Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51

معصوم اور سیدھا سادھا پے حور منہ پھاڑے ماں کو دیکھنے لگی۔۔بیچاری ماں کو کیا پتہ کے وہ کتنا سیدھا سادھا اور معصوم ہے۔۔کتنا جلاد اور ہٹلر ہے اذہاد کوئی حور سے پوچھے۔۔۔خیر بیچاری ماں کو کیسے یقین دلاے ان پے اذہاد کی محبت کی پٹی جو بندھی ہے۔۔اصل معصوم تو وہ خود ہے ۔۔وہ یہ سب صرف دل میں سوچ کر رہ گئی۔۔۔اور ایک ٹھنڈی اہ بھرتی اٹھی۔۔۔
حور کے ساتھ اذہاد بھی چینج کر کے ریڈی تھا۔۔۔
حور نے سادھی گوٹھنوں تک بند چاکوں کی چھوٹی قمیض اور گھیر دار شلوار جس پے حسین بنارسی دوپٹہ تھا پہنا تھا لمبے بال کھلے ہوے تھے جنہیں ایک طرف کرکے آگے کی سائیڈ ڈالا ہوا تھا۔۔ہاتھوں میں لال رنگ کی تھوڑی تھوڑی چوڑیاں تھیں۔ریڈ ہلکے رنگ کی لپ گلو لگاے وہ تیار ہوئی نیچے آئی تھی۔۔
اذہاد نے اس کے کپڑوں کے ہم رنگ کی شرٹ پہنی تھی جس کے اوپر کے 2 بٹن کھولے ہوے تھے ہاتھ میں پکڑا کوٹ لئے وہ حور کو دیکھ کر کھڑا ہوا۔۔۔
ورزشی حسین جسامت لمبا قد چہرے کے خوبصورت نین نقش سونے پے سہاگا کہ اس کی آئی برو پر لگا کٹ اسے اور ہینڈسم بناتے تھے۔۔دیکھنے والا جسے دیکھ کے اپنی ہستی ہی بھول جائے۔۔۔
اذہاد اور حور کو چھوڑنے کے لئے سب ایئر پورٹ تک اس کے ساتھ آئے تھے۔۔
اذہاد کی خواہش تھی کے وہ سب بھی لندن جاتے ولیمے کے بعد اس نے لندن میں بھی ایک بہت بڑے پیمانے پر ایک فنکشن ارینج کر کے رکھا تھا۔۔جہاں سارے بڑے بڑے بزنس مین انوائیٹ تھے۔۔۔اس کی پہچان والوں میں اور وہاں کی میڈیا کو جاننے کا تجسوس تھا کہ اذہاد عریض کی زندگی میں کیا بدلا ہے۔۔۔اس کی تنہائی کو باٹنے والا اس کی زندگی کا ساتھی اس کا محبوب اس کی زندگی میں شامل ہو گیا ہے اور اسی بات کا اقرار وہ پوری دنیا کہ سامنے بینا کسی ڈر اور خوف سے کرنے کے لئے اس نے یہ فنکشن رکھا تھا۔۔۔
حور پھر زورو شور سے رونے کی پوری تیاری کرتی ہوئی ارتضیٰ کے گلے لگی تھی۔۔۔ارتضیٰ اسےسینے سے لگاے پیار بھری سختی سے منا کر رہے تھے رونے سے۔۔
وہ سب سے ملتی آخر میں داود کے گلے لگی تھی۔۔
تھینک یو دادو۔۔۔وہ نم آنکھوں سے انہیں دیکھتی مسکرا کر بولی تھی۔۔۔
داؤد بے اختیار اسے سینے سے لگا گئے تھے۔۔۔
میری بچی بس خوش رہنا۔۔وہ اس کا ماتھا چومتے ہوے بولے تھے۔۔۔
ہاں وہ ساڑھے چھ فٹ کا انسان جو آپ دیکھ رہے ہیں وہی خوشی ہے۔۔اور میری مسکان بھی۔۔وہ اذہاد کی طرف پلٹ کر اسے محبت سے دیکھ کر اشارہ کرتی ہوئی داؤد سے بولی تھی۔۔۔
جہاں وہ سب سے مل رہا تھا۔۔
داؤد نے دیکھا تھا حور کے لبوں کی مسکراہٹ بہت کھل گئی تھی اذہاد کو ایک بار پلٹ کر دیکھنے پر۔۔شاید جو اتنی شدت سے محبت کرتے ہیں ان کی مسکان اتنی کی حسین ہوتی ہے محبوب کو دیکھ کہ ان کی آنکھیں ایسے ہی چمکتی ہیں۔۔وہ دل میں سوچتے ہوے اسے ڈھیروں ایسے ہی خوش رہنے کی دعائیں دینے لگی۔۔۔
تبھی وہ آگے بڑھی۔۔۔اور اذہاد کے ہاتھ سے اس کا کوٹ لے کر اپنے ہاتھ میں تھامتی اس کا ہاتھ مظبوطی سے اپنے نازوک ہاتھوں میں لیتی اسے دیکھ کر مسکرائی جہاں اذہاد کہ چہرے پر بھی ایک جان دار مسکراہٹ کھل گئی تھی اس کا حسین چہرہ دیکھ کر۔۔ دونوں نے اپنی ایک ہوئی منزل کی طرف قدم بڑھاے۔۔حور نے آخری بار پلٹ کر سب کو ہاتھ ہلا الوداع کیا۔۔اور پلٹ کر مسکراتی ہوئی اذہاد کا بازو تھامتی ہوئی اس کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
___________________
حور کھڑکی کی طرف بیٹھی باہر دیکھنے کی ناکام کوشیش کر رہی تھی۔۔
اس کے برابر بیٹھا اذہاد چہرے پر ہاتھ رکھے غور سے اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔
حور۔۔اذہاد کی مدھم آواز پر حور نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
باہر کے حسین نظارے کر لئے ہوں تو مجھے اب اپنا حسین دیدار کروا دو۔۔اذہاد نے مصنوعی ناراضگی لئے حور سے کہا۔۔
کیا مطلب ہادی۔۔حور اس کے انداز سے گھبراہٹ کر سامنے دیکھتی منہ بناتی بولی۔۔
اذہاد نے اس کا بریسلیٹ والا ہاتھ پہلے ہی تھاما ہوا تھا اب وہ آہستہ سے اس کے کاندھے پر اپنا سر رکھتا اس کا پورا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتا بولا۔۔۔مطلب آبھی نہیں سمجھا سکتا۔۔۔
ہادی کیا کر رہے ہیں۔۔سب دیکھ کے کیا سوچے گے پیچھے ہٹیں۔۔۔وہ اس کے قریب آنے پر حیران ہوتی اب پریشان ہو کر بولی۔۔۔اور اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالنے لگی جو اتنی مظبوطی سے تھام کر بیٹھا تھا کے ہاتھ کا نکلنا بہت مشکل تھا۔۔۔
اذہاد نے ایک آئی برو اٹھا کر اس کے کاندھے سے ہی ہلکا سا سر اٹھا کر تیز نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور مجھے سب سے کیا لینا دینا مجھے کسی کی پرواہ نہیں اور پاکستان کی حدود ختم ہوئی سویٹ ہارٹ سو اب میں جو کہوں گا ایگریمنٹ کے حساب سے آپ تمھیں ویسے ہی چلنا ہے۔۔وہ ایک سائیڈ کی سمائل پاس کرتا حور کے چودا طبق روشن کر گیا۔۔
حور زبردستی خود کو نارمل ظاہر کرتی مسکرا کر اس کے جبڑے کو ہاتھ میں لے کر ہلاتی بولی۔۔دادا گیری نہیں چلے گی مائے بواۓ۔۔۔۔
ارے آبھی میں نے سٹارٹ لیا ہی کہاں ہے بےبی آبھی تو صرف ایک معمولی سی جھلک دیکھا رہا ہوں تاکہ تم ریڈی ہوجاؤ۔۔۔وہ آنکھوں میں شرارت لئے اپنی قاتل مسکراہٹ سے حور کو آگے کے لئے خبردار کر رہا تھا۔۔۔
ہادی مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔وہ رونی صورت بنا کر اس سے تھوڑا دور ہٹتی آنکھوں میں خوف لئے بولی۔۔۔
اذہاد کچھ دیر تو اسے ضبط کرتا دیکھتا رہا پھر زور سے ہنسنے لگا۔۔۔
اس کے پاگلوں کی طرح ہنسنے پر حور سمجھ گئی تھی تبھی ناراض ہوتی منہ پھولا کر بیٹھ گئی۔۔۔
مگر اس کی حسین مسکراہٹ دیکھ کر ایک دم پگھل گئی اور اس قریب آتی اس کے بازو کو تھام کر اس پے سر ٹیکا آنکھیں موند گئی۔۔۔
میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ہادی۔۔۔وہ آہستہ سے محبت کا اظہار کرتی اذہاد کے دل کی دھڑکنوں کے تار ہلا گئی۔۔۔
میں تم سے محبت نہیں کرتا حور۔۔اس نے بھی آہستہ سے جواب دیا جس پے حور نے نظروں کو اٹھا کر مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔
میں تم سے عشق کرتا ہوں۔۔وہ اس کی چھوٹی سی پیاری ناک پر لب رکھتا بولا۔۔
حور کی پوری کائنات کی خوشیاں تھا وہ ایک پیارا انسان۔۔جس کے کاندھے سے لگ کر محبت کا حسین احساس ہوتا تھا۔۔۔
اذہاد بھی اس کے سر پر اپنا گال ٹیکاتا آنکھیں موند گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کار ایک لمبے سفر کے بعد حور اور اذہاد لندن پوھنچ گئے۔۔
اذہاد اسے پیچھے سے آکر اپنا کوٹ پہنا رہا تھا کیوں کے وہاں کا موسم ٹھنڈا تھا۔۔۔
نہیں یہ آپ پہنے۔۔حور سیدھی ہوتی انکار کرتی بولی تھی۔جس پر اذہاد نے اس کا رخ پھر گھمایا اور زبردستی اسے کوٹ پہنایا۔۔
حور کو ٹھنڈ کا احساس اب اتنا نہیں ہو رہا تھا کیوں کے اذہاد کا کوٹ گرم تھا مگر اسے خود سے زیادہ اب اذہاد کی فکر ہو رہی تھی جو ایک شرٹ پہنے وہ بھی ادھے بٹن جس کے اوپر سے کھولے ہوے تھے آستینوں کو کوہنیوں تک فولڈ کیے وہ بڑے آرام سے اس کا ٹھنڈا برف ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے ہوے تھا۔۔۔
وہ دونوں جب ایئرپورٹ سے باہر آئے تو ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا حور سے ٹکرایا وہ بے اختیار دوسرے ہاتھ سے اذہاد کا ہاتھ تھام گئی۔۔۔
سامنے ہی ڈیلن کھڑا پھولوں کا گلدستہ لئے مسکراتا ہوا انہیں نظر آیا جسے دیکھ کر اذہاد بھی مسکرا دیا۔۔
بہت بہت مبارک ہو سینور اور سینوریتا آپ دونوں کو۔۔۔وہ اذہاد کے گلے لگتا مسکراتا ہوا حور کو گلدستہ دیتا بولا۔۔۔
بہت شکریہ ڈیلن۔۔آپ کیسے ہیں؟؟ وہ بھی مسکراتی ہوئی بولی۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔وہ جواب دیتا اذہاد کو اس کی فیورٹ گاڑی کی چابی دیتا بولا۔۔
اذہاد کی شاہی سواری جو اس کی ہمیشہ سے ہی سواریوں میں پہلی پسند اور اس کے ساتھ ہمیشہ رہی اس کی مرسیڈیز am gtr جسے اس نے پاکستان میں بہت مس کیا۔۔۔
وہ مسکرا کر گاڑی کے قریب آتا اسے پیار سے ہاتھ لگاتا حور کی طرف کا دروازہ کھول کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
حور آہستہ سے آگے بڑھتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اذہاد کی گاڑی ہواؤں سے باتیں کرنے لگی۔۔۔
ہادی آپ کو ٹھنڈ نہیں لگتی آپ انسان نہیں ہیں کیا؟؟؟ وہ اس کے چہرے کو چھو کر دیکھنا چاہ رہی تھی کے وہ ٹھنڈ سے جم تو نہیں رہا۔۔۔
اذہاد اس کی ان پیاری پیاری باتوں کو دل سے محسوس کرتا ہنس دیا۔۔اور اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتا بولا۔۔۔
اتنی پیاری پیاری ادائیں دیکھا کر کیوں مجھے آزمائش میں ڈالتی ہیں۔۔۔وہ محبت سے اسے چھیڑتا ہوا بولا۔۔۔
اس کے ڈائلوگ بازی پر حور نے مسکرا کر گود میں پڑا گلدستہ ہلکے سے اس کے سینے پر مارا۔۔۔
جس پر اذہاد اسے اور چھیڑ نے لگا اور حور یا تو شرماتی یا اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کرواتی۔۔مگر وہ باز نہیں آتا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد نے آہستہ سے گاڑی گھر کے دروازے کے آگے روکی۔۔
اذہاد کا کاسٹل نما شاندار محل جو حسین پھولوں کے بیچ گھرا کھڑا تھا حور اسے بے اختیار دیکھے گئی۔۔
تبھی اذہاد اچانک سے پیچھے سے آکر اسے اٹھاتا چونکہ گیا۔۔
ہادی۔۔اس نے گھور کر اذہاد کو دیکھا۔۔
کوئی نہیں دیکھ رہا یہاں ڈرنا بند کرو۔۔میں تمھیں اپنا گھر دکھاتا ہوں۔۔وہ مسکرا کر اسے کہتا مضبوط قدموں سے آگے بڑھا۔۔
حور کے ہاتھ اذہاد کی گردن کے گرد مظبوطی سے ایک دوسرے سے بندھے تھے۔۔۔
وہ اسے اندر لایا۔۔
وہ ایک بار پہلے اس کا یہ بڑا محل دیکھ چکی تھی۔۔مگر اسے تب یہ اندازہ نہیں تھا وہ ایک دن یہاں رہے گی بھی۔۔۔
وہ خاموش نظروں سے آج اس جگہ کو اس کی ایک ایک چیز کو ملکیت کی حیثیت سے دیکھ رہی تھی۔۔بڑی بڑی اونچی دیواریں مہنگی قیمتی چیزوں سے سجا محل تھا وہ۔۔اسے کبھی بھی اتنے بڑے بڑے محل نما گھر پسند نہیں رہے تھے جہاں انسان کھوجانے سے ڈرے۔۔۔
اسے چھوٹے گھر پسند تھے جنہیں قیمتی نہیں خاص چیزوں سے سجایا گیا ہو۔۔۔
اذہاد جو اسے گھر دیکھانے کے ساتھ باتیں بھی کر رہا تھا حور سب سنتی صرف مسکرا ہی رہی تھی۔۔۔
اذہاد اب اسے اپنے بڑے سے روم میں لے آیا تھا۔۔جو تمام کمروں سے بڑا اور بہت خوبصورت تھا۔۔اذہاد نے آہستہ سے اسے نیچے اتارا۔۔
حور کمرے کی ایک ایک چیز کو غور سے دیکھتی اس کی خوبصورتی کو دیکھتی جیسے خیالوں میں کھو گئی تھی سامنے بڑے سے شیشے کے اس پر نظر آتا گہرا سمندر حسین منظر پیش کر رہا تھا۔۔
وہ آگے بڑھتی شیشے پر ہاتھ رکھے نظر آتے منظر کو دیکھ رہی تھی تبھی اذہاد نے اسے پیچھے سے آکر کمر سے جیسے ہی تھاما وہ ایک دم ڈر کر دور ہٹتی پلٹ کر اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
کیا ہوا حور ڈر گئیں۔۔وہ ہلکا سا ہنسا تھا۔۔
حور آگے بڑھتی بے اختیار اس کے گلے سے لگی تھی۔۔
حور کیا ہوا جان۔۔۔اذہاد نے پیار سے اس کے سر کو چومتے ہوے کہا۔۔
ہادی آپ کو یہاں اکیلے رہتے ہوے کبھی ڈر نہیں لگا؟؟ وہ آہستہ سے اس سے لگی ہوئی بولی۔۔
نہیں مجھے تو بچپن سے ہی اکیلے رہنے کی عادت پر گئی تھی۔۔
تبھی ایسے تھے آپ۔۔وہ اب سر اٹھاتی اس کی شکل دیکھتی بولی۔۔
کیا مطلب کیسا تھا میں؟؟ اذہاد نے الٹا اس سے سوال کیا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے۔۔
حور کچھ نہیں بولی بس ہنس دی۔۔
ہادی یہ بہت بڑا گھر ہے آپ اگر کھو گئے تو میں آپ کو شاید ڈھونڈتے ہوے خود کھو جاؤ گی۔۔وہ یہ بات تو مسکرا کر بولی تھی لیکن اذہاد نے اس کے الفاظوں سے اس کے دل کا ہال جان لیا تھا۔۔۔
ہم ایک کام کریں گے کبھی گرینڈپا کبھی مما بابا کے گھر بھی جا کر رہ لیا کریں گے جہاں مجھے آپ کو ڈھونڈنا نہیں پڑے گا۔۔۔وہ ہنستی ہوئی بولی تھی۔۔
اذہاد جھکتا ہوا اس کے چہرے کے بال پیچھے کرتا اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر اس کے سر سے سر ٹیکاتا قریب سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔۔
میں کہیں نہیں کھونے والا حور اور نا تمھیں کھونے دونگا میں روح بن کر تمہارے جسم کی سانسوں سے جڑا ہوں اور کیا کبھی روح کو ڈھونڈا جاتا ہے۔۔۔وہ شدت جنوں سے ہر ایک لفظ دل کی گہرائیوں سے کہتا اسے یقین دلا رہا تھا۔۔۔
حور کو اس کی گرم سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر آتی جاتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
وہ آہستہ سے لب اس کے ماتھے پر رکھ کر اسے سینے سے لگا گیا۔۔۔
حور۔۔۔آہستہ سے پکارا۔۔
ہمممم۔۔۔۔۔حور جو اس کے سینے سے سر ٹیکاے اس کے دھڑکتے دل کی آوازوں کو صاف سن رہی تھی۔۔بند آنکھوں سے بولی۔۔۔
میری ایک چھوٹی سی بات مانو گی۔۔۔اذہاد نے پیار سے گزارش کی۔۔
حور کی آنکھیں فورن کھلی اس نے سر اٹھا کر اذہاد کو دیکھا مگر بولی کچھ نہیں خاموش ہی رہی۔۔۔
مجھے صرف 4 گھنٹے چاہیے ایک بہت امپورٹنٹ بزنس فنکشن ہے پلیز۔۔۔اذہاد نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر پیار سے کہا۔۔۔
ہادی میں بھی چلوں گی۔۔وہ فورن سے بولی تھی۔۔
حور میں ضرور لے جاتا مگر وہاں میڈیا ہوگا اور سارے بزنس سے جڑے لوگ ہونگے۔۔۔وہ اسے پیار سے سمجھاتا ہوا بولا جو رونی صورت بناے اب اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
مجھے نہیں پتہ میں بھی چلوں گی ہادی۔۔وہ بچوں کی طرح ضد کرنے لگی۔۔۔
اذہاد نے اسے بےبسی سے دیکھتے ہوے کہا۔۔حور میں جلدی آجاؤ گا سچ وعدہ پھر تمھیں اکیلا کبھی نہیں چھوڑ کے جاؤ گا کہیں بھی۔۔۔
پلیز۔۔۔۔وہ التجا کرتا بولا۔۔۔
تبھی وہ ناراض نظروں سے اسے دیکھتی بولی۔۔میں اکیلے یہاں کیا کروں گی ہادی۔۔
تم مما بابا سے بات کر لینا تب تک مجھے مس کر لینا۔۔وہ اب مسکراتا ہوا بولتا اس کی آنکھوں اور گالوں پر پیار کرتا تیار ہونے کے لئے الماری کی طرف بڑھا۔۔۔
حور بیڈ پر بیٹھی اب اسے تیار ہوتا دیکھ رہی تھی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ رائل بلیو سوٹ میں تیار ہوتا باہر آیا۔۔اس کی پسند کر چیز میں کمال کی تھی۔۔
تبھی جاتا ہوا آخری بار اس کے پاس آیااس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیا۔۔۔ایسے منہ بنا کر دیکھو گی تو میں جا نہیں سکوں گا۔۔اس کی طرح خود بھی منہ لٹکا کر بولا تھا۔۔
تبھی حور ہلکا سا ہنسی۔۔۔
اچھا بتاؤ کیا لاؤ تمہارے لئے؟؟
ہادی۔۔۔وہ جھٹ سے بولی۔۔
اذہاد ہلکا سا ہنسا۔۔۔اچھا ڈرنا بلکل نہیں تم روم سے باہر ایک آواز دو گی تو ہیلی (ملازمہ)فورن آجاے گی اوکے ۔۔اسے زور سے سینے سے لگا کر پیار جاتا تا اس کے گال چومتا اسے خیال رکھنے کی تاکید کرتا پھر وہ چلا گیا۔۔۔
____________________
اذہاد کے چلے جانے کے بعد اسے دنیا ویران سی لگنے لگی۔۔جیسے زندگی میں کچھ رہا ہی نہیں۔۔وہ اداس سی ہوتی ایک ہی جگہ بیٹھی کتنی دیر اسے یاد کرتی رہی۔۔سامنے لگی اس کی بڑی سی تصویر جس میں وہ ہٹلر اور جلاد والا انداز لئے نظر آرہا تھا جو اب کے اس کے ہادی سے بہت مختلف تھا اذہاد عریض شاید مسکراہٹ سے بھی نا واقف تھا مگر اس کے ہادی کے چہرے پر تو ہمیشہ حسین ڈیمپل والی سمائل رہتی ہے۔۔وہ مسکراتی ہوئی اس کی تصویر دیکھ کر خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔
اسے سوچتے چھم سے اس کا مسکراتا چہرہ حور کی آنکھوں کے سامنے لہرآیا۔۔حور نے مسکراتے ہوے آنکھیں بند کر کے اس کی مسکراہٹ کی بلائیں لی۔۔نظر نا لگے میرے ہادی کو۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے یہ تصویر والا اذہاد ہادی کا بھوت ہے جو اس کے ساتھ رہتا تھا ۔۔ہممم۔۔۔۔اب دیکھتی ہوں یہ بھوت کیسے واپس آتا ہے میرے ہادی کے پاس۔۔وہ منہ چیڑآتی اس کی تصویر کو دیکھتی بولی۔۔۔
اتنی باتیں کرنے کے بعد وہ پھر بور ہونے لگی۔۔
پھر کچھ سوچ کے فون اٹھایا اور پاکستان بات کی۔۔وہاں سب سے بات کرکے بھی اس کا دل اداس ہی رہا ان سے بھی زیادہ بات نا کی اور فون رکھ دیا۔۔۔
اب وہ بڑے سے کمرے کو چاروں طرف سے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اسے گھبراہٹ ہونے لگی تو آہستہ سے اٹھی اور اس کی الماری کی طرف آئی جہاں اس کے بیحد قیمتی اور حسین سوٹ لٹکے تھے۔۔اذہاد کا کوٹ جس سے اس کی خوشبو آبھی تک مہک رہی تھی حور نے اسے آہستہ سے اپنے ہاتھ میں لیا اور بیڈ پر پھر جا کر بیٹھ گئی۔۔وہ اس کا کوٹ خود سے لگاے اس کی کمی کو محسوس کرتی اداس ہو رہی تھی۔۔۔
اس کے بغیر ایک پل نہیں کٹ رہا تھا۔۔۔
،۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے مسٹر اذہاد عریض بہت مبارک ہو۔۔جیمی جس کے اذہاد سے اچھے ٹرمس تھے اپنی بیوی کے ساتھ اس کے قریب آتا خوشی سے بولا۔۔
اذہاد ہلکا سا مسکرایا۔۔تھینکس۔۔اور صرف اتنا ہی جواب دیا۔۔
ارے اتنی بڑی خوشی کی خبر دی ہے اس لکی گرل سے تو ملاؤ جو اس شہزادے کو لے اڑی۔۔جیمی کی بیوی اذہاد کی شاندار پرسنیلٹی دیکھ کر حسرت اور حسد سے بولی جسے اذہاد کی بیوی کو دیکھنے کا بڑا تجسوس تھا کے آخر وہ ہو گی کیسی جو اتنے حسین انسان کے دل اور دولت کی اکیلی مالکن بن گئی۔۔۔
اذہاد نے اس کی بیوی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اس نے تو اس کی طرف دیکھنا تک گوارا نا کیا اور آگے بڑھ گیا۔۔۔
بڑا ہی مغرور ہے پتہ نہیں شادی کی خبر سچ ہے بھی یا نہیں۔۔منہ تو کسی کو لگاتا نہیں شادی کے لئے بھی تو لڑکی کی ضرورت ہوتی ہے نا۔۔وہ جل کر اپنے شوہر سے بولی تھی جو اس کی بات کا جواب نا دے کر اس کہ منہ پر جوتا مار گیا تھا۔۔۔
جیمی ہنسا۔۔یار تمھیں تو پتہ ہے وہ شورع سے ایسا ہی ہے عورت ذات کیا وہ تو مرد دات کو بھی کم منہ لگاتا ہے پھر کیوں ناراض ہوتی ہو۔۔وہ اس کا مذاق اڑاتا ہوا بولا تھا۔۔
اتنے لوگوں میں ہو کر بھی وہ اداس تھا۔۔سب سے برسوں کی جان پہچان ہونے کے باوجود بھی وہ اس بھیڑ میں خود کو اجنبی محسوس کر رہا تھا۔۔
اپنا ادھورا وجود لئے وہ سب کے بیچ کھڑا مجبوری کے تحت دنیا داری نباہ رہا تھا۔۔۔
اس کی سوچ اور دل سب حور کی طرف تھا۔۔
مشکل سے 2 گھنٹے گزارنے کے بعد وہ برداشت سے باہر ہوتا ڈیلن کو اپنی جگہ سب سمبھالنے کی ذمہ داری دیتا تیزی سے باہر آیا۔۔اپنا کوٹ اتار کر گاڑی میں پھینکتا آستینوں کو اوپر چڑھاتا وہ تیز سپیڈ میں گاڑی چلا رہا تھا۔۔
.۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور اذہاد کا کوٹ ہاتھ میں لئے بیڈ پر بیٹھی شیشے سے باہر سامنے نظر آتے ٹھاٹھے مارتے سمندر کو دیکھنے میں گھم تھی جب اچانک لائٹ جانے پر ڈر کر سہم گئی۔۔
یا اللہ‎ اب یہ لائٹ کو کیا ہوا۔۔
وہ باہر جاکر کسی کو آواز دینے کا سوچتی اٹھنے ہی والی تھی جب کسی نے آہستہ سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
اااا۔۔۔۔۔وہ چیخ مارتی ہوئی بیڈ سے اچھل کر اٹھتی دیوار سے لگی تھی۔۔اور تبھی کمرے میں ہر طرف اجالا ہوگیا۔۔۔
حور آنکھیں پھاڑے سامنے دیکھ رہی تھی جہاں اذہاد بھی پریشان سا کھڑا تھا۔۔۔
حور کیا ہوا میں اذہاد ہوں ۔۔وہ اسے ڈرا ہوا دیکھ کر ایک دم آگے بڑھا تھا۔۔
آگے مت بڑھنا۔۔۔وہ اسے آگے بڑھتا دیکھ کر تیز آواز میں بولی وہ حیران ہوتا ایک قدم پیچھے ہوا تھا ۔
کون اذہاد ؟؟ اب حور کے اگلے سوال پر تو اذہاد کے پیروں سے زمین نکل گئی۔۔۔
حور۔۔۔اذہاد نے زور اسے ہوش میں واپس آنے کے لئے آواز دی۔۔۔
تبھی حور بھاگتی ہوئی اس کے سینے سے لگ کر تسلی کرنے لگی کے یہ واقع اذہاد ہے؟؟
اذہاد تو اس کے دور جانے پر ہی جیسے خاموش ہوگیا تھا دھڑکن جیسے مدھم سی ہوگئی تھی۔۔۔پھر جب وہ اس کے سینے سے لگی تو اس کی جان میں جان آئی۔۔اس نے زور سے اسے خود سے لگایا ہوا تھا۔۔
حور یہ کیا مذاق تھا؟؟ وہ اسے سینے سے لگاے غصے سے بولا تھا۔۔
ہادی میں سمجھی کے آپ کا بھوت ہے۔۔۔حور نے معصومیت سے کہا۔۔
اذہاد جی بھر کر حیران ہوا۔۔حور کون سا بھوت؟؟ وہ اب اسے سامنے کرتا بینا پلکیں جھپکاے اسے دیکھتا بول رہا تھا۔۔
وہی جو آپ کے ساتھ رہتا ہے۔۔۔حور نے جو سوچا وہی اذہاد سے بھی کہہ دیا۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *