنی اچھی اچھی ڈیشز اپنے ہاتھوں سے بنا کر ورنہ ہم جیسے تو ترستے ہیں یہ سب کھانے کے لئے وہ بھی انکے بنے ہاتھوں اور اتنے اسرار پے۔۔۔وہ ہنستے ہوے بولے تھے۔۔
عظمیٰ نے ناراضگی سے ارتضیٰ کو دیکھا۔۔کیا ضرورت تھی ٹوکنے کی دیکھیں اب یہ اور نہیں کھاۓ گا۔۔میری حور بھی جب جب کھاتی تھی آپ ایسے ہی تنگ کرتے تھے۔۔وہ انہیں دیکھتی ہوئی بول رہیں تھیں اور اذہاد نے جھٹکے سے گردن اٹھا کر عظمیٰ کو دیکھا ان کی باتوں میں اس کی حور کا ذکر جو آیا تھا۔۔اسے شدت سے خواہش ہوئی کے عظمیٰ اور بھی کوئی دلچسپ حور سے جڑی باتیں کریں جو اسے معلوم نا ہو۔۔۔۔اور اسی بے خیالی میں ہاتھ میں پکڑا چمچ اس کے ہاتھ سے چھوٹتا اس کی بے داغ سفید شرٹ کو داغ دار کر گیا۔۔
وہ گھبرا کر فورا سے کھڑا ہوا۔۔آئ ایم سو سوری۔۔وہ پتہ نہیں کیسے یہ۔۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا جاؤ واشروم میں جا کر اپنی شرٹ صاف کر لو ہلکا سا داغ ہے پانی سے صاف ہو جائے گا۔۔ارتضیٰ نے اس کے گھبراۓ چہرے کو دیکھ کر تسلی دی۔۔عظمیٰ نے مسکراتے ہوے آنکھوں کے اشارے سے اسے ریلیکس ہونے کو کہا۔۔وہ ارتضیٰ کی موجودگی میں ہاتھ سے چمچ چھوٹ جانے پے گھبرایا تھا ورنہ ایسی معمولی باتوں پر توجہ دینا اذہاد کی عادت نا تھی۔۔۔وہ کیا تھا اور کیا بن گیا تھا۔۔۔اس محبت نے تو اسے بدل کر رکھ دیا تھا۔۔۔وہ آہستہ سے اٹھتا عظمیٰ کے بتاے گئے راستے کی طرف قدم اٹھانے لگا کے جب ہی اس کے بڑھتے قدم ایک بند دروازے کے سامنے ایسے روک گئے جیسے کسی جادوئی قوت نے انہیں جکڑ لیا ہو اور وہ ہلنے کے باوجود خود کو ہلا نہیں پا رہا ہو۔۔۔
آہستہ سے گردن موڑ کر اس نے بند دروازے کو دیکھا بے اختیار ہی اس کا ہاتھ دروازے کے لاک پر گیا۔۔اور ہلکے سے دباؤ سے دروازہ کھل گیا۔۔۔سیدھا قدم اٹھاتا وہ اندر آیا۔۔وہ اس کی حور کا کمرہ تھا۔۔وہ بند دروازے سے بھی آتی اس کے وجود کی خوشبو محسوس کر گیا تھا۔۔
ہر طرف اس کی یادیں بکھری ہوئی تھیں۔۔اذہاد نم آنکھوں سے مسکراتا ہوا اندر آیا اور پیچھے دروازہ بند کر دیا۔۔
ہادی۔۔۔۔حور کی آواز گونجی۔۔
اذہاد نے بے اختیار پلٹ کر دیکھا جہاں سے آواز آئی تھی۔۔اس کی نظریں حور کو بیتابی سے ڈھونڈ رہی تھیں۔۔
ہادی۔۔۔آواز اب دوسری طرف سے آئی۔۔اذہاد نے پھر دوسری طرف پلٹ کر دیکھا۔۔۔
آواز اب چاروں طرف سے گونجتی اسے صدائیں دے رہی تھی۔۔ہادی۔۔۔ہادی۔۔مگر وہ کہیں نہیں تھی۔۔اذہاد کے آنسو آنکھوں سے بہتے اس کا چہرہ بھیگو رہے تھے۔۔
حور کہاں ہو سامنے کیوں نہیں آتیں۔۔۔بیحد دکھ سے پکارا گیا تھا۔۔۔مگر وہاں اذہاد کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔۔بس ہر طرف حور کی تصویریں اور اس کی بکھری یادیں تھی۔۔
وہ بے خودی کے عالَم میں آگے بڑھتا اس کی چیزوں کو محبت سے چھو کر محسوس کرنے لگا۔۔اس کی کتابیں۔۔اس کی جمع کی ہوئی بچپن کی چیزیں۔۔اس کی ڈھیر ساری تصویریں جو سامنے چھوٹے چھوٹے فریم میں سجی ہوئی تھیں۔۔
وہ ایک ایک تصویر کو اٹھا کر پیار سے دیکھ رہا تھا۔۔کسی میں وہ چھوٹی سی گڑیا تھی جسے عظمیٰ نے اٹھایا ہوا تھا۔۔کسی میں بیگ کاندھے پر ڈالے وہ ارتضیٰ کی گود میں چڑھی ہوئی تھی۔۔وہ اس کی ایک ایک تصویر کو ہاتھ لگا کر محسوس کرتا نم آنکھوں سے مسکرا رہا تھا۔۔جب اس کی نظر دوسری تصویر پر گئی جس میں وہ 15 16 کے درمیان کی عمر کی ہوگی لمبے بالوں کی دو چوٹیاں ڈالے وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔اذہاد کو اس کی یہ تصویر دیکھ کر ڈھیر سارا پیار آیا اس پے۔۔اس نے وہ تصویر فریم سے نکال کر اپنے پاس محفوظ کرلی۔۔۔وہ بلکل بھول گیا تھا کہ کوئی نیچے بھی ہے جو اس کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔وہ تو حور کی یادوں میں ایسا کھویا ہوا تھا کے خود کو بھی فراموش کر بیٹھا۔۔اچانک سے اسے یاد آیا کے وہ کیا کرنے آیا تھا اور کیا کر رہا تھا۔۔یاد آنے پے وہ ہڑبڑا کے الٹے پیر مڑا ہی تھا کے سامنے کا منظر دیکھ کر وہ سکتے میں آگیا۔۔۔شاید قیامت آچکی تھی۔۔خوف سے سامنے دیکھتے وہ سن کھڑا تھا۔۔
ارتضیٰ ابراہیم اس کے سامنے کھڑے تھے۔۔وہ کمر کے پیچھے ہاتھ باندھے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
وہ انہیں کیا جواز پیش کرے گا کے انکی بیٹی کے کمرے میں آخر وہ کیا کر رہا ہے؟؟اس کی تصویروں کو دیکھ کر اس کی آنکھیں کیوں نم ہیں؟؟کیوں اس کے چہرے پر اپنی بیٹی کی جدائی کی اذیت رقم ہے؟؟ایسے کئی سوال تھے جو اذہاد کو اب دینے تھے۔۔اب کوئی جھوٹ کوئی بہانا اثر نہیں کرنے والا تھا اب صرف سچ بولنا تھا۔۔جس لمحے کے آنے سے وہ بہت ڈرتا تھا وہ آ چکا تھا۔۔اس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگنے لگیں۔۔اپنے خشک ہوتے گلے کو تر کیا۔۔
عظمیٰ بھی ارتضیٰ کے پیچھے سے نکلتی نظر آئی۔۔
اذہاد کو کمرے کی رکھی ہر چیز جیسے گول گول گھومتی نظر آنے لگی۔۔
ہادی شاید یہی وہ وقت ہے جب سب کو حقیقت معلوم ہو جانی چاہیے۔۔عظمیٰ نے اسے ہمت دلاتے ہوے کہا۔۔
اذہاد نے خود کو مضبوط کرنے کے لئے آنکھیں بند کی اس کی بند آنکھوں سے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر نے لگے۔۔با۔۔با۔۔ٹوٹ کر لفظوں کو ادا کرتا وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا انکے قریب چلا آیا۔۔
وہ سچ بولنا چاہ رہا تھا مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ انکی نظروں میں محبت کو نفرت میں تبدیل ہوتا دیکھ سکے۔۔۔وہ کیسے برداشت کر سکے گا انکا خود کو دھتکارے جانا۔۔جو ہاتھ محبت سے اٹھتے تھے اسے سینے سے لگانے کے لئے جب وہ ہاتھ اسے دھکے دے کر خود سے دور جانے کو کہیں گے تو وہ تو مر ہی جائے گا۔۔۔
اس نے خوف سے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔
مجھے۔۔۔ معاف۔۔۔ کر دیں۔۔ با۔با۔۔۔اٹک اٹک کر بات کرتا وہ اتنا ہی بولا۔۔اور انکے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔
ارتضیٰ تڑپ کر آگے بڑھتے اسے سینے سے لگا گئے۔۔
وہ ان کے سینے سے لگا بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے رو دیا۔۔انہوں نے اسے نفرت سے دور نہیں ہٹایا تھا بلکے اس کے ٹوٹے بکھرے وجود کو اپنے کمزور بازوں میں سمیٹ لیا تھا۔۔
مجھے معاف کر دیں بابا۔۔مجھے معاف کر دیں۔۔وہ ایک ہی بات بار بار دوہراے جا رہا تھا۔۔
کیا میں اتنا بے اعتبار ہوں ہادی کہ نا حور نے مجھے پہلے بتانے کی ضرورت محسوس کی اور پھر اب تم نے بھی مجھ سے چھپایا۔۔کیا میں اتنا ظالم اور خود پرست ہوں کے اپنی اولاد کی خوشی کے لئے ایک چھوٹی سی قربانی نہیں دے سکتا۔۔اس نے سب کو بتایا بس مجھ سے ہی چھپایا اپنے بابا سے۔۔وہ بھی رو رہے تھے۔۔اسے سینے سے لگاے کیا کچھ نہیں تھا انکے دل میں جو وہ آج ظاہر کر رہے تھے۔۔۔
انہوں نے اسے سامنے کرتے ہوے بے اختیار اس کی پیشانی چومی۔۔مجھے حور کی خوشی سے بڑھ کر اس دنیا میں کچھ عزیز نہیں ہادی مگر میرا دل دکھا کے اس نے اپنے بابا اپنے سب سے اچھے دوست کو چھوڑ کر سب کو اپنا ہمراز بنایا مگر مجھے ہی اندھیرے میں رکھا۔۔دکھ ہوتا ہے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔میں مانتا ہوں غلطی میری بھی ہے جو اس سے اس کی مرضی نا پوچھی۔۔کیا ایک باپ کا اتنا بھی مان نہیں کے وہ اپنی اولاد کی بھلائی کے لئے اس کے بہتر مستقبل کہ لئے خود اپنی خوشی سے کوئی فیصلہ کر سکے۔۔؟؟اگر اسے یہ بات معلوم ہو بھی چکی تھی کے اس کا رشتہ پکا کر دیا گیا ہے تو وہ ایک بار مجھ سے آکر تو کہتی۔۔میں بابا سے مافی مانگ کر اس کی خوشیوں کے لئے انسے بھیک مانگ لیتا۔۔۔
نہیں بابا حور آپ سے مل کر پاکستان آکر آپ کو سب کچھ بتانا چاہتی تھی اس نے کہا تھا کے بابا بہت اچھے ہیں وہ مان جائیں گے۔۔پتا نہیں کیسے یہ سب ہو گیا اچانک حور کی کوئی غلطی نہیں ہے بابا آپ حور سے ناراض مت ہوں۔۔وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔۔وہ انکے ہاتھوں کو چومتا ہوا کہہ رہا تھا۔ وہ محبت سے دھیمے انداز میں ان کا دل حور کی طرف سے صاف کر رہا تھا۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ انکی اپنی سگی اولاد ہو دل کا رشتہ ایسا مضبوط جڑ گیا تھا اس سے۔۔انکی آنکھیں اشکوں سے بھر گئی۔۔وہ ہلکا سا مسکراے۔۔۔مان گئے حور نے اپنے جیسا ہی ڈھونڈا ہے ضدی۔اپنی منوانے والا۔سب سے ایک جیسی محبت کرنے والا۔۔اس میں انہیں اپنی حور نظر آرہی تھی۔۔۔اذہاد بھی ان کی بات سن کر ہنس دیا۔۔
عظمیٰ کھڑی بس انہیں روتا ہوا دیکھتی خود بھی رو رہیں تھیں۔۔
مما۔۔وہ آگے بڑھتا انہیں سینے سے لگا گیا۔۔
رونا نہیں ہے اب۔۔وہ انہیں چپ کرواتا ہوا بولا۔۔
حور کہے گی ہادی تم نے تو میرے بابا مما کو رولا دیا۔۔وہ انکے آنسو پونچھتا بولا۔۔
اور تینو نفوس اس پل مسکرا دیے۔۔
انہیں اللہ‎ نے ایک اولاد کی جدائی کی آزمائش تو دی تھی مگر دوسری طرف ایک مضبوط سہارا داماد کی صورت میں ایک اچھا بیٹا بھی دیا تھا۔۔وہ جتنا شکر کرتے کم تھا۔۔اور انہیں یہ یقین بھی تھا کے حور کی آزمائش اللہ‎ اور ان سے زیادہ نہیں لے گا۔۔وہ جلد ٹھیک ہوجاے گی۔۔۔۔
بیٹیاں نور ہے نگاہوں کا۔۔
بیٹیاں باب ہے پناہوں کا۔۔
بیٹیاں عکس اپنی ماؤں کا۔۔
بیٹیاں ثمر ہیں دعاؤں کا۔۔
بیٹیاں دل کی صاف ہوتی ہیں۔۔
گویا کھلتا گلاب ہوتی ہے۔۔
مگر یہ کیا انکا گلاب تو انسے ناراض تھا۔۔ان کی چڑیا جو سارا دن چی چی کرتی پھرتی تھی پورے گھر میں آج وہ کیسے خاموش آنکھوں کو موندے بیٹھی ہے۔۔دل جیسے اس کی حالت پر ماتم کنا تھا۔۔۔آنکھوں سے آنسو مسلسل بہتے ہی جا رہے تھے۔۔
اب اٹھ بھی جاؤ نا چڑیا میں تو مذاق کر رہا تھا مگر تم تو مجھ سے سچ مچ کا ہی ناراض ہو گئی۔۔کیا تمہارے بابا اتنے گندے ہیں؟؟میں کیا اپنی چڑیا سے ناراض ہو سکتا ہوں؟؟جس صورت کو دیکھ کر میں جیتا ہوں کیا اس سے کبھی رشتہ توڑ سکتا ہوں؟؟ تیری صورت تو میری بوڑھی بے نور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔۔روشنی ہے۔۔ناراض تو مجھے تجھ سے ہونا چاہیے تھا جو تم نے مجھ پے اعتبار نا کیا۔۔اور خود ہی منہ پھولاۓ۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاے تڑپ تڑپ کے رو دئیے۔۔دل غم سے پھٹ رہا تھا۔۔
کسی نے آہستہ سے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی اور حوصلے بھرا دباؤ دیا۔۔
انہوں نے اشک بھری نگاہوں کو موڑ کر اپنے پیچھے دیکھا۔۔
وہ انکے پیچھے کھڑا تھا۔۔غم اسے بھی تھا سویا وہ بھی نہیں تھا۔۔شاید رات بھر رویا بھی تھا۔۔رات میں گھر سے جانے کے بعد وہ لوٹا نہیں تھا۔۔بس اتنا کہہ کر گیا تھا کہ انتظار مت کرنا۔۔۔
تو وہ یہاں تھا۔۔اور جاتا بھی کہاں اس کا اس کے سوا تھا ہی کون۔۔اسے اب اندھیروں کا سہارا لے کر اس سے ملنے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا ۔۔وہ اب سورج کی روشنی میں بھی حق سے اس کے پاس جا سکتا تھا بینا ڈر اور خوف کے۔۔۔
وہ دکھ سے اس کا ٹوٹا بکھرا وجود دیکھ رہے تھے مگر وہ انہیں مسکرا کر امید دلا رہا تھا۔۔
ہادی اس سے کہو نا کہ اسکے بابا اس سے ناراض نہیں ہے وہ اپنی چڑیا کے بینا بہت اکیلے اور اداس ہیں۔۔یہ اٹھتی کیوں نہیں ہے؟؟ یہ بولتی کیوں نہیں ہے؟؟ہادی میری حور تو بہت پیاری بیٹی ہے۔۔اس سے کہو یہ مجھے اور سزا مت دے۔۔وہ اب اذہاد کا ہاتھ تھام کر بچوں کی طرح روتے ہوے اسے بول رہے تھے اذہاد نے تڑپ کر آگے بڑھتے ہوے زور سے انہیں سینے سے لگا لیا۔۔اس کے آنسو ارتضیٰ کی بےبسی پر بہنے لگے وہ ضبط کی انتہا پر تھا۔۔۔
بابا اس طرح سے خود کو اذیت مت دیں آپ نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے جس پے آپ پیشمان ہوتے ہوے خود کو تکلیف دے رہے ہیں۔۔وہ جانتی ہے کے اس کے بابا بہت اچھے ہیں وہ آپ سے بہت پیار کرتی ہے وہ خود آپ سے ملنے آپ کے سینے سے لگنے کے لئے بیچین ہے۔۔اس طرح سے رو کر تو آپ اسے اور کمزور کر رہے ہیں بابا۔۔وہ مدھم آواز میں بولتا ان کے اندر بھڑکتی آگ کو جیسے ٹھنڈا کر رہا تھا۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *